بالآخر سوڈان پر مسلط کردہ ۲۲ سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ ۹ جنوری ۲۰۰۵ء کو کینیا کے شہر نیروبی میں امریکی وزیرخارجہ کولن پاول‘ متعدد افریقی سربراہوں اور عالمی مبصرین کی موجودگی میں سوڈانی حکومت اور جنوبی علیحدگی پسندوں کے درمیان ایک جامع معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ اس معاہدے کے بعد اب جنوبی لیڈر جون گرنگ‘ صدر عمر حسن البشیر کے ساتھ سینئر نائب صدر مملکت کے طور پر کام کریں گے۔ نائب صدر دوم شمالی سوڈان سے لیا جائے گا۔ تمام وزارتیں ایک مخصوص تناسب سے تقسیم کی جائیں گی۔ حکومتی پارٹی اور گرنگ کی پیپلز موومنٹ کے علاوہ کچھ وزارتیں دیگر پارٹیوں کے لیے بھی مخصوص کی جائیں گی اور ایک نیم قومی حکومت چھے سال کا عبوری دور شروع کرے گی۔ اس عبوری دور کے لیے ایک عبوری دستور‘ تاریخ معاہدہ کے چھے ہفتے کے اندر اندر منظور ہوگا‘ جس کے تحت سینئرنائب صدر کو بھی وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ ملک کے تمام وسائل شمال و جنوب میں تقریباً برابر برابر تقسیم ہوں گے اور چھے سال کے بعد انتخابات کے ذریعے اہلِ جنوب کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ شمال کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ایک الگ ریاست کے طور پر۔
جنوبی حصہ‘ سوڈان کے کل رقبے ۲۵ لاکھ ۵ ہزار ۸ سو ۱۰ مربع کلومیٹر کا تقریباً ۲۸ فی صد‘ یعنی ۷ لاکھ مربع کلومیٹر ہے جس کا زیادہ تر (۶۳ فی صد) حصہ گھنے جنگلات یا چراگاہوں پر مشتمل ہے‘ جب کہ ۳۰ فی صد علاقہ زرخیز زرعی اراضی پر۔ جنوبی آبادی‘ سوڈان کی کل آبادی (۳ کروڑ ۳۶ لاکھ) کا صرف ۱۰ فی صد ہے‘ جن کی زبان ۱۲ مختلف لہجوں پر مبنی ہے‘ جب کہ افریقی اور عربی زبان کا ایک مخلوط لہجہ پوری آبادی کی مشترکہ زبان ہے۔ اگرچہ مشہور یہی کیا جاتا ہے کہ جنوب میں عیسائی اکثریت ہے اور عیسائی علیحدگی پسندی کی تحریک چل رہی ہے لیکن وہاں عیسائیوں کا تناسب صرف ۱۷ فی صد ہے‘ مسلمان آبادی کا تناسب ۱۸ فی صد ہے‘ جب کہ ۶۵ فی صد آبادی کا کوئی مذہب نہیں ہے اور وہ مختلف بتوں اور ارواح پر یقین رکھتی ہے۔
اگرچہ جنوبی قبائل کی شمالی سوڈان سے بغاوت و لڑائی ۱۹۶۲ء سے شروع ہے جو ۱۹۷۲ء میں صدر جعفر نمیری کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ۱۱سال تک بند رہی۔ اس وقت بغاوت کی قیادت ’’انیانیا‘‘ کررہا تھا لیکن ۱۹۸۳ء میں جب جعفر نمیری نے نفاذ شریعت اسلامی کا اعلان کیا تو نئے باغی لیڈر جون گرنگ نے خانہ جنگی کا آغاز کر دیا جو ۹جنوری کے معاہدے سے ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن جنوبی سوڈان کی اس خانہ جنگی کے بیج سوڈان پر برطانوی استعمار کے وقت سے ہی بو دیے گئے تھے اور اس کے لیے برطانوی حکمرانوں کو سخت محنت کرنا پڑی تھی۔
حالیہ مصر اور سوڈان کی سرزمین خلافتِ عثمانیہ ہی کا حصہ تھی مگر ۱۸۸۱ء میں اس نے بغاوت کردی۔ ۱۸۹۹ء میں مصر اور برطانیہ نے سوڈان کا مشترکہ انتظام سنبھالا اور سوڈان میں عملاً انگریزی اقتدار قائم ہوگیا۔ تب ہی سے انگریز نے جنوبی سوڈان سے شمالی سوڈان کو بے دخل کرنا شروع کر دیا۔ اس وقت جنوب میں مصری افواج‘ مصر اور شمالی سوڈان سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین اور تاجروں کی ایک معتدبہ تعداد تھی۔
برطانوی راج نے پوری منصوبہ بندی سے آہستہ آہستہ ان تینوں عناصر کو جنوب سے نکالنا شروع کر دیا۔ عربی زبان کے بجاے مقامی زبانوں کو فروغ دینا شروع کر دیا‘ عیسائی مشنریوں کے اسکول کھول دیے اور جمعہ کی ہفتہ وار تعطیل کو اتوار میں بدلنے کی کوشش کی۔ ان اقدامات پر عمل درآمد ۱۹۱۰ء میں شروع ہوا اور ۷ دسمبر ۱۹۱۷ء کو جنوب سے شمالی سوڈان کی افواج کا آخری سپاہی بھی نکل گیا‘ جس کے ٹھیک ایک ماہ بعد ہفتہ وارچھٹی جمعہ سے اتوار میں بدل دی گئی (پاکستان میں جمعہ یا اتوار کی چھٹی کے مسئلے کو استہزا و خفت پن کا شکار کرنے والے متوجہ ہوں)۔
وقت کے ساتھ ساتھ برطانوی راج نے جنوب و شمال کی تقسیم کو گہرا کرنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے۔ ۱۹۱۹ء میں لارڈ ملنر کمیٹی نے اپنی تحقیقات کے بعد متعدد سفارشات و دستاویزات پیش کیں۔ جنوبی سوڈان کے حوالے سے تین دستاویزات بہت اہم تھیں۔ ان میں سے ۱۴ مارچ ۱۹۲۰ء کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کمیٹی صراحت کے ساتھ سفارش کرتی ہے:’’حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ جنوبی سوڈان کو حتی المقدور اسلامی اثرات سے دور رکھا جائے۔ اس علاقے میں سرکاری ملازمین غیرمسلم سیاہ فام ہوں اور اگر ملازمین باہر سے منگوانا ضروری ہو تو مصر کے قبطی مسیحی لائے جائیں۔ جمعہ کے بجاے اتوار کی چھٹی لازمی کر دی گئی ہے اور عیسائی مشنریوں کی خصوصی حوصلہ افزائی کی جائے گی‘‘۔
عربی زبان کو جنوب سے بے دخل کرنے کے لیے یہ حجت گھڑی گئی کہ: ’’یہاں متعدد زبانیں رائج ہیں۔ اس لیے اہلِ جنوب کو کسی مشترکہ مقامی زبان کی تعلیم دینی چاہیے اور جب تک یہ مقامی زبان باقاعدہ پڑھنے لکھنے کے قابل نہیں ہوجاتی‘ انگریزی کو مشترک زبان کے طور پر رائج کیا جاتا ہے‘‘۔ عربی زبان کے بارے میں برطانوی سول سیکریٹری میک مائیکل نے بلاجھجک و تردد کہا کہ: ’’جنوب میں عربی زبان کوبدستور قبول کیے رکھنے سے یہاں اسلام پھیلے گا اور ’’متعصب شمالی سوڈان‘‘ (یعنی مسلمان آبادی)کو اتنا ہی مزید رقبہ مل جائے گا جتنا اب اس کے پاس ہے‘‘۔
اس پورے پس منظر اور حالیہ طویل خانہ جنگی کے بعد اب یہ معاہدہ طے پایا ہے تو پورے سوڈان نے سکھ کا سانس لیا ہے ‘لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ خدشات بھی بہت سنگین ہیں کہ کیا یہ معاہدہ حقیقی صلح اور سوڈان کی تعمیروترقی کا ایک نیا باب ثابت ہوگا؟ معاہدے پر دستخط سے پہلے طرفین کے درمیان تقریباً تین سال مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس پورے عرصے اور پورے عمل میں امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک مکمل شریک رہے ہیں۔ امریکا کی حالیہ سوڈانی حکومت سے عداوت کسی سے مخفی نہیں ہے۔ جنوبی باغیوں کی مدد میں وہ اور اسرائیل پیش پیش رہے ہیں‘ تو کیا اب واقعی سوڈان اور اس کے نظام کو قبول کر لیا گیا ہے؟ کیا اس ماہیت قلبی کا سبب یہ خدشہ بنا ہے کہ سوڈان میں دریافت ہونے والا تیل اب چین کے ہاتھ میں جا رہا ہے‘ اور اس کا راستہ روکنا ضروری ہے؟ کیا یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ۱۹۸۹ء میں عمر حسن البشیرکا انقلاب آنے کے بعد سے لے کر اب تک ہر ہتھکنڈا آزما کر دیکھ لیا گیا‘ لیکن سوڈانی حکومت کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ اس لیے اب مذاکرات و افہام و تفہیم سے اختلافات پاٹنے اور ’’زہر‘‘ کم کرنے کی کوشش کی جائے یا پھر اندر جاکر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی جائے؟
حقیقت جو بھی ہو‘ خدشات و امکانات کا ایک وسیع باب کھل گیا ہے۔ یورپ و امریکا سمیت اگر طرفین نے باہم اعتماد کو فروغ دیا تو سوڈان کا استحکام‘ وہاں کی زرخیز سرزمین اور وافر تیل پورے خطے کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا۔ لیکن ۲۴ جنوری کا جون گرنگ کا یہ بیان تشویش ناک ہے کہ ’’عبوری دور میں اقوام متحدہ کی طرف سے ۱۰ ہزار فوجیوں کو تعینات کرتے ہوئے چین‘ ملایشیا اور پاکستان کی افواج کو ان میں شامل نہ کیا جائے۔ کیونکہ اول الذکر دونوں ممالک کا مفاد سوڈان کے تیل سے وابستہ ہے اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے‘‘۔ واضح رہے کہ اب تک پاکستان‘ بھارت‘ بنگلہ دیش اور کینیا سمیت کئی ممالک سوڈان فوجیں بھجوانے کی پیش کش کرچکے ہیں۔
ان خدشات کے حوالے سے راقم کو سوڈانی صدر سمیت متعدد ذمہ داران سے گفت و شنید کا موقع ملا تو انھوں نے کامل اعتماد کے ساتھ کہا کہ: ’’جنگ بند کروانے میں کامیابی ایک بڑی کامیابی ہے‘ اور جہاں تک خدشات کا تعلق ہے توگذشتہ ۱۵ سال میں سوڈان میں جو نظام تشکیل دیا جا چکا ہے وہ کسی کے اندر آبیٹھنے یا باہر چلے جانے سے متاثر نہیں ہوگا۔
ایک اور اہم پہلو جس کے بارے میں سوڈان کے ہر خیرخواہ کو تشویش ہے وہ سوڈانی حکمران پارٹی کے باہمی اختلافات ہیں جن کے نتیجے میں ایک پارٹی دو پارٹیاں بن گئیں اور ڈاکٹر حسن ترابی کو پس دیوار زندان بھیج دیا گیا۔ باہم لڑائی کبھی بھی کسی ایک فریق کی تقویت کا باعث نہیں بنتی۔ اس مرحلے پر اگر خطرات حقیقی ہیں تو سب یکجا ہو کر ہی ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘ اور اگر مصالحت حقیقی ہے تو دوسروں سے پہلے (یا ان کے بعد ہی سہی) اپنوں سے مصالحت کیوں نہیں؟
۵۲ سالہ بشیرالخطیب کو آج سے آٹھ سال قبل پیش کش کی گئی تھی کہ اگر تم اپنی غلطی کا اعتراف اور اس پر اظہار ندامت کر لو تو فوری رہائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس وقت اسے گرفتار ہوئے ۱۷ سال گزر چکے تھے۔ الخطیب نے کہا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا اور اخوان المسلمون سے تعلق کا جو الزام تم لگاتے ہو‘ میں اس پر نادم نہیں‘ اس کا اقراری ہوں۔ جواب سن کر اسے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔ اب بشیرالخطیب اور ان کے ۱۱۹دیگر ساتھیوں کو ۲۵‘۲۵سال قید کے بعد اچانک اور کسی کارروائی کے بغیر رہا کر دیا گیا ہے۔ شام کی مختلف جیلوں میں ربع صدی گزارنے والے ان قیدیوں کے اہل خانہ میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے یہ عزیز کہاں اور کس حال میں ہیں۔ اب بھی ہزاروں خاندانوں کو معلوم نہیں کہ ان کے جن اعزہ کو آج سے کئی سال پہلے گرفتار کیا گیا تھا وہ زندہ بھی ہیںیا موت کے آئینے میں رخِ دوست پر نظریں جمائے‘ شہادت کے جام نوش کر گئے۔
۱۲۰ مفقود الخبر افراد کی رہائی کی نوید سن کر یہ ہزاروں خاندان ایک بار پھر انتظار کی سولی پر چڑھ گئے ہیں۔ یہ خاندان اپنے عزیزوںسے محروم ہوجانے کے بعد نہ تو ان کی موت کا سوگ مناسکتے ہیں کہ وراثت اور یتیموں کی سرپرستی کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے‘ اور نہ ان کے زندہ ہونے کو حقیقت قرار دے سکتے ہیں کہ ۲۰‘ ۲۰ اور ۲۵‘ ۲۵ سال سے ان کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی۔ یہ ساری تفصیل مجھے بشیرالخطیب کے خالہ زاد بھائی نے شام کے صدر بشار الاسد کے اس اعلان کے بعد سنائی کہ ہم سیاسی قیدیوں کو رہا کر رہے ہیں۔
اخوان المسلمون شام کے سربراہ صدرالدین البیانونی نے بھی ان رہائیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں اسے ایک مثبت لیکن ادھورا اقدام قرار دیا ہے۔ انھوں نے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں شام میں ایک مکمل سیاسی مفاہمت اور منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے جامع تجاویز پیش کی ہیں‘ لیکن فی الحال شامی حکومت کی طرف سے ان تجاویز کا واضح جواب نہیں دیا گیا۔
رہا ہونے والوں کی اس کھیپ سے پہلے بھی کچھ لوگوں کو رہا کیا گیا تھا اور یہ بات عرصے سے زبان زدِعام ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خفیہ مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں‘ حالانکہ اس سے پہلے اس موضوع پر اشارتاً بھی بات نہیں کی جاسکتی تھی۔ حکومتی پالیسی میں اس اچانک تبدیلی کی ایک وجہ بشارالاسد کا اپنے باپ حافظ الاسد سے مختلف ہونا بھی ہوسکتی ہے‘ لیکن اصل وجہ ۱۱ستمبر کے بعد روپذیر ہونے والی عالمی تبدیلیاں ہیں۔ بش‘ شام کو محورِشر کا ایک زاویہ قرار دینے کے بعد عراق میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ شام پر مسلسل یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ عراق میں جاری مزاحمت کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ فلوجہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے بعد کہا گیا کہ فلوجہ کے کھنڈرات سے سراغ و ثبوت ملے ہیں کہ ’’دہشت گردوں‘‘ نے شام کے کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی۔ ادھر شارون نے اعلان کیا ہے کہ شام میں پناہ گزیں دہشت گردوں کا پیچھا ان کے ٹھکانوں تک کریں گے۔ متعدد فلسطینی رہنمائوں پر شام کے مختلف علاقوں میں قاتلانہ حملے بھی کیے جاچکے ہیں۔ امریکی اخبارات اور صہیونی کالم نگار مسلسل زور دے رہے ہیں کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شام پر بھی فوج کُشی ناگزیر ہے۔ جو تباہ کن اسلحہ عراق میں نہیں ملا‘ اس کی شام میں موجودگی کی ’مصدقہ اطلاعات‘ نشر کی جارہی ہیں۔ وائٹ ہائوس کے ترجمان نے ۸دسمبر کو اپنی بریفنگ میں شام اور ایران پر الزام لگایا ہے کہ دونوں ملک عراقی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں‘ انھیں اس سے باز رکھنے کی ضرورت ہے۔ خطے میں امریکی ترجمان‘ کئی مسلم حکمران بھی امریکا کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ اُردن جس کی سرحدیں شام‘ عراق‘ فلسطین‘ لبنان اور سعودی عرب سے ملتی ہیں کے شاہ عبداللہ نے بھی خطے میں شیعہ کمان کے وجود سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’عراق‘ شام اور لبنان میں شیعہ حکومتیں قائم کرتے ہوئے ایران پورے خطے پر تنی ایک کمان تشکیل دینا چاہتا ہے۔ دنیا کو اس خطرے سے خبردار رہنا چاہیے‘‘۔
اس تناظر میں شام کی قیادت نے کئی اہم اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ حقیقت بن جاتا ہے اور سالہا سال سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے دسیوں ہزار خاندانوں کو ملک واپسی کی اجازت دے دی جاتی ہے‘ ملک میں افہام و تفہیم اور سیاسی آزادی کی فضا کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے‘ تو یقینا مقابلے کے لیے تیاری کا یہ سب سے اولیں اور ضروری تقاضا پورا ہو سکتا ہے کہ پوری قوم یک جان ہو اور اندرونی محاذ مضبوط تر ہو۔ اس وقت سیاسی و صحافتی آزادیوں کا عالم یہ ہے کہ ملک میں صرف ایک ہی حکمران پارٹی ہے‘ کوئی دوسرا پارٹی تشکیل دینے کی جسارت نہیں کرسکتا۔ ابلاغیات کے دور میں بھی شام میں صرف تین سرکاری اخبار بعث‘ الثورہ‘ تشرین ہی شائع ہوسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق بیرون ملک مقیم شامی شہریوں نے مختلف ممالک میں ۱۰۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے‘ لیکن انھیں ملک واپسی کی اجازت نہیں ہے۔
شامی حکومت نے وقت کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے عالمِ اسلام سے بھی روابط مضبوط کرنا شروع کیے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل شامی علما اور دانش وروں کے ایک وفد نے متعدد مسلم ممالک کا دورہ کیا۔ وفد پاکستان بھی آیا اور متعدد حکومتی شخصیتوں کے علاوہ سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کی۔ محترم قاضی حسین احمد سے اپنی ملاقات میں انھوں نے شام کی اسلامی تاریخ اور بشارالاسد کی اسلام پسندی کے حوالے سے مفصل گفتگو کی۔ قاضی صاحب نے انھیں یہی مشورہ دیا کہ عالمِ اسلام سے رابطہ بہت اہم ہے لیکن ملک کے اندر اعتماد و آزادی کی فضا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ پوری قوم متحد ہو کر اللہ کی رسی کو تھامے گی‘ تو کوئی خطرہ‘ خطرہ نہیں رہے گا۔
بشارالاسد نے اندرون ملک بعض اصلاحات کا عندیہ دینے کے ساتھ ہی بعض سیاسی کارڈ بھی پھینکے ہیں۔ عراق کے پڑوسی ممالک کی مصری سیاحتی شہر شرم الشیخ میں ہونے والی کانفرنس میں شامی وزیرخارجہ نے بھی شرکت کی اور کانفرنس کے امریکی میزبانوں کو عراق میں امن کی خاطر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ بشارالاسد نے حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم شارون کو بھی مذاکرات کی غیرمشروط پیش کش کی ہے۔ لیکن نہ تو شارون نے اس پیش کش کا کوئی مثبت جواب دیا اور نہ اس غیرمعمولی پیش کش سے ہی امریکی خوشنودی کا کوئی امکان پیدا ہوا‘ بلکہ بش نے مزید رعونت سے کہا کہ اس وقت میری ساری توجہ مسئلہ فلسطین حل کرنے پر ہے۔ اس سے فراغت کے بعد شام کی پیش کش کا جائزہ لیں گے۔
سابق روسی وزیرخارجہ یفجینی پریماکوف اپنے ۱۹ دسمبر کے ایک کالم میں شام کے تذبذب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’میں حافظ الاسد سے مشرق وسطیٰ کے حالات پر گفتگو کر رہا تھا تو حافظ الاسد نے کہا: ’’شام نہیں چاہتا کہ کوئی شام کو نظرانداز کرتے ہوئے‘ ہم سے پہلے اسرائیلیوں کے ساتھ صلح کرے اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ شام اسرائیل کے ساتھ صلح کرنے والا پہلا ملک ہو‘‘۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطین اور لبنان میں اپنے گہرے اثرونفوذ کے باوجود شام خطے کے واقعات پر اپنا نقش ثبت نہیں کر سکا۔ یقینا جنوبی لبنان‘ جولان کی پہاڑیوں اور فلسطینی تنظیموں کے حوالے سے کوئی بھی شام کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ اور اب عراق میں جاری مزاحمت کے حوالے سے‘ عراق شام سرحدیں حساس ترین اور اہم ترین ہوگئی ہیں لیکن معاملات کا تمام تر انحصار شامی حکومت کے یکسو ہونے پر ہے۔ اگر شام یکسو ہوکر پوری قوم کو اسلامی اصولوں پر ساتھ لیتا ہے اور قبلۂ اول کے حوالے سے دمشق‘ حمص اور حلب کے تاریخی کردار کو زندہ کرتا ہے تو تجزیہ نگاروں کا یہ تجزیہ ایک زندہ و عظیم حقیقت بن جائے گا کہ ’’عراق میں امریکی فوجوں کی حالت‘ خطے کے باقی ممالک کی سلامتی کی علامت ہے‘‘۔
۲۱ دسمبرکو موصل کے امریکی اڈے پر میزائلوں کا حملہ اور سیکڑوں امریکی فوجیوں کا اس کی زد میں آنا (واضح رہے کہ حملے کے وقت ۵۰۰ امریکی فوجی ظہرانہ کھا رہے تھے) پورے فلوجہ کو زمین بوس کر دینے کے باوجود‘ عراقی مزاحمت میں روز افزوں اضافے ہی کی نہیں نئی اور‘ زیادہ مؤثر حکمت عملی کی خبردے رہا ہے۔ ۳۰ جنوری کو عراقی انتخابات کا ڈراما اسٹیج ہو بھی جاتا ہے‘ تب بھی نہ تو اس مزاحمت کو روکا جا سکے گا اور نہ امریکا کوئی ایسی کٹھ پتلی حکومت قائم کر سکے گا جو وہاں امریکیوں کی جنگ لڑے۔ البتہ ان انتخابات کے ذریعے عراقی عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کامیاب ہونے کا خطرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ شاہ عبداللہ نے واشنگٹن پوسٹ کو اپنے سابق الذکر انٹرویو میں ایران پر الزام لگایا ہے کہ ’’عراقی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے ایران نے اپنے ۱۰ لاکھ شہری عراق میں داخل کیے ہیں جو اپنے ووٹ کے ذریعے وہاںشیعہ حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ تقریباً تمام سنی جماعتوں کی طرف سے الیکشن کے بائیکاٹ اور آیۃ اللہ سیستانی سمیت اہم شیعہ رہنمائوں کی طرف سے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے بیانات اور کربلا و نجف میں حالیہ خوفناک بم دھماکے‘ اسی تقسیم کے خطرے کو ہوا دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
سیکڑوں ارب ڈالر کے اخراجات‘ ہزاروں فوجیوں کی لاشیں‘ ڈیڑھ لاکھ سے زائد افواج اور بغداد میں امریکی سفارت خانے کے۳ ہزار اہلکار (جن کی قیادت وہی امریکی سفیر جون نیگروبونٹی کر رہا ہے جس نے ویت نام میں امریکی شکست کا یقین ہونے کے بعد وہاں سے امریکی افواج کے انخلا کا مشن سرانجام دیا تھا)‘عراق میں امریکی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بش کے دوسرے عہدصدارت میں امریکی ناکامیوں کی فہرست مختصر ہونے کے بجاے طویل تر ہوگی ‘ کیونکہ غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجاے مزید غلطیوں پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں شام اور دیگر مسلم ممالک کے لیے نجات کا ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ دلدل میں دھنسے‘ پھنکارتے بدمست ہاتھی کے ساتھ بندھنے کے بجاے اپنے عوام کے ساتھ صلح کریں‘ اپنے خالق اور کائنات کے مالک سے رجوع کریں۔
شام کے حالیہ واقعات نے دنیا کو ایک اور حقیقت سے بھی دوبارہ روشناس کروایا ہے کہ دسیوں سال جیلوں میں رکھ کر‘ ہزاروں خاندانوں کو عذاب و اذیت میں مبتلا کر کے اور سیکڑوں افراد کو شہید کر کے بھی اسلام اور اسلامی تحریک کے وابستگان کو کچلا نہیں جاسکتا۔ مظالم ڈھانے والوں کو خدا کے حضور جانے کے بعد جس انجام کا سامنا کرنا پڑے گا وہ تو قرآن کریم میں ثبت کردیا گیا۔ دنیا میں بھی ان کا انجام ٹالا نہیں جاسکتا۔ وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ (الشعرائ:۲۶:۲۲۷)، ’’جنھوں نے ظلم کیا وہ عنقریب جان لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے!‘‘
فلسطین پر قابض برطانوی افواج کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والا نوجوان یاسر اسے اپنا ہیرو محسوس ہوا‘اور قاہرہ یونی ورسٹی میں انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے نوجوان محمد عبدالرحمن عبدالرئوف عرفات القدوہ الحسینی نے اپنا نام یاسر رکھ لیا۔ پھر کسی کو یاسر عرفات کا اصل نام‘ جو ۲۴ اگست ۱۹۲۹ء کو قاہرہ میں پیدا ہونے پر والدین نے رکھاتھا‘ یاد نہ رہا۔
دورِ جوانی ہی سے یاسر جس نے اپنی کنیت ابوعمار رکھی تھی فلسطین کے لیے بہت جذباتی اور متحرک تھا۔ زمانۂ طالب علمی میں ’’فلسطینی طلبہ اتحاد‘‘ کی تشکیل میں اس کا نمایاں کردار تھا۔ تعلیم کے بعد ۱۹۵۶ء میں وہ مصری فوج میں بھرتی ہوگیا اور لیفٹیننٹ کا عہدہ حاصل کیا۔ اسی سال مصر پر اسرائیل‘ برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ حملہ ہوا اور لیفٹیننٹ یاسر کو باقاعدہ جنگ کا تجربہ حاصل ہوا۔
علامہ یوسف قرضاوی‘ ابوعمار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ ’’فلسطین پر قبضے کے بعد اخوان المسلمون نے کسی بھی باقاعدہ فوج سے پہلے اور زیادہ جرأت و جذبے سے برطانوی و صہیونی قابض فوجوں کا مقابلہ کیا۔ امام حسن البناؒ نے اس دور میںمصر سے زیادہ فلسطین کو اہمیت دی اور قبلۂ اول کے دفاع و آزادی کے لیے اپنے ہزاروں مجاہدین فلسطین روانہ کیے۔ ان مجاہدین کی تربیت کے لیے مصر کے مختلف علاقوں میں تربیتی کیمپ قائم تھے۔ ایک کیمپ میں مَیں بھی شریک تھا۔ اس میں ایک نوجوان یاسر تربیت دیا کرتا تھا۔ میرا اس سے پہلا تعارف اس طرح ہوا کہ ایک ساتھی کی کسی غلطی پر طیش میں آکر یاسر نے اسے ڈانٹتے ہوئے اس پر بندوق تان لی۔ میں نے کیمپ انچارج‘ اخوان کے ذمہ داران سے اس واقعے کی شکایت کی اور انھوں نے یاسر کو بلا کر نوٹس لیا… یہ میری اور یاسر عرفات کی پہلی ملاقات تھی‘‘۔
فوج سے فارغ ہو کر ابوعمار نے کویت جاکر تلاش معاش کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں مقیم فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ مل کر ’’الفتح‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ان نوجوانوں کی اکثریت بھی اخوان المسلمون سے متاثر تھی جن میں سلیم زعنون‘ خلیل الوزیر (ابوجہاد) اور صلاح خلف نمایاں تھے۔ الفتح نے ۱۹۵۹ء میں بیروت سے فلسطیننا (ہمارا فلسطین) نامی رسالہ شائع کرنا شروع کیا اور اس طرح ’’الفتح‘‘ فلسطین کی آواز بن کر ابھرنا شروع ہوئی۔
یاسر عرفات کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے‘ اس دوران وہ طالب علم لیڈر بھی رہا‘ فوجی کمانڈر بھی‘ خفیہ مسلح جدوجہد کا نگران بھی رہا اور سیماب پا سیاسی لیڈر بھی۔ عرب حکمران اسے کبھی اپنا بھائی اور بازوے شمشیر زن قرار دیتے رہے اور کبھی اس سے ملنے سے بھی انکاری۔ اُردن میں فلسطینیوں کی بڑی تعداد قیام پذیر ہے۔ یاسر عرفات نے وہاں اپنی سرگرمیوں کا مرکز قائم کیا۔ ’’العاصفہ‘‘ (آندھی) گوریلا تنظیم قائم کی اور مقبوضہ فلسطین میں فدائی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ اُردن کا شہر الکرامہ‘ الفتح کی قیادت کا مسکن تھا۔ ۲۱ مارچ ۱۹۶۸ء کو الکرامہ پر اسرائیلی فوجوں نے حملہ کیا۔ اُردنی خفیہ اداروں کو اس حملے کی اطلاع ہو چکی تھی۔ انھوں نے الفتح کو بھی مطلع کر دیا اور جب حملہ ہوا تو اسرائیلیوں کو لاشیں چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔
اسی اُردن میں دو سال بعد ستمبر ۱۹۷۰ء کو شاہ حسین کے حکم پر فلسطینی کیمپوں پر دھاوا بولا گیا۔ الزام یہ تھا کہ حکومتِ اردن کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ اس حملے میں۳ہزار فلسطینی شہید کر دیے گئے اور بالآخر ان کی قیادت اور مجاہدین کو اُردن چھوڑ کر لبنان آنا پڑا۔ فلسطینی اب بھی ان زخموں کو نہیں بھولے۔ اس حملے میں پاکستانی فوج بھی شریک تھی۔ نتیجتاً پاکستان سے بھی ابدی شکوہ قائم ہے۔ اس سانحے کے لیے عالمی قوتوں نے کس طرح اسٹیج تیار کیا تھا‘ اس کی ایک جھلک کسنجر کی یادداشتوں کے اس پیراگراف میں ملتی ہے: ’’میں نے اسحاق رابن کو اُردن سے موصولہ اطلاعات سے آگاہ کیا اور میں نے اسے یہ بھی بتایا کہ اس دوران اسرائیلی فضائی حملہ ہمارے لیے باعث اطمینان ہوگا اور ہم اس بات کے لیے بھی تیار ہیں کہ نقصان ہونے کی صورت میں اس کا ازالہ کریں‘‘۔
۷۰ کی دہائی میں لبنان مختلف فلسطینی گروپوں کا مرکز رہا۔ اسرائیلی افواج اور صہیونی بستیوں کو ان کی لاتعداد گوریلا کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران یہودیوں نے ہر شیطانی چال اختیار کی۔ سیکڑوں ذمہ داران قتل کیے‘ ۱۹۷۵ء میں لبنان کی خانہ جنگی پر تیل چھڑکا۔ مشرق وسطیٰ کے اہم رکن ملک مصر کو پوری اُمت سے الگ کرتے ہوئے ۲۶مارچ ۱۹۷۹ء کو کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کر لیا اور بالآخر ۱۹۸۲ء میں لبنان پر حملہ کرتے ہوئے بیروت کے ۱۰ ہفتے کے مکمل محاصرے کے بعد‘ فلسطینی قیادت اور فدائی گروپوں کو لبنان سے ہجرت پر مجبور کر دیا۔ یاسرعرفات ۳۰ اگست ۱۹۸۲ء کو بیروت کی بندرگاہ سے لبنان میں ۱۱سال قیام کے بعد رخصت ہوا اور مصر سے ہوتا ہوا تیونس میں جا مقیم ہوا۔
اب ابوعمار ایک فدائی لیڈر کے علاوہ سیاسی قائد بھی شمار ہوتا تھا۔ عرب سربراہی کانفرنس کے اہم مقرر ہونے کے علاوہ ۱۳ نومبر ۱۹۷۴ء کو وہ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں پہلے فلسطینی لیڈر کی حیثیت سے خطاب کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ’’میں ایک انقلابی کی بندوق کے ساتھ ساتھ زیتون کی شاخ بھی لے کر آیا ہوں۔ اس سبز شاخ کو میرے ہاتھ سے نہ گرنے دو… جنگ کا آغاز بھی فلسطین سے ہوتا ہے اور امن کا آغاز بھی فلسطین ہی سے ہوتا ہے‘‘۔
یاسر عرفات ۱۹۹۴ء تک تیونس ہی میں مقیم رہا۔ اس دوران تنظیم آزادی فلسطین اور الفتح تنظیم بڑے اندرونی بحرانوں سے گزری۔ کئی لیڈر اسرائیل نے شہید کر دیے‘ بہت سے اپنوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ فلسطینی سرزمین اور سرحدوں سے دُور ہونے کے باعث کوئی قابلِ ذکر فدائی کارروائیاں نہ ہو سکیں۔البتہ اس دوران پورے مسئلہ فلسطین کو یاسر عرفات کی ذات تک محدود کرنے کی عالمی کوششیں عروج پر رہیں۔ مسئلہ فلسطین کو پہلے صرف عربوں کا‘ پھر صرف فلسطینیوں کا مسئلہ قرار دیا گیا اور بالآخر یاسرعرفات کو فلسطینیوں کا ’’الممثل الشرعی والوحید‘‘ (اکلوتا قانونی نمایندہ) قرار دے کر کہا گیا کہ اس کے علاوہ کسی کو فلسطین کی وکالت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
فلسطین کی تاریخ میں‘ ۱۹۴۸ء کے بعد دسمبر ۱۹۸۷ء سے شروع ہونے والا مرحلہ سب سے اہم ہے۔ اس سال پہلی تحریک انتفاضہ شروع ہوئی‘ جس میں بچوں‘ بوڑھوں اور خواتین سمیت پوری فلسطینی قوم نے حصہ لیا۔ تحریکِ انتفاضہ کا سہرا اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور اس کے رہبر شیخ احمد یاسین کے سر جاتا ہے۔ صہیونی انتظامیہ نے پتھروں اور غلیلوں سے ’’مسلح دہشت گردوں‘‘ پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے اور فلسطین پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یاسر عرفات نے سیاسی محاذ پر‘ امن مذاکرات کی بات آگے بڑھائی اور ۱۹۸۸ء میں فلسطینی کونسل نے الجزائر میں اپنے اجلاس کے دوران پیش کش کی کہ غزہ اور مغربی کنارے پر فلسطینی ریاست کے قیام کے مقابل ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔ ۱۹۸۹ء میں کونسل نے یاسرعرفات کو مجوزہ فلسطینی ریاست کا مجوزہ صدر قرار دے دیا اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا ایک طویل دور شروع ہوگیا۔
تحریکِ انتفاضہ کی قربانیاں جاری رہیں اور یاسرعرفات کے مذاکرات بھی‘ یہاں تک کہ ۱۹۹۳ء میں ناروے کے دارالحکومت میں عرفات رابن اوسلو معاہدے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ۲۸ ہزار مربع کلومیٹر رقبے میں سے صرف مغربی کنارے کے ۲ہزار ۲ سو ۷۰ مربع میل اور غزہ کے ۱۳۵ مربع میل علاقے پر فلسطینی ریاست کی تشکیل کا خواب دکھایا گیا۔ یہ رقبہ پورے فلسطین کا صرف ۲۳ فی صد بنتا ہے اور اس میں سے بھی ۶۰ فی صد علاقے پر یہودی بستیوں کی تعمیر کرکے وہاں لاکھوں یہودیوں کو بسا دیا گیا ہے۔ اپنے وطن سے دست برداری کے معاہدے کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ’’سلام الشجعان‘‘(بہادروں کا امن معاہدہ) ہے۔ جھوٹے وعدوں اور نو برس پر پھیلے اس گورکھ دھندے اور سراب سے فلسطینیوں کو یہ خواب دکھایا گیا کہ آزادی نہ سہی‘ چلیے فلسطین میں پائوں دھرنے کی جگہ تو ملی۔ لیکن اس معاہدے کی اصل قیمت تحریکِ انتفاضہ کے ابابیل بچوں نے چکانا تھی۔ غلیلوں اور پتھروں سے ’’لیس‘‘ نوجوانوں کو اب یہودی بمباری کا ہی نہیں فلسطینی انتظامیہ کی آٹھ خفیہ ایجنسیوں اور پولیس فورس کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
یاسرعرفات اپنی قوم کو مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کی خوش خبری سناتے ہوئے تحریکِ انتفاضہ روکنے کے لیے ایک کے بعد دوسرے صہیونی مطالبے کو پورا کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہا اور اگر حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کی یہ دوٹوک پالیسی اور اصرار نہ ہوتا کہ ہم اپنی بندوقوں کا رخ صرف اپنے مشترکہ دشمن کی طرف رکھیں گے‘ حماس اور عرفات انتظامیہ کے درمیان لبنانی خانہ جنگی سے بھی خطرناک خانہ جنگی ہوچکی ہوتی۔ شیخ احمد یاسین نے ہمیشہ کہا کہ عرفات انتظامیہ کے لیے ہمارا پیغام ہمیشہ وہی رہے گا جو آدم علیہ السلام کے بیٹے نے پہلے انسانی قتل کے وقت اپنے بھائی کو دیا تھاکہ لَئِنْم بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَابِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ ج (المائدہ ۵:۲۸)’’تم اگر مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائو گے تو بھی میں تمھیں قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھائوں گا‘‘۔
سات برس تک اوسلو معاہدے پر عمل درآمد کے ذریعے صہیونی انتظامیہ سے اپنے حقوق حاصل کرنے کی ناکام کوشش کے بعد‘ اور فلسطینی عوام میں فلسطینی انتظامیہ سے بڑھتی ہوئی مایوسی کے پس منظر میں جون ۲۰۰۰ء میں ایک بار پھر کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔ صہیونی وزیراعظم ایہود باراک‘ یاسر عرفات اور صدر کلنٹن کے درمیان کئی دن بند دروازے میں ہونے والے یہ مذاکرات بالآخر صہیونی ڈھٹائی کی نذر ہوگئے۔ اسی اثنا میں صہیونی اپوزیشن لیڈر ارییل شارون اپنے لائولشکر سمیت مسجد اقصیٰ میں جا گھسا اور اس پر یہودی استحقاق کا اعلان کر دیا۔ ستمبر ۲۰۰۰ء میں یہی لمحہ دوسری تحریکِ انتفاضہ کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ اب الفتح بھی (یاسر عرفات کے اعتراف کے بغیر) اس شہادتی کارواں کا حصہ بنی۔
اس تحریکِ انتفاضہ کے خاتمے کے لیے جنین‘ رفح اور رام اللہ جیسے دیگر فلسطینی کیمپ اور شہر کھنڈروں میں تبدیل کر دیے گئے۔ تحریک کی پوری قیادت شیخ احمد یاسین‘ ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی اور اب یاسر عرفات کو منظر سے ہٹا دیا گیا۔ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد ۸ ہزار ہوگئی‘ ہزاروں بچوں اور بڑوں کو شہید کر دیا گیا۔ لیکن تحریکِ انتفاضہ اب بھی جاری ہے۔ سیکڑوں میل لمبی دیوار عُنصریت بھی شہادتی کارروائیوں کا راستہ نہیں روک سکی۔ حالیہ رمضان میں بھی القدس میں ایک کامیاب شہادتی حملہ ہوا ہے۔
یاسر عرفات ۲۰۰۱ء سے اپنے ہیڈ کوارٹر میں محصور کر دیے گئے تھے۔ اوسلو معاہدے کے بعد امن کا نوبل انعام کا حق دار‘ اب فلسطینی قیادت میں سب سے ناپسندیدہ شخص بن گیا تھا۔ اسے قیادت سے یا پھر دنیا ہی سے ہٹا دینے کی تکرار ہو رہی تھی‘ یہی وہ عرصہ تھا جب فلسطینی عوام میں یاسرعرفات کی مقبولیت کا گراف دوبارہ بلند ہونا شروع ہوا۔ ابوعمار نے اپنی قوم کا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا شروع کیا۔ لیکن اب مضمحل قویٰ اور بیماریوں کی یلغار نے ۷۵ سالہ ابوعمار کا کردار محدود تر کر دیا تھا۔ اب وہ امیدوں کے مرکز کے بجاے ہمدردیوں کا مستحق قرار پایا۔ اس کے دست و بازو قرار دیے جانے والے بھی صہیونیوں کی چھیڑی گئی اس بحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے کہ مابعد عرفات کیا ہوگا۔
ابوعمار کی وفات بھی اس کے متعلق پائے جانے والے کئی معموں میںسے ایک معمہ ہے۔ اس کے کئی ساتھی اور کئی افراد خانہ مصّرہیں کہ انھیں زہر دیا گیا ہے۔ اس کے بھائی محسن عرفات نے ۲۰نومبر کو پیرس سے واپسی پر کہا ہے کہ ہمیں یاسرعرفات کی وفات کے بارے میں صحیح حقائق نہیں بتائے جارہے۔ انھوں نے کہا کہ خود فرانسیسی وزیرخارجہ نے مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس وقت موت کے حقیقی اسباب جاننے پر اصرار‘ فلسطینیوں کے حق میں نہیں ہے‘‘۔ محسن عرفات نے اس امر پر بھی دکھ کا اظہار کیا کہ ’’فلسطینی قیادت اسرائیلی ذمہ داران کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے میں مصروف ہے اور سمجھتی ہے کہ موت کے اسباب جاننے پر اصرار مذاکرات کے ماحول پر منفی اثرات مرتب کرے گا‘‘۔
یاسر عرفات کی حیات و موت بے حد عبرت آموز ہے۔ عہدشباب میں جب وہ اخوان سے وابستہ تھے تو قبلۂ اول اور جہاد کی دینی اہمیت و منزلت کا پرچار کیا کرتے تھے۔ الفتح کی تشکیل اور عالمی روابط کے آغاز کے بعد دینی تعلیمات ہی نہیں اسلام کے ذکر سے بھی احتراز کرنے لگے۔ حجت یہ تھی کہ فلسطین میں عیسائی بھی ہیں اور لامذہب بھی‘ ہمیں ان سب کی نمایندگی کرنا ہے۔ جمال عبدالناصر‘ابوعمار کے اخوانی پس منظر کے باعث ان سے تعاون میں متردد تھا اور ابوعمار نے اس تردد اور اخوانی چھاپ کے ازالے کے لیے ہر وہ قدم اٹھایا جس سے ان کے تئیں عرب حکمران مطمئن ہو سکتے تھے۔ پھر جب اسرائیل سے مذاکرات شروع کیے تو اسے مطمئن کرنے‘ اس کا دل جیتنے اور معاہدہ یقینی بنانے کے لیے دست برداری کو وقتی حکمت قرار دیتے ہوئے اپنی مستقل پالیسی بنا لیا۔ اوسلو معاہدے کے بعد فلسطینی انتظامیہ نے تحریکِ انتفاضہ کو صہیونی فوج سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ کچلا۔ صہیونی مطالبے پر الفتح کے بنیادی دستور سے وہ تمام شقیں خارج کر دی گئیں جو پورے فلسطین کی آزادی اور جہاد کے وسیلۂ آزادی ہونے سے متعلق تھیں۔ مجوزہ فلسطینی ریاست کی ’’وسیع تر‘‘ سرحدوں کا دائرہ ۱۹۶۷ء تک صہیونی قبضے سے آزاد رہ جانے والے علاقوں تک محدود کردیا‘ لیکن بالآخر قابلِ گردن زدنی قرار پائے۔ بش اور شارون دونوں نے اعلان کر دیا کہ یاسر عرفات فلسطینی ریاست کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکی روڈمیپ پر سفر کا آغاز نئی فلسطینی قیادت سے مشروط قرار دے دیا گیا۔ پھر اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر ابوعمار کے ہیڈ کوارٹر کی ایک کے بعد دوسری دیوار گرانے لگے۔ اس وقت ابوعمار کا خطاب ایک بار پھر وہی خطاب تھا جو وہ کبھی عہدِشباب میں کیا کرتا تھا۔ آج الجزیرہ سے ان کی تقریروں کے اقتباس نشر ہوتے ہیں جن میں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے حوالے دیتا ہے کہ:’’ میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہے گا۔ وہ اللہ کی مدد سے اپنے دشمن پر غالب رہے ہوگا‘ اسے اپنوں کی بے وفائی اور غیروں کا جور کوئی نقصان نہ دے گا۔ وہ اسی حال میں رہیں گے جب تک اللہ کا فیصلہ نہ آجائے۔ آپؐ سے پوچھا گیا: یہ گروہ کہاں ہوگا یارسولؐ اللہ؟ توآپؐ نے فرمایا: بیت المقدس میں اور بیت المقدس کے گردونواح میں‘‘۔(متفق علیہ)
تاریخ کے طالب علم اظہار حسرت کرتے ہیں کہ کاش! یاسر عرفات کو یہ سبق قوتِ کار کے عروج میں بھی یاد رہتا۔
آج یاسر عرفات کی وفات کے بعد اس کے جانشین کا مسئلہ درپیش ہے اور بدقسمتی سے ہلاکت کی اسی ڈگر پر چلنے کی تیاریاں ہیں‘ جن پر پہلے رسوائی حاصل ہوئی۔ ۹جنوری کو فلسطینی انتظامیہ کے صدارتی انتخابات ہونا طے پائے ہیں۔ اب یہ بات تقریباً طے ہے کہ محمود عباس (ابومازن) جو یاسر عرفات کی متبادل قیادت کے مطالبے پر‘ وزیراعظم بنائے گئے تھے اور چار ماہ کے بعد مستعفی ہوگئے تھے‘ آیندہ صدر منتخب کر لیے جائیں گے۔ ابومازن عرفات کے ابتدائی رفقا میں سے ہیں۔ عرفات جب کویت میں تھے تو ابومازن قطر میںتھے۔ الفتح کی تشکیل میں دونوں شریک تھے۔ ابومازن نے حماس سمیت تمام فلسطینی دھڑوں سے مذاکرات کیے ہیں۔ گاہے بہ گاہے قومی حکومت کی تشکیل کی بات بھی کی ہے لیکن پالیسی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کیا جائے‘ امریکی سرپرستی حاصل کی جائے اور اس کے دیے گئے روڈمیپ پر آگے بڑھا جائے۔
شارون نے مذاکرات کے لیے پانچ شرائط عائد کی ہیں جو اصل میں ایک ہی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ: ۱-فلسطینی عرفات سے زیادہ معتدل قیادت کا انتخاب کریں۔ ۲- یہ قیادت دہشت گردی کچلنے کی ضمانت دے۔ ۳- دہشت گرد تنظیموں کا انفراسٹرکچر ختم کرے۔ ۴- نئی انتظامیہ شدت پسند کارروائیوں (انتفاضہ) کا خاتمہ کرے۔ ۵-نئی قیادت اسرائیل کے ساتھ مذاکرات و مفاہمت کا اختیار و صلاحیت رکھتی ہو۔ شارون نے امریکا کے سامنے بھی تین بنیادی شرطیں رکھیں: ۱- امریکا ضمانت دے کہ فلسطین سے باہر موجود فلسطینیوں (مہاجرین) کو واپسی کی اجازت نہیں ہوگی۔ ۲-تقریباً تمام یہودی بستیوں پر اسرائیل کا کنٹرول تسلیم کیا جائے گا۔ ۳- دیوار تقسیم کی تکمیل و حفاظت کی جائے گی۔
لیکوڈ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شارون نے کہا ہے کہ فلسطینی یہ ضمانت بھی دیں کہ اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیز پروپیگنڈا بند کیا جائے گا۔ اس نے کہا: ’’اسرائیل کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈا‘ اسکولوں اور ذرائع ابلاغ میں اس کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت‘ فلسطینی ہتھیاروں سے کم خطرناک نہیں ہیں‘‘۔بالمقابل ابومازن نے اسرائیلی جنگ بندی اور فلسطینی وزیراعظم احمدقریع ابوعلاء نے نقل و حرکت کی آزادی‘ اسرائیلی فوج کے محدود انخلااور اسی صورت حال کی بحالی کی بات کی ہے جو ستمبر ۲۰۰۰ء سے پہلے تھی۔
فلسطینی انتظامیہ کے لیے صہیونی زور و سفاکیت کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ اندرونی اختلافات ہیں۔ فلسطینی انتظامیہ کے کئی ارکان پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی ہیں۔ یاسر عرفات کی تعزیت کے لیے بلائے گئے ایک اجتماع میں محمود عباس کے ایک گارڈ کو قتل کر دیا گیا۔ ایک اور حادثے میں محمد دحلان کی گاڑی جلا دی گئی۔ محمد دحلان خود بڑا قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ امریکی و اسرائیلی بھی اسے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ اوسلو معاہدے کے بعد عرفات انتظامیہ میں داخلی امن و امان کا ذمہ دار تھا اور حماس و جہاد اسلامی کے خلاف تقریباً تمام کارروائیاں اس نے اور جبریل رجوب نے کی تھیں۔ اس کے اور اسرائیلیوں کے چاہنے کے باوجود فی الحال اس کے لیے قیادت کے دروازے نہیں کھل سکے۔
حماس نے خود کو اس ساری اندرونی کش مکش سے دور رکھا ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے صدارتی انتخابات میں وہ حصہ نہیں لے گی۔ البتہ بلدیاتی انتخابات میں ضرور حصہ لے گی تاکہ عوام کو روز مرہ خدمات فراہم کی جا سکیں۔ صہیونی انتظامیہ بدستور حماس کی قیادت پر قاتلانہ حملے کر رہی ہے۔ حال ہی میں دمشق میںاس کے ایک اہم کمانڈر کو شہید کر دیا گیا۔ خالد المشعل سمیت متعدد لیڈر تو اس کی ہٹ لسٹ پر ہیں ہی‘ اس کارروائی سے شام کو بھی پیغام دیاگیا ہے کہ صہیونی کارروائیوں کا دائرہ اب شام تک وسیع ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف فلسطین و مصر سرحد پر تین مصری فوجیوں کو ٹینکوں کے گولوں سے شہید کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ بعد میں معذرت کرتے ہوئے کہہ دیا گیا کہ یہ غلط فہمی سے ہواہے لیکن ایسی غلطیاں پہلے بھی کئی بار ہوچکی ہیں اور ان میں چھپا پیغام صرف ’’غلطیوں‘‘ کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔
تیسری طرف اُردن نے وہاں موجود فلسطینی مہاجر کیمپوں میں اچانک تعمیراتی کام شروع کروا دیے ہیں اور بلامانگے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ سرگرمی ان کیمپوں کو مستقل کرنے اور فلسطینی مہاجرین کو مستقل طور پر اُردن ہی میں رکھ لینے کے لیے نہیں ہیں‘ بلکہ فلسطینی مہاجرین کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہیں۔ واضح رہے کہ مسئلہ فلسطین کے صہیونی حل میں محدود فلسطینی علاقے میںمحدود تر خودمختاری دینے کے ساتھ ساتھ اُردن میں فلسطینیوں کا مستقل قیام بھی شامل ہے۔
اس تناظر میں آیندہ فلسطین میں مزید آزمایشیں اور سازشیں منہ پھاڑے آگے بڑھ رہی ہیں۔ امریکا اور اسرائیل یاسرعرفات کے وجود کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے رہے ہیں اور اب اس رکاوٹ کے ہٹ جانے سے وہ اپنے تمام اقدامات کی تکمیل خود فلسطینیوں کے ہاتھوں کروانے کے لیے بے تاب ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو خاکم بدہن خود فلسطینی فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگتے دکھائی دیں گے اور اگر محمود عباس اور ساتھیوں نے حماس اور دیگر جہادی قوتوں کے ساتھ مفاہمت و یک جہتی کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا تو نہ صرف سیاسی طور پر ان کے وزن و رسوخ میں اضافہ ہوگا بلکہ میدان میں بھی وہ اپنی کئی شرطیں تسلیم کروا سکیں گے۔ اس ضمن میں ایک بڑی ذمہ داری مسلم حکمرانوں کے سر عائد ہوتی ہے۔ اگر یہ ممالک فلسطینی اتحاد کی سعی کریں گے تو نہ صرف فلسطینیوں کے لیے اُمید کی شمع روشن کریں گے بلکہ اپنے مصائب میں بھی کمی کا سامان کریں گے۔
۱۱/۹ کے واقعات نہ ہوتے تو محترم قاضی حسین احمد کو دو سال پہلے ناروے آنا تھا۔ ۲۱ اگست سے شروع ہونے والے پانچ روزہ دورے سے واپس جاتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اگر اُس وقت یہ دورہ ہوجاتا تو شاید حالیہ پروگرام کا عشرعشیر بھی نہ ہوتا۔ اسلامک کلچرل سنٹرکے ذمہ دار بتارہے تھے کہ آج تک کسی مسلمان رہنما کو اس بڑے پیمانے پر کوریج نہیں دی گئی۔ ۲۱ اگست کو اوسلو پہنچنے پر تمام ٹی وی چینلوں نے ایئرپورٹ سے براہ راست ان کا استقبال دکھایا اور پھر ناروے کے قیام کے دوران کا ہر لمحہ ریکارڈ ونشر کیا۔ تمام اخبارات نے صفحہ اول کی بڑی بڑی شہ سرخیوں سے قاضی صاحب کی آمدوگفتگو کا ذکر کیا اور پھر علیحدہ علیحدہ مفصل انٹرویو بھی مکمل دو دو صفحات پر نشرکیے۔
قاضی صاحب کی ناروے آمد کا اعلان ہوتے ہی ناروے کے سب سے بڑے اخبار آفتن پوستن نے بڑی تصویر کے ساتھ شہ سرخی جمائی: اسامہ بن لادن کا پشتیبان اوسلو آرہا ہے۔ پھر ہر اخبار‘ ٹی وی اور ریڈیو نے قاضی صاحب کو خطرناک ترین انسان قرار دینے میں کسر نہ چھوڑی۔ ان کے ناروے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا اور حکومت یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ ہم مکمل تحقیقات کرنے کے بعد ہی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کریں گے۔
دورے کی مخالفت کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ ناروے شینگن (Shengen) ریاستوں کا رکن ہے اور اس سے پہلے دو شینگن ریاستیں ہالینڈ اوربلجیم قاضی حسین احمد کے اپنے ہاں آنے پر پابندی لگا چکی ہیں‘ اس لیے اب وہ ناروے بھی نہیں آسکتے۔ ہم نے اپنے میزبانوں اسلامک کلچرل سنٹر کے ذریعے نارویجین میڈیا کو اور اسلام آباد میں نارویجین سفارت خانے جاکر ان کے قائم مقام سفیر ایلف را مسلیم کو بھی بتایا کہ بلجیم کے سفیر خود قاضی صاحب کے پاس جاکر اور ہالینڈ کے سفارت کار راقم سے تفصیلی ملاقات میں بتا چکے ہیں کہ انھیں قاضی حسین احمد یا ان کے دورے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کے بعض اندرونی مسائل یورپین پارلیمنٹ کے انتخابات اور ان کی میزبان تنظیم یورپین عرب لیگ کے کچھ معاملات ہیں جن کے باعث ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس بار اپنا دورہ ملتوی کردیں‘ آیندہ آپ جب بھی جانا چاہیں گے ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا‘ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خود آپ کے میزبان ہوں۔
ہمیں ۲۱اگست کی صبح لاہور سے ناروے جانا تھا لیکن ۱۹اگست کی شام تک ناروے حکومت کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔ قاضی صاحب البتہ یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ چونکہ ناروے پاکستان معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج اگر ایک مخصوص لابی کے پروپیگنڈے کے دبائو میں آکر دورہ منسوخ کر دیا جائے تو اس سے پورے یورپ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اس مسلسل خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے کہ جب بھی کوئی مخصوص لابی ان میں سے کسی کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردے اس کے خلاف کارروائی عمل میں آجائے۔ اس لیے وہ بہرصورت ناروے جائیں گے۔
اسلامک کلچرل سنٹر ناروے کے صدر میاں وقاص وحید مسلسل رابطے میں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ذرائع ابلاغ روزانہ قاضی صاحب کے ایسے ایسے دوروں‘ انٹرویو اور بیانات کی جھلکیاں دکھا رہے تھے کہ جو اس سے قبل ہم نے نہیں دیکھی تھیں۔ لیکن الزامات اور صبح و شام چلنے والی مخالفانہ مہم کے باوجود ہمارے ساتھی خوفزدہ ہونے یا دبائو میں آنے کے بجاے مزید جوش و جذبے سے سرشار ہیں۔ خود کئی نارویجین ذمہ دار اور تنظیمیں قاضی صاحب کے ناروے آمد کے حق میں بیانات دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’’ایک جمہوری ملک میں اظہار راے پر پابندی کیوں کر لگائی جاسکتی ہے۔ ہمیں ان کی بات سننے کا موقع دیا جائے‘‘۔
۱۹ اگست کو بعد مغرب اسلام آباد سے ناروے کے سفیرکا فون آیا۔ وہ کہہ رہے تھے: ’’عزیز صاحب‘ مبارک ہو۔ ہماری وزیر مقامی حکومت نے ابھی کچھ دیر پہلے اوسلو میں ایک بھرپور پریس کانفرنس کی ہے۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ ’’قاضی حسین احمد کے ناروے آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اور یہ کہ میں خود بھی ان سے مل کر خواتین کے حقوق اور ناروے میں مقیم پاکستانی نژاد نارویجین کمیونٹی کے مسائل پر بات کروں گی‘‘۔
۲۱ اگست کی شام براستہ لندن اوسلو پہنچے تو پورا نارویجین میڈیا ایئرپورٹ پر موجود تھا۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان اور ناروے کے پرچم لیے کھڑی تھی جن میں سرفہرست برطانیہ سے اس پروگرام کے دوسرے مہمان خصوصی ہائوس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیراحمد اور معزز پاکستانی باشندے تھے۔ لارڈ نذیراحمد مغربی دنیا میں مسلمانوں کے بہت مؤثر وبلند بانگ ترجمان کے طور پر اُبھر رہے ہیں۔ جس پروگرام میں بھی جائیں‘ حاضرین کے دل موہ لیتے ہیں۔ لارڈ احمد برطانوی تاریخ کے وہ پہلے رکن پارلیمنٹ ہیں جنھوں نے اپنا حلف قرآن پاک پر اٹھایا ہے۔ اوسلو ایئرپورٹ پر ایک لاعلم صحافی کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک برطانوی لارڈ پاکستان سے آنے والے ایک خطرناک لیڈر کے استقبال کے لیے اپنے اہلِ وطن کے ہمراہ کھڑا ہے۔
قاضی صاحب نے استقبال کے لیے آنے والے تمام افراد سے فرداً فرداً مصافحہ کیااور پھر اپنی نشریات روک کر ایک ’’بنیاد پرست‘‘ لیڈر کی آمد کی خبر دینے والے ٹی وی کے نمایندوں اور صحافیوں سے مخاطب ہوئے: ’’میں پاکستان سے اپنے نارویجن دوستوں کے لیے امن‘ محبت اور دوستی کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ اسلام صرف پاکستانیوں یا مسلمانوں کے لیے نہیں‘ پوری انسانیت کے لیے سلامتی کا پیغام رکھتا ہے۔ اہلِ مشرق اور اہلِ مغرب کے درمیان اختلاف رائے ہوسکتا ہے لیکن یہ اختلاف بھی انسانی معاشرے کی بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔ میں چند روز کے لیے ناروے میں ہوں۔ اس دوران آپ سب سے تفصیلی ملاقات اور تبادلۂ خیال ہوگا۔ میرے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں‘ میں ان سب کی وضاحت کروں گا‘‘۔
اتوار کی شام تحفظ پاکستان کانفرنس تھی۔ آغاز سے پہلے ہی اوسلو کے قلب میں واقع بڑے آڈیٹوریم کی نشستیں اور راہداریاں تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگیں۔ آغاز میں بچوں نے تلاوت‘ نعت اور ترانوں پر مشتمل پروگرام پیش کیا۔ لارڈ نذیراحمد نے اپنے گرم جوش خطاب میں امریکا اور مغربی ممالک کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ اپنی گفتگو کے آغاز میں انھوں نے کئی سیاسی لطیفے بھی سنائے جن میں سے ایک یہ تھا کہ جہنم کے دروازے پر بہت سی گھڑیال لگے تھے۔ فرشتے سے پوچھا گیا کہ یہ گھڑیال کیا ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ انسانوں کے جھوٹ کا پیمانہ ہے‘ جونہی کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس کے گھڑیال کی سوئیاں جھوٹ کے درجے کے مطابق چلنے لگتی ہیں۔ دریافت کیا گیا کہ صدر بش کا گھڑیال کہاںہے؟ فرشتے نے جواب دیا: وہ اتنا تیز چل رہا ہے کہ ہم اسے پنکھے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
لارڈ نذیر احمد نے یورپ میں مقیم مسلمانوں کی طرف سے کہا کہ یورپ میں بسنے والے مسلمان یہاں کے برابر کے شہری ہیں۔ انھیں ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ انھیں دوسرے درجے کے شہری ہی قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان کو زیادہ اہم مقام ملنا چاہیے کیونکہ انھوں نے یورپ کی تعمیروترقی کے لیے زیادہ محنت اور جدوجہد کی ہے۔
محترم قاضی حسین احمد نے انتہائی مصروف پانچ دن گزارے‘ تحفظ پاکستان کانفرنس میں کلیدی خطاب کیا‘دیگر متعدد خطابات کیے جن میں اوسلو یونی ورسٹی میں مسلم اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے زیراہتمام ’مقصد زندگی‘ کے عنوان سے لیکچر‘ ناروے میں مقیم عرب کمیونٹی کے ادارے رابطہ اسلامی کے مرکز میں ’اسلام اور مغرب‘ کے عنوان سے خطاب اور پاکستانی چنیدہ افراد کی عشایئے اور سنٹر کے ارکان و کارکنان کے اجتماعات کے خطاب شامل تھے۔ ان میں اسلام‘ پاکستان جماعت اسلامی‘ متحدہ مجلس عمل اور عالمِ اسلام سے متعلق پائے جانے والے تمام اشکالات و سوالات کا جواب دیا۔ انھوں نے مقصد بعثت نبویؐ کا حقیقی مقصد قیامِ عدل و انصاف کو واضح کیا اور دورحاضر میں پائی جانے والی بے انصافیوں اور اس ضمن میں دُہرے معیاروں کا ذکر کیا کہ فلسطین اور کشمیر میں تو ہزاروں انسانوں کا قتل عام کرنے والوں کی مکمل پشت پناہی کی جاتی ہے لیکن الزامات عالمِ اسلام اور خاص طور پر اہلِ اسلام پر دھرے جاتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں۔ بات دنیا کو دہشت گردی سے پاک امن کا گہوارہ بنانے کی کی جاتی ہے لیکن کلچر اور تہذیب وہ عام کیا جا رہا ہے کہ لوگ دین سے دُور ہوں اور جرائم کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں۔ ہزاروں چینل صرف عریانی اور جرائم پر مشتمل پروگرام دکھاتے ہیں۔
قاضی صاحب نے اس دور میں پائی جانے والی بے انصافیوں اور انسانیت کو درپیش خطرات کا بھی ذکر کیا کہ روح انسانی اضطراب کا شکار ہے۔ جرائم اور دہشت گردی میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ انسان نے خود کو خدا قرار دے لیا ہے۔ اللہ کے نظام کے بجاے خواہشات کا نظام مسلط کیا جا رہا ہے اور پوری دنیا پر قبضے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
سوالات بہت متنوع تھے لیکن لیکچر کے بعد کے سوالات ہوں یا پریس کانفرنس کے وزرا کی ملاقاتیں ہوں‘ یا ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ذمہ داران کی‘ سب کا محور وہی گھساپٹا پروپیگنڈا تھا جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ یونی ورسٹی لیکچر میں جنسی آوارگی اور فحاشی وبہیمیت کے علم بردار کچھ لوگ بہت تیاری سے آئے تھے۔ ہال کے مختلف کونوں میں بیٹھے ان مختلف العمر لوگوں نے ایک ہی جیسے سوالات کیے۔ قاضی صاحب نے ان سوالات کو ناشائستہ قرار دے کر ان کا جواب نہیں دیا لیکن ان سوالات نے پورے مغربی معاشرے کو ننگا کر دیا۔ دنیا کو نظام اور انسانی حقوق کا درس دینے والے اور اسلام کو دہشت گردی کے مترادف قرار دینے والے اس بات پر مصر ہیں کہ مردوں کو مردوں سے اور عورتوں کو عورتوں سے شادیاں کرنے کی آزادی ہی نہیں قانونی حق دیا جائے۔
مقامی حکومتوں کی وزیر ارنا سولبرگ سے ملاقات بہت مفید اور دل چسپ رہی۔ یہ خاتون وزیر نارویجی حکومت میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ سفیر بتا رہے تھے کہ اگر آیندہ انتخابات میں ان کی پارٹی جیت گئی تو ہو سکتا ہے وہ وزیراعظم بن جائیں۔ انھوں نے کہا کہ جو پاکستانی بچے ناروے میں پیدا ہوئے‘ پلے بڑھے اور نارویجی شہری قرار پائے ان کے رہن سہن‘ کلچر اور مسائل کو پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے۔ قاضی صاحب نے ان کی بات سے اصولی اتفاق کیا اور کہا کہ نارویجی معاشرے اور حکومت کو ان بچوں کے والدین کو بھی یہ حق دینا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی اپنے دین اور مذہب کے مطابق تربیت دے سکیں۔ ناروے میں تو الحمدللہ ہماری بچیوں کو شکایت نہیں‘ لیکن اگر فرانس میں بچیوں کو سر پر اسکارف رکھنے اور حجاب کی اجازت نہیں دی جائے گی تو یہ دوسروں کی مذہبی آزادی سلب کرنا ہی قرار پائے گا۔
سابق وزیراعظم‘ سابق وزیرخارجہ اور پارلیمنٹ میں خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سے تفصیلی ملاقات میں دہشت گردی کیا ہے‘ کیوں ہے‘ کشمیر‘فلسطین اور چیچنیا و عراق‘ افغانستان میں ریاستی دہشت گردی سے دنیا کو کیا کیا خطرات لاحق ہوگئے ہیں جیسے موضوعات پر بھی بات ہوئی۔
ناروے حقوق انسانی کے حوالے سے اس وقت دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے‘ جہاں بے روزگار بھی بے روزگار نہیں ہوتا‘ حکومت وظیفہ دیتی ہے۔ انسان تو انسان حیوانات کے حقوق بھی طے ہیں۔ ایئرپورٹ جاتے ہوئے جمیل بھائی نے ایک پُل دکھاتے ہوئے کہا کہ مرکزی سڑک پر بنا یہ پُل انسانوں کے لیے نہیں ہے۔ دونوں طرف واقع جنگلات کے جانوروں کے لیے ہے۔ جنگلات سے درخت کاٹنا یا جانور شکار کرنا قطعاً ممنوع ہے۔ اگر کوئی درخت کاٹنا ناگزیر ہو تو اسی تعداد میں دوبارہ درخت لگانا پڑتے ہیں۔
تعلیم اور تعلیمی اداروں کی دیکھ بھال سب کی ترجیح اول ہے۔ ایک اسکول کے قریب سے گزرے تو سڑک ڈیڑھ کلومیٹر لمبی سرنگ میں بدل گئی۔ معلوم ہوا کہ اس اسکول کے بچوں نے ایک دن ہڑتال کرکے مطالبہ کیا کہ شور‘ آلودگی اور ٹریفک سے طلبہ متاثر ہوتے ہیں۔ حکومت نے مطالبہ فوراًتسلیم کرلیا اوریہاں سڑک کے بجاے ڈیڑھ کلومیٹر کی سرنگ بنا دی گئی۔ محترم قاضی صاحب فرمانے لگے یہاں یہ عالم ہے اور ادھر پنجاب یونی ورسٹی جیسے عظیم ادارے کے طلبہ و طالبات کے لیے موجود چند پُلوں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے تاکہ گاڑیاں تیز رفتاری سے گزر سکیں۔
ناروے کے نظام ‘ معاشرتی اقدار و روایات سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ امیرجماعت کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کی ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے۔
جنوبی سوڈان کی بغاوت کے بعد اب مغربی سوڈان خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ صوبہ دارفور میں ہنگاموں کا آغاز فروری ۲۰۰۳ء میں ہوا تھا۔ لیکن اس وقت امریکا سمیت دنیا کے کسی ملک نے ان کا ذکر نہیں کیا‘ کیونکہ تب امریکا سوڈانی حکومت کے ساتھ جنوبی علیحدگی پسندوں کا معاہدہ کروانے میں مصروف تھا۔ اس اثنا میں متعدد بار امریکی ذمہ داران نے سوڈانی حکومت کی وسیع النظری اور حقیقت پسندی کی تعریف کی‘ سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی بات آگے بڑھائی۔ یہ تجویز بھی زیربحث آئی کہ جنوبی باغیوں سے معاہدہ ہوجائے تو اس پر دستخط کرنے کے لیے فریقین واشنگٹن آجائیں تاکہ خود صدر بش اس معاہدے کو اپنی آشیرباد و ’’برکات‘‘ سے نوازیں۔ اس دوران باغیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری رہیں۔ دھمکیاں‘ لالچ‘ تعریفیں سب دائو آزمائے گئے۔ پھر جیسے ہی کینیا میں دو سال کے طویل مذاکرات کے بعد مئی ۲۰۰۴ء میں طرفین کے درمیان معاہدہ ہوگیا‘ تو دارفور دنیا کا خطرناک ترین مقام بن گیا۔ اقوام متحدہ کے نمایندہ براے سوڈان موکایش کابیلا کے الفاظ میں: ’’دارفور میں حقوق انسانی کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی آفت ٹوٹ پڑی ہے‘‘۔
۲۹ جون کو امریکی وزیرخارجہ ۱۹ سال کے بعد پہلی بار سوڈان گیا تو اس نے بیان دیا: ’’اگر دارفور میں عرب ملیشیا کو نہ کچلا گیا تو سلامتی کونسل کے ذریعے کارروائی کریں گے‘‘۔ یعنی‘ سوڈان پر پابندیاں عائد کر دیں گے‘ فوج کشی کریں گے۔ امریکی مفادات کی محافظ اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل کوفی عنان بھی اگلے روز خرطوم پہنچا اور اس نے بھی لَے میں لَے ملائی: ’’سوڈانی حکومت متاثرین تک مغربی امدادی ٹیمیں نہیں پہنچنے دے رہی‘‘۔
صوبہ دارفور سوڈان کے کل رقبے (۲۵ لاکھ کلومیٹر مربع) کا پانچواں حصہ ہے یعنی‘ ۵لاکھ ۱۰ہزار کلومیٹر مربع۔ سوڈان کے مغربی کنارے پر واقع ہونے کے باعث اس کی سرحدیں لیبیا‘ چاڈ اور جمہوریہ وسطی افریقا سے ملتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو افریقی النسل اور وہاں کی اصل آبادی اور کچھ کو عربی النسل اور بعد میں آنے والے کہا جاتا ہے۔ دارفور جنوبی سوڈان سے یوں مختلف ہے کہ صوبے کی ۹۹ فی صد آبادی مسلمان ہے اور ایک سروے کے مطابق آبادی کے تناسب کے اعتبار سے دنیا میں حفاظ کرام کی سب سے زیادہ تعداد اس صوبے میںہے۔ صوبے کی زبوں حالی‘ فقر اور بھوک کے باعث تقریباً ہر موسم باراں میں قبائل کا آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے۔ گلہ بانی وہاں کا بنیادی پیشہ ہے۔ سوڈان میں کثیر تعداد میں پائی جانے گائیوں کا ۲۸ فی صد حصہ دارفور میں ہے‘ جن کی تعداد دو کروڑ ۸۰ لاکھ گائیں بنتی ہے۔ بارش کے بعد چراگاہوں پر جھگڑا معمول کی بات ہے۔ دارفور کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ مہدی سوڈانی کی تحریک میں پوری کی پوری آبادی نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ اس کے بعد بھی دارفور کو ہمیشہ مہدی خاندان اور ان کی پارٹی ’حزب الامۃ‘ کا گڑھ سمجھا گیا۔ لیکن صوبے کی کسمپرسی اور قبائلی جھگڑوں کے خاتمے کے لیے نہ صادق المہدی حکومت کچھ کر سکی اور نہ ان سے قبل یا ان کے بعد کی حکومتیں۔
اس دوران وہاں مختلف سیاسی قوتیں ظہور پذیر ہوتی گئیں۔ ’تحریک آزادی سوڈان‘ کے نام سے باغیانہ عناصررکھنے والے پارٹی منی ارکون بیناوی کی زیرقیادت وجود میں آئی۔ ’تحریک انصاف و مساوات‘ کے نام سے خلیل ابراہیم کی سربراہی میں ایک پارٹی بنی‘ جس کے بارے میں کہا گیا کہ صدر بشیر سے علیحدگی کے بعد ڈاکٹر حسن ترابی اس کی حمایت کر رہے ہیں اور خلیل ابراہیم ڈاکٹر ترابی کے شاگرد و معتقد ہیں۔ لیکن سب سے بڑا گروہ عرب قبائل سے متعلق ان لوگوں کا بنا جن کی شہرت ’جنجوید‘ کے نام سے ہوئی۔ یہ تین الفاظ کا مجموعہ ہے‘ جن: شخص‘ جاو: G3 سے مسلح‘وید: گھڑسوار یعنی‘ G3گن سے مسلح گھڑسوارآدمی۔ امریکا سمیت تمام عالمی قوتیں سوڈانی حکومت پر الزام لگا رہی ہیں کہ:’ ’حکومت افریقی قبائل کے خاتمے کے لیے عرب جنجوید کو مسلح کر رہی ہے اور جنجوید نے بڑے پیمانے پر قتل عام کر کے لاکھوں افریقی قبائل کو بے گھر کر دیا ہے‘ اور وہ اب چاڈ اور سوڈان کے مہاجر کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔ کہا گیا کہ سوڈانی حکومت نے خود بھی جہازوں اور توپوں کے ذریعے بم باری کی ہے‘قتل عام کی مرتکب ہوئی ہے‘ اور اب عالمی امدادی تنظیموں کو امدادی سامان لے جانے سے روک رہی ہے اور یہ کہ جب تک جنجوید کا خاتمہ نہیں ہوجاتا‘ یورپی امدادی تنظیموں کو کھلی چھٹی نہیں دی جاتی۔ ’فاشر‘ اور ’نیالا‘ (شمال دارفور اور جنوب دارفور کے دارالحکومت) کی تعمیر و ترقی نہیں کی جاتی۔ سوڈان کے خلاف ہر ممکن کارروائیاں کی جاسکتی ہیں‘‘۔
سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے انقلاب کی پندرھویں سالگرہ پر ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’دارفور کا مسئلہ ہماری حکومت وجود میں آنے سے پہلے کا ہے اور ہم (جنوب کی جنگ میں جلتے رہنے اور اپنے خلاف اقتصادی پابندیوں کے باوجود) اس کے حل کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ’جنجوید‘ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف لٹیروں اور ڈاکوئوں کا ایک گروہ ہے اور حکومت ان سے بھی اسی طرح جنگ کرے گی جیسے کسی بھی دوسرے باغی سے‘‘۔ انھوں نے یہ بھی کہا: ’’لیکن ہمیں یہ نہ سمجھایا جائے کہ ہم صرف عرب قبائل کو تو اسلحے سے پاک کردیں اور دوسروں کو رہنے دیں۔ ہم بلااستثنا ہر قانون شکن سے ہتھیار چھین کر رہیں گے‘‘۔ انھوں نے اس بات کی بھی نفی کی کہ دارفور میں (امریکی دعوے کے مطابق) نسلی تطہیر کی کوئی کارروائی جاری ہے۔ صدربشیر نے نام لیے بغیریہ الزام بھی لگایا کہ ’’بیرونی ہاتھ اب سوڈان میں ایک نیا فتنہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور دارفور کے بہانے سوڈان میں وسیع تر مداخلت چاہتے ہیں‘‘۔
باغیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں جو اسلحہ برآمد ہوا ہے‘ وہ اسرائیل کا بنا ہوا ہے۔ اسرائیل اس سے قبل جنوبی باغیوں اور پڑوسی ممالک کو بھی بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کرچکا ہے۔ امریکا بھی دارفور کے ذریعے سوڈان میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے۔ مصری اخبارات نے بعض سوڈانی سیاست دانوں کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ کولن پاول نے اپنے دورہ خرطوم میں یہ ’’فراخ دلانہ‘ تجویز دی کہ’ ’دارفور میں امن قائم کرنے کے لیے امریکا اپنے ۲۵ ہزار فوجی سوڈان بھیجنا چاہتا ہے‘‘۔ تجزیہ نگاروں کے بقول اس سے ایک طرف تو امریکا سوڈان کے حال ہی میں دریافت ہونے والے پٹرول میں سے اپنا حصہ لینا چاہتا ہے۔ جس کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے باعث آیندہ پانچ سال میں اس کی روزانہ پیداوار ۲۰لاکھ بیرل ہوجائے گی۔ دوسری طرف عراق و افغانستان میں درپیش نقصانات سے توجہ ہٹانے میں مدد ملے گی اور آیندہ امریکی انتخابات میں بش کاایک یہ کارنامہ بھی بیان کیا جا سکے گا کہ اس نے سوڈان میں افریقی قبائل کو امن لے کر دیا‘ اس لیے اب امریکی سیاہ فام ووٹ کا حق دار ہے۔ کولن پاول کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے سوڈانی وزیرخارجہ مصطفی عثمان اسماعیل نے بیان دیا کہ ’’اگر تو پاول کا دورہ دارفور میں ایک انسانی بحران میں قابو پانے میں مدد دینے کے لیے ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ دورہ عالمی برادری کو ہمارے خلاف لاکھڑا کرنے یا امریکا کے انتخابی معرکے میں کامیابی کی خاطر ہے تو اس سے نہ تو دارفور کو کوئی فائدہ ہوگا اورنہ دوطرفہ تعلقات کو‘‘۔
امریکی پالیسی کے قطب نما معروف ادارے انٹرنیشنل کرائسس گروپ ICG نے ۹مئی کو اپنی ایک رپورٹ میں سوڈانی حکومت کو دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ: ’’دارفور جنگ نہ صرف سوڈان اور چاڈ کی حکومتوں کے لیے بالواسطہ خطرہ ہے بلکہ اس میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ اس سے سوڈان کے باقی علاقوں میں بھی بغاوت بھڑک اٹھے… یہ بھی ممکن ہے کہ سوڈان کے مشرق و مغرب میں ایسی مزید باغی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوں‘‘۔ اس کے بعد اس ادارے نے کچھ تجاویز سوڈان حکومت کو دی ہیں‘ جن میں سرفہرست عالمی نگرانی اور عالمی امدادی تنظیموں کو شورش زدہ علاقوں میں بلاروک ٹوک جانے کی ضمانت دینا اور جنجوید کا خاتمہ ہے۔ پھر سلامتی کونسل کے لیے سفارشات ہیں کہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مذمت کرے اور عالمی مذاکرات کا اہتمام کرے اور پھر امریکا ‘برطانیہ‘ اٹلی اور ناروے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مزید عالمی دبائو کے ذریعے ان تمام رکاوٹوں کو ختم کرے جو دارفور میں انسانی عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی راہ میں آڑے آتی ہیں‘‘۔ ان ممالک سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ وہ ’’فرانس اور چاڈ کو شامل مشورہ رکھیں‘‘۔
اگرچہ ان سفارشات‘ بیانات اور دھمکیوں کے ساتھ ہی ساتھ امریکا اور حواریوں نے اس وضاحت کی کوشش بھی کی ہے کہ وہ سوڈان کے خلاف لشکرکشی نہیں چاہتے‘ لیکن یورپی یونین کی عسکری کمیٹی کے سربراہ فن لینڈ کے جنرل گوسٹاف ہاگلان نے یہ بیان دے کر ’غلط فہمی‘ دُور کردی کہ ’’یورپی فوجی قوت صوبہ دارفور میں داخل ہو سکتی ہے‘‘۔
اس طرح سوڈان کے خلاف اب ایک نیا خطرناک اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ جنوبی علیحدگی پسندوں کے ساتھ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ’ ’اگر جنوبی حلیف معاہدے سے مطمئن نہ ہو سکے تو حق خودارادی استعمال کرتے ہوئے چھے سال کے بعد ریفرنڈم کے ذریعے سوڈان سے علیحدہ ہوسکیں گے‘‘۔ جنوبی سوڈان کا رقبہ سوڈان کا ایک چوتھائی ہے۔ یعنی دارفور اور جنوب مل کر سوڈان کا نصف رقبہ بنتے ہیں اور اس نصف کو شورش زدہ کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ICG کے ’خدشات‘ کی روشنی میں مشرقی سوڈان کے ’البجا‘ اور شمالی سوڈان کے ’الکوش‘ قبائل کو بھی باور کروایا جا رہا ہے کہ تم تو بہت مظلوم و محروم قبائل ہو‘ جب کہ خرطوم میں بیٹھے حکمران پٹرول کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔
سوڈان کے خلاف دن بدن تنگ کیا جانے والا گھیرا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن دو متضاد وجوہات نے اس کی سنگینی و اہمیت میں انتہائی اضافہ کر دیا ہے۔ ایک وجہ تو سوڈان کی کمزوری کا ہے کہ بدقسمتی سے انقلاب کی بانی قیادت صدر عمرحسن البشیر اورڈاکٹر حسن ترابی میں اختلافات حتمی قطع تعلقی اور جنگ کی کیفیت تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ اب بھی ڈاکٹر ترابی اپنے کئی ساتھیوں سمیت جیل میں محبوس ہیں اوران پر بغاوت کا الزام لگا دیا گیا ہے۔ سب اپنے پرائے اس پر متفق ہیں کہ اس لڑائی سے (اس میں خواہ کتنے ہی اصولی اختلافات ہوں) طرفین ہی نہیں سوڈان کمزور ہوا ہے اور دشمن اس پر جھپٹنا پہلے سے آسان سمجھتا ہے۔ دوسری وجہ سوڈان کی قوت کا باعث ہے کہ گذشتہ چند سال میں چین اور سوڈان کے تعاون سے دریافت ہونے والے پٹرول کی مقدار و معیارنے امریکا سمیت سب کی رال ٹپکا دی ہے۔ بھارتی بنیا بھی وہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔
دارفور‘ جنوبی سوڈان اور قبائلی اختلافات کی آڑ میں امریکا و یورپ کی حتی المقدور کوشش یہی ہوگی کہ تقسیم سوڈان کا ہوا دکھا کر وہاں زیادہ سے زیادہ رسوخ و مداخلت ممکن بنائی جائے خواہ اس کے لیے فوج کشی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ انھیں سوڈان کے اندرونی حالات سے زیادہ شہ اس بات سے مل رہی ہے کہ ان حالات سے براہِ راست متاثر ہونے والے ملک مصر سمیت تمام مسلم ممالک‘ اس ساری صورت حال سے لاتعلق بیٹھے ہیں۔
دونوں کا بچپن محرومی سے عبارت تھا۔ احمد ۱۹۳۶ء میں پیدا ہوا۔ بمشکل چار برس کا تھا کہ والد یاسین اسماعیل اللہ کو پیارے ہوگئے۔ چھ بہنوں اور تین بھائیوں میں سے احمد سب سے چھوٹا تھا۔ بڑے بھائی نے پڑھائی چھوڑ کر محنت مزدوری شروع کی۔ بہنوں اور بھائی کو پڑھانا چاہا۔ احمد ابھی چوتھی کلاس میں تھا کہ اسرائیلی فوج نے آبائی گائوں ’الجورہ‘ سے نکال باہر کیا ۔لٹا پٹا خاندان غزہ میں ساحل سمندر پر واقع مہاجر کیمپ میں پناہ گزین ہوا اور غربت کے ساتھ ساتھ مہاجرت و آزمایش کا نیا دور شروع ہوگیا۔
عبدالعزیز ۲۳ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو پیدا ہوا۔ سات ماہ کا بھی نہیں ہوا تھا کہ ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء کو اسرائیلی فوج نے عسقلان اور یافا کے درمیان واقع آبائی گائوں یبنا پر بم باری کر دی۔ آٹھ بھائیوں اور دو بہنوں پر مشتمل آل رنتیسی کا کنبہ خانیونس مہاجر کیمپ میں پناہ گزین ہوا۔ پیٹ پالنے کے لیے بڑے بھائی نے حجام سے لے کر اینٹیں ڈھونے تک ہر طرح کی مزدوری کی اور عبدالعزیز نے بھی مزدوری کے کسی کام میں عار نہیں سمجھی۔ گولر کے بے قیمت پھل بھی بیچے اور قریبی قصبے سے صابن بھی لاکر بیچا۔ ۱۵ برس کے تھے کہ یتیم ہوگئے۔ ساری ذمہ داری بڑے بھائی پر آن پڑی‘ عبدالعزیز نے بھی پوری طرح ہاتھ بٹایا۔
احمد اور عبدالعزیز دونوں بچے بیوہ ماں اور بھائی بہنوں کا پیٹ پالنے کے لیے مزدوری کرتے تھے۔ لیکن قدرت دو مختلف مہاجر کیمپوں میں حالات کے تھپیڑے سہتے ان دو یتیموں کو اُمت کی قیادت کے لیے تیار کر رہی تھی۔ دونوں کے سرپرست ان کے بڑے بھائی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے بچپن سے ہی ہمیں اندازہ ہوتا تھا کہ ’’مستقبل میں ان کا بڑا مقام ہوگا‘‘۔
احمد الشاطی مہاجر کیمپ کے اسکول بھی جانے لگا۔ ۱۶ سال کا تھا کہ ایک روز ساحل سمندر پر ورزش کرتے ہوئے سر کے بل گرا‘ گردن کے مہرے ٹوٹ گئے‘ ۴۵ دن تک پلستر میں جکڑا رہا۔ پلستر کھلا تو معلوم ہوا کہ نیم معذوری مستقلاً لاحق ہوگئی ہے۔ یہی نیم معذوری بعد میں بڑھتے بڑھتے گردن سے نچلے دھڑ کے مکمل فالج میں بدل گئی۔ احمد کو ساحل سے اٹھا کر ہسپتال پہنچانے والے ان کے دوست اور عم زاد کویت میں ہوتے ہیں۔ انھوں نے راقم کو بتایا کہ پلستر کھلنے کے بعد احمد یاسین پھدک پھدک کر اور ہاتھ قدرے پھیلا کر چلاکرتے تھے۔ ہم ہمجولی کبھی ان کا مذاق بھی اڑاتے‘ لیکن اس نے تعلیم کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دیا یہاں تک کہ ۱۹۵۸ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پہلی پوزیشن سے پاس کر لیا۔
احمدیاسین کے بڑے بھائی کہتے ہیں کہ اساتذہ کی بھرتی شروع ہوئی تو ۱۵۰۰ امیدوار پیش ہوئے۔ احمد یاسین نے بھی انٹرویو دیا‘ راستے میں ایک شخص نے کہا: تم اپاہج ہو‘ تدریس نہیں کر سکتے۔ احمد یاسین نے مسکرا کر کہا: ’’وفی السماء رزقکم وما توعدون‘ تمھارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ آسمانوں میں ہے‘‘۔ انٹرویو لینے والے بورڈ نے توقع کے مطابق احمد یاسین کو ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ چند روز نہ گزرے تھے کہ دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ ایک اجنبی نے آکر کہا: احمدیاسین فوراً فلسطین اسکول پہنچے۔ ہم وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ غزہ کے گورنر نے احمد یاسین کی بطور مدرس تقرری کے احکامات جاری کیے ہیں۔
یتیم احمد اب استاد احمدیاسین تھا۔ تعلیمی و تربیتی دور شروع ہوا۔ ملازمت تو براے نام تھی۔ جو تنخواہ ملتی‘ احمد یاسین آدھی محتاجوں میں بانٹ دیتے اور آدھی گھر لے آتے۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ کوئی سائل آجاتا اور وہ باقی آدھی بھی انھیں دے دیتے۔ اہلیہ پوچھتیں: سب کچھ بانٹ دیا؟ ہمارے لیے کچھ بھی نہیں بچا؟ احمدیاسین مسکراتے ہوئے اپنا معروف جملہ کہہ دیتے: ’’اللّٰہ المستعان، اللہ ہمارے لیے بھی بھیج دے گا‘‘۔ تعلیم و تربیت اور معاشرے کی حقیقی خیرخواہی سے ہی احمد یاسین مدرس سے مربی اور مربی سے قائد بنتے چلے گئے۔
عبدالعزیز نے بھی مزدوری کے ساتھ ہی ساتھ پڑھائی پر پوری توجہ دی۔ ۱۹۶۲ء میں والد کی وفات کے بعد بھائی نے حجام کا کام شروع کر دیا‘ لیکن گھر کا چولہا پھر بھی اکثر ٹھنڈا رہتا تھا۔ ۱۹۶۴ء میں بھائی مزدوری کرنے کے لیے سعودی عرب چلے گئے۔ اس دن کا ذکر کرتے ہوئے‘ عبدالعزیز رنتیسی لکھتے ہیں: ’’نماز فجر کے بعد ہم والدہ کے ہمراہ بھائی جان کو خدا حافظ کہنے کے لیے مہاجرکیمپ سے غزہ ریلوے اسٹیشن کی طرف چلے۔ میں اس وقت ہائی اسکول میں داخلہ لینے والا تھا۔ داخلے کی تیاری کے لیے میں نے چند ٹکے جمع کر کے استعمال شدہ بوٹ خریدے تھے۔ اس وقت بھی میں نے وہی بوٹ پہنے ہوئے تھے۔ اچانک امی کی آواز آئی: بیٹے! آپ کے بھائی جان ننگے پائوں سعودی عرب جا رہے ہیں‘ اپنے جوتے انھیں دے دو اور میں جوتے بھائی کو دے کر ننگے پائوں اسٹیشن سے کیمپ آگیا‘‘۔
عبدالعزیز کی والدہ بھی ایک باہمت‘ دبنگ خاتون تھیں۔ شوہر کی وفات کے بعد خود بھی کھیتوں میں مزدوری شروع کر دی اور بچوں کی تعلیم جا ری رکھی۔ عبدالعزیز نے بھی احمدیاسین کی طرح انٹرمیڈیٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسی بنیاد پر مہاجرین کی مدد کرنے والے ادارے اونروا نے ان کے لیے مصر سے اسکالرشپ حاصل کی اور عبدالعزیز فلسطین کے مہاجر کیمپ سے مصر کے شہر اسکندریہ کے میڈیکل کالج پہنچ گئے۔ ۱۹۷۶ء میں عبدالعزیز تعلیم مکمل کر کے واپس غزہ پہنچے تو وہ ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی تھے۔
سات ماہ کی عمر میں بے گھر ہونے کے بعد سے عبدالعزیز رنتیسی یہودی مظالم مسلسل دیکھتے چلے آ رہے تھے۔ مصر میں قیام کے دوران‘ دکھ اور یہودیوں سے نفرت کا الائو‘ اخوان المسلمون کے نظام دعوت و تربیت کے باعث ایک مقصد اور تحریک میں ڈھل گیا۔ ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی نے غزہ جاکر معاشرے کے ہر محتاج کی خدمت اپنا فرض گردانا۔ وہ بچوں کے خصوصی معالج تھے۔ مریضوں سے فیس لیے بغیر‘ کئی کئی کلومیٹر پیدل جاکربدوی قبائل کا مفت علاج کیا کرتے تھے۔
ڈاکٹر رنتیسی اپنی ایک یادداشت میں لکھتے ہیں: ’’میں بچپن ہی سے یہودیوں کے مظالم کا عینی شاہدہوں۔ آبائی گائوں سن ادراک پہلے ہی یہودیوں نے ہتھیا لیا تھا۔ میں اب بھی اپنے گائوں سے گزرتے ہوئے وہ دو منزلہ گھر دیکھتا ہوں جس کے اردگرد میرے والد مرحوم کے ہاتھوں کے لگے مالٹے کے درخت اب پھل دے رہے ہیں‘ لیکن میں اپنے گھر میں نہیں جاسکتا۔ اس پر یمن سے لائے گئے ایک یہودی خاندان کا قبضہ ہے۔ پھر ۱۹۵۶ء میں جب مصر پر اتحادی افواج نے حملہ کیا تو خانیونس کیمپ پر بھی حسب عادت دھاوا بولا گیا۔ میرے اکلوتے‘ سگے چچا حامد رنتیسی بھی اسی کیمپ میں ہمارے قریب رہتے تھے۔ یہودیوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ فوجیوں نے ان پر بندوق تانی تو ان کا نوسالہ بیٹا ابا‘ ابا چلاتے باپ سے لپٹ گیا۔ ظالم پھر بھی نہیں پسیجے اور دونوں پر فائر کھول دیا‘ چچاشہید ہوگئے اور نوسالہ موفق شدید زخمی۔ پھر دشمن ساتھ والے گھر گئے اور اہل خانہ کو دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے شہید کردیا۔ اس ایک روز میں صہیونی فوجوں نے ۵۲۵ فلسطینی شہری شہید کیے‘ یہاں تک کہ سڑکوں پر لاشوں کا تعفن پھیل گیا‘‘۔
ڈاکٹر رنتیسی انھی زخموں کو دل میں سجائے غزہ کے ہر زخمی دل اور بیمار جسم کا علاج کرنے میں جُت گئے۔ ہر آنے والا دن ان سے محبت کرنے والوں اور سرزمین اقصیٰ پر قابض صہیونی افواج سے آزادی کے لیے ان کی جہادی پکار پر لبیک کہنے والوں میں اضافے کا دن ہوتا۔
دوسری طرف استاذ احمد یاسین بھی غزہ میں اخوان المسلمون سے سیکھا سبق‘ نئی نسل کو منتقل کر رہے تھے۔ صہیونی استعمار نے فلسطین پر قبضے کے بعد سب سے زیادہ توجہ فلسطینیوں میں دین بیزاری کی تحریک عام کرنے پر دی تھی۔ ۵۰کی دہائی میں کہ جب ناصریت کی لہر عروج پر تھی۔ دینی تعلیمات پر عمل کو عیب‘ قابل تضحیک اور باعث تذلیل بنا دیا گیا تھا۔ استاذ احمد یاسین نے اس طوفان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا: ہمارا اور یہودیوںکا اصل جھگڑا آیندہ نسلوں پر ہے۔ یا تو یہودی انھیں ہمارے ہاتھوں سے چھین کر ہمیں شکست دے دیں گے‘ یا پھر ہم اپنی نسلوں کو یہودیوں کے پنجے سے چھین کر یہودیوں کو شکست سے دوچار کر دیں گے‘‘۔ اس محاذ پر استاذ احمد یاسین کو بہت سے معرکے پیش آئے۔ ایک بار استاذ کے پڑوس کے گھر سے چار جوان لڑکیوں کا انتخاب کیا گیا کہ وہ غزہ کی سرکاری تقریبات میں رقص پیش کریں گی۔ استاذ ان کے اہل خانہ کے پاس گئے‘ تذکیر و نصیحت کی تو والدین نے فیصلہ کرلیا کہ بچیوں کو نہیں بھیجیں گے۔ اس پر انھیں کالج انتظامیہ کی طرف سے دھمکی دی گئی کہ بچیاں نہ آئیں تو نام کاٹ دیا جائے گا۔ استاذ احمد یاسین نے بچیوں کے والدین اور اہل محلہ کے ہمراہ جاکر غزہ کے فوجی ہیڈ کوارٹر میں کہا کہ اگر ان طالبات کا نام خارج کیا گیا تو پورا الشاطی مہاجر کیمپ کل احتجاجی مظاہرہ کرے گا۔ نتیجتاً فوراً پرنسپل کی جواب طلبی کی گئی اور رقص کی تقریب منسوخ کر دی گئی۔
استاذ احمد یاسین نے اب غزہ کی مساجد میں خطابت کا محاذ بھی سنبھال لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے دروس و خطبات کا سلسلہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ انھیں مردوں‘ خواتین اور بچوں کے لیے علیحدہ علیحدہ پروگرام تشکیل دینا پڑے۔ ان کی یہ سرگرمیاں دیکھ کر ۷۰ کی دہائی کے اوائل میں انھیں تدریس کی ملازمت سے نکال دیا گیا۔ اب استاذ احمد یاسین‘ شیخ احمد یاسین بن چکے تھے۔ انھوں نے غزہ میں ایک ہمہ پہلو تحریک کھڑی کر دی۔ انھوں نے یہودی قبضے میں آنے والے مختلف شہروں اور آبادیوں میں جاکر بے آباد ہوجانے والی مساجد کو آباد کرنا شروع کر دیا۔ مفلوک الحال گھرانوں کی مدد کے لیے کئی ایک رفاہی تنظیمیں کھڑی کر دیں‘ نئی نسل میں جہاد کی روح بیدار کرنا شروع کر دی۔ لوگ جب سنتے کہ ایک مفلوج شخص اسرائیلی درندوں کی موجودگی میں مسجد کے منبر سے یہ خطبہ دیتا ہے کہ ’’خواہ ہمارا ایک ہی فرد باقی بچے‘ خواہ ایک ہی پتھر‘ ایک ہی گولی‘ ایک ہی بندوق ہاتھ میں رہے‘ ہم اسرائیلی فوجوں کا مقابلہ کریں گے۔ ہم بہرصورت مقابلہ کریں گے اور بہرصورت فتح یاب ہوں گے کہ یہ رب کائنات کا اپنے مومن بندوں سے وعدہ ہے‘‘۔ تو ہر سننے والا جسم میں ایمانی قوت کی بجلیاں محسوس کرتا۔
شیخ احمد یاسین کی سب سے بڑی قوت لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے پائی جانے والی محبت اور عقیدت تھی‘ اور اس محبت کی بنیاد شیخ کے دل میں لوگوں کے لیے موجزن خلوص اور اللہ وحدہ لاشریک کے لیے اخلاص تھا۔ شیخ احمد یاسین صرف سیاسی قائد‘ روحانی پیشوا‘ مربی‘ مجاہد اور خطیب ہی نہیں تھے‘ بلکہ ہرفلسطینی گھر انھیں اپنا سرپرست سمجھتا تھا۔ شیخ کے پاس لوگ اپنے ذاتی مسائل لے کر آتے‘ میاں بیوی انھیں اپنے جھگڑوں میں فیصل مانتے اور روز مرہ ہونے والے کئی جھگڑوں‘اختلافات اورواقعات میں انھیں اپنا جج بناتے تھے۔ شیخ نے بھی کبھی کسی پر اپنا دربند نہیں کیا‘ کبھی پیشانی پر بل یا ناگواری نہیں آئی۔ ایک بار رمضان میں عین افطار کے وقت ایک سائل آیا اور شیخ سے ملنے پر مصر ہوا۔ ساتھیوں نے انھیں دروازے ہی سے پھر کبھی آنے کا کہہ کر لوٹانا چا ہا‘ لیکن شیخ کی نظر پڑگئی‘ سائل کو بلایا اور اپنے ساتھی کو سخت تنبیہہ کی: ’’آپ تھک گئے ہیں تو جایئے آرام کر لیں‘ میں نہیں تھکا‘‘۔ اور پھر پورا گھنٹہ اس کی بات سنی۔ اس کے جانے کے بعد اپنے اسی ساتھی کو بلا کر کہا:’’دعوت یوں دی جاتی ہے۔ داعی کے لیے صبربنیادی صفت ہے‘‘۔
ایک دولت مند شخص نے ایک خاتون سے نکاح کر کے اس کے سارے زیورات ہڑپ کر لیے‘ اس کو زدوکوب بھی کیا اور گھر سے نکال دیا۔ وہ شیخ کے پاس آئی‘ تو بذات خود وہیل چیئر پر شیخ اس شخص کے پاس گئے۔ وہ دیکھ کر گھبرا گیا۔ شیخ نے فرمایا کہ یہ میری بیٹی ہے‘ اس کے ساتھ انصاف کرو اور کبھی ظلم نہ کرو۔ وہ شخص بہت متاثر ہوا اور شیخ کے نیازمندوں میں ہوگیا۔
رام اللہ شہر کے بسام رباح (عیسائی) کا کہنا ہے کہ ۱۹۸۸ء میں ایک فلسطینی نے دھوکے سے ہمارا مال لے لیا۔ اس نے جب ادایگی میں ٹال مٹول کیا تو میں بلاتکلف شیخ کے پاس گیا۔ مجھے یقین تھا کہ شیخ اس فلسطینی سے ہماری رقم دلوائیں گے۔ وہ بڑا دولت مند بھی تھا۔ پھر یہی ہوا کہ لاکھوں کی رقم چند گھنٹے میں مل گئی۔ ہم نے شکریہ اور احسان مندی کے جذبے سے اس میں سے ایک رقم غزہ میں مسجد کی تعمیر کے لیے دے دی۔
شیخ احمد یاسین ‘ ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی اور ان کے کئی ساتھی جس تندہی سے تحریک جہاد کی نرسری اور لشکر تیار کر رہے تھے‘ دشمن بھی اس سے غافل نہ تھا۔ اس نے پہلے تو مختلف رکاوٹیں اور پابندیاں لگاکر انھیں روکنا چاہا لیکن بس نہ چلا تو جیلوں میں ٹھونس دیا۔ ہزاروں فلسطینی اور دسیوں قائدین کئی کئی بار اور کئی کئی سال جیل میں رہے۔ لیکن ہر بار جیل میں جانے کے بعد ایمان مزید پختہ‘ ارادہ مزید مضبوط اور قوت کار کئی چند ہوجاتی۔
دنیا بھر نے جن فلسطینی مظلوموں سے منہ موڑ لیا تھا‘ پوری قوم کو مایوسی اور معاصی میں دھکیل دیا تھا‘ مساجد سے پھوٹنے والی اس تحریک نے انھیں پھر سے زندگی عطا کردی۔ ۹دسمبر ۱۹۸۷ء کو شیخ احمد یاسین اور ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر حماس کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ ’حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ: اسلامی تحریک مزاحمت‘ کے پہلے حروف سے مل کر بننے والے لفظ حماس کا مطلب ہے جوش و جذبہ‘ ہمت و قوت۔ ’حماس‘ کے پرچم تلے باوضو بچے ہاتھوں میں غلیل اور پتھر لے کر ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے اور آج ۱۷ سال گزرجانے کے باوجود امریکی ٹینکوں پر سوار اسرائیلی فوجی اور امریکی میزائل ان کا خاتمہ نہیں کر سکے۔
رحمت و عنایت خداوندی کا سایہ ہمیشہ ان دونوں قائدین اور ان کے لاکھوں مجاہدین کے ساتھ دکھائی دیتا ہے‘ یتیمی کی گرد میں رل کر بھی یہ موتی رل نہ پائے۔ تعلیمی میدان میں سب ہمجولیوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور پھر بھرپور تحریکی و جہادی زندگی شروع کر دی۔ اسی دوران دونوں کی شادی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے کثیر اولاد دی۔ شیخ احمد یاسین کے ۳ بیٹے اور ۸بیٹیاں ہیں اور عبدالعزیز رنتیسی کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ دونوں کے بڑے بیٹوں کا نام محمد ہے۔ اس حوالے سے دونوں کو ابومحمد کہہ کر ہی پکارا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رنتیسی کی اہلیہ رشاالعدلونی اپنی شادی کا ایک عجیب واقعہ بیان کرتی ہیں۔ کہتی ہیں: ۱۹۷۳ء میں ابومحمد کے گھر سے میرے لیے پیغام آیا۔ یہ پیغام نماز عشاء کے بعد میرے والد کو موصول ہوا۔ انھوں نے گھر میں کسی سے بھی ذکر نہیں کیا‘ میری والدہ سے بھی نہیں۔ اگلی صبح ہی صبح اچانک میری دادی آگئیں۔ انھوں نے آتے ہی امی سے کہا: کسی نے رشا کا ہاتھ مانگا ہے؟ امی نے کہا: نہیں۔ دادی کہنے لگیں: ناممکن۔ میں نے رات خواب میں دیکھا ہے کہ سبز پوشاک میں ملبوس ایک جوان ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں لا الٰہ کا پرچم اٹھائے‘ تیزی سے گھوڑے پر جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے لوگوں کا ایک جم غفیر ہے۔ اسی دوران مجھے آواز آئی۔ اگر اس جوان کی طرف سے پیغام ملے تو اسے اپنا بیٹابنا لو۔ دادی کی بات سن کر والد صاحب نے ابومحمد کے پیغام کا بتایا اور ہم نے ہاں کر دی۔ حالانکہ میں نے تب تک اسلامی تعلیمات کا زیادہ مطالعہ اور پابندی نہیں کی تھی‘‘۔
شیخ احمد یاسین اور ڈاکٹر رنتیسی کی شخصیت پر یتیمی سے تعلیم‘ تعلیم سے عملی اور پھر بھرپور تحریکی و جہادی زندگی تک ہر جگہ اسی طرح ربانی ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر رنتیسی اپنی یادداشت میں ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’شیخ احمد یاسین ہمارے لیے قائد‘ والد‘ مربی‘ استاد اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ پوری تاریخ میں ان جیسا باہمت شخص دکھائی نہیں دیتا کہ اس کے چاروں ہاتھ پائوں شل ہوچکے ہوں اور وہ عظیم جہادی تحریک کی قیادت کر رہا ہو۔ ان کی سب سے عجیب صفت یہ تھی کہ وہ تنہا دس آدمیوں جتنا کام کرتے تھے۔ پھر بھی نہ کبھی تھکن کی شکایت کی نہ کسی تکلیف کا ذکر کیا۔ وہ اپنی ہرمصیبت کا توڑ تلاوت قرآن کریم سے کرتے تھے۔ ہم ہمیشہ ان کے قریب رہ کر اس چشمہ ٔ صافی و شیریں سے سیراب ہونا چاہتے تھے۔ ایک بار ہم تمام ذمہ داران گرفتار تھے لیکن شیخ کو ہم سے دور کفاریونا جیل میں رکھا گیا تھا۔ میں ایک صبح‘ اور یہ رمضان کا آخری دن تھا‘ اٹھا اور میں نے دوستوں کو اپنا خواب سناتے ہوئے کہا کہ میں شمال کی طرف جانے والی بس میں سوارہوں۔ ابھی میں نے خواب پورا نہیں کیا تھا کہ اعلان ہوا: ’’قیدی عبدالعزیز سامان باندھ کر جیل کے مرکزی احاطے میں حاضر ہو‘‘۔ پہنچتے ہی بس میں سوار کیا گیا اور شمال کی جانب رملہ جیل کی زیرزمین کوٹھڑی میں پہنچا دیا گیا۔ دودن رکھنے کے بعد کفاریونا جیل میں شیخ کے پاس پہنچا دیا گیا۔ شیخ کی کوٹھڑی پر ایک نہیں تین تالے لگے تھے۔ میں نے ہنستے ہوئے سنتری سے کہا کہ شیخ تو ہاتھ کی جنبش تک نہیں کر سکتا‘ پھر اتنے تالے؟ اس نے روایتی جملہ کہا: اوپر سے حکم ہے۔
شیخ نے بہت محبت و بے تابی سے خوش آمدید کہا اور پھر میں اور ایک دوسرا ساتھی شیخ کی خدمت میں جُت گئے‘ انھیں کھلانے‘ نہلانے سے لے کر ان کی ہر ضرورت کا ہمیں ہی خیال رکھنا تھا۔ ایک روز شیخ کو لے کر کوٹھڑی میں سے نکل رہے تھے کہ سیڑھیوں میں ایک یہودی ڈاکو سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ اس نے لپک کر شیخ کا ہاتھ پکڑا اور چومتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ ایک اور یہودی قیدی نے انگریزی میں پکار کر کہا: یہاں احتیاط سے رہو۔ یہ تمھیں یہاں اس لیے لائے ہیں کہ تم دونوں کی گفتگو ریکارڈ کر سکیں۔ ہم تو پہلے بھی محتاط تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے خود دشمن کے ذہن میں ہمیں یکجا کر دینے کی بات ڈال دی۔ اس قیدخانے میں شیخ سے جی بھر کے استفادے کا موقع ملا اور کئی عجیب و غریب واقعات کا مشاہدہ ہوا۔ ہر ہفتے ہمارے اہل خانہ کو آدھ گھنٹے کے لیے ملاقات کے لیے لایا جاتا تھا۔ ایک بار سب کے ملنے والے آگئے‘ میرے گھر والے نہ آئے۔ بے حد اداسی ہوئی‘ میں نے کوٹھڑی کے ایک کونے میں جاکر ہاتھ اٹھا دیے۔ پروردگار! میں تیرے بندے احمد یاسین کی جو خدمت کر رہا ہوں اگر تو اس سے راضی ہے تو مجھے میرے اہل خانہ کی طرف سے اطمینان نصیب فرما۔ اس ذات کی قسم جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا‘ ابھی میرے ہاتھ نیچے نہیں آئے تھے کہ ایک سنتری نے پکارا: ’’عبدالعزیز رنتیسی تمھاری ملاقات آئی ہے‘‘۔ اس سنتری کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہم ملاقات کے لیے جا رہے تھے کہ وہ میرے کان میں کہنے لگا: ’’شیخ کا خیال رکھا کرو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے شاید اس سے یہ الفاظ اس لیے کہلوائے تھے کہ مجھے شیخ کی خدمت کے قبول ہوجانے کی نوید مل جائے۔
حماس کے قائدین نے تمام اسلامی قائدین کی طرح جیلوںکو مؤثر ترین تربیت گاہوں میں بدل دیا تھا۔ ڈاکٹر رنتیسی کے الفاظ میں ’’جیل کا سب سے عظیم فائدہ یہ ہے کہ قرآن کی صحبت میں زیادہ وقت گزرتا ہے‘‘۔ ایک بار انھیں اور دو دیگر قائدین کو تین ماہ کے لیے سخت ترین قیدتنہائی میں ڈال دیا گیا۔ ڈاکٹر رنتیسی کہتے ہیں: ’’ہمیں روزانہ صرف ایک گھنٹے کے لیے باری باری چہل قدمی اور بیت الخلا جانے کے لیے نکالا جاتا۔ ہفتے کے روز یہ وقفہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہمارا سارا وقت قرآن کریم دہرانے میں ہی گزرتا۔ انجینیرابراہیم رضوان نے صرف ان تین مہینوں میں پورا قرآن حفظ کرلیا‘ جب کہ میں شیخ کے ساتھ کفاریونا جیل میں حفظ کرچکا تھا۔ یہاں دہرائی کرتا رہا۔
آزمایش کی ان بھٹیوں سے حماس کی قیادت ایسا کندن بن کر نکلی کہ سفاک ترین دشمن ہر ہتھکنڈے کے باوجود ان کی برپا کردہ تحریک جہاد کو مضبوط سے مضبوط تر ہونے سے نہیں روک سکا۔ ۱۹۸۷ء میں اعلان حماس کے بعد بنی صہیون نے یاسرعرفات کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو جلدی میں معاہدہ اوسلو تک پہنچا دیا‘ جس کے بعد اسرائیلی جیلوں کے علاوہ خود فلسطینی جیلیں بھی مجاہدین سے بھرنے لگیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کی ہر چال کو انھی پر لوٹا رہا ہے۔ نام نہاد امن معاہدے کا یہ ہتھکنڈہ‘ سیکڑوں شہید اور بالآخر ستمبر۲۰۰۰ء میں ارییل شارون کا مسجد اقصیٰ میں جاگھسنا‘ تحریکِ انتفاضہ کے اس بھرپور دوسرے مرحلے کا سبب بنا جو اب تک جاری ہے۔ سب تجزیہ نگار متفق ہیں کہ اسے جاری رہنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
فرعون شارون نے بستیوں کی بستیاں خاکستر کر دینے کے باوجود‘ جہاد ختم کر دینے میں ناکامی پر فلسطینی قیادت کے قتل کا ظالمانہ منصوبہ بنایا۔ شیخ احمد یاسین اور ڈاکٹر رنتیسی ہٹ لسٹ میں سرفہرست تھے۔ صلاح شحادہ اور ابراہیم مقادمہ جیسے دسیوں لیڈر شہید کر دیے گئے۔ پھر ۲۲ مارچ کی صبح شیخ احمد یاسین اور ۱۷ اپریل کی شام ڈاکٹر رنتیسی پر امریکی ہیلی کاپٹراپاچی کے ذریعے راکٹ برساتے ہوئے دونوں کو ہمیشہ کے لیے جنت الخلد میں یکجا کر دیا گیا۔
دونوں کی شہادت پر پوری دنیا کے باشعور مسلمانوں اور عدل پسند انسانوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ شارون اور اس کے وزیردفاع موفاز نے خوشی سے معمور ہوتے ہوئے کہا: ’’یہ لوگ عبرانی ریاست کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھے‘ ان کا خاتمہ ضروری تھا‘‘۔ لیکن کیا عبرانی ریاست کو لاحق خطرات ان دونوں کے خاتمے سے ختم ہوگئے؟ خود صہیونی اخبارات اس کا جواب دیتے ہیں۔
روزنامہ یدیعوت احرونوت کے ایک اہم ترین تجزیہ نگار عوفر شیلح نے لکھا: ’’شارون نے ان لوگوں کے قتل کے احکامات جاری کر کے ہزاروں نہیں تو سیکڑوں اسرائیلیوں کی موت کا پروانہ جاری کر دیا ہے۔ شارون نے یہ اقدام اپنے خلاف روز افزوں نفرت کی رفتار کو کم کرنے کے لیے کیا‘ لیکن اسرائیلی عوام خود کو مزید غیرمحفوظ پاتے ہوئے شارون کو مکروہ سمجھنے میں مزید حق بجانب ہوں گے‘‘۔
اسرائیلی رکن کینٹ اور میرٹس تحریک کے سابق سربراہ یوسی سارید نے کہا: ’’تمام کے تمام ذمہ داران کو قتل کر کے بھی ہم حماس کا خاتمہ نہیں کرسکتے‘ بلکہ ہر لیڈر کے قتل کے بعد حماس پہلے سے زیادہ قوی تر ہوگی۔ یہ تاریخی حقیقت ہے۔ شارون کو ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجاے اسے سمجھنا چاہیے‘‘۔
اسرائیلی ٹی وی چینل ۲ کے مبصر اَمنون ابراموفتیش نے شیخ احمد یاسینؒ کی نماز جنازہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:’’کسی کو ہماری حکومت کے احمق ہونے اور وزیراعظم کے گھامڑ ہونے میں شک ہے تو اس جنازے کو دیکھ لے۔ احمد یاسین کے قتل سے حماس کو قوت کے سوا کچھ نہیں دیاجاسکا۔ اسے اب لاتعداد ایسے نوجوان ملیں گے جو انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں۔ کیا دفاعی پالیسیاں یونہی بنتی ہیں‘‘۔
روزنامہ ہآرٹسنے اپنے ۲۳مارچ ۲۰۰۴ء کے اداریے میںلکھا: ’’شارون کو اس اقدام سے پہلے اسرائیل کی طرف سے عباس موسوی کے قتل کے نتائج دیکھ لینے چاہییں تھے۔ اس کے بعد حسن نصراللہ حزب اللہ کا سربراہ بن گیا‘ جس کی قیادت میں حزب نے اسرائیلیوں کی نیندیں حرام کر دیں اور کسی عرب تنظیم کی طرف سے اسرائیل کو وہ شکست اٹھانا پڑی‘ جس کی نظیر ہماری تاریخ میں نہیں ملتی‘‘۔
یدیعوت احرونوت کے تجزیہ نگار الیکس فیشمان نے ایک بہت بڑی اور اہم حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: ’’آج عالمِ عرب اور عالمِ اسلام میں کروڑوں نوجوان’اسرائیل مردہ باد‘ کا نعرہ بلند کر رہے ہیں‘ انھیں دیکھ کر دل لرز اٹھتا ہے۔ احمدیاسین کا قتل ہمارے اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ میں ایک اہم موڑ واقع ہوگا۔ اب اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ اس قتل سے ہماری جنگ اسرائیلی فلسطینی محدود محور سے نکل کر پورے عالمِ عرب بلکہ پورے عالمِ اسلام کے ساتھ اسرائیل کی جنگ بن گئی ہے‘‘۔
شیخ احمد یاسینؒ اور ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسیؒ کی شہادت کے بعد مراکش کے دارالحکومت رباط‘ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم‘ لبنان کے دارالحکومت بیروت اور کویت جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر جگہ پروگراموں میں سب سے زیادہ جوش و جذبہ شیخ احمد یاسین ؒاور ڈاکٹر رنتیسی کے نام پر پیدا ہوتا تھا۔ ہر جگہ ایک ہی نعرہ تھا: کُلنُّا احمد یاسین‘ کُلنُّا حماس، ہم سب احمد یاسین ہیں‘ ہم سب حماس ہیں۔یاشھید ارتاح ارتاح ، سنُو اصِلُ الکِفاح، اے شہید‘ اب آرام و راحت سے رہو‘ جدوجہد و جہاد ہم جاری رکھیں گے۔
شارون کے خلاف نفرت میں سے برابر کا حصہ صدربش کے حصے میں بھی آیا کہ اس سے ملاقات و حوصلہ افزائی کے بعد ہی یہ جرمِ عظیم کیا گیا تھا۔ کویت میں منعقدہ تعزیتی اجتماع میں ایک کویتی نوجوان نے نظم پڑھی تو پورا مجمع شاملِ جذبات ہوگیا۔
تبت یداک زعیم امیریکا وتب - صدر امریکا تیرے دونوں ہاتھ ٹوٹیں تو ہلاک ہو۔
تبت یدا شارون نمرود الشغب - دہشت گردی کے سرخیل نمرود عصرشارون کے ہاتھ ٹوٹیں
تبت یدا العملاء من کل العرب - تمام عرب ایجنٹوں کے ہاتھ ٹوٹیں۔
احمد یاسینؒ اور عبدالعزیز رنتیسیؒ نے شہادت سے پہلے عجیب سرشاری کے دن گزارے۔ شیخ جو مجموعہ امراض بن چکے تھے‘کی حالت اس رات بے حد نازک تھی۔ سیکورٹی کے باعث نوجوان انھیں ہسپتال سے بھی لے گئے اور گھرسے بھی۔ عشاء کی نماز کا وقت ہوا تو شیخ نے حسب معمول مسجد جانے پر اصرار کیا اور پھر کہا: آج رات یہیں اعتکاف کروں گا۔ سحری تک تلاوت و نوافل کا سلسلہ جاری رہا۔ پیرکے مسنون روزے کی نیت کی‘ نماز فجر ادا کی اور پھر مسجد سے باہر آتے ہی تین امریکی میزائلوں نے چہرے کے علاوہ باقی سارے جسم کے چیتھڑے اڑا دیے۔ قیامت برپا ہوگئی۔ الجزیرہ نے شہید کا ایک جملہ بار بار سنایا جو شہید کا تعارف اور خلقِ خدا کی ان سے محبت کی اصل وجہ بیان کرتا ہے: أمَلی أن یرضی اللّٰہ عَنِّی، میںامید کرتا ہوں کہ اللہ مجھ سے راضی ہوگا۔
ڈاکٹر رنتیسی پہلے ہر ہفتے دو تین روز گھر آجاتے تھے۔ شیخ کی شہادت کے بعد ہفتے میں دو تین گھنٹے کے لیے ہی آپاتے تھے‘ وہ بھی بہت رازداری سے۔ ۱۷ اپریل کو فجر سے کچھ پہلے گھر آگئے۔ سب اہلِ خانہ کو جمع کر لیااور دن بھر ان کے ساتھ رہے۔ نمازِ مغرب کے بعد غسل و عطر کا اہتمام کیا۔ چھوٹے بھائی نے شوخی سے پوچھا: آج کہاں کی تیاری ہے؟ اپنی عادت کے بغیر ایک ترانے کے بول دہرانے لگے: أنْ تُدخِلَنِی رَبِّی الجَنَّۃ ، ھذا أقصٰی ما أتَمَنَّی،میرے پروردگار تو مجھے جنت میں داخل کر دے‘ یہی میری سب سے بڑی تمنا ہے۔ گھر سے نکلے چند منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ امریکی ہیلی کاپٹر اپاچی حملہ آور ہوا‘ شہید کی تمنا ہی نہیں‘ فیصلہ بھی اللہ نے پورا کر دیا۔ چند دن پہلے ہی انھوں نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: ’’موت تو ہر ذی روح کو آنا ہے۔ مجھے اگر ہارٹ اٹیک یا اپاچی میں سے کسی ایک کے ذریعے مرنے کا اختیار دیا جائے تو میرا انتخاب اپاچی ہوگا‘‘۔
’اسلام کی حقیقی تعلیمات ہماری بنیاد‘ انصاف ہمارا راستہ اور ترقی و کامیابی ہماری منزل ہے‘ اس جلی بینر تلے مراکش کی اسلامی جماعت ’انصاف و ترقی پارٹی‘ کا پانچواں اجتماع عام ہوا۔ ہرچار سال بعد ہونے والے اس اجتماع میں پارٹی کے انتخابات بھی ہوتے ہیں اور اہم پالیسیوں کا اعلان بھی۔ ۱۱‘ ۱۲اپریل ۲۰۰۴ء کو رباط میں ہونے والے اس اجتماع میں پہلی بار عالمِ اسلام سے بھی قائدین کو مدعو کیاگیا۔ محترم قاضی حسین احمد مہمانِ خصوصی تھے۔
افتتاحی اجلاس میں بیرونی مہمانوں کے علاوہ ملک کی تمام پارٹیوں کی قیادت‘ تمام غیرملکی سفرا اور حکومتی ذمہ داران کو بھی مدعو کیا گیا۔ یہ اجتماع رباط کے مدخل پر واقع ایک وسیع و عریض سپورٹس سنٹر میں ہوا۔ ملک بھر سے آئے شرکا کے قیام و طعام اور پروگرام کے لیے مختلف بڑے ہال اور خیمے سجائے گئے تھے۔
انصاف و ترقی پارٹی کے پہلے سربراہ عبدالکریم خطیب کی تاریخ پیدایش ۲مارچ ۱۹۲۱ء ہے۔ ان کا شمار مراکش کی تحریک آزادی کے اہم کارکنان و قائدین میں ہوتا ہے۔ اسلام کو مکمل نظامِ حیات کے طور پر سمجھنے کے بعد وہ مسلسل اس نظام کے نفاذ کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے مؤسسین اور رہنمائوں سے ان کا قریبی تعلق رہا ہے۔ ۱۹۶۹ء میں‘ سیدمودودی رحمہ اللہ‘ مراکش میں اسلامی یونی ورسٹی کی تاسیسی کانفرنس میں شرکت کے لیے رباط گئے‘ تو ان کے گھر بھی تشریف لے گئے تھے۔
انھوں نے پہلے بھی پارٹی کی قیادت کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی جو کارکنان کو قبول نہ ہوئی۔ لیکن اب ۸۳ سال کی عمر میں قویٰ زیادہ مضمحل ہوگئے تو حالیہ اجلاس میں ان کی سرپرستی میں‘ ایک متحرک‘ دانش مند اور فعال نوجوان ڈاکٹر سعدالدین عثمانی کو پارٹی کا سربراہ منتخب کرلیا گیا۔ انصاف و ترقی پارٹی کا طریق انتخاب بھی جماعت اسلامی پاکستان کے نظام سے بہت مشابہ ہے۔ کوئی شخض خود امیدوار نہیں بن سکتا۔ ارکان نے خفیہ ووٹنگ سے چار افراد کے نام تجویز کیے‘ چاروں نوجوان تھے۔ ان میں سے مصطفی رمیدنے بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر باصرار معذرت کرلی۔ باقی تین کے انتخاب کے لیے ہال میں متعدد بیلٹ بکس رکھ دیے گئے۔ ارکان نے اپنے اپنے رکنیت کے کارڈ دکھا کر بیلٹ پیپر حاصل کیے اور چند گھنٹوں کے بعد نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ ۱۵۹۵ ارکان نے ووٹ ڈالا تھا۔ ۲۰ ووٹ منسوخ ہوگئے‘ باقی میں سے ڈاکٹر عثمانی کو ۱۲۶۸ ووٹ ملے۔ پاکستان کی طرح مراکش میں بھی انصاف و ترقی ہی اکلوتی اسلامی پارٹی ہے‘ جس میں پارٹی کسی لیڈر کی باجگزار نہیں‘ ارکان جماعت صالح تر اور موزوں ترین کو‘ شفاف انتخابات کے ذریعے اپنا قائد چنتے اور تسلیم کرتے ہیں۔
انصاف و ترقی پارلیمنٹ میں‘ بادشاہ کی پارٹی کے بعد دوسری بڑی پارٹی ہے۔ سب قومی و عالمی تجزیہ نگار اس امر پر متفق ہیں کہ پارٹی جب بھی فیصلہ کرلے کہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی بننا ہے‘ تو اس کا راستہ روکنا ممکن نہ ہوگا۔ مراکش کی تاریخ‘ اردگرد کے حالات اور ملک میں راسخ ملوکیت کے نظام میں پارٹی کا فیصلہ‘ خود حکومت سنبھالنے یا حکومت میں شریک ہونے کے بجاے‘ مثبت اپوزیشن کے طور پر کام کرنا ہے۔ اس پالیسی کا اظہار ڈاکٹر عثمانی نے اپنی افتتاحی تقریر میں ان الفاظ میں کیا:’ ’ہماری پارٹی نے پوری بصیرت اور ذمہ داری سے اپوزیشن کا کردار چنا ہے‘ ایک مثبت‘ ناصح اور فعال اپوزیشن کا کردار‘‘۔
مراکش میں ملوکیت کا نظام ہے۔ موجودہ شاہ محمد السادس ابن شاہ حسن الثانی بھی اپنے باپ دادا کی طرح خود کو امیرالمومنین کہلاتا ہے۔ امارۃ المؤمنین کو ایک تقدس اور دوام حاصل ہے۔ حسن الثانی تو باقاعدہ عالمِ دین تھے۔ اکثرخطبہ بھی دیتے تھے۔ امیرالمومنین کی بیعت کا نظام بھی وراثت سے چلا آ رہا ہے۔ عبدالکریم الخطیب نے اپنے مختصر خطاب میں اس امر کا اعلان و اظہار بھی کیا کہ ’’میں اوائل عمر ہی سے امارۃ المؤمنین کے ادارے کومضبوطی سے تھامے رکھنے کا قائل ہوں کہ یہ ہمارے عقیدے کی شناخت ہے۔ اسی شناخت کی وجہ سے مراکش کو اسلام سے دُور لے جانے کی تمام سیکولر کوششیں ناکام رہیں‘‘۔الخطیب کا یہ اعلان مراکش کے نظامِ ملوکیت میں نسبتاً آزادی سے کام کرنے کا سبب بیان کر رہا تھا۔
کانفرنس میںمراکش کی اسلامی شناخت‘ پارٹی کے جامع پروگرام اور اُمت مسلمہ کے مختلف مسائل پر اپنا موقف واضح کرنے کے لیے بہت جوش و خروش اور من موہ لینے والے انداز سے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ ان کے نعروں کا اسٹائل پاکستان سے یوں مختلف تھا کہ جو بول نعرے لگوانے والا کہتا وہی بول اس کے تمام شرکا بھی دہراتے۔ اس وقت سب کا جوش و خروش دیدنی ہوتا‘ جب پوری قوت سے پورے کا پورا اسٹیڈیم کہہ رہا ہوتا: لا الٰہ الا اللّٰہ- علیھا نحیا- وعلیھا نموت وفی سبیلھا نجاھد وعلیھا نلقی اللّٰہ۔ یہ ان صلاتی ونسکی کا خوب صورت بیان تھا۔ فلسطین‘ کشمیر اور فلوجہ کے لیے بھی بار بار پکارا گیا: کلنا فداء فداء - فلسطین الصامدہ‘ کلنا فداء فداء - کشمیر الصامدہ، اے ثابت قدم فلسطین ہم سب تم پر سو جان سے فدا‘ اے ثابت قدم کشمیر… درج ذیل نعرہ پارٹی کی شناخت اور اسلام کو بطور کامل نظامِ حیات ماننے کا اعلان تھا: اسلام یا حاضرین‘ دین و دولۃ مجتمعین- قولوھایا سامعین ‘ لدعاۃ العلمانیۃ‘ حاضرین کرام اسلام دین بھی ہے‘ ریاست بھی‘ سامعین کرام یہ بات سیکولرازم کے پرچارکوں کو واضح طور پر بتا دو۔ شیخ احمد یاسین کی تصاویر بہت عقیدت و احترام سے سجائی گئی تھیں اور یہ نعرہ بار بار گونجتا تھا: عھداللّٰہ لن ننسی - یاسین والاقصٰی‘ اللہ کی قسم یاسین اور اقصیٰ کو کبھی فراموش نہیں کریں گے!
پارٹی کی قیادت کے علاوہ دیگر پارٹیوں کی نمایندگی کے لیے استقلال پارٹی کے ایک بزرگ رہنما ابوبکر الکیلانی کو دعوت دی گئی۔ انھوں نے بھی مکمل اسلامی تعلیمات‘ اُمت اسلامی کی وحدت‘ اُمت کے خلاف تیار کی جانے والی سازشوں اور ان کے مقابلے کے لیے دین کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مہمانِ خصوصی محترم قاضی حسین احمد کو دعوت دی گئی تو پورے مجمع نے کھڑے ہوکر بھرپور استقبال کیا۔ کشمیرالصامدہ والا نعرہ دیر تک لگایا اور پھر سراپا خاموشی بن کر امیرجماعت کی طرف متوجہ ہوئے۔ قاضی صاحب فرما رہے تھے: میں یہاں اسی مقدس رشتے کو مضبوط و تازہ کرنے آیا ہوں جو طارق بن زیاد اور یوسف بن تاشفین کے عہد سے ہمارے درمیان قائم ہے۔ جس رشتے کی وجہ سے ہم سب یک دل‘ یک زبان اور یک رنگ ہیں‘‘۔ انھوں نے اندلس کی تہذیب رفتہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’علامہ اقبال جب یورپ میں سلسلۂ تعلیم مکمل کر کے بحری جہاز میں سوار صقلیہ سے گزر رہے تھے تو انھوں نے صقلیہ میں اسلامی تہذیب کے زوال کا مرثیہ لکھا جس کا پہلا شعر ہے ؎
رو لے اب دل کھول کر اے دیدئہ خوننابہ بار
وہ نظر آتاہے تہذیب حجازی کا مزار
کچھ مدت بعد وہ ہسپانیہ کے سفر میں جامعہ قرطبہ کے جوار میں‘ دریاے کبیر کے کنارے‘ شان دار ماضی کے ذکر کے ساتھ‘ روشن مستقبل کی تصویر دکھا رہے تھے ؎
آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
انھیں یہ تو یقین تھا کہ قافلۂ سخت جان محوسفر ہے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ کس وادی میں ہے ؎
کون سی وادی میں ہے‘ کون سی منزل میں ہے
عشقِ بلاخیز کا قافلۂ سخت جاں
آج یہ قافلۂ سخت جاں پوری دنیا میں اپنی منزلیں طے کر رہا ہے۔ مشکلات و مصائب ہرجانب سے امڈے چلے آ رہے ہیں‘ لیکن یہ تندی باد مخالف‘ شاہین کو اونچا اڑانے کے لیے ہے۔ امیر جماعت نے ۱۱ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر افغانستان اور عراق پر کی جانے والی جارحیت اور فلسطین و کشمیر سمیت مختلف خطوں میں ریاستی دہشت گردی کے شکار اعضاے اُمت کا بھی ذکر کیا اور اتحاد‘ تعلیم‘ حصول ٹکنالوجی‘ بھرپور محنت اور انصاف وترقی اور اس سب کچھ سے پہلے ایمان و تقویٰ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دیگر کئی ممالک سے بھی اسلامی تحریکوں کے قائدین آئے ہوئے تھے جن میں حسن البنا شہیدؒ کے صاحبزادے سیف الاسلام‘ اُردن سے اسلامی فرنٹ کے سربراہ حمزہ منصور‘ لبنان سے جماعت اسلامی کے رہنما اسعد ہرموش‘ فلوجہ سے عراقی علما کے نمایندے ڈاکٹرکبیسی اور تیونس‘ الجزائر‘ موریتانیا‘ ترکی سمیت کئی ممالک سے آئے رہنما نمایاں تھے۔ ایک اور نمایاں ترین شخصیت برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلوے تھے۔ عراق میں امریکی جارحیت اور جنگ کے خلاف‘ ایک ہی دن پوری دنیا میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے پیچھے قوت محرکہ کے طور پر کام کرنے والی ٹیم کے نمایاں ترین رکن جارج گیلوے ہی ہیں۔ جنگ مخالف تحریک (anti war movement)کی نمایندگی کرتے ہوئے انھوں نے مختصر لیکن جان دار خطاب کیا۔ انھوں نے امریکا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: تمھیں عراق سے بالآخر نکلنا ہے‘ کئی خونیں شامیں دیکھ کر نکلنے سے پہلے آج ہی عراق سے نکل جانا چاہیے‘‘۔ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’مشرق وسطیٰ میں ایک ہی ملک ایسا ہے کہ جس کے ہتھیاروں کی وجہ سے پوری دنیا کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اس ریاست کو اسرائیل کہا جاتا ہے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ میں نے جنین کیمپ پر ہونے والی جارحیت کے بعد وہاں کا دورہ کیا۔ وہاں شہریوں کے پاس سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔ گھربار‘ کھانا پینا۔ صرف ایک ہی چیز باقی تھی اور وہ تھی: ’’حصول آزادی تک مزاحمت کا جذبہ‘‘۔ پورا مجمع پکار اُٹھا: الشعوب تقاوم- الانظمۃ تساوم‘عوام مزاحمت کر رہے ہیں لیکن حکومت سودے بازیاں۔ جارج گیلوے کی جامع‘ جذباتی اور مختصر تقریر ختم ہوئی‘ تو اسٹیڈیم دیر تک ایک ہی لَے سے گونجتا رہا: یکفینا یکفینا یکفینا الحروب - امریکا امریکا عدوۃ الشعوب‘قوموں کے دشمن امریکا‘ بس بس بہت جنگیں ہوچکیں۔
انصاف و ترقی پارٹی کو مراکش کی اسلامی تحریک کا سیاسی بازو کہا جاسکتا ہے۔ دعوتی اور تربیتی سرگرمیوں کے لیے بنیادی تحریک اسلامی ’تحریک توحید و اصلاح‘ کے نام سے کام کر رہی ہے۔ توحید و اصلاح کی علیحدہ سے منتخب قیادت‘ مجلس شوریٰ اور مکمل تنظیمی ڈھانچا ہے۔ یہ تحریک ۶۰کی دہائی سے کام کر رہی ہے۔ آغاز میں اس کا نام سید مودودیؒ اور ان کی تحریک کی نسبت سے‘جماعت اسلامی مراکش رکھا گیا۔ پھر مختلف تجربات سے گزرنے کے بعد ۱۹۹۶ء میں دو تنظیموں: الاصلاح والتجدید اور رابطہ المستقبل الاسلامی کے انضمام کے بعد اس کا نام ’تحریک توحید وا صلاح‘ رکھا گیا۔ اس کے پہلے صدر ڈاکٹر احمد الریسونی تھے جو بڑے اسکالر اور مفکر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں‘ لیکن ملوکیت کے بارے میں ان کے ایک انٹرویو کو فرانسیسی اخبارات کی طرف سے بہت زیادہ اچھالے جانے پر‘ پارٹی کی مشاورت سے ۱۹ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو محمدالحمداوی کو سربراہِ تحریک چنا گیا۔ تحریک توحید واصلاح اور انصاف و ترقی پارٹی کو مختصر الفاظ میں ’یک جان دو قالب‘ کہاجا سکتا ہے۔ تحریک کے مرکز میں تمام مہمانوں کے اعزاز میں ایک عشائیہ اور عصرانہ دیا گیا۔ اس دوران‘ اُمت کے مختلف مسائل پر سیرحاصل گفتگو بھی ہوئی۔
اس اجتماع کے بارے میں تفصیلات کے بعد‘ مراکش کی ایک اور اسلامی تحریک کا مختصر ذکر مناسب ہوگا۔ مراکش کی اس اسلامی تحریک کا نام ’تحریک عدل وا حسان‘ ہے۔ اس کے سربراہ ایک درویش خدامست‘ شیخ عبدالسلام یاسین ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق تعداد کے اعتبار سے یہ مراکش کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ لیکن شیخ عبدالسلام کو نظامِ ملوکیت پر بہت سخت اعتراض ہے۔ وہ کھلم کھلا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ دسیوں کتابیں لکھ چکے ہیں۔ اس لیے ان کی پارٹی خلافِ قانون قرار دی جاچکی ہے اور شیخ سالہا سال کی قید اور نظربندی کی سزا بھگت چکے ہیں۔’العدل والاحسان‘ کے کارکنان بھی دنیا میں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں اور خاموش و پُرامن جدوجہد پر ایمان رکھتے ہیں۔ انصاف و ترقی پارٹی کے اجتماع عام میں وہ بھی موجود تھے اور باقی سب شرکا کے ساتھ مل کروہ بھی بآواز بلند کہہ رہے تھے: لا الٰہ الا اللّٰہ - علیھا نحیا - وعلیھا نموت وفی سبیلھا نجاھد وعلیھا نلقی اللّٰہ ، لا الٰہ الا اللہ‘ اسی پر جییں گے‘ اسی پر مریں گے‘ اسی کی خاطر جہاد کریں گے‘ اسی پر خدا سے ملیں گے!
۱۰ سے ۱۲دسمبر ۲۰۰۳ء تک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک اہم عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کا اہتمام قطر کی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ایک فکری مرکز بروکنگز (Brookings) کے تعاون سے کیا تھا۔ اخراجات و وسائل قطرکے اور زیادہ تر پروگرام و افکار بروکنگز کے۔ طرفین نے آج سے ایک سال پہلے ’’امریکہ و عالمِ اسلام فورم‘‘ کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دیا تھا۔ یہ اس فورم کی دوسری سالانہ سرگرمی تھی۔ اس برس کی کانفرنس‘ سابقہ سے یوں ممتاز تھی کہ اس میں دونوں طرف سے نمایندگی بھرپور تھی۔ امریکہ سے سابق صدر بل کلنٹن سمیت متعدد ذمہ داران اور سابق سفرا و دانش ور موجود تھے اور عالمِ اسلام کی ترجمانی کا حق علامہ یوسف قرضاوی اور محترم قاضی حسین احمد ادا کر رہے تھے۔
افتتاحی سیشن ہی سے پوری کانفرنس کا مزاج طے ہوگیا۔ امیرقطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے اپنے افتتاحی کلمات میں امریکہ اور عالمِ اسلام کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کی اہمیت و ضرورت پر زور دیا۔ قطر میں اس کے لیے ’’امریکہ و عالمِ اسلام فورم‘‘ کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم ختم ہوئے بغیر خطے میں امن و امان ممکن نہیں۔ انھوں نے شام اور لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور عراق میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
افتتاحی خطاب کے بعد سب سے پہلے محترم قاضی حسین احمد کو دعوتِ خطاب دی گئی۔ انھوں نے اپنے جامع اور مؤثر خطاب میں حالات کی مکمل تصویرکشی‘ تباہ کن امریکی پالیسیوں اورمطلوبہ اقدامات کا احاطہ کیا (خطاب کا مکمل متن اسی شمارے میں دیکھیے)۔ ان کے بعد علامہ قرضاوی نے بھی زوردار انداز میں کفار سے تعلقات کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی۔ اہلِ کتاب میں سے غیرمتحارب عناصر کے ساتھ حسنِ سلوک کے قرآنی احکام واضح کیے اور پھر کہا کہ امریکہ اور ہمارے اختلافات کی دو بنیادی وجوہات ہیں: ۱- اسرائیلی ریاست کی اندھی تائید و حمایت‘ ۲- امریکی دانش وروں اور پالیسی سازوں کا سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اسلام کو اپنا متبادل حریف قرار دے دینا۔ علامہ قرضاوی نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائی جہاں بھی ہوئی ہے‘ ہم نے سب سے پہلے اس کی مذمت کی ہے‘ لیکن پھر بھی ہم ہی پر دہشت گردی کا الزام ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ امریکی پالیسی ۱۱ستمبر سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ ۱۱ستمبر کے واقعات کو آگ پر پٹرول کی حیثیت سے استعمال کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم باہم بہتر تعلقات اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کا حل چاہتے ہیں‘ لیکن مقابل میں چاہتے یہ ہیں کہ ہمیں اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کرنے دی جائے۔
علامہ قرضاوی کے بعد اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر ہولبروک نے خطاب کیا۔ وہ مراکش میں بھی سفیر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بوسنیا کے مسئلے میں امریکی کردار کے حوالے سے اپنی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ تجربہ کار سفارت کار ہونے کے باوجود انھوں نے بہت جارحانہ اسلوب اختیار کیا۔ انھوں نے ایک طرف تو اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کا مسئلہ بہت گمبھیر ہے‘ اس لیے اس پر زیادہ گفتگو نہ کی جائے وگرنہ ساری کانفرنس میں یہی گفتگو ختم نہ ہوگی۔ لیکن ساتھ ہی درشت الفاظ میں کہا کہ ’’ہم کبھی بھی اسرائیل کی مدد سے پیٹھ نہیں پھیریں گے‘‘۔ ’’اسرائیل ایک جمہوری‘ آزاد اور اقوامِ متحدہ کا رکن ملک ہے۔ ہم اس پر اپنی پالیسیاں ٹھونس نہیں سکتے‘‘۔
انھوں نے ۱۱ستمبر کے واقعات کی سنگینی پر بھی زور دیا اور اس امر پر بھی کہ ’’ہمیں اس کانفرنس میں صحت‘ تعلیم اور غربت جیسے مسائل پر بات کرنی چاہیے۔ پاکستان میں بھی ایڈز بہت پھیل چکی ہے‘ ہمیں اس پر بات کرنا چاہیے‘‘۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میں امریکی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع نہیں کرتا‘ میں تو آرزو کرتا ہوں کہ اختتامِ سال سے پہلے پہلے یہ حکومت تبدیل ہو جائے (اس پر اکثر شرکاے کانفرنس نے انھیں تالیوں اور قہقہے سے داد دی)۔ بعد میں امریکی سیاست سے باخبر لوگوں نے بتایا کہ ہولبروک بش انتظامیہ کے سخت نقاد ہیں۔اگر ڈیموکریٹس جیت گئے تو انھیں ان کی حکومت میں اعلیٰ عہدہ مل سکتا ہے۔ اگرچہ تقریر میں ان کا لہجہ کرخت تھا لیکن بعد میں وہ محترم قاضی حسین احمد سے کہتے رہے کہ ’’کاش! صدر بش بھی آپ کی تقریر اور یہاں ہونے والی گفتگو سن سکتا۔
ہولبروک کے بعد اسرائیل میں سابق امریکی سفیر مارٹن انڈک نے بھی تقریباً انھی خطوط پر گفتگو کی۔ افتتاحی سیشن اختتام پذیر ہوا تو اکثر شرکا کی زبان پر محترم امیرجماعت کی متوازن‘ جامع‘ جرأت مندانہ اور مسلم اُمت کی ترجمان تقریر کا ذکر تھا۔ افتتاحی سیشن کے اختتام پر عشایئے کا انتظام تھا اور اسی میں مزید سوال و جواب کے لیے افتتاحی سیشن والا چار رکنی پینل موجود تھا۔
محترم قاضی حسین احمد اور علامہ قرضاوی نے وہاں ایک بار پھر اس بات کو واضح کیا کہ صحت‘ تعلیم‘ غربت‘ یقینا اہم مسائل ہیں اور ان کے لیے بلاتفریق و تعصب پوری دنیا کو جدوجہد کرنا چاہیے‘ لیکن یہاں جس مکالمے اور مذاکرات کی بات ہو رہی ہے وہ سیاسی اختلافات کے حوالے سے ہے۔ ان پالیسیوں اور سیاسی اختلافات کو جرأت سے زیربحث لانے کی ضرورت ہے۔
اگلے دو روز گروپ ڈسکشن کے لیے وقف تھے جن میں ۱۲ مختلف موضوعات زیربحث آئے۔ ان میں جمہوری اقدار‘ امریکہ عالمِ اسلام کے تعلقات کا مستقبل‘ دونوں کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے وسیلے‘ ذرائع ابلاغ کا کردار‘ اسلام اور امریکہ کے متعلق پایا جانے والا عمومی تاثر‘ نمایاں تھے۔ ان اور دیگر موضوعات پر ۱۵۰ کے قریب امریکی و مسلم دانش وروں نے چھ مختلف اجلاسوں اور ۱۲ گروپوں میں بات کی۔ شرکا میں سابق و حالیہ کئی وزرا بھی تھے‘ جیسے عراق کے وزیر پٹرولیم‘ اُردن کے وزیرخارجہ‘ فلسطین کے وزیر اطلاعات اور سابق وزیرداخلہ۔ امریکی شرکا میں بڑی تعداد سابق سفرا اور بروکنگزکے دانش وروں کی تھی۔ اکثر شرکا امریکی نقطۂ نظر سے قریب سمجھ کر بلائے گئے تھے‘ جب کہ جماعت اسلامی‘ علامہ یوسف قرضاوی اور اسلامی پارٹی ملائشیا کے وفود کو شاید کانفرنس کی ساکھ کی خاطر اور ان سے ان کی حقیقی سوچ براہِ راست سننے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ہم نے بھی باہم اور بیرونِ ملک بعض احباب سے مشورے کے بعد اسی ارادے سے شرکت کی کہ صحیح موقف براہِ راست سنایا جائے‘ ان کا موقف سنا جائے۔ پاکستان سے بلائے جانے والے دیگر شرکا کی فہرست دیکھ کر آپ کو عالمِ اسلام کے دیگر شرکا کا اندازہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ یہاں سے محترم امیر جماعت ‘ جنرل (ر) طلعت مسعود‘ فرائیڈے ٹائمز کے ایڈیٹر اعجاز حیدر‘ معروف صحافی ایازمیر‘ سابق وزیر اطلاعات مشاہد حسین‘ جماعت کے شعبہ امورخارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر آصف لقمان اور راقم نے شرکت کی۔ ان مختلف الخیال اور ’’مختلف المشرب‘‘ ‘افراد نے موقع ملنے پر قومی اور ملّی موقف کی اچھی ترجمانی کی۔
علامہ یوسف قرضاوی‘ کانفرنس کے بعد ایک نجی نشست میں فرما رہے تھے کہ افتتاحی سیشن میں ہونے والی زوردار تقاریر سے تمام شرکا کی ایک جہت کا تعین ہوگیا‘ اور بظاہر دین اور دینی تعلیمات سے بہت دُور نظر آنے والے بعض افراد نے بھی حق بات کہی۔
اگرچہ اکثر منتظمین بار بار کہہ رہے تھے کہ مشرق وسطیٰ اور عرب اسرائیل مسئلے کو چھوڑ کر صحت اور تعلیم جیسے مسائل پر بات کی جائے لیکن کانفرنس کے دوسرے روز ظہرانے پر ہونے والی گفتگو کا عنوان ہی ’’مشرق وسطیٰ کا مسئلہ‘‘ رکھا گیا تھا۔ اس کے تمام شرکا بہت سوچ سمجھ کر رکھے گئے تھے۔ پینل میں کوئی بھی مکمل حق کہنے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔ اُردنی وزیرخارجہ مروان المعشر‘ فلسطینی سابق وزیراطلاعات یاسر عبدربہ‘ اسرائیل میں سابق امریکی سفیر مارٹن انڈیک اور سابق اسرائیلی نائب وزیراعظم امنون شاحاک‘ سب نے وہی بات کی جس کی ان سے توقع تھی۔ فلسطینی نمایندہ اس قدر بودا تھا کہ ان کی اسٹیج پر موجودگی کے دوران ایک مقرر نے ان کے سربراہ یاسرعرفات کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ کہہ دیے‘ لیکن وہ اس پر مؤدبانہ احتجاج بھی نہ کرسکے یا کرنا ہی نہیں چاہا۔ کئی شرکا نے آرزو کی کہ کاش! اس سیشن میں علامہ قرضاوی یا قاضی صاحب بھی شریک ہوتے۔
آخری سیشن میں صرف قطری وزیرخارجہ اور صدر بل کلنٹن کا خطاب تھا۔ ایک امریکی سیاست دان اور سابق صدر کی حیثیت سے انھوں نے بہت اچھی تقریر کی اور اپنے تمام اصولی و قومی موقفوں پر مضبوطی سے جمے رہنے کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بھی اچھے جذبات کا اظہار کیا۔ مسلمان علما کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انھوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہمیں اسلام کو اور عالمِ اسلام کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ۱۱ستمبر کے بعد صدربش کا سب سے اچھا اقدام واشنگٹن میں اسلامی مراکز و مساجد کا دورہ کرنا تھا۔ انھوں نے اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ دنیا میں امریکہ سے نفرت میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے‘ حالانکہ ان کے بقول امریکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہے۔
مشرق وسطیٰ اورفلسطین کے حوالے سے ان کا موقف تھا کہ ’’اسرائیل کو اقوامِ متحدہ نے وجود بخشا ہے۔ اس کے لیے ہماری مدد جاری رہے گی۔ ہماری خواہش ہے کہ فلسطین اور اسرائیل دو اچھے پڑوسی ریاستوں کی حیثیت سے جیئیں۔ انھوں نے اس امر پر بھی اصرار کیا کہ مسلم دنیا ہمیں صرف ہماری مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے تناظر میں نہ دیکھے۔ ہمارے اور آپ کے بہت سے مفادات مشترک ہیں۔ شاید اس لیے کہ اگر دنیا ہمیں صرف ہماری مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے تناظر میں دیکھے گی تو ہمارا ناانصافی اور دوہرے معیار کھل کر سامنے آجائیں گے۔ ہمارے خلاف اس کی نفرت میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے ’’ہمیں صرف ہماری مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے تناظرمیں نہ دیکھیں‘‘۔
صدر کلنٹن کے خطاب کے بعد دو تین سوالات کا بھی موقع دیا گیا۔ مشاہد حسین نے سوال کیا: ’’۱۱ستمبرکے بعد امریکہ نے ایک بے نام‘ بے وطن اور بلاچہرہ دشمن کے خلاف بڑی جنگ شروع کر دی ہے۔ پورا عالمِ اسلام اس جنگ سے متاثر ہو رہا ہے۔ اگر صدر بش کے بجاے آپ وائٹ ہائوس میں ہوتے تو کیا آپ بھی وہی کرتے جو صدر بش کر رہے ہیں؟‘‘
بہت تردد اور بوجھل ہوتی ہوئی خاموشی کے بعد انھوں نے کہا: ’’ہاں‘ میں بھی یہی کرتا اور پھر دہشت گردی کی سنگینی کے تناظر میں اپنے اس موقف کی وضاحت کرنے کی مختصر کوشش کی‘‘۔
اختتام پر ہولبروک محترم قاضی حسین احمد کے پاس آئے اور انھیں ساتھ لے جا کر صدرکلنٹن سے ان کا تعارف کروایا۔ دونوں کے درمیان مختصر جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس طرح یہ کانفرنس امریکہ اور عالمِ اسلام کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی اچھی کوشش ثابت ہوئی۔ اگر تعصب اور مفادات سے بالاتر ہوکر اس کوشش کو جاری رکھا گیا تو ٹھوس بنیادوں پر باہمی مذاکرات ناممکن نہیں رہیں گے۔
فرانس کو روشنیوں‘ خوشبوئوں‘ فنون اور آزادی کا ملک کہا جاتا ہے۔ عراق پر امریکی جارحیت کے خلاف آواز اٹھا کر‘ عالمی سیاست میں بھی فرانس اور جرمنی نے اپنا علیحدہ تشخص قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔ یورپ میں مقیم ۲ کروڑ مسلمانوں میں سے ۶۰لاکھ صرف فرانس میں رہتے ہیں‘ ۳۰ لاکھ جرمنی میں اور تقریباً ۲۰ لاکھ برطانیہ میں۔ فرانس میں زیادہ تر مسلم آبادی شمال مغربی افریقی ممالک الجزائر‘ تیونس‘ مراکش اور چنددیگر افریقی ممالک سے آکر بسی ہے۔
مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پندرھویں اور سولھویں صدی میں ہی فرانس منتقل ہوگئی تھی۔ ۱۴۹۲ء میں سقوطِ غرناطہ کے بعد اندلس میں ان کا جینا دوبھر کر دیا گیا تو۳لاکھ افراد ملک بدری پرمجبورہوگئے‘ جب کہ اس سے کئی گنابڑی آبادی شہید کر دی گئی۔گذشتہ صدی کے آغاز میں سمندر پار پڑوسی ممالک پر فرانسیسی استعمار‘منظم ثقافتی حملوں اور قرب مکانی کی وجہ سے بھی ان ممالک سے بڑی تعداد میں لوگ فرانس جا بسے۔ عالمی جنگوں کے خاتمے کے بعد فرانس کی تعمیرنو کے لیے مطلوب افرادی قوت بھی زیادہ تر یہیں سے حاصل کی گئی۔
دورِحاضرمیں فرانسیسی مسلمانوں کی اکثریت وہاں صرف مہاجرت نہیں بلکہ شہریت اور برابری کی قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ ۱۹۱۷ء میں فرانس میں پہلی باقاعدہ اسلامی کونسل بنی۔ ۱۹۲۶ء میں اس نے بڑی پیرس مسجد بنائی۔ ۱۹۸۲ء میں ایک قانون کے ذریعے مسلمانوں کو اپنی تنظیمیں اور ادارے رجسٹرڈ کروانے کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی اور اب وہاں بڑی تعداد میں مسلم ادارے تعلیمی‘ ثقافتی‘ علمی اور تربیتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔
مسلمانوں اورفرانس کے تعلقات کی پوری تاریخ میں یہ پہلو اہم ترین رہا ہے کہ انھیں کیونکر فرانسیسی تہذیب و ثقافت میں ڈھالا جائے۔ عہداستعمار میں الجزائر اور پڑوسی ممالک ان کوششوں کا بنیادی ہدف رہے۔ عربی زبان کو عرب ممالک میں اجنبی بنانے کی کوشش کی گئی۔ لباس و طعام یکساں کر دیے گئے اور ہر طرف فرانسیسی تہذیب غالب ہوتی چلی گئی۔ فرانس کے اندر بھی یہ کش مکش جاری رہی لیکن نرمی اور خاموشی سے۔ اکثریت اس بات کو اپنا فطری حق سمجھتی ہے کہ اپنی تہذیب وثقافت اقلیت کی زندگی میں غالب کر دے۔
فرانسیسی مسلمانوں نے پورے اخلاص و محنت سے فرانس کی تعمیرمیں حصہ لیا‘ فرانس کے قوانین کا احترام کیا اور فرانس کے قومی مفادات کو اپنے مفادات سمجھا۔ فرانس کے سیکولر قوانین نے ہر شہری کو دین و اعتقادی آزادی کی ضمانت دی۔ بعض اوقات ایسا ہوا کہ کسی فرد یا ادارے نے کسی مسلم فرانسیسی کی آزادی مذہب کو مقید کرنا چاہا تو خود اعلیٰ سطحی حکومتی ذمہ داروں نے مداخلت کرتے ہوئے ان رکاوٹوں کو دُور کر دیا۔ ۱۹۸۹ء اور پھر ۱۹۹۲ء میں جب بعض طالبات کو حجاب‘ یعنی اسکارف سے منع کرنے کی کوشش کی گئی تو عدلیہ کے اعلیٰ ترین ادارے اسٹیٹ کونسل نے یہ فیصلہ دیا کہ ’’دینی شعائر کا التزام ریاست کے سیکولر نظام سے متصادم نہیںہے‘‘۔
حال ہی میں سابق فرانسیسی وزیر برنرسٹازے کی زیرصدارت تشکیل پانے والی کمیٹی نے یہ کہتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگا دی ہے کہ ہم کوئی بھی دینی علامت لے کر مدارس میں آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس طرح مسلم طالبات کے حجاب‘ عیسائیوں کے صلیب کے نشان اور یہودیوں کی مختصر ٹوپی کیپا‘ تعلیمی اداروں میں ممنوع قرار دے دیے گئے ہیں۔ صدر شیراک نے تیونس کے ایک مدرسے کا دورہ کرتے ہوئے بیان دیا کہ ’’مکمل سیکولر فرانسیسی حکومت طالبات کواجازت نہیں دے سکتی کہ وہ اپنے ہدایت یافتہ ہونے کا اعلان کرتی پھریں۔ حجاب میں جارحیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’فرانس میں مسلمانوں کی اکثریت سے ہمیں کوئی شکوہ نہیں ہے اور ہماری حکومت فرانس ہجرت کرجانے والوں کواپنے ماحول و معاشرے میں ڈھالنے کی پوری سعی کر رہی ہے۔ لیکن ظاہری دینی علامتوں اور دوسروں کو کھلم کھلا اپنے دین کی طرف بلانے کی اجازت نہیں دے سکتے‘‘۔ اس سے پہلے فرانسیسی وزیراعظم جان پیررافاران بھی کہہ چکے تھے کہ ’’سرکاری اسکولوں میں حجاب کو بہرصورت مسترد کر دینا چاہیے‘‘۔
برنرسٹازے کمیٹی نے ۱۱ دسمبر ۲۰۰۳ء کو اپنی رپورٹ میں ایک طرف تو دینی ’’علامت‘‘ قرار دیتے ہوئے حجاب کو ممنوع قرار دے دیا۔ ساتھ ہی مسلمان کمیونٹی کے لیے عیدالاضحی اور مسیحیوں کے لیے عیدغفران کو سرکاری چھٹی قرار دینے کی سفارش کی تاکہ مذاہب کی آزادی کا تاثر باقی رہے۔
یہ سفارشات تیار کرتے اور حکومت کی طرف سے انھیں منظور کرتے ہوئے جس بڑی حقیقت کو فراموش کرنے کی کوشش کی گئی وہ اسلام میں حجاب کی حیثیت و اہمیت ہے۔ فرانسیسی حکمران یقینا جانتے ہوں گے کہ اسلامی حجاب‘ مسیحی صلیب یا یہودی کیپا کی طرح کوئی علامت نہیں‘ خالق کی طرف سے قرآنِ کریم و سنت نبویؐ میں دیا جانے والا صریح حکم ہے۔ مسلمانوں میں یہ فقہی اختلاف تو رہا ہے کہ حجاب کی کیفیت و حدود کیا ہوں‘ چہرے کو ڈھانپا جائے یا چہرہ و ہاتھ کھلے رکھتے ہوئے باقی پورا جسم ڈھانپا جائے‘ لیکن کوئی بھی مسلمان اس امرِقرآنی کا انکار نہیں کرسکتا کہ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّص (النور۲۴: ۳۱)‘خواتین اپنی چادریں (سر کے علاوہ) اپنے سینوں پر بھی ڈالے رکھیں۔
اس حیرت ناک فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مختلف فرانسیسی ذمہ داران کی طرف سے مختلف مضحکہ خیز تاویلات سامنے آئیں۔ کبھی کہا گیا: ’’طالبات کو ان کے گھر والوں کی طرف سے حجاب پر مجبور کیا جاتا تھا‘ انھیں اس جبر سے نجات دلانا مقصود ہے‘‘۔ کبھی کہا گیا: ’’خواتین و مرد برابر ہیں۔ حجاب سے مرد و زن میں تفرقہ رواج پاتا ہے‘‘۔ کبھی کہا گیا: ’’مذہبی تفریق کو بلاتفریق ختم کر دیا گیا ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں پر بھی پابندی عائد ہوئی ہے‘‘۔ لیکن ان تمام تاویلوں کا بودا پن خود یہ تاویلیں پیش کرنے والوں کو بھی بخوبی معلوم ہے۔ اگر صلیب و کیپا کے ساتھ ہلال و ٹوپی کا تقابل ہوتا تو شاید اتنی حیرت نہ ہوتی لیکن یہاں تو سارے کا سارا ہدف ہی مسلمان ٹھیرے کہ وہ اپنے رب کا حکم مانیں یا فرانسیسی حکومت کا۔
سابق وزیرتعلیم کلوڈ الاجر نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’سیکولرازم کو اسلام کے مطابق نہیں ڈھلنا‘ اسلام کو فرانسیسی سیکولرازم کے مطابق ڈھلنا ہوگا‘‘۔ اسی طرح کی ایک بات ۱۶۰۰ عیسوی میں پیڈروفرانکیزا نے اپنے آقا شاہ فلپ سوم سے اپنی سفارشات میں کہی تھی۔ اس نے کہا تھا: ’’ہمیں ہرممکنہ اقدامات کرتے ہوئے مسلمانوں کو اس بات سے روکنا ہوگا کہ وہ اپنے مُردوں کو اپنے دینی رواج کے مطابق دفن کریں۔ ہمیں ان کی زبان‘ ان کا مذہبی لباس‘ حلال گوشت پر ان کا اصرار‘ ختم کرنا ہوگا۔ ان کی مساجد و مدارس اور حمام ڈھا دینا ہوں گے‘‘۔ لیکن جب ان سفارشات پر عمل درآمد کروانے کی ہرممکن کوشش کرنے کے بعد بھی انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو اسی فرانکیزا نے دوبارہ لکھا: ’’ان مسلمانوں سے خیر کی اُمید نہیں۔ یہ موت قبول کرلیں گے‘ اپنی دینی روایات نہیں چھوڑیں گے‘‘۔
حالیہ فرانسیسی فیصلے کا تجزیہ کرتے ہوئے لاتعداد تجزیے لکھے گئے ہیں لیکن ہالینڈ سے ایک عرب تجزیہ نگار یحییٰ ابوزکریا کا یہ تبصرہ اہم ہے کہ ’’فرانس میں اتنی بڑی مسلم آبادی ہے کہ ان کی خواتین کے مقدس و عفیف حجاب نے فرانس کے عریاں و فحش کلچر کو خطرے میں ڈالنا شروع کر دیا تھا‘‘۔ جیسے جیسے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ ان میں اور خود غیرمسلموں میں بھی اسلامی تعلیمات سے آگاہی کا شعور بڑھتا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں خود مغرب میں جنم لینے اور پرورش پانے والے مغربی مسلمان نوجوان مغرب کے لیے بڑا سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ یہ نوجوان انھی کی زبان‘ انھی کی اٹھان رکھتے ہیں۔ اپنے قانونی و اخلاقی حقوق و فرائض سے آگاہ ہیں‘ شراب و شباب کی غلاظت سے محفوظ ہیں اور اپنے دین کو ہر چیز سے زیادہ قیمتی و مقدس سمجھتے ہیں۔ اس نسل کو اس ’’متشدد دینی سوچ‘‘ سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس عجیب فرانسیسی فیصلے پر مختلف اطراف کا ردعمل بھی عجیب تھا۔ صدربش نے جو مسلمانوں کے خلاف پالیسیوں کے سرخیل ہیں‘ اسکارف کے حق میں بات کی اور کہا کہ مسلم خواتین کو یہ حق ملنا چاہیے کہ اپنے مذہب کے مطابق سر پر اسکارف رکھ سکیں۔ امریکہ میں بھی اس کی آزادی ہے۔ دوسری طرف عالمِ اسلام کے تاریخی مرجع جامعہ الازھر کے سربراہ محمد سیدطنطاوی نے ارشاد فرمایا: ’’اسکارف کے خلاف احکامات فرانس کا اندرونی مسئلہ ہے‘ ہم مداخلت نہیں کرسکتے۔ فرانس کو اپنی مرضی کے مطابق قانون سازی کا حق ہے۔ جو مسلمان خواتین فرانس میں رہتی ہیں وہ اضطرار کی حالت میں اسکارف چھوڑ سکتی ہیں‘‘۔ البتہ جامعہ الازھر کے باقی علماے کرام اور خود مفتی مصر نے دوٹوک الفاظ میں کہا: ’’حجاب صریح حکم خداوندی ہے۔ کوئی علامت یا اختیاری امر نہیں۔ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ خالق کے حکم سے متصادم احکام جاری کرے‘ یا ان پر عمل درآمد کرے۔ یہی موقف مغرب ومشرق میں مسلم اکثریت کا ہے۔ ۱۷ جنوری ۲۰۰۴ء کو یورپ کے اکثر اور لبنان‘مصر‘ اُردن‘ ترکی‘عراق سمیت متعدد ممالک میں ہزاروں خواتین کے مظاہروں اور اجتماعات میں اس موقف کا اعادہ کیا گیا۔
۱۱ دسمبر کو برنر سٹازے کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے سے پہلے صدرشیراک نے ۳ سے ۵دسمبر کو تیونس کا دورہ کیا اور تیونس میں حجاب پر پابندی کی توصیف و ستایش کی۔ فرانسیسی اخبارات نے ’’بے پردہ تیونس‘‘ کے عنوان سے بڑی بڑی سرخیاں سجاتے ہوئے فرانس کے کئی علاقوں میں یہ اخبار مفت تقسیم کیا۔ واضح رہے کہ تیونس ایسا اکلوتا مسلم ملک ہے جہاں کے دستور میں اسکارف پر پابندی (شق ۱۰۸) ہے۔ سر پر اسکارف رکھنے والی خواتین کو تعلیم‘ ملازمت‘ حتیٰ کہ علاج کے حق سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ ترکی میں بھی یہ مسئلہ گمبھیر ہے لیکن وہاں یہ پابندی دستور میں نہیں‘ اعلیٰ تعلیمی کونسل کے احکامات کے طور پر لاگو ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام تر پابندیوں‘ تعذیب اور سزائوں کے باوجود ان دونوں ممالک میں بھی اسکارف رکھنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ حکمران اس اضافے پر حیران و ششدر ہیں۔ فرانس میں یہ پابندی لگنے کے بعد وہاں بھی اس تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ عام مسلمانوں کے دل میں یہ احساس قوی تر ہوا ہے کہ فرانس میں لگنے والی اس پابندی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا گیا‘ تو یہ وبا دیگر مغربی ممالک میں بھی پھیلتی چلی جائے گی۔ اب بلجیم سے بھی یہ صدا اٹھی ہے کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈوں کی تصویر میں تمام خواتین کا ننگے سر ہونا ضروری ہے۔ فرانس میں اس پابندی پر احتجاج اس متعدی مرض کو پھیلنے سے روکنے کی ایک لازمی تدبیر بھی ہے۔
جنرل پرویز مشرف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ: ’’دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی روشن چہرہ پیش کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ اصولی طور پر ان کی یہ بات بھی درست ہے کہ: ’’پاکستان کو ایک ماڈرن ترقی پسند معتدل اسلامی ریاست بنانا چاہیے‘‘۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس سے ان کی مراد کیا ہے؟ اسلام کے جدید تصور اور ماڈرن اسلامی ریاست کے نام پر کمال اتاترک اور متعدد حکمرانوں نے جو گل کھلائے ہیں اور پرویز مشرف نے جس طرح انھیں اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘ اس سے یہ سوال ایک گہری تشویش میں بدل جاتا ہے۔ جلتی پر تیل کا کام دورئہ امریکہ سے واپسی کے فوراً بعد ان کے دورئہ تیونس نے کیا ہے جہاں انھوں نے تیونس کے ساتھ یہ انوکھا معاہدہ کیا کہ ’’دونوں مسلم ممالک مل کر اسلام کا جدید ماڈل پیش کریں گے‘‘۔ اس سے پہلے اس نوعیت کا معاہدہ دنیا میں کہیں نہیں ہوا ہوگا۔
تیونس کے حالات سے بے خبر پاکستانیوں کے لیے یہ شاید کوئی اچنبھے کی بات نہ ہو‘ لیکن جو شخص تیونس اور اس کے ماڈرن اسلام کا حال جانتا ہے‘ اس کے لیے یہ معاہدہ کسی خوف ناک المیے سے کم نہیں کیونکہ سابق صدر بورقیبہ اور حالیہ صدر بن علی نے جدید اسلام کے نام پر تمام دینی بنیادوں کو ڈھانے کی کوشش کی ہے۔ روزہ تک ساقط کر دیا‘ نماز پڑھنا دہشت گردوں کی علامت قرار دے دیا گیا‘ عریانی تہذیب و ثقافت کا حصہ بن گئی‘ ساحل سمندر پر مغربی ممالک جیسے نظارے عام ہوگئے۔ خواتین کے مساویانہ حقوق کے نام پر قرآن کریم کے وراثتی احکام کو منسوخ کرتے ہوئے ہر خاتون کو وراثت میں مرد کے مساوی حصہ دینے کا اعلان کیا‘ شراب جیسی اُم الخبائث کی ہر ممکنہ حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایک طویل فہرست ہے جو ماڈرن اسلام کے نام پر مسلط کی گئی۔
’’جدید اسلام‘‘ پیش کرنے کی یہ کوئی پہلی یا آخری کوشش نہیں ہے۔ گذشتہ صدی میں ترکی اور مصر سمیت مسلم ممالک کے کئی حکمران یہ جنون پال چکے ہیں۔ اب بھی امریکی سائے تلے پلنے کی خواہش رکھنے والے حکمران اسی کینسرکا شکار ہیں۔ فلسطین میں تحریک مزاحمت ختم کرنے اور صہیونی ریاست سے دوستی کروانے کے لیے گذشتہ پوری دہائی ان کوششوں میں صرف ہوگئی کہ جہاد سے متعلقہ تمام قرآنی آیات‘ احادیث رسولؐ اور مضامین و تحریروں کو تمام تعلیمی نصابوں سے خارج کر دیا جائے۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اب اسی راستے پر مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ایک تیونسی ’’اسکالر‘‘ العفیف الاخضرنے اس بارے میں جو کچھ کہا ہے ذرا دل تھام کر اس کا حال بھی سن لیں۔
۴ جولائی ۲۰۰۳ء کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک کانفرنس میں اس نے کہا کہ ’’عالم اسلام میں پھیلتی ہوئی دہشت گردی کا اصل سبب یہ ہے کہ مسلمان اب بھی زمانہ قدیم کی اسی فقہ کو درست سمجھتے ہیں جو غیرمسلموں کی تقلید کرنے کو حرام قرار دیتی ہے۔ ہماری دینی نرگسیت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اسلام آنے کے بعد تمام سابقہ ادیان منسوخ ہوچکے ہیں۔ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ فقہ اسلامی کی ڈکشنری سے لفظ ’’کفار‘‘ خارج کر دیا جائے‘‘۔الاخضر نے اس بات پر فخر کرتے ہوئے کہ ۱۹۵۶ء میں اسی کی تحریک پر جامعہ الزیتونہ بند کی گئی تھی۔ تجویز دی کہ ’’تمام مسلم دارالحکومت اپنے ہاں تیونس کے تجربات پر عمل کریں‘‘۔ اس نے کہا کہ ’’تمام عرب ممالک کو زندگی کے ہر شعبے میں انسانی حقوق کی تعلیم دینا چاہیے جیسا کہ تیونس میں ہو رہا ہے تاکہ اس اسلامی شعور سے چھٹکارا پایا جا سکے جو حلال اور حرام کے چکروں میں پھنسا ہوا ہے‘‘۔ اس نے مغربی دنیا کو عالمِ اسلام میں براہِ راست مداخلت کی دعوت دیتے ہوئے کہا: ’’دینی دہشت گردی کا خطرہ مغرب تک جاپہنچنے کے بعد اب یہ آپ کی اپنی ضرورت بھی ہے کہ آپ دینی تعلیم میں اصلاحات کے لیے مسلمانوں کی مدد کریں‘‘۔
ایک اور نام نہاد مسلم دانش ور ڈاکٹر حیدر ابراہیم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’مسلمانوں کی پستی کی وجہ ان کا اس اختلاف میں پڑے رہنا ہے کہ کیا نص ناقابلِ تبدیلی ہے یا اسے زندگی کے معاملات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے… مسلمان زندگی کے متعلق سوچنے سے زیادہ آخرت کے متعلق سوچتے ہیں‘‘۔ پھر مزید کھل کر کہا کہ ’’مسلمانوں کو اس طرح کی آیاتِ قرآنی کے سحر سے نکل آنا چاہیے کہ ’’کنتم خیر اُمۃ اخرجت للناس… تم بہترین اُمت ہو‘ لوگوں کے لیے اٹھائے گئے ہو‘‘ کیونکہ اس آیت سے (نعوذباللہ) تکبر اور تعلّی پیدا ہوتی ہے۔
اسی کانفرنس میں ایک اور عرب دانش ور اڈوینس نے ان دونوں کی باتوں کو اپنی مسیحیت کے لبادے میں زیادہ وضاحت سے بیان کر دیا۔ اس نے کہا: ’’معلوم نہیں ہم یہاں کیوں جمع ہوئے ہیں؟ کیا واقعی ثقافتی تجدید اور صراحت سے بات کرنے کے لیے یا اب بھی ممنوعات (taboos) پر سکوت اختیار کرنے کے لیے؟ تم لوگ بصراحت کیوں نہیں کہتے کہ ترقی کی راہ میں سب سے پہلی رکاوٹ وحیِ الٰہی اور اسلام ہے۔ اس بات کو پوری جرأت اور صراحت سے بیان کرنا ہوگا ورنہ ترقی نام کی کوئی چیز وجود میں نہیں آسکے گی‘‘۔
بدقسمتی سے اڈوینس نے یہ خرافات سرزمین ازھر پر مصری وزیرثقافت کی طرف سے بلائی گئی ایک کانفرنس میں کی۔ اس کے تمام شرکا اسی قبیل کے تھے‘ اور یہ سب کچھ تجدید کے نام پر ہو رہا تھا اور امریکی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہو رہا تھا۔ امریکی پیمانے کے مطابق یہ سب اقدامات ماڈرن اسلام کی ضروری بنیادیں ہیں۔ ان اقدامات اور دردیدہ دہنی کے بعد ہی کوئی شخص معتدل اور جدت پسند ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے سرگرم متحرک یہودی ڈینئل پائپس سے پوچھا گیا کہ ’’کیا عربوں اور مسلمانوں میں بھی کوئی معتدل افراد پائے جاتے ہیں؟‘‘ اس نے شدت سے نفی کرتے ہوئے کہا: ہرگز نہیں۔ پھر کہا: ہاں البتہ سلمان رشدی اور تیونسی صدر زین العابدین بن علی اعتدال پسند شخصیات ہیں‘‘۔ (المجتمع‘ کویت‘ شمارہ ۱۴۸۶‘ جنوری ۲۶- ۲۰۰۲ئ)
گذشتہ ۳۰ سال میں جنرل پرویز مشرف وہ پہلے پاکستانی حکمران ہیں جو تیونس کے دورے پر گئے اور وہاں تاریخ کا یہ منفرد معاہدہ کر آئے۔اس معاہدے کے بعد خود تیونس کے عوام نے پاکستان اور اس کے حکمران کے بارے میں کیا تصور قائم کیا ہوگا‘ جنرل صاحب اور ان کے کسی ساتھی کو اس کی کوئی پرواہ نہ ہو۔ لیکن جنرل صاحب کے سامنے یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ تیونسی صدر حبیب بورقیبہ کی سالہا سال کی کوششوں اور بن علی کے سولہ سالہ اقتدار میں دین کے تمام سوتے خشک کر دینے کے منصوبوں کے باوجود ان دنوں تیونسی حکمران پریشان ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے خواتین میں حجاب کا اور مساجد میں نمازیوں کا تناسب اچانک کیوں بڑھ گیا ہے۔ ’’اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا‘‘ کے مصداق ماڈرن تیونس کے حکمران یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ کیا مسلم عوام کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دُور رکھنے کے لیے کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہوا میں مچھلیاں پالنا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب حقائق جنرل پرویز مشرف سے مخفی تھے یا یہ کہ انھی حقائق کی وجہ سے انھیں تیونس کے ساتھ جدید اسلا م متعارف کروانے کے لیے معاہدوں کے سفرپر بھیجا گیا اور کیا واقعی جنرل مشرف رشدی‘ بن علی کے ساتھ ایک تیسرے مسلمان کا نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ وقت بہت جلد ان سوالات کا جواب دینے والا ہے۔ لیکن خود جنرل صاحب خالق کائنات اور پاکستانی قوم کو کیا جواب دیں گے؟ ایمان‘ تقویٰ‘ جہاد فی سبیل اللہ کی امین پاکستانی قوم کو؟