عبد الغفار عزیز


۲۰۱۱ء میں عالم عرب کے کئی ممالک میں آمریت سے نجات کی لہر اُٹھی۔ تیونس، مصر، لیبیا، شام اور یمن میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ان میں سے ہر ملک کے حالات مختلف اور تفصیل طلب ہیں۔ اس لیے اختصار کی خاطر صرف شام ہی کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ شامی عوام ۱۹۶۵ء سے    حافظ الاسد اور پھر بشار الاسد کے جابرانہ قہر و تسلط کا شکار ہیں۔ اس دوران وہاں ان پر وہ مظالم توڑے گئے کہ بیان کرتے ہوئے پتھر سے پتھر دل بھی تھرا جائیں، لیکن عوام نے مسلسل صبر سے کام لیا۔ تیونس اور مصر میں عوام کو عارضی رہائی ملی، تو شامی عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے۔ لیبیا کے سفاک حکمران کی طرح بشار الاسد نے بھی پُرامن مظاہرین پر بارود کی بارش کردی۔ لیبیا تیل کے سمندر پر واقع ایک بڑا ملک تھا۔ ناٹو افواج میدان میں کود پڑیں اور قذافی پر پل پڑیں۔ وہاں کھیل ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ اسلامی قوتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ملک کے ایک حصے کو مسلسل انتشار کا شکار رکھا جارہا ہے۔ لیکن ملک کا ایک بڑا علاقہ جنگ سے محفوظ ہے۔

شام مقبوضہ فلسطین کے پڑوس میں واقع ایک اہم تاریخی ملک ہے۔ اس کے ایک حصے جولان (گولان) پر صہیونی ریاست نے قبضہ کررکھا ہے۔ شامی حکومت نے ایک سیاسی کارڈ کے طور پر ہی سہی مختلف فلسطینی تنظیموں کو وہاں رہنے کی اجازت دے رکھی تھی اور اس حقیقت سے بھی سب آشنا ہیں کہ صہیونی ریاست کو جب بھی حقیقی خطرہ لاحق ہوگا، اس میں شام کا کردار بہت اہم ہوگا۔ اس لیے بشار الاسد کو تحفظ دیتے ہوئے شام کو مکمل تباہی کا نشانہ بنادیا گیا۔

گذشتہ چار سال سے جاری شام کی خانہ جنگی نہ صرف اب ایک علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرگئی ہے، بلکہ اس آگ میں فرقہ واریت اور علاقائی نفوذ کی دوڑکا تیل بھی چھڑکا جارہا ہے۔لیبیا میں قذافی کے خاتمے کے لیے ناٹو افواج آن دھمکی تھیں۔ بدقسمتی سے شام میں بشار کو بچانے کے لیے ایرانی افواج میدان میں ہیں۔ پہلے اسے ایک الزام کہا جاتا تھا، اب اس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جارہا ہے۔ روس بھی اپنے اسلحے اور کامل سیاسی سرپرستی کے ساتھ بشار کی پشت پر کھڑا ہے۔ امریکا اور سعودی عرب بشار کی مخالفت کررہے ہیں، لیکن عملاً شامی عوام کی ایسی کوئی مدد نہیں کررہے کہ وہ بشار سے نجات حاصل کرسکیں۔ پڑوسی ہونے کے ناتے ترکی پر لاکھوں شامی مہاجرین کا اتنا بوجھ آن پڑا ہے کہ شامی عوام کی کوئی عسکری معاونت اس کے بس میں نہیں رہی، اور نہ زمینی حقائق کی روشنی میں اس کا ارادہ ہے کہ بشار کے مقابل لڑتے لڑتے بالآخر ایران کے مقابل ہی  آن کھڑا ہو۔ اس ساری صورت حال کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ گذشتہ چار برس میں شام عملاً کھنڈرات کی شکل اختیار کر گیاہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد بے گناہ عوام جن میں ہزاروں بچے شامل ہیں، شہید ہوچکے ہیں۔ تقریباً ۲ کروڑ عوام دربدری پر مجبور ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود بشار انتظامیہ، اب بھی ان پر یوں بمباری کرتی ہے، جیسے شاید کسی جنگ کے دوران میں بھی نہ کی جاتی ہو۔

سفاکی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے تباہ کن بموں کی بارش سے تسکین نہیں ہوتی تو بارود سے بھرے ٹینکر فضا میں لے جا کر اپنے مخالف عوام پر برسادیے جاتے ہیں۔ نام نہاد مہذب دنیا اس سارے ظلم پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔امریکا ایک بار اور صرف اس وقت کچھ حرکت میں آیا جب بشار انتظامیہ نے کیمیائی بم پھینک کر سیکڑوں معصوم بچے شہید کردیے۔ اس وقت چند روز میں ایسی فضا بنادی گئی کہ گویا اگلے ہی روز ساری دنیا بشار پر پل پڑے گی اور عوام کو سُکھ کا سانس نصیب ہوگا۔ لیکن امریکا کا اصل ہدف عوام کی مدد یا خانہ جنگی کا خاتمہ نہیں، شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ تھا جو مستقبل میں کسی بھی وقت اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ وہ دن اور آج کا دن عالمی تفتیش کار ان کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش و تدفین میں مصروف ہیں۔ بشار بھی وہیں، ا س کے مظالم بھی وہی اور مظلوم عوام کی بربادی بھی اسی طرح جاری و ساری۔

داعش: قیام اور پس منظر

اس ماحول میں گذشتہ سال، یعنی ۲۰۱۳ئمیں اچانک وہاں ایک مسلح گروہ سامنے آیااور  تین سالہ قربانیوں کے بعد بشار انتظامیہ سے آزاد ہوجانے والے علاقوں میں اپنی اسلامی ریاست: الدولیۃ اسلامیۃ کے قیام کا اعلان کردیا۔ پھر ۲۰۱۴ء کے وسط میں اس کی کارروائیوں کا دائرہ عراق کے کئی علاقوں تک پھیل گیا اور ریاست، ریاست اسلامی در عراق و شام: الدولۃ الاسلامیۃ فی العراق و الشام (داعش) میں بدل گئی۔ حیرت انگیز طور پر اس کی کارروائیوں کے سامنے عراق کے اہل سنت اکثریتی علاقوں میں موجود عراقی فوج، جن کا ۹۹ فی صد شیعہ مذہب کا پیروکار تھا، بلاادنیٰ مزاحمت اپنا جدید ترین اسلحہ چھوڑتے ہوئے پسپا ہوگئی۔

بدقسمتی سے عراق میں امریکی افواج کی آمد کے بعد وہاں عرب کرد اور شیعہ سنی تقسیم اتنی گہری کردی گئی ہے کہ نوری المالکی کی شیعہ افواج کے مقابلے میں ایک سُنّی مسلح گروہ کا کامیاب ہونا، آغاز کار میں سنی عوام کو اپنی فتح یابی محسوس ہوا۔ قبائلی سرداروں، ان کے مسلح جتھوں اور   صدام حسین کے سابق فوجیوں نے بھی داعش کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق چند ہفتوں میں ہی داعش نے سب سے اپنی بیعت پر اصرار کرتے ہوئے اپنے ہرمخالف کی گردن اُڑانا شروع کردی۔ عمومی احکام شریعت کے بارے میں بھی کوئی دوسری راے رکھنے والوں کو اسی انجام سے دوچار ہونا پڑا۔

عراق میں الاخوان المسلمون کے ایک بزرگ رہنما، اخوان کی سیاسی تنظیم ’حزب اسلامی‘ کے سابق سربراہ اور بغداد یونی ورسٹی کے علاوہ عالم عرب کی کئی جامعات میں شریعت اسلامی کے سابق پروفیسر، ڈاکٹر محسن عبدالحمید نے راقم سے ایک حالیہ ملاقات میں بتایا کہ داعش کے خلیفہ  ابوبکر البغدادی کا نام ایاد السامرائی ہے اور وہ ان کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ کسی نے جنابِ بغدادی سے پوچھا کہ آپ کے استاد ڈاکٹر محسن عبد الحمید نے آپ کی بیعت نہیں کی، اگر وہ آپ کے ہاتھ آگئے تو کیا آپ انھیں بھی ذبح کردیں گے؟ خلیفہ صاحب نے جواب دیا: بہرحال وہ میرے استاد ہیں، میں خود تو انھیں ذبح نہیں کروں گا، لیکن اگر میرے کسی ساتھی نے ایسا کردیا تو میں اسے منع نہیں کروں گا۔ داعش کا فکر و فلسفہ جاننے کے لیے شاید اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

اس سب پر مستزاد یہ کہ شام اور عراق میں داعش کی ۸۰ فی صد کارروائیوں کا نشانہ وہی عوام بنے اور بن رہے ہیں، جو پہلے ہی بشار الاسد اور مذہبی منافرت کے ہاتھوں بدترین مظالم کا شکار تھے۔ داعش بشار کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کرتی ہے لیکن اس کی سب سے زیادہ کارروائیاں خود بشار کے خلاف برسرپیکار مختلف جہادی تنظیموں ہی کے خلاف ہورہی ہیں۔ المناک حقیقت یہ ہے کہ داعش عراق اور شام میں اخوان اور اس کی برادر تنظیموں کو بالخصوص کارروائیوں کا نشانہ بنارہی ہے۔ دونوں جگہ اس کے ہاتھ ایسے ایسے قیمتی، باصلاحیت اور اللہ کے رنگ میں رنگے نوجوانوں کے خون سے رنگے ہیں کہ کسی کلمہ گو انسان کے ہاتھوں ان کی شہادت کا سنیں، تو کانوں کو یقین نہ آئے۔

چند غور طلب پھلو

عراق اور شام کی اس صورت حال نے کئی اہم سوال اور نکات پیدا کردیے ہیں:

  •  شام اور عراق میں مسلح گروہ تو وہاں امریکی قدم پہنچنے کے بعد سے ہی وجود میں آنا شروع ہوگئے تھے۔ کئی تنظیمیں براہِ راست امریکی استعمار سے مقابلے کے لیے ہی وجود میں آئیں۔ ان سب کو کسی عالمی ابلاغیاتی مہم کے ذریعے اتنا نمایاں نہیں کیا گیا، جتنا داعش کی تنظیم کو چند ہفتوں کے اندر بڑھا چڑھا کر پیش کردیا گیا۔
  •  فوراً ہی ۴۰کے قریب ممالک کو جمع کرتے ہوئے اس کے خلاف ایک عالمی بلاک بنادیا گیا اور ۵۵۰؍ ارب ڈالر کی خطیر رقم اس کے مقابلے کے لیے مختص کردی گئی جس کا زیادہ حصہ خود مسلمان ملکوں ہی سے وصول کیا جائے گا۔
  •  چند ہزار افراد سے جنگ کے لیے خطیر بجٹ ساتھ ہی یہ بھی اعلان کردیا گیا کہ یہ جنگ آیندہ ۱۰ برس تک جاری رہے گی۔
  •  ایک طرف داعش سے اتنی بڑی جنگ لڑی جارہی ہے اور دوسری طرف اسی سے تیل کے اہم عراقی کنوؤں سے نکالا جانے والا تیل بلیک مارکیٹ میں خریدا جارہا ہے۔
  •  اگرچہ خود عراق و شام میں اس کے قبضے میں آنے والے علاقوں میں ابھی سب نے اس کی بیعت نہیں کی، لیکن تقریباً ہر مسلم ملک کے درو دیوار پر کوئی جناتی ہاتھ ’داعش‘ کا خیر مقدم کررہا اور خلیفہ البغدادی کو پکار رہا ہے۔ لیبیا اور مصر کے بعض علاقوں میں تو اس کا باقاعدہ ظہور بھی ہوچکا ہے۔

l ۴۰ممالک کے داعش مخالف بلاک اور ۵۵۰؍ ارب ڈالر کے بجٹ کے بعد بھی داعش کے خلاف فوجی کارروائیاں صرف فضائی حملوں تک محدود ہیں۔ خود امریکی عسری ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جب تک زمینی کارروائیاں نہ کی گئیں یہ فضائی حملے بے ہدف اور بے مقصد رہیں گے۔ لیکن اس فوجی حکمت عملی کی بلی بھی اس وقت تھیلے سے باہر آگئی جب امریکا بہادر دُہائیاں دینے لگا کہ زمینی کارروائیاں ناگزیر ہوگئیں۔ ہم بوجوہ یہ کارروائیاں نہیں کرسکتے، پڑوس میں واقع ترکی اگر واقعی دہشت گردی کے خلاف ہے تو اپنی زمینی افواج شام میں اتارے۔ گویا اصل مقصد ترکی کو پرائی آگ میں جھونکتے ہوئے اس کا خون بھی مسلسل نچوڑنا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ترکی اس پھندے میں نہیں پھنسا۔

یہ اور اس طرح کے کئی بنیادی پہلو ہر واقف حال کو اصل حقائق سے قریب تر پہنچا دیتے ہیں۔ لیکن ان سوالات و حقائق کا مطلب یہ بھی نہیں کہ داعش یا مماثل مسلح تنظیموں کے سب افراد  کسی کے ایجنٹ یا کارندے ہیں۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ان تنظیموں کے وابستگان کی غالب اکثریت مخلص، نیکوکار اور حصول جنت کی خاطر جان پر کھیل جانے والوں پر مشتمل ہے۔ البتہ ان تمام مخلص و فداکار افراد کو بھی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ صرف اخلاص کا ہونا حقانیت کی دلیل نہیں ہوتا۔ خوارج کی اکثریت مخلصین پر مشتمل تھی لیکن تاقیامت فتنے کاشت کرگئی۔ انھیں یہ چند سوال بھی ضرور اپنے سامنے رکھنا چاہییں:

  •  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کس ہستی نے اپنے قول یا فعل سے یہ تعلیم دی کہ چند افراد اُٹھیں اور ہتھیاروں کے زور پر باقی ساری اُمت کو اپنی بیعت کا حکم دیں اور نہ ماننے پر قابل گردن زدنی قرار دیتے ہوئے اُنھیں ذبح کرنا شروع کردیں۔
  •  اگر تلوار اور توپ کے ذریعے ہی پوری قوم یا اُمت کو زیر اطاعت لانا شریعت قرار پائے تو آخر اس میں اور بدترین ڈکٹیٹر شپ میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟
  •  اپنے دشمنوں ہی نہیں اپنے مخالفین کو بھی تہ تیغ کرتے چلے جانے اور اپنے ہم وطن غیرمسلموں کی خواتین کو باندیاں بنا کر پیش کرنے سے دنیا کے سامنے اسلام کا کیا تعارف اور کیا تصور پیش کیا جارہا ہے؟
  •  شریعت چند القابات یا اصطلاحات کا نام نہیں۔ مقاصد شریعت میں جان مال، عزت آبرو، بنیادی انسانی آزادیوں کی حفاظت، شورائیت اور مساوات جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں۔ کیا ہم صرف چند الفاظ اور خوش کن اصطلاحات کے اسیر ہو کر تمام مقاصد شریعت کا خون تو نہیں کررہے۔

عالمی امن اور امریکا کا کردار

دوسری جانب خود امریکا اور عالمی برادری کو بھی یہ ضرور بتانا ہوگا کہ:

  •  نائن الیون کی آڑ میں اور القاعدہ کے نام پر تقریباً ۱۴ سالہ جنگ کے نتائج مزید تباہی کے علاوہ کیا نکلے؟ گوانتانامو میں تذلیل آدمیت، اُسامہ بن لادن سمیت ہزاروں القاعدہ ممبروں کی جان لینے، افغانستان اور عراق میں اَربوں نہیں کھربوں ڈالر جنگ اور ہلاکت کی بھٹی میں جھونک دینے کے بعد بھی کیا یہ حقیقت نہیں کہ دنیا آج مزید غیر محفوظ ہوچکی ہے؟
  •  اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ اب ’داعش‘ کا ہوّا کھڑا کرکے ۴۰ممالک کا بلاک بناکر اور ان سے سیکڑوں اَرب ڈالر اس جنگ میں بھسم کروا دینے کے بعد، اس ساری جنگ کے نتائج     نائن الیون کی آڑ میں ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے مختلف نکلیں گے۔
  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ ’نئے مشرق وسطیٰ‘ کے وہ نقشے جو خود امریکی دفاعی وتحقیقی اداروں نے شائع کیے، ان میں خطے کے تمام مسلم ممالک کو مزید تقسیم در تقسیم کرتے ہوئے صرف صہیونی ریاست کی سرحدیں مزید وسعت پزیر دکھائی گئی ہیں۔ اس نقشے پر عمل درآمد کے پہلے قدم کے   طور پر عراق اب عملاً تین الگ الگ ریاستوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔
  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغانستان و عراق پر قبضے کے بعد امریکی دانشوروں نے ایک پالیسی کے طور پر ’’خود ساختہ و منظم فتنہ و فساد’الفوضی الخلاقہ‘ جیسی اصطلاحیں متعارف کروائیں۔  آج مشرق وسطیٰ سمیت اکثر مسلم ممالک میں مستقل، مسلسل اور ’منظم‘ فتنہ و فساد اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ کیا یہ ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کا نیا ورژن ہے؟
  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ خود امریکی پالیسیاں عالم اسلام میں پائے جانے والے اس غم و غصے کا اصل سبب ہیں جو مختلف علاقوں اور مختلف صورتوں میں سامنے آتا ہے۔ فلسطین و کشمیر پر قابض افواج کی مکمل سرپرستی، مصر، شام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں عوام کی آزادیاں سلب کرتے ہوئے ان پر مسلط بدترین ڈکٹیٹرشپ کی کامل پشتیبانی، عراق و افغانستان پر براہِ راست قبضہ اور مختلف مسلم ممالک پر بلا تردد ڈرون حملے وہ ایندھن ہے جو دنیا میں اشتعال کا سبب بن رہا ہے۔ امریکا واقعی دہشت گردی کا شکار اور اس کے خلاف جنگ میں مخلص ہے تو کیوں وہ آگ ہی نہیں بجھا دیتا،  جس سے دھواں اُٹھتا اور اُٹھ سکتا ہے۔
  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکا میدان جنگ و جدال کے علاوہ اپنی اصل جنگ تعلیم، ثقافت اور تہذیب کے میدان میں لڑ رہا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کے ذریعے بلامبالغہ کھربوں ڈالر کا بجٹ مسلم معاشروں میں اباحیت اور اخلاقی تباہی کو ترویج دینے پر خرچ کیا جارہا ہے۔ اس کی یہ کھلی جنگ مسلم نوجوانوں میں پائے جانے والے اضطراب کو مزید ہوا دیتی اور انھیں کسی بھی مخالف انتہا تک لے جانی کا باعث بن سکتی ہے۔ کیا دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ یہ نہیں کہ دنیا پر مسلط اپنی اس تہذیبی دہشت گردی کو ختم کیا جائے؟

دنیا اب ایک عالمی بستی ہے۔ اس کی کوئی بھی روش اب یک طرفہ اور بلا ردعمل نہیں رہتی۔ اس عالمی بستی کے سب باسی ایک دوسرے سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ بحیثیت انسان اگر ہم اپنا اور دنیا کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہم سب کو اپنے اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ آج کی دنیا میں اگر کوئی ایک فریق بھی ظلم، ہٹ دھرمی اور قتل و غارت پر بضد رہا تو یقینا وہ خود بھی اس کا نشانہ بن کر رہے گا۔ ایک مسلمان ہونے کے ناتے حقیقی ذمہ داری ہماری ہے کہ ہم خود بھی حق شناس بنیں اور ظلم و ہلاکت پر تلی دنیا کو بھی حق سے آشنا کرتے رہیں۔ آج کی دنیا میں جان پر کھیل جانا یا دوسروں کی جان لے لینا کوئی بڑا کمال نہیں، اصل کمال یہ ہے کہ ہم اسلام کا روشن اور حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔

بحیثیت مسلمان ہمیں ہر دم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خالق اپنے بندوں کی کمزوریاں بھی جانتا ہے اور ان کی ضروریات و مشکلات بھی۔ دلوں کے راز اور ذہنوں کے خیالات سے باخبر ہستی جانتی ہے کہ راہ ہدایت انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہدایت نصیب ہوجائے تو تیروں سے چھلنی اور تختۂ دار پر جھول جانے والا بھی پکار اٹھتا ہے کہ فزت برب الکعبۃ  ، ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔ اور ہدایت نصیب میں نہ ہو تو خدائی کے دعوے دار کو بھی سب سے پہلے اس کا اپنا دل ملامت کررہا ہوتا ہے کہ تم جھوٹے ہو، فریبی ہو، نامراد ہو۔

ہدایت عطا ہوجانا دوجہاں کی سعادت ہے۔ لیکن ہدایت کا مل جانا ہی کافی نہیں، اس پر ثابت قدم رہنا بھی ناگزیر ہے۔ خاتم النبیینؐ، رحمۃ للعالمینؐ بھی ہمیشہ دُعا فرمایا کرتے: اللّٰہُمَّ یَامُقَلِّبَ القُلُوبِ وِ الاَبصَارِ ثَبِّت قَلبِی عَلَی دِینِکَ، ’’دل و نگاہ کو پھیرنے والے میرے معبود! میرے دل کو اپنے دین پر جمادے‘‘۔ اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے حیرت سے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ بھی یہ دُعا کرتے رہتے ہیں..؟ آپؐ نے فرمایا: بندوں کے دل رحمن کی انگلیوں میں ہیں، وہ جب چاہیں انھیں پھیر دیتا ہے۔ ہدایت اور اس پر ثبات پروردگار کی توفیق کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مہربان ہستی نے بندے کونماز کی معراج سے نوازدیا۔ ہر نماز ہی میں نہیں، نماز کی ہر رکعت میں صراطِ مستقیم کی دُعا لازمی قرار دے دی: اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ... اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ!

عالمی کانفرنس کا اہم اعلامیہ

امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق کی دعوت پر ۳۰ سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے ۵۵ تحریکی قائدین ، علماے کرام اور سکالرز نے جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع عام میں شرکت کی۔ اس موقعے پر دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمان رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ۲۴نومبر۲۰۱۴ء کو لاہور میں منعقد ہوا۔ ستمبر ۲۰۱۳ء میں بھی اسی طرح کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سیّدمنورحسن کی زیر صدارت لاہور ہی میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکا نے دو روز تک اُمت کے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال اور غوروخوض کرنے کے بعد تقریباً انھی الفاظ میں اپنے موقف اور اسلامی تحریکوں کے موقف کی ترجمانی کی تھی۔ الحمدللہ اس اجلاس میں کیے جانے والے متعدد فیصلوں پر دورانِ سال عمل درآمد ہوا۔ حالیہ اجتماعِ عام نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں اور کئی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو ایک بار پھر مل بیٹھنے کا موقع دیا۔ امیرجماعت اسلامی پاکستان جناب سراج الحق کی زیرصدارت ’’ایک اُمت، مشترک منزل‘‘ کے عنوان سے دن بھر مشاورت جاری رہی۔ اختتامِ اجلاس پر کامل اتفاق راے سے منظور کیے جانے والے اعلامیے میں تمام اہم مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔

تازہ اعلامیے کا متن درج ذیل ہے:

 دنیا کو اس وقت جن گمبھیر مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے ان کی بنیادی وجہ عدل وانصاف کا پس پشت ڈالا جانا ہے ۔ ہر وہ شخص یا گروہ اور ملک جو اپنے ہاتھ میں طاقت رکھتا ہے وہ دوسروں کو کچلنے پر تلا ہوا ہے۔ عالمی اقتصادی نظام اور سائنس اور ٹکنالوجی پر دسترس رکھنے والی قوتوں نے  باقی دنیا کے لیے اپنی مرضی کے قوانین گھڑ رکھے ہیں۔ ہر طرف دہرے معیار برتے جارہے ہیں۔

عالم اسلام کا یہ نمایندہ اجلاس کامل غوروخوض کے بعد اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ:

  • مسلم معاشروں میں دعوت الی اللہ کاکام حکمت اور بصیرت کے ساتھ پُرامن طریقوں سے جاری رکھا جائے گا۔ ہم ہر طرح کے تشدد اور انتہا پسندی سے مکمل لاتعلقی کااعلان کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ عالم اسلام میں تبدیلی کا عمل صرف پُرامن طریقہ سے انتخابات اور ووٹ کی پرچی کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔ اس سلسلے میں کوئی ظلم اور تشدد ہمارے پُرامن رہنے کی پالیسی کو تبدیل نہیں کرسکتا۔
  • عالم اسلام کا یہ نمایندہ اجلاس ایک بار پھر اعلان کرتا ہے کہ مسئلہ فلسطین اُمت کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی امن برقرار رکھنے کے دعوے دار فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے ہر طرح کی مکمل حمایت اور بھرپور مدد کریں۔ اس مناسبت سے     عالم اسلام کایہ نمایندہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے فلسطین میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے جاری ناپاک سازشوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔
  • یہ اجلاس غزہ سے ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اور مصری حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ رفح کی گزرگاہ کو اہلِ غزہ کے لیے کھلا رکھے اور اقتصادی پابندیوں کے مکمل خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔
  • شرکا فلسطینی عوام کے حق مزاحمت اور جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں جو تمام بین الاقوامی اور عالمی معاہدوں کے عین مطابق ہے۔
  • عالم اسلام کا یہ نمایندہ اجلاس کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ اس سلسلے میں سیکورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ کشمیری قوم اپنی آزادی اور خود مختاری حاصل کرسکے۔
  • عالم اسلام کا یہ نمایندہ اجلاس مصر میں خونی فوجی انقلاب کی شدید مذمت کرتا ہے   جس کے نتیجے میں مصری عوام سے ان کا جمہوری حق چھین لیا گیا۔ ان کے منتخب صدر کو زندان میں دھکیل دیا گیا۔ منتخب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا گیا اور مصری تاریخ کے شفاف ترین ریفرنڈم کے ذریعے عوام کے منظور کردہ دستور کو چھین لیا گیا۔مصری عوام جو گذشتہ ۱۶ماہ سے ڈھائے جانے والے بدترین مظالم کے باوجود پُرامن اور جمہوری طریقے سے اپنے چھینے گئے حق کے حصول کے لیے پُرامن جدوجہد کر رہے ہیں ہم ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مصری عوام نے ظلم و سفاکیت کے مقابلے میں جرأت اور بہادری کی جو لازوال داستان رقم کی ہے، اجلاس اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور تمام عالمی اور اسلامی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے وہ مصری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
  • یہ اجلاس شام میں جاری نسل کشی، قتلِ عام اور خون کی ہولی کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ ظلم و استبداد کا ۴۰ سال سے زائد مسلط رہنے والا نظام، نہتے عوام پر ظلم و ستم کے کوہ گراں ڈھاتے ہوئے خون کی ندیاں بہارہا ہے۔ ظالم ڈکٹیٹر نے تمام بستیوں اور آبادیوں کو صحراؤں اور بیابانوں میں تبدیل کردیا ہے۔ لاکھوں لوگ قتل ہوچکے ہیں۔ لاکھوں ملک بدر اور بے گھر ہو کر انتہائی کس مپرسی کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیںاور باقی ماندہ شامی عوام اپنے ہی ملک میں اجنبی بنادیے گئے ہیں۔ شرکاے اجلاس ان تمام عالمی اور علاقائی تنظیموں کی بے حسی اور دہرے معیار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو بے گناہ شامی عوام پر توڑے جانے والے مظالم کو ختم کرنے کے لیے ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھا سکے۔ شامی عوام صرف اپنی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے کوشاں ہیں۔ کانفرنس کی نگاہ میں شام میں قتل وغارت رکوانے کی واحد سبیل ڈکٹیٹر شپ سے نجات اور سرزمین شام کی وحدت اور شامی عوام کی تحریک اور انقلاب کی پشتیبانی کرنا ہے ۔
  • شرکاے اجلاس بنگلہ دیش میں نام نہاد حکومتی ٹولے کے ہاتھوں اپوزیشن اور بالخصوص جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف کیے جانے والے ان وحشیانہ اور ظالمانہ اقدامات کی پُرزور مذمت کرتے ہیں جن کی مذمت تمام باضمیر اور عالمی انسانی حقوق کے ادارے کرچکے ہیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے یہ رہنما ساری عمر اپنی قوم کی مخلصانہ خدمت سرانجام دیتے رہے لیکن ایک نام نہاد ٹربیونل کے ذریعے ان کے خلاف ظالمانہ فیصلے کیے جارہے ہیں۔ یہ اقدامات عدل و انصاف اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ کئی عالمی اور غیر جانب دار انسانی حقوق کے ادارے اور تنظیمیں ان فیصلوں کو مسترد کرچکے ہیں۔ یہ اجلاس تمام عالمی اداروں اور اقوام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے فوری اقدامات کریں، بنگلہ دیشی حکومت کو ان مظالم سے باز رکھیں۔ تمام جماعتوں کو کام کرنے کی آزادی دے کر انھیں ملک کی خدمت کا موقع فراہم کرے ۔
  • شرکاے اجلاس میانمار (برما) کے اراکانی مسلمانوں کے خلاف ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔ نیز نہتے اور مظلوم مسلمانوں کی نسل کشی کرنے،باقی  رہ جانے والوں کو شہریت سے محروم کرنے اور انھیں جبری جلا وطن کرنے کو غیر انسانی سلوک سمجھتے ہیں۔ یہ اجلاس بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ان انسانیت سوز مظالم کو روکنے میں  اپنا کردار ادا کرے۔
  • یہ اجلاس دوسرے ممالک میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت خصوصاً افغانستان، عراق ، یمن اور صومالیہ میں استعماری ایجنڈے کو مسترد کرتا ہے ۔ انسداد دہشت گردی کے نام پر ظالمانہ کارروائیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ یہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوگا اور پوری دنیا دہشت گردی ، انتہا پسندی اور انتقام کی آگ کا شکار ہوجائے گی۔
  • یہ اجلاس پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور حکومت ِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ حملے ہمیشہ کے لیے رُکوانے اور ان کے نتیجے میں تباہی کا شکار ہونے والے بے گناہ شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے عملی اقدام اُٹھائے۔

شرکاے اجلاس عرب حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بے گناہوں اور سیاسی حریفوں کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند کریں اور اظہار راے کی آزادی کا احترام کرتے ہوئے انھیں ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔

 ۱۴ جنوری ۲۰۱۱ء کو زبردست عوامی احتجاجات نے برادر مسلمان ملک تیونس پرتین دہائیوں سے مسلط سابق صدر زین العابدین بن علی کو اقتدارچھوڑ کرملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیاتھا۔ اسی سال۲۱۷رکنی دستورساز اسمبلی کے لیے انتخابات ہوئے۔ یہ ملکی تاریخ کے پہلے کثیر الجماعتی انتخابات تھے، اس سے پہلے صرف صدر مملکت اور ان کی پارٹی ہی انتخابات’لڑنے اور جیتنے‘ کی اہل تھی۔   ان انتخابات میںراشد الغنوشی کی سربراہی میں اسلامی تحریک ’ تحریک نہضت‘دوسری تمام پارٹیوں سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی لیکن ۵۰ فی صد نشستوں کے نہ ہونے کی وجہ سے نہضت کی قیادت میںمخلوط حکومت تشکیل پائی۔

پہلی منتخب حکومت کے سامنے متعدد بحرانات اور پیچیدہ قسم کے مسائل تھے جن سے نپٹنے کے لیے دو چار سال ہرگز کافی نہ تھے۔ملک میں جبر سے آزاد نئے سیاسی ماحول کا آغازہی نہیں، سیکولر اور بے دین قوتوں کا اسلام سے خوف بھی ایک مسئلہ تھا۔ بورقیبہ اور بن علی کی حکومتوں کی طرف سے ملک کو اسلامی تشخص سے محروم کرنے اور فرانسیسی اور مغربی تہذیب کو رواج دینے کے لیے کئی دہائیوںپر محیط کوششوں کے اثرات کو مٹانا انتہائی کٹھن اور محنت طلب کام تھا۔نصف صدی سے زائد عرصے سے ملک میں صرف طاقت، خوف اور ظلم کاراج تھا۔ حکمران طبقہ ہرقانون سے بالاتر تھا۔ اب، جب کہ ایک جمہوری حکومت عوام کو نصیب ہوئی تو ایک طرف عوام کو آزادیِ اظہار راے کا موقع ملا، تو دوسری جانب نو منتخب حکومت نے بھی خود کو قانون کا پابند بناتے ہوئے طے کر لیا کہ      وہ ضابطے اور قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرے گی۔ انقلاب کے بعد عموماً حکومتیں کمزور ہوا کرتی ہیں۔ یہی حال نہضت کی قیادت میں مخلوط حکومت کا تھا۔ایک طرف ۵۰ سالہ آمریت کی باقیات کا احتساب مطلوب تھا اور دوسری طرف متعصب سیکولر سیاسی پارٹیوں کی دشمنی کا سامنا تھا۔ اچانک اُٹھ کھڑے ہونے والے مسلح گروہوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی انتہائی حکمت، صبر وتحمل اور جہدمسلسل کی ضرورت تھی۔ حکمرانوں کے ظلم وستم سے تنگ عوام نے بھی جلد بازی سے کام لیتے ہوئے فوری طور پر ہر قسم کے مسائل کے خاتمے کے مطالبات شروع کر دیے تھے۔

لیکن ان سب مسائل کے باوجود اپنے دور حکومت میںنہضت کی قیادت نے داخلی اور خارجی مسائل اور سازشوں کے مقابلے میں انتہائی عقل مندی، تدبر، سیاسی بصیرت اور طویل المدت حکمت عملی کامظاہرہ کیا۔ آنے والے مہ وسال ثابت کریں گے کہ تحریک نہضت کی یہ صابرانہ و حکیمانہ پالیسی سب تحریکات اسلامیہ کے لیے مشعل راہ ہے۔

تحریک نہضت نے ملک کے سیکولر اور لادین عناصر سمیت پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنے، وسیع تر ملکی مفاد میں تنگ نظری اور اَنا پرستی کو ترک کرتے ہوئے مخاصمت اور تصادم کے بجاے وسعت قلبی اور مفاہمت کی پالیسی اختیار کی۔ ہرچیلنج ، سازش اور اشتعال انگیزی کا مقابلہ تحمل، رواداری اور نرم گوئی سے کیا۔راشد غنوشی کی قیادت میں نہضت نے عملی طور پر ثابت کر دیا کہ وہ جمہوریت کے حقیقی علَم بردار ہیں۔وہ ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں جہاں تمام شہریوں کومساوی بنیادی انسانی حقوق میسر ہوں۔تمام شعبہ ہاے زندگی میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ہر فرد اور پارٹی کو ملک کی خدمت کے لیے برابر مواقع میسر ہوں،اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ متعدد عرب ممالک سے ڈکٹیٹرشپ کے خاتمے کے چارسال بعد آج ان ممالک میں سے تیونس وہ واحد ملک ہے ، جہاں جمہوری اقدار قدرے مضبوط نظر آتی ہیں۔انتہائی کٹھن اور دشوار مراحل سے گزرتے ہوئے دوبرس کی سخت محنت کے نتیجے میں ۲۶جنوری ۲۰۱۴ء کونیا آئین منظور ہوا۔ اور ۲۶؍اکتوبر۲۰۱۴ء کو پارلیمانی انتخابات کے موقعے پر عوام نے پہلی مرتبہ پوری آزادی کے ساتھ اظہار راے کا حق استعمال کیا۔جس کے نتیجے میں ملک پُرامن انتقالِ اقتدار کے حتمی مراحل کی جانب گام زن ہے۔

واضح بیرونی مداخلت، نیز اسلامی تحریکات سے کھلی دشمنی کا مظاہرہ کرنے والے بعض  عرب ممالک کی طرف سے نہضت کے خلاف اربوں ڈالر جھونک دیے جانے کے باوجود حالیہ پارلیمانی انتخابات کا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے پایا۔اگرچہ سرکاری نتائج کے مطابق سابق وزیراعظم اور صدر بورقیبہ کے دور میں اہم عہدوں پر رہنے والے الباجی قائد السبسی کی سربراہی میںسیکولر پارٹی ’نداے تیونس‘ ۸۶سیٹیں حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہی لیکن وہ مختلف النوع، مختلف الخیال گروہوں کا ایک مجموعہ ہے جسے صرف ’نہضت‘ دشمنی میں اکٹھا کیا گیا ہے۔ تحریک نہضت ۶۹نشستوں پر کامیاب ہو کر دوسرے نمبر پر آئی ہے۔یکسو اورمضبوط نظریاتی بنیادوں والی جماعت کی حیثیت سے تحریک نہضت ہی نومنتخب ایوان کی اصل قوت ثابت ہوگی۔ نہضت چاہے تو جوڑ توڑ کی سیاست کرکے اب بھی کوئی کمزور حکومت قائم کرسکتی ہے، لیکن اس کی تمام تر توجہ حصولِ اقتدار نہیں، مستحکم اور آزاد ملکی نظام کی تشکیل و استحکام پر مرکوز ہے۔حالیہ پارلیمانی انتخابات اس لحاظ سے بھی اہمیت کے حامل تھے کہ ان کے نتیجے میں ملک میں عبوری سیاسی مرحلے کا اختتام ہوا، اوراس لحاظ سے بھی بہت اہمیت کے حامل تھے کہ یہ انقلاب کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ایک اعصاب شکن سیاسی معرکہ تھا ۔

تحریک نہضت کی قیادت نے کھلے دل سے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے نداے تیونس کے سربراہ الباجی قائد السبسی کو مبارک باد دی ہے، ساتھ ہی ملک کے وسیع تر مفاد میں قومی حکومت تشکیل دینے کا مشورہ بھی دیاہے۔ تیونس کے قانون کے مطابق حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو سونپی جاتی ہے ، لیکن ۵۰فی صد نشستوں پر کامیاب نہ ہوپانے کے باعث سب سے بڑی پارٹی نداے تیونس کو بھی مخلوط حکومت ہی تشکیل دینا پڑے گی۔نداے تیونس کی قیادت نے کہا تھا کہ ۲۳نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ہی ان کی پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کس کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔اہم بات یہ ہے کہ نہضت کے پاس بھی اتنی نشستیں ہیں کہ اس کے بغیرکوئی بھی بل پاس نہیں ہوسکے گا۔

پارلیمانی انتخابات کے بعدایک اہم مرحلہ۲۳نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات تھے۔ نہضت نے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان تو بہت پہلے کر دیا تھا۔ انتخابات سے پہلے انھوں نے کسی متعین صدارتی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ انھو ں نے اپنے ووٹرز کو اختیار دیا کہ وہ جسے زیادہ اہل سمجھیں اسے ووٹ دیں۔ میدان میں ۲۵صدارتی امیدوار تھے لیکن اصل مقابلہ دو بڑے امیدواروں : نداے تیونس کے سربراہ الباجی قائد السبسی اور موجودہ صدر منصف المرزوقی کے درمیان رہا۔ السبسی نے۴۶ء۳۹ فی صد اور منصف المرزوقی نے۴۳ء۳۳ فی صد ووٹ حاصل کیے۔ باقی امیدوار بہت نیچے تھے۔ اب دونوں بڑے اُمیدواروں کے مابین ۲۸دسمبر کو دوبارہ مقابلہ ہوگا۔ ووٹ تقسیم سے بچیں گے تو امید ہے کہ زیادہ فائدہ صدر منصف کو حاصل ہوگا۔ نہضت بھی شاید کسی نہ کسی صورت اس کی واضح تائید کر دے۔ لیکن تحریک نہضت کا فیصلہ ہے کہ   فی الحال وہ خود اقتدار میں نہیں آئے گی۔ معاشرے کے ایک ایک فرد کے سامنے اپنی دعوت پیش کرے گی۔ نو منتخب حکومت کی کارکردگی بھی بہت جلد اپنا چہرہ عوام کو دکھا دے گی اور ان شاء اللہ  جلد یا بدیر تیونس کے حالیہ سیاسی نقشے پر خیر غالب ہوکر رہے گا۔واضح رہے کہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے منصف المرزوقی صرف تحریک نہضت کی تائید و حمایت کی بدولت ہی گذشتہ تین برس سے منصب صدارت پر فائز تھے۔ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اعلان نہ کرنے کے باوجود تحریک نہضت کے اکثریتی ووٹ منصف المرزوقی کے پلڑے میں پڑے، جب کہ انقلاب کے مخالفین، متشدد سیکولر اور سابق صدر زین العابدین کے دور میں اہم حکومتی عہدے داروں کی تمام تر تائید نداے تیونس کو حاصل ہوئی۔

پارلیمانی انتخابات کے بعد ہی سے ذرائع ابلاغ پر تیونس کے مستقبل کے بارے میں مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ انقلاب کے بعد انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی اسلامی تحریک ۲۰۱۴ء کے انتخابات میں آخر کیوں دوسرے نمبر پر آگئی؟اس کے جواب میں مخالفین اپنا پورا زوریہ ثابت کرنے پر لگا رہے ہیں کہ ’سیاسی اسلام‘  ناکام ہوگیا۔ آج کے دور میں اسلام کا نظام نہیں چل سکتا۔ اسلام عصر حاضر کے گمبھیرمسائل کا حل نہیں  دے سکتا، لیکن یہ حقیقت بھی سب پر آشکار ہے کہ وہ تمام عالمی اور علاقائی طاقتیں تحریک نہضت کے خلاف مکمل طور پر میدان میں تھیں جنھوں نے اس سے قبل مصر میں منتخب حکومت اور عوامی راے کو کچل ڈالا۔ یہ سب قوتیں مصر کی طرح تیونس میں خون کے دریا تو نہیں بہا سکیں لیکن دولت، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کے طاقت ور افراد کے بل بوتے پر انھوں نے سب اسلام دشمنوں کو یک جا کردیا۔

گذشتہ نصف صدی سے زائد عرصے تک ملک میں آمریت اور فوجی ظلم وستم کا راج رہا۔ حکمرانوں نے اپنے خلاف آواز اٹھانے والے ہر فرد اور تحریک کو کچل کر رکھ دیا۔بڑے بڑے علما اوراسلامی فکر کے علَم برداروں کو بیڑیاں ڈال کر جیلوں میں بند کر دیا گیا۔معاشرے میںفکری، اخلاقی ، معاشی او ر معاشرتی زوال کو فروغ دیا۔۲۰۱۱ء کے انقلاب کے بعد مختصر عرصے میںقوم کو اپنا مکمل ہم نوا بنانا نہضت کے لیے ممکن نہ تھا۔ ملک میں بنیادی آزادیاں اور جمہوریت بحال کرنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھا جس کے لیے دسیوں سالوں کی محنت درکار تھی ۔ الحمد للہ تین سال کے عرصے میںعوام کو ایک متفقہ آئین اورآزادی مہیا کرنا نہضت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔بعض لوگوں کی راے ہے کہ نہضت کے دوسرے نمبر پرآنے سے ایک طرف ملک میں انقلاب دَر انقلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے کیونکہ جن سے خطرہ تھا وہی اب حکومت میں ہیں۔ دوسری طرف تحریک نہضت کو اپوزیشن میں رہ کر حکومتی غلطیوں سے سیکھنے اور اسے ان سے روکنے کا موقع ملے گا۔ اپنی تنظیم نو اور دعوت کو پھیلانے کا وقت ملے گا۔سماجی اور دعوتی سرگرمیوں پر پوری توجہ دینے کی فرصت ملے گی، اور    ان شاء اللہ آیندہ انتخابات کو ہدف بنا کر مزید آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ گویا تحریک نہضت اکثریت حاصل نہ کر کے بھی کامیاب رہی۔

۲۳ سے ۲۵؍اکتوبر ۲۰۱۴ء تک سوڈان کے دارالحکومت میں حکمران جماعت ’قومی کانگریس‘ کا اجتماعِ عام منعقد ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ۱۵برس قبل اس سے الگ ہوکر اپنی نئی جماعت بنالینے والے اس کے بانی سربراہ جناب ڈاکٹر حسن الترابی بھی نہ صرف اجتماع میں شریک ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے خطاب بھی کیا۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں جب کہا کہ نہ تو یہ پارٹی، اس کا نظام،     اس کے اہداف و مقاصد میرے لیے نئے ہیں اور نہ آپ میں سے اکثر شرکا ہی ، تو پورے اجتماع میں آنسوئوں اور نعروں کا ملاپ دکھائی دیا۔ ۱۵برس کی دُوری اور اختلافات کے بعد اکثر شرکا کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ وہ ۸۲سالہ ترابی صاحب کو براہِ راست دیکھ اور سن پارہے تھے۔ ترابی صاحب نے بھی اس عرصے کا اکثر حصہ یا تو جیل میں گزارا یا پھر حکومت اور حکومتی جماعت کی شدید مخالفت میں۔

حالیہ اجتماعِ عام کی سب سے اہم اور خوش کن حقیقت یہی تھی کہ نہ صرف ترابی صاحب بلکہ اِکا دکا کے علاوہ باقی تمام پارٹیوں کے مابین ایک قومی یک جہتی کی فضا قائم ہوچکی ہے۔ گذشتہ جنوری میں شروع ہونے والے اس قومی مذاکراتی عمل کا سہرا، صدر عمرالبشیر اور ان کے ساتھیوں کے سرجاتا ہے۔ اس دوران کُل جماعتی اور دو جماعتی مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ مختلف اُمورپر اختلافات رکھنے کے باوجود اب تمام جماعتوں کے مابین تعاون اور مثبت و تعمیری اپوزیشن کا ایک نیا دور شروع ہوسکے گا۔ اس وقت صرف ایک مؤثر جماعت نے خود کو اس عمل سے خارج رکھا ہوا ہے اور وہ ہے سابق وزیراعظم صادق المہدی صاحب کی جماعت ’حزب الامۃ‘۔ خود صادق المہدی صاحب ناراض ہوکر قاہرہ جابیٹھے ہیں۔ جنرل سیسی کے زیرسایہ جابیٹھنا بذاتِ خود ایک پوری کہانی بیان کرتا ہے۔

حکمران جماعت ’المؤتمر الوطنی‘یا قومی کانگریس،تحریکِ اسلامی سوڈان کا سیاسی بازو ہے۔ تحریک اسلامی کی دعوتی و تربیتی سرگرمیاں الحرکۃ الاسلامیۃ کے نام سے ہی جاری ہیں۔ المؤتمرالوطنی میں شرکت و شمولیت نسبتاً آسان عمل ہے۔ تقریباً پونے چار کروڑ کی آبادی میں اس کے ارکان کی تعداد اس وقت تقریباً پونے سات لاکھ ہے۔ پارٹی دستور کے مطابق ہرپانچ سال بعد اس کا    تین روزہ اجتماع عام ہوتا ہے۔ اسی میں خفیہ راے دہی کے ذریعے پارٹی کے صدر اور ۴۰۰ رکنی مجلس شوریٰ کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ تین روزہ اجتماع عام بنیادی طور پر نمایندگان کا اجتماع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے تقریباً چھے ماہ کے دوران بنیادی یونٹس کے ۱۸ہزار اجتماع عام ہوتے ہیں۔ ان میں نمایندگان منتخب ہونے والے ارکان۱۲ہزار مقامی اجتماعات منعقد کرتے ہیں، پھر ۱۰۷ ضلعی اجتماع عام ہوتے ہیں، اور بعدازاں ۱۸ صوبائی اجتماع مرکزی اجتماع عام کے لیے نمایندگان کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سات اجتماع شعبہ جاتی بھی ہوتے ہیں جن میں خواتین، نوجوان، مزدور، کسان اپنے نمایندگان منتخب کرتے ہیں۔ اس طرح بالآخر ۶ہزار نمایندگان کا یہ اجتماع عام حتمی صورت اختیار کرجاتا ہے۔

حالیہ اجتماع عام کا ایک اہم ترین فیصلہ نئی مجلس شوریٰ ، پارٹی سربراہ کے انتخاب کے علاوہ  اپریل ۲۰۱۵ء میں ہونے والے ملک کے صدارتی انتخاب کے لیے اپنا نمایندہ منتخب کرنا بھی تھا۔ یہ کوئی سنی سنائی یا ذرائع ابلاغ کی بات نہیں بلکہ بعض معاملات میں صدر عمرالبشیر سے اختلاف رکھنے والے اہم پارٹی رہنمائوں نے بھی بتایا کہ صدر عمرالبشیر کسی صورت آیندہ صدارتی اُمیدوار نہیں بننا چاہتے تھے۔ انھوں نے جماعت کی مجلس شوریٰ کے سامنے حتمی معذرت کردی تھی۔   شوریٰ نے بھی ان کی بات پر پوری سنجیدگی سے غور کیا، لیکن پھر اس نتیجے تک پہنچی کہ موجودہ علاقائی، بین الاقوامی اور ملکی حالات میں ان کی معذرت قبول نہیں کی جاسکتی۔ خفیہ راے دہی ہوئی اور مجلس شوریٰ نے عمرحسن البشیرہی کو آیندہ صدارتی اُمیدوار قرار دیا۔ شوریٰ کا فیصلہ آنے کے بعد بعض مقامی ذرائع ابلاغ اور بالخصوص علاقائی ذرائع ابلاغ نے اس فیصلے پر کڑی تنقید شروع کر دی۔ پارٹی کے اندر سنگین اختلافات کی خبریں چلانا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اجتماع عام کے دوران جماعت ۱۵برس بعد ایک بار پھر تقسیم ہوجائے گی۔ خود صدر عمرالبشیر نے تین روزہ اجتماع کے اختتامی خطاب میں ان خبروں اور پروپیگنڈے کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بعض دوستوں نے ہمیں یہاں تک مشورہ دیا کہ آپ اجتماعِ عام منسوخ کردیں۔ اجتماع ہوا تو اختلافات پھوٹ پڑیں گے اور شوریٰ کے فیصلوں سے بغاوت کردی جائے گی۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے اختلافات کی آرزو رکھنے والوں کی خواہش کے برعکس ہم پہلے سے بھی زیادہ یکسو ہوکر جارہے ہیں‘‘۔ ان کے خطاب سے قبل کانفرنس سیکرٹریٹ کی جانب سے نتائج کا اعلان کیا گیا کہ خفیہ راے دہی کے ذریعے ۹۳ فی صد نمایندگان نے صدرعمرالبشیر ہی کو پارٹی کا آیندہ سربراہ اور صدارتی اُمیدوار منتخب کیا ہے۔

صدربشیر کو اپنے دورِ اقتدار میں سنگین خطرات اور چیلنجوں کاسامنا رہا ہے۔ خود پارٹی کے بانی صدر اور اصل فکری رہنما ڈاکٹر حسن الترابی سے اختلافات اب بھی سنگین تر ہیں۔ جنوبی سوڈان میں ۲۲سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی تقریباً تمام ملکی وسائل ہڑپ کرتی رہی۔ کئی بار دیگر پڑوسی ممالک کی طرف سے فوج کشی کروائی گئی۔ عرب اور مسلم ممالک نے قطع تعلق بلکہ محاصرہ کیے رکھا۔ جنوبی شورش سے نجات کے لیے دوبارہ ریفرنڈم کرواتے ہوئے غالب اکثریت کی راے کے مطابق جنوب کو الگ کردیا، تو کچھ ہی عرصے بعد مغربی علاقے دارفور میں بغاوت اور پڑوسی ممالک سے براہِ راست مداخلت کروا دی گئی۔ چین کی مدد سے طویل جدوجہد کے بعد ملک میں پٹرول دریافت کیا گیا تھا، لیکن جنوبی علیحدگی کے بعد پٹرول کے سب کنویں انھیں دینا پڑے۔ اقتصادی حالت جو قدرے سنبھلنے لگی تھی، ایک بار پھر ڈھلوان پر آگئی۔ بین الاقوامی عدالتوں میں سوڈان اور اس کے صدر پر جنگی جرائم کے مقدمات قائم کردیے گئے۔ عمرالبشیر کو مجرم قرار دے دیا گیا۔ دھمکی دی گئی کہ کسی بھی بین الاقوامی سفر کے دوران انھیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ امریکا اور اس کے حواریوں نے کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کردیں، جو آج بھی جاری ہیں۔ کئی عالمی بنک سوڈان کے ساتھ  کوئی مالی معاملات نہیں کرسکتے۔ متعدد بار فوج کے اندر سے بغاوت کروانے کی کوشش کی گئی۔ دہشت گردوں کو پناہ دینے اور الشفا نامی ادویات بنانے کے کارخانے میں کیمیائی ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر خود امریکا حملہ آور ہوگیا۔ لیکن ایسے خطرات اور الزامات کے باوجود المؤتمر الوطنی اور عمرالبشیر کا تعمیری سفر جاری رہا۔

اقتدار و اختیار کے ایوانوں میں آنے اور ملک کے سیاہ و سفید کا مالک ہونے کے باوجود بھی اگر کوئی شخص کرپشن کی ایک پائی کے قریب بھی نہ پھٹکے، چہار جانب اشارۂ ابرو کے منتظر رہنے والے جان نثار ساتھیوں کے جلو میں رہنے کے باوجود، دل و دماغ میں تکبرکا خناس اپنی جگہ نہ بناسکے، تو ایسا شخص یقینا آج کا ولی اللہ کہلانے کا حق دار ہے۔ عمرالبشیر ہی نہیں، ان کی جماعت کی   غالب اکثریت نے خود کو ان دونوں آزمایشوں میں سرخرو ثابت کیا ہے۔ ویسے تو سوڈانی معاشرہ دیگر تمام عرب ملکوں کی نسبت انتہائی ملنسار، متواضع، بے تکلف اور باہم مربوط معاشرہ ہے، لیکن بالخصوص حکومتی ذمہ داران ہرشخص کی دسترس میں اور تقریباً ہرپروٹوکول سے بے نیاز ہیں۔ اب بھی صدرعمرالبشیر ہی نہیں، ان کے کئی قریبی اور اہم ذمہ داران نے بذاتِ خود وزارتیں اور مناصب چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر حسن الترابی کے بعد جماعت کے فکری رہنما سمجھے جانے والے  علی عثمان طٰہٰ طویل عرصے سے ملک کے نائب صدر اول تھے، خود انھوں نے اصرار کرکے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ تفصیلی ملاقات میں اس پارٹی اجلاس کا حال سنا رہے تھے جس میں انھوں نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ کہنے لگے کہ صدرالبشیر نے جب مجلس کو میرے فیصلے سے آگاہ کیا، تو دیر تک میرے بارے میں بہت جذباتی انداز میں کلمات خیروتحسین کہتے رہے۔ ان کی بات مکمل ہوئی تو ایک خاتون رکن کھڑی ہوکر کہنے لگیں: برادرم صدرصاحب! (صدر البشیر کو اسی طرح مخاطب کیا جاتاہے: الاخ الرئیس) آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اگر اسی طرح ہے، تو پھر بھلا الشیخ علی کو جانے ہی کیوں دیا؟ پوری مجلس زعفران زار ہوگئی اور صدرصاحب نے کہا: یہ بات خود الشیخ علی ہی سے پوچھیں۔

مناصب کو امانت و امتحان سمجھے جانے کی یہ ایمانی روح، ربِ ذوالجلال کی طرف سے تحریکِ اسلامی کے کارکنان کے لیے ایک عظیم انعام ہے۔ اجتماعِ عام کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خود صدرالبشیر کا جملہ بھی ملاحظہ کیجیے: اَلْمَنَاصِبُ فِی أَعْیُنِنَا أَمَانَۃٌ وَ اِنَّھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃ ’’ہماری نگاہ میں عہدے اور مناصب ایک امانت ہیں اور یہ عہدے قیامت کے روز رُسوائی اور ندامت کا باعث بن سکتے ہیں‘‘۔ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِمبارک ہی سے ماخوذ ہے جس کے آخر میں آپؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اِلَّا مَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّھَا وَأَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ فِیْھَا (یہ عہدے روزِ قیامت رُسوائی اور ندامت ہیں) الا یہ کہ ان پر فائز ذمہ داران ان مناصب کا حق اور ان کے مکمل تقاضے پورے کریں۔

اندازہ یہی ہے کہ اپریل ۲۰۱۵ء میں ہونے والے انتخابات میں عمرحسن البشیر دوبارہ صدر منتخب ہوجائیں گے۔خود ان کی طرف سے کی جانے والی دستوری ترمیم کے بعد اب یہ ان کی آخری ٹرم ہوگی۔ پارٹی اور ملکی دستور میں انھوں نے ترمیم کروا دی ہے کہ کوئی بھی صدر دو بار سے زیادہ منتخب نہیں ہوسکے گا۔ لیکن اصل سوال سوڈان کو درپیش خطرات و مسائل کا ہے۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ ہر دور میں اُس کی نصرت اپنے اِن مخلص بندوں کے شاملِ حال رہی ہے ۔ ایک اہم ذمہ دار بتا رہے تھے کہ جنوبی سوڈان کا پٹرول چلے جانے کے بعد اللہ نے ملک میں برکتوں کے کئی نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ زمین سونا اُگلنے لگی ہے، فصلیں کئی گنا زیادہ پیداوار دینے لگی ہیں۔ اصل سونا بھی بڑی مقدار میں دریافت ہوا ہے۔ عام لوگ تھوڑی سی کھدائی کے بعدسونا نکال رہے ہیں۔    صرف گذشتہ برس میں ریاست نے اپنے عوام سے ۱۲؍ارب ڈالر کا سونا خریدا ہے۔ ان کے بقول:  ہمیں رزق کے بارے میں کبھی بھی پریشانی نہیں ہوئی۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمیں صرف اخلاص کے ساتھ درست راستے پر چلنا اور کوشش کرنا ہے، رزق کا مالک تو رب العالمین ہے جس نے اپنی ایک صفت ’’الرزاق‘‘ بتائی ہے اور اپنی ساری مخلوق کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔

اجتماعِ عام کے دوسرے روز شام کے سیشن میں بیرونِ ملک سے آئے مہمانوں کا خطاب تھا۔ اس میں ۴۵ ممالک سے درجنوں ذمہ داران شریک تھے۔ چین، شمالی کوریا، مراکش اور موریطانیہ کے اعلیٰ سطحی سرکاری وفد بھی شریک تھے۔ کئی اسلامی تحریکات کے ذمہ داران بھی شریک تھے۔ اکثر نے اپنے ملکی حالات کے علاوہ تحریکی صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔ تیونس میں انقلاب کے بعد ۲۶؍اکتوبرکو ہونے والے پہلے عام انتخابات سب کی توجہ اور دُعائیں حاصل کر رہے تھے۔ افریقی ممالک سے آنے والے مہمان زیادہ تھے۔ سوڈانی ذمہ داران کے مطابق اپنے اکثر    عرب احباب کی بے رُخی کے باعث ہم نے بھی اپنی توجہ افریقی ممالک پر مرکوز کردی ہے۔ ساتھ ساتھ عرب ممالک سے بھی ریاستی تعلقات بحال و مستحکم کرنے کی سعی جاری ہے۔ اسی ماہ صدربشیرنے سعودی عرب اور مصر کا دورہ کیا ہے اور اُمید ہے کہ بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔

مجھے بھی اس سیشن میں گفتگو کا موقع دیا گیا تو کشمیر، پاکستان، جماعت، تحریکی فکر اور دیگر اُمور کے علاوہ بنگلہ دیش کا تفصیلی ذکر کیا۔ پروفیسر غلام اعظم اور دیگر قائدین کی گرفتاری کا بتایا۔ الحمدللہ شرکا نے جواب میں انتہائی گرم جوشی اور محبت کا اظہار کیا۔ اس سیشن سے واپس آتے ہی  بنگلہ دیش سے محترم پروفیسر صاحب کی حالت نازک ہونے اور پھر دنیا کے دکھوں سے ان کے  آزاد ہوجانے کی اطلاع ملی۔ کمرے میں اکیلے بیٹھے بے اختیار آنسو اور دعائیں اُمڈ آئیں۔ اپنے سوڈانی میزبانوں کے علاوہ دنیابھر کی تحریکوں سے روابط کا آغاز کردیا۔ بدقسمتی سے اگلے روز جمعہ تھا اور اکثر عرب ممالک میں سفارت خانے بند تھے وگرنہ ہماری بھرپور کوشش اور خواہش تھی کہ نمازِجنازہ میں تحریکاتِ اسلامی کی نمایندگی ہوسکے۔

تقریباً ہر ملک میں مرحوم کے لیے نمازِ جمعہ کے بعد غائبانہ نمازِ جنازہ کا اعلان کیا گیا۔ خرطوم کے اجتماعِ عام میں موریطانیہ سے آئے ہوئے عالمِ ربانی علامہ محمدالحسن الدد نے نمازِ جنازہ پڑھائی، جب کہ تحریکِ اسلامی سوڈان کے سربراہ الزبیر الحسن نے نماز سے قبل پروفیسر صاحب کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مجھے خرطوم کی مرکزی جامع مسجد جانے کا حکم ملا۔ خطبۂ جمعہ میں معروف اسکالر ڈاکٹر عصام البشیر نے بھی مرحوم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور پھر غائبانہ نمازِ جنازہ کے بعد مجھے بنگلہ دیش کے بارے میں اظہارِ خیال کا کہا گیا۔ مسجد میں کئی مسلم سفرا سمیت عوام کی بڑی تعداد تھی۔ نمازِ جنازہ کے بعد تعزیت کا سلسلہ جاری رہا۔باقی دو روز کا قیامِ سوڈان بھی عملاً پروفیسرصاحب کے ذکرخیر ، اس سلسلے میں بیرونی احباب سے روابط اور تعزیتی کلمات ہی کے لیے وقف ہوگیا۔ سب اس پر متفق تھے کہ ڈھاکہ میں پروفیسر غلام اعظم صاحب کی نمازِ جنازہ اور دنیابھر میں غائبانہ نماز ان کی مظلومیت و براء ت اور ظالم حسینہ واجد حکومت کے جرائم کے خلاف واضح  عوامی ریفرنڈم ہے۔ کئی احباب نے امام ابن تیمیہؒ کا یہ جملہ یاد دلایا کہ ’’ہم میں سے کون غلطی پر ہے اور کون حق پر؟ اس بات کا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے‘‘۔ سوڈانی عوام نے بھی اس موقعے پر اپنا فیصلہ شہیدِ زندان پروفیسر غلام اعظم صاحب کے حق میں دیا ہے۔

چند سال قبل یمن جانا ہوا۔ یمنی تحریک اسلامی التجمع الیمنی للإصلاح کے ذمہ داران نمازِ مغرب کے لیے دار الحکومت صنعاء کے قلب میں واقع ایک تاریخی مسجد لے گئے۔ نماز میں حاضری غیر معمولی محسوس ہوئی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حاضری معمول کے مطابق ہے، ہمیں زیادہ اس لیے لگ رہی تھی کہ یمن میں ’زیدی‘ فرقے سے تعلق رکھنے والے شیعہ اور اہلسنت اکٹھے باجماعت نمازِ مغرب ادا کرتے ہیں۔ شافعی عقیدہ رکھنے والے اہل سنت حضرات سنتیں اور نوافل  ادا کرکے چلے جاتے ہیں، جب کہ زیدی حضرات کے مطابق نمازِ عشاء کا وقت مغرب سے آدھ گھنٹے بعد ہوتا ہے، وہ وہیں انتظار کرتے ہیں اور عشاء باجماعت ادا کرکے جاتے ہیں۔ مزید تقریباً ایک گھنٹے بعد انھی مساجد میں اہل سنت آبادی کے لیے باقاعدہ اذان اور نماز عشاء ہوتی ہے۔ یہی رواداری اور اخوت رکھنے والا یمن، گذشتہ کئی سال سے ’زیدی‘ عقیدہ رکھنے والے حُوثی قبائل اور ریاست کے مابین باقاعدہ جنگوں کا شکار ہوچکاہے۔

حالیہ ۲۱ ستمبر ان جنگوں کا عروج تھا۔ اس روز ’عبد الملک الحُوثی‘ کی سرپرستی میں خلیجی ممالک کی ایک قدرے نئی مسلح تنظیم ’انصار اللہ‘ نے اپنے اسلحے کے بل بوتے پر دارالحکومت صنعاء کا انتظام و انصرام سنبھال لیا۔ عالم عرب کے عوام میں تشویش کی گہری لہر دوڑ گئی، اور کہا جارہاہے کہ آج سقوط یمن کا سانحہ ہوگیا۔ اسی شام قصر صدارت میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بنعمر (مشکوک ماضی رکھنے والا مراکش کا سابق سیاستدان) کی زیر نگرانی عبوری صدر عبد ربہ ھادی منصور، حوثی نمایندوں اور دیگر یمنی جماعتوں کے مابین ایک دستاویز پر دستخط ہوئے۔ اس دستاویز کو  اتفاقیۃ السلم والشراکۃ (معاہدہ امن و اشتراک) کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے مطابق یمنی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے، اور اب چند روز میں ایک ٹیکنو کریٹ حکومت قائم ہونا ہے جس کا وزیراعظم حُوثی ہوگا۔ حُوثیوں نے اگرچہ امن معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، لیکن فوجی اور دفاعی امور سے متعلق دستاویز کو قبول نہیں کیا۔ دارالحکومت پر قبضے کے اگلے روز ۲۲ ستمبر کی شب زبردست آتش بازی اور فائرنگ کرتے ہوئے ’’انقلاب آزادی‘‘ کی کامیابی کا جشن منایا اور وزارت دفاع، داخلہ، فوجی مراکز سمیت دارالحکومت کے تمام حساس علاقوں پر اپنا قبضہ مستحکم کرلیا۔ اسی اثنا میں اہم فوجی چھاؤنیوں سے ٹینکوں، توپوں اور بکتربندگاڑیوں پر مشتمل بھاری اسلحہ اپنے قبضے میں لیتے ہوئے، شمال میں واقع اپنے فوجی ٹھکانوں میں منتقل کردیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے، آئیے ذرا حُوثیوں اور زیدی فرقے کا تھوڑا سا مزید تعارف حاصل کرلیں۔

زیدی:

یہ اہم شیعہ فرقہ، حضرت زید بن علی زین العابدینؒ ]ولادت ۸۰ہجری- شہادت ۱۲۲ ہجری [ سے منسوب ہے۔زیدی اپنے عقائد کے اعتبار سے اہل سنت سے انتہائی قریب ہیں۔ حضرت ابوبکرصدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی (رضی اللہ عنہم) کی خلافت کو درست تسلیم کرتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ’افضل‘ کی موجودگی کے باوجود ’مفضول‘ کی امامت تسلیم کی جاسکتی ہے۔ تمام صحابہ کرامؓ کا احترام کرتے ہیں اور ان میں سے کسی پر تبرا بھیجنا گناہ سمجھتے ہیں۔ ۱۲۲ ہجری میں اہل کوفہ نے جناب زید بن علی زین العابدین کو اُموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے خلاف خروج کے لیے قائل کرلیا، لیکن عین میدان میں یہ کہتے ہوئے تنہا چھوڑ گئے کہ آپ  ابوبکرؓ اور عمرؓ پر تبرا نہیں بھیجتے۔ آپ اپنے باقی ماندہ ۵۰۰ جاں نثاروں کے ہمراہ میدان میں اُترے اور پیشانی پر تیر لگنے سے شہید ہوگئے۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کے صاحبزادے جناب یحی بن زیدؒ اور پیروکار مختلف ممالک میں مقیم رہے اور بالآخر یمن میںمستقل سکونت اختیار کی۔ مختلف اَدوار میں اقتدار بھی قائم ہوا جس کی آخری کڑی عثمانی خلافت کے خلاف امام یحیٰ بن منصور کی بغاوت تھی۔ یہ آخری زیدی ریاست گذشتہ صدی میں ۱۹۶۲ء تک قائم رہی۔

یمن:

تقریباً ۲۸ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل جمہوریہ یمن، سعودی عرب کے جنوب اور سلطنت عمان کے مغرب میں واقع ہے۔ اڑھائی کروڑ پر نفوس مشتمل آبادی کا تقریباً ۵۰ فی صد خط غربت سے نیچے زندگی گزارتا ہے۔ اہم جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کی ڈیڑھ ہزار کلومیٹر  طویل سرحد یمن سے ملتی ہے۔ اس لیے سعودیہ کا وسیع جنوبی علاقہ اس سے براہِ راست متأثر ہوتا ہے۔ بحیرۂ احمر کی اہم گزرگاہ باب المندب بھی یمنی ساحل ہے۔ ملک کی ۸۵فی صد آبادی مختلف قبائل پر مشتمل ہے اور تقریباً ہر شخص مسلح ہے۔ آبادی کا ۷۰  فی صد اہل سنت (امام شافعی کے پیروکار)  ہیں اور ۳۰ فی صد زیدی شیعہ ہیں۔ براے نام تعداد میں اسماعیلی بھی ہیں۔۲۰۱۱ء  میں عالم عرب میں طویل آمریت کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریکوں کا اثر یمن بھی پہنچا اور علی عبد اللہ صالح کا ۳۳سالہ اقتدار ختم ہوا۔ نائب صدر عبدربہ ھادی منصور کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت قائم ہوئی، جس میں الاصلاح تحریک (اخوان) سمیت تقریباً تمام پارٹیوں کو حصہ ملا۔ عبوری فارمولے کے مطابق ۲۰۱۵ء میں نئے دستور پر ریفرنڈم اور پھر عام انتخابات ہونا تھے، لیکن اب سارا نقشہ تبدیل ہوگیا ہے۔

’انصار اللّٰہ‘ تحریک اور حوثی:

شمالی یمن میں واقع زیدی اکثریت کے پہاڑی علاقے ’صعدہ‘ میں ایک مسلح دینی تحریک ’تحریک مؤمن نوجوانان‘ کے نام سے فعال تھی۔  ۱۹۹۲ء میں اسے ’انصار اللہ‘ کا نام دے دیا گیا۔ بانی کا نام حسین بدر الدین الحوثی تھا۔ انھی کی نسبت سے پوری تحریک کو حوثیوں کی تحریک کہا جاتا ہے۔ تحریک نے آغاز ہی سے اپنے مذہبی تشخص اور  مسلح تربیت پر زیادہ توجہ دی اور دعویٰ کیا کہ حکومت نے زیدیوں کے حقوق سلب کررکھے ہیں۔ ۲۰۰۴ء میں صدر علی عبد اللہ حکومت کے ساتھ ان کی باقاعدہ مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ تحریک کا بانی حسین الحوثی ایک لڑائی میں مارا گیا تو اس کے بھائی عبدالملک حوثی نے سربراہی سنبھال لی، جو تاحال جاری ہے۔ ۲۰۱۰ء  تک یمنی حکومت اور انصار اللہ کے مابین چھے باقاعدہ جنگیں ہوئیں۔ ۲۰۰۹ء  میں ایک جنگ خود سعودی عرب سے بھی ہوگئی۔ اسی اثنا میں حوثیوں کے کئی ذمہ داران زیدی شیعہ سے اثنا عشری عقیدے کی طرف منتقل ہوگئے اور کئی حوالوں سے شدید تعصب کا شکار بھی۔

علی عبد اللہ صالح کی حکومت ختم ہونے کے بعد عبوری حکومت قائم ہوئی تو حوثی اس کا حصہ نہ بنے۔ البتہ جب حکومت نے ’’قومی مذاکرات‘‘ کے نام سے تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت شروع کی تو حُوثی بھی اس میں شریک ہوئے۔ مذاکرات ابھی تکمیل کو نہ پہنچے تھے، کہ حُوثیوں نے پھر سے مسلح کارروائیاں شروع کردیں اور ایک ایک کرکے مختلف علاقوں پر اپنی بالادستی قائم کرتے ہوئے دار الحکومت صنعاء کے قریب آن پہنچے۔ مالی مشکلات کی شکار حکومت کو گذشتہ جولائی میں   وہ مشکل قدم بھی اٹھانا پڑا، جس کے بارے میں وہ شدید تردد کا شکار تھی۔ پٹرول اور اس کی مصنوعات کو دی گئی سرکاری سب سڈی کا ۵۰ فی صد ختم کردیا گیا۔ عسکری لحاظ سے مضبوط تر اور  فرقہ واریت کی بنیاد پر قائم جماعت نے موقع غنیمت جانا، اپنی تحریک کا فیصلہ کن اقدام اٹھاتے ہوئے تین مطالبات کا نعرہ لگادیا: ۱- حکومت مستعفی ہو اور ٹیکنو کریٹ حکومت بنائی جائے۔۲- سب سڈی ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے ۳- قومی مذاکرات کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے (حالانکہ اس کی سفارشات پر دستخط ہی نہیں ہوئے)۔ چند ہفتوں کی مزید فوجی کارروائیوں، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے خوں ریز جھڑپوں، اور سیاسی مطالبات کی تشہیر کے بعد ۱۷؍ اگست کو دار الحکومت کے چاروں اطراف میں دھرنا دے دیا گیا۔ بالآخر یہی دھرنا اور خوں ریز جھڑپیں ۲۱ ستمبر کو دارالحکومت پر ’انصار اللہ‘ کے قبضے، حکومت کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک معاہدے پر منتج ہوا۔

تلخ حقائق، اثرات و نتائج

یہ امر اب ایک کھلا راز ہے کہ حُوثیوں کو پہلے روز سے ایران کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ یمنی افواج سے چھے اور سعودی عرب سے ایک جنگ کے دوران اسے سمندری راستے سے ایرانی اسلحے کی مسلسل ترسیل جاری رہی اور اسے زیادہ چھپایا بھی نہیں گیا۔ ادھر سعودی عرب نے بھی اپنے گھوڑے صدر علی عبد اللہ صالح کی بھرپور پشتیبانی کی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ ۳۳ سالہ بانجھ دورِاقتدار کے بعد، اسے یمنی عوام کی غالب اکثریت مسترد کرچکی ہے، اسی کو باقی رکھنے کی کوشش کی گئی۔ بالآخر جب وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا تو سعودی عرب نے یمن کی جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی اہمیت کے باوجود، وہاں وہ دل چسپی نہ لی جس کے حالات متقاضی تھے۔ خود علی عبداللہ صالح جس نے حوثیوں سے کئی جنگیں لڑی تھیں، موجودہ یمنی حکومت سے انتقام کی آگ میں جھلستے ہوئے حوثیوں کی حوصلہ افزائی کرنے لگا۔ فوج اور بیوروکریسی میں موجود اپنے سب نمک خواروں کو بھی یہی پالیسی اختیار کرنے کا کہا۔

یہ تلخ حقیقت یقینا اپنی جگہ درست ہے کہ حوثیوں نے دارالحکومت کو اسلحے، بیرونی سرپرستی اور اندرونی سازشوں کے بل بوتے پر زیر کیا ہے لیکن بعض اہم ترین حقائق اور بھی ہیں۔ مثلاً یہ کہ یمن کی عبوری حکومت میں مؤثر ترین عوامی حکومت وہاں کے ’اخوان‘ ہیں۔ مصر میں اخوان کی  منتخب حکومت کے خاتمے اور لیبیا میں اخوان کی ممکنہ کامیابی کو خانہ جنگی کی نذر کردینے کے بعد یمن سے بھی ان کا اقتدار ختم کرنا بعض عرب ممالک کے لیے تمام اہداف سے زیادہ اہم ہدف ٹھیرا۔ یمن میں نہ صرف الاصلاح (یعنی اخوان) کا اقتدار ختم کرنا اصل مقصود قرار پایا، بلکہ نقشہ یوں بنایا گیا کہ اپنی قیادت کے ایک اشارے پر جان تک قربان کرنے کے لیے تیار لاکھوں اخوانی کارکنان کو براہِ راست مسلح حُوثیوں کے سامنے لاکھڑا کیاجائے۔ دارالحکومت صنعاء سے پہلے جہاں جہاں حُوثیوں نے قبضہ کیا، وہاں الاصلاح کے ذمہ داران اور ان کے مختلف اداروں کو بالخصوص نشانہ بنایا گیا۔ دارالحکومت کا محاصرہ کیا گیا تو الاصلاح کے وزرا اور ذمہ داران کو دھمکیاں ہی نہیں دی گئیں، ان کے بعض نوجوان قائدین کو شہید بھی کردیا گیا۔ صنعاء میں قائم ان کی بین الاقوامی یونی ورسٹی (الایمان یونی ورسٹی) جہاں ہزاروں ملکی و غیر ملکی طلبہ زیر تعلیم تھے پر قبضے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اور مختلف اطراف سے ایسے بیانات آنے لگے کہ حکومت ریاست اور فوج تو بہت کمزور ہوگئے ہیں، اب اگر یمن کو حوثی خطرے سے کوئی بچا سکتا ہے تو وہ ’الاصلاح‘ ہے۔ یہ مہم اتنی وسیع تر تھی کہ ہمیں پاکستان میں بھی اس طرح کے ایس ایم ایس موصول ہونے لگے کہ: ’’آج یمنی اسلامی تحریک کے فلاں ذمہ دار شہید کردیے گئے، الاصلاح کب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے گی؟‘‘ خدا کا شکر ہے کہ الاصلاح کسی اشتعال انگیز مہم کا شکار نہیں ہوئی۔ اس نے مسلسل یہی کہا کہ حکومت اور فوج کی ذمہ داریاں، ہم اپنے سر نہیں لیں گے۔ ہم کسی مسلح تصادم کا حصہ نہیں بنیں گے خواہ حوثی ہمارے گھروں پر ہی کیوں نہ قابض ہوجائیں۔ پھر جیسے ہی دارالحکومت پر چڑھائی شروع کی گئی تو حیرت انگیز طور پر کہیں کسی ریاستی ادارے فوج، پولیس، پیرا ملٹری فورسز نے حوثیوں کے سامنے مزاحمت نہ کی۔ منصوبہ بندی کرنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ یمن جیسے مسلح معاشرے میں خانہ جنگی شروع کرواتے ہوئے، جہاں ایک طرف ایک مستقل شیعہ سنی تنازعہ کھڑا کردیا جائے وہیں سب سی بڑی عوامی قوت الاصلاح کو حوثیوں کے مہیب اسلحے کے ذریعے کچل دیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوسکے تب بھی انھیں حکومت سے تو بے دخل کر ہی دیا جائے۔ فی الوقت یہ دوسرا ہدف حاصل کیا جاچکا ہے۔

یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ یمن میں ’انصار اللہ‘ اور حوثیوں کا اقتدار بنیادی طور پر  ایران کا اقتدار ہے۔ ایرانی اخبارات ہی نہیں، ذمہ داران بھی اس کا کھلم کھلا اعلان کررہے ہیں۔ تہران سے منتخب رکن اسمبلی علی رضازاکانی کا یہ بیان عالم عرب میں بہت نمایاں ہورہا ہے کہ  ’’ایران اب چار عرب دارالحکومتوں پر اختیار رکھتا ہے۔ بغداد، دمشق، بیروت اور اب صنعاء‘‘۔ اگر یہ بیان حکومتی کارپردازان کے دل کی آواز سمجھا جائے، تو اس کا مطلب ہے کہ تمام خلیجی ریاستیں تین اطراف سے ایرانی گھیرے میں آگئی ہیں۔ بدقسمتی سے سیاسی نفوذ کی اس لڑائی پر فرقہ وارانہ تیل کی بارش بھی کی جارہی ہے۔ طرفین کے ذرائع ابلاغ اشتعال انگیز سرخیاں جمارہے ہیں: ’’انقلابیونِ یمن پاکسازی تکفیری ھا را آغاز کردند‘‘ (ایرانی روزنامہ کیہان)، یمنی انقلابیوں نے تکفیریوں کا صفایا شروع کردیا۔ ’’حوثیوں کی صفوی یلغار کو ناکام کرنا، یمن کا ہی نہیں، مکہ اور مدینہ کا دفاع ہے‘‘ (معروف کویتی دانشور ڈاکٹر عبداللہ نفیسی)۔

اگرچہ سرکاری سطح پر کئی عرب ممالک نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والے امن معاہدے کی تائید کی ہے، لیکن عوامی سطح پر اسی معاہدے سے مزید شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا میں سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ متعدد مسلم ممالک کی طرح یمن میں کوئی نامعلوم بم دھماکے نہیں، حوثی بھاری اسلحہ لیے پھرتے ہیں، لیکن کسی مغربی ملک کو ’دہشت گردی‘ یا ’’داعش‘‘ جیسے نام یاد نہیں آرہے۔ کسی مغربی ملک نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نہیں نکالا۔ جامعہ الایمان ہی نہیں اس کے ہاسٹل میں مقیم طلبہ تک کا سامان لوٹ لیا گیا۔ لیکن قریب ہی واقع امریکی سفارتخانہ بلاخوف و خطر حسب معمول کام کرتا رہا۔ معاہدہء امن پر دستخط کرنے کے ۴۸گھنٹے بعد یمنی صدر عبدربہ کے اس بیان نے عوام کے ان شکوک شبہات کو زبان دی ہے کہ ’’یمن میں جو کچھ ہورہاہے وہ ایک خوف ناک عالمی سازش اور ملک کے اندر سے کئی عناصر کی خیانت کا نتیجہ ہے‘‘۔

یہ تحریر آپ تک پہنچنے تک یمن میں ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ایک نئی عبوری حکومت تشکیل پاچکی ہوگی، لیکن لگتا ہے کہ خطے میں بڑی بڑی تبدیلیوں کا سلسلہ تھمنے کے بجاے، مزید تیز تر ہوجائے گا۔ یمن کی تبدیلی مشرق وسطیٰ کے باقی ممالک کی تبدیلیوں سے الگ نہیں دیکھی جاسکتی۔ عراق اور شام میں ’داعش‘ جیسے پراسرار دیو کے خلاف امریکی کارروائی شروع ہوگئی ہے۔ اس ڈرامے کا اصل راز اسی بات سے معلوم ہورہا ہے کہ امریکی افواج کی موجودگی میں چند روز کے اندر اندر عراق اور شام کے وسیع رقبے پر قبضہ کرلینے والی اس تحریک کے خلاف جنگ کے لیے، امریکی وزیر دفاع چک ہیگل (Chuck Hagel) نے پانچ سو پچاس ارب ڈالر کا تقاضا کیا ہے۔ یقین نہیں آرہا تو رقم دوبارہ پڑھ لیجیے، اتنی ہی رہے گی۔ صاحب بہادر نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ یہ جنگ تین سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ کچھ دیگر ذرائع ۱۰ سال کی مدت بھی دے رہے ہیں۔ کیا یہ باعثِ حیرت نہیں کہ  گذشتہ تین سال میں ۳لاکھ سے زائد بے گناہ شامی عوام کے قتل پر تو خالی خولی بیانات، اور اب دومغویوں کے قتل کے بعد اتنی بڑی جنگ ...؟ قتل ہونے والے برطانوی شہری کے اہلِ خانہ نے تو ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا ہے کہ ہم کئی بار اغواکاروں سے معاہدے کے قریب پہنچے لیکن برطانوی حکومت رکاوٹ بنتی رہی۔اکثر مسلمان ممالک اس جنگ کے ’بجٹ شریک‘ حصہ بن گئے ہیں۔ ترکی پر بھی مسلسل اور شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اس نے کسی زمینی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کیا، تو اس پر ’داعش‘ اور ’دہشت گردی‘ کی امداد کے الزامات عائد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

عرب ممالک سے شام کا جلاد بشار الاسد قبول کروانے کے لیے ایک پتّا یہ بھی پھینکا جارہا ہے کہ ’’یمن سے حوثیوں کااقتدار ختم کروانے کے بدلے، شام میں بشار کی تائید کرو‘‘۔ ۷۰ فی صد آبادی اور مسلح قبائل پر ویسے بھی حُوثی کتنی دیر تک مسلط رہ سکیں گے؟ لیکن یہ امر طے شدہ ہے کہ پورے خطے پر مسلط کیا جانے والا مسلح گروہوں کا منصوبہ تیزی سے پایۂ تکمیل کو پہنچایا جارہا ہے۔ اس نازک موقعے پر ہر صاحب خرد کو اپنی اپنی جگہ اس آگ کو بجھانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ امریکی، اسرائیلی یا بھارتی استعمار کے خلاف جہاد پر پوری اُمت کا اجماع ہے۔مسلمانوں کو مسلمانوںکے خون کا پیاسا بنا دینے کے انوکھے فارمولے کا اکلوتا فائدہ ، صرف اور صرف امریکا اور صہیونی ریاست اور بے گناہ عوام کی گردنوں پر مسلط ظالم درندوں ہی کو پہنچے گا۔

’داعش‘ ہی کو دیکھ لیجیے، نام تو ریاست اسلامی رکھا ہے لیکن اب تک کی سب سے کامیاب کارروائی گذشتہ تین برس سے بشارالاسد کے خلاف برسرِپیکار مخلص مجاہدین ہی کے خلاف کی ہے۔ ’احرار الشام‘ کی مجلس شوریٰ کا خفیہ اجلاس شام کے اِدلب میں ایک زیرزمین خفیہ مقام پر ہورہا تھا کہ ان پر حملہ کر کے تحریک کے سربراہ سمیت مجلس شوریٰ کے ۴۵ مخلص ترین ارکان شہید کردیے۔ سیکڑوں ارب ڈالر کا بجٹ اور جنگ کی طویل مدت کا اعلان ہی بتا رہا ہے کہ اس کے خلاف جنگ کرنے والے ہی اسے باقی رکھیں گے۔

دنیا میں جو بھی آیا، آزمایا گیا۔ کسی کی آزمایش اقتدار و اختیار، تاج و تخت او رمال و دولت کے انباروں سے ہوئی اور کسی کی بھوک، افلاس، ظلم و ستم اور پھانسی کے پھندوں سے۔ کامیاب وہی ٹھیرا جس نے ہر دو صورتوں میں اپنے رب کی سچی اطاعت و بندگی اختیار کی۔ اپنا اصل ہدف، ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کو رکھا۔

آج کے قومی یا عالمی حالات پر نظر دوڑائی جائے، تو آزمایشوں کی یہ سنت الٰہی نقطۂ عروج تک پہنچی دکھائی دیتی ہے۔ خون مسلم ہر جگہ پانی سے بھی ارزاں ہے۔ پہلے صرف کشمیر و فلسطین اور افغانستان کے مظلوم اہل ایمان کے لیے دُعاے رحم ہوتی تھی، اب مصر، شام، عراق، یمن، لیبیا، بنگلہ دیش، اراکان، سری لنکا، وسطی افریقا، صومالیہ اور ماوراے قفقاز ، یعنی فہرست طویل سے طویل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پہلے صرف اغیار کے قبضے اور استعمار کے مظالم کے خلاف دُعائیں ہوتی تھی، اب خود مسلمان حکمران اور ان کے مسلح لشکر، کفار کے مظالم سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔

گذشتہ صدی کے آغاز میں بھی عالم اسلام کی بندر بانٹ کی گئی تھی، تقریباً ۱۰۰ سال گزرنے کے بعد اب منقسم کو مزید تقسیم کرنے کا عمل تیز تر کیا جارہا ہے۔ ۱۹۱۵ء-۱۹۱۶ء کے درمیان فرانسیسی وزیر خارجہ فرانسوا جارج پیکو اور برطانوی وزیر خارجہ مارک سائکس نے مشرق وسطیٰ کو ذاتی جاگیر کی طرح بانٹ لیا۔ شام اور لبنان پر فرانسیسی، عراق اور خلیج پر برطانوی قبضہ ہوگیا۔ مشرقی اردن اور فلسطین بھی برطانوی نگہداری میں دیے گئے، لیکن چونکہ فلسطین کو اسرائیل میں بدلنا تھا، اس لیے ساتھ ہی وضاحت کی گئی کہ اس ضمن میں اعلان بالفور( Balfour Declaration) پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ۲ نومبر ۱۹۱۷ء کو جاری ہونے والے اس منحوس ڈکلریشن میں پوری ڈھٹائی سے لکھا تھا:

His Majesty's Government view with favour the establishment in Palestine home for the Jewish people. شاہِ معظم کی حکومت فلسطین میں یہودیوں کے لیے وطن بنانے کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے۔

 خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور تقسیم و تسلط کے بعد خود تو ان استعماری طاقتوں کو جانا ہی تھا اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چلے گئے، لیکن جاتے جاتے اکثر مسلم ممالک میں فوجی آمر اور اپنے غلام حکمران بٹھا گئے۔ ایسے حکمران کہ جنھیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے، جہاں اور جیسے چاہا استعمال کیا جاسکے۔ گذشتہ پوری صدی اُمت مسلمہ نے استعماری طاقتوں کے کاشت کردہ ان زہریلے بیجوں کی تلخ فصلیں کاٹی ہیں۔وسائل کے انبار ہونے کے باوجود عوام بھوک اور ننگ کا شکار رہے ہیں۔ ۳۰،۳۰ اور ۴۰،۴۰ سال مسند اقتدار پر براجمان رہنے کے بعد جب بعض حکمرانوں سے نجات حاصل کی گئی تو معلوم ہوا کہ، قوم کے اَربوں ڈالر خود ہڑپ کیے بیٹھے تھے یا پھر ان قیمتی وسائل کا  تمام تر فائدہ استعمار اور اس کی پالتو ریاست اسرائیل کو پہنچا رہے تھے۔

پوری صدی کا حساب کرنے کے لیے دیگ کے صرف چند دانے ملاحظہ کرلیجیے:

توانائی کے سنگین بحران سے دوچار ملک مصر نے، صرف ۲۰۰۸ء سے فوجی آمر حسنی مبارک کی برطرفی تک تین سالہ مدت میں اسرائیل کو صرف ڈیڑھ ڈالر فی یونٹ کی قیمت پر گیس فروخت کی۔ اسی عرصے میں گیس کی عالمی قیمت ۱۲ سے ۱۶ ڈالر فی یونٹ رہی۔ حسنی مبارک نے اپنے ایک نمک خوار حسین سالم کے ذریعے EMG نامی کمپنی کے ذریعے مصر کو اس ایک سودے میں صرف ۱۱؍اَرب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔صدرمحمد مرسی کے ایک سالہ دور میں اس نام نہاد کمپنی اور حسین سالم پر مقدمہ چلا اور کمپنی پر پابندی لگائی گئی۔ حالیہ فوجی انقلاب کے بعد حسین سالم اور کمپنی دوبارہ فعال ہوگئے ہیں۔ اب انھوں نے اُلٹا ریاست کے خلاف مقدمہ قائم کرتے ہوئے ۸؍ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا ہے۔

تیونس کو ہمیشہ اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی روشن مثال قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تیونس میں اقتصادی ترقی ثابت کرنے کے لیے عالمی رپورٹیں جاری کروائی گئیں۔ معلوم ہوا کہ اس کا پورا اقتصادی ڈھانچا زین العابدین بن علی اور ان کی اہلیہ کے رشتہ داروں کے ہاتھوں جکڑا ہوا تھا۔ خوش نما عالمی رپورٹوں کی تیاری میں شریک ایک عالمی ماہر اقتصاد، بوب ریکرز نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ وہ ساری عالمی رپورٹیں جعلی اور نام نہاد ترقی ایک سراب تھی۔ بن علی کے دور اقتدار کے صرف آخری ۱۰ برسوں میں سرمایہ کاری کے قانون میں ۲۵ مرتبہ ترمیم کی گئی۔ ان سب ترامیم کا اکلوتا مقصد، اقتصادی ڈھانچے پر خاندانی اجارہ داری کا استحکام تھا۔ بن علی کو رخصت ہوئے تین برس سے زائد عرصہ گزر گیا اور جاتے ہوئے دولت کے انبار ساتھ بھی لے گیا، لیکن اب بھی آئے روز ذاتی دولت و کاروبار کے نئے سراغ مل رہے ہیں۔ ۳۷۶ بنک اکاؤنٹ اور ۵۵۰ ذاتی جایدادیں دریافت ہوچکی ہیں۔ کئی خفیہ ذاتی گھروں میں ڈالروں کے ڈھیر گننے میں کئی ماہ کا عرصہ لگا۔ ابھی کرپشن کے سارے راز افشاں نہیں ہوسکے، اور اب ایک بار پھر سابقہ حکمران ٹولے کا اقتدار بحال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

مصر میں جنرل سیسی کے خونی انقلاب کے فوراً بعد تیونس میں بھی سابقہ نظام کے کل پرزوں نے عالمی سرپرستی میں واپسی کا عمل شروع کردیا تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں کے قتل، مسلح اسلامی دھڑوں کی اچانک تیز ہوتی ہوئی کارروائیوں اور دستور ساز اسمبلی کے اندر مسلسل بحرانوں کا سلسلہ چل نکلا تھا۔ اگر اس موقعے پر تحریک نہضت سیاسی بصیرت سے کام نہ لیتی، تو اب تک تیونس کو بھی خون میں نہلایا جاچکا ہوتا۔یہاں ان غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ضروری ہے جو ایک پراپیگنڈے کی صورت میں الاخوان المسلمون مصر اور تحریک نہضت تیونس کے بارے میں اکثر پھیلائی جاتی ہیں:

اخوان کے بارے میں یہ کہ انھوں نے ضرورت سے زیادہ سختی اور عجلت دکھائی اور تحریک نہضت کے بارے میں یہ کہ انھوں نے بہت سستی دکھائی اور اقتدار کی خاطر مداہنت برتتے ہوئے بنیادی اصولوں پر سمجھوتا کرلیا اور شریعت ہی سے دست بردار ہوگئے۔

یہ دونوں الزامات محض تہمت ہیں، جن کی کوئی بنیاد نہیں۔ دونوں تحریکیں حکمت، احتیاط اور ثابت قدمی سے چلیں۔ دونوں کے خلاف پہلے روز سے سازشوں کا آغاز ہوگیا۔ لیکن ایک تو تیونس کے پڑوس میں کوئی اسرائیلی ناسور نہیں تھا اور دوسرے وہاں کی فوج کو ابھی براہِ راست اقتدار کا چسکا نہیں لگا، اس لیے اسے مصر نہ بنایا جاسکا۔ تحریک نہضت کو حاصل وسیع عوامی تائید اور دستور ساز اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہونے کے باوجود، انھیں اپنے دو وزراے اعظم اور بالآخر حکومت سے تو دست بردار ہونا پڑا، لیکن جناب راشد الغنوشی کے الفاظ میں: ’’ہم نے اقتدار کھو دیا لیکن ملک کو پہلا متفق علیہ دستور دے کر ملک و قوم کو جیت لیا‘‘۔ تیونسی دستور یقینا کوئی مثالی دستور نہیں، لیکن اس سے ایک ایسی بنیاد ضرور فراہم ہوگئی ہے جس پر ایک ’’خوش حال، آزاد، اسلامی ریاست‘‘ کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اب آیندہ نومبر میں وہاں پہلے پارلیمانی انتخاب ہونا ہیں اور دسمبر میں صدارتی۔ بعض اندرونی و بیرونی قوتیں، انتخاب کا التوا اور عبوری حکومت کاامتداد چاہتی ہیں، لیکن اب تک کے واقعات کی روشنی میں یہ توقع بجا طور کی جاسکتی ہے کہ سازشی عناصر ان شاء اللہ ناکام رہیں گے۔

تیونس میں مصری تجربہ دہرائے جانے میں ہچکچاہٹ کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ پورا ایک سال گزر جانے اور بدترین سفاکیت کی باوجود، مصری فوجی انقلاب کامیاب نہیں ہوسکا۔ بظاہر تو وہ اپنا دستور بھی لے آئے، جنرل سیسی کو نیا حسنی مبارک بھی بنادیا گیا، لیکن مصر میں طلوع ہونے والا ہردن اس کے لیے ایک نئی مصیبت لے کر آتا ہے۔ اخوان کے ۸ہزار سے زائد شہدا، ۲۳ ہزار سے زائد گرفتار اور اتنی ہی تعداد میں کارکنان روپوش یا لاپتا ہیں۔ مصر کی نام نہاد عدالتیں، درجنوں نہیں سیکڑوں کی تعداد میں پھانسی کی سزائیں سنا رہی ہیں، لیکن یہ بات حلفیہ دعوے اور کامل یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ خونی انقلاب کے خلاف عوامی تحریک میں ایک دن کا توقف بھی نہیں آیا۔ اخوان کے کارکنان ہی نہیں، امریکی اور مغربی تجزیہ نگار بھی مسلسل اعتراف کررہے ہیں کہ فوجی انقلاب کو بالآخر رخصت ہونا ہوگا۔

سیسی حکومت سے عوامی بیزاری کا تازہ ترین مظہر وہاں کا حالیہ صدارتی انتخابی ڈراما بھی ہے۔ بھرپور ابلاغیاتی مہم اور پوری سرکاری مشینری استعمال کرلینے کے باوجود، دو روز تک جاری رہنے والی پولنگ ختم ہوئی، تو حکومتوں صفوں میں ہر طرف صفِ ماتم بچھ گئی۔ درجنوں ٹی وی چینلوں پر بیٹھے رنگ برنگے تجزیہ کار، عوام کو بالفعل گالیاں دینے لگ گئے کہ وہ اپنے ’’نجات دہندہ‘‘ سیسی کو ووٹ دینے کیوں نہیں نکلے۔ ذرا غیر جانبدار میڈیا کا معیار ثقاہت ملاحظہ کیجیے: ’’عوام جوتوں کے قابل ہیں‘‘، ’’پہلے انھیں کمر پر پڑتے تھے، اب ان کے سروں پر جوتے برسانے چاہییں‘‘، ’’جو لوگ فیلڈ مارشل عبدالفتاح سیسی کو ووٹ ڈالنے نہیں نکلے، ان کی ماؤں نے انھیںتمیز ہی نہیں سکھائی‘‘، ’’اگر جنرل سیسی کو ووٹ دینے نہ نکلے تو تاریخ کی بدترین خوں ریزی ہوگی‘‘۔پھر اسی دوران میں اچانک اعلان ہوا کہ ووٹنگ کے لیے ایک روز مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ وہی میڈیا جو   آہ و بکا کررہا تھا، اگلی شام خوشی کے شادیانے بجانے لگا کہ ۴۶ فی صد ووٹ ڈالے گئے، جن میں سے ۹۷فی صد نے جنرل سیسی کو صدر منتخب کرلیا۔ مصری عوام نے اس موقعے پر معرکۃ الصَّنَادِیقِ الخَاوِیَۃ (خالی صندوقچیوں کا معرکہ لڑا) اس معرکے میں وہی غالب رہے اور ووٹوں کا تناسب زیادہ سے زیادہ ۱۲ سے ۱۵ فی صد رہا۔

انتخاب کی طرح ان کے جشن فتح کی مثال بھی نہیں ملتی۔ نتائج کا اعلان کرنے کے بعد میدان تحریر میں رات بھر رقص و شراب نوشی جاری رہی۔ اس دوران خواتین اور بچیوں سے بدسلوکی ہی نہیں، عصمت دری تک کی گئی۔ ایک خاتون صحافی کو جو اپنی بیٹی کے ہمراہ اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے وہاں تھیں، پورے مجمعے میں مادر زاد عریاں کردیا گیا۔ یہ واقعہ اتنا بدنما داغ ہے کہ صدارتی حلف اٹھانے کے بعد جنرل سیسی نے خود ہسپتال جاکر متأثرہ خاتون کو گلدستہ پیش کرتے ہوئے، سانحے کی شدت کم کرنے کی ناکام کوشش کی۔لیکن خواتین سے بدسلوکی اور انھیں ہراساں کرنا اب مصر کی بدترین شناخت بنتی جارہی ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ’’جیسا راجا، ویسی پرجا‘‘۔

یہ سانحات و جرائم حکمرانوں کا تعارف تو کروا ہی رہے ہیں، ان کی وجہ سے عالمی طاقتیں بھی مسلسل بے نقاب ہورہی ہے۔ مصر اور شام میں صدارتی انتخابی ڈرامہ ہو یا بنگلہ دیش کے ڈھکوسلا انتخابات، جمہوری اقدار کی دعوے دار قوتوں نے ان کی حقیقت سے باخبر ہونے کے باوجود آنکھیں موند لی ہیں اور زبانیں گنگ کررکھی ہیں۔ یہی عالم اور پالیسی حقوق انسانی کی توہین کے بارے میں ہے۔  میدانِ تحریر میں خواتین کی بے حرمتی ہو، شامی مہاجر کیمپوں میں دم توڑتی بچیاں ہوں یا بنگلہ دیش میں ۲۰ سے ۲۴ سال کی عمر کی درجنوں طالبات کی اس الزام میں گرفتاریاں ہوں، کہ ان سے حکومت مخالف سٹکر برآمد ہوئے ہیں، دنیا کی کسی ’ملالہ فین‘ این جی او یا حکومت کو توفیق نہیں ہوئی کہ ان کے خلاف آواز اٹھائے۔

نام نہاد مصری عدالتوں نے چند منٹ کی کارروائی کے بعد ۲۴ مارچ کو ۵۲۹؍ افراد کو سزائے موت سنادی، ’مہذب‘ دنیا نے خاموش رہ کر اس جرم میں شرکت کا ارتکاب کیا۔ عالمی رویے نے قاتل نظام کی حوصلہ افزائی کی، عدالتوں نے ۲۸؍ اپریل کو دوبارہ غضب الٰہی کو دعوت دیتے ہوئے ۷۰۰ مزید افراد کو پھانسی کی سزا سنادی۔ ۱۹جون کو مجرم جج پھر گویا ہوا، اخوان کے مرشد عام سمیت ۱۴مرکزی قائدین کو سزاے موت سنادی۔ ۲۱جون کو مرشد عام سمیت ۱۵۰؍ افراد کو دوبارہ سزاے موت سنا دی۔ لیکن دنیا یوں اندھی بہری گونگی بنی ہوئی ہے کہ جیسے انسانوں کوپھانسیاں نہیں دی جارہیں، کیڑے مکوڑوں سے نجات حاصل کی جارہی ہے۔

پھانسی اور عمر قید کی سزاؤں کی فہرست طویل ہے اور مزید طویل ہوتی جارہی ہے۔ جس طرح یہ قائدین اور کارکنان سزا سنانے والے ججوں کے فیصلے سن کر ہنستے مسکراتے انھیں کائنات کے حاکم اور منصف مطلق کی عدالت میں جمع کروادیتے ہیں، بہت ممکن ہے کسی روز اسی طرح ہنستے مسکراتے پھانسی کے پھندے چومتے دربار خداوندی میں بھی جاپہنچیں، لیکن وہ حقوق انسانی کے دعوے .... اَربوں کے بجٹ ... مہذب اور ترقی یافتہ ہونے کے دعوے... ؟ امریکی وزیر خارجہ نے ۲۱ جون کو قاہرہ جاکر جنرل سیسی حکومت کے لیے ۷۶۰ ملین ڈالر امداد بحال کرکے شاید اسی سوال کا عملی جواب دیا ہے۔ لیکن اصل جواب کائنات کے رب کی عدالت سے آنا ہے اور یقیناً آنا ہے،  فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ o (اعراف ۷:۷۱)، ’’اب تم انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کررہا ہوں‘‘۔

تقسیمِ منقسم

اگست ۱۹۹۰ء میں عراقی آمرِ مطلق صدام حسین کی حماقت کی آڑ میں خلیج میں در آنے کا قدیم امریکی منصوبہ مکمل ہوا، تو امریکی صدر بش کے باپ صدر بش نے ایک جملہ کہا تھا کہ ’’اب خاکِ دجلہ و فرات سے ایک نئی تہذیب، نیا عالمی نظام جنم لے گا‘‘۔ تعلیمی، سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی پہلوؤں سے، اس نئی تہذیب اور نئے عالمی نظام کے کئی تعارف ہیں، یہاں صرف ایک مثال دی جارہی ہے۔

۱۹۹۱ء میں امریکی سرپرستی میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعے عراق کے پورے کرد علاقے کو ’خصوصی حیثیت‘ دے دی گئی۔ قرارداد بظاہر بڑی معصومانہ ہے، تاثر یہ دیا گیا کہ کرد آبادی کو احساس محرومی سے نجات دینے اور صدام حسین کی عرب قوم پرستانہ پالیسیوں سے محفوظ کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے عظیم خدمت انجام دی ہے۔ لیکن اس ’بے ضرر قرارداد‘ کے اصل زہریلے پھل اب پک کر تیار ہوچکے ہیں۔ تقریباً ایک تہائی علاقے پر مشتمل عراق کا کرد علاقہ، اب تقریباً الگ ریاست کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ تیاری مکمل، فضا سازگار اور سب متعلقہ فریق ہمہ تن گوش ہیں کہ کسی بھی لمحے علیحدگی کا بگل بجادیا جائے گا۔ ۲۵جون کو امریکی وزیرخارجہ کے دورے کے موقع پر اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ذمہ داران نے بھی اسے ’اطلاع‘ دے دی ہے کہ کردستان ریاست کا اعلان کسی بھی گھڑی ہوسکتا ہے اور یہ کہ اسرائیل اس نئی ریاست کو تسلیم کرنے والے اولیں ممالک میں سے ہوگا۔کردستان کا الگ ریاست بنادیا جانا، صرف عراقی کردستان تک ہی محدود نہیں رہے گا۔ ایران، شام اور ترکی میں موجود کرد آبادی کو بھی طویل عرصے سے اسی بخار کا شکار کیا جارہا ہے۔ توڑ پھوڑ اور تقسیم در تقسیم کا یہ مکروہ کھیل وہاں بھی کھیلا جائے گا، خواہ اس کھیل کے لیے ان ممالک کو کتنا ہی عرصہ حالت ِ جنگ میں رکھنا پڑے۔

عراق پر امریکی قبضے کے فوراً بعد جو عبوری حکومت تشکیل دی گئی، اسی میں عراق کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا آغاز کردیا گیا تھا۔ حکومت کی تشکیل، ایک ملک کے شہریوں کی حیثیت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر نہیں، مختلف مذہبی، علاقائی اور نسلی گروہوں کے لیے تناسب کی بنیاد پر کی گئی۔ شیعہ، سُنّی اور عرب، کرد اور ترکمان کی تعصباتی تقسیم گہری کرتے ہوئے، عراق میں خون کے وہ دریا بہائے گئے کہ الأمان الحفیظ۔ٹیکس گزار امریکی شہریوں کے اَربوں ڈالر اور ہزاروں امریکی شہریوں کی جانیں، عراقی الاؤ میں جھونکنے کے بعد بظاہر تو امریکی افواج عراق سے بھاگ گئیں، لیکن امریکا عملاً اب بھی وہاں موجود ہے اور اب بھی اسی کاایجنڈا نافذ ہورہا ہے۔ تیل کی بندربانٹ بھی اسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ صوبہ کردستان اور مرکزی حکومت میں ایک جھگڑا تیل سے مالامال ’کرکوک‘ شہر پر قبضے کا بھی تھا۔ حالیہ واقعات کے فوراً بعد کرد فوج ’بیشمرکہ‘ نے یہ کہتے ہوئے کرکوک پرقبضہ کرلیا کہ   اسے ’داعش‘ سے خطرہ ہے۔ دوسری طرف ’بیجی‘ میں واقع عراق کی سب سے اہم آئل ریفائنری پر اہلِ سنت فورسز کا قبضہ مکمل ہوگیا۔ اس طرح ایک ملک کے بجاے اب عراقی تیل تین قوتوں کے قبضۂ اختیار میں ہے۔ تین نسبتاً کمزور مالکوں کے ساتھ سودے بازی میں عالمی قوتوں کو آسانی ہوگی۔

عراقیوں کو باہم قتل و غارت کی دلدل میں اتارنے کا سب سے مہلک ہتھیار شیعہ سنی کی آگ بھڑکانا تھا۔ یہ درست ہے کہ اس سلسلے میں طرفین نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن حکومت و اقتدار میں ہونے کے باعث شیعہ آبادی کا پلّہ بھاری رہا۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران جیسے پڑوسی ملک کا کردار بہت مؤثر ہوسکتا تھا، لیکن بدقسمتی سے نہ صرف یہ کہ ایسا نہیںہوسکا بلکہ عراقی عوام نے ہر قدم پر محسوس کیا کہ ایران جیسے اَہم ملک کا تمام تر و زن و نفوذ، ان کے بجائے متعصب عراقی حکومت کے پلڑے میں ہے۔ کہنے والوں نے تو اس ضمن میں بہت ساری دستاویزات و حقائق پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عراق کی اصل حکومت تہران سے چلائی جارہی ہے۔

انتہائی مسموم ابلاغی یلغار اور گہرے احساس محرومی کی وجہ سے عراق کے اہل سنت اکثریتی علاقوں میں گذشتہ تقریباً ڈیڑھ برس سے پُرامن عوامی احتجاج جاری تھا۔ بڑے چھوٹے شہروں میں کسی ایک جگہ مشترک نماز جمعہ ادا کی جاتی اور پھر دھرنوں، ریلیوں کے ذریعے مطالبہ کیا جاتا کہ ’’اہلسنت آبادی کو جینے کا حق دیا جائے‘‘۔ ادھر بغداد سمیت مختلف عراقی شہروں میں بم دھماکوں، اندھا دھند فائرنگ اور آتش زنی کے واقعات کے ذریعے وسیع پیمانے پر شیعہ اور سنی آبادی کے قتل عام میں تیزی پیدا کردی گئی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صرف حالیہ ماہ جون کے دوران، عراق میں ۲ہزار سے زائد شہری قتل یا زخمی ہوئے (اصل تعداد یقینا زیادہ ہے)۔ اس پوری فضا میں اچانک اہل سنت اکثریتی علاقوں میں بعض مسلح گروہ اٹھے اور انھوں نے وہاں سے عراقی افواج کو بھگاتے ہوئے وسیع و عریض علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔

عالمی ذرائع ابلاغ نے اس پوری کارروائی کو ’داعش‘ نامی تنظیم سے منسوب کیا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ اس علاقے کی پوری آبادی کا مشترک ردعمل ہے، جس کا سامنا کرنا نوری المالکی انتظامیہ کے بس میںنہیں۔ اگرچہ اس پوری کارروائی میں نمایاں حصہ ’داعش‘ کا دکھائی دیتا ہے، لیکن کرد صدر مسعود بارزانی کے بقول اس میں داعش کا حصہ ۱۰فی صد سے زیادہ نہیںہے۔ صدام فوج کی سابق افواج، مسلح قبائلی لشکر اور عام آبادی سب ان واقعات میں شریک ہیں۔ عراقی فوج کو نکالنے کے بعد پہلے ہی دن صدام حسین کی تصاویر اُٹھا کر مظاہرے، اور پھر صدام کو سزاے موت سنانے والے جج کو پھانسی ’داعش‘ کی نہیں انھی دیگر گروہوں کی سرگرمیاں ہیں۔باقی تمام، عناصر کو چھوڑ کر صرف ’داعش‘ کا نام نمایاں کرنے کے اپنے مقاصد ہیں۔

الدولۃ الإسلامیہ فی العراق و الشام، (داع ش) یا Islamic State in Iraq & Syria (ISIS) کی حقیقت ایک معما ہے۔ یہ مسلح تنظیم گذشتہ کئی ماہ سے شام میں کارروائیاں کررہی ہے۔ اسے آغاز میں وہاں کی ’القاعدہ‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن خود ایمن الظواہری سمیت القاعدہ قیادت نے اس سے اپنی برأت کا اعلان کردیا۔ اب اس کے بارے میں مختلف متضاد دعوے کیے جارہے ہیں۔ اس کے پیچھے سعودی عرب، امریکا، ترکی حتیٰ کہ خود ایران کا ہاتھ ہونے کے دلائل دیے جاتے ہیں۔ باعث حیرت امر یہ ہے کہ ’داعش‘ کو سب ممالک اپنا دشمن اور خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار بھی دیتے ہیں، لیکن اس کی کارروائیوں اور کامیابیوں پر ان کی غیر علانیہ طمانیت بھی چھپائے نہیں چھپتی۔ ’داعش‘ اگر عراق میں نوری المالکی فورسز سے برسرِ پیکار نظر آتی ہے، تو شام میں نوری المالکی کے ہم زاد بشار الاسد کے مخالف مزاحمتی گروہوں سے بھی جنگ کررہی ہے۔

اس غبار آلود منظر کا سب سے خطرناک پہلو عراق ہی نہیں پورے خطے میں سنی شیعہ تقسیم کا گہرا اور سنگین تر ہوجانا ہے۔ تعصب فرقہ وارانہ ہو یا نسلی، علاقائی اور لسانی، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدبودار مُردار قرار دیتے ہوئے، اس سے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔ الحمدللہ، عالمی اسلامی تحریکات ان سارے بتوں کی پرستش سے پاک ہیں۔ یہاں بیان کردہ حقائق بھی صرف تصویر کو مکمل طور پر دیکھ سکنے کے مقصد سے پیش کیے جارہے ہیں۔

اسی بنیاد پر الاخوان المسلمون سمیت اکثر تحریکات نے اس امر پر گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ حالیہ صورت حال کے بعد عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ مرجع آیت اللہ سیستانی کی طرف سے شیعہ آبادی کے لیے نفیر عام نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ وزیراعظم نوری المالکی نے بھی غالب شیعہ اکثریت رکھنے والی عراقی فوج کے ہزاروں افسروں اور سپاہیوں کو فارغ کرتے ہوئے ’متبادل فوج‘ کے نام سے فرقہ ورانہ ملیشیا تیار کرکے دشمن ہی کاکام آسان کیا ہے۔ فریقین کو یہ حقیقت بخوبی معلوم بھی ہے اور یاد بھی رکھنا چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے کو صفحہء ہستی سے نہیں مٹا سکتے، لیکن اس کے باوجود کوشش اور اعلانات دونوں کے یہی ہیں۔

ٹھیک ۱۰۰ برس قبل اور آج رُونما ہونے والے واقعات پر غور کریں تو حیرت انگیز مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ دشمن کی چالیں اور ہتھکنڈے بھی وہی ہیں اور اپنوں کی حماقتیں اور جرائم بھی وہی۔ تب بھی مغربی استعمار کا ہدف عالم اسلام کو تقسیم و تباہ کرنا تھا۔ تب بھی اس کے اصل آلہ کار، حرص اقتدار کے شکار حکمران تھے، اب بھی اس کا ہدف اور آلۂ کار یکساں ہے۔ رابطے کے تیز رفتار وسائل، ذرائع ابلاغ کے مہیب جال اور ہتھیاروں کے مزید مہلک پن نے اسے اور اس کے غلاموں کو مزید غرور و سفاکیت میں مبتلا کردیا ہے۔ گویا تاریکی اور شدائد عروج کو جاپہنچے ہیں۔

کامیابی کا حتمی تعین کرنے والی کائنات کی سب سے سچی اوراللہ کی آخری کتاب کا مطالعہ کریں تو گاہے حیرت ہونے لگتی ہے،ظلم و ستم اور عذاب و آزمایش کے سنگین ترین لمحات ہی نصرت و نجات کا آغاز ثابت ہوتے ہیں۔ ابتلا کے عروج پر بھی خالق نے اپنے سچے پیروکاروں کو اُمید اور عطا کی ہی بشارت دی ہے۔ تنگی اور عسر کے بعد نہیں، تنگی اور عسر کے ساتھ لگی ہوئی یسراور آسانی کی نوید سنائی ہے۔ انسان کو اس نے چونکہ کمزور (ضعیفًا) اور گھبرا جانے والا (ھلوعا) بنایا، اس لیے ایک بار نہیں، دو بار فرمایا: فَاِِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o اِِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o    (الم نشرح ۹۴:۵-۶ )’’پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے‘‘۔اس کے عملی مشاہدے قرآن کریم میں جابجا دکھائی دیتے ہیں:

  • آدم ثانی، حضرت نوح علیہ السلام ۹۵۰ برس (اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا- العنکبوت ۲۹:۱۴) قوم کو دعوت دیتے رہے، لیکن اس نے مان کر نہ دیا، تو پکار اُٹھے: رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ (القمر ۵۴:۱۰) ’’پروردگار میں مغلوب ہوگیا مدد فرما‘‘۔ تب انھیں بھی معلوم نہ تھا کہ اس پکار کے جواب میں خالقِ بے نیاز ان کی مدد کرتے ہوئے، پوری روے زمین کو غرق کردے گا، صرف وہ اور ان کی کشتی میں سوار مخلوق ہی باقی رہے گی۔
  • بڑھاپے کو پہنچے ہوئے ابو الانبیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام، ایک کے بعد دوسری آزمایش میں سرخرو ہوتے ہوئے، جب آخرکار اپنے لخت جگر کی گردن پر بھی چھری رکھ دیتے ہیں، توشہ رگ عزیز از جان بیٹے کی نہیں، جنت سے بھیجے مینڈھے کی کٹتی ہے۔ آزمایش اتنی کڑی اور کامیابی اتنی بڑی تھی کہ پھر قربانی کا یہی عمل تاقیامت دہرائے جانے کا حکم دے دیا گیا۔
  • ساری آزمایشوں سے گزرنے کے بعد، رات کی تاریکی میں، سردی سے ٹھٹھرتے، بھوک سے بے تاب موسیٰ علیہ السلام اہل خانہ کے لیے آگ تاپنے کا انتظام کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔ انھیں ایک لمحے کے لیے بھی خیال نہ آیا تھا، کہ پوری کائنات کا مالک رب ذوالجلال خود ہم کلام ہوتے اور نبوت عطا کرتے ہوئے ’کلیم اللہ‘ کا لقب عطا کرنے والا ہے۔
  • ایمان کی حفاظت کرتے یوسف علیہ السلام نے رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ ِالَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَـیْہِ (یوسف۱۲:۳۳) ’’اے میرے رب! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں‘‘۔ پکارتے ہوئے قید کو ترجیح دی۔ سال پر سال گزرنے لگے۔ نجات کا لمحہ آیا تو رب ذوالجلال نے کسی لشکر، عذاب یا طوفان کے ذریعے نہیں، بادشاہ کے ایک خواب کے ذریعے، کال کوٹھڑی سے نکال کر اقتدارِ مصر عطا کردیا۔
  • حزن و الم کے شکار اور رو رو کر بینائی تک سے محروم ہوجانے والے یعقوب علیہ السلام نے اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْٓ اِلَی اللّٰہِ (یوسف۱۲:۸۶) ’’میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیںکرتا‘‘، پکارا، تو عزیز و قدیر پروردگار نے بینائی بھی لوٹا دی ، بیٹے سے بھی ملادیا اور پورے کنبے کو خوش حالی عطا کرتے ہوئے یک جا کردیا۔
  • خود رسالت مآب رحمۃ للعالمینؐ رنج و حزن کے عالم اور رات کی تاریکی میں بستر پر لیٹے ہیں۔ ایک ہی سال(عام الحزن) میں ڈھال بنے چچا حضرت ابوطالب اور سچی رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ ؓبھی دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ اہل مکہ تو جان کے درپے تھے ہی، اہل طائف نے بھی لہولہان کردیا تھا۔ پروردگار نے انسانی تاریخ کا انوکھا اعزاز نصیب فرمادیا۔ مکہ سے مسجد اقصیٰ اور پھر ساتوں آسمانوں کو عبور کرتے ہوئے رب کائنات سے براہِ راست مناجات کااکلوتا واقعہ رُوپذیر ہوتا ہے۔

پوری سیرت انبیاء اور تاریخ انسانی ایسی ہی مثالوں سے معمور ہے۔ یہی نہیں خالق نے پورے کارخانۂ قدرت میں بھی اسی سنت کو نافذ کیا ہوا ہے۔ تاریکی عروج پر پہنچتی ہے تو سپیدۂ سحر طلوع ہونے لگتا ہے۔ حبس انتہا کو پہنچے، تو ابر کرم جھوم کے آتا ہے، کٹھالی میں جتنا کھولایا جائے، آلایشوں سے اتنی ہی نجات ملتی ہے۔

آج بھی رحمت خداوندی کے علاوہ سب در بند دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں اُمید کی کرن تعصبات سے پاک، بے لوث و مخلص اہل دین اور انھی اسلامی تحریکات کو بننا ہے، جنھوں نے گذشتہ صدی میں تجدید و احیاے دین کا فریضہ انجام دیا۔ گذشتہ صدی کے آغاز میں ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاتی تھی، آج وہ لاکھوں میں ہیں۔حلقۂ یاراں ہو، یعنی اپنے ہم وطن مسلمانوں میں کام کرنا ہو تو یہ تحریکات ہزاروں شہدا اور اسیر پیش کرکے بھی پُرامن رہتی ہیں۔ دعوت و تربیت اور پُرامن سرگرمیوں پر اکتفا و انحصار کرتی ہیں۔ لیکن کشمیر، فلسطین، افغانستان اور عراق کی طرح استعمار قابض ہوجائے، تو جہاد اور فداکاری کی ناقابل یقین تاریخ رقم کردیتی ہیں۔ حقائق اور خود اغیار کی اپنی دستاویزات ثابت کررہی ہیں کہ آیندہ ۱۰ سے ۱۵ برس انتہائی اہم ہیں۔ عالمِ اسلام کو تقسیم کرنے کا ایک اہم ہدف اسرائیلی ناجائز ریاست کا دفاع قرار دیا جاتا ہے۔ اب خود اسرائیلی دانش ور سوال اُٹھا رہے ہیں کہ کیا ہم آیندہ عشرے کے اختتام تک اپنا وجود باقی رکھ سکیں گے؟غیب کا علم صرف پروردگار عالم کو ہے، لیکن آزمایشیں جتنی بڑھتی جاتی ہیں، ألَا اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ کی ملکوتی ندا بلند تر ہوتی جارہی ہے۔

’’ایف ایس سی کے امتحان میں قومی سطح پر میری چھٹی پوزیشن تھی۔ ایم بی بی ایس کے امتحان میں ہر سال میں ملک بھر میں اول آتا رہا۔ پھر میرا شمار اپنے شعبے میں ملک کے قابل ترین ڈاکٹروں میں ہونے لگا۔ جامعہ الازہر کے میڈیکل کالج میں تدریس کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ میں نے اپنی نگرانی میں ایک کلینک قائم کیا جو ملک کے بہترین طبی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ پھر دو ماہ کے عرصے میں مجھ پر ملک کے ۲۵؍ اضلاع میں ۲۵ خطرناک مقدمات قائم کردیے گئے۔ مقدمات دیکھ کر لگتا ہے کہ میں ملک کا ایک معروف اور قابل ڈاکٹر نہیں کسی خطرناک مافیا کا سرغنہ ہوں .... آپ لوگوں نے میرا کلینک جلا کر راکھ کردیا… کالج میں زیر تعلیم میری بیٹی اسما کو قتل کردیا .. میرے بیٹے کو جیل بھیج دیا ... میری اہلیہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں...... لیکن جج صاحب! آپ کا خیال ہے کہ میں عدالت کے کٹہرے میں قیدیوں کا لباس پہنے اپنے دفاع میں کوئی دلیل پیش کروں گا..... رب ذوالجلال کی قسم! میرے لیے پھانسی کے پھندے پر جھول جانا یا ان تمام الزامات سے بری الذمہ ہوجانا یکساں حیثیت رکھتا ہے ..... جج صاحب ! میں آج یہاں صرف اس لیے کھڑا ہوں کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آیندہ نسلیں تک جان لیں کہ کون حق پر تھا اور اہل حق کے ساتھ کھڑا تھا، اور کون باطل پر تھا اور اہل باطل کی صف میں کھڑا تھا‘‘۔

یہ الفاظ اخوان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر محمد البلتاجی کے ہیں جو انھوں نے چند روز قبل جیل سے ایک عدالتی پنجرے میں لائے جانے پر جج کے سامنے کھڑے ہوکر کہے۔ ڈاکٹر بلتاجی کو معلوم تھا کہ یہی عدالتیں چند منٹ کی کارروائیوں کے بعد سیکڑوں افراد کو سزاے موت سنا رہی ہیں۔ خودان کے خلاف کسی بھی وقت اور کوئی بھی فیصلہ آسکتا ہے۔ لیکن لگتا تھا کہ جج بھی سکتے میں آگیا ہو ... ہر دیکھنے اور سننے والے نے تبصرہ کیا: ’’لگتا ہے جج کٹہرے میں کھڑے ہیں اور ملزم ان پر فرد جرم عائد کررہا ہے‘‘۔یہ اپنی نوعیت کا کوئی منفرد واقعہ نہیں۔ اخوان کے تمام گرفتار شدگان موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسلسل اسی جرأت و عزیمت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ ۱۱ ماہ کا عرصہ گزر گیا، خونی فوجی انقلاب مسلسل خوں ریزی کررہا ہے، لیکن اس پورے عرصے کا کوئی ایک دن... جی ہاں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب ملک کے طول و عرض میں مصری عوام سراپا احتجاج  نہ ہوں۔ ۸ ہزار سے زائد شہدا اور ۲۳ ہزار سے زائد گرفتار شدگان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ابھی جمعہ ۲۳ مئی کو پانچ مزید بے گناہ شہید ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے جمعے کو بھی آٹھ افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ دوران ہفتہ بھی شہدا کا قافلہ مسلسل گامزن رہتا ہے۔

حیرت ناک بات یہ ہے کہ شہدا کی اس روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد سے عوام میں خوف یا مایوسی نہیں، ان کے عزم و استقامت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ذرا عین الشمس یونی ورسٹی کے طالب علم محمد ایمن کا پیغام پڑھیے، جو اس کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس کا آخری پیغام ثابت ہوا۔ اپنے نفس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’اللہ کی قسم! میں تمھیں جنت کی طرف لے جا کر رہوں گا۔ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ وہ اکیلے اکیلے جنت میں چلے جائیں گے..؟ ہرگز نہیں ... ہم ان کے شانہ بشانہ جنت کے دروازوں سے داخل ہوں گے تاکہ انھیں بھی معلوم ہوجائے کہ انھوں نے اپنے پیچھے حقیقی مردانِ کار چھوڑے ہیں‘‘۔ ۷مئی کی رات ۵۵:۸ پر اس کا یہ پیغام  نشر ہوا اور کچھ ہی دیر میں وہ شہدا کی صف میں شامل ہوگیا۔ تصویر دیکھیں تو مصریوں کا روایتی جمال آنکھوں اور چہرے سے واضح چھلک رہا ہے۔ حسن اتفاق دیکھیے کہ ۲۳مئی کو پھر ایسا ہی واقعہ سامنے آتا ہے۔ یونی ورسٹی کا طالب علم ابراہیم عبد الحمید ٹویٹر پر اپنا پیغام لکھتا ہے: النصر الحقیقی ھو الشہادۃ’’حقیقی فتح، شہادت ہے‘‘ ،اور پھر یہی آخری پیغام چہرے پر سجائے رب کے دربار میں حاضر ہوجاتا ہے۔ اِکا دکا نہیں ایسے واقعات مسلسل ہورہے ہیں اور اللہ کے عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے جاری، جنرل سیسی مخالف تحریک کی آب و تاب میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں۔

دوسری جانب دیکھیں تو جلاد سیسی اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ صرف قتل و غارت ہی نہیں اب وہ خود کو منتخب صدر کی حیثیت سے ملک و قوم پر تھوپنا چاہتا ہے۔ جنرل سیسی نے ۳۰ جون ۲۰۱۳ء کے خونی انقلاب کے بعد درجنوں بار کہا کہ ’’وہ اقتدار نہیں چاہتے‘‘، ’’صدارت کا اُمیدوار نہیں ہوں‘‘، ’’فوج سیاست سے بالاتر رہے گی‘‘ لیکن پھر ’’عوام کے پُرزور اصرار‘‘ پر انھوں نے فوج کی سربراہی اپنے ایک قریبی رشتے دار کے سپرد کرتے ہوئے وردی اتاری اور صدارتی اُمیدوار بن بیٹھے۔صدر جنرل سیسی کی مہم شروع ہوتے ہی، عوام کی طرف سے ایسی نفرت کا اظہار کیا گیا کہ کوئی صاحب ِغیرت ہوتا، تو اس پورے کھیل کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیتا۔ عوام نے ایک ایسا ناقابل بیان نعرہ ایجاد کیا کہ جس میں نفرت کی شدت بھی تھی اور استہزا کی انتہا بھی۔ ’’انتخبوا...... کو منتخب کرو‘‘کا یہ نعرہ اتنا معروف ہوا کہ اس میں سے گالی نما لفظ نکال کر بھی اگر کہیں صرف اتنا ہی لکھا ہوتا ہے کہ ’’...... کو منتخب کرو‘‘ تو یہ بدنما لفظ بھی خود ہی ادا سمجھا جاتا ہے۔ مصر کی آبادی ۸ کروڑ ہے اور اس میں سے یقینا ایک حصہ بالخصوص مسیحی آبادی سیسی کا ساتھ دے رہی ہے، لیکن غیر مصری عوام نے بھی یہ نعرہ ایک دوسرے سے شیئر کیا۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق ’’..... کو ووٹ دو‘‘ کا یہ نعرہ سوشل میڈیا پر ساڑھے ۹ کروڑ سے زائد افراد نے ارسال کیا۔

انتخابی ڈرامے کو حقیقت ثابت کرنے کے لیے متعدد صدارتی اُمیدوار میدان میں اتارنے کے لیے کئی جتن کیے گئے۔ لیکن جہاں صدر محمد مرسی کے انتخاب کے وقت ۱۳؍ اہم قومی شخصیات میدان میں تھیں، حالیہ انتخابی ڈرامے میں سو پاپڑبیلنے کے بعد بھی صرف ایک اُمیدوار حمدِین صبَّاحی کو میدان میں لایا جاسکا۔ حمدِین صبَّاحی گذشتہ اصل انتخاب میں بھی صدارتی اُمیدوار تھے اور بائیں بازو کے ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ انتخاب کے دوسرے مرحلے میں انھوں نے بھی فوج کے اُمیدوار جنرل شفیق کی بھرپور مدد کی تھی۔ خود جنرل شفیق جو حسنی مبارک کے زوال کے بعد سے آج تک ابوظبی میں مقیم ہیں، کی طرف سے بھی نہ صرف صدارتی اُمیدوار بننے سے معذرت کی گئی بلکہ    انھوں نے جنرل سیسی کی مخالفت کرتے ہوئے بیانات بھی دیے۔ ان کا کہنا ہے: ’’اس نے فوج کو متنازع بنادیا ہے‘‘ اور ’’میں ایسے انتخاب میں کیوں حصہ لوں کہ جس کے نتائج پہلے سے معلوم ہیں‘‘۔

خود جنرل سیسی نے بھی ایک ایسی انوکھی انتخابی مہم چلائی ہے کہ خود مسلسل روپوش ہیں۔ پوری مہم کے دوران میں ایک بار بھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔ ایک بھی ریلی، جلسے یا اجتماع سے خطاب نہیں کیا۔ ہاں، ذرائع ابلاغ اور اشتہار بازی کے ذریعے ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ پوری انتخابی مہم کے دوران ایک ٹی.وی چینل کے ذریعے اپنے دو پسندیدہ صحافیوں کو چار گھنٹے طویل انٹرویو دیا۔ صحافیوں کے اس جوڑے میں سے بھی جب مرد اینکر پرسن نے تھوڑا سا تیکھا سوال کرنے کی کوشش کی، تو جنرل صاحب ہتھے سے اکھڑ گئے۔ کہنے لگے کہ ’’میں تمھیں یہ سوال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا‘‘۔ جنرل سیسی کے ۱۱ ماہ کے دور اقتدار میں دو درجن کے قریب صحافیوں کا قتل دیکھ لینے والا یہ ’چہیتا‘ صحافی بھی فوراً چاپلوسانہ دائرے میں واپس چلا گیا۔ جنرل سیسی کو عوام میں اپنی ’مقبولیت‘ کا ہی ادراک نہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ عافیت زیر زمین چھپے رہنے ہی میں ہے۔ خود یہ بیان بھی دے چکے ہیں کہ ’’مجھے بھی انور سادات کی طرح قتل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ اس کے باوجود بھی غرور و تکبر کا یہ عالم ہے کہ اسی چار گھنٹے کے اکلوتے انٹرویو میں دعویٰ کرڈالا کہ ’’میں اخوان کو صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالوں گا‘‘.... ’’میں انھیں جڑ سے اُکھاڑ پھینکوں گا‘‘۔ یہ متکبرانہ، فرعونی دھمکیاں سننے والے اکثر لوگ بے اختیار کہہ اُٹھے کہ جنرل سیسی نے خود اپنے خلاف حجت تمام کر ڈالی۔ رہیں دھمکیاں تو فرعون نے بھی اپنے اقتدار کے منکر اہلِ ایمان سے کہا تھا ’’میں تمھیں پھانسی چڑھا دوں گا‘‘۔ ’’اُلٹی سمت سے تمھارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا‘‘۔ اہل ایمان کا جواب اس وقت بھی یہی تھا اور آج بھی یہی کہ فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ اِنَّمَا تَقْضِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا (طٰہٰ ۲۰: ۷۲) ’’تم جو فیصلہ کرنا چاہو کرلو، یہ تو اسی حیات دنیا کی فیصلے ہیں‘‘۔ پھر رب ذو الجلال نے ابدی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا:اِنَّہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَھَنَّمَ لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَ لَا یَحْیٰی(طٰہٰ ۲۰: ۷۴) ’’ جو اپنے رب کے حضور مجرم بن کر آئے گا، اس کے لیے ایسی جہنم ہے جس میں نہ اسے موت آئے گی اور نہ وہ جی ہی پائے گا‘‘۔

جنرل سیسی اور مصری فوج کی طرف سے حالیہ انتخابی مہم کے دوران عجیب وغریب شعبدے بھی سامنے آئے۔ مقصد تو تھا سیسی اور فوج کا تاثر بہتر بنانا، لیکن بالآخر یہ انھی پر اوندھے آن پڑے۔ مثلاً کہا گیا: ـ’’فوج کے تحقیقی یونٹ نے ایڈز اور ہیپاٹائیٹس سی کا علاج دریافت کر لیا ہے‘‘ لیکن جب اس کی تفصیل سامنے آئی تو ایسا مضحکہ خیز دعویٰ کرنے والے خود ہی جھینپ کر رہ گئے۔ عذابِ الٰہی کا درجہ رکھنے والی اس خوف ناک بیماری کا علاج یہ بتایا گیا کہ ’’بیمار کے کچھ خلیے حاصل کر کے، کباب میں رکھ کر خود اسی بیمار کو کھلا دیے جائیں گے اور زیادہ سے زیادہ۱۶روز میں ایڈز / ہیپاٹائیٹس سی سے نجات حاصل ہوجائے گی۔

ہر مسئلے کا حل فراہم کرنے والے جنرل سیسی نے بدسے بدتر ہوتے بجلی کے بحران کا بھی یہ نادر حل دریافت کیا کہ پورے ملک سے پرانے بلب اور ٹیوب لائٹیں تبدیل کر کے نئی لگادی جائیں‘‘۔ صحافی نے حیرت سے ان کا جملہ دہرایا تو جنرل صاحب گویا ہوئے: ’’یہ علمی باتیں ہیں صرف تجربے سے سمجھ میں آسکتی ہیں‘‘۔ اپنی انتخابی مہم میں سیسی صاحب نے اس عبقری علاج پر ایک اور ردّا چڑھاتے ہوئے ۳کروڑ’ انرجی سیور ‘بلب مفت تقسیم کیے ہیں۔ ظاہر ہے قومی مفاد میں اس کے لیے درکار کروڑوں ڈالر قومی خزانے ہی سے حاصل کیے گئے۔ انتخابی مہم تو محض ایک اتفاق ہے۔

قتل وغارت ، خون کے دریا، اقتدار کا فرعونی تصوراور اجتماعی عقل و شعور کا مذاق اڑانے کے باوجود صدارتی انتخابات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ تادم تحریر بیرون ملک مقیم مصری ووٹروں نے ووٹ ڈال دیے ہیںاور دیگ کا یہی دانہ انتخابی نتائج کی تفصیل بتا رہا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بیرون ملک مقیم مصری ووٹروں کی ۴ فی صد تعداد نے ووٹ ڈالا (صدر محمد مرسی کے انتخاب میں یہ تناسب ۴۴ فی صد تھا)۔ ان ۴ فی صد میں سے ۵ء۹۵فی صد ووٹروں نے جنرل سیسی کو صدر منتخب کیا۔ اب سارا ابلاغیاتی زور ۴ فی صد پر نہیں ۵ء۹۵فی صد پر ہے۔ اپنے پیش رو مصری فوجی صدور کی طرح جنرل سیسی بھی ’بھاری اکثریت‘ سے صدر بننے کا دعویٰ کرے گا، لیکن مصری عوام سے پہلے خود جیتنے والے کا دل گواہی دے رہا ہوگا کہ یہ صرف ایک فریب ہے، دھوکا ہے۔   حقیقت یہی ہے کہ مصری عوام کی غالب اکثریت نے اسمبلی، سینیٹ اور صدارتی انتخابات میں اخوان اور صدر محمد مرسی کو ہی منتخب کیا ہے۔

جنرل سیسی کی خود فریبی سے بھی بڑا سانحہ ہے کہ جمہوریت اور حقوقِ انسانی کی علَم بردار عالمی برادری بھی اس دھوکادہی میں اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ وہی امریکی انتظامیہ جو تھائی لینڈ میں تازہ فوجی انقلاب کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر رہی ہے، جنرل سیسی کی تمام قتل و غارت پر آنکھیں موندے، اس کے فراڈ انتخابات کو تسلیم کررہی ہے۔ جمعرات ۲۲مئی کو جب وزیرخارجہ جان کیری نے سخت بیان دیا کہ ’’انھیں تھائی فوجی انقلاب سے سخت مایوسی ہوئی ہے اور اس فوجی انقلاب کا کوئی جواز نہیں‘‘ تو خود امریکا میں یہ سوال اُٹھایا گیا کہ تھائی اور مصری فوجی انقلاب میں کیا جوہری فرق ہے؟ واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبار نے بھی سوال اُٹھایا کہ: ’’جس کیری نے اپنے دورئہ پاکستان کے دوران مصری خونیں فوجی انقلاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاکھوں مصری عوام فوجی مداخلت چاہتے تھے۔ آج مصر میں فوجی اقتدار نہیں حقیقتاً ایک سول حکومت ہے جو ملک میں جمہوریت بحال کرنے کے اقدامات کر رہی ہے‘‘، وہ کیری آج کس منہ سے تھائی فوجی انقلاب کی مخالفت کر رہا ہے؟ اس ساری تنقید کے باوجود امریکا سمیت اکثر عالمی طاقتیں اور ان کے گماشتے سیسی اقتدار کو منتخب حکومت قرار دینے کے لیے زمین آسمان کے قلابے ملا دیں گے۔

’حمام کے سب ننگوں‘ کی طرح اسی علاقائی انتخابی، عسکری، انقلابی ماحول میں شام کا جلاد حکمران بشارالاسد بھی ایک نام نہاد انتخاب کروا رہا ہے۔ ماہِ جون ہی میں وہ بھی ایک بار پھر منتخب صدر ہونے کا دعویٰ دہرائے گا اور بظاہر اس کی مخالفت کرنے والے ممالک بھی اس کا اقتدار اسی طرح جاری و ساری رکھنے سے اتفاق کریں گے۔

مصر کے مغربی پڑوسی لیبیا میں بھی ایک سابق فوجی جنرل خلیفہ حفتر نے ملک کے   دوسرے بڑے شہر بنغازی سے فوجی انقلاب کا آغاز کردیا ہے۔ جنرل مفتر کرنل قذافی کا ساتھی تھا۔ شاہ ادریس کے خلاف قذافی انقلاب میں وہ اس کا ساتھی تھا۔ پھر قذافی سے اختلافات ہوگئے تو امریکا فرار ہوگیا۔ امریکی ریاست ورجینیا میں طویل عرصہ مقیم رہا اور اب امریکی شہریت رکھتا ہے۔ قذافی کے خاتمے اور پھر طویل ہوتی ہوئی قبائلی چپقلش کے بعد اچانک جنرل مفتر کا ظہور ہوا ہے۔ لیبیا میں متعین خاتون امریکی سفیر نے اگرچہ اس کے انقلاب اور بغاوت سے لاتعلقی ظاہر کی ہے لیکن اس طرح کہ سب اس تعلق کو جان بھی لیں۔ مفتر نے بھی عالمی برادری اور اس کی لے پالک صہیونی ریاست کو پیغام دینے کے لیے کہا ہے: ’’ملک سے اسلام پسندوں بالخصوص اخوان کا خاتمہ کردوں گا‘‘۔

اخوان کے زیرحراست مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع نے ایک عدالتی حاضری کے دوران بیان دیتے ہوئے عالمی دوغلے پن کا اصل سبب بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ۲۰۱۳ء میں ایک اسرائیلی فکری مرکز (تھنک ٹینک) نے اپنی مفصل رپورٹ میں کہا تھا: ’’الاخوان المسلمون اسرائیل کے سخت ترین دشمن ہیں‘‘۔ یہی وہ ہمارا بنیادی جرم ہے جس کی سزا دی جارہی ہے۔ لیکن ہم اسے اپنا بنیادی اعزاز سمجھتے ہیں۔ ہم وہ اکلوتی جماعت ہیں کہ جس نے ۱۹۴۸ء میں قبلۂ اوّل پر قبضہ کرنے والی صہیونی افواج کے خلاف جہاد کیا۔ لیکن مرشدعام نے ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ آزادیِ مسجد اقصیٰ کے اس مقدس جہاد کے علاوہ ہم نے نہ کبھی کسی کے خلاف قوت استعمال کی ہے اور نہ کبھی کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایک آزاد ملک میں قوت کا استعمال کسی بھی طور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اخوان کی ۸۶سالہ تاریخ میں ہم پر مسلسل ظلم ڈھائے گئے، ہمارے کارکنان کو دی جانے والی ساری سزائوں کو جمع کریں تو یہ ۱۵ہزار سال کی مدت بنتی ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہم نے    پُرامن جدوجہد جاری رکھی ہے اور جاری رکھیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت اخوان کے ۲۳ہزار قیدیوں میں ۲۵۷۴ انجینیر ہیں، ۱۲۳۲ ڈاکٹر ہیں اور ۹۲۲۱ طلبہ ہیں، جن میں سے ۵۳۴۲ کا تعلق جامعہ الازہر کے مختلف کالجوں سے ہے۔ حقوقِ نسواں کے سب دعوے دار جانتے ہیں کہ ان میں سے ۷۰۴ خواتین اور ۶۸۹بچوں پر کیا ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ لیکن کسی کو یہ ظلم دکھائی نہیں دیتا۔

خود ۷۱ سالہ مرشد عام جن کا شمار عالمِ عرب کے ۱۰۰ بہترین ڈاکٹروں میں ہوتا ہے، بھی طویل عرصہ جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ اس وقت بھی انھیں سزاے موت سنائی جاچکی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود انھوں نے باصرار کہا کہ ’’ہم کسی صورت تشدد کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔ ٹھیک ہے ہمارے ۲۸دفاتر جلاکر اور ہزاروں کارکنان کو شہید کرکے الزام بھی ہمارے سر لگائے جارہے ہیں لیکن ہم وہ اہلِ ایمان ہیں جنھیں یقین ہے کہ اصل عدالت اللہ کی عدالت ہے اور اصل فیصلہ بھی وہیں ہونا ہے۔ ہمیں کامل یقین ہے کہ رب ذوالجلال دنیا میں بھی یقینا انصاف کرے گا اور آخرت میں بھی‘‘۔

جنرل سیسی کے مظالم، انتخابی ڈرامے اور مرشدعام کے عدالتی بیان کا مطالعہ کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی بار بار یاد آرہی ہے کہ مَنْ أَعَانَ عَلٰی قَتْلِ مُسْلِمٍ بِشَطْرِ کَلِمْۃٍ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ : آیِسٌ مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ، ’’جس نے کسی مسلمان کا قتل کرنے میں آدھی زبان سے بھی قاتل کی مدد کی، وہ قیامت کے روز اس عالم میں رب العزت سے ملے گا کہ اس کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) لکھا ہوگا: اپنے رب کی رحمت سے مایوس‘‘۔

صحابی حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! لوگوں میں سے بہتر کون ہے؟آپؐ نے فرمایا: مَن طَالَ عُمرُہُ وَ حَسُنَ عَمَلُہُ،’’ جسے لمبی عمر ملی اور اس کے عمل نیک رہے‘‘۔ الحمدللہ ۳۵سے زائد شان دار کتابوں کے مصنف محمد قطب بھی انھی خوش نصیب انسانوں میں سے ہیں۔ ۹۵برس کی عمر پائی اور آخری لمحہ تک اللہ کی اطاعت و بندگی میں گزرا۔ ۴جمادی الثانی ۱۴۳۵ھ، ۴؍اپریل ۲۰۱۴ء کو رخصت بھی ہوئے تو یہ جمعۃ المبارک کی قیمتی گھڑیاں تھیں اور اللہ نے حرم مکہ میں لاکھوں نمازیوں کو ان کی نماز جنازہ میں شریک کردیا۔

محمد قطب، مفسر قرآن اور شہید ِاسلام سید قطب کے بھائی تھے۔ ان کی تین بہنیں تھیں۔ سب سے بڑی بہن نفیسہ، سیّد قطب سے تین برس بڑی تھیں، پھر خود ان کا نمبر تھا۔ دوسری بہن امینہ ان سے چھوٹی تھیں اور پھر محمد قطب کا نمبر تھا، جو سیّد قطب سے ۱۳ سال چھوٹے تھے، اور ان کے بعد سب سے چھوٹی بہن حمیدہ تھیں۔ والد جناب قطب ابراہیم پورے خاندان کے بڑے سمجھے جاتے تھے، جنھیں خاندانی وجاہت اور دین داری اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی۔ بچپن سے ہی بچوں کو خوفِ آخرت کی گھٹی دی اور عبادات و فرائض کا خوگر بنایا۔ والدہ بھی ایک علمی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کے دو بھائیوں نے جامعۃ الازہر سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی تھی۔

سیّد قطب سے ۱۳ برس چھوٹا ہونے کے باعث محمد قطب کو بھائی کی صورت میں والد کا پیار ملا اور اُستاد کی تربیت بھی۔ اپنی پہلی کتاب سخریات صغیرۃ کا انتساب انھوں نے سیّد بھائی ہی کے نام کیا۔ لکھتے ہیں: ’’اپنے بھائی کے نام، جنھوں نے مجھے پڑھنا لکھنا سکھایا، جنھوں نے بچپن سے ہی مجھے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ وہ میرے لیے والد کا مقام بھی رکھتے تھے، میرے بھائی بھی تھے اور انتہائی عزیز دوست بھی۔ میں اپنی کتاب انھی کے نام کرتا ہوں، شاید کہ مجھ پر عائد ان کے گراں قدر قرض میں سے کچھ ادا ہوجائے‘‘۔

سیّد قطب نے بھی اپنے چھوٹے بھائی سے بہت اُمیدیں وابستہ کررکھی تھیں۔ انھوں نے اپنا شعری دیوان الشاطئ المجہول (نامعلوم ساحل) شائع کیا تو اسے ان اشعار کے ساتھ بھائی سے وابستہ کیا:

أَخِی ذٰلِکَ اللَّفظُ الَّذِي فِی حُرُوفِہٖ

رُمُوزٌ وَ أَلغَازٌ لِشَتّٰی العَوَاطِفِ

أَخِي ذٰلِکَ اللَّحنُ الَّذِي فِی رَنِینِہٖ

تَرَانِیمُ اِخلَاصٍ وِ رَیَّا تَآلُفِ

(’میرا بھائی‘ ایک ایسا لفظ کہ جس کے حروف میں محبتوں کی تمام راز و رموز پنہاں ہیں۔ ’’میرا بھائی‘‘ لفظ ہی ایک ایسا نغمہ ہے کہ جس میں اخلاص و محبت کے تمام تر نم پوشیدہ ہیں۔ )

اسی منظوم انتساب میں سیّد قطب کہتے ہیں:

فَأَنتَ عَزَائِي فِي حَیَاۃٍ قَصِیرَۃٍ

وَ أَنتَ امتِدَادِي فِي الحَیَاۃِ وَ خَالِفِي

(تم میری اس مختصر زندگی کی ڈھارس ہو.. تم زندگی میں میرا تسلسل اور میرے بعد میرے اصل وارث ہو۔)

گویا سیّد قطب، بھائی میں صفات و خوبیاں ہی نہیںدیکھ رہے تھے، ان کی لمبی عمر کے لیے بھی دُعاگو تھے۔ مفسرِ قرآن کے دونوں اندازے درست نکلے۔ محمدقطب نے نہ صرف ۹۵ سالہ بابرکت زندگی پائی، بلکہ سیّد قطب کی حیات کے بعد بھی تقریباً نصف صدی تک علم و تحقیق کے معرکے سر کرتے رہے۔

محمد پر بڑے بھائی سیّد کا اثر انتہائی گہرا تھا۔ وہ ایف اے کے بعد عربی ادب پڑھنا چاہتے تھے، لیکن خود کہتے ہیں کہ : ’’سیّد بھائی نے مشورہ دیا کہ انگریزی زبان و ادب میں تعلیم حاصل کرو اور میں نے ان کی بات مان لی‘‘۔ شاید ذہن میں ہوگا : ’’تاکہ تم اسلام کے خلاف ہونے والے حملوں اور تشکیک و شبہات، کا جواب دے سکو‘‘۔ محمد قطب ۱۹۴۹ء میں تعلیم سے فارغ ہوئے اور ۱۹۵۱ئمیں ان کی پہلی اور انتہائی شان دار کتاب منظر عام پر آئی: الإنسان بین المادیۃ والإسلام  (انسان مادیت اور اسلام کے مابین)۔ اس میں انھوں نے فرائڈ جیسے کٹر منکرین حق کے نام نہاد فلسفوں کا مسکت جواب دیا۔ اسی طرح اُنھوں نے اپنی کتاب مذاہب فکریۃ معاصرۃ (معاصر نظریاتی رحجانات)میں بھی مغربی فلسفیوں کا بخوبی محاکمہ کیا۔ اسی طرح جاھلیۃ القرن العشرین (بیسویں صدی کی جاہلیت) کے نام سے اُنھوں نے مغربی تہذیب کے تار وپود بکھیر کر رکھ دیے۔ اپنی کتاب التطور و الثبات فی حیاۃ البشریۃ (انسانی زندگی میں ترقی و ثبات) میں انھوں نے کارل مارکس اور سوشلسٹ نظریات کی حقیقت واضح کی۔

محمد قطب نے اپنے بھائی کی طرح ایک طرف تو باطل نظریات کا ابطال کیا اور دوسری جانب اسلامی تعلیمات کا روشن چہرہ اُجاگر کیا۔ اس دوسرے پہلو کے ضمن میں ان کی کتاب منہج التربیۃ الإسلامیۃ (اسلامی تربیت) بھی شہرہ آفاق کتب میں شمار ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر اسی کتاب کی وجہ سے سعودی عرب نے انھیں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا۔ اپنی کتاب منہج الفن الإسلامی میں اُنھوں نے واضح کیا کہ فن اسلامی کسی جامد فلسفے یا وعظ اور پندو ارشاد کا نہیں بلکہ وجود کائنات اور اس میں بکھرے حقائق، تلخیوں اور مظاہر جمال کو اسلامی تصورات کے آئینے میں دیکھنے کا نام ہے۔ مفاھیم ینبغی أن تصحح (بعض خیالات جن کی درستی ناگزیر ہے)۔ دراسات قرآنیۃ (قرآنی مطالعہ)، التفسیر الإسلامی للتاریخ (تاریخ کی اسلامی تشریح)،  واقعنا المعاصر (ہمارے موجودہ حالات)، ھل نحن مسلمون (کیا ہم مسلمان ہیں؟) شبہات حول الإسلام (اسلام کے بارے میں بعض شبہات)، لا الٰہ الا اللّٰہ، عقیدۃ وشریعۃ ومنھاج حیاۃ (لا الٰہ الا اللہ عقیدہ بھی ہے، شریعت بھی اور نظام حیات بھی) ، العلمانیون و الإسلام (سیکولر حضرات اور اسلام)، کیف ندعو الناس (دعوت کیسے دیں؟)، رکائز الإیمان (ایمان کی بنیادیں) بھی مرحوم کی وہ شان دار کتب ہیں جن سے ایک دنیا نے استفادہ کیا ہے اور رہتی دنیا تک یہ کتب زندہ رہیں گی۔

دونوں بھائیوں سیّد قطب شہید اور محمدقطب کی طرح تینوں بہنوں کو بھی علم و ادب سے گہرا شغف تھا اور سب ہی نے بہت سخت آزمایشیں جھیلیں۔ سبحان اللہ... پانچوں بھائی بہنوں میں سے کسی کو بھی نہیں بخشا گیا... پانچوں کا جرم صرف ایک کہ رب ذو الجلال کے سوا ہر خدا کا انکار کرتے تھے۔ پانچوں مبارک نفوس قرآن کریم کی دعوت لے کر اُٹھے اور اللہ کے حکم کے مطابق اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کے مرتکب پائے گئے۔ سیّد قطب کو پہلی بار گرفتار کیا گیا تو کچھ عرصے بعد سب سے بڑی بہن نفیسہ کے جواں سال بیٹے رفعت کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ الزام لگایا گیا کہ وہ اپنے گرفتار ماموں اور اخوان کے مابین رابطہ کاری کرتا ہے۔ پھر اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ ناتواں جسم تاب نہ لاسکا اور ماموں سے پہلے ہی جامِ شہادت نوش کرگیا۔ پھر دوسرے بیٹے عزمی کو گرفتار کرلیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قریب المرگ ہونے پر چھوڑ دیا گیا۔

دوسری بہن امینہ، سیّد قطب سے چھوٹی اور محمد قطب سے بڑی تھیں۔ انھوں نے عربی ادب کی شان دار خدمت انجام دی۔ اسلامی تحریک سے وابستگی کی پاداش میں ان کے شوہر کمال السنانیری پر تشدد کے پہاڑ توڑتے ہوئے جیل ہی میں شہید کردیا گیا۔ راقم نے کمال السنانیری صاحب کا نام سب سے پہلے مرحوم و مغفور محترم قاضی حسین احمد صاحب سے سنا تھا۔ پشاور آکر رہنے والے مختلف عرب رہنماؤں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کمال السنانیری کا نام خصوصی عقیدت و محبت سے لیا کرتے تھے۔ دیگر اُمور کے علاوہ ایک بات یہ بھی بتاتے کہ سنانیری مرحوم کافی عرصہ پشاور میں ہمارے گھر رہے، لیکن ہمیں ایک روز کے لیے بھی ان کی مہمان داری بوجھ نہیں لگی۔ وہ اکثر روزے سے ہوتے۔ ہمیں بھی اچانک معلوم ہوتا کہ وہ روزے سے ہیں۔ ہمیشہ تلاوت و نوافل ان کا معمول ہوتا۔ امینہ قطب سے ان کی نسبت ۱۹۵۴ء میں طے ہوئی تھی۔ سنانیری صاحب اس وقت جیل میں تھے۔ گرفتاری کا عرصہ طویل ہوگیا تو انھوں نے پیش کش کی کہ نہ جانے کب تک جیل میں رہنا پڑے، آپ اور آپ کے اہل خانہ چاہیں تو یہ نسبت ختم کردیتے ہیں۔ لیکن امینہ امانت دار ہی نہیں، وفا شعار بھی تھیں۔ انھوں نے اس موقعے پر ایک نظم کہی، جو ان کی ادبی زندگی کی پہلی نظم تھی۔ اپنے پہلے قصیدے میں، شان دار انداز سے، اپنے منگیتر کا حوصلہ بڑھایا۔ ۷۰کی دہائی میں کمال السنانیری کی رہائی ہوئی اور ۱۹۷۳ء میں دونوں کی شادی ہوئی۔ اس وقت اس باوفا ’دلہن‘کی عمر ۵۰ سال سے زیادہ ہوچکی تھی۔ ۱۹۸۱ء میں انور السادات نے دوبارہ اخوان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا شروع کردیے۔ سنانیری بھی ابتدائی  اسیروں میں سے تھے۔ اس بار اس اللہ والے کے نصیب میں قید ہی نہیں شہادت کا رُتبہ بھی لکھا تھا۔ نومبر ۱۹۸۱ء میں جیل ہی میں تشدد کے نتیجے میں جان، جانِ آفریں کے سُپرد کردی۔ امینہ ہی نہیں محمد قطب سمیت تمام اہل خانہ نے اس شہادت کا صدمہ صبر و ثبات سے برداشت کیا۔

سب سے چھوٹی بہن حمیدہ قطب بھی اپنے بھائیوں، بہنوں اور دیگر افراد خانہ کی طرح جلادوں کے مظالم کا نشانہ بنیں۔ ۱۹۶۵ء میںسیّد قطب کے ہمراہ وہ بھی گرفتار ہوئیں، تو چھے سال چار ماہ جیل میں بند رہیں اور اس دوران بدترین تشدد کا نشانہ بنائی گئیں۔

محمد قطب جیسی نابغہء روزگار علمی شخصیت کو بھی سیّد قطب کی طرح اسلام سے وابستگی کی سزائیں دی گئیں۔ پہلی بار ۱۹۵۴ئمیں اخوان کے ہزاروں کارکنان سمیت گرفتار کیے گئے اور بلا مقدمہ کئی سال جیل میں رہے۔ ۱۹۶۵ء  میں پھر گرفتار کرلیے گئے، اس بار وہ سیّد قطب سے بھی پہلے گرفتار ہوئے۔ سیّد قطب نے اعلیٰ حکومتی ذمہ داران کے نام خط لکھ کر احتجاج کیا کہ انھیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟ ہم اہلِ خانہ کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ برطانوی غلامی کے شکار حکمرانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ برطانوی دانش ور اور مفکر برٹرینڈ رسل کو بھی ان کے خیالات کی پاداش میں گرفتار کیا جاتا تھا، لیکن اہلِ خانہ ان کے بارے میں پوری طرح باخبر رہتے۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ رسّل بھی ایک دانش ور تھا اور میرا بھائی محمد بھی ایک دانش ور ہے۔ اس احتجاجی مراسلے کا جواب یہ ملا کہ ایک ہفتے بعد سیّد قطب بھی گرفتار کرلیے گئے۔ سیّد اور ان کے ساتھیوں پر تو ایک بے بنیاد مقدمہ چلایا گیا اور ۲۹؍ اگست ۱۹۶۶ء کو انھیں اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی دے کر شہید کردیا گیا، لیکن محمد قطب پر کوئی مقدمہ چلائے بغیر ہی انھیں سات برس تک قید رکھا گیا۔ اس دوران انھیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک بار تو جیل کے اندر باہر یہ افواہ پھیل گئی کہ محمد قطب تشدد کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگئے ہیں، لیکن بعد میں یہ خبر غلط نکلی۔ رہائی ملی تو دوست احباب نے ’زندہ شہید‘ کے لقب سے یاد کرنا شروع کردیا۔

سات سال قید کے بعد رہائی ملی تو ۱۹۷۲ء میں انھیں ملک عبد العزیز یونی ورسٹی مکہ مکرمہ، حالیہ ’اُم القریٰ‘ یونی ورسٹی میں ملازمت مل گئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آخری سانس تک وہ جوار کعبہ ہی میں رہے۔ کئی بار انھیں دیگر کئی ممالک سے ملازمت اور شہریت کی پیش کش ہوئی، لیکن انھوںنے بیت اللہ کی قربت اور مصری شہریت نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران انھوں نے نہ صرف تعلیم و تربیت اور بحث و تحقیق کی سرگرمی جاری رکھی بلکہ متعدد ممالک کے دورے بھی کیے۔ ان کے ایک یادگار سفر میں خاکسار بھی ان کا ہم رکاب رہا۔ سابق سوویت یونین کے خلاف برسرِپیکار افغان مجاہدین کو باہم متحد کرنے کی درجنوں کوششوں میں شرکت کرنے کے لیے وہ بھی دیگر عرب زعما کے ساتھ پشاور آئے۔ کئی عرب مجاہدین سے ملاقات کی، کئی ایک سے وائرلیس پر رابطہ ہوا لیکن بدقسمتی سے یہ تمام کاوشیں بے سود رہیں۔

دھیما مزاج رکھنے والے محمد قطب، اپنی تحریروں اور نظریات میں کامل یکسو اور مضبوط استدلال رکھتے تھے۔ حلقۂ یاراں میں اگر آرا کا اختلاف سامنے آتا تب بھی بریشم کی طرح نرم رہتے، لیکن رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن، کا حقیقی مصداق تھے۔ علامہ یوسف القرضاوی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے سیّد قطب کے بعض خیالات سے علمی اختلاف کیا اور اس کے بارے میں مسلسل لکھا، لیکن کبھی نہیں ہوا کہ محمد قطب سے ملاقات ہونے پر انھوں نے اس اختلاف کا ذکر ہی کردیا ہو ... ہمیشہ اخوت کی حلاوت ہی گھولی۔

رب ذو الجلال ہمیشہ اپنی قدرت و حکمت دنیا کو دکھاتا ہے لیکن کم ہی لوگ عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ امام حسن البناء، سیّد قطب، محمد قطب اور ان کے ہزاروں ساتھیوں پر جن فرعون حکمرانوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے، وہ انھیں اور ان کی دعوت کو فنا کے گھاٹ اتارنا چاہتے تھے۔  اللہ نے ان جلاد حکمرانوں کو یوں فنا کیا کہ آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں بچا، جب کہ ان مخلص مصلحین کے افکار، دنیا کے چپے چپے میں اپنا آپ منوا رہے ہیں۔ اسلامی تحریک عالم اسلام ہی نہیں دنیا کے ہر کونے میں کامل قوت کے ساتھ موجود ہے۔ سچی دعوت کی علم بردار اس تحریک کو آج بھی کئی فرعون اور ان کے حواری کچلنا چاہتے ہیں، لیکن کون ہے جو اللہ کے دین اور اسے غالب و کار فرما کرنے والی تحریکوں کو شکست دے سکے۔ قدرت ان ظالموں پر خنداں ہے ...پکار پکار کر کہہ رہی ہے: سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنقَلَبٍ یَّنقَلِبُوْنَ (الشعراء ۲۶: ۲۲۷)، عنقریب یہ ظالم جان لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے!

مخالفین طعنہ دیتے ہیں کہ: ’’انھوں نے دعوت چھوڑ کر سیاست اپنا لی ہے‘‘۔ مغرب نے بھی اسلامی تحریکوں کے لیے ’سیاسی اسلام‘ کی اصطلاح گھڑرکھی ہے۔ اس کے بقول یہ اسلام کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ لیکن اسلامی تحریک کے کارکن بھی عجیب ہیں، سنگین سیاسی بحران عروج پر ہے، خونیں فوجی انقلاب دن رات قتلِ عام کر رہا ہے، ۲۱ہزار سے زائد کارکنان جیلوں میں ہیں، نام نہاد عدالتیں آئے روز طویل قید کی سزائیں سنارہی ہیں لیکن مصر کی طالبات نے نئی مہم شروع کردی ہے۔ مہم کا عنوان ہے: صلاۃ الفجر بدایۃ النصر،’’نمازِ فجر آغازِ نصر‘‘۔

طالبات کے بقول: فرعون سیسی کے خلاف ہماری ساری تحریک اللہ کی خاطر ہے، اللہ کو منائے بغیر اس کی نصرت شاملِ حال نہیں ہوسکتی۔ طالبات ضد الانقلاب، نامی طالبات تحریک نے اپنی نئی مہم کے لیے مختلف اسٹکر، پٹیاں، پوسٹر اور پمفلٹ تیار کیے ہیں اور وہ فرداً فرداً تمام طالبات سے وعدہ لے رہی ہیں کہ نمازِ فجر کا خصوصی اہتمام کریں گی، جس کا مطلب ہے کہ باقی نمازیں بدرجۂ اولیٰ ادا ہوں گی۔ اس مہم کی ایک ذمہ دار تسبیح السید کے بقول ہماری مہم توقع سے بھی زیادہ کامیاب ہورہی ہے اور طالبات کے ذریعے ہمارا پیغام ان کے اہلِ خانہ تک بھی پہنچ رہا ہے۔

مصر کے پہلے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کو ایک سالہ اقتدار کے بعد ہی رخصت کرتے ہوئے، قابض خونیں جرنیلوں نے پورا ملک خاک و خون میں نہلا دیا ہے۔ مصری عوام کی اکثریت اس فوجی انقلاب کو مسترد کررہی ہے۔ گذشتہ تقریباً نوماہ میں کوئی ایک روز بھی ایسا نہیں گزرا جس میں انقلاب مخالف مظاہرے نہ ہوئے ہوں۔ جنرل سیسی نے اپنے پیش رو مصری حکمرانوں کی طرح نہتے شہریوں کو کچلنے کے لیے ہرہتھکنڈا آزما کر دیکھ لیا ہے۔ لیکن ہرظلم اور ہرجبر عوامی تحریک کو مزید توانا کرنے کا ذریعہ ہی بن رہا ہے۔ سب تجزیہ نگار حیرت زدہ ہیں کہ ۸ہزار کے قریب شہدا پیش کرکے بھی اخوان کیوں کر میدان میں کھڑے ہیں۔ صلاۃ الفجر بدایۃ النصر مہم اس حیرت و استفسار کا ایک واضح جواب ہے۔ یہی مہم نہیں، اخوان کی پوری تاریخ اور پوری تحریک ہی  اس تعلق باللہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امام حسن البنا کی یہ ہدایت کہ ہمارا ایک روز بھی اللہ کی کتاب سے ملاقات کیے بغیر نہ گزرے، ہر کارکن نے مضبوطی سے پلے باندھ رکھی ہے۔ اخوان کے کارکنان نے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ قرآن کریم کو دل کی نگاہوں سے پڑھتے اور عمل میں ڈھال دیتے ہیں۔ پھر یہی قرآن ہر ظلم کے مقابلے میں ان کی ڈھال بن جاتا اور انھیں ثابت قدم رکھتا ہے۔

گذشتہ تین سالہ عرصے میں اخوان کے بیانات، مضامین، مظاہروں اور اجتماعات میں ہرطرف یہی قرآنی رنگ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ جامعہ ازہر کے طلبہ کا یہ بیان ملاحظہ فرمایئے۔ ۲۲مارچ کو جاری ہونے والے بیان کا عنوان ہے: سَنُحَاجِجُکُمْ بکل ما اقترفتموہ فی دنیاکم واخراکم ’’ہم دنیا و آخرت میں تم سے تمھارے جرائم کا حساب لیں گے‘‘۔ یہ بیان جامعہ ازہر کے ۱۶طلبہ کو تین تین سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ ان طلبہ پر الزام تھا کہ انھوں نے جامعہ میں مظاہرہ کیا۔ طلبہ اپنا مذکورہ بالا بیان دے کر گھر نہیں بیٹھ گئے۔ یہ بیان بھی ایک نئے مظاہرے کے دوران دیا گیا۔ اس دوران جامعہ ازہر طلبہ یونین کے قائم مقام صدر (صدر گرفتار ہے) نے عدلیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ اشعار بھی پڑھے کہ:

اذا جار الامیر وحاجباہ

وقاضی الارض أسرف فی القضاء

فویل ثم ویل ثم ویل

لقاضی الارض من قاضی السماء

(جب حکمران اور اس کے مصاحب ظلم ڈھانے لگیں، اور دنیا کے جج بے انصافی پر اُتر آئیں، تو پھر دنیا کے ججوں کے لیے منصف ِ کائنات کی طرف سے ہلاکت ہے، ہلاکت ہے، ہلاکت ہے۔)

۲۱ہزار سے زائد جو بے گناہ کارکنان جیلوں میں عذاب و اذیت جھیل رہے ہیں وہ بھی اسی عزم و یقین سے سرشار ہیں۔ ذرا اخوان کے رکن اسمبلی حمدی اسماعیل کو دیکھیے۔ وہ خود بھی گرفتار ہیں اور ان کا بیٹا ایک دوسری جیل میں پابند سلاسل ہے۔ حال ہی میں ان کے دوسرے بیٹے کو حکومتی سرپرستی میں اغوا کرلیاگیا اور رہائی کے لیے ۸۰لاکھ پائونڈ (تقریباً سوا ارب روپے) تاوان کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ حمدی اسماعیل نے اسی دوران کسی طرح اپنا تحریری پیغام اہلِ خانہ کو بھجوایا ہے،   لکھتے ہیں: ’’عزیزرفیقۂ حیات! امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آزما رہا ہے۔ وہ ہمیں گناہوں سے پاک کرنا چاہتا ہے اور ہمیں دنیا ہی میں اس وعدے سے نواز رہا ہے کہ آخرت کی منزل بہت خوب ہوگی۔ پروردگار ہم بندوں پر خود ہم سے بھی زیادہ مہربان ہے وگرنہ وہ اپنے انبیاے کرام ؑ کو بھی آزمایشوں میں کیوں مبتلا کرتا۔ ذرا ان آیات کی تلاوت کر کے دیکھو: وَاذْکُرْ عَبْدَنَــآ اَیُّوبَم اِِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ…(صٓ ۳۸:۴۱-۴۹)۔ اب آپ بھی ارادوں کو مضبوط کرلیں اور جدوجہد مزید تیز کردیں تاکہ ہم اپنی آزمایش میں سرخرو ہوسکیں۔ یہ زندگی، اصل زندگی کا صرف ایک منظر ہے۔ اس میں ہمیں اپنی بہترین پونجی آخرت کے لیے پیش کرنا ہے۔ یقینا اللہ ہی کا فیصلہ غالب رہے گا،لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں‘‘۔

یہ کوئی اکلوتا خط یا اکلوتا اظہار نہیں، ہر کارکن اور ہر اسیر اسی جذبے سے سرشار ہے۔ ایک اسیر کے یہ جملے ملاحظہ کیجیے جو وہ اپنے معصوم بیٹے کے نام خط میں لکھ رہے ہیں: ’’جانِ پدر! ذرا سوچو اگر میں اس تحریک میں گرفتار نہ ہوتا اور خدانخواستہ کسی ٹریفک حادثے کا شکار ہوجاتا، یا کوئی بیماری مجھے آن لیتی، تو اس صورت میں بھی صبر ہی کرنا پڑتا۔ یاد رکھو کہ ہمیں بہرصورت اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا ہے۔ ہم سب اللہ کے بندے ہیں۔ اس کے فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہی آخر ت میں کامیابی کا ذریعہ بنے گا۔ تمھیں اپنے آپ کو ایک ذمہ دار انسان ثابت کرنا ہے۔ قرآن کی تلاوت کبھی نہ چُھوٹے۔ نماز باجماعت ادا ہو، اپنی والدہ کو خوش رکھیں اور اس آزمایش میں ان کے معاون بنیں۔ اصل مردانگی کردار واخلاق کا نام ہے۔ اگر اس کڑے وقت میں بہادری نہ دکھائی تو آخر کب اس کا موقع آئے گا۔ اللہ سے ہردم مدد طلب کرتے رہو اور کبھی کسی کمزوری کو قریب نہ پھٹکنے دو‘‘۔

ظلم و جبر کے مقابلے میں اخوان کی ثابت قدمی پر حیرت کا اظہار کرنے والوں کو ان کی قوت کا یہ اصل راز معلوم ہے، لیکن ہرفرعون کی طرح اقتدار کا نشہ انھیں بھی اس غلط فہمی کا شکار کیے ہوئے ہے کہ ’’سب کو تہِ تیغ کردیں گے۔ میرا اقتدار ہی میری قوت رہے گا‘‘۔ اخوانی کارکنان کا موسوی کردار جب ان کی چالوں کو بودا ثابت کرتا ہے، تو ظلم و تشدد پاگل پن کی آخری حدیں جاچھوتا ہے۔ پہلے تو اخوان کو دہشت گرد اور غیرقانونی قرار دیا تھا، اب فلسطین کی تحریک حماس کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔ مصر کے ساتھ ساتھ اہلِ غزہ پر غصہ اُتارنے کی سعی لاحاصل میں تیزی آگئی ہے۔ ماہِ رواں کے دوران بھی غزہ کی حدود سے متصل کئی کلومیٹر کا علاقہ خاک میں ملا دیا گیا ہے۔ اسرائیل اور اس کے عالمی سر پرستوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے پورے سرحدی علاقے کے رہایشی علاقوں کو بارود سے اُڑا کر بلڈوزر چلا دیے گئے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مصری انتظامیہ گذشتہ چند ماہ میں ۱۳۵۰ سے زائد سرنگیں تباہ کرچکی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اہلِ غزہ کی زندگی کی ڈور انھی سرنگوں سے بندھی ہے۔ ساتھ ہی ایک عدالتی فرمان کے ذریعے مصر میں موجود حماس کے تمام ’اثاثہ جات‘ ضبط کرلینے کا اعلان کردیا گیا۔ حماس کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سیسی انتظامیہ اب ذرا ان اثاثہ جات کا اعلان بھی کردے کیوں کہ ہمارے علم کے مطابق وہاں ہمارے کوئی اثاثہ جات ہیں ہی نہیں‘‘۔ گویا کہ مصری فرمان کا اصل ہدف صہیونی ریاست کو خیرسگالی کا پیغام دینا ہی تھا۔

جنرل سیسی کے اقتدار کو استحکام و دوام بخشنے کے لیے ابتدائی ایام ہی سے ایک مہم یہ شروع کردی گئی تھی کہ اب اس مدارالمہام کو منصب ِصدارت بھی سنبھال لینا چاہیے۔ کئی بار تو ایسی فضا بنادی گئی کہ اعلانِ صدارت گویا اب چند روز کی بات ہے، لیکن نامعلوم وجوہات کی بناپر ابھی تک مصری عوام پر یہ احسانِ عظیم نہیں کیا جاسکا۔ مصری اور مغربی تجزیہ نگار اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ ان تجزیوں کا مشترک نکتہ یہی ہے کہ خود حکمران ٹولے میں بھی اس بارے میں گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صدرمنتخب ہونے کے لیے جنرل سیسی کو بھی وردی اُتارنا پڑے گی۔ ہزاروں بے گناہوں کا خون اپنے اقتدار کی بھینٹ چڑھا دینے والے کو اپنے دائیں بائیں بیٹھے وردی والوں پر ابھی     یہ بھروسا نہیں کہ وردی اُترتے ہی وہ اس کا کام تمام نہیں کردیں گے۔ رہی سہی کسر ایک ’نامعلوم‘   فون کال کے ذریعے پوری کی جارہی ہے۔سرکار کے ترجمان ایک ٹی وی چینل پر موصولہ یہ کال کسی ’وحید‘ نامی شخص کی ہے۔ مصر کے ایک معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر حلمی القاعود کے مطابق گذشتہ تقریباً چاربرس میں ’وحید‘ کی یہ چوتھی فون کال تھی۔ اس کا نمبر یا ٹھکانا کبھی معلوم نہیں کیا جاسکا۔ پہلی کال حسنی مبارک کے خلاف عوامی جذبات عروج پر پہنچ جانے کے دوران آئی تھی، جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جمال مبارک اس کا وارث نہیں بن سکے گا۔ دوسری کال صدر محمد مرسی کے انتخاب کے بعد تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ صدر مرسی کا اقتدار جلدختم ہوجائے گا۔ تیسری کال جنرل سیسی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد تھی جس میں دعویٰ تھا کہ وہ صدارتی انتخاب نہیں لڑیں گے۔ چوتھی کال چند ہفتے قبل آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کا اصل اقتدار اس وقت منظرعام پر موجود فوجی قیادت کے ہاتھ میں نہیں، خفیہ قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ جنرل سیسی اس قیادت کا مجرد ایک آلۂ کار ہے۔ ملک کا آیندہ صدر وہ نہیں بلکہ اسی خفیہ فوجی قیادت میں سے کوئی شخص ہوگا جس کا نام ابھی کسی کے سامنے نہیں ہے۔ اسی چوتھی کال میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر محمد مرسی کو جیل سے رہا کردیا جائے گا، لیکن پھر اغوا کرکے زندگی سے محروم کردیا جائے گا۔ ڈاکٹر حلمی قاعودکے مطابق: ’وحید‘ کوئی نام نہاد نجومی یا علمِ غیب رکھنے والا کردار نہیں بلکہ اسی ’اصل خفیہ قیادت‘ کا کوئی ’خفیہ ترجمان‘ ہے جو ان پیغامات کے ذریعے ایک تیر سے کئی کئی شکار کرنا چاہتا ہے۔

اسی عرصے میں فوج کے سابق سربراہ فیلڈمارشل طنطاوی جو ۱۹۹۱ء سے ۲۰۱۲ء تک کے طویل ۲۱برس تک فوجی سربراہ اور وزیردفاع رہے، بھی ذرائع ابلاغ میں نمودار ہوئے اور انھوں نے ملک کی اکلوتی جمہوری منتخب حکومت سے نجات پانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔جنرل سیسی نے بھی اپنے اس پیش رو کی خوشامد نُما تعریفوں کے پُل باندھے ہیں۔ ڈاکٹر حلمی کے مطابق جنرل طنطاوی نے اپنے انٹرویو میں تقریباً ۲۰مرتبہ ایک لفظ استعمال کیا اور وہ تھا: ’مُخَطَّطْ: منصوبہ‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ۳۰جون ۲۰۱۳ء کو عوام بھی یہ منصوبہ سمجھ گئے اور صدرمرسی کے خلاف نکل آئے۔ جنرل طنطاوی نے جب بار بار ’منصوبے‘ کا ذکر اور اخوان سے نجات پر خوشی ظاہر کی تو انٹرویو کرنے والے نے پوچھ ہی لیا کہ ’’پھر آخر آپ لوگوں نے اخوان کو اقتدار دیا ہی کیوں؟‘‘ جواب میں انھوں نے    مصری لہجے میں بے اختیار تین بار کہا: ’’مَاسَلَّمْتُھَاشْ… مَاسَلَّمْتُھَاشْ… مَاسَلَّمْتُھَاشْ، ’’میں نے انھیں اقتدار نہیں سونپا… میں نے نہیں سونپا… میں نے نہیں سونپا‘‘۔ ہم نے عوام کے اصرارپر انتخابات کروائے اور عوام نے اخوان کو ملک پر قابض ہونے کا موقع دے دیا‘‘۔

ان تمام حقائق سے قرآن کریم کے الفاظ کے مصداق: قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۱۸) ’’ان کے دل کا بُغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے‘‘،عوام کا یہ یقین مزید مستحکم ہوگیا ہے کہ جابر فرعونی نظام سے نجات کے لیے قربانیوں کا یہی سفر ناگزیر ہے۔ اخوان کے کارکنان سیّدقطب شہیدؒ کے یہ الفاظ ایک دوسرے کو سنا رہے ہیں کہ: ’’اللہ کی نصرت آنے میں دیر لگ سکتی ہے، کیونکہ قدرت یہ چاہتی ہے کہ باطل کا باطل ہونا دنیا کے سامنے کھل کر آجائے۔ اگر باطل پوری طرح کھوٹا ثابت ہوئے بغیر مغلوب ہوجائے، تو ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ اس سے پھر دھوکا کھاجائیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ باطل کو پوری مہلت ملے ،یہاں تک اس کے بارے میں کسی کو کوئی شبہہ نہ رہ جائے اور پھر اس کے زوال پر کسی کو کوئی افسوس نہ ہو‘‘۔

اخوان بھی یقینا انسان ہیں اور بلااستثنا ہر انسان قرآن کریم کی اطلاع کے مطابق کمزور بنایا گیا ہے، لیکن آزمایشوں کی بھٹی نے انھیں ایسا کندن بنادیا ہے کہ ہر عذاب و آزمایش کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط و توانا ہوکر اُبھرتے ہیں۔ گذشتہ تمام قتل و غارت سے شکستہ یا مایوس ہونے کے بجاے انھوں نے ۱۹مارچ سے تحریک کا مزید پُرجوش دوسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ مظاہرے تو پہلے بھی ایک دن کے لیے نہیں رُکے تھے، لیکن نئے مرحلے کے پہلے ہی روز ملک بھر میں ۳۵۰مظاہرے ہوئے۔ اس وقت فوجی انقلاب مخالف درجنوں تنظیمیں میدان میں ہیں۔ طلبہ، طالبات، خواتین، مزدور، ڈاکٹر، کسان، اساتذہ___ ہر میدان میں الگ تنظیم و تحریک ہے۔ سب ہی اپنے اپنے شہدا پیش کررہے ہیں۔ اس تحریر کے دوران ہی ایک۱۴سالہ بچے عمرو کی شہادت کی خبر بھی ملی ہے اور ایک صحافی خاتون کی بھی۔پھولوں جیسے معصوم عمرو کے والدین نے آنسو بہائے لیکن الحمدللہ کا ورد کرتے ہوئے یہی کہتے رہے: ’’لخت جگر چلا گیا… لیکن کچھ عرصے سے یقین ہوچلا تھا کہ اسے تو ضرور ہی شہادت ملے گی… کوئی جلوس یا مظاہرہ ایسا نہیں ہوتا تھا کہ عمرو کو اس کا پتا ہو  اور وہ مظاہرین اور زخمیوں کو پانی پلانے کے لیے اس میں نہ چلا گیا ہو‘‘۔

خاتون صحافی رقیہ اسلام جامعہ ازہر کے ایک بڑے عالم دین جناب ہاشم اسلام کی صاحبزادی تھیں۔ وہ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ یونی ورسٹی کی طالبہ بھی تھیں۔ ہاشم اسلام کا کہنا ہے کہ ’’انھوں نے میری رقیہ کو نہیں، مجھے سزا دی ہے کیوں کہ مَیں نے جنرل سیسی کے حق میں فتویٰ دینے سے انکار کردیا تھا… اگر مجھے اپنے فتوے اور مبنی بردلیل راے کی قیمت بیٹی کی میت سے بھی زیادہ ادا کرنا پڑتی تو وہ بھی ہیچ تھی۔ البتہ غم اس بات کا ہے کہ جن علماے کرام نے جنرل سیسی کے حق میں فتویٰ دیا تھا، رب کے دربار میں وہ بھی میری بیٹی کے قتل میں برابر کے مجرم قرار پائے‘‘۔

عمر نامی ایک اور نوجوان بھی کئی ماہ قبل اسی تحریک کے دوران زخمی ہوگیا تھا۔ دائیں پہلو سے جسم میں داخل ہونے والی گولی بائیں پہلو سے نکلی تو تمام اندرونی نظام کو کاٹتے ہوئے چلی گئی۔ تب سے علاج جاری ہے، لیکن اُمیدیں بار بار دم توڑ دیتی ہیں۔ ان کی والدہ کا ایک تفصیلی انٹرویو فریڈم اینڈ جسٹس اخبار میں شائع ہوا ہے۔ دیگر باتوں کے علاوہ وہ ایک تاریخی جملہ یہ کہتی ہیں: ’’اگر بیٹے کو شہادت نصیب ہوگئی تو یہ میری خوش بختی ہوگی۔ میرے لیے غم کا سب سے بڑا دن وہ ہوتا جس روز خدانخواستہ میرا بیٹا اللہ کی اطاعت کی راہ سے ہٹ گیا ہوتا‘‘۔

صلاۃ الفجر تحریک،  قرآن سے جڑے ہوئے، شہادت پر نازاں اخوان کو بھی اگر دنیا دہشت گرد قرار دیتی ہے، تو کیا ایسا کرنے والے رب کے حضور بھی کوئی جواز پیش کرسکیں گے…؟

کچھ عرصہ قبل علامہ یوسف القرضاوی صاحب کا شریکِ سفر ہونے کا موقع ملا۔ دورانِ سفر عرض کیا کہ کوئی خاص نصیحت کیجیے۔ کہنے لگے: اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر دعا جامع اور الہامی دعا ہے لیکن یہ دعا کئی حوالوں سے بہت اہم ہے کہ اللھم ارنا الحق حقًا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ، ’’اے اللہ! ہمیں حق کو حق دیکھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما، اے پروردگار! ہمیں باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرما‘‘۔ آیئے ہم بھی یہی دعا کرتے ہوئے رب کے حضور دست دعا بلند کریں۔     

_______________________________________________________

              ٭ شمارہ اشاعت کے لیے جارہا تھا کہ فرعونِ مصر نے ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ مصری عدالت نے دو روز کی ’طویل‘ سماعت کے بعد ۵۲۹ بے گناہ قیدیوں کو ’سزاے موت‘ کی سزا سنادی ہے۔ سزا یافتگان میں اخوان کے مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع، قومی اسمبلی کے منتخب اسپیکر ڈاکٹرسعدالکتاتنی، فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر محمد البلتاجی سمیت ملک کی نام وَر سیاسی، علمی اور قومی شخصیات شامل ہیں۔

                یہ انوکھا فیصلہ اگرچہ ظلم و جبر کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین فیصلہ ہے لیکن ہرسننے والا انصاف پسند بلااختیارکہہ اُٹھتا ہے کہ یہ ظلم کی انتہا اور ظالموں کے خاتمے کا اعلان ہے، ان شاء اللہ!

والدہ مکہ کی بڑی تاجر اور انتہائی محترم خاتون تھیں اور والد سراپا صدق و اخلاص۔ گویا پورا گھرانہ نازونعم اور مکارم اخلاق کا حسین امتزاج تھا۔ چار بیٹیوں میں سب سے بڑی زینب،     سنِ زواج کو پہنچیں تو کئی اچھے گھروں سے رشتے آنے لگے لیکن اللہ کو منظور نہ ہوا، معذرت ہوتی گئی۔ ایک روز ابو العاص بن الربیع عرب روایات کے مطابق خود آئے اور درخواست پیش کی: أرید أن أتزوج زینب ابنتک الکبریٰ، ’’میں آپ کی بڑی صاحبزادی زینب سے شادی کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ جواب ملا: لا أفعل حتی استأذنہا،’’میں جب تک خود ان سے نہ پوچھ لوں کچھ نہیں کہہ سکتا‘‘۔ یہ اس مبارک گھرانے کا ذکر ہے جسے خانہء نبوت کا مقام حاصل ہونے والا تھا۔    آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر جاکر بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا: ابن خالتک جاء نی وقد ذکر اسمک فہل ترضینہ زوجاً لک؟ آپ کے خالہ زاد آئے ہیں اور آپ کا ذکر کررہے ہیں، کیا بطور شوہر وہ آپ کو قبول ہیں؟ حیا کی سرخی اور مسکراہٹ کی ہلکی سی لہر چہرے پر دوڑ گئی۔ آپؐ نے آنے والے کو ہاں کردی۔

ابو العاص بھی مکہ کے ایک کامیاب تاجر تھے۔ ہر موسم گرما و سرما میں ان کا تجارتی قافلہ شام کی طرف جایا کرتا تھا (رحلۃ الشتاء و الصیف)۔ ہر قافلے میں سو اونٹ ہوتے اور ہر اونٹ کے ساتھ دو ملازم۔ مکہ کے دیگر کئی لوگ بھی انھیں ہی اپنی رقوم دے دیا کرتے تھے کہ تجارت میں شریک کرلیں۔ ان کی خالہ خدیجہ بنت خویلدؓ کو ویسے بھی اپنے بھانجے سے خصوصی اُنس تھا ، تجارتی اُمور پر بھی تبادلۂ خیال رہتا۔ اب چھوٹی بہن ہالہ بنت خویلد کے گھر سے یہ بندھن بھی  بندھ گیا، تو وہ بھی بہت خوش ہوئیں۔ جلد ہی بیٹی کی رخصتی ہوگئی اور وجود میں آنے والا نیا کنبہ خوش و خرم زندگی گزارنے لگا۔ چند برس بعد دونوں چھوٹی بیٹیوں رقیہ اور اُم کلثوم کے نکاح بھی چچا ابو لہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے ہوگئے، لیکن رخصتی نہ ہوئی۔

کچھ عرصہ بعد ہی اس مبارک خانوادے کو نورِ نبوت سے نواز دیا گیا۔ ابو العاص قافلہ لے کر گئے ہوئے تھے۔ سفر سے واپس آئے تو دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔ مکہ داخل ہوتے ہی باپ دادا کے دین سے مختلف کسی نئے دین کی خبریں ملنے لگیں۔ گھر پہنچے تو پیار کرنے والی اہلیہ نے آغاز میں کچھ نہ بتایا۔ شوہر آرام کرچکا تو کہا: عندی لک خبر عظیم، میرے پاس آپ کے لیے ایک بڑی خوش خبری ہے۔ اور پھر جب تفصیل بتائی تو ابو العاص قدرے ناراض ہوگئے۔ اور یہ کہتے ہوئے گھر سے جانے لگے کہ مجھے پہلے کیوں نہ بتایا۔ اہلیہ پیچھے لپکیں اور کہا:’’ آپ تو خود جانتے ہیں کہ میرے والد صاحب صادق و امین ہیں، وہ کبھی جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ انھوں نے جب ہمیں نبوت اور وحی کا بتایا تو ہم نے فوراً ان کی تصدیق کردی۔ صرف میں ہی نہیں، امی بھی ایمان لے آئی ہیں۔ میری تینوں بہنیں، آپ کے پھوپھی زاد عثمان بن عفان، میرے چچا زاد علی ابن طالب اور آپ کے گہرے دوست ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہم جمیعا)۔ سب ایمان لے آئے ہیں۔ ابوالعاص نے کچھ دیر سوچا اور پھر کہا: لیکن میں اپنی قوم کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔ لوگ کہیں گے کہ کفر بآبائہ ارضائً لزوجتہ،  بیوی کو خوش کرنے کے لیے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا۔ بالآخر میاں بیوی کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ دونوں ایک دوسرے پر جبراً کوئی رائے مسلط نہیں کریں گے، افہام و تفہیم کا سلسلہ جاری رہے گا۔

وقت گزرنے لگا۔ میاں بیوی کا تعلق مثالی تھا لیکن ایمان وعقیدے کی بات ہمیشہ ایک سوالیہ نشان رہتی۔ کفار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دُکھ پہنچانے کے تمام ہتھکنڈے آزمائے۔ ایک روز اپنی مجلس میں کہنے لگے:’’ تم لوگوں نے محمد کی بیٹیاں بیاہ کر انھیں اس ذمہ داری سے فارغ کررکھا ہے۔ اگر اس کی بیٹیوں کو طلاق دے کر باپ کے گھر بھیج دو تو یہی پریشانی اسے مصروف و مجبور کردے گی‘‘۔ سب کے چہرے کھل اُٹھے۔ اہل شر دوسروں کو دُکھ پہنچا کر اسی طرح خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ابولہب کے بیٹوں نے فوراً حضرت رقیہ اور اُم کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دینے کا اعلان کردیا۔ پھر وہ سب ابوالعاص کے پاس گئے اور کہا: ’’اپنی بیوی کو طلاق دے کر باپ کے گھر بھیج دو، مکہ کی جس لڑکی کی طرف اشارہ کرو گے تم سے بیاہ دی جائے گی‘‘۔ ابوالعاص نے ایک انصاف پسند اور صاحب نخوت ہونے کی حیثیت سے جواب دیا: اس کا بھلا کیا قصور ہے، لا واللّٰہ إنی لا أفارق صاحبتی: اللہ کی قسم میں اپنی شریک حیات کو طلاق نہیں دوں گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منصف و دانا داماد کا یہ حسن سلوک ہمیشہ یاد رکھا۔

وقت گزرتا چلا گیا۔ آپؐ کو مکہ سے ہجرت کا حکم مل گیا۔ اس سے پہلے آپؐ کی صاحبزادی حضرت رقیہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی زوجیت میں آکر حبشہ کی طرف ہجرت کرچکی تھیں۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے گزارش کی: اگر اللہ نے منع نہیں فرمایا اور اجازت ہے تو میں اپنے شوہر ہی کے ساتھ رُک جاؤں؟ آپؐ  نے فرمایا: بالکل آپ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رُک سکتی ہیں۔ تب تک حضرت زینب کو پروردگار نے بیٹے (علی) اور بیٹی (اُمامہ) سے نوازا تھا۔

آپؐ کی ہجرت کے بعد چھوٹی بہن حضرت رقیہؓ  اپنے شوہر حضرت عثمان بن عفانؓ کے ساتھ حبشہ سے مکہ واپس آئیں اور کچھ عرصے کے بعد وہ دوسری بار شرف ہجرت حاصل کرتے ہوئے دونوں مدینہ چلے گئے۔ اب مکہ میں زینب تھیں اور دونوں چھوٹی بہنیں اُم کلثوم اور فاطمۃؓ تھیں۔ آں حضوؐر نے مدینہ سے حضرت زید بن حارثہؓ کو بھیجا اور وہ آپؐ کی دونوں چھوٹی صاحب زادیوں کو بھی مدینہ منورہ لے گئے۔ بنات مصطفی  ؐمیں سے صرف حضرت زینب مکہ میں رہ گئیں۔ شوہر اور دونوں بچوں کا ساتھ کچھ غم ہلکا کرتا تھا کہ ایک اور بڑی آزمایش آن پڑی۔ میدان بدر میں نئی تاریخ رقم ہونے جارہی تھی۔ مکہ میں ایسا ماحول تھا کہ ہر اہم فرد کا لشکر کفار میں جانا ضروری قرار دے دیا گیا۔ ابوالعاص ایمان نہ لانے کے باوجود جنگ میں جانے کے لیے تیار نہ تھے، لیکن معاشرتی دباؤ کے سامنے جھک گئے اور لشکر کے ساتھ چلے گئے۔ حضرت زینبؓ  اعصاب شکن اندرونی جنگ کا شکار تھیں۔ محبت کرنے والا شوہر اور بچوں کا باپ، جان سے پیارے والد ، رحمۃ للعالمین ؐ اور آپؐ کے صحابہ کے مدمقابل ہونے جارہا تھا۔ روتے روتے حضرت زینب کے دل سے دُعا نکلی: اللہم إنی أخشی من یوم تشرق شمسہ فییتم ولدی أو أفقد أبی، ’’پروردگار مجھے اس دن کا سورج طلوع ہونے کا ڈر ہے کہ جس روز میرے بچے یتیم ہوجائیں، یا میں سایۂ پدری سے محروم ہوجاؤں‘‘۔

معرکہ بدر ختم ہوا، قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا گرفتار کرلیے گئے۔ انھی اسیروں میںدامادِ نبی ابوالعاص بھی تھے، لیکن انصاف کا تقاضا تھا کہ اسے بھی دیگر قیدیوں کے ساتھ اور انھی کی طرح رکھا جائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھا تو کمال حکمت و عدل پر مبنی جملہ فرمایا۔ ارشاد ہوا: واللّٰہ ما ذممناہ صہرًا، ’’و اللہ ہمیں بحیثیت داماد ان سے کوئی شکوہ نہیں‘‘۔ اس جملے میں حسنِ سلوک کا اعتراف بھی ہے، لیکن کفار کے ساتھ آنے پر بن کہے، بہت کچھ کہہ بھی دیا گیا۔ پھر طے پایا کہ اہل مکہ اپنے قیدیوں کا فدیہ دے کر انھیں رہا کرواسکتے ہیں۔ ہر قیدی کے اہل خانہ نے فدیہ بھیج کر اپنے اسیر رہا کروانا شروع کردیے۔ حضرت زینبؓ کے پاس ان کی سب سے قیمتی متاع شادی کے موقعے پر حضرت خدیجہؓ کا دیا ہوا قیمتی ہار تھا۔یہ ہار خود حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھاجو انھوں نے آن حضوؐر سے شادی کے موقع پر پہنا تھا۔ بیٹوں کی طرح عزیز بھانجے ابوالعاص کے ساتھ بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے ماں نے ممتا کی نشانی یہی پیش کر دی۔ مدینہ میں اسیروں کے فدیے کی رقوم و متاع دیکھتے دیکھتے اچانک اہلیہ اور صاحبزادی کی مشترک نشانی پر نگاہ پڑی تو دونوں کے ساتھ گزری ساری خوب صورت یادیں تازہ ہوگئیں۔ آنکھیں نم ہوگئیں، لیکن زبان سے کچھ نہیں فرمایا۔ آپؐ سربراہ ریاست ہی نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔ چاہتے تو خود کوئی فیصلہ صادر فرماسکتے تھے۔ لیکن آپؐ  نے مشورے کے انداز میں صحابۂ کرام سے فرمایا: إن زینب بعثت بہذا المال لافتداء أبی العاص، فإن رأیتم أن تطلقوا لہا أسیرہا و تردواعلیہا مالہا فافعلوا،’’یہ زینب نے ابوالعاص کا فدیہ اپنی یہ متاع بھیجی ہے۔ اگر آپ حضرات چاہیں تو ان کا اسیر بھی رہا کردیں اور ان کا ہار بھی واپس بھیج دیں‘‘۔ سب نے بیک زبان کہا: کیوں نہیں یارسولؐ اللہ! کیوں نہیں۔ آں حضوؐر نے زوجہ مرحومہ اور بیٹی کی نشانی لوٹاتے ہوئے کہا: ابو العاص! زینب سے کہو اسے احتیاط سے رکھا کرے۔ اب ایک اور بڑی سنگین و کڑی آزمایش کا سامنا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسیر داماد کو رہا کرکے گھر بھیج رہے ہیں اور رب ذو الجلال کی طرف سے حکم آجاتا ہے کہ اب کوئی مسلم خاتون کسی مشرک اور غیر مسلم کی بیوی نہیں رہ سکتی۔ آپؐ نے ابوالعاص کو ایک جانب لے جاتے ہوئے فرمایا: إن اللّٰہ أمرنی أن أفرق بین مسلمۃ وکافر فہلا رددت إلی إبنتی؟ ’’اللہ نے مجھے مسلم خواتین اور کافر شوہروں میں علیحدگی کرنے کا حکم دیا ہے۔ میری بیٹی مجھے واپس دے دیں‘‘۔ ابو العاص نے بس اتنا جواب دیا: ٹھیک ہے۔

اسیر رہا ہو کر مکہ پہنچا۔ جان نچھاور کرنے والی اہلیہ نے اطلاع پاکر مکہ سے باہر آکر شوہر کا استقبال کیا۔ ابوالعاص نے فوراً کہا۔إنی راحل: میں جارہا ہوں؟ کہاں؟ انھوں نے دریافت کیا۔ نہیں، میں نہیں آپ لوگ جارہے ہیں۔ پھر آپؐ کا پیغام اور اللہ کا حکم سنایا تو ایمان محبت پر غالب رہا۔ حضرت زینب نے حسین یادوں سے معمور گھر، چاہنے والا شوہر اور سب کو عزیز مکہ چھوڑنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ابوالعاص ابن الربیع نے اپنے چھوٹے بھائی عمروبن الربیع سے کہا کہ زینب اور بچوں کو مکہ سے باہر چھوڑ آؤ وہاں ان کے والد صاحب کے ارسال کردہ زید بن ثابت اور ساتھی انتظار کررہے ہیں۔ عمرو نے حضرت زینب اور بچوں کو سواری پر بٹھایا۔ اپنی تیر کمان کمر سے سجائی اور دن دہاڑے مکہ سے چل نکلا۔ کفار مکہ کو میدان بدر میں لگنے والے کاری زخم ابھی تازہ تھے۔ اپنے جانی دشمن کی بیٹی اور نواسے نواسی کو یوں سکون سے جاتے دیکھا تو مشتعل ہوکر پیچھے دوڑے اور دونوں کی سواریوں کو جالیا۔ عمرو نے بھی بآواز بلند للکارا، خبردار! تم جانتے ہو میرے تیر کبھی خطا نہیں گئے۔ تم میں سے کوئی ہمارے قریب پھٹکا تو میرا تیر اپنی گردن میں پیوست پائے گا۔ اتنی دیر میں ابو سفیان بھی پہنچ گیا اور مسئلے کی سنگینی بھانپ لی۔ دانا تو تھا ہی، عمرو بن الربیع کے قریب جاکر سرگوشی کی۔ بھتیجے اپنے تیر سمیٹ رکھو، اصل میں غلطی تمھاری ہے۔ زینب بنت محمد کو یوں دن دہاڑے لے کر جانے کا مطلب ہے، تم زخمی قریش کو للکار رہے ہو۔ اگر اس ماحول میں ہم نے انھیں جانے دیا تو سارے عرب ہمیں بزدلی کا طعنہ دے گا۔ یوں کرو اب انھیں واپس گھر لے چلو۔ عرب کہیں گے قریش نے دشمن کی بیٹی کو روک لیا۔ چند روز بعد معاملہ ٹھنڈا ہوجائے تو رات کی تاریکی میں خاموشی سے لے کر نکل جاؤ۔ عمرو کو بھی بات سمجھ آگئی۔ واپس چلے گئے اور پھر ایک رات اپنی سابقہ بھابھی اور بچوں کو لے کر مکہ سے نکلے اور مدینہ سے آئے ہوئے وفد کے سپرد کردیا۔

 زینب ؓ مدینہ پہنچیں تو چھوٹی بہن رقیہؓ اللہ کو پیاری ہوچکی تھی۔ ان کے شوہر حضرت عثمانؓ  اللہ تعالیٰ کے خصوصی کرم سے ذوالنورین کا لقب پاچکے تھے۔ اب منجھلی بہن اُم کلثوم ان کے گھر میں آباد تھیں۔ سب سے چھوٹی بہن فاطمۃ الزہرؓا پہلے ہی سے حضرت علیؓ ابن طالب کے ہاں تھیں۔ بحکم الٰہی ہونے والی اس علیحدگی کو چھے طویل سال گزر گئے۔ ابو العاص اس دوران مکہ ہی میں رہے۔ فتح مکہ سے کچھ پہلے پھر تجارتی قافلہ لے کر شام کے لیے روانہ ہوئے۔ خریدوفروخت کرنے کے بعد مکہ واپسی کے لیے لوٹے تو راستہ وہی تھا مدینہ کے قریب سے گزرتا ہوا۔ مسلم دستے نے مکہ جانے والا قافلہ روکنا چاہا کہ بدر و اُحد اور اَحزاب و حدیبیہ کے بعد یہی دفاعی تقاضا تھا۔ قافلے کا سامان پکڑا گیا، ساتھ جانے والے ۱۷۰ ملازمین گرفتار ہوگئے، لیکن قافلے کا مالک ابوالعاص بچ نکلا اور بچتا بچاتا رات کی تاریکی میں مدینہ داخل ہوگیا۔ اگلی صبح آپؐ نمازِ فجر کی امامت کروا رہے تھے۔ اتنے میں پیچھے سے نسوانی آواز گونجی: أیہا الناس!  أنا زینب بنت محمد و قد أجرت ابالعاص فأجیروہ،  ’’لوگو! میں زینب بنت محمد ہوں اور میں نے ابوالعاص کو پناہ دی ہے، آپ بھی انھیں پناہ دے دیں۔ نماز ختم ہونے پر آپؐ  نے پیچھے مُڑ کر پوچھا: ھل سمعتم ما سمعت؟ جو کچھ میں نے سنا ہے کیا آپ نے بھی سنا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا:  والذی نفسی بیدہ ما علمت بشيء من ذلک حتی سمعت ما سمعتموہ و إنہ یجیر من المسلمین أدناھم، ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! مجھے بھی اس پورے معاملے کا کچھ علم نہ تھا۔ میں نے بھی بس وہی سنا ہے جو آپ لوگوں نے سنا ہے اور دیکھو مسلمانوں میں سے کوئی ادنیٰ شخص بھی کسی کو پنا ہ دے دے تو وہ سب کی طرف سے پناہ ہوتی ہے۔ پھر آپؐ   گھر تشریف لے گئے اور حضرت زینبؓ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: ’’بیٹی ابو العاص کی مہمان داری کرو لیکن یاد رہے کہ آپ ان کے لیے حلال نہیں ہیں‘‘۔ پھر جو صحابہ ابوالعاص کا تجارتی قافلہ پکڑ کر لائے تھے، انھیں مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: ’’آپ ان صاحب کو بخوبی جانتے ہیں۔ اگر آپ ان سے حسن سلوک کرتے ہوئے ان کا سامان لوٹا دیں تو میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ لیکن اگر آپ واپس نہ کرنا چاہیں تو وہ اللہ کی طرف سے تمھیں عطا ہونے والا سامان غنیمت ہے اور آپؐ  لوگ اس کے حق دار ہیں۔ تمام صحابہ کرامؓ نے عرض کیا : یارسولؐ اللہ! ہم ان کا سامان انھیں لوٹاتے ہیں۔ پھر انھوں نے ابوالعاص سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: آپؐ  قریش کے ایک انتہائی باعزت انسان ہیں۔ آپ رسول اکرمؐکے چچا زاد بھی ہیں اور ان کے داماد بھی، کیایہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اسلام قبول کرلیں اور یہیں رہ جائیں؟ شرعی حکم کے مطابق یہ سارا مال بھی آپ کا ہوجائے گا۔ ابوالعاص نے جواب دیا: آپ نے مجھے بہت برا مشورہ دیا۔ کیا میں اسلام کا آغاز ہی بدعہدی سے کروں۔ یہ کہتے ہوئے انھوں نے قافلہ تیار کیا اور مکہ روانہ ہوگئے۔

آں حضوؐر اور صحابہ کرامؓ کے حُسنِ سلوک سے متاثر ہوکر اب مکہ پہنچنے والا ابوالعاص اب ایک مختلف انسان تھا۔ انھوں نے وہاں پہنچ کر تمام تجارتی شرکا کو ان کا حصہ ادا کیا اور پھر اعلان کیا کہ اب جب کہ مجھ پر آپ میں سے کسی کا کوئی حق باقی نہیں رہ گیا تو سن لو کہ أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ و أشہد أن محمدًا عبدہ و رسولہ۔ مجھے مدینہ میں اسی بات نے اسلام لانے سے منع کیا کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ میں نے تمھارا مال ہڑپ کرنے کے لیے دین بدل لیا۔ یہ اعلان کرنے کے بعد وہ واپس مدینہ آئے اور دست نبوت پر اسلام سے سرفراز ہوگئے۔ آپ نے بھی ان کی عزت و تکریم کی اور سراپا ایمان و وفا حضرت زینب کا گھر دوبارہ آباد ہوگیا۔

بنت رسول حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی یہ حیات طیبہ تقریباً ہر زبان میں لکھی گئی اور لکھی جارہی ہے لیکن آئیے دیکھیں ہمیں اس سے کیا کیا سبق ملتے ہیں۔

  •  سب سے پہلے ایمان۔ حکم خداوندی ہر چیز پر مقدم ہے۔ زوجین میں بے پناہ محبت تھی لیکن جیسے ہی کفر و ایمان مقابل آگئے تو فوراً پوچھا: یارسولؐ اللہ! کیا غیر مسلم شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہوں؟ تب اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا تھا اس لیے ساتھ رہیں اور ایمان کی بھی حفاظت کی۔ پھر جیسے ہی اللہ نے الگ ہونے کا حکم دیا تو سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کرگئیں۔
  •  غیر مسلم بھی انصاف اور حسن سلوک کرے تو اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔ اہل مکہ کے کہنے پر ابوالعاص نے اہلیہ کو طلاق نہیں دی اور کہا کہ آخر اس کا کیا قصور ہے؟ آپؐ نے اس نیکی کو یاد رکھا۔ بدر کے بعد اور شام سے آتے ہوئے گرفتار ہونے پر انھیں بلامعاوضہ رہا کردیا۔ یہی  حسنِ سلوک ان کے اسلام کا سبب بن گیا۔
  •  برادری اور معاشرے کے طعنوں کو قبولِ حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ ابوالعاص عادل و زیرک تھے، لیکن یہ سوچ کر طویل عرصہ محروم حق رہے کہ قبیلہ اور معاشرہ کیا کہے گا۔
  •  آپؐ کو بیٹیوں کے معاملے میں بھی کئی دکھ جھیلنا پڑے۔ حضرت رقیہ اور اُم کلثوم کو  طلاق مل گئی۔ بعد میں دونوں آپؐ کی حیات ہی میں اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ حضرت زینب کا گھر کئی سال اُجڑا رہا۔ لیکن آپؐ نے کبھی کسی آزمایش پر رب ذو الجلال سے شکوہ نہ کیا۔
  •  جہاں غلط فہمی پیدا ہونے کا خدشہ ہو، وہاں ضرور وضاحت کردینا چاہیے۔ حضرت زینب نے ابوالعاص کو پناہ دینے کا اعلان کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: و اللہ مجھے اس بارے میں پہلے سے کچھ معلوم نہ تھا۔ شیطان یا منافقین فتنہ انگیزی کرسکتے تھے کہ باپ بیٹی نے پہلے ہی سے طے کیا ہوا تھا کہ یوں نماز میں اعلان کردینا۔ساتھیوں کے سامنے وضاحت کر دینے کے اس طرح کے کئی واقعات سے سیرت پاک معمور ہے۔
  •  آپؐ نے مساوات کا عملی نمونہ خود پیش کیا۔ داماد کے منصف و باوفا ہونے کا تو اظہار کیا:ماذممناہ صہراً، لیکن دوسرے قیدیوں ہی کے ساتھ رکھااور دوسروں کے ساتھ ہی رہائی ہوئی۔ فدیے میں آیا ہوا ہار بھی اس لیے واپس کیا کہ وہ اُم المومنین اور حضرت زینبؓ کا تھا۔
  •  شام سے واپسی پر حضرت زینبؓ نے جو اپنے خالہ زاد اور بچوں کے والد کو پناہ دی تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ نبی کی صاحبزادی نے پناہ دے دی ہے اس لیے وہ پناہ میں ہے، فرمایا: ’’مسلمانوں میں سے کوئی ادنیٰ شخص بھی کسی کو پناہ دے دے، تو وہ پناہ میں ہوتا ہے ‘‘۔ بیٹی کے دل میں بھی تکبر نہیں انکساری کے بیج بوئے۔
  •  رب ذو الجلال نے مسلم بیوی اور کافر و مشرک شوہروں میں علیحدگی کا حکم دیا تو سب سے پہلے اپنی زینب ؓ کی علیحدگی کروائی، حالانکہ جانتے تھے کہ داماد انتہائی خیال رکھنے والا ہے۔
  •   اپنا فیصلہ مسلط نہیں کیا بلکہ فرمایا ’’چاہو تو ان کا تجارتی سامان واپس کردو اور نہ چاہو تو جنگ کے بغیر حاصل ہونے والا مال مالِ فے ہے اور تمھارے لیے جائز و حلال۔ اسی طرز تعامل نے تمام صحابہ ، تمام کارکنان کو خود اپنے فیصلے کی حیثیت سے مراد نبوی کی تکمیل کا موقع دیا۔
  •  چھے سال کی طویل علیحدگی کے بعد بچوں کا والد آیا تھا، لیکن خدمت و مہمان داری سے آگے جو لکیر اللہ نے کھینچ دی تھی، کسی نے اس سے تجاوز نہ کیا۔ ’’بیٹی! ابوالعاص کی اچھی مہمان داری کرو لیکن یاد رہے کہ آپ ان کے لیے حلال نہیں ہیں‘‘۔ اس آخری حصے میں کہ ’’آپ ان کے لیے حلال نہیں ہیں‘‘ ایک مسلم خاتون کے بلند مقام اور مرتبے کا بھی اظہار ہے کہ حالت کفر و شرک کے باعث یہ اس قابل نہیں کہ آپ اس کے لیے حلال ہوسکیں۔
  •  خواتین کو ایسا اعلیٰ مقام عطا کیا کہ نبی ؐ بھی اپنی بیٹی کو ان کی مرضی کے بغیر نہیں بیاہ سکتا۔