عبد الغفار عزیز


قاہرہ کی معروف خاتون ڈاکٹر امیرہ دسوقی بتا رہی تھیں، رات ۲ بجے پولیس کی بھاری نفری نے ہمارے گھر اور ملحقہ علاقے کو ہر جانب سے گھیرلیا۔ پھر پولیس والے گھر کے اندر بھی آگئے، تلاشی لیتے اور پوچھ تاچھ کرتے رہے۔ میں نے محسوس کیا کہ پولیس والوں کا رویہ خلافِ معمول بدتمیزی سے پاک اور مؤدبانہ ہے۔ ان کا سربراہ آفیسر بھی بار بار معذرت کر رہا تھا۔ میں نے اپنے شوہر ڈاکٹر محمد الدسوقی سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ اس آفیسر کی والدہ شدید بیمار ہے، اور وہ اس کا علاج مجھ سے کروا رہا ہے۔ کچھ دیر تلاشی کے بعد وہ میرے شوہر کو گرفتار کرکے لے گئے۔

۸ فروری کی شب صرف ڈاکٹر محمد ہی نہیں مصر کے مختلف شہروں سے اخوان المسلمون کے ۱۶ اہم رہنمائوں کو گرفتار کیا گیاتھا۔ ڈاکٹر الدسوقی کی طرح ان کی اکثریت معاشرے کے    نمایاں ترین اور خدمت گزار افراد پر مشتمل تھی۔ ڈاکٹر محمود عزت طویل عرصے سے اخوان المسلمون کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر محمدالبر.ّ  حدیث میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔ حدیث کے مختلف موضوعات پر ان کی ۱۳ کتب شائع ہوچکی ہیں۔ یونی ورسٹی میں تدریس کے دوران وہ خود اپنے طلبہ کی بڑی تعداد کو پی ایچ ڈی اور ایم اے کے شان دار مقالہ جات لکھوا چکے ہیں۔ اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح ان کا قصور بھی صرف یہ ہے کہ وہ اخوان المسلمون سے منسلک ہیں اور اخوان کے ۱۶ رکنی مکتب ارشاد کے منتخب رکن ہیں۔ ان کے ہمراہ گرفتار ہونے والے دیگر حضرات میں احمدعباس معروف انجینیر ہیں، ڈاکٹر محمد سعد پروفیسر ڈاکٹر اور شعبہ امراض البول (یورالوجی) کے سربراہ ہیں۔ ڈاکٹر محمد عبدالغنی آئی اسپیشلسٹ ہیں، ولید شلبی معروف دانش ور اور لکھاری ہیں، ڈاکٹر ایہاب ابراہیم میڈیکل کالج میں پروفیسر ہیں، ڈاکٹر علی عبدالرحیم اسیوط یونی ورسٹی کی کلیہ ہندسہ (انجینیرنگ) میں استاد ہیں، مسعد علی قطب انجینیر ہیں اور جیساکہ پہلے ذکر گزر چکا ،محمدالدسوقی ڈاکٹر ہیں۔ یہی حقیقت مصر کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اخوان کا علم و مرتبہ اور ان کی خدمت گزاری سب پر عیاں ہے، لیکن چونکہ وہ ’اخوان‘ یعنی بھائی بھائی ہیں اور حکومت کی غلط پالیسیوں کی اصلاح چاہتے ہیں، اس لیے قابلِ گردن زدنی ہیں۔

اخوان المسلمون کے نومنتخب مرشدعام ڈاکٹر محمد البدیع بتا رہے تھے کہ گذشتہ ۱۰ برسوں میں اخوان کے ۳۰ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور اگر ان سب کی گرفتاری کی مدت کو جمع کیا جائے تو وہ مجموعی طور پر ۱۵ ہزار سال سے متجاوز ہوجاتی ہے۔ گذشتہ تقریباً تین عشروں سے اقتدار پر قابض مصری صدر حسنی مبارک، اپنی قوم کے ان بہترین ۱۵ ہزار برسوں کو جیلوں کی نذر کردینے کا جواب اپنے رب کو تو جو دے گا سو دے گا لیکن اس نے اپنے قریب ترین ساتھیوں کو بھی ضمیر کا مجرم بنا دیا ہے۔ ایک سابق وزیراعظم عزیز صدقی، اپنی اس خلش کا اظہار پوری قوم سے معذرت کرتے ہوئے کرچکے ہیں۔ مرشدعام کے بقول وزیراعظم صدقی نے کہا: ’’ہم نے اخوان المسلمون کے ساتھ جو بھی زیادتیاں کی ہیں، ہم پورے مصر سے اس کی معذرت چاہتے ہیں۔ ہم نے مصر کو ایسے  شہ دماغ افراد سے محروم رکھا کہ جو اسے ترقی اور بلندی کی اعلیٰ منزلوں تک پہنچا سکتے تھے‘‘۔

مرشد و بانی امام حسن البناشہید اور صاحب ِ تفسیر قرآن سید قطب سے لے کر موجودہ مرشدعام اور ان کے ساتھیوں تک کسی بھی شخصیت کا جائزہ لے لیجیے، یکے بعد دیگرے آنے والے ہر فرعون مصر نے دنیا کو ان تمام نابغۂ روزگار ہستیوں سے محروم رکھا۔ ۱۹۹۹ء میں مصر کی طرف سے سرکاری سطح پر شائع ہونے والی سائنسی انسائیکلوپیڈیا میں پورے عالمِ عرب کی چوٹی کی ۱۰۰ علمی شخصیات کا ذکر ہے۔ نومنتخب مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع ان ۱۰۰ میں سے ایک ہیں۔ عالمِ عرب میں، پتھالوجی میں ان کے پاے کی کوئی اور شخصیت ملنا محال ہے۔ پوری دنیا میں وٹرنری سائنسز کے ماہرین کی فہرست بنی تو ان کا شمار چوٹی کے پہلے دس افراد میں سے ہوا۔ ایسی اعلیٰ علمی شخصیت اور اخوان سے تعلق…؟ اُٹھا کر جیل میں پھینک دو۔ فرعونِ مصر نے فیصلہ صادر کیا۔ انھیں سب سے پہلے ۱۹۶۵ء میں سیدقطب کے ہمراہ گرفتار کیا گیا۔ سیدصاحب کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا اور ڈاکٹر محمد بدیع کو ۱۵سال قیدبامشقت کی سزا سنائی گئی۔ نو سال کی سزاے بے جرم کے بعد رہا کردیے گئے۔ پھر چندماہ    کے لیے متعدد بار گرفتار کیے گئے، لیکن ۱۹۹۹ء میں دوبارہ جو گرفتار ہوئے تو سوا تین سال گرفتار رہے۔ ایک وہی نہیں اخوان کی پوری تاریخ میں جو جتنا بلند پایہ عالم… جتنا زیادہ ذمہ دار … جتنا فعال و مخلص و مصلح کارکن تھا، معاشرے کو اس کے خیر سے اتنا ہی زیادہ محروم رکھا گیا۔

ان تمام عقوبتوں، مظالم اور قیدوبند کی صعوبتوں کے باوجود نومنتخب مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع نے ۱۶ جنوری کو اپنے انتخاب کے بعد پہلے خطاب میں کہا: اخوان کبھی بھی حکومت کے حریف اور دشمن نہیں رہے۔ ہم کبھی بھی مخالفت براے مخالفت پر یقین نہیں رکھتے۔ خیر میں تعاون اور شر     کی مخالفت کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے اور ہم اسی بنیاد پر حکومت کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ اس خطاب کو ابھی ایک ماہ بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ تین ہفتے کے اندر اندر مکتب ارشاد کے تین بزرگ ارکان سمیت مزید درجنوں رہنما و کارکنان گرفتار کرلیے گئے۔ ساتھ ہی ساتھ نومنتخب مرشدعام اور اخوان کے خلاف پروپیگنڈا عروج پر پہنچا دیا گیا۔ اخوان میں اختلافات کی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مرشدعام کو سیدقطب کے ہمراہ گرفتار ہونے پر قطبی کہہ کر پکارا جا رہا ہے اور اس سے مراد یہ لی جارہی ہے کہ وہ تشدد پر یقین رکھتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سید قطب کو القاعدہ سمیت تمام مسلح تنظیموں اور دوسروں پر تکفیر کے الزامات لگانے والوں کا اصل فکری رہنما ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خود پاکستان میں بھی کئی حضرات کو یہی جادوئی چھڑی تھما دی گئی ہے۔ وہ سید قطب شہید کی تحریروں کی قطع و برید کرکے اور کئی جملوں کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کی تفسیروتشریح کا جامہ پہناتے ہوئے ان پر تبرابازی کر رہے ہیں۔ یہ سارا ہنگامہ اور الزامات بے بنیاد ہونے کا اندازہ صرف اسی بات سے لگا سکتے ہیں کہ عالمِ عرب میں کئی حضرات سید قطب کے ساتھ ہی ساتھ، اس ضمن میں سیدابوالاعلیٰ مودودی کا نام بھی لے رہے ہیں۔ کچھ لوگوں سے اس بارے میں گفتگو ہوئی تو عرض کیا کہ اگر آپ پاکستان میں جاکر اپنا یہی دعواے باطل دہرائیں گے کہ  مولانا مودودی تکفیر و تشدد کے داعی تھے، تو لوگ آپ کی عقل پر شک کرنے لگیں گے۔ جس طرح سیدمودودی کو پُرامن دعوت و اصلاح کے بجاے بندوق اور دھماکوں کے ذریعے تبدیلی کا الزام نہیں دیاجاسکتا، اسی طرح سید قطب شہید پر بھی یہ الزام سراسر ظلم اور صریح زیادتی ہے۔

مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع نے بھی اپنے اولیں انٹرویو میں اس موضوع پر تفصیل سے بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیدقطب کی تحریروں اور ان تشدد آمیز جماعتوں کے مابین کوئی ربط پیدا کرنا قطعی بلاجواز ہے۔ الاخوان المسلمون خاص طور پر جناب حسن الہضیبی (سید قطب کے زمانے میں مرشدعام) نے اس راستے کی شدید مخالفت کی تھی۔ انھوں نے ان تمام لوگوں کو اخوان کی صفوں سے خارج کر دیا تھا کہ جنھوں نے تبدیلی کے لیے پُرتشدد راہ چھوڑنے سے انکار کیا۔ انھوں نے اس ضمن میں ایک شاہکار کتاب لکھی دعاۃ لاقضاۃ(جج نہیں داعی) اور میں ان چار افراد میں سے ایک تھا کہ جنھوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کتاب کے قلمی نسخے تیار کیے۔ مرشدعام محمد بدیع نے مزید کہا:  ’’یہ سراسر بہتان اور جھوٹ ہے کہ الاخوان المسلمون نے حکمرانوں میں سے کسی کے خلاف تکفیر کے فتوے جاری کیے ہیں۔ یہ بات اخوان کی طے شدہ منہج سے متصادم ہے۔ سیدقطب کو کسی متشدد یا تکفیری نہج کا ہم نوا قرار دینا کسی طور درست نہیں ہوسکتا۔ آج اگر سید قطب زندہ ہوتے تو وہ یقینا خود ان تمام لوگوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے اور انھیں اس فکروعمل سے واپس لانے کی سعی کرتے‘‘۔ مرشدعام نے کہا: میں نے ایک امریکی دانش ور مسٹر روگن کی کتاب The Arab  پڑھی ہے۔ اس میں وہ لکھتا ہے: ’’سیدقطب کو ڈکٹیٹر حکومتیں اور ظالم شخصیتیں اس لیے ناپسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ظلم و استبداد کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے تھے۔ وہ پُرامن جہاد اور عوام کو خوابِ غفلت سے بیدار کر کے ان کا مقابلہ کررہے تھے‘‘۔ مرشدعام نے حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ: ’’جب بھی ہمیں اسلام کی میانہ رو اور مبنی براعتدال دعوت پھیلانے سے روکا گیا تو یہاں ہر جانب خاردار جھاڑیاں اُگ آئیں اور مصر میں دہشت گردی نے جنم لیا۔ ہم آج بھی حکمرانوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر وہ اسی طرح شخصی اقتدار پر اصرار کرتے رہے، اور کسی دوسرے کی نصیحت پر کان نہ دھرنے کی پالیسی پر گامزن رہے تو مصر ایک ایسے بند کمرے میں بدل جائے گا کہ جس میں گیس بھر گئی ہو، ایسے میں کہیں سے کوئی ادنیٰ سا شرارا بھی سب کچھ بھسم کر کے رکھ دیتا ہے‘‘۔

اخوان اور ان کی قیادت پر تشدد کے الزامات اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے، لیکن خود مصری عوام نے اس پورے پروپیگنڈے کو مسترد کردیا ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی ادارے نے مصر میں سروے کروایا تو ۶۹ فی صد عوام نے کہا کہ ’’اخوان المسلمون جمہوریت اور پُرامن جدوجہد پر یقین رکھنے والی جماعت ہے‘‘۔ ۷۵ فی صد عوام نے ملک میں حقیقی جمہوری نظام کو ترقی اور خوش حالی کا اصل راستہ قرار دیا۔ اخوان المسلمون کے حالیہ جماعتی انتخابات نے اخوان کی حقیقی جمہوری شناخت کو مزید واضح کیا ہے۔ خود اخوان کے لیے بھی یہ انتخابات کئی نئی روایات کا باعث بنے۔ اخوان کی ۸۱ سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک مرشدعام کی زندگی میں، خود ان کی بااصرار معذرت کے بعد نئے مرشدعام کا انتخاب ہوا۔ اس سے پہلے بانی مرشدعام امام حسن البنا کو تو شہید کردیا گیا تھا۔ پھر حسن الہضیبی (۱۹۵۱ء سے نومبر ۱۹۷۳ء تک)، عمرالتلمسانی (۱۹۷۴ء سے ۲۲ مئی ۱۹۸۶ء تک)، محمد حامد ابوالنصر (مئی ۱۹۸۶ء سے ۲۰جنوری ۱۹۹۶ء تک)، مصطفی مشہور (فروری ۱۹۹۶ء سے ۱۷؍اکتوبر ۲۰۰۲ء تک) اور مامون الہضیبی (۲۶ نومبر ۲۰۰۲ء سے ۹جنوری ۲۰۰۴ئ) اپنی وفات تک مرشدعام رہے۔ تب اخوان کے بعض احباب یہ ذاتی سوچ بھی پیش کیا کرتے تھے کہ مشاورت اور اجتماعی جدوجہد تو یقینا اسلامی تحریک کا خاصہ ہے، لیکن سربراہ کو باربار بدلنا مناسب نہیں ہے۔ اس لیے منتخب مرشدعام ہی دوبارہ منتخب ہوجاتا۔ محمد مہدی عاکف اخوان کی تاریخ میں پہلے مرشدعام ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی ہی میں خود اپنا جانشین منتخب کروایا۔ اس موقعے پر بعض ایسے واقعات بھی ہوگئے کہ جنھیں ذرائع ابلاغ نے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ خاص طور پر سابق نائب مرشدعام ڈاکٹر محمد حبیب صاحب کی طرف سے مکتب ارشاد کے بعض اندرونی اختلافات کو ذرائع ابلاغ میں دینے کے واقعے کو اخوان کے دودھڑوں میں تقسیم ہوجانے کا رنگ دیا گیا۔ اسی طرح مرشدعام کو ’قطبی‘ اور بنیاد پرست ہونے کا بے جا لقب دے دیا گیا اور  نائب مرشدعام ڈاکٹر محمد حبیب اور ڈاکٹر عبدالمنعم ابوالفتوح جیسے سرکردہ احباب کو اصلاح پسند دھڑا کہا جانے لگا، حالانکہ یہ دونوں اصطلاحات، صرف الزامات کا درجہ رکھتی ہیں۔ مرشدعام نے کہا کہ مجھے اپنے عزیز و محترم بھائی سے الگ کرنے کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے حالانکہ میرا ان سے اس طرح کا تعلق خاطر ہے کہ میں نے اپنے پوتے کا نام، انھی کے نام پر حبیب رکھا ہوا ہے۔

اخوان کے حالیہ انتخابات اس حوالے سے بھی منفرد تھے کہ جب ذرائع ابلاغ میں اخوان کے بارے میں پروپیگنڈا عروج پر تھا تو اخوان نے اپنے اس تنظیمی دستور اور طریق کار کا بھی کھلم کھلا اعلان کر دیا کہ جو امن و امان کی مخصوص صورت حال کے باعث، اس سے پہلے صرف تنظیمی ذمہ داران کی حد تک محدود رہتا تھا۔ اس دستور میں مصر کے اندر بھی اخوان کی تنظیم و طریق کار کو واضح کیا گیا ہے اور اخوان کی عالمی تنظیم کا نظام بھی۔ اس اعلان کردہ طریق کار کے مطابق اخوان کے ارکان، مجلسِ شوریٰ کا انتخاب کرتے ہیں، مجلسِ شوریٰ مکتب ارشاد کا انتخاب کرتی ہے اور مکتب ارشاد، مرشدعام کا انتخاب کرتا ہے۔ یہی مکتب، شوریٰ کے طے شدہ طریق کار کے مطابق جماعت کے اکثر فیصلے اور پالیسیاں نافذ کرتا ہے۔ نئے مرشدعام کے اعلان کے وقت منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں، مکتب ارشاد کے تمام ارکان بھی وہاں موجود رہے، جن کے ناموں کا اس سے پہلے یوں اعلان نہ کیا جاتا تھا۔ اخوان کا یہ نیا پن اور کھلا پن، نظام کو چیلنج کرنے سے زیادہ تمام تر مشکل حالات کے باوجود کھل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔ گذشتہ تین سال میں اخوان کے ساڑھے سات ہزار سے زائد کارکنان گرفتار کیے گئے۔ تقریباً اڑھائی سو کارکنان کے پورے کے پورے کاروبار، جایدادیں اور کمپنیاں ضبط کرلی گئیں۔ اس سب کچھ کے باوجود اب مزید کھل کر کام کرنے کا جذبہ کسی روحانی اور الوہی توفیق کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

ملک کی عمومی صورت حال دیکھیں تو مصری عوام اس وقت شدید مایوسی کے عالم میں ہیں۔ آیندہ برس کے آغاز میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ سب تجزیہ نگار یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اخوان کے مزید قائدین و کارکنان گرفتار کیے جاسکتے ہیں۔ اخوان کے خلاف پروپیگنڈے کا محاذ بھی گرم تر کیا جا رہا ہے۔ اخوان ہی نہیں اسلام کی بنیادوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایاجا رہا ہے۔ دیگ کے چند دانوں کے طور پر اور ’نقل کفر، کفر نباشد‘ کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ جملے ملاحظہ فرمایئے: ’’اخوان جو نظام لانا چاہتے ہیں وہ اسے خلافتِ راشدہ کی طرز پر قائم     نظامِ خلافت کا نام دیتے ہیں، یعنی ماضی کی ایک ریاست نہ کہ حاضرومستقبل کی۔ ان کی ریاست میں حاکمیت اعلیٰ کے نام پر فیصلہ کرنے کا حق اللہ کے پاس ہوگا جس کے بارے میں لمبی چوڑی گفتگو اس کے دو فرشتے البنا اور قطب کرچکے ہیں‘‘۔ ’’اخوان المسلمون کا اصل مخمصہ وہی ہے جو تمام دینی جماعتوں کا ہوتا ہے، یعنی دنیا اور آخرت کے ناممکن اتحاد کو، دین اور سیاست جمع کرکے ممکن بنانا، ان کا مخمصہ مقدس متن (یعنی قرآن وسنت) ہے جو کسی صورت تبدیل نہیں ہوسکتا۔ ان کا مخمصہ ، یہی متن کا مخمصہ ہے کہ جس نے ساتویں صدی عیسوی میں تو زندگی کی باگ ڈور سنبھال لی تھی لیکن جو کسی بھی صورت نئے میلینیم اور دوہزار عیسوی کے زمانے کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔ اب انسانیت نے بہت سفر طے کرلیا۔ اب وہ پرانے زمانے کی طرف واپس نہیں جاسکتی‘‘… ایک طرف یہ اور اس طرح کا ہذیان ہے اور دوسری جانب حکومتی جبروتشدد لیکن اخوان کے لیے ان میں سے کوئی بھی بات نہیں۔ ان کے حالیہ جرأت مندانہ اور مبنی برحکمت اقدامات روشنی کی اطلاع دے رہے ہیں۔

عالمی استعماری طاقتیں اعتراف کر رہی ہیں کہ ان کے لیے حسنی مبارک کی ڈکٹیٹرشپ یا اسلامی تحریک کی ’بنیاد پرستی‘ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اب اس ’مشکل‘ کا حل وہ یوں نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کسی نئی شخصیت کو متعارف کروایا جائے۔ بین الاقوامی ایجنسی براے ایٹمی توانائی (IAEA) کے سربراہ محمد البرادعی دو مرتبہ اس کے چیئرمین رہنے کے بعد حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ۱۵فروری کو پہلی بار مصر واپس آئے، تو ان کے بھرپور استقبال کا انتظام کیا گیا۔ انھیں ایک متبادل کے طور پر پیش کیا گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ انھیں ایک نجات دہندہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ البرادعی صاحب نے بھی آتے ہی بیانات اور انٹرویوز کا سلسلہ شروع کردیا ہے کہ ہاں، میں آیندہ صدارتی انتخاب میں امیدوار ہوسکتا ہوں۔ ان کی سب سے بڑی ’خوبی‘ یہ ہے کہ ایٹمی ایجنسی کا مسلمان سربراہ ہونے کے ناطے سے انھوں نے عراق اور ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار رکھنے کے الزامات سچ ثابت کرنے کی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کیا۔ صدام حسین کے محلات اوران کی ایٹمی تنصیبات کی تلاشی میں ان کا کردار قائدانہ رہا، انھوں نے کبھی اپنا دامن اس الزام سے آلودہ نہیں ہونے دیا کہ وہ اسرائیلی ایٹمی ہتھیاروں پر کوئی اعتراض رکھتے ہیں۔

تمام عالمی سرپرستی اور بین الاقوامی امور پر مہارت تجربات کے باوجود، مصری سیاست میں حصہ لینا برادعی صاحب کے لیے کوئی بازیچۂ اطفال نہیںہوگا۔ حسنی مبارک نے اپنے اور اپنے وارث کے اقتدار کے لیے ’مضبوط‘ انتظامات کیے ہیں۔ مصری دستور کے مطابق کسی بھی صدارتی اُمیدوار کے لیے تقریباً ناممکن الحصول اور کڑی شرطیں رکھی گئی ہیں۔ اُمیدوار اگر کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہے تو شرط ہے کہ وہ کسی باقاعدہ رجسٹرڈ پارٹی کی مرکزی قیادت میں سے ہو اور اسے اس ذمہ داری پر انتخاب سے پہلے کم از کم ایک سال کی مدت گزارنا چاہیے۔ خود اس سیاسی پارٹی کو بھی انتخاب سے کم از کم پانچ سال پہلے رجسٹرڈ ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ اخوان سمیت کسی بھی قابلِ ذکر جماعت کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا، بلکہ اخوان کو تو ویسے ہی کالعدم قرار دیا ہوا ہے۔ اور امیدوار اگر آزاد ہو تو اس کے لیے شرط ہے کہ وہ کم از کم ۲۵۰ ارکانِ پارلیمنٹ یا ضلعی کونسلوں کے تائیدی دستخط حاصل کرے اور ظاہر ہے کہ ان نام نہاد منتخب اداروں میں دوتہائی سے زائد اکثریت حکمران پارٹی کی ہے۔

محمد البرادعی کے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ انتخاب سے پہلے دستوری ترمیم کے لیے اخوان کے عوامی دبائو کا ساتھ دیں۔ واپسی کے بعد پہلے ہی ہفتے میں انھوں نے اخوان کے پارلیمانی سربراہ ڈاکٹر سعدالکتاتنی سے مفصل ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ڈاکٹر سعد کا کہنا تھا   کہ یہ ملاقات عالمی شہرت رکھنے والے ایک مصری شہری کو مزید قریب سے جاننے کی خاطر تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم صدارتی انتخابات میں ان کی مدد کریں گے یا ان کی مخالفت کریں گے۔ ہم مجموعی طور پر انتخابات کے بارے میں اپنی پالیسی وضع کر رہے ہیں اور اس کا اعلان مناسب وقت پر ہی کیا جائے گا۔ البتہ اخوان ایک اصلاحی ہدف رکھتے ہیں اور ہر اس فرد و جماعت کی طرف دستِ تعاون بڑھاتے ہیں جو اصلاح کی سعی کرنا چاہتا ہو۔ طویل عرصے تک ایک جماعتی اقتدار کے بعد اب مصری سیاست شاید ایک نیا موڑ لے رہی ہے۔

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت کے ان لوگوں کو جانتا ہوں کہ جن کی نیکیاں قیامت کے دن کوہِ تہامہ جتنی بلند ہوں گی اور خوب چمک رہی ہوں گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو راکھ کے ڈھیر کی طرح اڑا دے گا۔ میں نے عرض کی یارسولؐ اللہ ! ذرا ان لوگوں کی صفات بیان فرمادیں، ہمیں ان لوگوں کے بارے میں واضح طور پر بتادیں، کہیں یہ نہ ہو کہ ہم بھی لاعلمی میں انھی لوگوں میں شمار ہوجائیں؟ آپؐ نے فرمایا: وہ لوگ تمھارے ہی بھائی ہیں، تم ہی میں سے ہیں، تمھاری ہی طرح قیام اللیل کرتے ہیں، لیکن جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو انھیں اللہ کی حدود پھلانگنے میں کوئی باک نہیں ہوتا۔ (ابن ماجہ ، حدیث ۴۲۴۵)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی صفات کی روشنی میں دیکھیں تو بظاہر نیک بندے کی     تصویر ذہن میں آتی ہے۔ مسلمانوں ہی میں سے، انھی ہی کی طرح عبادات کا خوگر، فرائض سے بڑھ کر نوافل و تہجد تک کا اہتمام کرنے والا، روشن و چمک دار نیکیوں کے بلند پہاڑ اپنے ساتھ لے کر جانے والا، لیکن ایسا بدنصیب کہ بالآخر ساری محنت پر پانی پھیردینے والا۔

اس بُرے انجام کا سبب؟۔ لوگوں کے سامنے تو برائی اور گناہوں سے اجتناب، لیکن تنہائی میں اللہ کے حرام کردہ اُمور کا ارتکاب۔ پارسائی کا دعویٰ اور غلط فہمی، لیکن اس دعوے کی اصل جانچ میں ناکامی۔ آج شیطانی دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار فحاشی و عریانی اور مالی و اخلاقی کرپشن ہے، فرمان نبویؐ میں اس ابلیسی وار سے بچنے کے لیے اصل ڈھال فراہم کردی گئی ہے: کھلے اور چھپے ہرحال میں اللہ کا خوف، ہر دم اللہ کی یاد۔ صحابہ کرامؓ کی حرص آخرت بھی دیکھیے کہ فوراً دھڑکا لگ گیا، یہ نہ ہو کہ پتا ہی نہ چلے اور ہم بھی انھی میں شمار ہوجائیں۔

o

حضرت معاویہ بن حَیدَہؓ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے لوگ ہیں جن کی آنکھیں (جہنم کی) آگ نہیں دیکھیں گی۔ ایک وہ کہ جن کی آنکھ اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی، دوسرے وہ کہ جن کی آنکھ اللہ کے خوف سے رو دی، اور تیسرے وہ کہ جس نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے نگاہوں کو بچالیا (بروایت طبرانی جسے علامہ البانی نے صحیح قرار دیا)

اسلامی ریاست اور اہل اسلام کی حفاظت، رضاے ربانی کا ذریعہ بنتی ہے، بشرطیکہ یہ کام صرف اللہ کی رضا کی خاطر کیا جائے۔ ترقی و کمال بھی اس اخلاص و محنت کا ایک طبعی نتیجہ ہے، لیکن اصل قوت محرکہ نہیں۔ یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر صرف جاگنے کا اجر یہ ہے، تو مسلمانوں کے خلاف جنگ کا حصہ بننا، جابجا دھماکے، فائرنگ اور آتش زنی سے تباہی پھیلانا،  لوگوں کی جان و مال، عزت و آبرو کو برباد کرنا، رب کی کتنی ناراضی اور مجرموں کے لیے کتنے عذاب کا سبب بنے گا۔

اللہ کے خوف سے آنکھیں نم ہوجانا، سوزِ دل اور اللہ سے تعلق کا سب سے اہم مظہر ہے۔ وہ نارِجہنم کہ جس سے دنیا کی شدید سے شدید آگ بھی پناہ مانگتی ہے، بندے کی چشم نم سے بجھائی جاسکتی ہے۔ پھر وہ آنکھ جس نے اللہ کی محرمات سے آنکھیں پھیر لیں، جہنم سے چھٹکارا پاگئی___ آج جب قدم قدم پر فحاشی، اخلاقی غلاظت اور شیطانی ثقافت کا بازار گرم کیا جارہا ہے، اس حدیث کو یاد رکھنے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

آئیے ذرا خوب دھیان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات دوبارہ سنتے ہیں: یہ تینوں ’’آنکھیں جہنم کی آگ نہیں دیکھیں گی‘‘۔ سبحان اللہ! یہ نہیں فرمایا کہ جہنم میں نہیں جائیں گی، بلکہ فرمایا جہنم کی جھلک تک نہیں دیکھیں گی۔ اَللّٰھُمْ أجِرنَا مِنَ النَّارِ، پروردگار ہمیں جہنم کی آگ سے بچا۔ آمین!

o

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو یا خاتون کو نہیں مارا تھا، بلکہ آپؐ نے میدان جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں مارا۔ اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کو اختیار کرنا پڑا ہو اور آپؐ نے دونوں میں سے آسان تر کو پسند نہ کیا ہو،الا یہ کہ اس میں اللہ کی ناراضی کا کوئی پہلو ہو۔ اگر کسی کام میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا، تو آپؐ اس کام سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے۔ آپؐ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ ہاں، اگر اللہ کی حدیں پامال ہورہی ہوتیں، تو پھر آپؐ اللہ کی خاطر انتقام لیتے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ، حدیث ۱۹۸۴)

ربیع الاول میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار محبت و عقیدت نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔  عشق و احترامِ نبیؐ کے روشن تر ان لمحات میں، سیرت اطہر کا مطالعہ ایمان میں مزید اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے مروی اس حدیث میں رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی تین اہم صفات و عادات ہر اُمتی کو دعوتِ فکر دے رہی ہیں۔

پہلی یہ کہ آپؐ نے کبھی کسی کو تکلیف نہ پہنچائی، میدان جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو نہ مارا۔ ہتھیار تو دور کی بات ہے کہ اس سے کسی کی طرف مزاحاً اشارہ کرنا بھی جہنم میں جگہ بنانا ہے، ہاتھ سے بھی کسی کو نہ مارا، کسی کمزور سے کمزور کو بھی نہیں۔ انسانی خون کی ہولی کھیلنے والے اگر مسلمان ہیں تو کس منہ سے   عشق و محبت کا دعویٰ کرسکیں گے۔

دوسری یہ کہ اگر گناہ کے زمرے میں نہ آتی ہو تو ہمیشہ آسانی کو پسند کیا۔ دوسروں کو بھی یہی تعلیم دی کہ ’’یَسِّرُوا ، آسانیاں پیدا کرو‘‘۔ اس سنہری اور جامع اصول کا اطلاق بھی، زندگی کے ہر گوشے پر ہوتا ہے، دین و مذہب سے لے کر حکومت و اقتدار تک۔ تحریک و جماعت سے لے کر ملازمت و بیوپار تک۔ خود پر وہ بوجھ مت ڈالو جو خالق نے نہیں ڈالا، اور اگر کسی معاملے میں دو راستے میسر ہیں اور کسی میں بھی اللہ کی نافرمانی نہیں، تو آسان کو مشکل پر ترجیح دو۔

تیسری یہ کہ اپنی ذات کے لیے انتقام، نبیؐ کا شیوہ نہیں۔ ہاں، اگر کوئی خالق ہی کو ناراض کرنے پر تل جائے، تو آیندہ اسے اور دوسروں کو اس کارِ بد سے باز رکھنے کے لیے سزا بھی ناگزیر ہوجاتی ہے۔

o

حضرت جابر بن عبد اللہؓ اور ابو طلحہ بن سہل انصاریؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو ایسے وقت میں تنہا چھوڑ دیتا ہے کہ جب اس کے جان و مال اور اس کی عزت پر حملہ ہورہا ہو، تو اللہ تعالیٰ بھی اس شخص کو ایسے وقت میں تنہا چھوڑ دیتا ہے جب و ہ خود اللہ کی نصرت کا محتاج ہوتا ہے۔ اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ جو ایسے وقت میں اپنے بھائی کی نصرت کرے کہ جب اس کے جان و مال اور اس کی عزت پر حملہ ہورہا ہو، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی نصرت ایسے وقت میں نہ کرے کہ جب وہ اللہ کی نصرت کا محتاج و طالب ہوتا ہے۔ (ابوداؤد، حدیث ۴۸۸۴)

بندہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کر رہا ہے حالانکہ درحقیقت وہ اپنی ہی مد د کررہا ہوتا ہے۔ بندہ اپنے بھائی کے کام آتا ہے تو رب کائنات خود اس بندے کا نگہبان بن جاتا ہے۔ مسلم کی طویل حدیث کے مطابق ’’اللہ تب تک خود بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک کہ وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے‘‘۔

رب کا انصاف ہر شے سے بالاتر ہے، جس نوع کی نیکی، اسی طرح کا اس کا اجر، اور جس طرح کا جرم، اسی نوع کی سزا و عذاب۔ افراد ہی نہیں اقوام و ممالک بھی اس حدیث کی روشنی میں اپنے حال و مستقبل کا فیصلہ خود کرسکتے ہیں۔ روزمرہ کے معمولات سے لے کر بین الاقوامی مسائل تک، اللہ نے یہ فیصلہ بندے پر چھوڑ دیا کہ وہ رب کی نصرت چاہتا ہے یا اس کی سزا و عذاب!

o

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پر دوست بننے والے دو افراد میں اگر کبھی کوئی اختلاف و رنجش پیدا ہوجاتی ہے، تو اس کی اصل وجہ، دونوں میں سے کسی ایک سے گناہ کا سرزد ہوجانا ہے۔ (بخاری)

نیک و پُرخلوص دوست اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، اور اگر دوستی اللہ کی خاطر ہو تو دوجہاں میں اللہ کی محبت عطا کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ اسلام کی خاطر دوست دو افراد کو، خالقِ کائنات  اس روز اپنے عرش کے سایے تلے جگہ دے گا جب کوئی اور سایہ میسر نہ ہوگا۔

دیگر نعمتوں کی طرح اس نعمت کے زوال کا اصل سبب بھی اللہ کی نافرمانی ہے۔ اگر اتنی عظیم نعمت کے چھن جانے کا سانحہ روپذیر ہوجائے، تو جائزہ لیں کہ کیا گناہ سرزد ہوا ہے۔ یہ کافی نہیں کہ جب کوئی غلطی اور گناہ تلاش کریں تو وہ بھی صرف دوسروں میں۔ اگر ہر بندہ دیکھے کہ مجھ سے کیا گناہ سرزد ہوا  تو پھر اس کا مداوا و استغفار ان شاء اللہ نعمت کی بحالی و دوام کا سبب بنے گی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ  غلطی و گناہ اس فرد سے درپیش معاملات ہی میں تلاش کیا جائے۔ کوئی بھی گناہ، زوالِ نعمت کا سبب بن سکتا ہے۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک طویل دُعا میں اللہ تعالیٰ سے یہ بھی درخواست ہوئی: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ، پروردگار میں تیری نعمتوں کے زوال سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

غزہ کو چاروں طرف سے سیل بند اور مقفل کردیا گیا ہے۔ ۴۰کلومیٹر طویل اور ۱۰کلومیٹر عریض اس پٹی میں اپنی نوع کے عجیب انسان بستے ہیں۔ ۱۵ لاکھ کی آبادی ہے، جینے کا ہر سامان  ان پر حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ ۲۷دسمبر ۲۰۰۸ء کو ان پر ۲۴ روزہ مہیب جنگ مسلط کی گئی۔ سفید فاسفورس سمیت، جلاکر بھسم کردینے والا ہر نوع کا بارود ان پر برسایا گیا، لیکن انھیں ان کے موقف سے دست بردار نہیں کیا جاسکا۔ اہلِ غزہ نے امریکا و یورپ کی مکمل سرپرستی، اور اکثر پڑوسی عرب ملکوں کی خیانت و معاونت سے حملہ آور ہونے والے صہیونی دشمن کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔

غزہ کا حصار اور ناکہ بندی، جنگ سے پہلے بھی جاری تھی۔ ۲۴ روزہ تباہ کن جنگ کے بعد محاصرہ شدید تر کردیا گیا۔ جنگ کے خاتمے پر کئی ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد دینے اور غزہ کی تعمیرنو کے اعلان اور وعدے کیے گئے۔ صدافسوس کہ تمام تر وعدے ذرائع ابلاغ کی    شہ سرخیوں اور صداے بازگشت کے ہوائی گنبد میں تحلیل ہوکر رہ گئے۔ غزہ کے بند دروازوں پر جس چیز کو سب سے زیادہ چیک اور ضبط کیا جاتا ہے، وہ تعمیراتی سامان ہی ہے۔ چند کلو سیمنٹ، کیل یا سریا لے کر جانا، اسلحے یا منشیات سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایسے میں اہلِ غزہ کے سامنے زیرزمین راستوں کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ تین اطراف میں تو ’اہلِ ایمان کے بدترین دشمن‘ یہودیوں کا گھیرا ہے، چوتھی جانب مصر کی وادیِ سینا ہے۔ غزہ اور مصر کے درمیان ۱۰کلومیٹر کی سرحد، اُونچی اُونچی باڑیں لگاکر بند کر دی گئی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف ایک ہی نبیؐ کے پیروکار اور ایک ہی زبان بولنے والے بستے ہیں۔ اتفاق سے دونوں طرف کی بستیوں کا نام بھی رفح ہے، لیکن درمیان میں فصیلیں، سنگینیں اور خائن حکمران حائل ہیں۔ فلسطینی اور مصری رفح کے شہریوں نے لمبی لمبی سرنگیں کھود کر ۱۵لاکھ انسانوں کے جسم و جان کا رشتہ بحال رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اگرچہ زیرزمین راستوں سے لائی جانے والی اشیا کئی گنا زیادہ مہنگی ملتیں، لیکن کسی نہ کسی طرح مل جاتیں۔ عالمی طاغوت اور اس کے پالتو حکمرانوں کو یہی بات سب سے زیادہ دکھ دینے لگی۔ امریکی صدر بش نے جاتے جاتے اسرائیلی اور مصری حکمرانوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ منظور کیا۔ دنیا کو اس منصوبے کی اطلاع سب سے پہلے ایک اسرائیلی اخبار ہآرٹس کے ذریعے ملی۔ مصری حکومت نے پہلے تو اس اطلاع کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا لیکن اب اس منصوبے پر ۶۰ فی صد کام مکمل ہوچکا ہے۔

منصوبہ کیا ھے؟

فصیل، دیوار، باڑ، آہنی چادر یا خاردار تاروں کا نام لیتے ہی زمین کے اُوپر تعمیر یا کھڑی کی جانے والی مختلف رکاوٹوں کا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے۔ لیکن یہ شاید  انسانی تاریخ کا انوکھا تعمیراتی منصوبہ ہو کہ اس میں ۱۰کلومیٹر لمبی اور ۲۰ سے ۳۰میٹر (فٹ نہیں میٹر) گہری ایک فولادی دیوار زمین کے اندر تعمیر کی جارہی ہے۔ یعنی تقریباً ۵ یا ۶منزلہ عمارت کی بلندی جتنی گہری دیوار۔ بحالیِ مہاجرین کے لیے قائم کردہ اقوامِ متحدہ کے ادارے انروا (UNRWA) کی مصر میں نمایندہ، کیرین ابوزید نے اپنی مدت ملازمت کے اختتام سے چند روز پیش تر، قاہرہ کی امریکی یونی ورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے اس خصوصی فولاد کا ذکر ان الفاظ میں کیا: ’’یہ انتہائی مضبوط فولاد اسی غرض کے لیے خصوصی طور پر امریکا میں تیار کیا گیا ہے، اس پر مختلف دھماکا خیز مواد چلا کر اس کی مضبوطی کا تجربہ بھی کیا جاچکا ہے‘‘۔ یعنی اس میں نقب لگانا یا بم دھماکے سے اس میں سوراخ کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر مزید حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے اس زیرزمین پوری آہنی فصیل کو برقی رَو سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی مزید ایسے آلات لگا دیے گئے ہیں کہ کہیں سے اس میں شگاف ڈالا جائے توفوراً اس کا سراغ لگایا جاسکے۔

اس فولادی دیوار کے علاوہ فلسطینی علاقے کی جانب ایک خطرناک آبی دیوار قائم کی جارہی ہے۔ یہ بھی اپنی نوعیت کا ایک ناقابلِ یقین اور ہلاکت خیز منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے مطابق بحر متوسط سے ایک زمین دوز موٹا پائپ فولادی دیوار کے ساتھ ساتھ بچھایا جا رہا ہے۔ اس پائپ سے ہر ۳۰ سے ۴۰ میٹر کے فاصلے پر تقریباً ۵۳میٹر گہرا، چھے انچ موٹا پائپ زمین میں اُتارا جارہاہے۔ ان عمودی پائپوں میں لاتعداد سوراخ کیے گئے ہیں، طاقت ور پمپس کے ذریعے جب سمندر سے بڑے اُفقی پائپ اور وہاں سے گہرے عمودی پائپوں میں پانی چھوڑا جائے گا، تو پورا علاقہ دلدل کی صورت اختیار کرجائے گا اور وہاں کسی کے لیے سرنگیں کھودنا ممکن نہ رہے گا۔

عالمی اقتصادی بحران اور دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت کا رونارونے والوں کے پاس، مفلوک الحال، بھوکے اور محصور فلسطینیوں کو سرنگیں کھودنے سے روکنے کے لیے شیطانی ذہنیت ہی نہیں اربوں ڈالر کا وافر خزانہ بھی ہے۔ لیکن کسی ظالم دشمن یا بے ضمیر و نام نہاد دوست نے یہ نہ سوچا، کہ اس آہنی اور آبی دیوار کے دُور رس مضر اثرات، بھوک کا شکار فلسطینیوں ہی کو نہیں پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ سمندر کا نمکین پانی پائپوں اور مشینوں کے ذریعے زمین کے پیٹ میں اُتار دینے سے، علاقے میں موجود تھوڑا بہت پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں رہے گا۔ ۳۰ سے ۵۳ میٹر گہری آبی دیوار بنا دینے سے یہی نہیں کہ علاقے میں سرنگیں نہیں کھودی جاسکیں گی، بلکہ بالآخر پورے علاقے میں زمین کی اندرونی تہوں میں تبدیلی واقع ہوگی۔ زمین کے دھنس جانے اور کاشت کے قابل نہ رہنے کے سانحے روپذیر ہوں گے۔ ۳۰میٹر یعنی ۹۰فٹ گہری فولادی دیوار کھڑی کردینے سے زیرزمین پانی کا سفر رُک جائے گا، جس سے فلسطینی علاقے میں خشکی اور قحط، جب کہ مصری علاقے میں پانی کی سطح بلند ہوجانے اور علاقے کے سیم زدہ ہوجانے کے خدشات میں اضافہ ہوجائے گا۔ یقینا متعلقہ ماہرین نے اس بارے میں اپنی راے دی ہو گی، لیکن فیصلہ چونکہ امریکا میں اور اسرائیلی دبائو پر ہوا ہے، اس لیے ’قومی مصلحت‘ قرار دیتے ہوئے تیزی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ موقف مصر کی جامعہ ازہر کا ہے جس کے درباری مفتیوں نے فولادی اور آبی دیوار کو ’جائز‘ قرار دے دیا ہے کہ یہی ’آقا‘ کا حکم ہے۔

ایک عرب شاعر نے ایسے ہی موقع پر کہا تھا   ؎

جَزَی اللّٰہُ الشَّدَائِدَ کُلَّ خَیْرٍ

عَرَفْتُ بِھَا عَدُوِّی مِنْ صَدِیْقِی

(اللہ مصیبتوں کو جزاے خیر دے کہ میں نے ان کے ذریعے دوست دشمن میں تمیز کرلی۔)

غزہ میں زندگی کی آخری رمق بچانے کی خاطر کھودی گئی سرنگیں بند ہو رہی ہیں اور اہلِ غزہ کو یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی دوسرا راستہ کھول دے گا۔ لیکن گذشتہ تقریباً چار سال سے محصور غزہ کو، دنیا بھر میں انسانیت دوست چہروں کی پہچان ہوگئی ہے۔ ۲۷دسمبر کو غزہ پر جارحیت کی پہلی برسی کے موقع پر یورپ سے اڑھائی سوگاڑیوں کے ایک قافلے نے امدادی سامان لے کر غزہ جانا چاہا۔ قافلے میں مسلمان اور غیر مسلم ارکانِ پارلیمنٹ، علماے کرام، سیاسی کارکنان اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے ذمہ داران سمیت تقریباً ۵۰۰ افراد شریک تھے۔

معروف برطانوی سیاسی رہنما اور رکن پارلیمنٹ، اپنی سیاسی پارٹی Respect (احترام)  کے سربراہ جارج گیلوے اس قافلے کے سربراہ تھے۔ قافلے کو ’شہ رگِ حیات ۳‘ کا نام دیا گیا۔ دوامدادی قافلے اس سے قبل آچکے تھے۔ مختلف یورپی ممالک، ترکی، شام اور اُردن میں قافلے کا شان دار عوامی استقبال کیا گیا۔یہ کارواں جب بحیرۂ احمر پر واقع اُردن کی بندرگاہ عقبہ پہنچا تو وہاں سے صرف تین گھنٹے کے بحری سفر کے بعد، مصری سرزمین اور پھر رفح گیٹ وے پہنچ سکتا تھا۔ مصری انتظامیہ نے قافلے کو آنے سے روک دیا اور کہا کہ پہلے تو زمینی راستے سے واپس شام جائو اور پھر وہاں سے بحرمتوسط کے راستے نہرسویز عبور کرتے ہوئے دوبارہ بحیرۂ احمر میں آئو۔ مصری بندرگاہ نویبع کے بجاے مصر ہی کی ایک اور بندرگاہ عریش پہنچو تو وہاں سے غزہ جانے کی اجازت دیں گے۔ لیکن جب امدادی سامان سمیت اڑھائی سو گاڑیوں کو بحری جہازوں اور کشتیوں میں لاد کر تین گھنٹے کے بجاے مزید پانچ دن، اور ۷۰کلومیٹر کے بجاے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد، قافلہ غزہ کے دروازے پر پہنچا تو پھر روک دیا گیا۔ قافلے کے یورپی ارکان نے قاہرہ میں واقع فرانسیسی اور دیگر یورپی سفارت خانوں کے باہر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ عام طور پر یہ مظاہرے رات ۱۰ بجے شروع ہوکر، صبح 3 بجے تک جاری رہتے۔ آخری روز تو مصری پولیس سے باقاعدہ جھڑپ ہوگئی۔ اس موقع پر ترک حکومت نے خصوصی طور پر اور مؤثر مداخلت کی۔ ان کے ارکان اسمبلی اور حکمران پارٹی کے علاوہ اربکان صاحب کی سعادت پارٹی کے ذمہ داران بھی قافلے میں شریک تھے۔ جارج گیلوے کے مضبوط موقف، قافلے کی اکثریت یورپی شہریوں پر مشتمل ہونے اور ترکی کی شب و روز رابطوں کے نتیجے میں، بالآخر قافلے کو غزہ جانے کی اجازت دے دی گئی۔

۱۲ اور ۱۳ جنوری کو لبنان کے دار الحکومت بیروت میں ساتویں سالانہ القدس کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے تقریباً ۲۰۰ افراد شریک ہوئے۔ شرکا میں نمایاں ترین اور سب کی توجہ کا مرکز افراد وہی تھے جو ’شہ رگِ حیات ۳‘ میں شامل تھے۔ قافلے کے مرکزی منتظم محمد صوالحہ ابو عبادہ کو مخاطب کرتے ہوئے انھیں اور کانفرنس میں شریک نہ ہوسکنے والے جارج گیلوے کو پوری امت کی طرف سے خصوصی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ بعد میں ابو عبادہ سے کھانے کی میز پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا، تو بتارہے تھے کہ مصری انتظامیہ نے اجازت بھی دی تو یہ امر یقینی بناتے ہوئے کہ قافلہ صرف ایک روز کے بعد واپس آجائے گا، اور یہ بھی کہ ہم دن کے کسی پہر میں غزہ نہ پہنچ سکیں۔ ہم غزہ داخل ہوئے تو رات کا ایک بج رہا تھا۔ اہل غزہ کئی دن سے روزانہ ہمارا انتظار کررہے تھے،    رات کے آخری پہر میں بھی بڑی تعداد میں جمع تھے لیکن اگر قافلہ دن کی روشنی میں وہاں پہنچتا، تو شاید دنیا کے سامنے ایک اور ہی منظر ہوتا۔ ابو عبادہ بتارہے تھے کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود غزہ ابھی تک جنگ کے تباہ کن اثرات سے نہیں نکل سکا۔ تباہ شدہ عمارتیں اب بھی ملبے کا ڈھیرہیں۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز ناپید ہے۔ کانفرنس میں غزہ سے آئے ہوئے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر مروان ابو راس سے خصوصی نشست ہوئی۔ امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبد الرشید ترابی، خالد محمود خان اور کراچی سے مظفر ہاشمی شریک تھے۔ ڈاکٹر مروان بتارہے تھے کہ محاصرے کے باعث ادنیٰ سے ادنیٰ ضروریات زندگی بھی نہیں ملتیں، کسی کے پاس آٹا ہے تو پکانے کوایندھن نہیں۔ کئی لوگ گھروں سے پھٹے پرانے کپڑے، کاغذ اور گھاس پھونس جلا کر کھانا تیار کرتے ہیں۔ کسی کے پاس پیسے ہیں اور وہ دوا یا روٹی لینے کے لیے فجر کے وقت نکلتا ہے تو بعض اوقات شام تک واپس لوٹ پاتا ہے۔

پھر جنگ کے جو نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہیں، انسان ہونے کے ناتے ان سے مکمل چھٹکارا بھی آسان نہیں ہے۔ بچے، بوڑھے، مرد و خواتین اپنے تباہ شدہ گھروں کو دیکھتے ہیں تو تمام خون آشام مناظر تازہ ہوجاتے ہیں۔ سمیرہ بعلوشہ کی عمر تقریباً تیس سال ہے، گھر کے کھنڈر دیکھتے ہی وہاں شہید ہونے والی اپنی پانچ بچیوں کے نام لے لے کر انھیں یاد کرنا شروع کردیتی ہیں۔ ڈاکٹر عونی الجرو ۱۹۹۷ء میں یوکرین سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرکے آئے تھے۔ اب وہ غزہ کے الشفاء ہسپتال میں باطنی امراض کے معالج ہیں، اپنی آنکھوں کے سامنے اہلیہ، شیرخوار بیٹے یوسف اور ۱۲ سالہ یاسمین کے پرخچے اڑ جانے کا حال سنانا شروع کرتے ہیں۔ تو الفاظ سے زیادہ آنسوئوں کی زبان سے بات کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ جنگ میں ایک ہزار چار سو افراد شہید ہوئے تھے اور ۵ہزار گھر ڈھادیے گئے تھے۔ ہر شہید کے وارث اور ملبے کے ہر ڈھیر سے صہیونی درندگی کی نئی سے نئی داستان سننے کو ملتی ہے۔

ڈاکٹر مروان بتارہے تھے کہ دیگر بہت سے اُمور کے علاوہ ایک قرآنی معجزہ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ حماس کے حفظ قرآن کیمپوں میں لوگ ۶۰ روز کے اندر مکمل قرآن کریم حفظ کر رہے ہیں۔ بچے ہی نہیں بڑے بھی، مرد ہی نہیں خواتین بھی، جب ایک بار ارادہ اور آغاز کرلیتے ہیں تو بظاہر مشکل، بلکہ ناممکن نظر آنے والا ہدف بآسانی حاصل ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر مروان کے بقول اب تک غزہ میں ۱۵ ہزار سے زائد افراد مختصر مدت میں مکمل قرآن حفظ کرچکے ہیں۔ کہنے لگے میرا اپنا بیٹا پہلے کہتا تھا: ’’بابا ایک دن میں دس صفحات یعنی آدھا پارہ حفظ نہیں کرسکتا‘‘ پھر جب اللہ کا نام لے کر کیمپ میں شریک ہوگیا تو الحمد للہ دو ماہ میں مکمل قرآن حفظ کرلیا۔ یہ الٰہی اور قرآنی معجزہ ہم اہلِ غزہ  کے لیے، اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔

القدس کانفرنس سے متصل ۱۴ اور ۱۵ جنوری کو ’مزاحمت کے ساتھ‘ کے عنوان سے ایک اور کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ سالانہ القدس کانفرنس کا اہتمام القدس فاؤنڈیشن کرتی ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی کی زیر صدارت یہ تنظیم خصوصی طور پر اہل بیت المقدس اور مسجد اقصی کی نصرت کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس کے بہت سارے تعلیمی، تعمیراتی اور صحت کے منصوبے گذشتہ سات برس میں پایہء تکمیل تک پہنچ چکے ہیں اور مزید پر کام جاری ہے۔ مزاحمت کے ساتھ مَعَ المُقَاوَمَۃ کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس ’بین الاقوامی عرب فورم براے نصرت مزاحمت‘ کے زیر اہتمام ہوئی تھی۔ دونوں کانفرنسوں کے بہت سے شرکا مشترک بھی تھے اور کئی الگ الگ بھی۔ دوسری کانفرنس میں عرب قومیت کی سرخیل شخصیات بھی پیش پیش تھیں۔ افتتاحی سیشن سے سب سے پہلے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے خطاب کیا۔ ان کا خطاب سیٹلائٹ کے ذریعے براہِ راست دکھایا گیا۔ مفصل خطاب کے آخر میں انھوں نے ایک جملہ یہ بھی کہا کہ ’’اسرائیل دوبارہ جارحیت کی تیاریاں تو کررہا ہے لیکن اسے جان لینا چاہیے کہ آیندہ کسی بھی جنگ میں ہم ان شاء اللہ خطے کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گے‘‘۔ ان کے بعد حماس کے سربراہ خالد المشعل کا خطاب تھا پھر عراقی تحریک مزاحمت کی طرف حارث الضاری پھر علامہ یوسف القرضاوی اور شام و لبنان کی حکومتوں کے پیغامات تھے۔

کانفرنس میں مغربی ممالک سے بھی بڑی تعداد میں اسکالر، ارکان پارلیمنٹ، اور اہم شخصیات موجود تھیں۔ معروف امریکی مصنف رمزے کلارک کا خطاب بھی اگرچہ مختصر تھا لیکن امریکی دوغلے پن اور اسرائیلی شیطنت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کررہا تھا۔ اگلے روز محترم عبد الرشید ترابی اور راقم نے تحریک مزاحمت کشمیر اور افغانستان و پاکستان کی صورت حال پر گفتگو کی۔ کانفرنس کے اکثر شرکا فلسطین، عراق اور افغانستان ہی کی طرح پاکستان کے بارے میں بھی گہری تشویش کا اظہار کررہے تھے۔ یہ بدقسمتی کی بات تھی کہ پاکستان اور پاکستانی عوام سے اظہار محبت کے باوجود کوئی ایک فرد ایسا نہیں تھا کہ جو پاکستانی حکومت کے بارے میں کلمۂ خیر کہہ رہا ہو۔ حالانکہ کانفرنس میں ۵۰ فی صد سے زائد لوگ اسلام سے کوئی خاص ذہنی وابستگی نہیں رکھتے تھے۔ پرویز مشرف نے بھی مسلم دنیا کی بڑی نفرتیںسمیٹی ہیں، لیکن اب زرداری صاحب ان سے بھی کئی ہاتھ آگے بڑھ چکے ہیں۔

دوسری طرف عین کانفرنس کے دنوں میں ترکی کا ایک اور شان دار موقف سب کو سربلند کرگیا۔ ترک ٹی وی پر ان دنوںایک ڈراما سیریز چل رہی ہے: ’بھیڑیوںکی وادی‘۔ اس سیریز میں اسرائیلی مظالم کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ اس پر احتجاج کرنے کے لیے تل ابیب میں ترک سفیر کو وزارت خارجہ بلایا گیا۔ پہلے تو سفیر صاحب کو نائب وزیر خارجہ دانی ایالون کے دفتر کے دروازے پر منتظر کھڑا رکھا گیا۔ کئی منٹ کے انتظار کے بعد دروازہ کھلا تو دانی ایالون اور اس کے ساتھیوں نے سفیر صاحب کا استقبال کرتے ہوئے انھیں ایک نسبتاً نچلے صوفے پر بٹھایا اور خود ان کے سامنے اونچی کرسیوں پر بیٹھ گیا۔ درمیانی میز پر بھی سفارتی آداب کے مطابق دونوں ملکوں کے بجاے، صرف اسرائیل کا پرچم پڑا تھا۔ خیر ملاقات ختم ہوئی اور وزارت خارجہ کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو خصوصی ہدایات کے ساتھ ان تینوں پہلوؤں کو نمایاں کروادیا گیا (انتظار - زیریں نشست - اکلوتا پرچم)

اس پر ترک صدر عبد اللہ گل اور وزیر اعظم رجب طیب اردوگان کی طرف سے سخت احتجاج کیا گیا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس پر بذریعہ فون ترکی سے رسمی معذرت کرلی۔ لیکن صدر گل کی طرف سے کہا گیا کہ نہیں اگر آج شام سے پہلے پہلے، اسرائیل پوری ترک قوم سے باقاعدہ اور تحریری معذرت نہیں کرتا، تو ہم پہلے قدم کے طور پر اولین پرواز سے اپنا سفیر واپس بلالیں گے۔     یہ سن کر اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی۔ فوراً کئی ارکان اسمبلی اور ماہرین خارجہ اُمور نے مل کر ایک معذرت نامہ ڈرافٹ کیا اور جاری کرنے سے پہلے ترک صدر کو بھجوایا کہ ڈرافٹ خود ملاحظہ کرلیں، اگر مزید کچھ لکھنا ہے تو وہ لکھ کر بھی معذرت کو تیار ہیں۔

اپنے علاوہ کسی کو انسان نہ سمجھنے والے اسرائیل کا یوں گھٹنے ٹیک دینا، دنیا کے لیے بہت سے پیغام رکھتا تھا جس کا اظہار اہل فلسطین نے خصوصی طور پر کیا۔ ’شہ رگِ حیات ۳‘ کے غزہ جانے کے بعد یہ دوسرا ترک موقف تھا، جس نے ترک حکومت کا مقام و مرتبہ بلند کیا۔ یقینا اس سے پہلے ڈیووس کانفرنس سے طیب اردوگان کا احتجاجی بائیکاٹ اور جنگ غزہ کے دوران فلسطینیوں کے زخم پر پھاہا رکھنے کی کوششیں بھی سب کو یاد ہیں۔ ترکی کے اس نمایاں کردار کے باعث اب عرب دنیا  ’دور عثمانی کی واپسی‘ جیسے عنوانات سے بے شمار تجزیے لکھ اور دیکھ رہی ہے۔ اسی ترک کردار کے باعث حال ہی میں سعودی عرب نے رجب طیب اردوگان کو خدمتِ اسلام کا شاہ فیصل عالمی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سلسلے کا پہلا ایوارڈ مولانا مودودیؒ کو دیا گیا تھا۔ ترکی کے اس روشن موقف کے تناظر میں، پڑوسی اور عرب برادر ملک مصر کاغزہ کے گرد دیوار موت تعمیر کرنا سب کو کَھل رہا تھا۔ تقریباً سب شرکا نے اس پر بات بھی کی۔ اس موقع پر اخوان المسلمون کے ایک رکن نے کھڑے ہوکر مصری حکومت کے ان اقدامات سے براء۱ت کا اظہار کرتے ہوئے مصری عوام کی ترجمانی کی۔ انھوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں قاہرہ سے اخوان المسلمون کے ۲۴ ارکان پارلیمنٹ اپنا یہی قومی موقف واضح کرنے آئے ہیں۔

گذشتہ ۳۰ سال سے مصری عوام پر مسلط صدر حسنی مبارک، غزہ سے آنے والی چیخوں اور اپنے عوام کے دل کی بات نہیں سن رہے تو کم از کم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک ہی دل کے کانوں سے سن لیں: ’’بنی اسرائیل کی ایک خاتون کو صرف اس لیے جہنم میں پھینک دیا گیا کہ اس نے اپنی بلی کو قید کر رکھا تھا۔ نہ تو اسے کچھ کھانے کو دیا اور نہ ہی اسے آزاد کیا کہ وہ خود کچھ کھالے‘‘۔ جناب حسنی مبارک! اے عرب حکمرانو! دنیا بھر کے غیور لوگو! غزہ میں انسانوں کو قید کرنے کی سزا کیا ہوگی؟ اور وہ بھی ایک دو نہیں، ۱۵ لاکھ انسانوں کو!

’’آپ نے مجھے یاد فرمایا تھا یا رسولؐ اللہ؟‘‘ حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی۔ جلیل القدر صحابی کو اسلام قبول کیے ابھی چار ہی ماہ گزرے تھے۔ ’’اپنے کپڑے اور ہتھیار لے آئیں اور مجھے دوبارہ ملیں‘‘ :جواب ملا۔ آپؓ گھر جاکر سفر    کے لیے تیار ہوئے، واپس آئے تو آپؐ وضو کررہے تھے۔ آپؐ  نے چند لمحے غور سے اپنے صحابی کا چہرہ تکا، پھر سر جھکا کر فرمایا: ’’میں چاہتا ہوں کہ آپ کو ایک لشکر کا سربراہ بناکر بھیجوں‘‘۔ ساتھ ہی خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا: ’’اس معرکے میں آپ فتح یاب رہیں گے، مالِ غنیمت بھی حاصل ہوگا‘‘ ۔ حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ نے فوراً سرتسلیم خم کرتے ہوئے عرض کی: ’’یا رسول اللہ! میں نے مال کے لیے تو اسلام قبول نہیں کیا، میں نے تو اسلام ہی کی خاطر اسلام قبول کیا ہے۔ میں نے تو اس لیے اسلام قبول کیا ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہو‘‘ ۔آپؐ  نے فرمایا :’’مالِ صالح اگر نیک بندے کے پاس ہو تو وہی سب سے بہترین مال ہے‘‘۔

۳۰۰ جان نثار صحابہ کا لشکر تیار ہوا، حضرت عَمر.ْ و بن العاص رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں جانے والا یہ لشکر جس معرکے کو روانہ ہوا، اسے’ذاتُ السَّلاسِل‘ کہا جاتا ہے۔ اس لشکرکی روانگی  غزوۂ مُوتہ سے اسلامی افواج کی واپسی کے چند ہی روز بعد ہورہی تھی۔ غزوۂ مُوتہ میں اہل اسلام کی ۳ہزار نفوس پر مشتمل فوج نے ایک لاکھ کے لشکر کا سامنا کیا تھا۔ حضرت زید بن ثابت، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر قائدین ،ایک ایک کرکے شہید ہوگئے تھے۔ پھر حضرت خالدؓ بن ولید نے قیادت سنبھالی اور جان توڑ کوشش کے بعد، باقی لشکر کو بخیر و خوبی نکال لائے تھے۔ اس لشکر کی واپسی کے چند روز بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ بنو قضاعہ، جنھو ں نے مُوتہ میں رومیوں کا ساتھ دیا تھا، اس صور ت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، مدینہ منورہ پر چڑھائی کے لیے جمع ہورہے ہیں۔ اس خطرے کی سرکوبی کے لیے آپؐ نے حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ کی قیادت میں سابق الذکر لشکر روانہ کیا۔

حضرت عَمرْو نے حضرت خالد بن الولید کے ساتھ صفر ۸ ہجری میں اسلام قبول کیا تھا اور تمام عرب میں اپنی دانائی، حاضر دماغی اور ذہانت و فطانت کے حوالے سے خصوصی مقام رکھتے تھے۔ قبول اسلام کے چار ماہ بعد، یعنی جمادی الثانی ۸ہجری میں لشکر روانہ ہوا، ابھی راستے ہی میں تھا کہ معلوم ہوا، دشمن کی تعداد زیادہ ہے۔ سپہ سالار نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید کمک ارسال کرنے کا پیغام بھیجا۔ آپؐ  نے حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح کی قیادت میں مزید ۲۰۰ مجاہدین کا لشکر، اعانت کے لیے روانہ فرمایا۔ اس نئی فوج میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما جیسے انتہائی جلیل القدر صحابہ بھی شامل تھے۔ کمک پہنچی تو سوال اٹھا کہ اب مسلمان فوج کا قائد کون ہوگا؟ ایک راے یہ سامنے آئی کہ دونوں لشکر اپنے اپنے امیر کی امارت ہی میں رہیں، اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوج کی ذمہ داری میرے سپرد کی ہے، آپ لوگ ہماری نصرت کے لیے آئے ہیں، آپ کو بھی اصل فوج میں شامل ہوجانا چاہیے۔ قریب تھا کہ پورا لشکر دو فریقوں میں تقسیم ہوجاتا، حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح (جنھیں امینِ امت کا لقب عطا ہوا) آگے بڑھے اور فرمایا جناب عَمرْو! آپ کو معلوم ہے رخصت کرتے ہوئے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آخری بات کیا فرمائی تھی؟ انھوں نے فرمایا تھا: ’’جب تم اپنے ساتھی سے جا ملو، تو دونوں ایک دوسرے کی بات تسلیم کرنا‘‘۔ اب اگر آپ کو میری راے سے اختلاف ہے تو میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں آپ کی اطاعت کروں گا۔ یہ کہتے ہوئے انھوں نے قیادت حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ کے سپرد کردی۔

اب ۵۰۰ سرفروشوں کا یہ لشکر دن رات کی منزلیں طے کرتا ہوا آگے بڑھا۔ حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ کی کوشش تھی کہ دشمن کو ان کے آنے کی خبر کانوں کان نہ پہنچ پائے۔آپ اکثر سفر رات کے وقت کرتے اور دن کا بیش تر حصہ کسی جگہ خاموشی سے پڑاؤ ڈال دیتے۔ شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے رات کے وقت سردی میں شدید اضافہ ہوجاتا تھا۔ صحابہ کرامؓ نے تجویز دی کہ سردی کے علاج کے لیے، آگ تاپنے کی اجازت دی جائے۔ امیر نے آگ جلانے سے منع کردیا۔ سردی مزید بڑھی تو صحابہ نے حضرت عمر بن الخطابؓ سے بات کی۔ انھوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا کہ آپ حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ سے جاکر آگ جلانے کی اجازت لے لیں۔ وہ گئے اور امیر لشکر  سے بات کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ساتھی اس بارے میں شاید پہلے بھی باربار کہہ چکے ہوںگے۔ اس مرتبہ انھوں نے دوٹوک انداز سے منع کردیا اور کہا :’’ان میں سے جس نے بھی آگ روشن کی اسے اسی میں پھینک دوں گا‘‘ (لا یُوقِدُ أَحَدٌ مِنْھُمْ نَارًا اَلاَ قَذَفْتُہٗ فِیْھَا) حضرت عمرؓ بن الخطاب نے یہ جواب سنا تو ناراض ہوگئے، لیکن حضرت ابو بکر صدیقؓ نے تحمل سے فرمایا: عمر! آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات مانیں، اختلافات پیدا نہ ہونے دیں۔ عمر! ہوسکتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے انھیں ہمارا امیر بنایا ہو کہ وہ جنگ اور اس کے فنون کے زیادہ ماہر ہیں‘‘، رضی اللہ عنہم اجمعین۔

قافلہ آگے بڑھتا رہا، جہاں جاتے خبر ملتی، بنوقضاعہ کے لوگ یہاں تھے، مدینہ منورہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کی آمد کا سن کر یہاں سے بھاگ گئے۔ کافی دور جاکر بنوقضاعہ کا باقی ماندہ لشکر ملا۔ آمنا سامنا ہوا لیکن عزم صمیم، وحدتِ صف، سمع و طاعت، شوقِ شہادت اور  ریاستِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے جذبے سے سرشار مسلم فوج کے سامنے، جلد ہی پسپا ہوگیا۔ کچھ صحابہ کی راے تھی کہ دشمن کا پیچھا کیا جائے، لیکن امیر نے پھر دوٹوک انداز میں منع کردیا۔ لشکر اسلام نے چند روز وہیں قیام کیا۔ مخالفین پر ریاست مدینہ کی دھاک بیٹھ گئی۔ اطراف شام تک اسلامی ریاست کی سرحدیں محفوظ ہوگئیں اور لشکر کامیاب و کامران واپس آیا۔ مسلمانوں میں ہرجانب خوشی ا و راطمینان کی لہر دوڑ گئی۔

کسی مناسب موقع پر بعض صحابہ کرامؓ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے امیر حضرت عَمر.ْ و  بن العاصؓ کا ذکر کرتے ہوئے چار نکات پیش کیے:

___ انتہائی سرد راتوں میں بھی انھوں نے ہمیں آگ جلانے کی اجازت نہیں دی۔

___ حضرت ابوعبیدہؓ کا لشکر جانے کے بعد بھی انھوں نے، امیر رہنے پر اصرار کیا۔

___ دشمن کی ہزیمت کے بعد،انھوں نے اس کا پیچھا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

___ انھوںنے ایک صبح پانی ہونے کی باوجود تیمم کرکے امامت کروائی، حالانکہ انھیں غسل کی ضرورت تھی۔

آپؐ نے انھیں بلا کر چاروں سوال کیے تو انھوں نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن تعداد میں زیادہ تھا۔ہم نے دشمن کی نگاہوں اور جاسوسوں سے بچ کر سفر طے کیا۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر میں نے آگ جلانے کی اجازت دے دی تو دشمن کو ہماری اصل تعداد معلوم ہوجائے گی۔ دوسرے سوال کا جواب وہی دیا جو دوران سفر دے چکے تھے کہ یارسولؐ اللہ !آپؐ نے مجھے امیر متعین کرکے بھیجا تھا، یہ ساتھی کمک کے لیے آئے تھے۔ تیسری بات کا جواب یہ ہے کہ میں نے انھیں دشمن کا پیچھا کرنے سے اس لیے روکا کہ مجھے خدشہ تھا کہ دشمن کہیں گھات لگا کر نہ بیٹھا ہو اور اچانک حملہ کر کے پانسا نہ پلٹ دے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی نگاہوں سے محفوظ رہنے، مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد و نظم برقرار رکھنے اور اپنے ساتھیوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے ان اقدامات کو درست قرار دیا۔ چوتھی بات کے بارے میں آپؐ نے دریافت کیا: یاعَمْرو أَصَلَّیْتَ بِأَصْحَابِکَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟’’ عمرو کیا جنابت کی حالت میں ساتھیوں کونماز پڑھائی؟‘‘ جواب ملا :یارسول اللہ !پانی شدید ٹھنڈا تھا میں نے اللہ تعالیٰ کا فرمان دیکھا: وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا   (النسائ۴:۲۹)’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو، اللہ تم پر بہت رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ آپؐ  ہنس دیے اور کوئی تبصرہ نہ فرمایا۔

یہ تمام واقعات احادیث و سیرت کی مختلف کتب میں تفصیل سے ملتے ہیں۔ مختلف روایات کی اسناد و صحت بھی مختلف ہے۔ ان کی بنیاد پر مختلف فقہی ابحاث و مناقشت بھی چھیڑی جاسکتی ہے۔ بعض جملوں کی صحت اور سند کے بارے میں سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ حقیقت ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ ہماری اصل ذمہ داری ان سے حاصل ہونے والے دروس و اسباق پر غور کرنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ آئیے اب اسی نیت سے کچھ پہلوؤں کا دوبارہ مطالعہ کرتے ہیں۔

۱-            ذمہ داریوں کا تعین ہمیشہ مرتبے، یا تحریک میں گزارے جانے والی مدت و اسبقیت پر نہیں ہوتا۔حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ صرف چار ماہ قبل نعمت ِاسلام سے فیض یاب ہوئے تھے۔  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی جنگی صلاحیت، اس علاقے سے واقفیت اور فہم و فراست کے پیش نظر ۲۰،۲۰سال سے تحریک کے سرخیل کی حیثیت سے موجود صحابہء کبار کو آپ کی قیادت میں بھیج دیا۔ حضرت عَمر.ْ و  بن العاصؓ اور حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہما جب اسلام قبول کرنے کے لیے تشریف لارہے تھے تو آپؐ نے انھیں دیکھ کر فرمایا: رَمَتْکُمْ مَکّہ بِفَلَذَاتِ کَبِدِھَا ’’مکہ نے آج اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تمھاری طرف اچھال دیا ہے‘‘۔ انھی دونوں ہستیوں کی وجہ سے اسلامی تحریک کو کئی صدمے جھیلنا پڑے تھے، آج جب وہ نور رسالت کے اسیر ہوکر مدینہ کھنچے چلے آئے تو آغوش نبوت نے وفور محبت سے انھیں اپنے دامن شفقت میں سمیٹ لیا۔ ان کی تکریم کرتے ہوئے ابوبکر و عمر اور امین امت رضی اللہ عنہم جمیعا کو ان کی سرداری میں دے دیا۔ اسلامی تحریک اگر نئے آنے والوں کو خوش آمدید نہ کہتی، ان کی تالیف و تکریم کا اہتمام نہ کرتی تو شاید کبھی اس قدر مضبوط، منظم اور کامیاب نہ ہوتی۔ قبول اسلام کے چند ہی ماہ اور ذات السلاسل کے دوماہ بعد یعنی رمضان ۸ ہجری میں فتح مکہ کا تاریخی واقعہ روپذیر ہورہا تھا اور حضرت خالد بن الولید چار مختلف اطراف سے مکہ میں داخل ہونے والے لشکروں میں سے ایک کی سربراہی کررہے تھے، یعنی اپنے قبول اسلام کے تقریباً چھے ماہ بعد۔ اس سے قبل غزوۂ مُوتہ میں تین قائدین کی شہادت کے بعد لشکر اسلام کی قیادت کرتے ہوئے، صحابہ کرام کو موت کے منہ سے نکال کر، قبولِ اسلام کے تقریباً تین ماہ بعد ’سیف اللہ‘ اللہ کی تلوار کا لقب حاصل کرچکے تھے۔

۲-            نئے آنے والے ساتھی کو اپنا امیر بنا دیے جانے پر ان عظیم شخصیات میں سے کسی کی طرف سے ادنیٰ تردد، تحفظات یا ناراضی و ناپسندیدگی کا اشارہ تک نہ ملا۔ یہی صورت ہمیں آں حضوؐر کی جانب سے متعین کردہ آخری لشکر، لشکر اسامہ بن زید کے بارے میں دکھائی دیتی ہے۔

۳-            جیسے ہی آپؐ  کے پاس کمک کی درخواست پہنچی آپؐ نے فوراً عظیم شخصیات کو مدد  کے لیے ارسال کردیا، اپنے ساتھیوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا۔

۴-            جب دو میں سے ایک کی قیادت کے انتخاب کا مرحلہ آیا اور حضرت عَمر.ْ و  بن العاصؓ نے اپنی دلیل پیش کی تو حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح نے فوراً خود آگے بڑھ کر دست برداری کا اعلان کیا۔ حالانکہ آپ کو دربار رسالت سے ’امینِ اُمت‘ کا خطاب حاصل ہوچکا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں اور نئے آنے والوں ہی کو عملی قیادت کے تجربات و تربیت سے  نہیں گزارا خود بزرگ صحابہ کرام کو بھی ایک روشن مثال کے طور پر پیش کیا کہ ان کے نظم و ضبط اور  سمع و طاعت کی روح سے نئے ساتھی بھی فیض یاب ہوں۔

۵-            ایک دوسرے کی نفسیات تک کا خیال رکھنے کی عملی مثال بھی سامنے آگئی۔ عمر فاروقؓ کو حضرت عَمر.ْ و بن العاصؓ کا دوٹوک انداز معلوم تھا اور اپنے مزاج کا اس سے بھی زیادہ علم تھا۔ آپ نے آگ جلانے کی تجویز دینے کے لیے نرم خو اور بزرگ شخصیت کے حامل صدیق اکبرؓ کو ارسال کیا، مبادا کہ ماحول میں کوئی تلخی آجائے۔

۶-            جب امام تیمم سے تھا اور پانچ سو باوضو بزرگ صحابہ مقتدی تھے۔ یہ سوال بھی موجود تھا کہ کیا غسل کے بجاے تیمم ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور یہ سوال بھی ہوسکتا تھا کہ سب باوضو ہیں، امام نے غسل کی جگہ تیمم کیا ہوا ہے تو کیا پیچھے والوں کی نماز ہوگی بھی یا نہیں۔ لیکن کسی نے اس فقہی مسئلے کو نزاع کا باعث نہ بنایا۔ کسی نے نہ کہا کہ نماز دہرا لیتے ہیں۔۔ الگ جماعت کروالیتے ہیں۔ سب نے باجماعت اور کامل یکسوئی سے نماز ادا کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مسئلہ پیش ہوا تو آپؐ نے بھی مسکراہٹ اور خاموشی پر اکتفا کیا۔ علماے فقہ نے اس واقعے سے دونوں نتائج اخذ کیے۔ ایک گروہ نے مسکرانے اور خاموشی کو جواز و تاکید قرار دیا۔ آپؐ کا تبسم بھی مسائل شریعت کا فیصلہ کرتا ہے۔ آپؐ نے کسی کو اس کی نماز نہ ہونے یا نماز دہرانے کی تلقین نہیں فرمائی، جب کہ ایک گروہ نے آپؐ  کے اس لفظ کو: ’’کیا جنبی تھے اور ساتھیوں کی امامت کروالی‘‘ سے یہ اخذ کیا کہ آپؐ نے خود فرمادیا کہ ’’جنبی تھے‘‘ یعنی تیمم سے طہارت نہ ہوئی۔ لیکن فریق اول کا کہنا ہے کہ آپ نے تو بس صحابہؓ کا سوال دہرادیا، خود تو صرف تبسم و خاموشی سے موقف کی تائید کردی۔ اس حوالے سے بھی سب سے بنیادی امر یہی ہے کہ اس طرح کے فقہی اختلافات و آرا کو نہ تو صحابہؓ نے اختلاف و علیحدگی کا سبب بنایا اور نہ آپؐ نے اسے بحث و تمحیص کی بنیاد بننا دیا۔

۹-            اگرچہ حضرت عَمر.ْ و  بن العاصؓ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بشارت دے چکے تھے کہ ’’فتح یاب ہوکر آؤ گے‘‘ لیکن قائد نے صرف خوش خبری کو بنیاد بناکر عمل اور جدوجہد ترک نہیں کردی۔ ہر وہ حکمت اختیار کی اور ہر وہ کوشش کی، جو معرکے میں کامیابی کے لیے ضروری تھی۔ قیادت اور نظم و ضبط میں کسی کو کوئی شک نہ رہنے دیا۔ پورا ایک لشکر ایک ہی اِمام، ایک ہی سربراہ کی زیرقیادت یک جا و متحد کیا۔ دشمن کی نظروں سے بچنے کے لیے رات کا سفر، آگ کا نہ جلانا اور دشمن کی کمین گاہ سے محتاط رہتے ہوئے اس کی شکست کے باوجود پیچھا نہ کرنا، سب عمل و جدوجہد ہی کے مظاہر ہیں۔ اگر نری بشارتوں ہی پر تکیہ کرنے والی قیادت ہوتی، تو شاید پھر یہ بشارت ہی حاصل نہ ہوتی۔

۱۰-         رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے ہی دشمن کے ارادوں اور ریاست اسلامی کو درپیش خطرات کا علم ہوا، تو آپ نے معرکے کو دشمن کی سرزمین میں منتقل کر دیا۔ خود آگے بڑھ کر فتنے کی سرکوبی کر دی۔ کبھی یہ نہیں ہوا کہ دوسروں کی جنگ کو آپؐ اپنی سرزمین پر کھینچ لائے ہوں اور جنگ کی آگ بھڑکاکر تمام دشمنوں کو اس پر مزید تیل چھڑکنے کا موقع فراہم کر دیا ہو۔

۱۱-         اس سفر اور بزرگ صحابۂ کبار کی قیادت کرلینے سے حضرت عَمر.ْ و  بن العاصؓ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان کا مقام مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے۔ خود روایت کرتے ہیں کہ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ذاتُ السلاسل میں جانے والے لشکر کا سربراہ بناکر بھیجا۔ اس میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ آپؐ  نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا امیر بلاوجہ نہیں بنادیا، آپؐ  کے دل میں میری قدرومنزلت ان سے بھی بڑھ کر ہوگی تو ایسا کیا ہے‘‘ میں نے حاضر ہوکر دریافت کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ  کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ آپؐ  نے (بے ساختہ اور دل کی بات زبان پر لاتے ہوئے فرمایا) عائشہؓ سے۔ میں نے عرض کی: نہیں یارسولؐ اللہ! میں آپؐ  کے اہل خانہ کے بارے میں نہیں پوچھ رہا۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہ کے والد سے۔ میں نے کہا: ان کے بعد؟ آپؐ نے فرمایا: عمرؓ سے۔ میں نے کہا: ان کے بعد۔ اس طرح آپؐ نے ایک ایک کرکے کئی صحابہ کے نام گنوادیے۔ میں نے پھر یہ سوچ کر مزید پوچھنا بند کردیا کہ کہیں میرا نام سب سے آخر میں نہ آجائے‘‘۔

یہ واقعہ بھی اسلامی تحریک کے ہر کارکن کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کی ذمہ داریاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اس کی قدرومنزلت کا تعین نہیں کرتیں۔ مدرسۂ نبوت نے نئے آنے والے طالب علم کی دل جوئی کی خاطر، نئے آنے والے کی دوٹوک، محتاط اور    حکیمانہ طبیعت کے پیش نظر، اس ذمہ داری کے لیے موزوں جانا اور وہ اس اعتماد پر پورے اُترے، لیکن مقام و مرتبے کا تعین اور آپؐ سے قربت کا حصول ذمہ داریوں کے تعین سے نہیں ہوتا۔

نئے طالب علم نے بھی اس خلافِ توقع جواب پر برا نہیں منایا، نہ دورِ جہالت ہی کا کوئی تعصب قریب آنے دیا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ خود بھی قدرومنزلت کی انھی بلندیوں تک پہنچ گئے۔ تب جیسے خود ہی اپنی پہلی راے کی سادگی کا خیال آیا ہو، بیان کیا کہ دیکھو بھلا میں بھی کیا سوچ بیٹھا تھا۔

۱۲-         رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی زندگی، جہدِ مسلسل سے عبارت تھی۔ ابھی مُوتہ کو دو ہفتے بھی نہ گزرے تھے کہ ذات السلاسل کے لیے لشکر ارسال کر دیا۔ اس معرکے کو دو ماہ نہ گزرے تھے کہ فتحِ مکہ کے عظیم معرکے کا آغاز ہوگیا۔ رمضان میں مکہ فتح ہوا اور تقریباً تین ہفتے بعد۵شوال ۸ ہجری کو غزوئہ حنین کے لیے لشکرِرسولؐ روانہ ہو رہا تھا۔ کسی طرف سے آواز نہیں آئی: ابھی ایک معرکے سے اور مہم سے سانس نہ لیا تھا کہ دوسرے میں جھونک دیا۔ سب نے بیک آواز لبیک کہا اور سرخ رو ہوگئے   ؎

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

رب ذو الجلال ہمیں اپنے دین کا صحیح فہم عطا فرما اور ہمارے لیے اس پر عمل کو آسان بنادے، آمین!

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کا قائد بناکر بھیجا۔ اس نے ایک جگہ آگ روشن کی اور لشکر سے کہا: اس میں کود جاؤ۔ کچھ لوگوں نے اس کی بات مانتے ہوئے آگ میں کود جانے کا فیصلہ کرلیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ نہیں آگ ہی سے بچنے کے لیے تو ہم مسلمان ہوئے ہیں۔ واپس آکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں کود جانے کا ارادہ کیا تھا ان سے مخاطب ہوکر آپؐ نے فرمایا: اگر تم آگ میں جاکودتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔ اور جن لوگوں نے آگ میں کودنے سے انکار کیا تھا آپؐ نے ان کی تحسین کی اور فرمایا: اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی شخص کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے (مسلم، حدیث ۳۲۲۴)

مطلق اطاعت کا حق صرف رب ذو الجلال کے لیے ہے۔ باقی تمام اطاعتیں اسی بزرگ و برتر ہستی کی اطاعت سے مشروط ہیں۔ مذکورہ لشکر کا سربراہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقرر کردہ تھا، لیکن حکمت الٰہی نے اپنے حبیبؐ کے امتیوں کی تعلیم کا انتظام کرنا تھا۔ یہ واقعہ روپذیر ہوا اور صحابہ کرامؓ کے ذریعے پوری اُمت کو درس حاصل ہوگیا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سب پر مقدم ہے۔

اسی حدیث سے سمع و طاعت کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے، اگرچہ سربراہ کے حکم پر عمل نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن کئی صحابۂ کرام جذبۂ اطاعت میں اس کے لیے بھی تیار ہوگئے۔ حکم چونکہ اللہ کی تعلیمات کے صریحاً منافی تھا، اس لیے سب صحابہ کرامؓ نے اتفاق راے سے اس پر عمل نہ کیا اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی تائید و تحسین فرمائی کہ اسلام اور اسلامی تحریک میں شمولیت کا اصل مقصد ہی رب کی اطاعت اور اس کی آگ سے بچنا ہے۔

حدیث یہ بھی واضح کرتی ہے کہ خودکشی کرنا اللہ کی صریح نافرمانی ہے۔ اللہ کی آگ سے بچنے کے اُمیدوار اس حرام فعل سے اجتناب کرتے ہیں۔

زندگی کے ہر گوشے کے لیے سنہری اور ابدی اصول عطا ہوگیا، خالق کی نافرمانی کرتے ہوئے مخلوق میں سے کسی کی ___ جی ہاں، کسی کی بھی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زہر  پی کر خودکشی کی، جہنم کی آگ میں جاکر بھی اس کے ہاتھ میں زہر ہی ہوگا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہیں رہ کر بار بار زہر پی کر، بار بار مرتا رہے گا۔ (ابوداؤد ، حدیث ۳۸۷۲)

زندگی اللہ کی امانت ہے۔ انسان کسی کی تو کجا، اپنی جان بھی نہیں لے سکتا۔ اگر کوئی اس جرم کاارتکاب کرلے تو یہ نہیں کہ بس مرگیا اور قصہ ختم، وہی اقدامِ خودکشی اس کی ابدی سزا بن جاتا ہے۔ دوسری احادیث میں ہے کہ کوئی بلندی سے خود کو گرا کر مرگیا تو وہ بار بار اسی طرح زندہ کیا جاتا رہے گا اور اسی طرح گر گر کر مرتا رہے گا۔ کسی نے تلوار یا کسی بھی ہتھیار سے خود کو قتل کرلیا وہ بھی اسی طرح___  زندگی کی پریشانیوں، مصیبتوں یا غصے کا علاج اور احتجاج کا راستہ خودکشی نہیں ہوسکتا، یہ تو ہمیشہ کا عذاب ہے۔


حضرت عبد اللہ بن بریدہ ؓسے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ایسی نہیں ہے کہ اس نے بدعہدی کی اور ان کے درمیان قتل و غارت نہ بڑھ جائے۔ کوئی قوم ایسی نہیں ہے کہ اس میں فحاشی عام ہوجائے اور اس پر موت نہ مسلط ہو، اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے کہ زکوٰۃ دینا چھوڑ دے اور اللہ نے اس کی بارش نہ روک لی ہو۔ (مستدرک حاکم ، حدیث ۲۵۲۹)

عہد کی پاس داری، قرآن اور حدیث کی پاس داری ہے۔ انسان کی معاشرتی، معاشی، سیاسی زندگی اور لاتعداد اجتماعی مسائل کا حل اسی ایک اصول کی پابندی کا مرہون منت ہے۔ عہد کی خلاف ورزی سے اختلافات پیدا ہوں گے اور بالآخر نتیجہ جھگڑوں اور قتل و خوں ریزی کی صورت میں نکلے گا۔یہ اصول ابدی اور جامع ہے۔

حدیث سے دوسری اہم بات یہ واضح ہوئی کہ حیاداری نہ رہے تو معاملہ انسانی ضمیر اور نسل انسانی کی موت تک جاپہنچتا ہے۔ ایڈز جیسی ہلاکتوں کا رونا رونے اور اس کا مقابلہ کرنے لیے معصوم بچوں میں بے حیائی کی تعلیم کا پرچار کرنے والے ذرا یہ نسخۂ ’حیاداری‘ آزما کر تو دیکھیں، رسول رحمتؐ کی حقانیت واضح ہوجائے گی۔

تیسرا اصول یہ عطا ہوا کہ زکوٰۃ کی ادایگی برکت ہی برکت ہے، رسول اکرمؐ فرماتے ہیں کہ صدقات سے مال ہمیشہ بڑھتا ہی ہے، کبھی کم نہیں ہوتا۔ ہاں، جو بندہ مال کی محبت میں گرفتار ہو کر سمجھے کہ مال  روک کر رکھنے سے مال بڑھے گا، وہ جان لے کہ پھر صرف وہی نہیں، پورا معاشرہ قحط سالی کا شکار ہوجائے گا۔


حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی سے یہ کہہ کر مخاطب ہوتے ہوئے نہیں سنا کہ: ’’میرے ماں باپ آپ پر قربان‘‘ سوائے سعدؓ بن مالک کے۔ آپؐ غزوۂ اُحد کے دوران انھیں فرمارہے تھے: ’’سعد تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان!‘‘۔ (بخاری، حدیث ۴۰۵۹)

پوری کائنات جس ہستی پر فدا ہونا اپنے لیے اعزاز سمجھے وہ خود کسی کو کہہ دے ’’میرے ماں باپ تم پر قربان‘‘۔ سبحان اللہ! اس اعزاز و مرتبے پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے، لیکن ہم امتیوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ حضرت سعدؓ کو یہ مقام و مرتبہ کیوں کر حاصل ہوا؟ غزوۂ اُحد کے واقعات اسی سوال کا جواب ہیں۔ ایسے وقت میں کہ جب مسلمانوں پر انتہائی کڑا وقت تھا، لشکر اسلام پر اچانک دوبارہ ہلہ بول دیا گیا تھا___ صحابۂ رسول رضی اللہ عنہم شہید ہورہے تھے ___ حضرت سعدؓ تاک تاک کر دشمن پر تیر برسارہے تھے۔ یہی وہ لمحات تھے کہ جب حضرت سعد ؓ کو تاریخ کا سب سے منفرد اعزاز حاصل ہوگیا۔

آج جب پوری اُمت پر ادبار کا عالم ہے۔ دنیا کے سب ابلیس یک جا ہوکر حملہ آور ہیں،کون ہے جو حضرت سعدؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دفاعِ اُمت کے لیے انؓ کی سی مہارت حاصل کرے۔ اُس وقت کے تیر آج ہر نوع کی عسکری، علمی، اقتصادی قوت اور ٹکنالوجی کے تمام جدید ذرائع کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ قرآن نے ایک لفظ میں پورا مضمون سمو دیا:ما استطعتم ’’جو کچھ بھی تمھارے بس میں ہے‘‘ دشمن کے مقابلے کے لیے تیار کرو۔


حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں ایک بیج (یا پنیری) ہو جسے وہ بونا چاہ رہا ہو، تو اگر ایسا ممکن ہو کہ قیامت واقع ہوجانے سے پہلے پہلے وہ اسے بودے تو ضرور بودے۔ (مسند احمد، حدیث ۱۳۰۰۴)

جب قیامت ہی آجائے گی تو ظاہر ہے سب کچھ ختم ہوجائے گا، لیکن اس تمثیل کے ذریعے،  معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم عمل اور محنت کی عظمت بیان فرمارہے ہیں۔ رزق حلال کے حصول، اپنی ذمہ داریوں کی ادایگی، معاشرے کی تعمیر و ترقی، دفاع اُمت اور انسانیت کی خدمت و فلاح کی خاطر آخری سانس تک کوشش، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلوب و محبوب ہے۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ مصیبت کے لمحات میں اللہ اس کی دُعا قبول فرمائے، اسے چاہیے کہ عافیت کے لمحات میں زیادہ سے زیادہ دُعا کرے (ترمذی ، حدیث ۳۳۸۲)

آزمایش اور مصیبت کے لمحات میں مسلمان ہی نہیں کفار بھی، اللہ ہی کو پکارنے لگ جاتے ہیں۔ بندے اور رب کے مابین تعلق کی اصل پرکھ، سُکھ کے لمحات میں ہوتی ہے۔ آسودہ حالی میں بندہ اپنے رب کو یاد رکھے، اس کے سامنے جھولی پھیلائے رکھے، اس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا پاس کرے، تو وہ غفور و رحیم ذات، تنگی، پریشانی اور مصیبت کے لمحات میں اپنے بندے کو یاد رکھتی ہے۔ پروردگار کی عطائیں جاری رہتی ہیں اور وہ بندے کی دُعاؤں کی لاج رکھتا ہے۔

عافیت کو عام طور پر صحت و تندرستی کا مترادف سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کا مفہوم بے حد وسیع اور زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر دُعا فرمایا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَ تَحَوُّلِ عَافِیَـتِکَ، ’’پروردگار میں تیری نعمتوں کے زوال اور تیری عافیت کے اُٹھ جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘‘۔ دُنیا میں کتنے انسان ہیں جو خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں اور اچانک عافیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس کا تصور ذہن میں لاتے ہوئے اب ذرا حدیث اور اس کے مفہوم کا دوبارہ مطالعہ کرکے دیکھیے، رب سے کس طرح کا تعلق مطلوب ہے۔


حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس سے اس کا رب براہ راست ہمکلام نہ ہو۔ دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ بندہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا اسے کچھ دکھائی نہ دے گا، سوائے اس کے کہ جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہے۔ وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو، وہ اپنی آگے بھیجی ہوئی کمائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھے گا۔ وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ دکھائی نہ دے گا۔ تو (اے لوگو) آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کا صدقہ دے کر۔ اور اگر اللہ کی راہ میں دینے کے لیے تمھارے پاس کچھ بھی نہ ہوتو اچھی بات کہہ کر ہی آگ سے بچو۔ (بخاری، حدیث ۷۵۱۲)

ہر بندے کو اصل فکر مندی اسی لمحے کی ہونی چاہیے جب رب ذو الجلال اس سے خود ہمکلام ہوگا۔ بندے کے ساتھ کچھ رہے گا تو صرف اس کا عمل اور رب رحیم کی رحمت۔ رحمتوں کی طلب اور آگ سے بچاؤ کے لیے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان راہ بتادی___ اللہ کی راہ میں، صرف اور صرف اس کی رضا کے لیے زیادہ سے زیادہ خرچ۔ اور کچھ نہیں تو کھجور کا ٹکڑا ہی سہی، وہ بھی نہیں تو خیرخواہی کے دو بول ہی سہی۔

 

امریکی وزیرخارجہ کولن پاول خطے کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔دورے کے اختتام پر ایوانِ صدر میں الوداعیہ پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ ایک طرف وزیرخارجہ پاول کھڑے تھے اور دوسری جانب، ہر پروٹوکول کو خاک میں ملاتے ہوئے صدر مملکت جنرل پرویز مشرف۔ کولن پاول نے احسان جتاتے ہوئے اعلان کیا: ’’پاکستان ہمارا اسٹرے ٹیجک حلیف ہے‘‘۔ اعلان کے بعد وزیرخارجہ پورے تزک و احتشام کے ساتھ روانہ ہوئے اور سیدھے دلی پہنچے، وہاں وزیرخارجہ کے برابر بھارتی وزیرخارجہ نے کھڑے ہوکر پریس کانفرنس کی۔ وہاں کولن پاول کامل اطمینان و مسرت سے اعلان کر رہے تھے: ’’بھارت ہمارا فطری حلیف ہے‘‘۔ ظاہر ہے اسٹرٹیجی اور پالیسی تو تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوسکتی۔

نائن الیون سے پہلے اور بعد کے حالات اسی حقیقت کا عملی مظہر و ثبوت ہیں۔ ہم نے امریکی احکامات کی بجاآوری اس انداز سے کی ہے کہ اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ دنیا کا کوئی عام شہری بھی پاکستان کو مقبوضہ افغانستان اور عراق سے زیادہ حیثیت نہیں دیتا، لیکن اس ساری خدمت گزاری کا اصل اجر وثواب بھارت کی گود میں ڈالا جا رہا ہے۔ ہرچند ماہ، بلکہ بعض اوقات چند ہفتوں کے وقفے سے امریکا یا اس کی لے پالک صہیونی ریاست کی طرف سے کوئی نہ کوئی بڑی فوجی یا اقتصادی امداد بھارت کے چرنوں میں لا ڈالی جاتی ہے۔

نومبر کے آغاز میں ایک ارب ۱۰ کروڑ ڈالر مالیت کا جدید ترین اسرائیلی دفاعی نظام بھارت کو پیش کیا گیا۔ اسی طرح کا ایک سودا تقریباً ایک ماہ قبل، گذشتہ اکتوبر میں سامنے آیا تھا۔ ایک طرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بھارت، اسرائیل اور امریکا ہمیشہ سرجھاڑ، منہ پھاڑ پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں، لیکن دوسری طرف ’پُرامن مقاصد‘ کی دُم لگا کر بھارت کے ایٹمی پروگرام کو بلاروک ٹوک آگے بڑھایا جارہا ہے۔ بھارت کے علاقوں آندھرا پردیش اور گجرات میں خود امریکی جوہری کمپنیوں کی جانب سے ایٹمی تنصیبات تعمیر کرنے کے معاہدوں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ ان دنوں دورئہ واشنگٹن پر ہیں۔ اس دورے میں امریکا اور بھارت کے درمیان ۱۸ ارب ڈالر کے جنگی جہازوں اور دیگر عسکری سازوسامان کے سودوں پر دستخط متوقع ہیں۔ ہرسال ایک لاکھ بھارتی طلبہ کو امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلے دیے جارہے ہیں۔ ہرسال دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے، ملازمتوں کے لیے جتنے ویزے جاری کرتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق ان میں سے ۵۰فی صد صرف بھارتیوں کو دیے جاتے ہیں۔امریکا اور بھارت کے درمیان باہمی تجارت گذشتہ چارسال میں دگنی ہوکر ۴۳ ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔ امریکا میں مقیم بھارتی نژاد امریکیوں کی تعداد تقریباً ۳۰ لاکھ ہوچکی ہے۔ ان بھارتی نژاد امریکیوں کی ایک سب سے اہم سرگرمی، بھارت امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہے۔ اس پورے کام کو بھارتی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل رہتی ہے۔

امریکا، اسرائیل اور بھارت پر مشتمل برائی کا محور (Axis of Evil)  ایک عالم کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے بے تاب ہے۔ اس موضوع پر لاتعداد مقالے، تحقیقی رپورٹیں اور کتابیں روشنی ڈالتی ہیں۔ ۸مئی ۲۰۰۳ء کو امریکی یہودی کمیٹی (American Jewish Committee -AJC) کے ۹۸ویں سالانہ عشائیے میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا کا خصوصی خطاب بھی اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ اپنے اس کلیدی خطاب میں جناب مشرا نے انھی تین ممالک پر مشتمل تکون کو مضبوط کرنے پر زور دیا تھا۔ یہ تکون بنانے کے اسباب و اہداف واضح کرتے ہوئے انھوں نے اس  ’نظریۂ تثلیث‘ کو ایک تو انتہا پسند اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری قرار دیا تھا، اور دوسرے  سبز اور سرخ (عالم اسلام اور چین) کے ممکنہ اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے۔ مشرا نے اپنی تقریر میں  یہ خوش خبری دی تھی کہ اس تکون کی تشکیل عملاً وجود میں آچکی ہے۔

مشرا نے کہا: ’’ہم تینوں کا عسکری تعاون پہلے ہی سے جاری ہے۔ امریکا اور بھارت دونوں کی افواج اسرائیل میں تربیت حاصل کررہی ہیں۔ یہ افواج دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، شہروں میں گوریلا کارروائیوں کی ٹریننگ اور دیگر مہارتیں حاصل کررہی ہیں.... جاسوسی معلومات کے تبادلے میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ اسرائیلی جاسوسی ادارے بھارت کو ایسی جاسوسی اطلاعات فراہم کرنے میں خصوصی طور پر فعال ہیں، جن سے پاکستان پر نگاہ رکھنے میں مدد ملتی ہے‘‘۔

موصوف نے اپنی تقریر میں تینوں ملکوں کو ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنے کا درس  دیتے ہوئے کہا: ’’خصوصی طور پر یہ کہ ہم تینوں ملک ایک دوسرے کو وہ کچھ پیش کرسکتے ہیں جو دوسرے کے پاس نہیں ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں دیکھیں تو ہم تینوں میں سے ہرملک دوسرے دو کے بدترین دشمنوں سے اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے دشمن پاکستان کے ساتھ ’فی الحال‘ امریکا کے اچھے تعلقات ہیں۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کا دشمن ہے، لیکن بھارت کے اس سے اچھے تعلقات ہیں۔ چین، امریکا کا بہت بڑا حریف ہے ،بھارت کے لیے بھی وہ بڑا خطرہ ہے لیکن اسرائیل کے ساتھ اس کے بہتر تعلقات ہیں‘‘۔ ان الفاظ میں چھپا اصل پیغام یقینا وہاں بیٹھے تمام حاضرین کو بخوبی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ ہم میں سے جو ملک ہمارے کسی دشمن ملک کے ساتھ دوستی رکھتا ہے، وہ وہاں باقی دونوں کے مقاصد کی تکمیل کرے۔

یکم نومبر ۲۰۰۸ء کو شکاگو میں دیے گئے ایک اور لیکچر کا عنوان ہی ’بھارت، اسرائیل، امریکا اتحاد: انسانیت کی آخری عظیم اُمید‘ تھا۔ اس لیکچر میں ڈاکٹر رچرڈ بنکن (Richard Benkin) نے جو کچھ کہا ہوگا وہ اس کے عنوان سے ظاہر ہے۔ اس نظریاتی اور جذباتی وابستگی کی بنیاد پر تینوں ملکوں کے تعلقات کو مستحکم اور ہمہ پہلو بنانے کے لیے کئی امریکی اور یہودی ادارے مصروف کار ہیں۔ تین اہم امریکی تھنک ٹینک اس سلسلے میں اپنی سالانہ کانفرنسیں باقاعدہ منعقد کررہے ہیں، تاکہ تینوں ملکوں کے درمیان گہرے تعلقات کا سفر جاری رہے۔اس تعاون کا ایک عملی نتیجہ ۲۰۰۰ء کے وسط میں، اسرائیل کا کلنٹن انتظامیہ کو اس بات پر آمادہ کر لینا تھا کہ وہ اپنا جدید ترین فضائی اور جاسوسی نظام ’اواکس‘ (AWACS) بھارت کو فروخت کردے، حالانکہ امریکی انتظامیہ خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جانے کے خدشے سے یہ نظام بھارت کو دینے میں متردد تھی۔ ۲۱ جنوری ۲۰۰۸ء کو بھارتی سرزمین سے، بھارتی راکٹوں کے ذریعے فضا میں چھوڑا جانے والا اسرائیلی جاسوسی  خلائی سیارہ اس عالمی تکون کا ایک اور خطرناک اقدام تھا۔ اس جاسوسی سیارے کے ذریعے ہر طرح کے موسم میں ایک مربع میٹر کے علاقے تک کی انتہائی واضح تصاویر بنا لینا آسان ہوگیا ہے۔

امریکی عسکری رسالے ڈیفنس نیوز کے مطابق اسرائیل امریکا کے تعاون سے ۲۰۱۰ء کے وسط میں Horizon-8 نام کا ایک نیا جاسوسی سیارہ فضا میں چھوڑنے جا رہا ہے۔ اس کے بعد Horizon-9کے نام سے ایک مزید سیارہ بھی چھوڑا جانا ہے لیکن اس کے لیے کسی ایسے دوسرے ملک کی تلاش ہے جو اس کے اخراجات اور ٹکنالوجی میں معاونت دے سکے۔ امریکی رسالے کے مطابق اسرائیل اور بھارت ۲۰۱۱ء کے آخر تک Tec SAR-2 نامی ایک اور مشترکہ خلائی سیارہ بھی فضا میں چھوڑیں گے۔

تینوں ملکوں کے تعلقات میں سے بھی بھارت اسرائیل تعلقات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ فلسطینی اسٹرے ٹیجک رپورٹ ۲۰۰۷ء نے ان دونوں ملکوں کے تعلقات کا مفصل جائزہ لیا ہے۔ کئی صفحات پر پھیلی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ:

بھارت نے صہیونی ریاست کو اس کے اعلان تشکیل کے فوراً بعد ہی ایک حقیقت واقعہ (de-facto) کی حیثیت سے تسلیم کرلیا تھا۔ چند ماہ بعد ہی اسے ممبئی میں اپنا تجارتی دفتر کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ جون ۱۹۵۳ء میں یہ دفتر باقاعدہ اسرائیلی قونصلیٹ کا درجہ اختیار کرگیا، اگرچہ بھارت کا علانیہ موقف یہی رہا کہ اسرائیل کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اندراگاندھی نے اپنے دور اقتدار میں اسرائیل کے ساتھ خفیہ عسکری تعلقات کا آغاز کردیا، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ اور علانیہ سفارتی تعلقات ۱۹۹۲ء میں اس وقت قائم ہوئے، جب نرسیما راؤ نے کانگریس پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ اسرائیلی سفارت خانہ جلد ہی بھارت میں موجود سفارت خانوں میں فعال ترین سفارت خانے کی حیثیت اختیار کرگیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہمہ جہت تعلقات کی ایک جھلک فروری ۲۰۰۷ء میں دلی میں منعقد ہونے والی ہندو یہودی مشترکہ کانفرنس میں دیکھی جاسکتی ہے، جس میں دونوں طرف سے چوٹی کی مذہبی قیادت شریک ہوئی۔ اگرچہ اس کانفرنس کا  انعقاد ایک مجہول تنظیم ’عالمی کونسل براے مذہبی قیادت‘ کی طرف سے کیا گیا تھا لیکن اس کا اعلامیہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کیا گیا۔ دیگر امور کے علاوہ اس کانفرنس میں ایک  ’ہندو یہودی دائمی کمیٹی‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

تعاون کا ایک اور اہم پہلو باہم اقتصادی تعاون ہے۔ ۱۹۹۲ء میں باقاعدہ اور علانیہ تعلقات کے قیام کے وقت دونوں ملکوں کے درمیان ۲۰ کروڑ ڈالر کی سالانہ تجارت ہوتی تھی۔  ۲۰۰۵ء-۲۰۰۶ء میں یہ تجارت ۲ ارب ۲۰ کروڑ تک جاپہنچی۔ یہ اعداد و شمار بھی بھارت کے    اعلان کردہ ان اعداد و شمار کے مطابق ہیں جن کے بارے میں عمومی خیال ہے کہ ان میں دونوں ملکوں کے درمیان عسکری تعاون کی اصل رقوم چھپائی جاتی ہیں۔ عسکری تعاون کا جائزہ لیں تو وہ دونوں کے باہمی تعلقات کا سب سے اہم حصہ ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی اور ۱۹۹۹ء میں کارگل کے واقعات کو اس میں مزید اضافے کے لیے خوب خوب استعمال کیا جارہا ہے۔ اسرائیلی فوج کا ڈپٹی چیف جنرل موشیہ کا بلینسکی خود جون ۲۰۰۷ء میں کشمیر کا دورہ کرچکا ہے، تاکہ کشمیر کی جدوجہد آزادی ختم کرنے کے لیے ماہرانہ رہنمائی دے سکے۔ اب بھارت، اسرائیل سے اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل، بھارت کو گذشتہ کئی برس سے سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کا اسلحہ دے رہا تھا۔ ۲۰۰۶ء میں یہ مقدار ڈیڑھ ارب ڈالر تک جا پہنچی جو بھارت میں درآمد کیے جانے والے کل ہتھیاروں کا ایک تہائی ہے۔ اب معاملہ صرف اسرائیلی ہتھیار خریدنے پر ہی موقوف نہیں، دونوں ملک مل کر بھی بہت سا جدید اسلحہ تیار کررہے ہیں۔ وزیراعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں ایک مشترک کمیٹی نے درمیانے درجے کے نئے میزائل تیار کرنے کے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کی مالیت اڑھائی ارب ڈالر ہے۔ یہ میزائل روسی ساخت کے پچوڑا (Pechora ) میزائل کی جگہ لے گا۔

The Hindu کے شمارے (یکم ستمبر ۲۰۰۷ء)کے مطابق دونوں ملک مزید ۱۸ مشترکہ عسکری منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔ (ان خبروں کے پس منظر میں ۲۳ نومبر ۲۰۰۹ء کو بھارت کے اگنی۲ میزائل جس کی مار ۲ہزار کلومیٹر تک ہے اور جو ایک ٹن ایٹمی مواد اٹھا سکتا ہے، کا تجربہ، ساتھ ہی ۳ہزار اور ۵ہزار کلومیٹر دُور مار کرنے والے میزائلوں پر کام جاری ہونے کی اطلاعات، بہت سے سوالیہ نشان پیدا کرتی ہیں۔ سب سے اہم تو یہ کہ آخر بھارت کو اتنی دُور تک تباہی پھیلا سکنے والے میزائلوں اور ان پر اربوں ڈالر بھسم کرڈالنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اگر پاکستان سے خطرات  لاحق ہیں تو اس کے لیے تو چند سو کلومیٹر تک جاسکنے والے میزائل ہی کافی تھے؟ تو پھر کیا یہ میزائل اسرائیلی مفادات کی آبیاری کے لیے تیار کیے جارہے ہیں؟ اور کیا یہ بھی انھی ۱۸ مشترکہ عسکری منصوبوں کا حصہ ہیں؟ پھر یہ کہ یہ تجربہ اور اعلانات من موہن کی امریکی موجودگی کے عین دوران کیوں کیے گئے؟ کیا ان کا مقصد ایران اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کو دی جانے والی امریکی اسرائیلی دھمکیوں کو، عملاً نافذ کرنے کی تیاریوں کی اطلاع دینا ہے؟)

بھارت اور اسرائیل کے بدنام زمانہ جاسوسی اداروں ’را‘ اور ’موساد‘ کے مابین جاسوسی تعاون،  سابق الذکر تعاون کے تمام منصوبوں پر مستزاد ہے۔ اسٹرے ٹیجک رپورٹ کے مطابق اس کی ایک جھلک Radiff.com کی ویب سائٹ پر موجود مضمون: Raw & Mosad: The Secret Link میں دیکھی جاسکتی ہے۔

کچھ لوگوں کے لیے یہ حقائق اور معلومات یقینا غیر متوقع نہیں ہوں گے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس سب تعاون کے جواب میں پاکستان، جو اس ساری تیاری اور تعاون کا اولیں ہدف ہے، کیا کررہا ہے؟ امریکا، بھارت اور اسرائیل کے اہداف بھی واضح ہیں اور ان کی پالیسیاں اور اقدامات بھی۔ لیکن اس سب کچھ کے مقابل ذرا ہم اپنی طرف سے مسلسل الاپے جانے والے راگ سنیں: ’’امریکا ہمارا قابلِ اعتماد دوست ہے، ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں ہم اس کے حلیفِ اول ہیں۔ امریکی جنگ، ہماری اپنی جنگ ہے۔ ہم بھارت سے دوستی چاہتے ہیں۔ آخر کب تک کشمیر پر لڑتے رہیں، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں ہی نہیں درجنوں مزید آپشن موجود ہیں۔ خفیہ سفارت کاری سے مسئلہ حل کریں گے۔ مسئلہ فلسطین پر خود عرب اپنا ایمان بیچ رہے ہیں تو ہم کیوںنہ اسرائیل سے دوستی کرلیں۔ بھارت کا راستہ روکنا اور امریکا کا دل جیتنا ہے تو ہم خود اسرائیل کو تسلیم کرلیں‘‘۔

یہ اور اس طرح کی مزید بہت سی خودفریبیاں دشمن کا کام یقینا آسان کردیں گی اور پھر کسی فریب خوردہ ملک و قوم کے لیے نجات کی کوئی راہ باقی نہ رہے گی۔ آج بھی وقت ہے سنبھلنے کا۔ پروردگار اہل باطل کو دُور تک اور دیر تک ڈھیل، اور اہل ایمان کو آخری لمحے تک مہلت عمل دیتا ہے۔

  • سنبھلنے کی کوششوں میں سب سے پہلا قدم اپنی حفاظت اور دفاع کا پختہ عزم و ارادہ اور یقین پیدا کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے اخلاصِ نیت اور اللہ کی نصرت پر یقین بھی کہہ سکتے ہیں۔
  •  دوسرے قدم پر مرض یعنی اصل دشمن کو پہچاننا ہوگا۔ دشمن یا دشمنوں کے گروہ کو درست طور پر پہچاننے میں تمام زمینی حقائق، تاریخی مراحل، علمی و عملی معلومات اور مخالف کی سرشت کو سمجھنا، سب شامل ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم کی یہ آیت بھی رہنمائی کرتی ہے:

وہ تمھاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے۔ تمھیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی اُن کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بُغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی شدید ترہے۔ ہم نے تمھیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے)۔ تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کتب ِ آسمانی کو مانتے ہو۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو (وہ تم سے اظہارِ محبت و قربت کرنے کے لیے) کہتے ہیں کہ ہم نے بھی (تمھارے رسول اور تمھاری کتاب کو) مان لیا ہے، مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمھارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی اُنگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ اپنے غصہ میں آپ جل مرو، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۱۸-۱۱۹)

  • ہم سب اس ایمان کی تجدید کریں کہ امریکا نہیں سب سے بڑی قوت رب ذو الجلال کی قوت ہے۔ امریکا تو خود افغانستان و عراق کی دلدل میں ڈوب رہا ہے۔ ٹھیک ہے وہ اب بھی وہاں فساد پھیلا رہا ہے، لیکن کوئی وقت جاتا ہے کہ وہ دونوں ممالک سے بھاگنے کے لیے تنکوں کا سہارا تلاش کررہا ہوگا۔ مثلث خبیثۃ کے باقی دونوں ارکان اپنے اپنے مفادات کی خاطر اسے وہاں روکنے کی کوششیں کریں گے، لیکن اس قانون فطرت کو کوئی نہیں رد کرسکتا کہ جس نے بھی دعواے خدائی  کیا عبرت کا نشان بن گیا۔ امریکا کے اندورنی بحران اس سنت الٰہی کے نافذ ہوجانے ہی کی ایک دلیل ہیں، صرف ۲۰۰۹ء میں اب تک امریکا کے ۱۱۵بنک قلاش اور دیوالیہ ہونے کا اعلان کرچکے ہیں۔ خود اس کے تجزیاتی ادارے ۲۰۲۵ء میں ولایت ہاے متحدہ امریکا کے ناپید ہوجانے کی  پیشین گوئیاں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل میں بھی بہت سے ایسے گروہ میدان میں ہے کہ جو اس صہیونی ریاست کو تورات کی تعلیمات سے صریحاً متصادم قرار دے رہے ہیں۔
  •  دشمنوں کے گروہ کے مقابل پاکستان کو اہم دوست ممالک کا اعتماد بحال کرتے ہوئے، ایک متبادل بلاک مضبوط کرنے کی سعی کرنا ہوگی۔ ان ملکوں کے ساتھ تعلق، صرف کشکول پھیلانے کا تعلق نہ ہو، بلکہ تعاون کی اصل روح، ایک دوسرے کے مشترک مفادات کا تحفظ ہو۔ ان ممالک میں ہونے والی بیرونی سازشوں کو ناکام بنانا بھی اسی دوطرفہ تعاون کا حصہ ہو۔ حال ہی میں یمن سعودی عرب سرحدوں پر بعض یمنی قبائل کے ذریعے بغاوت پھیلانا اور پھر جنگ کا دائرہ سعودی عرب تک پھیلادینا، سرزمین حرمین شریفین میں بھی آگ کے شعلے بلند کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ چند قبائل کا دو ملکوں کی باقاعدہ افواج کے سامنے کئی ماہ تک ڈٹا رہنا کسی بیرونی امداد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پاکستان اور ترکی آگے بڑھ کر یہ آگ بجھانے کی کوشش کریں، تو یہ سابق الذکر متبادل عالمی بلاک کی مضبوط بنیاد ثابت ہوسکتی ہے۔
  •   امریکی، صہیونی اور ہندو گٹھ جوڑ کا سب سے اہم اور خطرناک پہلو آیندہ نسلوں کو ہم سے چھین لینے کی سعی کرنا ہے۔ اپنی نسلوں کو خوف و دہشت کے گہرے سایوں کی نذر کردینے کے بجاے، ان کے دلوں میں عزم و ہمت اور جرأت و شجاعت راسخ کرنے اور ملّی مفادات سے ہم آہنگ تعلیمی نصاب رائج کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ لفظ جہاد ہی کو نعوذ باللہ نفرت و حقارت کا شکار کردینے کے بجاے جہاد، قربانی اور شہادت کا حقیقی اور درست مفہوم واضح کرنا ہوگا۔ سچی اسلامی تعلیمات کا پابند اور حقیقی اور اصل دشمن کے خلاف جہاد، ایمان کا جزو لازم اور قوموں کی زندگی میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

سب سے اہم یہ کہ ہم سب کو اپنے اللہ کی پناہ حاصل کرنا ہوگی۔ دن رات دہرائے جانے والے اپنے وعدے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش پا پر چلتے ہوئے، ہر دم اس خبیر و قدیر ذات کے سامنے ہاتھ پھیلانا ہوں گے اَللّٰھُمَّ  اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُورِھِمْ وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ، اے ہمارے پروردگار ہم اپنے دشمنوں کی گردنیں تیرے ہاتھ دیتے ہیں اور ہم ان کے ہر شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

 

ایک منٹ کی وڈیو فلم کا آغاز ہوا تو اسکرین پر ’فلسطین‘ نام کا اخبار تھا۔ چند سیکنڈ بعد اس کی تاریخ ۲۰۰۹ء؍۹؍۱۴ دکھائی گئی اور پھر اخبار کے اُوپری کنارے سے جھانکتی ہوئی دو آنکھیں دکھائی دیں، آہستہ آہستہ اخبار ہٹ گیا اور سامنے اغوا شدہ یہودی فوجی گلعاد شالیط کا چہرہ تھا۔ شالیطکو تین سال قبل حماس کے عسکری بازو نے اغوا کیا تھا۔ حماس کا مطالبہ تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں گرفتار ہزاروں فلسطینی قیدیوں کورہا کیا جائے ،وگرنہ ایک کے بعد دوسرا شالیط گرفتار کیا جاتا رہے گا۔ صہیونی حکومت نے اس اغوا پر انتہائی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ۲۰۰۶ء میں مختلف فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی جارحیت اور پھر ۲۰۰۸ء کے اختتام پر غزہ کی خوفناک تباہی کا اصل مقصد بھی شالیط کو اغوا کرنے والی حماس کا مکمل خاتمہ تھا۔ گذشتہ ساڑھے تین سال سے جاری غزہ کے مسلسل حصار سمیت، حماس کے خلاف ہر ممکن دبائو اور دھمکیوں نے کام نہ کیا تو حماس کے ساتھ مذاکرات اور گفت و شنید کا دروازہ بھی کھولا گیا۔ شالیط کے بارے میں طویل مذاکرات کا نتیجہ بالآخر درج بالا وڈیو فلم کی صورت میں نکلا۔

اسرائیل اپنی تمام تر جاسوسی، چالاکیوں اور اپنے ایجنٹوں کی فوج ظفرموج کے باوجود شالیط کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں کرسکا تھا۔ حماس کے ساتھ حالیہ معاہدے میں طے پایا کہ اگر وہ شالیط کے زندہ یا مُردہ ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت دے دے تو صہیونی انتظامیہ کچھ فلسطینی قیدیوں کورہا کردے گی۔ فلسطینی مذاکرات کاروں نے میدانِ جہاد واستقامت کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی میز پر بھی بڑی کامیابی حاصل کی اور ایک دو فلسطینی قیدیوں کی نہیں، پوری ۲۰ فلسطینی خواتین قیدیوں کی رہائی کی شرط منظور کروائی۔ یہ خواتین سالہا سال سے صہیونی جیلوں میں مختلف عقوبتیں اور سزائیں جھیل رہی تھیں۔ ان کی رہائی ۲۰ فلسطینی گھرانوں ہی کے لیے نہیں ہرفلسطینی اور ہرانسان دوست کے لیے مسرت کا باعث بنی۔ رہائی پانے والی خواتین کے ساتھ دنیا کا سب سے  کم سن قیدی دوسالہ یوسف الزق بھی رہا ہوگیا۔ یوسف الزق نے جیل ہی میں جنم لیا تھا، اس کی والدہ شادی کے چند ماہ بعد ہی گرفتار کر لی گئی تھی اور اب دوسالہ بیٹے کے ساتھ رہاہوئی۔

حماس کے ساتھ گفت و شنید کا سلسلہ اب بھی مکمل طور پر نہیں رُکا۔ اس ایک منٹ کی وڈیو میں حماس نے اعلیٰ پیمانے کی فنی نفسیاتی اور سیاسی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ زندہ ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت دینے کے لیے اس روز کے تازہ اخبار کا سہارا لیا گیا۔ اخبار کا انتخاب کرتے ہوئے روزنامہ فلسطین کا انتخاب کیا گیا۔ تین سال بعد اپنے فوجی، اپنے شہری اور اپنے عزیز کا چہرہ دیکھنے کے لیے ہرصہیونی اور یہودی بے تاب تھا لیکن اس کا چہرہ دیکھنے سے پہلے انھیں جو نوشتۂ دیوار پڑھنا پڑا وہ تھا: فلسطین۔ پھر شالیط نے عبرانی زبان میں لکھا ہوا اپنی خیریت کا جو پیغام پڑھا، اس میں اداسی کے سایے تو تھے لیکن یہ بھی مکمل طور پر واضح تھا کہ حماس اپنے قیدی کے ساتھ حسنِ سلوک کا برتائو کرر ہی ہے۔ حماس کی قیادت نے وڈیو جاری کرنے کے موقع پر ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اگر صہیونی جیلوں میں قید ۱۰ ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو صہیونی ریاست کو ایک کے بعد دوسرے شالیط کا صدمہ سہنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اس پوری کارروائی میں ایک بہت اہم اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ حماس نے رہائی کے لیے جن ۲۰ خواتین کی فہرست پیش کی، ان میں صرف چار کا تعلق خود حماس سے تھا، باقی ۱۶ خواتین کا تعلق الفتح سمیت مغربی کنارے اور غزہ کی دیگر فلسطینی تنظیموں سے تھا۔ گویا حماس کہہ رہی ہے کہ ہمارے لیے تمام فلسطینی شہری بالخصوص قیدی یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف سے تو خیرسگالی کے یہ پیغامات ہیں لیکن دوسری طرف مصری دارالحکومت قاہرہ میں حماس اور الفتح کے مابین جاری مذاکرات سنگین سے سنگین تر صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ان مذاکرات کے دسیوں رائونڈ ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک اُمید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی۔ الفتح اور بالخصوص صدر محمودعباس (ابومازن) کی بنیادی سوچ فلسطینی تحریکِ آزادی سے عسکریت، یعنی جہاد کا خاتمہ ہے۔ حالیہ مذاکرات اور معاہدے میں بھی بنیادی اختلاف اسی نکتے پر ہے۔ مذاکرات کے درجنوں دَور ہوچکے ہیں لیکن کسی متفق علیہ سوچ پر پہنچنا ممکن نہیں ہورہا۔ جس مسودے پر حماس سمیت تمام فلسطینی دھڑوں کا اتفاق ہوا، اسے بھی جب دستخطوں کے لیے پیش کیا گیا تو پوری کی پوری عبارتیں اور جملے اس میں سے غائب تھے۔ اس تحریف کی تمام تر ذمہ داری محمود عباس اور مصری حکومت کے سر آتی ہے لیکن جب حماس نے تحریف شدہ تحریر پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تو مذاکرات ناکام کرنے کی ساری ذمہ داری حماس کے سر ڈالی جارہی ہے۔ نہ صرف تنقید بلکہ دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ حماس کی مرکزی قیادت سے اس بارے میں استفسار کیا تو اس کا کہنا تھا کہ معاہدے کے موجودہ، یعنی  تحریف شدہ مسودے پر دستخط کرنا بلاجواز موت کی سزا قبول کرنے کے مترادف ہے۔

حماس اور الفتح کے مابین اختلاف کا ایک نکتہ آیندہ انتخابات بھی ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت فلسطین کے دونوں علاقے غزہ اور مغربی کنارہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں۔ محمودعباس نے تقریباً ڈیڑھ برس پہلے منتخب فلسطینی حکومت اور پارلیمنٹ معطل کرنے کا اعلان کر دیا اور سلام فیاض نامی ایک غیرمنتخب شخص کو عبوری حکومت کا سربراہ بناکر حکومتی سیکرٹریٹ غزہ سے مغربی کنارے منتقل کر دیا۔ ادھر حماس نے اس غیردستوری اور غیراخلاقی حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ تب سے فلسطینی علاقوں میں دو الگ الگ حکومتیں قائم ہیں۔ غزہ میں منتخب وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کی اور مغربی کنارے میں محمود عباس کی۔ ۸جنوری کو محمود عباس کی مدت صدارت ختم ہوجانے کے باوجود    انھوں نے یہ منصب چھوڑنے سے انکار کردیا۔ اسرائیلی انتظامیہ سمیت مغربی ممالک نے بھی نہ صرف ان کی مکمل سرپرستی کی، بلکہ بھرپور مالی اور سیاسی سرپرستی جاری رکھی۔ دوسری طرف ۱۵لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی کا علاقہ غزہ مسلسل اور مکمل حصار سے دوچار ہے۔ دوا اور غذا سمیت کوئی چیز جانے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن پوری دنیا یہ راز جاننے سے قاصر ہے یا خود جاننا ہی نہیں چاہ رہی کہ  اس قدر ناگفتہ بہ حالات کے باوجود اہل غزہ حماس کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں۔

غزہ ہی نہیں خود مغربی کنارے میں جتنے سروے ہورہے ہیں، ان میں بھی محمود عباس کا گراف مسلسل گر رہا ہے، جب کہ حماس کی تائید میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ محمود عباس کی بدنامی میں ماہِ رواں میں اس وقت اور اضافہ ہوگیا، جب اس نے اقوام متحدہ میںجسٹس گولڈسٹون کی وہ رپورٹ پیش کرنے پر اعتراض کیا جو اس نے غزہ کی جنگ کے دوران میں اسرائیلی مظالم کے خلاف تیار کی تھی۔ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس یہودی الاصل جج جسٹس ریٹائرڈ گولڈسٹون کو جب عالمی ادارے کی طرف سے غزہ کی جنگ کے دوران میں ہونے والے جرائم کی رپورٹ تیار کرنے کا کہا گیا تو کسی کو اس منصفانہ راے کا اندازہ نہیں تھا۔ جب رپورٹ آئی تو اس نے شالیط کے اغوا اور یہودی آبادی پر حماس کے میزائلوں کا ذکر بھی کیا لیکن جس سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ اسرائیل نے کیا تھا اس کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا، جس پر کہرام مچ گیا۔ صہیونی انتظامیہ ہسٹیریائی انداز سے چلّانے لگ گئی۔ لیکن اصل رکاوٹ اس وقت سامنے آئی جب خود محمود عباس انتظامیہ نے جنیوا میں یہ رپورٹ پیش کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے یہ وقت مناسب نہیںہے۔ قدرت نے شاید کچھ لوگوں کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانا تھا۔ جب فلسطینی آبادی اور عالمِ عرب سے فلسطینی انتظامیہ پر لعنت ملامت میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو بالآخر محمود عباس نے اعتراض واپس لے لیا۔ گولڈسٹون رپورٹ سرکاری طور پر دنیا کے سامنے آگئی اور اب اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے بعد اسے سیکورٹی کونسل میں پیش کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ محمود عباس نے سو پیاز بھی کھا لیے اور سو جوتے بھی۔

اس تناظر میں قاہرہ مذاکرات کی میز سجی ہے۔ ۲۲؍اکتوبر کو خالدمشعل سے ایک ملاقات کے موقع پر ان سے جب مذاکرات کے بارے میں دریافت کیا تووہ کہہ رہے تھے کہ ہم تو اپنی بہت سی شرائط سے دست بردار ہوکر بھی صلح کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی رکاوٹ کھڑی کردی جاتی ہے۔ وہ اس خدشے کا اظہار بھی کررہے تھے کہ تقسیم و اختلاف کی اسی صورت حال میں انتخابات کا ڈول ڈال دیا جائے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرتے ہوئے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا جائے۔ ابھی ان کی اس گفتگو کی بازگشت کانوں میں باقی تھی کہ ۲۴؍اکتوبر کی شام محمود عباس نے ’صدارتی فرمان‘ جاری کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ ۲۴؍ جنوری ۲۰۱۰ء کوفلسطین میںصدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد کروا دیے جائیں گے۔ صدارتی فرمان اسی صدر نے جاری کیا ہے جس کی اپنی صدارت ۹ماہ اور ۱۶ روز پہلے ختم ہوچکی ہے اور وہ اپنے ساتھیوں سمیت غزہ سے عملاً لاتعلق ہیں۔ لیکن اگر معاملات اسی دھارے پر آگے بڑھے تو من مرضی کے یک طرفہ نتائج پر مشتمل انتخابات وقوع پذیر ہوجائیں گے اور گذشتہ انتخابات میں دو تہائی سے زائد نشستیں حاصل کرنے والی اسلامی تحریکِ مزاحمت (حماس) کم از کم کاغذوں سے ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک طرف مقبوضہ فلسطین کو تقسیم در تقسیم کرنے اور اہلِ فلسطین کو باہم دست و گریباں کرنے کا یہ سلسلہ جاری ہے اور دوسری جانب صہیونی ریاست خطے میں اپنے زہریلے پنجے مزید گاڑ رہی ہے۔ ادھر قاہرہ مذاکرات میں تعطل کا اعلان ہو رہا تھا اور ادھر امریکا اور اسرائیل اپنی سب سے بڑی فوجی مشقوں کا آغاز کر رہے تھے۔ ان مشقوں میں دونوں فریقوں نے جو اصل میں ایک ہی فریق کی حیثیت رکھتے ہیں جدید ترین ہتھیاروں بالخصوص اینٹی میزائل سسٹم کے خصوصی تجربات کیے۔ ۲۰۰۶ء میں لبنان پر اور ۲۰۰۸ء کے اختتام پر غزہ کی جنگ کے دوران میں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود صہیونی ریاست اپنی طرف آنے والے میزائلوں کا راستہ نہیں روک سکی تھی۔ حالیہ مشقوں میں اس جانب خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

اس حوالے سے ایک اہم اور حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ یہ مشترکہ مشقیں بنیادی طور پر اسرائیل، امریکا اور ترکی کے درمیان ہونا تھیں۔ ترک افواج گذشتہ کئی سال سے ان سالانہ مشقوں میں شریک ہوتی رہی لیکن اس بار منتخب ترک حکومت نے احتجاجاً ان سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

حالیہ مشقوں کے حوالے سے اصل تشویش ناک پہلو یہ سوال ہے کہ کیا صہیونی ریاست خطے میں کسی نئی جارحیت کی بنیاد رکھنے جارہی ہے؟ گذشتہ ہفتوں میں مسجداقصیٰ کو شہید کرنے کی کوششوں میں بھی اچانک اضافہ کردیاگیا ہے۔ اگر ہزاروں کی تعداد میں نہتے فلسطینی مسجداقصیٰ کے اندر زبردستی جاکر دو ہفتے سے زائد عرصے کے لیے وہاں ایک انسانی ڈھال نہ بنا لیتے تو خدانخواستہ اب تک کوئی اور بڑا سانحہ بھی روپذیر ہوچکا ہوتا۔

مقامِ معراج مصطفیؐ کو شہید کرکے وہاں یہودی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی مسلسل اور بے تابانہ کوششیں اور ساتھ ہی ساتھ امریکی اسرائیلی وسیع تر فوجی مشقیں اُمت کو اور بالخصوص اہلِ فلسطین کو اہم پیغام دے رہی ہیں۔ کیا اسرائیل سے بھی زیادہ اسرائیل کے وفادار حکمران اور خود فلسطینی قائدین یہ پیغام سمجھنے کی تکلیف گوارا کریں گے؟ کیا وہ یہ حقیقت فراموش کردیں گے کہ چند روزہ نام نہاد اقتدار یا چند ارب ڈالر کی بھیک کی خاطر، مسجداقصیٰ کے محافظ اپنے ہی فلسطینی بھائیوں پر فتح حاصل کرنے کا خواب، نہ صرف دنیا میں رسوائی کا سبب ہوگا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کی ہلاکت کا بھی۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان کے علاوہ بھی) اتنے نفلی روزے رکھتے کہ ہم سمجھنے لگتے اب آپؐ روزے چھوڑیںگے ہی نہیں، اور کبھی آپؐ  اتنے دن نفلی روزے چھوڑ دیتے کہ ہم سمجھتے اب آپؐ  مزید نہیں رکھیں گے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ کبھی پورا مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور شعبان کے علاوہ کسی مہینے اتنی کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ (بخاری، ۱۱۶۹)

ماہِ رمضان کے روزے تو خالق کائنات نے ہر مسلمان پر فرض کردیے لیکن روزوں کی قدرومنزلت  اس قدر زیادہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پورا سال روزوں کا اہتمام فرماتے۔ شوال میں چھے روزوں، ہرمہینے کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں کے روزوں، ہرہفتے پیر اور جمعرات کے روزوں، یومِ عاشورہ کے دو روزوں اور یومِ عرفہ کے روزے کو تو نفلی روزوں میں نمایاں مقام و اہمیت حاصل ہے۔ آپؐ اور آپؐ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ان کے علاوہ بھی روزوں کا خصوصی اہتمام فرماتے۔ آپؐ نے سردیوں کے مختصر دنوں کے روزوں کو اللہ کی طرف سے خصوصی عطیہ قرار دیا۔ کبھی گھر میں کچھ کھانے کو نہ ہوا تو فوراً روزے کی نیت فرما لی۔ قرآن کریم میں مختلف گناہوں کے کفارے کے لیے روزوں کی تعداد مقرر کر دی گئی ہے۔ غیرشادی شدہ نوجوانوں کو خصوصی طور پر روزوں کی ترغیب دی___ اگر آپؐ کی پوری حیاتِ طیبہ میں روزے کا یہ خاص مقام ہے تو کیا ہم امتیوں کو صرف رمضان ہی کے روزوں پر اکتفا کرلینا چاہیے؟ رمضان رخصت ہوگیا۔ آیئے ابھی سے روزوں کی فضیلت کے بارے میں اپنے اس علم کو نیت و ارادے میں اور نیت و ارادے کو عمل میں بدلنے کا آغاز کردیں۔


رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت تم سے تمھارے جوتے کے تلوے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم کی آگ بھی۔ (بخاری، ۶۱۲۳)

نیکیوں سے جھولیاں بھر لینا کس قدر آسان ہے۔ ادھر دل میں نیکی کا ارادہ کیا اور ادھر نامۂ اعمال میں اجر ثبت ہوگیا۔ ارادے پر عمل بھی کرلیا تو اجر ۱۰ سے ۷۰۰ گنا تک بڑھ گیا۔ برائی سے نظریں پھیرلیں، اجر ثابت ہوگیا اور تو اور اپنے روزمرہ کے معمولات کو عادت کے بجاے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے جذبے سے کیا تو وہ بھی عبادت بن گئے۔دوسری طرف شیطان بھی ہرلمحے ساتھ لگاہے۔ قدم قدم پر برائیوں کے پھندے لگائے بیٹھا ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ نیکی میں بھی بدنیتی کی آلائشیں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جہاد، شہادت، قربانی، تلاوت و دروسِ قرآن، اِنفاق، عبادات،   غرض ہرنیکی کو ریا اور دکھاوے جیسی غیرمحسوس برائیوں کے ذریعے ایسے کردیتا ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔

رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اسی حقیقت کی خبر دے رہے ہیں کہ قدم قدم پر جنت کی ہوائیں بھی ہیں اور دوزخ کی لپٹیں بھی۔ اب دونوں راستوں میں سے ایک کا انتخاب ہم میں سے ہر شخص نے خود کرنا ہے۔ پروردگار اسی انتخاب کے مطابق توفیق عطا کردے گا۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کی طرف آپ کی رہنمائی نہ کروں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یارسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا:  وہ خزانہ ہے: لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم (اللہ علی و عظیم کی مدد کے بغیر، کسی کے بس میں کوئی قوت و قدرت نہیں)۔ بندہ جب یہ کلمات کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے مجھ پر بھروسا کیا اور (اپنے تمام معاملات) میرے سپرد کردیے۔ (مسنداحمد، ترمذی)

بندے کے دل میں یہ یقین راسخ ہونا ضروری ہے کہ کارخانۂ قدرت میں ہر چیز صرف اور صرف پروردگار کی محتاج ہے۔ اللہ کے فیصلے،اس کی توفیق اور اس کی قوت و قدرت کے بغیر کوئی پتّا اور کوئی ذرّہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ انسان جس کے بارے میں خالق نے خود فرمایا کہ ’’کمزور پیدا کیا گیا ہے‘‘ ، ہرلمحے اور ہرحال میں اللہ کا محتاج ہے۔ اللہ کی حفاظت نہ رہے تو خوشیوں میں آپے سے باہر ہوکر بندگی کے دائرے ہی سے نکل جاتا ہے۔ مشکلات یا مصیبتیں آئیں تو مایوسی اور ہلاکت کی جہنم میں جاگرتا ہے۔ اقتدار و اختیار ملے تو خود کو فرعون اور دوسروں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتا ہے۔ اختلافات کا شکار ہو تو اپنے ہی بھائیوں کے خون سے ہاتھ رنگ لیتا ہے، برائیوں اور اخلاقی غلاظت سے آلودہ ہوجائے تو جانوروں سے بدتر اور ذلیل ہوجاتا ہے۔ ایسے کمزور انسان کو شیطان ہر دم اپنے چنگل میں جکڑے رکھتا ہے لیکن اگر بندہ اس یقین کے حصار میں آجائے کہ لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم   تو رحمن کی رحمت اس خود سپردگی پر جھوم اُٹھتی ہے، کمزور بندوں کو تمام کمزوریوں اور شیطانی چالوں سے نجات و حفاظت عطا کر دیتی ہے۔ اسی لیے فرمایا: ’’جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ‘‘۔

حضرت ابوایوب انصاریؓ کی روایت کے مطابق جب سفرمعراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو ابوالانبیا نے فرمایا: اے محمد(ﷺ) اپنی اُمت کو جنت میں اپنے لیے فصلیں بونے کا حکم دے دیجیے۔ آپؐ نے دریافت کیا: جنت کی فصل کیا ہے؟ انھوں نے فرمایا: لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم۔


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ مختصر اور تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری، ۶۴۱۵)

اسلام کسی وقتی اُبال ، عارضی طور پر اپنا لیے جانے والے اعمال، یا موسمی شغل اشغال کا نام نہیں،  ہمہ وقت اور ہمہ پہلو اطاعت کا نام ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سمیت سب نیکیاں یہی ہمہ وقتی خود سپردگی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اسی کو تقویٰ کہتے ہیں۔ قرآن میں تمام عبادات کا اصل ہدف یہی بتایا گیا کہ شاید تم اس سے تقویٰ حاصل کرسکو۔ احساسِ اطاعت کے تحت ہمیشہ کیا جانے والا چھوٹا سا کام بھی اللہ کے نزدیک انتہائی محبوب ہے۔ ہمیشگی ایک چھوٹے سے عمل کو بھی بڑا بنا دیتی ہے۔

بندے کی مختصر سی نیکی پسند آجائے تو پھر یقینا بندہ بھی خالق کا محبوب بن جاتا ہے۔


حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مفصل حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: خبردار! اللہ کی کتاب اور اقتدار جدا جدا ہونے والے ہیں۔ ایسے میں کبھی  کتابِ الٰہی سے جدا نہ ہونا۔ خبردار! تم پر ایسے لوگ حکمران ہوجائیں گے جو تمھارے بارے میں (قرآنی تعلیمات کے خلاف) فیصلے کیا کریںگے۔ اگر ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تمھیں گمراہ کردیں گے اور اگر ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمھیں موت کے گھاٹ اُتار دیں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ایسا ہو تو ہم کیا کریں؟ آپؐ نے فرمایا: وہی جو عیسیٰ بن مریمؑ کے ساتھیوں نے کیا: انھیں آروں سے چیرا گیا، تختۂ دار پر لٹکایا گیا (لیکن انھوں نے حق کا ساتھ نہ چھوڑا)۔ اللہ کی اطاعت میں موت، اللہ کی نافرمانی میں زندگی سے زیادہ بہتر ہے۔ (طبرانی)

رحمن کے قرآن اور ہوس اقتدار کے مارے حکمرانوں کی راہیں یقینا جدا جدا ہیں۔ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے راہِ نجات واضح فرما دی کہ جان جائے تو جائے لیکن قرآن کا دامن چھوٹنے نہ پائے۔ اقتدار اگر اغیار کی غلامی پر تل جائے، اپنے ہی بھائیوں کو تہِ تیغ کرنے کے لیے دشمن کا سہارا بن جائے، لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والوں کو اقتدار کی چھتری فراہم کیے رکھے، فریب، جھوٹ، وعدہ خلافیوں اور اپنی قوم سے دغابازی کواپنا وتیرا بنالے، عوام پر بھوک، بدامنی اور بدحالی مسلط کردے، خود بھی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو اور قوم کو بھی اسی غلاظت کی نذر کردے، تو اس اقتدار اور ان حکمرانوں سے اعلان برأت ناگزیر ہے۔ قوم اگر اللہ کی نافرمانی میں زندہ رہنے کے بجاے،   اس کی اطاعت میں موت قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے تو پھر ایسے حکمرانوں سے نجات کی راہیں بھی کھل جاتی ہیں کیونکہ غالب تو بہرحال اللہ کے قرآن ہی نے رہنا ہے۔ ہزاروں فرعون و شداد آئے اور تباہ ہوکر نشانۂ عبرت بن گئے۔ قرآن اور اس سے وابستہ افراد ابد تک سربلند رہیں گے۔


حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی تکلیف و اذیت پر صبر کرتا ہے، وہ اس سے بہتر ہے کہ جو نہ لوگوں سے میل ملاپ رکھتا ہے، اور نہ ان کی طرف سے ملنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے۔ (ابن ماجہ، ۴۰۳۲)

الگ تھلگ اور لوگوں سے کٹ کر رہنا، انسان کو بہت سی ممکنہ تکالیف سے محفوظ رکھتا ہے، لیکن ایک مومن ہمیشہ اجتماعیت سے جڑا رہتا ہے۔ تمام عبادات، پوری دعوتی، تربیتی، تحریکی اور معاشرتی زندگی، لوگوں کے اندر رہے بغیر ممکن ہی نہیں۔ رحمۃ للعالمین خود بھی صحابہ ؓ کے شانہ بشانہ اور ان میں گھل مل کر رہتے۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی بدو نے آکر شان میں گستاخی کردی، لوگوں کی زبان ہی نہیں، ہاتھ سے بھی تکلیف پہنچی، لیکن آپؐ  نے نہ صرف خود اس باہمی ربط کو نہ توڑا، بلکہ امت کو بھی یہی ترغیب دی۔ رہی اس کے نتیجے میں پہنچنے والی تکالیف، تو آپؐ نے ایک لفظ میں شافی علاج بتا دیا: صبر___ اور اللہ کی خاطر صبر___  دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ یہی ہے۔

گذشتہ سالوں کی نسبت اس برس رمضان المبارک میں حرمین شریفین حاضری دینے والوں کی تعداد قدرے کم تھی۔ کچھ نہ کچھ عمل دخل اقتصادی بحران اور مہنگائی کا بھی تھا، لیکن زیادہ  اہم وجہ سوائن فلو (H1M1) کی وبا تھی۔ اگرچہ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے لاکھوں لوگوں کی موجودگی کے باوجود، الحمدللہ اس وبا کے شکار افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن بدقسمتی سے بعض ممالک میں اس وبا کو ایک ایسا ہوّا بنا دیا گیا کہ آنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ رمضان المبارک میں عمرہ کرنے والوں اور زائرین کی تعداد میں گذشتہ کئی سالوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی تجزیہ نگاروں کی نگاہ میں حج وعمرہ کی طرف لوگوں کی بڑھتی ہوئی یہ رغبت بھی دنیا میں دینی رجحان اور اسلامی بیداری میں اضافے کا ایک مظہروپیمانہ ہے۔ صرف حج و عمرہ ہی نہیں رمضان المبارک میں اعتکاف، دروسِ قرآن، ختم قرآن اور تراویح کے علاوہ آخری عشرے میں قیام اللیل کا مزید اہتمام بھی، اسی دینی روح میں اضافے کی علامت و دلیل ہے۔

بیت اللہ کے گرد دیوانہ وار طواف کرتے ان پروانوں کا ہجوم اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ حاضری کی تڑپ دل میں سجائے ان زائرین کو دیکھ کر اہلِ ایمان کے دل ہمیشہ مسرت سے جھوم اُٹھتے ہیں۔ سب سے زیادہ طمانیت اس امر کی ہوتی ہے کہ ہم ایک ہمہ گیر اُمت ہیں۔ دنیا کا کوئی کونہ، کوئی رنگ،کوئی نسل، کوئی زبان، کوئی قوم ایسی نہیں جو ہمارے جسد کا حصہ نہ ہو۔ ہم   سب ایک ہی رب، ایک ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ایک ہی قرآن کے ماننے والے ہیں۔ رب کے دربار میں پہنچ کر ہر غنی و فقیر، ہر شاہ و گدا، ہر حاکم و محکوم، سب ایک ہی سفید لباس پہننے کے پابند ہیں۔ سب کی زبان پر ایک ہی نغمۂ توحید جاری ہوجاتا ہے۔ عالم و اُمّی ، عابد و عاصی سب اسی سے معافی اور اسی سے عافیت کی التجا کرتے ہیں۔

  •  دل اس مساوات اور وحدت پر سپاس گزاری اور شکر کے جذبے سے معمور تھا کہ قریب بیٹھے ایک یمنی نوجوان کی گفتگو نے ازحد رنجیدہ و ملُول کردیا۔ تعارف ہونے پر اس نے پہلے   وادیِ سوات، اس کے فوجی آپریشن اور لاکھوں بے گھر ہونے والوں کے بارے میں دریافت کیا اور پھر شمالی یمن میں سعودی سرحد کے قریب واقع صوبہ ’صعدہ‘ میں یمنی فوج اور حُوثی قبیلے کے درمیان وسیع پیمانے پر لڑی جانے والی جنگ کی سنگینی بیان کرنا شروع کر دی۔ یمن میں زیدی شیعہ افراد کافی تعداد میں ہیں۔ چند برس پیش تر یمن کے دارالحکومت صنعاء جانے کا اتفاق ہوا تھا تو مساجد میں اہلِ سنت اور زیدی حضرات شانہ بشانہ مشترکہ طور پر نمازیں ادا کرتے تھے۔ ہم نے مغرب کی نماز ایک بڑی اور تاریخی مسجد میں ادا کی تھی۔ زیدی عقائد کے مطابق مغرب اور عشاء کی نمازوں میں آدھ پون گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ باقی افراد نمازِ مغرب کے بعد چلے گئے، زیدی مذہب کے پیروکار مسجد ہی میں مختلف ٹولیوں میں تقسیم ہوکر دروس و اذکار میں مصروف رہے اور پھر نماز عشاء کے لیے صف بندی شروع ہوگئی۔

صوبہ صعدہ میں اب حُوثی قبیلے کے افراد سے ایک بڑی جنگ لڑی جارہی ہے۔ اگرچہ اس جنگ کی بنیاد مذہبی اختلاف نہیں ہے لیکن برسرِپیکار حُوثیین کی اکثریت زیدی ہے جنھوں نے مرکزی حکومت سے بغاوت کا اعلان کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ یمنی صدر خود بھی زیدی ہے۔ اس لڑائی میں اب تک سیکڑوں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات آچکی ہیں۔ ہزاروں خاندان ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔ طرفین بھاری اسلحے کا استعمال کر رہے ہیں۔ یمنی نوجوان جو اَب سعودی عرب کی ایک یونی ورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دے رہا ہے، بتا رہا تھا کہ اس لڑائی کے کئی پہلو ناقابلِ فہم اور کئی انتہائی تشویش ناک ہیں۔ سب سے ناقابلِ فہم بات تو یہ ہے کہ خود حکومت اس لڑائی کو طول دینا چاہتی ہے۔ ۲۰۰۴ء سے جاری اس بغاوت اور جھڑپوں میں کئی مواقع ایسے آئے کہ جب بغاوت کرنے والوں کا مکمل خاتمہ یقینی تھا، لیکن عین موقع پر صدر کی مداخلت کے باعث جنگ کو فیصلہ کن ہونے سے روک دیا گیا۔ دوسری طرف باغیوں کی طرف سے بھی ایک طویل مدتی جنگ لڑنے کے اعلان کیے جا رہے ہیں۔

عین رمضان المبارک کے تیسرے عشرے کے آغاز کے موقع پر صدر علی عبداللہ صالح نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو مفصل انٹرویو دیتے ہوئے ایران کا نام لے کر بیرونی مداخلت کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت تو نہیں، البتہ ایران کی اہم تنظیمات و شخصیات کی طرف سے باغیوں کو مدد دی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مؤثر ایرانی ادارے اور افراد ہمیں مصالحت کروانے کی پیش کش بھی کررہے ہیں۔ اسی طرح عراق کے معروف شیعہ رہنما مقتدی الصدر بھی پیش کش بھی کررہے ہیں کہ وہ باغیوں اور حکومت میں مصالحت کروانے کے لیے تیار ہیں۔ صدرمملکت نے الزام لگایا کہ اس کا واضح مطلب ہے کہ ان لوگوں کا باغیوں سے رابطہ اور تعلق ہے، وگرنہ وہ کیسے مصالحت کروا سکتے ہیں۔ یمنی صدر کے ان الزامات کے بعد حُوثی باغیوں سے ہی نہیں دو مسلمان ملکوں کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔جنگ کی ایک سنگینی اس کا عین سعودی عرب سرحدوں سے قریب ہونا ہے۔ سعودی عرب میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ صدر علی عبداللہ صالح اس لڑائی کے پردے میں سعودی عرب سے بھی کئی پرانے حساب چکانا چاہتا ہے کیونکہ سعودیہ اور یمن کے درمیان سرحدوں کی نشان دہی کے حوالے سے قدیم اختلافات چلے آرہے ہیں۔

اب اس جنگ میں سلفی عناصر کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سعودی سرحد سے قریب برسرِپیکار ایک شیعہ گروہ کا سامنا کرنے کے علاوہ باقاعدہ افواج کے ساتھ   سلفی نوجوانوں کی شرکت ضروری ہے۔ بعض اہم سلفی قائدین نے صدر علی عبداللہ صالح کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے ’دفاعِ وطن‘ کی خاطر مسلح جدوجہد کا اعلان بھی کیا ہے۔

علاقے میں جنگ کے باعث ایک خدشہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر یمنی مہاجرین کی بڑی تعداد نے سعودی سرحد پار کر کے وہاں پناہ لے لی تو پناہ گزین کیمپ کے مسائل کے علاوہ ، اس صورت حال کو مختلف عالمی اداروں کی طرف سے سعودی عرب میں مداخلت کا بہانہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔

  •  یمنی نوجوان سے اس جنگ اور اس کے مہلک نتائج پر گفتگو میں یمن کے بعد عراق اور افغانستان کا ذکر چل نکلا۔ رمضان المبارک ہی میں عراق اور افغانستان میں بھی خوں ریزی کے مہیب واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ آئے روز دھماکوں اور فوجی کارروائیوں میں معصوم افغانوں کو شہید کردیے جانے پر غیور یمنی رنجیدہ تھا۔ پٹرول لے جانے والے ٹینک پر ناٹو افواج کی اندھادھند فائرنگ اور ۴۰ کے قریب افراد کے قتل کے اندوہناک تازہ واقعے نے بھی خون کے آنسو رُلا دیا۔ انھی دنوں بغداد میں کئی وزارتوں کی پوری کی پوری عمارتیں دھماکوں سے اُڑا دی گئیں۔

امریکی مداخلت کے بعد سے مسلسل جاری ہلاکتوں کے اس خونیں کھیل میں، عراقی حکومت، پڑوسی ملکوں پر مداخلت کے الزامات لگاتی چلی آرہی ہے۔ حالیہ دھماکوں کے بعد عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے حکومتِ شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ دہشت گردی کی پشتیبانی کر رہی ہے۔ سفارت کاروں کو دی گئی دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے پڑوسی ملک پر الزامات کے اعادے نے شام اور عراق کے درمیان تلخی اور تنائو میں پھر اضافہ کر دیا ہے۔ عراق کے بقول امریکی افواج اور عراقی حکومت کے خلاف ’دہشت گردی‘ کی کارروائیوں میں شامی سرحد سے آنے والے ’انتہاپسند‘ شریک ہیں۔ اختلافات کی اس بڑھتی ہوئی خلیج کو کسی بڑے حادثے سے بچانے کے لیے علاقے کے دیگر ممالک بھی فعال ہورہے ہیں، بالخصوص ترکی کا کردار غیرمعمولی ہے۔ تازہ عراقی الزامات اور شام کی طرف سے جوابات کے بعد ترکی وزیرخارجہ نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل سے مل کر عراق و شام کے وزراے خارجہ سے مشترکہ مذاکرات کیے ہیں جو فی الحال مثبت بتائے جارہے ہیں۔

  •  شام پر الزامات میں عراقی و امریکی حکومت ہی نہیں لبنانی حکومت بھی شریک ہے۔ سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کا الزام بھی شام پر لگایا گیا تھا۔ گذشتہ کئی عشروں سے لبنان میں موجود شامی افواج کا انخلا انھی الزامات و اختلافات کے بعد عمل میں آیا تھا۔ بعدازاں جب فلسطین پر قابض صہیونی افواج اور حزب اللہ کے مابین جنگ ہوئی تو شام ایک بار پھر عالمی الزام تراشی کا محور بنا۔ پھر لبنان میں سیاسی درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا تو شام پر دبائو میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اب تقریباً چار ماہ ہوگئے لبنان میں انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ گذشتہ جون میں لبنانی صدر نے رفیق حریری کے بیٹے سعدالحریری کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی۔ تب سے سیاسی مذاکرات اور جوڑ توڑ جاری تھے۔ وسط رمضان میں سعدالحریری نے کابینہ کی ایک تجویز پیش کی۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایک قومی حکومت ہوگی، لیکن حزب اللہ سمیت اپوزیشن جماعتوں نے یہ وزارتوں کی تقسیم کے لیے سعدالحریری کا پیش کردہ فارمولا مسترد کردیا۔ نتیجہ سعد کو حکومت کی تشکیل سے معذرت کرنا پڑی۔ اب دوبارہ سے مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ صدر نے قانونی تقاضے کے تحت تمام جماعتوں کے پارلیمانی نمایندوں سے  دوبارہ مذاکرات کے بعد پھر سعد کو وزیراعظم نامزد کیا ہے لیکن سیاسی اختلافات کا بخار ٹوٹنے کو نہیں آرہا۔ اُمت کے حوالے سے مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ حریری گروپ، ایران اور شام پر اور حزب اللہ و اپوزیشن سعودی عرب پر الزامات کی تکرار کر رہا ہے۔
  •  رمضان المبارک اور حرمین شریفین میں وحدت و مساوات کے روح پرور مناظر کے دوران میں ہی متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان اختلافات میں بھی اچانک اضافہ دیکھنے کو آیا۔ متحدہ عرب امارات کے ساحلوں کے نزدیک چھوٹے چھوٹے تین جزیرے طُنب الصغریٰ، طُنب الکبریٰ اور ابوموسیٰ عرصے سے نزاع کا باعث ہیں۔ دونوں ملک ان پر ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ چند سال پیش تر ایران نے ان جزیروں پر باقاعدہ فوجیںاُتار دیں اور کہا کہ تاریخی لحاظ سے یہ تینوں جزیرے ایران کا اٹوٹ انگ ہیں۔ یہ شکر ہے کہ اس اختلاف نے مسلح جھڑپوں کی صورت اختیار نہیں کی، لیکن اختلاف گاہے بگاہے نمایاں اور ان کی لَے بلند ہوجاتی ہے۔ اب امارات نے ابوظبی سے کچھ شیعہ علما کو ایران واپس بھجوا دیا ہے اور جواباً ایران نے اٹوٹ انگ کا اعادہ کیا ہے۔ اسی طرح کا ایک چھوٹا سا سرحدی تنازعہ سعودیہ اور امارات کے درمیان بھی ہے۔ علاقے میں تیل کے ذخائر کے حوالے سے ان سب علاقوں کی بڑی اہمیت بیان کی جاتی ہے۔
  •  حرمِ مکہ میں فلسطین سے آئے ہوئے حماس کے قائدین اور موجودہ صومالی حکومت کے ایک وزیر سے بھی ملاقات ہوئی۔ حماس کے ذمہ داران غزہ میں جاری محاصرے اور ۱۵ لاکھ محصور فلسطینیوں کی ناگفتہ بہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کا یہ شکوہ مزید رنجیدہ کرنے کا سبب بنا کہ عالمِ اسلام اور اُمت مسلمہ غزہ کے اس حصار سے یوں لاتعلق بیٹھی ہے جیسے ان ڈیڑھ ملین مسلمان بھائیوں سے، ۱۵ لاکھ انسانوں سے، ان کا کوئی رشتہ نہ ہو۔ دسمبر ۲۰۰۸ء میں جنگ کے دوران تو اُمت نے اخوت ایمانی کا ثبوت دیا لیکن ا ب اہلِ غزہ پر کیا قیامت ڈھائی جارہی ہے، کسی کو کوئی غرض نہیں۔ حماس کے قائدین نے بتایا کہ ایک طرف غزہ میں صہیونی دشمن کے یہ مظالم ہیں، دوسری طرف وہ مسجداقصیٰ کو شہید کرنے کی کوششیں بھی کر رہا ہے۔ اب تو اس نے حرم اقصیٰ میں ہیکل سلیمانی کا ایک دیوہیکل ماڈل لاکر نصب کردیا ہے کہ یہاں قبلۂ اول کی جگہ، یہودی عبادت گاہ تعمیر ہوگی۔ تیسری جانب وہ مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے اور بدقسمتی سے محمود عباس کے ساتھ تعاون میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس دوستی کو مکمل امریکی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ خود کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۷ء سے لے کر امریکا نے حماس مخالف فلسطینی سیکورٹی فورسز کی مدد کے لیے ۱۶۱ ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔ ۳۲صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جون ۲۰۰۹ء میںاس امداد میں مزید ۱۰۹ ملین ڈالر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اوباما انتظامیہ نے سال ۲۰۱۰ء کے لیے ۱۰۰ ملین ڈالر کی مزید امداد کر دی ہے۔ اس مالی امداد سے حماس مخالف پولیس اور صدارتی فوج کو تربیت دی جائے گی۔

حماس کے پُرعزم ذمہ دار نے کہا: فلسطینی قوم بڑی سخت جان اور ارادے کی پکی ہے۔ ۶۰سال سے قتل کی جارہی ہے، دھتکاری جارہی ہے لیکن فلسطینی پہلے سے بھی زیادہ سربلند ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ اٹل ارادے کے مالک ہیں۔

یکم رمضان المبارک کو غزہ کے تمام اسکولوں میں تعلیم دوبارہ شروع ہوگئی۔ تعطیلاتِ گرما میں غزہ کے بچوں کو قرآن کریم سے وابستہ کرنے کا ایک عجیب واقعہ سننے کو آیا۔ اگر بتانے والا معتبر نہ ہوتا تو شاید یقین نہ آتا۔ غزہ میں گرما کی تعطیلات کے دوران بچوں کو قرآن کریم حفظ کروانے کا اہتمام کیا گیا۔ صرف چھٹیوں کے تین ماہ کے دوران ساڑھے تین ہزار بچوں نے مکمل قرآن حفظ کرلیا۔ منتخب وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کے ۱۶ سالہ صاحبزادے عائد نے توصرف ۳۵ روز کے اندر مکمل قرآن سینے میں محفوظ کرلیا، سبحان اللہ! عائد نے غزہ میں قائم ’تاج الوقار‘ کیمپ میں قرآن حفظ کیا۔

حرم میں اُمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختلافات پر، خود پاکستان میں امریکی مداخلت اور بڑھتی ہوئی امریکی موجودگی پر، پریشانی اور دعائیں جاری تھیں کہ غزہ سے آنے والی اس خبر نے   دلِ مضطر کو قرار سا عطا کر دیا۔ نظریں ایک بار پھر سفید احرامات میں کعبۃ اللہ کے گرد دیوانہ وار طواف کرتے فرزندانِ توحید کی جانب اُٹھ گئیں۔ وحدت و مساوات کا منفرد، عجیب اور اُچھوتا منظر… دل سے پھر دعا نکلی: پروردگارِ عالم! کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!

 

ایف اے کے نتائج کا اعلان ہوا تو اسراء ضیاء فرحات نے پورے ملک میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مبارک باد دینے والوں اور ذرائع ابلاغ کے نمایندوں کا تانتا بندھ گیا۔ صحافی نے مصری لہجے میں پوچھا: باباک فین؟ آپ کے بابا کہاں ہیں؟ جواب کے بجاے دو آنسو اُبھرے اور پلکوں پر ٹک گئے۔ اسراء نے فوراً ہی خود کو سنبھال لیا اور کہا: میرے بابا معروف سرجن، ڈاکٹر ضیاء فرحات گذشتہ اڑھائی سال سے بلاوجہ گرفتار ہیں۔ وہ علاقے کی انتہائی نیک نام اور ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔ ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے رکن ہیں۔ اخوان کا نام سنتے ہی انٹرویو لینے والا بھی گھبرا گیا۔ اِدھر اُدھر کی ایک آدھ بات کے بعد انٹرویو ختم ہوگیا لیکن ساری دنیا کو معلوم ہوگیا کہ پورے مصر میںاول آنے والی اسراء کے والد   بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

سب اس بات پر حیران تھے کہ والد گرفتار تھے، پورا گھرانا بحران و اذیت کا شکار تھا، اس ماحول میں اسراء نے اتنی نمایاں کامیابی کیسے حاصل کرلی؟ اسراء نے ان کی حیرت کا جواب دیتے ہوئے کہا: بابا گرفتار ہوئے تو سب اہلِ خانہ کا پریشان، اداس اور مضطرب ہونا فطری امر تھا، لیکن ہم نے خود کو دکھ اور صدمے کی نذر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب کے لیے اصل تشفی یہ تھی کہ ہمارے بابا کا صرف اور صرف گناہ ان کی اسلامی تحریک سے وابستگی ہے۔ امتحانات کا مرحلہ آیا تو میں نے سوچا کہ میں اپنے بابا کو کوئی ایسا تحفہ ارسال کروں گی جو شاید آج تک کسی قیدی کو نہ ملا ہو۔ میں نے خاموشی سے ایک فیصلہ کیا اور الحمدللہ آج میں اپنی کامیابی کا تحفہ اپنے قیدی بابا کو پیش کر رہی ہوں۔ اسراء نے مزید بتایا کہ میرے بابا کی یہ چوتھی گرفتاری ہے جو ۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء سے شروع ہوئی۔ انھیں اس سے پہلے ۱۹۹۵ء تا۲۰۰۵ء اور ۲۰۰۶ء میں بھی گرفتار کیا جاچکاہے کیونکہ وہ اپنے مریضوں کا جسمانی ہی نہیں فکری، نظریاتی اور روحانی علاج بھی کرتے ہیں۔ وہ زمانۂ طالب علمی ہی سے  اسلامی تحریک سے وابستہ ہیں اور میڈیکل کالج یونین کے صدر بھی منتخب ہوچکے ہیں۔

ایک اسراء ہی کا گھر نہیں، اس وقت مصر کے تقریباً ساڑھے چار سو گھرانے اپنے اپنے پیاروں کی گرفتاری کا دکھ سہہ رہے ہیں۔ اخوان المسلمون کی تشکیل کے بعد سے لے کر اب تک شاید ہی کوئی وقت ایسا ہو کہ اخوان کے سیکڑوں کارکنان و ذمہ داران پسِ دیوار زنداں نہ ہوں۔ ایک وقت میں تو یہ تعداد اڑھائی ہزار تک جا پہنچی تھی۔ شاہ فاروق کا زمانہ تھا تو مرشد عام امام حسن البنا کو شہید کردیا گیا۔ ۱۹۵۲ء میں فوجی انقلاب کے بعد جنرل جمال عبدالناصر کا زمانہ آیا تو مفسرقرآن سیدقطب سمیت سیکڑوں افراد کو شہید اور ہزاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔۲۹ستمبر ۱۹۷۰ء کو دنیا سے اُٹھ جانے سے جمال کا اقتدار ختم ہوا تو ایک اور فوجی ڈکٹیٹر انورالسادات کا عہدِ سیاہ شروع ہوگیا۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے سمیت کئی قومی خیانتوں اور بے گناہوں کو عذاب و اذیت سے دوچار کرنے کا بوجھ لادے، ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۸۱ء کو سادات قتل ہوا تو قتل کے وقت اس کے پہلو میں بیٹھا تیسرا فوجی ڈکٹیٹر قوم کی گردن پر سوار ہوگیا۔ وہ دن اور آج کا دن، مصر سے حسنی مبارک کی عائدکردہ ایمرجنسی بھی ختم نہیں ہوئی۔ اس ۲۸ سالہ ’عہدنامبارک‘ میں بھی اخوان کے ذمہ داران و کارکنان کو  جبر کے کولہو میں مسلسل کچلا جا رہا ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ مصر کے کسی نہ کسی شہر میں چھاپے مار کر درجنوں افراد کی آزادی سلب نہ کی جاتی ہو۔

اڑھائی سال قبل اسراء کے والد سمیت ۲۵ معزز افراد گرفتار ہوئے۔ تقریباً سب کے سب گرفتارشدگان انجینیرہیں یا ڈاکٹر۔ ان میں سے نمایاں ترین ہستی اخوان کے نائب مرشدعام انجینیر خیرت الشاطر ہیں۔ سب پر ایک نام نہاد عسکری عدالت میں مقدمہ چلا گیا اور سب کو ۱۰ سے ۳سال تک گرفتاری کی سزائیں سنا دی گئیں۔ انجینیر خیرت کو سات سال، جب کہ متعدد ضعیف افراد کو ۱۰سال قید کا پروانہ عطا کیا گیا۔ اسراء کے والد ڈاکٹر ضیاء کو تین سال کی سزا سنائی گئی۔ اس بار عمومی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ مزید ظلم یہ ڈھایا جارہا ہے کہ اخوان سے تعلق رکھنے والے نسبتاً متمول افراد کے کاروباری اثاثہ جات، تجارتی کمپنیاں اور ذاتی مال و متاع بھی ضبط کیا جا رہا ہے۔ ملک کی درجنوں بڑی اور اہم کمپنیاں اس ’جرم‘ میں بند کردی گئی ہیں کہ یہاں سے اخوان کو مالی امداد فراہم کی جارہی تھی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس خطرناک جماعت کے تمام مالی سوتے خشک کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ واضح رہے کہ دینی جماعتوں کے مالیاتی سوتے خشک کرنا، امریکا کی عالمی جنگ کا اہم ترین جزو ہے۔

ابھی ان معزز افراد کی سزائوں اور ان کے اثاثہ جات ضبط کرنے پر ہی احتجاج ہو رہا تھا کہ ۲۸ جون کو پوری عرب دنیا کے ڈاکٹروں کی یونین کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمنعم ابوالفتوح اور ان کے پانچ اہم ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ڈاکٹر ابوالفتوح عرب یونین کے منتخب سربراہ ہی نہیں، دنیا بھر میں ریلیف اور امدادی سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ گذشتہ چند برسوں میں ان کی تین بار پاکستان آمد ہوئی۔ پہلے افغانستان پر امریکی حملے کے دوران افغان مہاجرین کے لیے امدادی سامان اور ادویات لے کر آئے۔ پھر پاکستان میں زلزلے کے وقت ڈاکٹروں کی ایک ٹیم لے کر آئے۔ مصری عوام کی طرف سے ان کے توسط سے آنے والی ایمبولینس کا تحفہ اب بھی زلزلہ زدہ علاقے میں ان کی اور مصری بھائیوں کی یادیں مسلسل تازہ کرتا ہے، اور تیسری بار سوات آپریشن کے دوران میں مہاجرین کی مدد کے لیے ان کی طرف سے امداد موصول ہوئی۔

ڈاکٹر ابوالفتوح عرب یونین کے منتخب صدر کی اہم ذمہ داری پر فائز ہونے کے باوجود ہروقت دستیاب اور مستعد رہتے۔ غزہ پر تباہ کن بم باری کی صورت میں صہیونی عذاب نازل ہوا تو غزہ جانے کے تمام راستے بند تھے۔ ڈاکٹر ابوالفتوح اپنے ساتھی ڈاکٹروں کے ہمراہ کئی روز تک مصر، غزہ بارڈر پر رفح کے پھاٹک کے باہر کھڑے رہے۔ جیسے ہی کوئی گنجایش نکلتی، فوراً ادویات اور طبیب غزہ    بھجوا دیتے۔ ان کا وہاں مسلسل رہنا پوری عرب دنیا میں بڑی خبر بنا۔ جسے نہیں معلوم تھا اس نے بھی جان لیا کہ اسرائیلی حصار کے ساتھ ہی ساتھ مصری حکومت بھی اہلِ غزہ کا دانہ پانی بند کیے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر ابوالفتوح اور ساتھی ڈاکٹروں پر اصل الزام بھی یہی اہلِ غزہ کی طبی و انسانی امداد کا لگایا گیا ہے۔ مصری حکومت کے ارشادات کے مطابق: ’’ڈاکٹر ابوالفتوح نے کئی ملین ڈالر غیر قانونی طور پر غزہ ارسال کیے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے اس الزام کے جواب میں کہا کہ اگرچہ کئی ملین ڈالر کی بات صرف صہیونی ریاست کو خوش کرنے کے لیے اور زیب داستاں کی خاطر کہہ دی گئی ہے لیکن مجھے یہ الزام لگنے پر فخر ہے، البتہ مصری حکومت کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ وہ اپنے رب کی عدالت میں لاکھوں بے گناہ فلسطینیوں کے حصار اور انھیں رمضان میں بھی تمام ضروریاتِ زندگی سے محروم رکھنے کے جرم کا کیا جواب دے گی؟ بجاے اس کے کہ لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دینا جرم سمجھا جاتا، کسی نہ کسی طرح ان کی مدد کرنے کی کوشش کو جرم بنایا جارہا ہے۔

اہلِ غزہ کی مدد کے الزام کو اپنے لیے فخر قرار دینے پر ڈاکٹر ابوالفتوح اور ان کے ساتھیوں پر دوسرا الزام یہ لگایا گیا کہ وہ ’کالعدم‘ اخوان المسلمون کی عالمی تنظیم کے اہم ذمہ دار ہیںاور دیگر ممالک میں اخوان کی شاخوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس الزام کی حقیقت بھی پوری دنیا پر واضح ہے کہ ایک توجس پیشہ ورانہ تنظیم کے وہ منتخب سربراہ ہیں، اس کی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے کہ پورے عالمِ عرب میں فعال رہیں۔ دوسرے وہ اتنی بڑی اور اہم تنظیم کے رہنماکی حیثیت سے متعارف ہوں گے، تو عالمی روابط یقینا ان کی زندگی کا لازمی حصہ بنیں گے۔ محترم میاں طفیل محمدصاحب اللہ کو پیارے ہوئے تو ہم نے دنیا بھر میں ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاعات دیں۔ مصر سے سب سے پہلا تعزیتی فون ڈاکٹر ابوالفتوح کا آیا۔ ایک عالمی رہنما کی حیثیت سے ان سے یہی توقع تھی۔ اس فون کے تیسرے روز انھیں گرفتار کرلیا گیا۔ شاید یہ فون بھی ان کے خلاف فردِ جرم کا حصہ بنا ہو، لیکن یہاں تیسرا سوال سامنے آتا ہے کہ کیا اپنے بھائیوں کے ساتھ، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کے ساتھ یہ روابط جرم ہیں؟ یورپ میں مقیم ایک اور مصری عالمِ دین ڈاکٹر ابوالمجد پر بھی اسی طرح کے الزام لگنے کی بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ جو نہیں جانتا وہ بھی جان لے کہ اخوان المسلمون کی تنظیم دنیا کے ۶۰ ملکوں میں قائم ہے، ان میں سے کسی کے ساتھ یا دنیا کے کسی بھی مسلمان ادارے کے ساتھ رابطہ، میرے ایمان کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر ابوالفتوح کی گرفتاری پر مصری حکومت دنیا بھر میں مطعون ہو رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ان گرفتاریوں پر اظہار تشویش اور مذمت کی گئی ہے۔ خود مصر کے سابق وزیرخارجہ اور عرب لیگ کے حالیہ سیکرٹری جنرل عمرو موسیٰ نے ان کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر ان کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ حکومت مصر نے اس ضمن میں ابھی تک کوئی قدم نہیںاٹھایا بلکہ ۲۳؍اگست کو انھیں اور ان کے پانچ ساتھیوں کو مزید ۱۵ روز کے ریمانڈ پر فوجی جیل خانے بھیج دیا ہے۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ ظالمانہ گرفتاریاں ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ اخوان نے حکومت کے ساتھ سازباز شروع کر دی ہے، خفیہ مذاکرات کر رہی ہے۔ یہ شوشے اس لیے چھوڑے جا رہے ہیں تاکہ ایک طرف تو اخوان کے کارکنان اور گرفتارشدگان   اپنی قیادت کے بارے میں شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کا شکار ہوں، اور دوسری طرف مصری راے عامہ کو دھوکا دیا جاسکے کہ گرفتاریاں کوئی سنگین بحران نہیں ہیں، ظالم حکومت اور مظلوم اخوان باہم گٹھ جوڑ میںمصروف ہیں۔ اخوان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود عزت سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے ان شوشوں کی تردید کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا۔ انھوں نے کہا: ۱۹۷۳ء کے اواخر میں ہم گرفتار تھے، ہمارے درمیان ایسے ساتھی بھی تھے جو ۲۰سال سے قید تھے۔ کئی اپنی قیدکے نو سال پورے کرچکے تھے۔ ایک روز ایک اہم سرکاری ذمہ دار فواد علام جیل آیا۔ ہم سب کو جیل کے صحن میں ایک درخت کے نیچے اکٹھا کیا گیا۔ فواد نے کہا کہ صدر سادات آپ سب کو رہا کرنا چاہتا ہے لیکن آپ اس سلسلے میں ان کی مدد کریں۔ ہمارے ساتھ حامد ابوالنصر صاحب بھی گرفتار تھے وہ ابھی اخوان کے مرشد منتخب نہیں ہوئے تھے، بیماری کے باعث وہ قطار کے آخر میں کرسی پر بیٹھے تھے، وہیں سے پکارے: ’’جناب فواد صاحب! کیا اخوان کے کسی قیدی نے آپ سے اپنی تکلیفوں کی شکایت کی ہے؟ اخوان جیل سے نکل کر بھی اخوان ہی رہیں گے۔ جو بھی درست کام کرے گا ہم اسے کہیںگے تم نے ٹھیک کیا اور جو کوئی بھی غلط کام کرے گا ہم اسے کہیں گے تم نے غلط کیا۔ اگر اس اصول کے مطابق اخوان کو رہا کرنا چاہتے ہو، تو خوش آمدید، اور اگر یہ منظور نہیں تو ہم میں سے کسی نے تم سے کوئی شکایت نہیں کی‘‘۔ سیکرٹری جنرل نے یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اب بھی کسی سازباز یا اپنے موقف سے دست بردار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اخوان المسلمون کے خلاف گرفتاریوں میں اچانک تیزی آجانے پر سب تجزیہ نگار حیرانگی کا شکار ہیں۔ مختلف اندازے لگائے جارہے ہیں۔ اکثر افراد کا دو نکات پر اتفاق ہے۔ ایک تو وہی مسئلہ فلسطین کہ مصری انتظامیہ اخوان کے خلاف کارروائیوں سے صہیونی انتظامیہ کی خوشنودی چاہتی ہے اور اہلِ غزہ کو مزید مایوس و پریشان کرنا چاہتی ہے۔ دوسرے، خود مصر میں تبدیلی کے امکانات اور آیندہ برس ہونے والے عام انتخابات میں اخوان کو مزید کنٹرول کرنے کی خواہش۔

بڑھاپے کی آخری حدوں کو چھوتا حسنی مبارک (پ: ۱۹۲۸ء) اب اپنا ۲۸ سالہ اقتدار اپنے وارث جمال حسنی مبارک کو سونپنا چاہتا ہے۔ اس خواہش کی راہ میں اخوان ہی سب سے بڑی، بلکہ اکلوتی رکاوٹ ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اخوان نے ۸۸نشستیں حاصل کرلی تھیں۔ آیندہ اس منظرنامے کو ہر صورت روکنا، مصری حکومت کا سب سے بڑا خواب بن چکا ہے۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود عزت سے دریافت کیا گیا کہ: ’’سنا ہے کسی حکومتی ذمہ دار نے مرشدعام کو پیش کش کی ہے کہ آیندہ انتخاب سے باہر رہیں تو تمام گرفتار شدگان رہا کیا جاسکتے ہیں…؟ انھوں نے کہا: جو بات ہوئی وہ یہ ہے کہ ایک صاحب مرشدعام سے ملنے کے لیے آئے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک اہم حکومتی ذمہ دار سے رابطے میں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اخوان آیندہ انتخاب سے باہر رہیں تو ہم تمام قیدی چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، لیکن مرشدعام کا جواب واضح تھا۔ انھوں نے کہا: ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اس اہم حکومتی ذمہ دار نے اگر کوئی بات کرناہے تو براہِ راست ہم سے کرے، تاکہ ہمیں بھی معلوم ہو کہ ان کی پوری اور اصل بات کیا ہے۔ دوسرے انھیں یہ یقین رہنا چاہیے کہ اگر وہ کوئی بھی ایسی تجویز پیش کریں گے جو مصر کے قومی مفاد میں ہو تو ہم حکومت سے تمام تر اختلاف کے باوجود اسے قبول کرسکتے ہیں، اور تیسری بات یہ کہ ہم ایک منظم جماعت ہیں جس میں فیصلے مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی سنجیدہ اور مبنی بر اخلاص تجویز سامنے آئے گی تو ہماری شوریٰ ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی‘‘۔ مرشدعام کی    یہ بات سن کر وہ شخص چلا گیا اور پھر لوٹ کر نہیں آیا۔

مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو حالیہ گرفتاریوں کی تینوں ممکنہ وجوہات درست ہیں۔ مسئلہ فلسطین، مصر میں تبدیلی کے امکانات اور آیندہ انتخابات۔ اس تناظر میں خدشہ ہے کہ گرفتاریوں کا سلسلہ مزید دراز اور وسیع ہوگا لیکن یہ حقیقت بھی سب ہی جانتے ہیں کہ اخوان کو جتنا بھی کچلا گیا وہ اتنا ہی زیادہ توانا و مضبوط اور کامیاب ہوئے۔ اب بھی گرفتاریوں کا نتیجہ یقینی طور پر یہی نکلے گا کہ آزمایشیں اخوان کو مزید کندن بنائیں گی۔ یہی تاریخ کا سبق ہے، یہی سنتِ الٰہی ہے اور یہی اسلام کی فطرت ہے۔