عبد الغفار عزیز


عالم اسلام کو ایک بار پھر اپنی تاریخ کی سنگین تر آزمایشوں کا سامنا ہے۔ دشمنوں کی عیارانہ سازشیں بھی انتہا پر ہیں اور اپنوں کی غلطیاں اور جرائم بھی آخری حدوں کو چھورہے ہیں۔ سامراجی چالیں عالم اسلام کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کررہی ہیں اور کئی مسلم حکمرانوں اور گروہوں کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز بھی بونے نظر آ رہے ہیں۔ رب ذو الجلال کی ذات کا سہارا نہ ہوتا، اس کی طرف سے لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط ، وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں) جیسی تلقین اور اِِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (یقینا تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے) جیسے مسلمہ اصول نہ ہوتے، تو لگتا کہ پانی سر سے گزر چکا، عالم اسلام کا اختتام قریب آن لگا اور اُمت پھر زوال پذیر ہوگئی۔

مسلم ممالک اور اپنے معاشرے پر نگاہ دوڑائیں تو ہم ان سب نافرمانیوں پر تلے ہوئے ہیں جن کے انجام بد سے خالق کائنات نے خبردار کیا تھا۔ واضح طور پر بتادیا گیا تھا کہ: وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ (الانفال۸: ۴۶)’’اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمھاری ہوااکھڑ جائے گی‘‘۔ لیکن ہم ایک نہیں کئی کئی اختلافات و تنازعات میں دھنسے ہوئے ہیں۔ ظلم کرنے سے بار بار منع کرتے ہوئے ہمیں خبردار کردیا گیا تھا کہ: وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّنْکُمْ نُذِقْہُ عَذَابًا کَبِیْرًاo (الفرقان۲۵: ۱۹) ’’اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اُسے ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے‘‘۔ لیکن آج ہم میں سے کسی فرد کا داؤ چلے یا کسی حکومت کے ذاتی مفادات خطرے میں پڑیں، ہم ظلم کے وہ پہاڑ توڑ دیتے ہیں کہ الأمان الحفیظ!ہمیں کسی بھی ظالم کا ساتھ دینے سے خبردار کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں بتا دیا گیا تھا کہ:وَ لَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ لا وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ o  (ھود۱۱: ۱۱۳)’’اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے اور تمھیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمھیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی‘‘۔ لیکن ہم اپنے عارضی اور محدود مفادات کی خاطر، سفاک ترین ظالم کے حق میں بھی دلیلوں کے انبار لگانے لگتے ہیں۔ ہمیں بدکاری کرنے سے ہی نہیں، بدکاری کے قریب بھی پھٹکنے سے منع کرتے ہوئے بتادیا گیا تھا کہ: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَ سَآئَ سَبِیْلًاo(بنی اسرائیل ۱۷:۳۲)’’اور زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرا فعل ہے اور بڑا ہی   بُرا راستہ‘‘۔ ہم ضرورت کی ادنیٰ ترین چیز کو بھی فحش اشتہارات کے بغیر بازار میں نہیں لاتے۔

ایک ایک کرکے خالق کے تمام احکامات کو سامنے رکھ کر دیکھ لیں۔ ہم بحیثیت فرد ہی نہیں بحیثیت اُمت و ملت انھیں پامال کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ ہماری ان تمام نافرمانیوں کو خالق نے ایک لفظ میں سمو کر اور اس سے خبردار کرتے ہوئے، راہ نجات کی طرف بھی نشان دہی کر دی ہے۔ وہ لفظ ہے: ’ظلم‘۔ جو کبھی دشمنوں کی طرف سے ہوتا ہے اور کبھی اپنوں ہی کے ہاتھوں۔ کبھی دوسروں پر کیا جاتا ہے اور کبھی خود اپنی ہی جان پر۔ ظلم کی ان تمام اقسام سے نجات حاصل کرنے کا اولین قدم، ظلم کو ظلم سمجھنا اور اسے ظلم کہنا ہے۔ آدم علیہ السلام کو جیسے ہی احساس ہوا تو وہ فوراً      پکار اُٹھے: رَبَّنَا ظَلَمْنَـآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo (اعراف۷:۲۳)’’اے ہمارے پروردگار ہم خود پر ظلم کربیٹھے ہیں، آپ نے معاف نہ فرمایا تو خسارہ پانے والوں میں شمار ہوں گے‘‘، جب کہ ابلیس سراسر نافرمانی کے بعد بھی بولا: رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَo (الحجر۱۵: ۳۹) ’’اے اللہ جیسا تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں بھی (ان بندوں کے سامنے) گناہوں کو خوش نما بناکر پیش کروں گا اور ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا‘‘۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دُعا فرمایا کرتے تھے کہ: و أرنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ، ’’اور ہمیں باطل کو باطل ہی دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرما‘‘۔

پانچ برس گزر گئے جب عالم اسلام میں اُمید ِبہار دکھائی دی تھی۔ ۳۰،۳۰ ؍ ۴۰،۴۰ سال سے اپنی قوم پر مسلط ظالم ڈکٹیٹر شپ کے بت گرنے لگے۔ صہیونی عزائم اور عالمی نقشہ گروں کو اپنے منصوبے خاک میں ملتے دکھائی دیے، تو پہلے شام پھر مصر، لیبیا اور یمن میں انھی ’اپنوں‘ ہی کو اپنے عوام پر بدترین مظالم ڈھانے کی راہ دکھا دی۔ آج صرف شام میں ۳ لاکھ سے زائد شہید، اور ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسان بے گھر ہوچکے ہیں۔ پورا ملک کھنڈرات کا ڈھیر بن چکا ہے۔ منفی ۲۰ درجے کی سردی ہو یا جھلسا دینے والی گرمی، تیزی سے رزق خاک بنتے یہ انسان مہاجر کیمپوں ہی میں مقید رہنے پر مجبور ہیں۔ کیمپوں کی یہ زندگی اس قدر جان لیوا ہے کہ اس سے نجات پانے کے لیے مہاجرین کی بڑی تعداد آئے دن وہاں سے نکلنے کی کوششوں کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ابھی ۲۱جنوری کو بھی یونان کے قریب ۲۲ بچوں سمیت ۴۵ افراد سمندر کے برفیلے پانیوں میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مہاجر کیمپوں میں خوراک ناپید ہونے کا یہ عالم ہے کہ حالت اضطرار میں بلیاں اور کتے تک کھانے کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں۔ سفاکی کا عالم یہ ہے کہ حکومت مخالف کسی ایک قصبے کو فتح کرنے کے لیے اس کا مکمل محاصرہ کرلیا جاتا ہے، یہاں تک کہ بڑی تعداد میں بچے اور بوڑھے بھوک کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں لیکن بشارالاسد اور اس کی مددگار افواج کا دل موم نہیں ہوپاتا۔ گذشتہ دسمبر اور جنوری میں شام کے قصبے ’مضایا‘ پر گزرنے والی قیامت نے کئی عالمی اداروں تک کو جھنجھوڑ ڈالا، لیکن ہم مسلمان، ہمارے ذرائع ابلاغ اور حکمران تو شاید اس قصبے کانام تک بھی نہیں جانتے۔ جانتے بھی ہیں تو اسے کسی نہ کسی مذہبی، علاقائی یا قومیتی تعصب کی چادر میں چھپا کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صرف شام میں ایسے محصور علاقوں کی تعداد ۱۵ ہے جن میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد انسان حشرات الارض سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

عراق کے علاقے ’المِقدادیۃ‘ اور یمن کے شہر’تَعِز‘ میں بھی یہی صورت حال ہے۔ عراق کے سابق نائب صدر طارق الہاشمی کے مطابق’المقدادیۃ‘ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہاں کی مساجد کئی روز سے اذان کی آواز سے محروم ہیں۔ مذہبی اختلاف و تعصب اور شیعہ و سُنّی کی تقسیم یقینا وہ زہرِ قاتل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس سے اسلامی تحریکوں کو محفوظ رکھا ہے، اور وہ پوری اُمت کو   اس زہر سے محفوظ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ تاہم، یہاں مرض کی تشخیص و شدت بیان کرنے کے لیے مجبوراً یہ اصطلاحات ہی استعمال کرنا پڑرہی ہیں۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران المقدادیۃ میں اہلسنت کی اتنی مساجد شہید کردی گئیں کہ خود عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ رہنما آیت اللہ السیستانی نے ۱۵جنوری کو اپنے خطبہء جمعہ میں عراقی حکومت کو اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے     یہ سلسلہ رُکوانے کا مطالبہ کیا۔ ضلع ’دیالا‘ ایران کے ساتھ جس کی سرحد ۲۴۰ کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور جس کی آبادی کا ۸۵ فی صد اہل سنت پر مشتمل تھا، بھی ایسی ہی بربادی کا شکار ہے۔

چند علاقوں کے یہ نام تو محض ایک مثال ہیں وگرنہ ۲۰۰۳ میں امریکی افواج کی آمد کے بعد سے پورا عراق، اور اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے شامی عوام کے خلاف بشار الاسد کی فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سے پورا شام، خون آشام ہے۔ ان دونوں ملکو ںمیں اب تک بلامبالغہ لاکھوں انسان اور ہزاروں مساجد اور امام بارگاہیں شہید کی جاچکی ہیں۔ صد افسوس کہ دونوں ملک اب کبھی شاید پہلے والے ممالک نہ بن سکیں گے۔ عراق تین ملکوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے اور شام کئی ٹکڑیوںمیں۔ یہ بندگان خدا ان ٹکڑیوں میں بٹ کر ہی کوئی نئی زندگی شروع کرلیتے تو شاید غنیمت ہوتا، لیکن صہیونی ریاست اور عالمی طاقتوں کا ایجنڈا ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ابھی ان کا خون مزید بہایا جانا ہے۔ لڑانے اور لڑنے والوں کے خوں ریز جبڑوں سے مسلسل ایک ہی جہنمی آواز سنائی دے رہی ہے: ھل من مزید...؟ ھل من مزید...؟

مذہبی تعصب کے ساتھ ساتھ اب یہ تنازعات ایک مہیب علاقائی جنگ میں بھی بدل گئے ہیں۔ پہلے تو اظہار نہیں ہوتا تھا لیکن اب مسلسل اعتراف و اعلان کیے جارہے ہیں۔شام اور عراق سے آئے روز ایران اور لبنان (حزب اللہ) کے عسکری ذمہ داران اور سپاہیوں کے تابوت و جنازے واپس آتے ہیں۔ ان کے اعلیٰ عسکری منصوبہ ساز وہاں مستقلاً موجود ہیں۔ ایرانی ملیشیا القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی وہاں کے اصل حکمران قرار دیے جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ شام میں ایرانی پاس داران انقلاب کے ایک اہم ذمہ دار حمید رضا اسد اللہی مارے گئے، تو جنازے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاس داران کے سربراہ محمد علی جعفری نے ایک تہلکہ خیز بیان دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے گذشتہ عرصے میں شام، عراق، یمن، افغانستان اور پاکستان کے ۲ لاکھ نوجوانوں کو فوجی تربیت دی ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو عسکری تربیت دینے کا مقصد کیا ہے؟

برادر مسلم ممالک کے مابین یہ کھلی جنگ کس حد تک سنگین ہوچکی ہے اس کا اندازہ اسی مثال سے لگا لیجیے کہ گذشتہ مہینے شام میں حزب اللہ کے ایک بڑے کمانڈر سمیر قنطار قتل ہوگئے۔     سَمیرِ قنطار اُمت مسلمہ کے وہ ہیرو تھے کہ ۲۸ سال تک اسرائیل کی قید میں رہے۔ رہائی کی کئی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر حماس کے ہاتھوں اغوا ہونے والے صہیونی فوجی کے بدلے میں رہائی پانے والوں میں درجنوں فلسطینی قیدیوں کے علاوہ لبنانی سَمِیْر القنطار بھی شامل تھے۔ ان کی رہائی لبنان میں ایک قومی جشن میں بدل گئی اور دنیا بھر کے ٹی وی سکرینوں پر براہِ راست دکھائی گئی۔ لیکن صہیونی ریاست کے خلاف اتنی طویل جدوجہد کی تاریخ رکھنے والا سَمِیْر مسجد اقصیٰ پر قابض یہودی سے لڑائی میں شہید نہیں ہوا، گذشتہ ماہ بشار الاسد کے فوجیوں کے ساتھ مل کر مظلوم شامی عوام کے خلاف لڑتے ہوئے مارا گیا۔ شام میں ان کا مارا جانا خطے کے عوام میں مزید تنازعے اور اختلافات کا باعث بنا۔ شامی عوام اور ان کے حامیوں نے اس قتل پر مبارک بادوں کا تبادلہ کیا، جب کہ بشارانتظامیہ اور حزب اللہ نے اس پر گہرے صدمے اور دکھ کا اظہا ر کیا۔ یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی طویل تاریخ رکھنے کی وجہ سے تحریک حماس نے سمیر کے لیے چند سطری تعزیتی بیان جاری کردیا، تو اس پر شامی اور خلیجی عوام نے سخت احتجاج کرتے ہوئے حماس کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا، چند ہی روز بعد بشار الاسد کے خلاف مزاحمت کی ایک بڑی علامت اور ۴۰ مختلف شامی مسلح گروہوں کے اتحاد ’جیش الاسلام‘ کے سربراہ زھران علوش قتل ہوگئے۔ ان پر روسی جہازوں نے بمباری کی تھی۔ ان کی شہادت پر الاخوان المسلمون شام سمیت بشار مخالف تمام اطراف نے سوگ منایا، لیکن ایران و حزب اللہ سمیت بشار کے حامی تمام عناصر نے اس پر خوشی کا جشن منایا۔ اس موقعے پر صرف ایک ملک ایسا تھا جس نے ان دونوں قائدین کے قتل پر سُکھ کا سانس لیا اور وہ تھا اسرائیل۔ تیسری جانب اسی عرصے میں ترکی، عراق، لیبیا، یمن، نائیجیریا اور سعودی عرب میں کئی ایسے خوں ریز بم دھماکے ہوئے، جن میں سیکڑوں بے گناہ شہری شہید و زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں میں سے اکثر کی ذمہ داری سرکاری طور پر داعش نے قبول کرتے ہوئے اپنی ان کارروائیوں میں تیزی لانے کا اعلان کیا۔

اب ان جھلکیوں کی مدد سے آج مشرق وسطیٰ کا نقشہ دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ترکی کا      اپنی فضائی حدود میں گھس آنے والا روسی جنگی جہاز مار گرانا، روس کا ترکی کو سنگین دھمکیاں دینا یا سعودی عرب میں سزاے موت پانے والے ۴۷ افراد میں ایک شیعہ رہنما بھی شامل ہونے پر ایران کا شدید مشتعل ہوجانااو رتہران میں سعودی عرب کا سفارت خانہ اور مشہد میں اس کا قونصل خانہ جلاڈالنا، اصل تنازع نہیں، بلکہ یہ خطے میں جاری ایک بڑی جنگ کے چند خوف ناک شعلے ہیں۔ عالم اسلام کے سب دشمن ان شعلوں کو مزید ہوا دینے کے لیے سرگرم ہیں۔

امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کے فکری مراکز تجزیے کررہے ہیں کہ:what would a Saudi - Iran war look like? dont look now, but it is already here (ایران و سعودی عرب کی جنگ کیسی ہوگی؟ اگرچہ یہ اس وقت دکھائی نہیں دیتی لیکن یہ عملاً جاری ہے)۔ اعداد و شمار شائع کیے جارہے ہیں کہ افواج اور عسکری سازوسامان کے اعتبار سے سعودی عرب ۲۸ ویں، جب کہ ایران ۲۳ ویں نمبر پر ہے۔ سعودی عرب کی افواج ۲ لاکھ ۳۳ ہزار، جب کہ ایران کے ۵لاکھ ۴۵ہزار ہیں۔ سعودی عرب کے پاس ۱۲۱۰ ٹینک ہیں اور ایران کے پاس ۱۶۵۸۔ سعودی عرب کے پاس ۱۵۵ جنگی جہاز ہیں اور ایران کے پاس ۱۳۷ (Globe Fire Power)۔ اس طرح کے اعداد و شمار شائع کرنے کا ایک مقصد یقینا یہ بھی ہے کہ جنگ کا ماحول اور خوف کی   فضا بنا کر مزید اسلحہ بیچا جائے۔ اسی ماحول میں ۱۳ جنوری کو کویتی پارلیمنٹ نے اپنے محفوظ مالی ذخائر میں سے اضافی ۱۰؍ ارب ڈالر منظور کیے تاکہ ان سے مزید اسلحہ خریدا جاسکے۔ یہی عالم خطے کے دیگر کئی ممالک کی طرف سے کیے جانے والے کئی بڑے عسکری معاہدوں کا ہے۔

داعش کے خلاف امریکی جنگ بھی خود اعلیٰ امریکی ذمہ داران کے بقول آیندہ ۳۰ برس تک جاری رہنا اور اس پر ۵۵۰؍ ارب ڈالر کا بجٹ آنا ہے۔ اس بجٹ کا بڑا حصہ بھی خطے کے مسلم ممالک ہی سے لیا جانا ہے۔ یہ دونوں پہلو (۳۰ سالہ جنگ اور ۵۵۰؍ ارب ڈالر کا بجٹ) ذہن میں رکھیں تو پھر یہ راز کوئی راز نہیں رہتا کہ تمام تر فوجی کارروائیوں اور بمباری کے باوجود بھی داعش کیوںکر ایک کے بعد دوسرا میدان سر کرتی جارہی ہے۔

امریکی کونسل براے اُمور خارجہ کے سینئرمحقق میکازنکو (Micah Zenko) ۷جنوری کو   اپنی ایک تحریر میں گذشتہ ایک سال میں امریکا کی طرف سے مسلمان ملکوں پر گرائے گئے بموں کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اوباما انتظامیہ نے صرف ۲۰۱۵ میں عراق، شام، افغانستان، پاکستان، یمن اور صومالیہ پر ۲۳ہزار ایک سو۴۴ بم برسائے‘‘۔ (حقیقی تعداد یقینا اس سے زیادہ ہوسکتی ہے کہ اس میں پاکستان پر برسائے گئے بموں کی تعداد صرف ۱۱ لکھی ہے)۔ لیکن خود زنکو اس امر پر تمسخر خیز حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ’’امریکی وزارت دفاع کے ذمہ داران کے مطابق اس بمباری سے داعش کے ۲۵ ہزار مسلح عناصر مار ے گئے۔ ۲۰۱۴ میں سی آئی اے کا کہنا تھا کہ داعش کے مسلح عناصر کی تعداد ۲۰ سے ۳۱ ہزار تک ہے۔ ان میں سے ۲۵ ہزار مارے جانے کے بعد اب ان سے پوچھیں کہ داعش کے ان عناصر کی تعداد کیا ہے تو اَب بھی جوا ب یہی ملتا ہے: ۳۰ ہزار‘‘۔ زنکو کے بقول اس نئے امریکی حسابی فارمولے کے مطابق اب ۳۰ ہزار منفی ۲۵ ہزار ۳۰ ہزار کے مساوی ہوا کریں گے۔ زنکو نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ افغانستان میں ۱۶ سالہ جنگ کے بعد بھی فارن پالیسی جیسے وقیع رسالے یہ لکھ رہے ہیں کہ طالبان افغانستان میں پہلے سے کسی بھی وقت سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں۔

جملۂ معترضہ کے طور پر یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ داعش کے ساتھ جاملنے والوں کی ایک تعداد مخلص اور دین دار نوجوانوں پر بھی مشتمل ہے۔ یہ لوگ بظاہر اسلامی ریاست اور اسلامی خلافت کا قیام او رجنت کا حصول چاہتے ہیں۔ نیتوں کا حال تو اللہ جانتا ہے لیکن نیک نیتی کے  ساتھ ساتھ ظاہری عمل بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل تعلیمات کے مطابق ہونا ضرور ی ہے۔یہ نہ ہو کہ صرف ذرائع ابلاغ اور ظاہری اعلانات سے متاثر ہو کر کوئی ایسی راہ اختیار کرلی جائے کہ یہ قرآنی وصف صادق آنے لگے:قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا o اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا o (الکہف ۱۸:۱۰۳-۱۰۴) ’’اے نبیؐ ان سے کہو، کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں‘‘۔ جو کچھ وہاں ہورہا ہے اس کے بارے میں خود شام اور عراق کے جلیل القدر اور مخلص علماے کرام کی راے بھی سن لیجیے۔ شام کے معروف عالم دین اور رابطۂ علماے شام کے ذمہ دار علامہ مجد مکی کا کہنا ہے کہ: ما فعلتہ داعش في صد الناس عن دین اللّٰہ لم تفعلہ جیوش جرارۃ قوامہا ملایین الجنود،’’ لوگوں کو اللہ کے دین سے متنفر کرنے کے لیے جو خدمت داعش نے انجام دی ہے وہ لاکھوں سپاہیوں پر مشتمل بڑے بڑے عالمی لشکر بھی نہیں دے سکتے تھے‘‘۔

یہ درست ہے کہ نظریۂ سازش بنیادی طور پر انسان کو مایوس اور بے دست و پا کردیتا ہے، لیکن یہ بھی کسی طورممکن نہیں کہ بندہ اپنے سامنے وقوع پذیر حقائق سے آنکھیں بند کرلے۔ شام میں اپنے پورے لاؤلشکر سمیت آکودنے والے روس ہی کو دیکھ لیجیے کہ اس کی تمام تر کارروائیوں کا نشانہ مظلوم شامی عوام بن رہے ہیں۔ شامی عوام ہی کا ساتھ دینے پر وہ ترکی کو سبق سکھانے اور اسے عبرت کا نشان بنادینے کا اعلان کررہا ہے۔ لیکن بظاہر اعلان اس کا بھی یہی ہے کہ وہ داعش سے جنگ کرنے اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے آیا ہے۔ اپنی اس آمد کو سیاسی اور عوامی حمایت دلوانے کے لیے اس نے مصر کے صحراے سینا میں مار گرائے جانے والے روسی مسافر جہاز کو بھی خوب پراپیگنڈے کی بنیاد بنایا۔ اس نے بھی اسے داعش کی کارروائی قرار دیا، اور خود داعش نے بھی ذمہ داری قبول کی۔

روسی مسافر جہاز میں مارے جانے والے بے گناہ شہری یقینا ظلم کا شکار ہوئے۔ لیکن ذرا ایک نظر برطانوی اخبار ڈیلی میل میں ۲۶ دسمبر ۲۰۱۵ء کو شائع شدہ روسی خفیہ ایجنسی کے ایک سابق افسر پورس کارپشکوف کا وہ تفصیلی انٹرویو بھی دیکھ لیجیے جس میں اس نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ روس سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہوکر برطانیہ میں پناہ لینے والے اس سابق روسی افسر کا پُرزور دعویٰ ہے کہ صحراے سینا میں تباہ ہونے والا جہاز روس نے خود گرایا تھا۔ اس کے بقول روسی خفیہ ادارے کے خصوصی شعبے GRU میں یہ منصوبہ خود روسی صدر کی منظوری سے تیار ہوا، تاکہ اس کے نتیجے میں ایک طرف داعش کا ہوّا مزید مستحکم ہو اور دوسری طرف روس خطے میں اپنے اثر و نفوذ کے دیگر منصوبوں کو رُوبہ عمل لاسکے۔ اس روسی افسر نے منصوبے پر عمل در آمد کی جزئیات تک بیان کرتے ہوئے ان تمام افراد کے نام، ان کا منصوبہ، جہاز میں ٹائم بم پہنچانے کا طریق کار، دھوکے سے استعمال ہونے والی روسی سیاح خاتون اور اس کی سیٹ نمبر وغیرہ سمیت سب کچھ تفصیلاً بتادیا ہے۔ اب اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ ساری کہانی جھوٹی اور دعویٰ غلط ہے تو روسی ذمہ داران، برطانوی قانون کے مطابق اخبار اور انٹرویو دینے والے پر کروڑوں روپے ہرجانے کا دعویٰ کرسکتے تھے۔ ہرجانے کا کوئی دعویٰ یا کوئی تردید تو نہیں ہوئی، البتہ ۲۱ جنوری کو برطانوی عدالت کے ایک فیصلے سے کارپشکوف کے اس دعوے کو تقویت ضرور ملی۔ عدالت نے ۲۰۰۶ء میں لندن میں ایک روسی جاسوس الگزنڈر لیٹفینکو کے قتل کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق سابق روسی جاسوس کو روسی خفیہ ایجنسی نے زہر دے کر قتل کیا تھا۔ قصور اس کا یہ تھا کہ اس نے اپنی ایک کتاب میں کئی خوف ناک انکشافات کر دیے تھے۔ ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ چیچنیا میں اپنی فوجیں اُتارنے سے پہلے، راے عامہ ہموار کرنے کے لیے کئی روسی شہری آبادیوں میں چیچن ’باغیوں‘ سے منسوب بم دھماکے، دراصل روس نے خود کروائے تھے، اور پوٹن نے ان کی سرپرستی کی تھی۔

یہ خبریں بھی ساری دنیا جانتی ہے کہ شام میں روسی افواج کی آمد کے موقع پر روسی صدر پوٹن اور صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کے مابین تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ بشار الاسد کی حمایت کے لیے روس کی آمد بظاہر اسرائیل کے اہداف سے متصادم ہے، لیکن دونوں ملکوں نے باہم تعاون اور مفاہمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ باہم قریبی روابط رکھیں گے تاکہ دونوں کسی غلط فہمی کی بناپر ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچا بیٹھیں۔

شاید اس سے بھی زیادہ حیرت آپ کو امریکی صدر اوباما کے حالیہ سالانہ خطاب سے متصل واشنگٹن کے وڈرو ویلسن ریسرچ سنٹر (Woodrow Wilson International Center for Scholars)  میں اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈوری گولڈ کے خطاب سے ہوگی۔ یہ ریسرچ سنٹر واشنگٹن میں ایرانی نفوذ کا اہم ذریعہ، اور ڈوری گولڈ اسرائیل کے حقیقی وزیر خارجہ سمجھے جاتے ہیں۔ شام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈوری گولڈ نے بعینہٖ وہ بات کہی جو کویت پر حملے کا سبز اشارہ دیتے ہوئے امریکی سفیر نے صدام حسین سے کہی تھی۔ اس نے کہا : ’’اسرائیل شام کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہتا‘‘۔ دوسری اہم بات جو اس نے کہی، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ گولان (مقبوضہ شامی علاقہ) کے گردونواح میں ایرانی اثرونفوذ میں اضافہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا اور اسرائیل کسی صورت اس کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دمشق پر آپ کا قبضہ ہمیں قبول اور گولان پر ہمارے قبضے کو آپ کسی صورت چیلنج نہ کریں۔

یہ امر بھی ہر شک سے بالاتر ہے کہ اس علانیہ اور خفیہ سفارت کاری، امریکا ایران ایٹمی معاہدے، ایران سے اقتصادی پابندیاں ہٹنے کامطلب ہرگز یہ نہیں لیا جاسکتا کہ اسرائیل اور امریکا ایران، سعودی عرب یا کسی اور مسلم ملک کے حقیقی خیر خواہ اور دوست بن گئے ہیں۔ امریکا اپنے قوانین اور معاہدوں کی روشنی میں اس بات کا پابند ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک کو فوجی سازوسامان فروخت کرتے ہوئے یہ بات یقینی بنائے کہ اس سے خطے میں اسرائیل کی عسکری بالادستی متاثر نہیں ہوگی۔ امریکی پالیسی ساز اداروں میں صہیونی نفوذ ان سے خود امریکی مفادات کے منافی فیصلے تو کرواسکتا ہے، اسرائیل کو ناگوار محسوس ہونے والے کسی اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ دہشت گردی کے نام پر اس کی جنگ اور اس کی پالیسیوں کا مرکز و محور، مسلم ممالک کی مشکیں کسنا اور اسرائیلی ریاست کا دفاع یقینی بنانا ہے۔ اسی مقصد کی خاطر تباہ کن اسلحہ رکھنے کا جھوٹا پروپیگنڈا کرکے عراق کو نشان عبرت بنایا گیا تھا اور یہ قتل و غارت ہنوز جاری ہے۔ اسرائیل ہو یا کوئی بھی عالمی سامراجی قوت، اس وقت سب کا مشترک ہدف ایک ہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اختلافات کی یہ آگ کسی صورت بجھنے نہ دی جائے۔ جو فریق بھی کمزور ہونے لگے گا، وہ اسے کسی نہ کسی طور آکسیجن دیتے رہیں گے۔ اگر کہیں اقتصادی پابندیاں ہٹائیں گے تو بھی تیل کی قیمت میں تاریخی کمی کرتے ہوئے اسے عملاً بے وقعت کردیں گے۔ داعش اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہزاروں بم برسائے جاتے رہیں گے، لیکن وہ ایک کے بعد دوسرے ملک میں نمودار ہوتی رہے گی۔

پس چہ باید کرد

ایسے میں اصل امتحان مسلم ممالک اور ان کی قیادت کا ہے۔ اگر جانتے بوجھتے بھی کسی نہ کسی تعصب، ضد یا نفرت و عداوت کا شکار ہو کر اور صرف اپنے اپنے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے دشمن کے بچھائے جال میں پھنستے رہے، تو شاید زیادہ وقت نہ گزرے گا کہ سب ہی ندامت و شکست سے دوچار ہوں گے۔ لیکن اگر اس وقت کھلے ذہن، اعلیٰ ظرفی اور تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر فیصلے کیے گئے تو یقینا دوجہاں کی سرفرازی قدم چومے گی۔ بصورت دیگر ظلم اور ظالموں کے بارے میں قرآن کے اس خطاب کا مخاطب ہر ظالم اور اس کا ہر مددگار ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ظالم لوگ جو کچھ کررہے ہیں ، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو۔ اللہ تو انھیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں، سر اُٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں، نظریں اُوپر جمی ہیں اور دل اُڑے جاتے ہیں۔ اے نبیؐ، اُس دن سے تم انھیں ڈرادو، جب کہ عذاب انھیں آلے گا۔ اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ ’’اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔‘‘ (مگر انھیں صاف جواب دیا جائے گا) کہ ’’کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا او ردیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمھیں سمجھا بھی چکے تھے۔ انھوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں۔ ’’پس اے نبیؐ،   تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے‘‘۔(ابراہیم ۱۴:۴۲-۴۷)

  •              آج تمام مسلم ممالک اور پوری اُمت مسلمہ کو اس ایک نکتے پر متفق ہونا ہوگا کہ: ظالم خواہ بشار الاسد ہو، یا جنرل سیسی، حوثی باغی ہوں یا حسینہ واجد، روس و امریکا ہو یا کوئی بھی بے مہار مسلح مسلمان گروہ، ہم کسی صورت اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔
  •             ہر طرح کی منافقت اور دورنگی سے کنارہ کشی کرنا ہوگی۔ اگر ایک طرف اتحاد و یک جہتی کے دعوے ہوں لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے اپنے فرقے اور مسلک کے مفادات کی خاطر اسلحوں کے انبار، پروپیگنڈے کی یلغار، دولت کے ڈھیر اور عسکری تربیت کے خفیہ و علانیہ کیمپ بھی فعال رہیں گے تو ہم کسی دوسرے کو نہیں، خود اپنے آپ ہی کو دھوکا دے رہے ہوں گے۔
  •      تمام انبیاے کرام، تمام اہل بیت اطہار اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام بجا لانا ہوگا۔ کسی بھی مسلمان کی دل آزاری سے اجتناب یقینی بنانا ہوگا۔ اگر کہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مجوسی قاتل ابو لؤلؤۃ فیروز کی قبر کو باقاعدہ مزار و عبادت گاہ کا درجہ دے کر اس کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے رہیں گے، صحابہ کرامؓ پر تبرا بازی کی مجالس بڑے بڑے چینلوں اور ویڈیوز کے ذریعے عام کی جاتی رہیں گی، یا دوسری طرف بنیادی شیعہ عقائد رکھنے والوں کو خارج از ملت قرار دینے کی مہمات کی سرپرستی ہوتی رہے گی،    تو اختلافات کی آگ کسی صورت نہیں بجھ پائے گی۔
  •          افراد، جماعتوں، حکومتوں اور ریاستوں کو تمام تر علاقائی، مذہبی، گروہی، نسلی اور لسانی تعصبات کو بالاے طاق رکھتے ہوئے متحد ہونا ہوگا۔ ان تعصبات کی سنگینی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کردی کہ: دُعوھَا فإنہا مُنْتِنَۃ،’’تعصب کو چھوڑ دو یہ بدبودار مُردار ہے‘‘۔
  •  مصر کی جیلوں میں قید ۴۰ ہزار سے زائد، بنگلہ دیش میں ۱۰ ہزار سے زائد اور شام و عراق کے تعذیب خانوں میں ہزاروں افراد سمیت دنیا میں کہیں بھی بے گناہ مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم بند کروانا ہوں گے۔ ۴۰، ۴۰ سال پرانے جھوٹے واقعات کو بنیاد بنا کر دی جانے والی پھانسیوں کا سلسلہ رکوانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس ضمن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی ذہن میں تازہ رکھنا ہوگی کہ :اتّقِ دعوۃ المظلوم فإنّہ لیس بینہ و بین اللہ حجاب (بخاری، جلد اول، حدیث: ۱۴۳۷) مظلوم کی بددُعا سے بچو کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا‘‘۔ یہ بھی یاد رہے کہ مظلوم کی بددُعا ظالم کے خلاف بھی ہوتی ہے اور اس کے سرپرستوں اور مددگاروں کے خلاف بھی۔
  •   پاکستان کی طرف سے سعودی عرب و ایران کے مابین رابطہ کاری کا آغاز فی الحال غیر مؤثر ہونے کے باوجود خوش آیند اور مثبت قدم ہے۔ ترکی، قطر اور ملایشیا سمیت دیگر مسلم ممالک کو شامل کرکے ان کوششوں کو مربوط و مؤثر بنانا ہوگا۔
  •      سعودی عرب کی جانب سے ۳۴ ممالک پر مشتمل اتحاد کا اعلان، فی الحال صرف ایک اعلان ہونے کے باوجود ایک اہم اور مثبت قدم ہے۔ اس اعلان کو حقیقت میں بھی بدلنا ہوگا اور اس کے بارے میں پیدا کیے جانے والے بعض تحفظات کا بھی مداوا کرنا ہوگا۔اس میں شریک ممالک غیرجانب داری اور اخلاص سے کوشش کریں تو یہ عالمِ اسلام کا ایک مؤثر عسکری پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔
  •   چند ہفتے قبل سعودی عرب سے آنے والی اس اطلاع سے بھی اُمت کے بڑے حصے کو  تشویش ہوئی کہ وہاں تعلیمی اداروں کی لائبریریوں سے امام حسن البنا، سید ابوالاعلیٰ مودودی، سید قطب، محمد قطب، علامہ یوسف القرضاوی، عبد القادر عودہ، مالک بن نبی جیسے اعلیٰ پائے کے رہنماؤں کی کتب ہٹانے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ آج کے ابلاغیاتی دور میں اس طرح کے اعلانات تو ویسے ہی غیر مؤثر ہیں، ابلاغیاتی وسائل نے معلومات اور نظریات و افکار کی راہ سے تمام دیواریں ہٹا دی ہیں۔ نوٹس لینا ہوگا کہ کروڑوں دلوں کو سعودی عرب کے بارے میں مکدر کرنے کی یہ ’خدمت‘ کس نے اور کیوں انجام دی؟اگرچہ وزیر موصوف کو اس ذمہ داری سے ہٹا دیا گیا، لیکن اس ناقابل فہم اعلان سے جو نقصان پہنچنا تھا، وہ ابھی اپنی جگہ باقی ہے۔
  •     تمام مسلم حکومتوں اور عوام کو یہ حقیقت بھی ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عالم عرب سے آنے والی نوید بہار کسی حسنی مبارک، جنرل سیسی، کرنل قذافی، بشار الاسد، یمنی یا تیونسی صدر کے خلاف نہیں ڈکٹیٹر شپ اور ظلم پر مشتمل نظام کے خلاف تھی۔ یہ درست ہے کہ اس وقت اس بہار کو ایک عارضی خزاں نے آن لیا ہے لیکن یہ ایک ابدی سچائی ہے کہ مظلوم کے بارے میں کہی گئی اس حدیث قدسی کو بہرصورت حقیقت بن کر رہنا ہے کہ:وعزتی وجلالی لأنصرنک و لو بعد حین، ’’مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! میں یقینا تمھاری نصرت کروں گا خواہ وہ (میری حکمت کے مطابق) کچھ دیر کے بعد ہی کیوں نہ ہو‘‘۔

ہمارا ایمان ہے کہ اگر ہم خلوص کے ساتھ جدوجہد کرتے رہیں گے تو اللہ پاک ہمیں کامیابی سے ہم کنار فرمائیں گے۔

توجہ فرمایئے

ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ، انتظامی دفتر کا نیا فون نمبر:042-3525212

سیّد عبدالقادر جیلانی.ؒ (۱۰۷۷ئ-۱۱۶۶ئ) اللہ کی برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں۔ خواہش تھی کہ اللہ کے اس برگزیدہ بندے سیّد عبد القادر جیلانی.ؒ کے بارے میں جامع معلومات حاصل ہوں۔ بدقسمتی سے ان کے بارے میں ملنے والی کتب اور ہمارے معاشرے میں ان کے کروائے جانے والے تعارف نے ان کی اصل شان دار شخصیت ہم سے چھین لی ہے۔ صرف وہی نہیں عالم اسلام اور بالخصوص برعظیم پاک و ہند کی اکثر بزرگ ہستیوں کو بے بنیاد اختلافات و خرافات کی نذر کردیا گیا ہے۔ بعض پیشہ ور، ان کا نام اپنی اور اپنی نسلوں کی تجوریاں بھرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ان کی حقیقی تعلیمات کو ہندوانہ رسوم و رواج سے مشابہ چند بدعات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔  اللہ بھلا کرے عراق کے ایک معروف سکالر ڈاکٹر ماجد عرسان الکیلانی کا انھوں نے اپنی کتاب: ھَکَذَا  ظَہَرَ جِیْلُ صَلَاحِ الدِّین (سلطان صلاح الدین ایوبی کی نسل یوں تیار ہوئی) میں حضرت عبدالقادر جیلانی.ؒ کا اصل تعارف کروادیا۔ کتاب کا عنوان دیکھیں تو دونوں شخصیات میں بظاہر کوئی ربط و تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ صلاح الدین ایوبی (۱۱۳۸ء -۱۱۹۳ئ) ایک سپہ سالار اور حکمران تھے، جب کہ سیّد عبد القادر جیلانی.ؒ ایک عالم باعمل، عظیم مصلح، مربی اور فقیہ تھے۔ دونوں کا باہم کوئی براہِ راست رابطہ معلوم نہیں ہوسکا۔لیکن دونوں عظیم شخصیتوں نے بچپن ہی سے اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سچی محبت دل میں بسائی کہ دونوں سراپا اخلاص و عمل بن گئے۔

الشیخ عبد القادر جیلانی.ؒ کے بارے میںخود ان کی اپنی مایہ ناز تصنیفات اور ان کے بارے میں لکھی جانے والی بے شمار کتب اور مذکورہ بالا کتاب کے علاوہ اُردن کے ڈاکٹر سعود ابو محفوظ اور  لیبیا کے ڈاکٹر علی صلابی کی کتب سے بھی بڑی رہنمائی ملتی ہے۔ ان کے بارے میں سب سے   پہلی حیرت یہ جان کر ہوئی کہ وہ نہ صرف حنبلی مسلک سے تعلق رکھتے تھے، بلکہ ان کا شمار فقہ حنبلی کے نمایاں ترین علماے کرام میں ہوتا تھا۔ اپنے اس عظیم علمی مقام کے ساتھ ساتھ انھوںنے معاشرے میں پھیلی معاشرتی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حقیقی تصوف کو زندہ کیا۔ فقہ و تصوف کا یہی حسین امتزاج بالآخر انھیں دوجہاں میں رتبۂ بلند عطا کرنے کا سبب بنا۔ ان کے اس اعلیٰ علمی و اصلاحی مقام کا تقریباً ہر منصف مؤرخ نے انتہائی شان دار الفاظ میںذکر کیا ہے۔

ان میں سے ایک اہم ترین تذکرہ امام ابن تیمیہؒ کے ہاں ملتا ہے، جنھوں نے اپنے فتاویٰ کی جلد آٹھ اور گیارہ میں انھیں شریعت کے احکام و نواہی کی اتباع کرنے میں اس دور میں سب سے آگے بڑھ جانے والا قرار دیا ہے۔

اگر سیّد عبد القادر جیلانی.ؒ اور ان سے پہلے امام غزالیؒ (م: ۱۰۵۸ئ) کے دور کے احوال پڑھیں تو لگتا ہے کہ جیسے ہم آج ہی کے دور میں جا پہنچے ہیں۔ معاشرے کا ہر طبقہ انحطاط و فساد کی دلدل میں دھنس چکا تھا۔ ایک طرف تاتاریوں اور صلیبیوں کی یلغار اور دوسری طرف طوائف الملوکی، قتل و غارت، اخلاقی تباہی، علم اور علما کی زبوں حالی، ہر طرف اور ہر نوع کی شہوتوں کی غلامی، غرض ہر وہ لعنت و آزمایش جو آج مسلم اُمت کو درپیش ہے، اس دور میں عروج پر تھی۔ سیّد عبدالقادر جیلانی.ؒ جو امام غزالی ؒکے علم و فکر اور تجربات و احوال کا قریب سے مشاہدہ کررہے تھے، اس دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ اصلاح احوال کے لیے بھی کوشاں رہے۔ انھوں نے حکمرانوں، علماے کرام، طلبہ و نوجوانوں، تجّار و عُمال ،ہر طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے ان پر ان کے اعمال کی حقیقت واضح کی۔ ان کی اصلاح کے لیے اپنا ایک مدرسہ و مرکز قائم کیا۔ جہاں تعلیم و تعلم کے علاوہ لوگوں کو مختلف اصلاحی تربیت گاہوں سے بھی گزارا جاتا۔

۵۰ برس کی عمر میں ان کا چرچا نمایاں طور پر عام ہوچکا تھا۔ فقہ حنبلی کے چوٹی کے عالم دین اور سیّد عبد القادر جیلانی ؒکے استاذ ابو سعید المخرمیؒ کا انتقال ہونے پر سب نے ان سے بغداد کے ایک علاقے ’ازج‘ میں واقع ان کے مدرسے کو اپنا مرکز بنانے کی درخواست کی۔ انھوں نے نہ صرف درخواست قبول کی بلکہ اس مدرسے کی توسیع و تعمیرِ نو کا بِیڑا اُٹھایا۔ ۱۱۳۳ء میں مدرسے کی تعمیر مکمل ہوئی تو پھر وفات تک، یعنی ۳۳ برس یہی مدرسہ ان کی سرگرمیوں کا مرکز بنارہا۔

آپ اس کے علاوہ بھی مختلف علاقوں میں جاتے، لیکن مرکز اصلاح و تربیت یہی مدرسہ ٹھیرا، جہاں ۱۳ علوم میں اعلیٰ تعلیم دی جاتی لیکن علم الکلام اور فلسفے کی بے فائدہ بحثیں خارج از نصاب قرار دے دی گئی تھیں۔ ان کی جگہ انھوں نے سات اسلامی اقدار ہر طالب علم کے قلب و نگاہ میں راسخ کرنے کا اہتمام کیا۔ یہ سات بنیادی نکات تھے: (۱) توحید(۲) قضا و قدر کا صحیح مفہوم (۳)حقیقت ایمان(۴) امر بالمعروف ، نہی عن المنکر اور اولی الامر کا حقیقی مفہوم (۵) حقیقت دنیا و آخرت (۶) مقام نبوت و انبیا (۷) حقیقت زہد۔ یہ ارکان تربیت کوئی مجرد نصابی سرگرمی نہیں بلکہ تمام متعلقین کو ان کا عملی پابند بنایا جاتا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے پورے عالم تصوف کو اس کی کمزوریوں اور خامیوں سے پاک کرنے کا بِیڑا اُٹھایا۔ بالخصوص ۱۱۵۱ء سے ۱۱۵۵ء تک کے چار سالہ عرصے میں انھوں نے مختلف مسالک و طریقہ ہاے ارادت کو جمع کیا۔ قطب، ابدال، اوتاد اور اولیا جیسی اصطلاحات اسی پورے کام کو منظم کرنے کا عنوان تھیں۔ اس مدرسہ قادریہ میں مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ فیض یاب ہوئے لیکن ان علاقوں سے کہ جن پر دشمن قابض ہوچکے تھے آنے والے طلبہ کو خصوصی طور پر تربیت دے کر اپنے علاقوں میں واپس بھیجا جاتا۔ ان طلبہ میں سے بھی بالخصوص بیت المقدس سے آنے والے طلبہ کو اہمیت دی جاتی۔ یہ طلبہ ’مقادسہ‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔

سیّد عبدالقادر جیلانی ؒکی ان تمام سرگرمیوں میں بظاہر اس دور کے بڑے بیرونی خطرات سے کوئی تعارض دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن وہ اس امر پر یکسو تھے کہ افراد و معاشرے کی اصلاح کے بغیر کسی بڑے خطرے کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی شخصیت و مقام کا مطالعہ کرنے والے تمام مؤرخ یہ نتیجہ اخذ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر سلطان صلاح الدین ایوبی کی پشت پر اصلاحِ معاشرہ کی   یہ پوری تحریک اصلاحِ معاشرہ نہ ہوتی تو وہ کبھی بیت المقدس آزاد نہیں کرواسکتے تھے۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم اور مجاہدین کو جس عظیم الشان انداز سے تیار کیا، اس میں ان کی ایمانی و اخلاقی تربیت بنیاد و ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہاں ہمیں امام غزالی، سیّد عبدالقادر جیلانی، نور الدین محمود زنگی اور صلاح الدین ایوبی جیسی چار عظیم شخصیات کی جدوجہد ایک سنگم پر یکجا ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ دونوں سپہ سالاروں نے ان دونوں جلیل القدر ہستیوں اور ان کے مخلص شاگردوں کے اثرات و خدمات سے بھرپور استفادہ کیا۔ فقہ حنبلی کی معروف کتاب المُغْنِي کے مؤلف ،موقف الدین ابن قدامہ ہوں یا اپنے زمانے کے معروف مدرس اور واعظ ’ابن نجا‘ دونوں حضرات سیّد عبد القادر جیلانی.ؒ کے خصوصی شاگرد تھے اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے انھیں اپنا خصوصی مشیر بنایا۔ ان دونوں عظیم شخصیات کی طرح   انھوں نے اپنے دور کے تمام دیگر علماے ربانی کی خدمات حاصل کیں۔ قوم کو معصیتوں بھری زندگی سے نکال باہر لانے اور اس میں روح جہاد پھونکنے کا اصل فریضہ انھی مبارک ہستیوں کے ذریعے تکمیل تک پہنچا۔ سلطان صلاح الدین اس حقیقت کا برملا اظہار کیا کرتے تھے کہ ’’میں نے بیت المقدس کو اپنی تلوار سے نہیں ان علماے کرام کے علم و فضل اور رہنمائی کے ذریعے آزاد کروایا ہے‘‘۔

  •  دعوت و تحریکِ اصلاح کے اھم پھلو: ان مبارک نفوس کے علم و عمل، اصلاح و تربیت اور جہاد و قربانیوں کا احاطہ کرنے کے لیے یقینا کئی ضخیم کتب درکار ہیں۔ وہ یقینا خود بھی سرخرو ہوگئے اور اپنی قوم و معاشروں کے لیے بھی نجات دہندہ قرار پائے۔ لیکن جن خرافات و باطل نظریات کے خلاف انھوں نے اصل جہاد کیا تھا ہم نے خود ان کی دعوت و تحریک اصلاح کو بھی انھی مہلک موروثی امراض کا شکار کردیا ہے۔ ان مبارک ہستیوں کی تحریک و خدمات کا جائزہ لیں تو ہمارے لیے یہ واضح رہنمائی سامنے آتی ہے:

             o            اصلاح و نجات کی اسلامی تحریکیں بعض اوقات کئی نسلوں تک جاری رہنے کے بعد فتح و نصرت کی منزل حاصل کرتی ہیں۔ پروردگار مختلف ادوار میں مختلف افراد سے مختلف کام لے رہا ہوتا ہے لیکن عملاً وہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے اور قافلے کو فتح و کامیابی کی جانب آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

                o            اصلاحِ اقوام کے لیے اصلاحِ افراد بے حد ضروری ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ فاسق افراد   مل کر کوئی صالح قوم تشکیل دے دیں۔ ارشاد ربانی کے مطابق:  اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ط(الرعد۱۳:۱۱) ’’اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا  جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔

                o            اصلاحِ افراد و معاشرہ کے لیے وہی اصول اپنانا ہوں گے جو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے اپنائے۔ امام غزالیؒ اور سیّد عبدالقادرجیلانی.ؒ نے سب سے زیادہ زور توحید خالص کو اپنانے اور شرک، جھوٹ، منافقت اور بدعنوانی و خیانت چھوڑنے پر دی۔ جھوٹ نہ بولنے کی وجہ سے بچپن ہی میں سیّد عبد القادر جیلانی.ؒ کے سامنے ڈاکوؤں اور ان کے سردار کی توبہ کا واقعہ معروف ہے۔

                o            روحانیت اور تمام تر شرک و شوائب سے پاک راہِ تصوف، توحید و جہاد اور اقامتِ دین کی نفی نہیں، اس کی تکمیل کرتی ہے۔ آج کے دور میں بھی دیکھیں تو الاخوان المسلمون کے بانی امام حسن البنا نے اس کا خصوصی اہتمام کیا۔

                o            ان ہستیوں نے فروعی اختلافات اور علم الکلام کی مختلف بحثوں یا لفظی موشگافیوں میں اُلجھ یا اُلجھا کر معاشرے میں تقسیم و نفرت کی آگ نہیں بھڑکائی۔ سیّد عبد القادر جیلانی.ؒ نے ایسے  علماے کرام کو کہ جو دین کو دکانوں کا درجہ دیے بیٹھے تھے اور سلاطین کو خوش کرنے کے لیے فتویٰ فروشی کے مرتکب ہوتے تھے، راہِ شریعت کھوٹی کرنے والے ڈاکو قرار دے کر بے نقاب کیا۔

                o            تبدیلی اس وقت آتی ہے جب محدود و مخصوص افراد کے بجاے معاشرے کے تمام افراد کو اپنا ہم نوا بنایا جائے۔ صلاح الدین ایوبی نے سیّد عبد القادر جیلانی.ؒ اور ان کے دیگر حنبلی علما و فقہا کے علاوہ شافعی علما کی نمایاں تعداد بھی ساتھ ملائی۔ سب نے مل کر اصلاح و جہاد کا فریضہ سرانجام دیا۔ البتہ جہاں مختلف باطنی تحریکوں سے واسطہ پڑا چاروں شخصیات امام غزالیؒ و سیّد عبدالقادر جیلانی ؒاور نورالدین زنگی و صلاح الدین ایوبی نے ان کی مکمل سرکوبی کی۔

پروردگار ہمیں بھی اپنے ان محبوب بندوں کے نقشِ قدم پر چلنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے اور دوجہاں کی سرخروئی عطا فرمائے، آمین!

پورے ۱۴۳۶ سال گزرگئے، سیرتِ اطہرؐ کے تمام ابواب کی طرح باب ہجرت آج بھی  سراسر باب رُشد و ہدایت ہے۔ ہجرت کے ایک ہی موڑ نے، اہل ایمان کو ظلم و عذاب سے نجات دلا کر، ایک حقیقی اسلامی انقلاب کی منزل سے آشنا کردیا تھا۔ پھر یثرب، یثرب نہ رہا قیامت تک کے لیے ایک شہر روشن: ’مدینہ منورہ ‘ میں بدل گیا۔ عناد و تکبر کے بت دیکھتے ہی دیکھتے رزق خاک ہوتے چلے گئے اور صرف آٹھ برس بعد قافلۂ حق جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ (حق آگیا اور باطل رسوا ہوگیا) کا سرمدی ترانہ دہراتے ہوئے، بیت اللہ کو اپنے مخلصانہ سجدوں سے آباد کررہا تھا۔

سفر ہجرت یقینا قربانیوں کی ایک بے مثال و لازوال داستان ہے۔ مقصدِ حیات کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنا گھر بار، مال و متاع بلکہ اہل و عیال تک قربان کردیے۔ سفر ہجرت، اللہ کی معیت و نصرت اور معجزاتِ نبیؐ کا ایمان افروز تذکرہ بھی ہے۔ غارِ ثور کی سرگوشی لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج ( فکر نہ کریں اللہ یقینا ہما رے ساتھ ہے۔ التوبہ ۹:۴۰)، اُم معبد کا خیمہ اور سراقہ کی سواری سب اس کی تفصیل سناتے ہیں۔ لیکن سفر ہجرت آپؐ کی عظیم منصوبہ بندی اور اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ (ان کے مقابلے کے لیے جتنی تیاری کرسکتے ہو ضرور کرو۔ انفال ۸:۶۰) کی جامع تفسیر بھی ہے۔ خون کے پیاسے دشمن ہی سے نہیں، ان کی طرف سے اعلان کردہ بڑی انعامی رقم کے لالچ میں ہر قدم پر ممکنہ دشمن سے خطرات لاحق تھے۔ آپؐ نے احتیاط و حذر، مناسب سواری، جاں نثار یارِ غار، صحرائی راستوں کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح جاننے والے راہ نما، دشمن کی نقل و حرکت سے آگاہ کرنے والے زیرک خبررساں___ گویا ایک ایک ضرورت کا اہتمام اور انتظام فرمایا تھا۔ پورا سفر خود اذنِ الٰہی سے شروع ہوا تھا، اللہ پر بھروسا اور اعتماد بھی آپؐ سے زیادہ کون کرسکتا تھا، لیکن انسان ہونے کے ناتے ہر وہ تیاری کی گئی جس کا تصور اس دور میں کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ منتظم ہی کرسکتا تھا۔

ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی گئی، تو وحی کے انداز و موضوعات بھی بدلتے گئے۔ اب دعوت و تربیت، ایک اُمت اور ایک ریاست میں بدل رہی تھی۔ انسانیت کو عقائد و عبادات کے ساتھ، معاشرت و ریاست کے تفصیلی احکام کی بھی ضرورت تھی۔ یہاں تک کہ ایک روز یہ بشارت مل گئی کہ’’آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کردیا ہے، اپنی نعمت  تم پر تمام کردی ہے، اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے‘‘ (المائدہ۵:۳)۔ زندگی کا کوئی گوشہ رہنمائی کے بغیر نہیں چھوڑا گیا۔ خالق نے مخلوق کے حقوق بھی تمام تر جزئیات کے ساتھ بیان کردیے۔ یہ اعزاز و سرفرازی اتنی شان دار تھی کہ غیر مسلم بھی حسرت سے کہنے لگے: ’’یہ آیت ہمارے لیے نازل ہوئی ہوتی تو ہم آج کا دن روزِ عید قرار دے دیتے‘‘۔

اسی کامل و اکمل شریعت میں کئی اہم اُمور ایسے ہیں جن کے بارے میں اصولی رہنمائی دے کر بندوں کو فیصلے اور چناؤ کا اختیار دے دیا گیا۔ یہ بھی رحمن و رحیم پروردگار کی رحمت ہی کا  ایک پرتو تھا، تاکہ بندے ہر بدلتے حالات میں اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق فیصلہ کرسکیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق:’’ اللہ تعالیٰ نے تم پر فرائض عائد کردیے، انھیں ضائع نہ کرو۔ تمھارے لیے حدود متعین کردیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ تمھیں کچھ چیزوں سے منع کردیا، ان کا ارتکاب نہ کرو۔ اور کچھ اُمور کے بارے میں اس نے بھولے بغیر او رتم پر رحم کرتے ہوئے سکوت اختیار فرمایا، ان کے بارے میں غیر ضروری تکلف میں پڑے بغیر انھیں قبول کرلو‘‘۔

حکومت سازی اور انتقالِ اقتدار کا معاملہ بھی انھی اہم اُمور میں سے ایک ہے۔ اسلام میں کسی بھی طرح کی آمریت، ظلم و تعدی یا انتشار و فساد کی قطعاً کوئی گنجایش نہیں۔ مسلم معاشرے کا ہرشہری یکساں حقوق و مواقع رکھتا ہے۔ واضح حکم دے دیا گیا کہ: شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ( ہر اہم کام میں ان سے مشورہ کیا کیجیے۔آل عمران۳:۱۵۹)۔ آپؐ اور آپؐ کے بعد صحابہ کرامؓ نے اجتماعیت کے اس بنیادی حسن، شورائیت و مشاورت کا حق ادا کردیا۔ اللہ کا نبی اور صاحبِ وحی ہونے کے باوجود صحابہ کرامؓ نے اگر آپؐ کی راے سے مختلف کوئی راے رکھی، تو کامل اخلاص و محبت سے اس کا اظہار کیا۔ آپ نے بھی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے ان کی آرا کو تسلیم کیا۔ بدر میں پڑاؤ اور اُحد کے میدان کا انتخاب جیسے درجنوں واقعات اس مشاورتی عمل کی روشن مثالیں پیش کرتے ہیں۔ آپؐ کی رحلت کے بعد انتقالِ اقتدار کا مرحلہ آپؐ کی تربیت اور قرآنی تعلیمات پر عمل در آمد کا پہلا کڑا امتحان تھا۔ یہی صورت خلیفۂ اول اور ان کے بعد آنے والوں کو درپیش آئی۔ آئیے! یہاں چاروں خلفاے راشدین کے انتقالِ اقتدار کے واقعات مختصراً تازہ کرلیں۔

  • سرورِ عالمؐ نے مختلف مواقع پر بالخصوص اپنی آخری علالت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنا نائب مقرر کرکے اپنے بعد ذمہ داری کی جانب واضح اشارات دے دیے تھے۔ آپؐ کی رحلت کے بعد انصار و مہاجرین نے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو کر اس مرادِ نبیؐ کی عملی تکمیل کردی۔ اگرچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ ابن الجراح کا نام پیش کیا تھا، بعض صحابہ کی طرف سے حضرت سعد بن عُبادہ کا نام بھی پیش کیا گیا، لیکن بالآخر سب کا اجماع حضرت صدیق اکبرؓ ہی پر ہوا۔ انھوں نے اس وقت بھی او ربعد میں بھی کئی بار اس ذمہ داری سے معذرت کی لیکن لوگوں نے یہی جواب دیا: ’’آپ رسول اکرمؐ کے یارِ غار ہیں، ثانی اثنین ہیں، آپ ہی پر اتفاق ہے‘‘۔
  • حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دنیا سے رخصت ہونے سے قبل صحابہ کرامؓ کو باہم مشاورت سے اپنا خلیفہ چُن لینے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ’’زیادہ بہتر ہوگا کہ آپ میری زندگی ہی میں کسی کو  اپنا امیر و سربراہ بنا لیں، تاکہ بعد میں کوئی اختلاف نہ ہو‘‘۔ صحابۂ کرامؓ نے آپ ہی سے رہنمائی چاہی اور کہا: اے خلیفۂ رسولؐ! ہماری راے بھی وہی ہوگی جو آپ کی ہوگی۔ آپؓ نے یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ اور دیگر کئی حضرات سے ملاقاتیں کیں، اپنے نمایندے بھیج کر راے عامہ کا بھی جائزہ لیا۔ آپ سب سے دریافت فرماتے رہے کہ:    ’’عمرؓ بن الخطاب کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟‘‘ ایک صحابی حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ کے  سوا باقی سب نے عرض کی کہ آپ کے بعد ان سے بہتر کوئی ہستی، اُمور ریاست نہیں چلا سکتی۔ حضرت طلحہؓ کا کہنا تھا کہ وہ بہت سخت مزاج ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ’’وہ مجھے نرم مزاج دیکھتے ہیں اس لیے خود سخت موقف اپناتے ہیں۔ ذمہ داری اپنے سر   آن پڑے گی، تو بہت تبدیل ہونا پڑے گا‘‘۔ تمام اہل حل و عقد سے اس مشاورت کے بعد انھوں نے ایک تحریر تیار کروائی۔ دنیا سے جاتے ہوئے آخری اور آخرت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے یہ   ابوبکر بن قحافہ کا پہلا عمل ہے۔ ان کا حسب ذیل تحریری فیصلہ مجمع عام میں پڑھ کر سنایا گیا:

’’میں نے اپنے بعد عمر بن الخطاب کو اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ ان کی بات سنیں اور ان کی اطاعت کریں۔ میں نے اللہ، اس کے رسول، اس کے دین اور خود اپنی بھلائی کے لیے بہترین فیصلہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔ اگر انھوں نے انصاف سے کام لیا تو ان کے بارے میں میرا یہی گمان اور علم ہے۔ اور اگر وہ اس راے سے مختلف نکلیں، تو ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے، مجھے کوئی علم غیب نہیں۔ کیا آپ بھی انھیں تسلیم کرتے ہیں جنہیں میں نے اپنے بعد آپ لوگوں کا خلیفہ بنایا ہے؟‘‘ تمام صحابہ کرام نے بالاجماع اسے تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

  • حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بھی نہ صرف شورائیت، آزادیِ اختیار اور للہیت کی یہی حقیقی روح پوری طرح کارفرما دکھائی دی، بلکہ آپ نے پہلی بار ایک باقاعدہ انتخابی کمیشن قائم کردیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن ۱۰ صحابہ کرامؓ کو زندگی ہی میں جنت کی بشارت دے دی تھی (عشرۂ مبشرہ) ان میں سات ہستیاں اس وقت مدینہ میں تھیں۔ آپ نے اپنے قبیلے بن عدی سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن زید کو چھوڑ کر، باقی چھے جلیل القدر ہستیوں پر مشتمل انتخابی مجلس تشکیل دیتے ہوئے فرمایا کہ میرے انتقال کے بعد آپ حضرات تین دن کے اندر اندر مشاورت کا عمل مکمل کرکے جن پر آپ کا اتفاق ہوجائے سربراہ بنالیں۔ حضرت ابو طلحہ الانصاریؓ اور حضرت مقداد بن اسودؓ کو انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے مقرر کرتے ہوئے، انھیں اپنے ساتھ ۵۰صحابہ کرامؓ پر مشتمل ایک فورس تیار رکھنے کا حکم دیا، تاکہ ایسے حالات میں کہ جب اسلامی ریاست چہار اطراف میں وسعت پاچکی ہے، خلیفہ کامنصب خالی پاکر کسی دشمن کو فتنہ سازی یا انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اس مشاورتی عمل کو مزید غیر جانب دار بنانے کے لیے آپ نے حضرت صہیب رُومیؓ کو حکم دیا کہ اس دوران میں وہ مسجد نبویؐ میں امامت کے فرائض انجام دیں۔ مبادا اگر ان جلیل القدر چھے ہستیوں میں سے کسی کو امامت کے لیے کہا، تو اسے ان کے لیے ترجیح و تائید نہ سمجھا جائے۔ انتخابی کمیشن نے طویل مشاورت کی۔ مدینہ منورہ کے گلیوں بازاروں میں جاکر عام شہریوں، حتیٰ کہ خواتین اور غلاموں تک سے راے پوچھی گئی۔ جوں ہی راے دہی کے یہ تین روز مکمل ہوئے، ۴ محرم کی فجر کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے اعلان کیا کہ اکثریت کی راے حضرت عثمان بن عفانؓ کے حق میں ہے۔ اس موقعے پر سب سے پہلے حضرت علیؓ  نے اور پھر باقی تمام صحابہ کرامؓ نے تیسرے خلیفۂ راشد کی بیعت کرلی۔
  • جب حضرت عثمانؓ خوارج کے ہاتھوں اچانک شہید کردیے گئے، تو تمام صحابہ کرامؓ کی نگاہیں حضرت علیؓ بن ابی طالب کی جانب اُٹھیں۔ آپ نے اصرار کرنے والوں کو دوٹوک انداز میں فرمایا:’’مجھے سربراہ نہ بنائیں۔ میں تمھارے لیے امیر کی نسبت وزیر کی حیثیت سے زیادہ بہتر ثابت ہوں گا‘‘۔ صحابہؓ نے اصرار کیا تو فرمایا:’’اگر آپ مصر ہیں تو پھر جان لیں کہ چپکے سے نہیں، میری بیعت کرنا ہے تو مسجد جا کر بیٹھتا ہوں مشورے اور اہل اسلام کی رضامندی کے بعد ہی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بالاجماع سب نے آپ کی بیعت کی۔ خود حضرت عثمانؓ کے انتخاب کے وقت بھی، ان کے بعد سب سے زیادہ آرا حضرت علیؓ ہی کے لیے تھیں۔

بظاہر ان چاروں خلفاے راشدین کے لیے طریق انتخاب مختلف رہا، لیکن سب نے اسلامی تعلیمات کی بنیادی روح، یعنی آزادانہ راے اور شورائیت کی اعلیٰ مثالیں پیش کیں۔ ان سب قدسی نفوس نے ہمیشہ خود کو عوامی عدالت میں پیش کیا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے الفاظ میں کہا: ’’میں آپ کا ذمہ دار بنایا گیا ہوں لیکن تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر اللہ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کریں اور اگر غلطی کروں تو میری اصلاح کردیں‘‘۔ اس ضمن میں صحابہ کرامؓ  اس قدر دوٹوک اور بیدار تھے کہ ایک خاتون نے بھی راہ چلتے خلیفۂ راشد کو روک کر کہا: آپ نے کیسے یہ فرمان جاری کردیا کہ خواتین کے لیے حق مہر کی رقم ایک متعین حد سے زیادہ نہیں ہوسکتی حالانکہ خود قرآن کریم ڈھیروں کے ڈھیر مہر ہوسکنے کا ذکر کرتا ہے ۔ عمرفاروق رضی اللہ عنہ وہ خلیفہ تھے کہ کئی مواقع پر ان کی راے کی توثیق خود وحی الٰہی نے کی تھی۔ آپ چند لمحے سوچ کر بولے: أَصَابَت اِمرَأَۃٌ وَ أَخطَأَ عُمَر( ایک خاتون کی راے درست ہے اور عمر کی راے غلط)۔ حق مہر کی رقم محدود کردینے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ پورا دور خلافت راشدہ آزادیِ راے اور حقیقی جمہوریت کی ایسی لاتعداد مثالوں سے درخشاں ہے۔ رسول اکرمؐ نے بھی اس درخشندہ دورِ خلافت راشدہ کی بشارت دیتے ہوئے اسے انسانیت کے لیے رول ماڈل قرار دیا تھا۔ ’’آپ نے مختلف فتنوں سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’آپ لوگوں میں سے میرے بعد جو زندہ رہا، وہ معاشرے میں بہت سارے اختلافات دیکھے گا۔ ایسے میں آپ لوگ میری اور میرے بعد آنے والے سراپا ہدایت خلفاے راشدین کی سنت کی پیروی کیجیے گا۔ اسے مضبوطی سے تھامے رکھیے گا‘‘۔ (صححہ الالبانی)

۱۴۳۶ سالوں پر مشتمل تاریخ شاہد ہے کہ اس پورے عرصے میں جو معاشرہ جتنا جتنا اس سرچشمہء خیر سے قریب رہا، اتنا ہی کامران ہوا۔ شورائیت، احترامِ آدمیت، امانت اور عدل و رحمت کے اس درست ترین پیمانے سے جو بھی او رجتنا بھی دُور ہوا اتنا ہی برباد و بے آبرو ہوتا چلا گیا۔ تاریخ کے تمام ادوار اور زندگی کے باقی تمام ابواب ایک طرف رکھ کر، ہم اگر عہد حاضر کے مختلف نظام ہاے حکومت ہی پر نگاہ دوڑائیں، تو صرف وہی نظام سرخرو ثابت ہوگا کہ جس میں ان بنیادی اسلامی تعلیمات کی روح کارفرماہوگی۔ شورائیت، احترامِ آدمیت، امانت اور عدل و رحمت کا نظام رائج ہو تو غیر مسلم معاشرے بھی امن و خوش حالی کی اعلیٰ مثالیں بن کر دنیا کے سامنے آنے لگتے ہیں۔

  •  اسلامی تحریکوں کی جدوجھد: دورِ حاضر میںاللہ تعالیٰ نے اسلامی تحریکات کو یہ توفیق بخشی کہ وہ خود بھی اسی اسوۂ نبویؐ اور دورِ خلافت راشدہ پر عمل پیرا ہوں اور معاشرے کو بھی اسی راہ پر چلانے کی کوشش کریں۔ گذشتہ صدی میں سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اور امام حسن البناؒ کے ہاتھوں دوعظیم الشان تحریکات کی بنیاد رکھی گئی۔ دونوں تحریکات کا نظام دیکھیں تو ہزاروں میل کی مسافت ہونے اور دونوں میں کوئی رابطہ نہ ہونے کے باوجود،دونوں میں ایک معجزاتی مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ دونوں تحریکات مکمل شورائیت پر کارفرما ہیں۔ سمع و طاعت کے عظیم نظام کے باوجود امیر یا مرشدِ عام مکمل طور پر اپنی مجلس شوریٰ کی پابندی کرتے ہیں۔ دونوں تحریکات میں کسی وراثتی نظام کا شائبہ تک نہیں۔ سید مودودیؒ اور امام البناؒ کے بعد آنے والی قیادت کا ان سے دُور دُور تک کوئی وراثتی رشتہ ناتہ نہیں ہے۔ دونوں تحریکات میں امانت، شفافیت اور خود احتسابی کا ایسا نظام نافذ ہے کہ دشمن بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ دونوں تحریکات تمام تر علاقائی، لسانی یا فرقہ وارانہ تعصبات سے پاک اور پوری اُمت کو جسد و احد کی صورت دیکھتی ہیں۔ دونوں تحریکیں دینِ اسلام کو محدود اور ظاہری رسوم نہیں زندگی کے تمام گوشوں پر محیط مکمل ضابطہء حیات سمجھتی ہیں۔ کسی حملہ آور یا قابض دشمن سے نبرد آزما ہونا ہو، تو دونوں تحریکوں نے فلسطین، کشمیر، مشرقی پاکستان اور افغانستان میں جہاد و قربانی کی بے مثال تاریخ رقم کی۔ امام حسن البناؒ کو شہید ہی اس لیے کیا گیا کہ انھوں ۱۹۴۸ میں    سرزمین قبلۂ اول پر قبضہ کیے جانے اور وہاں نام نہاد اسرائیلی ریاست بنائے جانے کی پُرزور مخالفت کی تھی۔ کشمیر میں سید علی گیلانی اور ان کے تحریکی ساتھی وہاں کے عوام کے اصل ترجمان ہیں۔ غزہ میں آج بھی تحریک حماس ہی آزادی اقصیٰ کے لیے کوشاں سب سے بڑی قوت ہے۔

دوسری جانب جب آزاد اور پُرامن معاشروں میں اسوۂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر چلتے ہوئے اسلامی ریاست قائم کرنے کی بات ہو تو یہ تحریکیں مکمل طور پہ پُرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں۔  ان کی قیادت اور کارکنان کو پھانسیوں پر چڑھادیا گیا اور چڑھایا جارہا ہے۔ ان کے کارکنان پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا۔ مصر، شام، بنگلہ دیش اور یمن سمیت کئی ممالک میں آج بھی ان تحریکوں کے ایک لاکھ سے زائد کارکنان جیلوں میں عذاب و اذیت سہ رہے ہیں، لیکن کسی بھی جگہ انھوں نے دل و دماغ پر دعوت کی دستک دینے کے بجاے، بم دھماکوں یا اپنے مخالفین کو ذبح کردینے کی بات نہیں کی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے تین نکات کی صورت دوٹوک اصول واضح کردیے:

۱- آپ اس ملک میں اسلامی نظام زندگی عملاً قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہے۔

۲-آپ جس ملک میں کام کررہے ہیںوہاں ایک آئینی و جمہوری نظام قائم ہے اور اس نظام میں قیادت کی تبدیلی کا ایک ہی آئینی راستہ ہے: انتخابات۔

۳- ایک آئینی و جمہوری نظام میں رہتے ہوئے تبدیلی قیادت کے لیے کوئی غیر آئینی راستہ اختیار کرنا شرعاً آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔

اور پھر فرمایا: ’’ان تین حقیقتوں کو ملا کر جب آپ غور کریں گے توبالکل منطقی طور پر وہی نتیجہ نکلے گا جو قرارداد میں بیان کیا گیا ہے۔ آپ انتخابات میں آج حصہ لیں یا ۱۰،۲۰،۵۰ برس بعد، بہرحال اگر آپ کو یہاں کبھی اسلامی نظام زندگی قائم کرنا ہے تو راستہ آپ کو انتخابات ہی کا اختیار کرنا پڑے گا‘‘۔

رب ذو الجلال کی مشیت ان اسلامی تحریکات کو ایک اور طرۂ امتیاز عطا کرتی ہے۔ مصر، شام، بنگلہ دیش، فلسطین یا ترکی و یمن کی جیلیں ہوں یا وہاں کے پھانسی گھاٹ اور عقوبت خانے، جتنا جتنا ان تحریکات کو کچلنے کی کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے، ان تحریکات کو اللہ نے مزید قوت و اہمیت عطا کی ہے۔ وہ تحریک جسے مصر اور پاکستان ہی میں نابود کرنے کی کوشش کی جارہی تھی، آج نہ صرف پورے عالم اسلام بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی مضبوط و توانا وجود رکھتی ہے۔ ۱۹۴۹ء میں امام حسن البناؒ کو شہید کرکے ساری تحریکی قیادت جیلوں میں بند کردی گئی۔ جیلوں اور شہادتوں کا یہ سلسلہ تب سے لے کر آج تک جاری ہے۔ ۲۰۱۱ء میں پہلی بار اخوان کو برسرِاقتدار آکر قوم کی رہنمائی و نمایندگی کا موقع ملا تو ساری دنیا نے دیکھا کہ وہ جو ہزاروں کی تعداد میں جیلوں میں گئے تھے، اب صرف مصر میں ان کی تنظیمی افرادی قوت ۲۰ لاکھ سے متجاوز ہے۔ تقریباً یہی عالم دیگر مسلم ممالک میں ہے۔

ترکی میں ملّی نظام پارٹی، ملّی سلامت پارٹی، رفاہ پارٹی اور پھر فضیلت پارٹی پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ لیکن آج ان پابندیوں اور گرفتاریوں کا شکار رہنے والی قیادت ہی ترکی میں اصلاح و استحکام کی شان دار مثالیں قائم کررہی ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی نے کبھی انتخابی نتائج میں     وہ سرخروئی حاصل نہیں کی تھی، جو جیلوں میں رہ کر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حاصل کی ہے۔    خاکم بدہن بہت ممکن ہے کہ یہ پرچہ آپ تک پہنچنے تک علی احسن مجاہد ( سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی بنگلہ دیش) کی شہادت کی روح فرسا خبر بھی پہنچ جائے، لیکن پیچھے رہ جانے والوں سے زیادہ،    ان آگے جانے والوں کو یقین ہے کہ ان کی یہ قربانیاںبالآخر شورائیت پر مبنی حقیقی جمہوریت کے قیام کی بنیاد بنیں گی۔ رہ گئیں ان کی قربانیاں، تو دنیا میں ہر آنے والے کو بہرحال واپس جانا ہے، اور شہادت کی سعادت کے لیے خود رسولِؐ رحمت اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ تمنا اور دُعائیں کرتے رہے۔

یہ حقیقت بھی کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں رہنی چاہیے کہ مادر پدر آزاد معاشروں کی مغربی جمہوریت اور سر پہ ’حاکمیت اعلیٰ‘ کا تاج سجائے مسلمان ممالک کے تصورِ جمہوریت میں ایک جوہری فرق ہے۔ مغربی ممالک کا جمہوری نظام اس حوالے سے یقینا باعث رشک ہے کہ اس میں اب بھی کرپشن، دھاندلی،ہارس ٹریڈنگ، غنڈا گری اور جعل سازی کا عنصر قدرے محدود ہے، جب کہ مصر، بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے ممالک میں یہ سب خرابیاں اور انتخابات لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔  لیکن ان سب مفاسد کے باوجود مسلم ممالک، اپنی مجالس شوریٰ، یعنی ایوان ہاے اسمبلی کے ذریعے اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہنے کے پابند ہیں۔ مثال کے طور پہ کوئی مسلم معاشرہ اہل مغرب کی طرح اس بہیمیت و حیوانیت کی سطح تک گرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ عورتوں کی عورتوں اور مردوں کی مردوں سے شادی کو جائز و ممکن قرار دینے جیسے جرائم کا ارتکاب کرسکے۔ اصل سوال البتہ یہ ہے کہ مروجہ نظام راے دہی، یعنی انتخابی عمل کی خامیوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟

افسوس ناک امر یہ ہے کہ جب اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی تو نظام سے زیادہ خود اپنی اور اپنے معاشرے کی خامیاں سامنے آئیں گی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سکھایا تھا: نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ، ہم تیرے نافرمان ہر شخص کی اطاعت کا قلاوہ اتارنے اور اسے چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں‘‘۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے تھے: ’’جس نے کسی فاجر کو اپنا ذمہ دار چنا تو وہ بھی اسی کی طرح کا فاجر ہے‘‘۔

 امام غزالی احادیثِ نبویؐ کی روشنی میں فرماتے ہیں: ’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ دنیا کے بغیر دین پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اور دین جڑواں چیزیں ہیں۔ دین اصل اور اقتدار نگہبان ہے۔ جس عمارت کی اصل و بنیاد نہ ہو، وہ ڈھے جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو وہ ضائع ہوجاتا ہے‘‘۔ امام احمد بن حنبل نے کہا تھا’’اگر میری ایک ہی دُعا قبول ہونی ہوتی تو میں وہ دُعا حکمران کی اصلاح کے لیے کرتا‘‘۔ لیکن اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا دعوے دار ہمارا معاشرہ صرف آپ کی ولادت و بعثت و ہجرت اور مختلف صحابہ کرامؓ کی شہادت کے ایام منانے ہی کو دین کی اصل معراج قرار دیتا ہے۔ انتخاب و اقتدار کو محض ایک کھیل تماشا، اور مفادات کی غلیظ جنگ بنادیا گیا ہے۔ اس پوری جدوجہد کو دینی فریضہ اور عبادت سمجھنے والوں کی اکثریت بھی اس کے تقاضے پورے کرنے کے بجاے اپنے محدود دائرے میں مخصوص سرگرمیوں پر اکتفا کرکے خود کو بری الذمہ قرار دیے بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت اور آپؐ کی سراپا عمل و جہاد حیاتِ طیبہ کا ذکر تو کرتے ہیں، لیکن خود آپؐ کے نقوش پا کی پیروی کرنے کا مرحلہ آئے تو صرف طفل تسلیوں سے دل بہلاتے ہیں۔ ان کا زیادہ وقت اخبارات، ٹی وی کے تبصروں، باہمی پسند و ناپسند اور گروہ بندیوں اور افراد کی غلطیوں کی بنا پر پوری تحریک کو مطعون کرتے ہوئے مایوسی پھیلانے کی نذر ہوجاتا ہے۔

بعثت کا اعزاز ملنے کے بعد سے لے کر وصال تک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لمحوں کے لیے بھی اس فریضے کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔مکہ والوں میں سے کوئی ایک بھی فرد ایسا نہ چھوڑا جس تک آپ نے اپنی دعوت نہ پہنچائی۔ قریبی شہروں میں بھی تشریف لے گئے اور مکہ آنے والے ایک ایک قافلے اور قبیلے کے پاس جاکر انھیں اس قافلہء حق میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ بالآخر ایک شب یثرب کے چھے مبارک نفوس ابتدائی قبولِ دعوت کے بعد واپس چلے گئے۔ اگلے برس موسم حج میں وہ دُگنے (۱۲) ہوکر آئے۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ ہوئی۔ اس سے اگلے برس (۷۵) (چھے گنا سے بھی زیادہ) ہوگئے۔ آپ نے ان کے ۱۲ نقیب مقرر کرکے گویا انھیں ۱۲ ذیلی تنظیموں کی لڑی میں پُرو دیا۔ چند ہی ماہ بعد پورا یثرب آپؐ اور آپؐ  کے ساتھیوں کے استقبال کی تیاریاں کرنے لگا۔ اور پھر ایک وقتیَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا  کا منظر نصیب ہوگیا۔

آج ہمارا کام تو نسبتاً آسان ہے۔ ہم نے کسی کو اس کے دینِ آبا سے نکال کر دائرۂ اسلام میں داخل نہیں کرنا۔ ہم نے انھیں صرف حقیقت ِاسلام بتانی اور یاد دلانی ہے۔ خصوصی طور پر قرآن کی چار بنیادی اصطلاحوں دین، عبادت، رب اور الٰہ کا حقیقی مفہوم بتانا ہے۔ رسولؐ و بتولؓ کے جگرگوشے نے اپنے ناناؐ کی قائم کردہ اور خلفاے راشدین کی امانت اسلامی ریاست اور نظامِ حکومت کی حفاظت کی خاطر، کربلا میں جو عظیم قربانی پیش کی تھی، اس کے اصل مقصد سے آشنا کروانا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے بھی یزید کے ہاتھ پر بیعت نہ کرکے اس کے حق میں اپنا ووٹ دینے سے انکار ہی تو کیا تھا۔ آج ہمیں اپنے معاشرے اور اس سے پہلے خود کو یہ فرمانِ الٰہی یاد دلانا ہے کہ  وَلَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ o(ھود۱۱: ۱۱۳)’’ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے‘‘۔

ہم نے اپنے حصے کا یہ کام کرلیا، بلااستثنا معاشرے کے ہر فرد تک پہنچنے اور انھیں قافلۂ حق میں شریک کرنے کا آغاز کردیا تو ان شاء اللہ بہت جلد ایک اور فرمانِ الٰہی ہمیں بشارت دے رہا ہوگا: وَ کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ o(الروم۳۰: ۴۷) ’’اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں گے‘‘۔

جاں نثار صحابی حضرت خباب بن الأرتّ نے رات کے پچھلے پہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے تابانہ دُعائیں دیکھیں تو تڑپ کر پوچھ ہی لیا: ’’یا رسولؐ اللہ! آج تو لگتا ہے خصوصی دُعا ہوئی ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ ہمیں اس طرح (کسی عذاب) سے ہلاک نہ فرمائے کہ جیسے گذشتہ قومیں ہلاک کی گئیں۔ اللہ نے میری دُعا قبول فرمالی۔ میں نے دُعا کی کہ ہم پر ہمارے دشمن کو غالب نہ رہنے دے۔ اللہ نے میری یہ دُعا قبول فرمالی۔ پھر میں نے اپنے رب سے دُعا کی کہ ہمیں باہم دشمن گروہوں میں نہ تقسیم کردے مگر میری یہ دُعا قبول  نہ کی گئی‘‘۔ رب ذو الجلال کا فیصلہ تھا کہ اس نے ہمیں باہم اختلافات کے ذریعے آزمانا ہے اور    اسے معلوم تھا کہ ہم نے اس آزمایش میں ناکامی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اس نے اپنے حبیب کو بھی اس کی اطلاع دے دی۔ یہ حدیث اور ایک دوسرے موقعے پر ارشاد کیا گیا یہ فرمان کہ ’’عنقریب  تم لوگوں پر اقوام عالم یوں جھپٹیں گی جیسے بھوکے کسی دسترخوان کی طرف لپکتے ہیں‘‘ کو دیکھیں تو عالمِ اسلام کا حالیہ نقشہ واضح طور پر سامنے آجاتا ہے۔

ایک طرف گذشتہ ۱۵ سال سے جاری ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر مکمل   تباہ کاری ہے۔ امریکی سرپرستی میں عالمی فوج کشی تمام قانونی و اخلاقی پابندیوں سے بے نیاز ہے۔ اس ضمن میں گوانتا نامو، ابو غریب اور ڈاکٹر عافیہ کی مثال ہی کافی ہے۔ دوسری طرف تقریباً ہرمسلمان ملک میں فتنوں کا وہ طوفان ہے کہ ایک بند باندھیں ۱۰۰ بند ٹوٹتے ہیں۔ دین، عبادت اور جہاد جیسے مقدس الفاظ کو دہشت اور خوں ریزی کی مہیب علامت بنادیا گیا ہے۔ مسلک اور فرقہ بندی اصلِ دین قرار دی جارہی ہے۔ کتنے ایسے مسلمان ملک ہیں کہ جن کے شہری، شیعہ یا سنی کو صہیونی درندوں سے زیادہ بڑا دشمن قرار دیتے ہیں۔ کتنے ایسے ملک ہیں کہ جہاں سفاک جنرل سیسی، درندہ صفت بشار الاسد اور قاتل حسینہ واجد جیسے ننگِ انسانیت حکمران اپنے ہی شہریوںکو پیوند خاک کررہے ہیں۔

تین سالہ معصوم شامی بچے عیلان عبد اللہ کی سمندر میں تیرتی تصویر تو صرف ایک استعارہ ہے۔ ۱۵ مارچ ۲۰۱۱ کے بعد سے پورا شام خون کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ عیلان عبداللہ کی تصویر شائع ہونے کے بعد یورپ کی طرف بھاگتے تباہ حال شامی مہاجرین کا بھی ایک مختصر سا گوشہ ہی عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بن سکا ہے، وگرنہ اس وقت ایک کروڑ ۲۰لاکھ سے زائد شامی عوام مختلف مہاجرین کیمپوں میں موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہاں اس بات کا اعتراف و اظہار ضرور کرنا چاہیے کہ بعض یورپی ممالک مثلاً جرمنی، کسی حد تک فرانس اور قدرے تردد کے بعد برطانیہ نے ان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھولنے کا اور اربوں ڈالر کے بجٹ کا ’اعلان‘ کیا ہے۔ لٹے پٹے مہاجرین سیکڑوں کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد ان ممالک میں پہنچے تو لباس و غذا کے سٹال لگاکر ان کا استقبال کیا گیا اور اُمید کی جارہی ہے کہ یہ مہاجرین مستقبل میں بھی وہاں بہتر مواقع حاصل کرسکیں گے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان چند ہزار مہاجرین کو پناہ ملنا یا نہ ملنا ہی اصل مسئلہ ہے؟ تین سالہ عیلان کی تیرتی لاش سے پہلے اسی بحیرہ روم میں ۲۸۰۰ شامی مہاجرین ڈوب چکے ہیں، ان میں سیکڑوں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔ عالمی برادری اور اس کا فعال میڈیا کیوں اندھا بنارہا؟ ہمارے اپنے بعض وہ عزیز کالم نگار جو جرمنی کی چانسلر کے لیے ’خالہ میرکل! شکریہ‘ کی تختیاں سجا رہے ہیں، ترکی میں پناگزیں ۲۰ لاکھ سے زائد، لبنان اور اُردن میں ۲۵ لاکھ سے زائد اور سعودی عرب میں ۲۵ لاکھ اور خود شام کے اندر بے گھر ۸۰ لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کے بارے میں ایک بھی حرف ہمدردی کیوں تحریر نہیں کرپائے؟ ترکی نے ان مہاجرین سے حسن سلوک کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ تمام سرکاری انتظامات کے علاوہ اس نے اعلان کیا ہے کہ جو شہری ان مہاجرین کو اپنے گھروں میں پناہ دیں گے، ان کے لیے بجلی پانی کے بلوں اور ٹیکس میں تخفیف کی جائے گی۔ سعودی عرب جہاں ۱۰ لاکھ سے زائد یمنی مہاجرین بھی آچکے ہیں اور جہاں اقامتی ویزوں کا حصول ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، وہاں ان شامی و یمنی مہاجرین کوویزوں کی تجدید اور کفیل کی بندش سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ لیکن کبھی ان کا ذکر خیر تک نہیں کیا جاتا بلکہ انھیں مسلسل مخالفانہ مہم کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

ترکی یا سعودی عرب کا قصیدہ کہنا مقصود نہیں، لیکن عرض یہ کرنا ہے کہ جب شامی پناہ گزینوں کا ذکر ہو تو صرف یورپی ممالک کے گیت نہ گائے جائیں ان مسلمان ملکوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیجیے جو اس ضمن میں کوئی بھی ادنیٰ کوشش کررہے ہیں۔ اس حقیقت کا ذکر بھی کیا جائے کہ ہنگری، آسٹریا، سلوواکیا اور یونان سمیت متعدد یورپی ریاستوں میں ان مہاجرین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جارہا ہے۔ ہنگری نے ان لٹے پٹے مہاجرین کا راستہ روکنے کے لیے طویل آہنی باڑ قائم کرکے وہاں خونخوار کتے چھوڑ دیے ہیں۔ اسی طرح آسٹریا کی موٹروے پر شامی مہاجرین کی لاشوں سے بھرا ہوا ایک پورا کنٹینر دریافت ہوا اور ان ’انسانیت دوست‘ یورپی ممالک کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سلوواکیا نے بأمر مجبوری مہاجرین کی محدود تعداد وصول کرنے کا  اعلان کیا بھی تو کہا ’’وہ صرف مسیحی مہاجرین کو آنے کی اجازت دیں گے‘‘۔ واشنگٹن پوسٹ سمیت مغربی پریس میں شائع ہونے اور مختصر عوامی احتجاج کے باوجود عملاً یہ پالیسی جاری ہے۔ یہ منظر بھی    بیان کرنا چاہیے کہ کس طرح ہنگری کی ایک خاتون صحافی ان ہانپتے کانپتے مہاجرین کو ’دولتیاں‘  رسید کررہی تھی۔ جب کیمروں کی زد میں آگئی تو اس کے ادارے نے اسے برطرف کردیا، لیکن اگلے ہی روز برطانیہ میں ایک دوسرے ادارے نے ملازمت دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی۔

دوسری اور بنیادی بات یہ کہ شامی مہاجرین کا مسئلہ گمبھیر اور الم ناک ہونے کے باوجود اصل مسئلہ نہیں ہے۔ نہ آیندہ دو سال کے دوران ہی ایک لاکھ ۲۰ ہزار مہاجرین کو یورپ میں پناہ دینے کے اعلان سے یورپ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔ اصل مسئلہ شامی درندے بشار الاسد سے وہاں کے عوام کو نجات دلانا ہے، ۱۹۷۰ء سے جس کا خاندان شام میں اپنے ہر مخالف سے حقِ حیات سلب کررہا ہے۔ امریکی سرپرستی میں یورپی ممالک بھی شامی عوام کے حق میں زبانی جمع خرچ تو خوب کررہے ہیں، لیکن بشار اور جنرل سیسی جیسے قاتلوں کو عوام پر مسلسل مسلط رکھنے میں بھی سہیم ہیں۔ ایک مثال سے ان ملکوں کے زبانی جمع خرچ کا اندازہ لگا لیجیے۔ امریکا نے بشار الاسد سے عوام کو نجات دلانے کے لیے انھیں فوجی تربیت دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ ۱۵ ہزار معتدل فکر رکھنے والے نوجوانوں کو تربیت اور اسلحہ دیا جائے گا۔ گذشتہ ۸ ماہ میں ان ۱۵ ہزار میں سے صرف ۵۴؍افراد کو تربیت دی گئی اور اس پر ۲۳ ملین امریکی ڈالر یعنی ۲ ارب ۴۰ کروڑ روپے خرچ دکھائے گئے۔ ان تربیت یافتہ افراد کے سربراہ عمار الواوی نے ڈیلی ٹیلی گراف کو خصوصی انٹرویو میں یہ اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ اگر اسی رفتار اور اس حساب سے تربیت دی گئی تو ۱۵ہزار افراد کے لیے ۳۸ سال کا عرصہ اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔الواوی نے یہ شکوہ بھی کیا کہ امریکی ذمہ داران نے ہمیں دشمن کے سامنے تنہا چھوڑ دیا۔ اطلاع دینے کے باوجود کوئی امریکی جہاز ہماری مدد کو نہ آیا اور ہمارے پانچ ساتھی مارے گئے، باقیوں کو فرار ہوکر پناہ لینا پڑی۔ اخراجات اور عملی اقدام کی بعینہ یہی صورت داعش کے خلاف اعلان جنگ کی بھی ہے۔ عربی محاورے کے مطابق جَعجَعَۃ وَ لاَ طَحِین، ’’چکی کا شور بہت ہے، آٹا چٹکی بھی نہیں‘‘۔

یہ صرف ایک تجزیہ ہی نہیں، سامنے دکھائی دینے والی اور خود ان کی اپنی دستاویزات سے ثابت حقیقت ہے کہ وہ بشار جیسے درندوں کو بھی باقی رکھنا چاہتے ہیں اور مخصوص مسلح تنظیموں کو بھی۔  ان دونوں کے خلاف جنگ کے نام پر پورے خطے کو مسلسل خوں ریزی میں مبتلا کرکے اس کے شکار مسلمان ملکوں کا خون نچوڑنا چاہتے ہیں۔ شام کوایران کا اور یمن کو سعودی عرب کا افغانستان بنانے کی باتیں علانیہ کی جارہی ہیں۔ امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کی منکشف ہوجانے والی دستاویزات کے مطابق اس عمل کو ’بھڑوں کے چھتے‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جس میں خونی ڈکٹیٹر شپ کے علاوہ خطے میں ایسے شدت پسند گروہ پیدا کرنا اور باقی رکھنا شامل ہے، جو اسلامی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے اپنے علاوہ سب کو مرتد قرار دیں۔ ان کا خون بہاتے رہیں اور پڑوس میں واقع اسرائیل محفوظ رہے۔ اسی حکمت عملی کی تصدیق صہیونی وزیر دفاع موشے یعلون اور اسرائیل کے ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عاموس یدلین نے بھی محدود افراد کے ایک سیمی نار میں کی ہے، جو صہیونی اخبارات میں شائع ہوگئی کہ ’’داعش اسرائیل کے لیے کوئی براہِ راست یا حقیقی خطرہ نہیں۔ اس کی عسکری قوت حماس کی قوت سے آدھی بھی نہیں ہے‘‘۔

زمینی حقائق اور دستاویزی ثبوتوں کے باوجود ہمیں اصل شکوہ امریکا، یورپ یا صہیونی دشمن سے نہیں ہونا چاہیے۔ وہ ہماری ہی کمزوریوں، حماقتوں اور جرائم کو اپنی مرضی کا رُخ دیتے اور انھیں اپنے مفادات کے تابع بناتے ہیں۔ شام، عراق اور مصر میں جتنا خون خود مسلمانوں نے ایک دوسرے کا بہایا اور بہا رہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ان کے دشمنوں نے نہیں بہایا۔ شام میں گذشتہ ساڑھے چار برس کے دوران میں ۳ لاکھ سے زائد بے گناہ عوام موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی تیزی سے جاری ہے۔ چند ہفتے قبل دمشق کے پڑوس میں واقع ’دوما‘ پر بشار کے ایک ہی حملے کے نتیجے میں ۳۰۰ افراد شہید ہوگئے۔ الغوطۃ الشرقیۃ پر حملے سے ایک ہی روز ۴۰۰ افراد شہید ہوگئے جن میں ۸۳ بچے اور ۲۰ خواتین بھی شامل تھے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ایک ہی روز قتل کردیے جانے والوں کے اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو گاہے یہ تعداد ہزار سے تجاوز ہوجاتی ہے۔

روسی ریچھ اب اس معرکے میں براہِ راست اتر آیا ہے۔ اس نے نہ صرف بشار الاسد کو بے پناہ اسلحہ دیا ہے بلکہ اپنے اعلیٰ عسکری مہارت رکھنے والی افراد بھی شام بھیجے ہیں۔ ستمبر کے پہلے ہفتے میں بشار افواج کو ’ابوالظہور‘ فوجی ائیرپورٹ پر بڑی ہزیمت اُٹھانا پڑی تو اس پر قبضہ کرنے والوں نے وہاں سے نہ صرف شامی فوجی افسر بلکہ روس اور ایران کے ماہرین بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ خود روسی خبررساں ایجنسی ’گازیٹا رو‘ کے مطابق روسی فوجیوں کو دھوکے سے شام بھیجا گیا ہے۔ ایجنسی کی تحقیق کے مطابق ۱۷؍ اگست کو ان فوجیوں کے لیے احکام جاری ہوئے کہ وہ فوجی بندرگاہ ’نوورو سیسک‘ پہنچیں، وہا ں سے انھیں ایک انتہائی خفیہ کارروائی کے لیے بھیجا جانا ہے۔    وہ اسے یوکرائن جانے کا خفیہ حکم سمجھتے رہے، بعد میں ان پر عقدہ کھلا کہ انھیں شام بھیجا جارہا ہے۔ اب ایسے فوجی جنھیں شام بھیجنے پر قائل کرنا بھی ممکن نہیں تھا اور جو اپنے افسروں سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ ’’ہم بشار کی خاطر جانیں کیوں دیں؟‘‘ شام میں بھلا کیا کارنامہ انجام دے سکیں گے؟ لیکن روسی صدر پوٹین اس وقت روس کو پھر سے بڑی عالمی قوت ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ شرق اوسط میں شام اب اس کا آخری ٹھکانا ہے۔ اسے بشار کی پشت پر کھڑا رکھنے میں ایران کا بھی واضح اور بھرپور کردار ہے۔ ایسے وقت میں کہ جب شام میں بشار الاسد صرف ۲۰ فی صد علاقے میں محصور  رہ گیا ہے روس کا یہ اقدام اس کے لیے مفید ہوسکے گا یا نہیں؟ لیکن یہ امر طے شدہ ہے کہ شام اور عوام کی مزید تباہی اور ہلاکتیں ہوں گی۔

شام ہی نہیں عراق بھی خوف ناک تباہی کے بعد اب ایک نئے آتش فشاں کے دھانے پر آن کھڑا ہوا ہے۔ سابق وزیراعظم نوری المالکی اور اس کے وزرا نے نہ صرف ملکی تباہی اور مسلکی منافرت کا ایجنڈا خوف ناک انداز سے آگے بڑھایا، بلکہ لوٹ مار اور کرپشن کے بھی نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اس کے باوجود پہلے کئی ماہ تک اسے دوبارہ وزیراعظم بنوانے کی کوشش کی گئی، اس میں ناکامی کے بعد اسے نائب وزیراعظم بنوادیا گیا۔ لیکن اب خود وزیراعظم حیدر العبادی اور ان کی حامی شیعہ جماعتیں اس کی کرپشن کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ گذشتہ اڑھائی ماہ سے ہر جمعے کے روز بہت بڑی تعداد میں عراقی عوام اس کے خلاف مظاہرے کرتے اور کرپٹ ٹولے کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم حیدر العبادی نے مالکی کو ہٹاکر اس کے خلاف عدالتی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ اس ضمن میں بغداد میں ہونے والا ایک قومی اجلاس بالخصوص نزاع کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس میں ساری مرکزی عراقی شیعہ قیادت جمع ہوئی اور ان کے ساتھ عراق میں موجود ایرانی جنرل قاسم سلیمانی صاحب بھی علانیہ شریک ہوئے۔ عراقی سیاست کا رخ طے کرنے کے لیے ہونے والے اجلاس میں اہم ایرانی جنرل کی شرکت کی تصاویر نے عراق میں ایرانی نفوذ کے مخالف عناصر کو بھرپور لوازمہ فراہم کیا۔ اگلے ہی ہفتے کربلا میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے بڑے اجتماع میں عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ مرجع آیت اللہ سیستانی کے نمایندے عبدالہادی کربلائی نے ان کا پیغام سناتے ہوئے ’کرپشن کے خلاف جنگ‘ میں عراقی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔

واشنگٹن میں ’نئے مشرق وسطیٰ‘ کے موضوع پر ہونے والی ایک حالیہ کانفرنس میں سی آئی اے کے سربراہ نے کہا تھا ’’عراق اور شام کے عوام اب خود کو اپنے ملک کے نام سے نہیں اپنے قبیلے، مسلک اور علاقے کی بنیاد پر متعارف کرواتے ہیں۔ ان کامزید کہنا تھا ’’میرا خیال ہے کہ آیندہ دو یا تین عشروں میں شرق اوسط کا نقشہ اس کے حالیہ نقشے سے یکسر مختلف ہوگا‘‘۔ نئے شرق اوسط کے پرانے امریکی نقشوں میں خطے کی تقسیم نو ہی نہیں، ان نئی ریاستوں کو باہم متحارب رکھنا بھی شامل ہے۔ گویا عراق میں ایک نئی شیعہ ریاست بنانا ہی مطلوب نہیں، فارسی شیعہ ریاست سے عرب شیعہ ریاست کا تصادم مقصود ہے۔ اللہ کرے کہ عراق میں جاری حالیہ سیاسی کش مکش تقسیم در تقسیم کے اس بیرونی خواب کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنے۔ وگرنہ حالات کا دھارا اس قدر ہولناک ہے کہ ہر آنے والے دن اسی مسلکی جنگ پر تیل چھڑک رہا ہے۔ عراق اور شام سے باہر خلیجی ریاستوں میں بھی آئے روز ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ جن کا انجام کسی صورت مثبت نہیں ہوسکتا۔ کبھی کویت سے ’حزب اللہ کے مسلح خفیہ سیل‘ کا انکشاف ہوتا ہے۔ کبھی بحرین سے اتنی مقدار میں اسلحہ پکڑا جاتا ہے کہ وزیرداخلہ کے بقول اس سے پورا دارالحکومت تباہ ہوجاتا۔ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے جاری ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سوشل میڈیا اور یورپ سے چلنے والے ٹی وی چینلوں کے ذریعے صحابہ کرامؓ، امہات المومنینؓ اور اہل بیت کے بارے میں وہ غلیظ زبان استعمال کی جارہی ہے کہ کوئی حلیم سے حلیم مسلمان بھی سن کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

مصر اور یمن کی صورت حال ایک الگ مفصل جائزے کی محتاج ہے لیکن وہاں بھی موت کا بھوت مسلسل تباہی پھیلا رہا ہے۔ مصر میں اپنے عوام کو بلاتردد قتل کرنے کی خوگر مصری فوج نے گذشتہ دنوں میکسیکو کے ۱۲ سیاح قتل کردیے تو مغرب میں کچھ احتجاج ہوا۔ میکسیکو کی وزیر خارجہ  نے قاہرہ جاکر جنرل سیسی سے تاوان طلب کیا تو اسے بھی زبانی معذرت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ فوج نے ان شہریوں کو دہشت گرد سمجھ کر غلطی سے ماردیا۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی بحران چل رہا ہے وگرنہ مصر میں ۴۰ ہزار سے زائد بے گناہ جن کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور جن میں سے ۲۸۹ افراد اب تک جیلوں کے اندر تشدد اور بیماریوں سے موت کی وادی میں اُتر چکے ہیں، کے حقوق کے بارے میں کسی مغربی یا مشرقی ملک کو ادنیٰ سروکار نہیں ہے۔

یمن میں البتہ کچھ مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ پورے ملک پر قابض ہوجانے والے باغی حوثی قبائل کو کئی محاذوں پر واضح شکست کا سامنا ہے۔ یمن کا دوسرا بڑا شہر عدن ان سے مکمل طور پر خالی کروالیا گیا ہے اور تحریک اسلامی یمن کے ایک فعال نوجوان کو اس کا عبوری اختیار سونپا گیا ہے۔ اب دارالحکومت صنعاء کو ان باغیوں سے واگزار کروانے کی کارروائی جاری ہے۔ کاش! یہ باغی پورے ملک پر قبضہ نہ کرتے۔ کاش! سابق ڈکٹیٹر علی عبد اللہ صالح ۳۳ سالہ اقتدار پر اکتفاکرتے ہوئے، یمنی عوام سے انتقام لینے کی آگ نہ بھڑکاتا۔ اور کاش! ایران جیسا اہم برادر ملک ان باغیوں کی مدد نہ کرتا۔ لیکن اب تو وہاں پانی سر سے گزر چکا۔ اللہ کرے کہ یمن سمیت تمام ملکوں میں نفرت، انتقام اور تعصب کے بجاے امن، حکمت اور انصاف کا علم اُٹھانے والے آگے بڑھ سکیں۔

اب ایک جانب یہ سب قتل و غارت اور ڈکٹیٹر شپ کی لعنت ہے اور دوسری جانب اُمت کے قبلۂ اول کے خلاف کھلی صہیونی جارحیت عروج پر ہے۔ صہیونی ریاست اب مسجد اقصیٰ پر قبضے کی جانب ایک اور خوف ناک قدم اُٹھا چکی ہے۔ یہ حرم اقصیٰ کو تقسیم کرنے اور وہاں یہودی عبادت گاہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کا مکمل منصوبہ ہے۔ مسجد اقصیٰ کو اوقات اور جگہ کے اعتبار سے تقسیم کرنے کے اس عمل میں جمعے کے روز فلسطینی مسلمانوں کو محدود تعداد میں مسجد اقصیٰ جانے کی اجازت ہے، جب کہ ہفتے کا روز مکمل طور پر یہودیوں کے لیے کھلا ہوگا۔ اس کے علاوہ روزانہ صبح ۷ بجے سے ۱۱بجے تک بھی حرم اقصیٰ مسلمانوں کے لیے ممنوعہ اور یہودیوں کے لیے کھلا ہوگا۔ مسلمانوں کے لیے صرف مسجد کے اندر کا علاقہ مخصوص ہوگا، جب کہ حرم کا باقی پورا علاقہ یہودیوں کے لیے ہوگا۔

محصور و مقہور فلسطینی مردوزن مسجد اقصیٰ میں اوقات و اماکن کی اس تقسیم کو روکنے کے لیے گذشتہ کئی ماہ سے مسجد کے اندر معتکف ہوکر بیٹھے ہیں۔ ان معتکفین کو صہیونی قابضین نے دہشت گرد قرار دے دیا ہے اور اب ان ’دہشت گردوں سے مقابلے‘ کے لیے ’صہیونی سورما‘ ان پر حملہ آور ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش پا سے مزین مسجد اقصیٰ میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ ۱۹۶۹ء میں مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کی ناپاک جسارت ہوئی تھی، تو پوری مسلم دنیا میں کہرام مچ گیا تھا۔ او آئی سی کی تنظیم اسی موقعے پر وجود میں آئی تھی۔ لیکن آج ہم ڈکٹیٹرشپ، اس کے مکار سرپرستوں، خوارج کے وحشی وارثوں اور اپنے ہی بھائیوں کے خون سے ہولی کھیلے جانے کے نتیجے میں چرکے سہہ رہے ہیں۔ مسلم دنیا کو معلوم ہی نہیں کہ مسجد اقصیٰ پر کیا بیت گئی۔ آج اگر اُمید ہے تو دشمن کے بارے میں یکسو ان سچے مجاہدین سے ہے، جو اقصیٰ اور اس کے گردونواح میں برسرِ پیکار ہیں۔ ڈھارس ہے تو آغاز میں بیان کی گئی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبول ہوجانے والی اس دُعا سے ہے کہ ’’پروردگار ہمارے دشمنوں کو ہم پر حاوی نہ رہنے دے‘‘۔

ناجائز صہیونی ریاست نے بھی بہرحال معدوم ہوناہے۔ شیخ احمد یاسین کا یہ الہامی جملہ اہل فلسطین کو ہمیشہ فعال رکھتا ہے کہ ’’میں ۲۰۲۷ کے بعد دنیا کے نقشے پر اسرائیل نام کی ریاست کا وجود نہیں دیکھتا۔ اللہ نے اپنے اس شہید بندے کی بات کی لاج رکھ لی تو یہ نہ صرف فلسطین بلکہ اس کے پڑوسی ممالک بالخصوص شام، عراق اور مصر میں بھی جوہری تبدیلی کی پیامبر ہوگی۔

’’۹ مئی ۲۰۱۴ء کو ہماری نسبت طے ہوئی۔ شادی ہوئی تو میں نے پہلے ہی روز معاذ سے کہا کہ میں نے ایسے جیون ساتھی کے لیے دعا کی تھی جو مجھے اپنے ساتھ جنت لے جائے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے جنت لے کر جائیں گے۔ شہادت سے کئی ہفتے قبل انھوں نے مجھے کہا کہ ہم دونوں روزانہ قرآن کریم کے ۱۰صفحات تلاوت کیا کریں گے، تاکہ اکٹھے ختم قرآن کیا کریں۔ شہادت کے روز بھی فجر کے وقت معاذ نے مجھے جگایا اور کہا کہ آج مجھے ایک آپریشن کے لیے بھیجا جارہا ہے۔ میں نے ابھی دو رکعت نماز شہادت بھی ادا کرلی ہے اور اللہ سے یہ دُعا بھی کی ہے کہ کسی بے گناہ مسلمان کا خون میرے سر نہ آئے‘‘۔ یہ الفاظ اُردنی ایئر فورس کے اس پائلٹ معاذ الکساسبہ کی بیوہ کے ہیں، جسے چند ماہ پہلے داعش نے آہنی پنجرے میں کھڑا کرکے، زنجیروں سے جکڑ کر زندہ جلا دیا تھا۔ جلانے کے اس پورے عمل کو فلمایا اور وسیع پیمانے پر پوری دنیا میں دکھایا گیا۔

عراق اور شام میں ’اسلامی ریاست‘ (داعش) کے قیام کا دعویٰ کرنے والے اپنے مخالفین کو قتل کرنے کے لیے آئے روز کوئی نہ کوئی نئی صورت ایجاد کرتے ہیں۔ جانوروں کی طرح ذبح کرنے کے واقعات تو اب ہزاروں میں ہیں۔ ان ذبح شدہ انسانوں کے سروں کی نمایش کرنا بھی اب معمول کی بات ہے۔ اس کے علاوہ کبھی کسی زندہ انسان کو بلند عمارت سے سر کے بل پھینک کر قتل کرنا، کسی کو پنجرے میں بند کر کے سمندر میں ڈبو دینا، کسی کی گردن کے ساتھ بارودی مواد  باندھ کر اُڑا دینا… غرض یہ کہ ایک سے بڑھ کر ایک خوف ناک طریقہ ایجاد کیا جاتا ہے۔ پھر انتہائی مہارت سے اس کی فلم بنائی اور دنیا کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ اپنے زیرقبضہ علاقوں میں بڑے بڑے ابلاغیاتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ علاقے کے لوگوں کو وہاں آنے کا حکم دیا جاتا اور  قتل و تعذیب کے سارے مناظر دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اصل بدقسمتی یہ ہے کہ مارنے والے بھی  ’اللہ اکبر‘ کہہ رہے ہوتے ہیں اور قتل ہونے والے بھی، اکثر لوگ کلمۂ شہادت ادا کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو رہے ہوتے ہیں۔ بعض غیرمسلموں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے، لیکن ان کی تعداد ہزاروں میں سے چند درجن ہی بنتی ہے۔

مسلمانوں کو قتل کرنے سے پہلے ان کے مرتد ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ارتداد کی وجہ اکثر وبیش تر ان کا بیعت سے انکار یا ’باطل نظام‘ کا حصہ دار اور دشمن کا ایجنٹ ہونا بتایا جاتا ہے۔ اب تو اس کام کے لیے اعلانِ عام کردیا گیا ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں داعش کا ایک نوجوان ہرمسلمان کو ترغیب دیتا ہے کہ:’’ اسلامی ریاست کے علاوہ تمام حکومتیں باطل پر مبنی ہیں۔ اس کے کارپردازان بالخصوص فوج اور پولیس کے ملازمین کو قتل کر کے ہمارے پاس آجائو ہم تمھیں پناہ دیں گے‘‘۔ اس طرح کے پیغامات سے متاثر ہوکر مختلف کارروائیاں کرنے والوں کی تعداد بھی اب کافی ہوچکی ہے۔ حالیہ عیدالفطر کے چاند کا اعلان ہونے کے چند گھنٹے بعد سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کیا گیا۔ حملے سے پہلے حملہ آور نے اپنے سگے ماموں  راشد ابراہیم الصفیان کو قتل کر دیا کیونکہ وہ سعودی فوج میں اعلیٰ افسر تھا۔

افسوس کہ والا شب ِ عید اپنے سگے بھانجے کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔ پھر گذشتہ آٹھ برس سے صہیونی فوجوں اور جنرل سیسی کے ہاتھوں محصور اہلِ غزہ کے خلاف اعلانِ جنگ میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم عنقریب غزہ آرہے ہیں۔ اگر کسی نے مزاحمت کی تو وہاں خون کے دریا بہہ جائیںگے‘‘۔

ریاض شہر کے سابق الذکر واقعے کے بعد وہاں داعش یا دیگر مسلح تنظیموں سے تعلق کے شبہے میں ۵۰۰ کے قریب افراد گرفتار کرلیے گئے۔ اس واقعے کی خبر اسرائیلی اخبارات میں ملاحظہ کیجیے: ’’غزہ میں موجود داعش کے ذمہ داران نے خبردار کیا ہے کہ ہم ریاض میں ہونے والی گرفتاریوں کا بدلہ لیں گے‘‘۔ یہ خبر ۱۹جولائی کو شائع ہوئی اور ۲۰جولائی کی صبح غزہ میں حماس اور جہاد اسلامی کے ذمہ داروں کو نشانہ بناتے ہوئے پانچ بم دھماکے ہوگئے۔ ممکن ہے کہ یہ دھماکے داعش نے نہ کیے ہوں، لیکن ان کے بیان کے بعد ہرشخص کا ذہن سب سے پہلے ادھر ہی جاتا ہے۔

داعش کے بارے میں دنیا میں ہر طرف بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ بظاہر ساری دنیا اس کی دشمن دکھائی دیتی ہے۔ امریکی سربراہی میں ۴۰ ممالک نے اس کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کررکھی ہے۔ ۵۵۰؍ارب ڈالر اس جنگ کا بجٹ رکھا گیا ہے، لیکن شام کے مختلف علاقوں پر قبضے کے بعد جنوری ۲۰۱۴ء میں اچانک عراق کے وسیع علاقوں پر قابض ہونے، اور اپنی ریاست کا اعلان کرنے سے لے کر اب تک اس کے علاقوں، افرادی قوت اور اسلحے میں اضافہ ہی ہوا ہے، کوئی کمی نہیں ہوئی۔ جدید ترین اسلحے اور گاڑیوں کی نمایش کئی کئی فرلانگ لمبے جلوسوں کی صورت میں کی جاتی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک ایک گاڑی اور ایک ایک جھونپڑی کو ڈرون حملوں سے اُڑا دینے والے امریکا کو دشمن کا یہ طویل جلوس اور نمایش کبھی دکھائی نہیں دیے۔

اس بارے میں، میں مزید حقائق تلاش کر رہا تھا کہ عراق سے الاخوان المسلمون کے ایک بزرگ اور مرکزی رہنما نے ہاتھ سے لکھا، اپنا تجزیہ مطالعے کے لیے ارسال کیا۔ اس تجزیے کے  اہم نکات اور خلاصہ پیش خدمت ہے: ’’سوویت یونین کے خاتمے (اکتوبر ۱۹۱۷ئ- دسمبر ۱۹۹۱ئ) کے بعد امریکی پالیسی ساز اداروں کے لیے اپنا کوئی نیا دشمن ایجاد کرنا ضروری تھا۔ واشنگٹن نے ’اسلامی بنیاد پرستی‘ اور ’اسلامی دہشت گردی‘ کے نام پر دشمن ایجاد کرلیا۔ وسیع تر مشرق وسطیٰ کو جس میں افغانستان، پاکستان، ایران، خلیجی ریاستوں اور تمام اہم عرب ممالک سے لے کر ترکی تک سب ممالک شامل تھے، اس نئے دشمن کے خلاف جنگ میں ناکامی یا کامیابی کا اصل پیمانہ قرار پایا۔ بعض اہم ممالک میں عرب بہار اور اس کے نتیجے میں سیاسی اسلام (یعنی اسلامی تحریکوں) کی کامیابی سے امریکا کو اپنے مفادات خطرے میں پڑتے دکھائی دیے۔ گذشتہ صدی کے آغاز میں سایکس پیکو (۱۹۱۶ئ)، سان ریمو (۱۹۲۰ئ) اور لوزان (۱۹۲۳ئ) معاہدوں کے مطابق خطے کی تقسیم میں مزید ترمیم کا فیصلہ پہلے ہی کیا جاچکا تھا۔ اب اس نقشے میں رنگ بھرتے ہوئے تقسیم در تقسیم کا نیا مرحلہ شروع کر دیا گیا۔ اکتوبر ۲۰۰۱ء میں شروع کی جانے والی جنگ افغانستان ابھی عروج پر تھی کہ مارچ ۲۰۰۳ء میں عراق میں بھی فوجیں اُتار دی گئیں۔ تمام تر مذہبی اور نسلی فتنہ پردازیوں اور ۲۰۰۶ئ،۲۰۰۷ء میں بدترین خانہ جنگی کے بعد امریکا نے اس جنگ کو کسی منطقی نتیجے تک پہنچائے بغیر وہاں سے نکلنے کا اعلان کردیا۔ اس عرصے میں تمام عالمی رپورٹوں کے مطابق عراق دنیا کی ناکام ترین ریاستوں میں سرفہرست آگیا‘‘۔

عراقی رہنما مزید لکھتے ہیں: ’’داعش مختلف مواقع اور واقعات کی روشنی میں مسلسل توانا ہوتی چلی گئی۔ عراق میں امریکی فوجوں کی آمد کے بعد اصل مزاحمت وہاں کی اہلِ سنت آبادی کر رہی تھی۔ امریکا اور عراق کی شیعہ حکومتوں نے اہلِ سنت آبادی سے انتقام لینے کے لیے ’القاعدہ‘ کا نام استعمال کیا۔ لیکن پھر جب اہلِ سنت آبادی نے اکثر علاقوں سے ’القاعدہ‘ کا تقریباً صفایا کردیا تو اس موقعے پر مختلف فرضی کارروائیوں کے ذریعے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانے لگا، مثلاً ابوغریب اور تکریت جیل سے قیدیوں کو رہا کروا کر لے جانا۔ پھر اچانک بغداد کے بعد عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر بآسانی داعش کا قبضہ ہوگیا۔ اتنا بآسانی کہ خود داعش کو بھی اس پر حیرت ہوئی۔ عراقی وزیراعظم نوری المالکی اور اس کی حکومت داعش کے اس قبضے کے ذریعے اہلِ سنت آبادی سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ داعش نے کسی مزاحمت کے بغیر تین سے چار سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرلیا۔ اہلِ سنت اکثریتی آبادی کے شہر انبار کے گورنر کا کہنا ہے کہ میں عراقی وزیردفاع، فضائیہ کے سربراہ اور فوجی آپریشنز کے انچارج سے رابطہ کر کے انھیں داعش کا راستہ روکنے اور کوئی کارروائی کرنے کا کہتا رہا، لیکن انھوں نے چپ سادھے رکھی۔ موصل شہر کے سیکورٹی چیف نے واضح طور پر کہہ دیا کہ داعش کے سامنے مزاحمت کیے بغیر پسپا ہوجانے اور اپنا اسلحہ وہیں چھوڑ جانے کا حکم براہِ راست عراقی وزیراعظم کی طرف سے ملا ہے‘‘۔ عراقی اخوان رہنما نے اس تجزیے میں مستقبل کی ممکنہ صورتوں پر بھی تفصیلی بات کی ہے جن سب کا نچوڑ یہی ہے کہ خطے میں یہ سب شروفساد ’منظم انتشار‘ نامی امریکی منصوبے کا حصہ ہے۔ طے شدہ اہداف اور ضروریات کے مطابق مختلف مہروں کو استعمال میں لایا جاتا رہے گا۔ ان کے خلاف جنگ بھی لڑی جائے گی اور انھیں باقی بھی رکھا جائے گا اور بالآخر پورے خطے کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔

اس موقعے پر ایک صہیونی مضمون نگار عوفرہ بانجو کی تحریر بعنوان: ’کردستان اور داعش نئے علاقائی نقشہ گر‘ کا حوالہ بھی اہم ہے۔ لندن سے شائع ہونے والے عرب روزنامے’ العربی ۲۱‘ میں اس کا مکمل ترجمہ شائع ہوا ہے۔اس کی تحریر کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ: ’’عراق اور شام اب کبھی ماضی کے عراق اور شام نہیں بن سکیں گے۔ اب بغداد حکومت، کردستان اور داعش کی ایک گنجلک تکون مستقبل کا نقشہ تشکیل دے گی‘‘۔ عوفرہ اس امرپر بھی اظہار اطمینان کرتا ہے کہ داعش اور اس کی شدت پسندی نے عراق، کردستان اور شام میں سیاسی اسلام (یعنی الاخوان المسلمون ) کے اثرونفوذ میں خاطر خواہ کمی کی ہے۔

اسرائیلی تجزیہ نگار کے مطابق کردستان کو موجودہ صورت حال میں جو اہم نقصان ہوا، وہ یہ ہے کہ اس کی آزادی (یعنی علیحدگی) کے لیے مجوزہ ریفرنڈم میں تاخیر ہو رہی ہے، لیکن اس کے مقابل اسے دو اہم فوائد ملے ہیں۔ ایک یہ کہ اسی ہنگامے کے دوران اس نے تیل کے ان اہم علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے جو بغداد کسی صورت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ داعش کی سفاک شناخت کے مقابل کردستان ایک مہذب اور انسان دوست ریاست کی حیثیت سے اُبھرا ہے۔ داعش لوگوں کو غلام اور ان کی خواتین کو باندیاں بنارہا ہے اور کردستان لاکھوں مہاجرین کو پناہ دے رہا ہے۔

اسرائیلی تجزیہ نگار اس امر پر بھی اطمینان آمیز حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ بہت سے کام جو ملکوں کی باقاعدہ افواج انجام نہیں دے سکیں، مسلح ملیشیا انجام دے رہی ہیں۔ اس موضوع پر گذشتہ مارچ کے ماہنامہ المجتمع میں ایک مضمون شائع ہوا تھا کہ استعماری اور جارح افواج   کس طرح اپنے مقبوضہ علاقوں میں خود وہیں سے ایسی عوامی تحریکیں کھڑی کرتی ہیں کہ جو اپنے    ہم وطنوں اور ہم مذہب افراد کو دشمن افواج سے بھی زیادہ سفاکیت سے تہِ تیغ کرتی ہیں۔   فرانسیسی فاتح نپولین نے مصر پر قبضہ کیا تو ’یعقوب المصری‘ نامی غدارِ ملّت اور اس کی تحریک کی سرپرستی کی۔ الجزائر پر فرانسیسی قبضہ کرتے ہوئے ’الحرکیون‘ نامی تحریک شروع کروائی گئی۔    ۱۹۶۲ء میں الجزائر آزاد ہوا تو فرانسیسی جنرل ڈیگال نے ان کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہتک آمیز جملہ کہا: ’’یہ لوگ تاریخ کا ایک کھلونا تھے، محض ایک کھلونا‘‘۔ ویت نام میں امریکیوں نے ’اسٹرے ٹیجک بستیوں‘ کے نام سے ۱۶ہزار خائن بستیاں تیار کیں۔

عراق اور شام ہی نہیں خطے کے کئی ممالک میں اس وقت یہی کھیل جاری ہے۔ بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ مسلم ممالک میں ہرجگہ تقریباً ایک ہی نسخہ آزمایا جا رہا ہے اور ہم دیکھتے بھالتے دشمن کے بچھائے جال میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ ایسی فضا میں ہر ملک یا گروہ اپنے اپنے دشمنوں پر وہی لیبل لگانا شروع کر دیتا ہے جس کے خلاف راے عامہ تیار کی گئی ہو۔ اس وقت اخوان کو شام اور عراق میں داعش نے اپنی سنگین کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے لیکن جنرل سیسی، بشارالاسد اور حوثی قبائل سمیت بہت سے لوگ کمال بددیانتی سے اخوان ہی کو داعش کا سرپرست قرار دے رہے ہیں۔ عیدالفطر کے تین روز بعد ترکی کے سرحدی شہر سروج میں خودکش حملہ کرکے داعش نے۳۱شہری شہید کردیے اور دوسری طرف ترک صدر طیب ایردوان کے مخالفین انھیں مسلسل داعش کا مددگار قرار دے رہے ہیں۔دشمن ایجاد کرنے کی جو بات آغاز میںگزری، وہ طویل عرصے تک عالمِ اسلام میں اپنے زہرآلود پھل دیتی رہے گی۔ امریکا، اسرائیل اور آمر حکمرانوں کو اپنے لیے یہی صورت حال مثالی اور مطلوب دکھائی دیتی ہے۔ جابر حکمران چونکہ خود بھی ایک عارضی مہرہ ہوتے ہیں، اس لیے انھیں حتماً اور جلد اس ظلم کا انجام دیکھنا ہوگا، لیکن امریکا اور اسرائیل جو اس پوری فتنہ گری میں خود کو محفوظ و مامون سمجھ رہے ہیں، خود بھی یقینا اپنے انجام کو پہنچیں گے کہ یہی قانونِ فطرت ہے۔

عالمِ اسلام کے لیے اصل راہِ نجات قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوئہ حسنہ ہے۔ آپؐ کی اُمت کو رب ذوالجلال نے اُمت ِ وسط، یعنی راہِ اعتدال پر چلنے والی اُمت قرار دیا ہے۔ کسی بھی انتہا کا شکار ہو جانا اس کے لیے موت کا پیغام ہے۔ آج اگر ایک طرف اسلام کی تمام بنیادی اصطلاحات: جہاد، اسلامی ریاست، اسلامی خلافت، امیرالمومنین، خلیفۃ المسلمین، حتیٰ کہ قرآن کریم اور رسولِؐ رحمت کو مذاق و استہزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف جہاد، شریعت، اسلامی حدود اور قوانین کو اپنے ہرمخالف کا صفایاکردینے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بزعم خود امیرالمومنین کی بیعت سے انکار کو ارتداد اور ہرمرتد کو قابلِ گردن زدنی قرار دیا جا رہا ہے۔خود یہ امر بھی انتہائی باعث ِ حیرت ہے کہ اس کے تمام تر ظلم و ستم کا اصل نشانہ خود مظلوم مسلمان ہی بنتے ہیں۔ شامی آمر بشارالاسد جیسا درندہ اور اس کی فوج ان سے محفوظ رہتی ہے، لیکن اس سفاک درندے سے برسرِپیکار مظلوم عوام اور ان کی مزاحمتی تحریک کو وہ چُن چُن کر موت کے گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔ غزہ کے محصور و بے کس عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں، صہیونی ناجائز ریاست کے بارے میں کچھ نہیں فرماتے۔

انبیاے کرام ؑ کے بعد محترم ترین ہستیوں، یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں بھی کچھ لوگ راہِ اعتدال سے ہٹ کر ایسی ہی انتہا پسندی کا شکار ہوگئے تھے۔ اُمت انھیں ’خوارج‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ وہ بھی اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ (یوسف ۱۲:۴۰)جیسی لازوال حقیقت سے روشنی حاصل کرنے کے بجاے، اپنے علاوہ سب کو مرتد قرار دینے جیسی ہلاکت کا شکار ہوگئے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کے الفاظ میں کلمۂ حق کہہ کر اس سے مراد باطل لیتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ: ’’ان کی تلاوت، ان کی نمازوں اور ان کے روزوں کے سامنے تمھیں اپنی تلاوت، اپنی نمازیں اور اپنے روزے کم تر دکھائی دینے لگیں گے۔ لیکن وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ قرآنِ کریم ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترا ہوگا۔ وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے‘‘۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے: ’’وہ اہلِ اسلام کو قتل کرتے اور اہلِ اوثان کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘۔ بالآخر ان کی کج فہمی اور ’زعم تقویٰ‘ نے انھیں ایک ہی شب حضرت معاویہ ، حضرت علی اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم جیسی جلیل القدر ہستیوں تک کو شہید کرنے پر آمادہ کر دیا۔

اُمت کی بدقسمتی یہ ہے کہ صدیوں پرانے اس فتنے کو جس کے پیچھے سراسر منافقین اور یہودیوں کی دسیسہ کاری شامل تھی، آج بھی اپنی تباہی کا ذریعہ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ شیعہ سُنّی یا خوارج کی اصطلاحیں صرف کسی مخصوص گروہ ہی کا نام نہیں بلکہ ایک مخصوص ذہنیت اور طریق کار کا نام بھی ہے۔ آج کا عالمِ اسلام بُری طرح اس تقسیم کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ جلتی پر تیل کا کام نسلی، لسانی، علاقائی اور سیاسی تعصبات سے لیا جا رہا ہے۔ عراق اور شام کا خونی نقشہ اب یمن تک پھیل چکا ہے۔ القاعدہ کے بعد داعش اور بعض مغربی دستاویزات کے مطابق داعش کے بعد کوئی اور ایسی تنظیم سامنے لائی جانا ہے، جس کے سامنے داعش کا نام بھی ہلکا لگنے لگے۔ کاش! کہ ہم سب کسی نہ کسی تعصب کا شکار ہوکر خود کو دھوکا دینے کے بجاے صرف اور صرف حق و انصاف کا ساتھ دینے والے بن جائیں۔ ظلم کرنے والا خواہ بشارالاسد ہو یا جنرل سیسی، داعش ہو یا باغی حوثی قبائل، ہم میں سے کوئی ان کی حمایت یا دفاع نہ کرے۔ مظلوم خواہ کویت یا سعودی عرب کی کسی امام بارگاہ میں مارا جائے یا عراق و یمن کی کسی مسجد میں، اللہ ہمیں ہمیشہ اس مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑا دیکھے۔ بے گناہ قیدی مصر کی جیلوں میں ہوں یا فلسطین، بنگلہ دیش، کشمیر،اراکان اور افغانستان کے زندان خانوں میں ہمیں ان کی آزادی کے لیے ہر دروازے پر دستک دینا ہوگی۔ ایسا نہ ہوا تو خدانخواستہ ایک روز سب ہی کو ایسے روزِ بد دیکھنا پڑ سکتے ہیں والعیاذ باللّٰہ۔

۱۶ جون کو اکثر مسلمان ممالک میں شعبان کی ۲۹ تاریخ تھی، رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کا دن۔ بدقسمتی سے عین اسی روز کچھ بدنصیب اپنا نام مزید ظلم و ستم ڈھانے والوں میں لکھوا رہے تھے۔ قاہرہ کی عدالت میں ملک کے منتخب صدر محمد مرسی اور اخوان کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سمیت اخوان کے درجنوں قائدین جمع تھے اور انھیں ایک بار پھر سزاے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جارہی تھیں۔ حالانکہ کمرۂ عدالت میں انصاف کرنے کا حکم دینے والی آیت قرآنی بھی جلی حروف میں لکھی تھی، لیکن مصر کے جج، احکام الٰہی کے نہیں، ’مصری فرعون‘ کے احکام پر عمل کے پابند ہیں۔ سب سزا یافتہ اپنے اپنے پیشہ ورانہ میدان کے شہ دماغ ہیں۔ صدر محمد مرسی انجینیرنگ میں پی ایچ ڈی، مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع میڈیکل یونی ورسٹی کے پروفیسر، نائب مرشد عام خیرت کامرس میں پی ایچ ڈی اور عالم عرب کے چوٹی کے ۱۰۰ کامیاب ترین ماہرین اقتصادیات میں سے ایک۔یہی نہیں بلکہ درجنوں کی تعداد میں یہ سب نابغہء روزگار دلوں میں قرآن بسائے، دن رات قرآن کی صحبت میں گزارنے والے حفاظ کرام بھی ہیں۔

تمام سزا یافتگان نے فیصلہ سن کر تکبیر تحمید اور تہلیل بلند کی، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد لااِلٰہ اِلَّا اللّٰہ۔ صدر محمد مرسی ایمان افروز خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:’’ ان سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو خود تمھاری موت جب آئے اُسے ٹال کر دکھا دینا۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے، اُس پر خوش و خرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیامیں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔(ایسے مومنوں کے اجر کو) جنھوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسولؐ کی پکار پر لبیک کہا___ ان میں جو اشخاص نیکو کار اور پرہیز گار ہیں ان کے لیے بڑا اجر ہے___ جن سے لوگوں نے کہا کہ ’’تمھارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو‘‘، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ’’ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے‘‘۔ آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے، ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انھیں حاصل ہوگیا، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ اب تمھیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خوامخواہ ڈرارہا تھا۔ لہٰذا آیندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سے ڈرنا، اگر تم حقیقت میں صاحبِ ایمان ہو‘‘(اٰل عمرٰن ۳:۱۶۸-۱۷۵) ۔ محمد مرسی نے تلاوت مکمل کی تو پورا کمرۂ عدالت ایک بار پھر اس آیت سے گونج اُٹھا: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُo  (الِ عمرٰن ۳:۱۷۳) ۔پورے خطاب کے دوران، ظالم جج شرمندگی سے سرجھکائے بیٹھے رہے، جب کہ سزاے موت کا حکم سننے والے یہ قائدین تمتماتے چہروں کے ساتھ سرخرو تھے۔ ان میں سے کئی بزرگ کہہ رہے تھے: ’’سب نے اپنے اپنے مقررہ وقت پر یقینا جانا ہے۔ ہم نے تو اسی موت کے لیے ۴۰سال انتظار اور جدوجہد کی ہے‘‘۔

اللہ کی قدرت ملاحظہ ہو کہ اسی کمرۂ عدالت میں اسی چیف جج نے چند روز قبل بھی ان رہنماؤں کو سزاے موت سنائی تھی۔ اس وقت اس کے دائیں طرف ایک کرخت چہرے والا جج (جمال عبدہ) بیٹھا تھا۔ سزا سنانے کے چند روز بعد ۱۳ جون کو کمرۂ عدالت میں بیٹھے بیٹھے ہی اس کی حرکت قلب بند ہوئی اورسامنے کھڑے اللہ والوں کو دھڑا دھڑ موت کی سزا سنانے والا، خود ان سے پہلے اللہ کی عدالت میں حاضر کردیاگیا۔ اس سے پہلے ۱۹ مارچ کو بھی اسی طرح کے ایک حیرت انگیز واقعے میں ایک جج احمد سعد کا دل ڈوبا، اور وہ دنیا سے کوچ کرگیا۔ یہ وہی جج تھا جس نے موت سے تین ہفتے قبل تحریک حماس کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ رب ذو الجلال کی بے آواز لاٹھی اور اس کی قدرت ملاحظہ کیجیے کہ یہ سطور لکھتے ہوئے ٹی وی پر تازہ ترین خبر چل رہی ہے: ’’مصری صوبے دَمَنہور کا چیف جسٹس حازم الکحیلی اب سے پانچ منٹ پہلے ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگیا، حادثہ اتنا شدید اور عجیب تھا کہ جج کا سرتن سے کٹ کر دور جاگرا۔ یہ جج بھی اخوان کے کئی بے گناہ اللہ والوں کو سزائیں سنا چکا ہے۔ان میں ۱۷ سالہ معصوم طالبہ سارہ رضوان بھی شامل ہے، جسے اکتوبر ۲۰۱۴ء میں اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا، اور دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگا کر جیل بھیج دیا گیا تھا۔ پروردگار عالم نے فرمایا ہے: اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰیo (النازعات ۷۹:۲۶)’’ اس میں (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے‘‘۔ وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآئِھِمْ مُّحِیْطٌ  o(البروج۸۵:۲۰)’’ اور اللہ نے انھیں گھیرے میں لے رکھا ہے‘‘۔

ظالم حکمران ہیں کہ کسی بھی تنبیہہ سے عبرت حاصل کرنے کو تیار نہیں۔ ۵۲ فی صد مصری عوام کے منتخب صدر کو کئی بار مختلف سزائیں سنانے کے بعد اب سزاے موت کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ۲۱جون کو انھیں عدالت میں لایا گیا تو انھیں پہلی بار سرخ لباس میں لایا گیا۔ کسی قیدی کا سرخ لباس اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اسے کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے۔ صدر محمد مرسی سے پہلے یہ سرخ جوڑا اخوان کے مرشدعام کو بھی پہنایا جاچکا ہے، اور اب ڈاکٹر محمد بلتاجی کو بھی۔ ڈاکٹر بلتاجی کا ایک بیٹا بھی ان کے ساتھ جیل میں بند ہے۔ بیٹی اسماء بلتاجی رابعہ میدان میں شہید کردی گئی تھی اور دوسرا بیٹا لاپتا ہے۔ لیکن سرخ جوڑا پہنے ڈاکٹر بلتاجی عدالت آئے تو چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ سامنے بیٹھے جج کے سامنے کھڑے ہوکر بلندآواز سے کہا: جج صاحب! آپ لوگ ہمیں روزانہ بھی کئی کئی بار پھانسیاں چڑھائو ہم تب بھی کسی صورت تم سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

اخوان کی اولوالعزمی ہے کہ بدترین جبر و تشدد کے دو برس گزر جانے کے بعد بھی ان کی تحریک ختم نہیں کی جاسکی۔ ۳۰ جون سیسی کے خونیں انقلاب کی دوسری سال گرہ بلکہ ’برسی‘ ہے۔ عین ممکن ہے اس موقعے پر سزائوں پر عمل درآمد کردیا جائے لیکن مظلوم قیدیوں سے زیادہ جابر حکمرانوں کو یقین ہے کہ بالآخر ظلم کا انجام بدترین اور عبرت ناک ہوگا، بالکل فرعون کی طرح۔ اس موقعے پر ایک کوشش اخوان کے اندر غلط فہمیاں اور اختلافات پیدا کرنے کی بھی ہورہی ہے۔کچھ جذباتی نوجوانوں کو پُرامن تحریک سے مسلح جدوجہد کی طرف دھکیلنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ لیکن یہ کوششیں بھی کوئی نئی بات نہیں پرانا ابلیسی ہتھکنڈا ہے اور الحمدللہ اخوان اس سے نمٹنا خوب جانتے ہیں۔

   ۷جون ۲۰۱۵ء کو ترکی میں ہونے والے انتخابات کئی حوالوں سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگرچہ حسب سابق حکمران جسٹس پارٹی(AKP) ہی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے سامنے آئی اور اسے ۵۵۰ میں سے ۲۵۸ نشستیں حاصل ہوئیں، لیکن یہ نشستیں تنہا حکومت بنانے  کے لیے درکار تعداد سے ۱۶ نشستیں کم ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے مخالفین کے لیے بس یہی بات شادیانوں کا پیغام لائی ہے۔ وگرنہ پارلیمنٹ میں آنے والی باقی تین پارٹیاں اس سے کہیں پیچھے کھڑی ہیں۔ کمال اتاترک کی جماعت CHP صرف ۱۳۲، جب کہ ترک نیشنلسٹ(MHP)اور  کرد نیشنلسٹ(HDP) صرف ۸۰،۸۰سیٹیں حاصل کرسکی ہیں۔ المیہ ملاحظہ کیجیے کہ حکومت سازی کے لیے درکار تعداد سے ۱۶نشستیں کم ہونے پر بغلیں بجانے والے جانتے ہیں کہ اس کامطلب ملک میں مخلوط حکومت کا قیام ہے۔

حالیہ نتائج آنے کے اگلے ہی روز سے ترکی میں سٹاک مارکیٹ بیٹھنا اور کرنسی کی قیمت کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ۲۰۰۲ء میں طیب اردوان کی پہلی بار جیت سے پہلے، ملک میں لوٹ مار کا جو طویل سفر جاری رہا، اس کا ایک اہم سبب یہ مخلوط حکومتیں ہی ہوتی تھیں۔ ترک تاریخ میں تقریباً ۶۰ مخلوط حکومتوں کا سارا عرصہ حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ اور کرپشن ہی میں  ختم ہوجاتا۔ یہ طیب اردوان کی جسٹس پارٹی ہی تھی، جس نے ملک کو ان دونوںلعنتوں سے نجات دلائی اور ملک میں تعمیر و ترقی کا نیا سفر شروع ہوا۔ ترکی جہاں طیب حکومت آنے سے پہلے ترقی کی شرح منفی ۹تک گر چکی تھی، اب اسی ترکی میں ترقی کی شرح ۹ فی صد سے بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ ترکی اب دنیا کے طاقت ور ترین ممالک کی صف میں جا کھڑا ہوا ہے۔ ایک بار وزیراعظم احمد داؤد اوغلو سے اس کا راز پوچھا گیا تو انھوں نے مختصر دو لفظی جواب دیا:’’امانت و دیانت‘‘۔ طیب اردوان اور ان کے استاد پروفیسر نجم الدین اربکان نے اللہ کی توفیق سے ہمیشہ امانت اور محنت ہی کے ذریعے کامیابیاں حاصل کیں۔

تکلیف دہ امر یہ ہے کہ کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے ترکی کو دوبارہ اسی سیاست کی دلدل میں دھنس جانے پر جہاں اسرائیلی اور صہیونی لابی نے جشن منایا، وہاں بعض مسلم ممالک کے حاکموں نے بھی خوب بغلیں بجائیں۔ ایران اور متعدد عرب ممالک سے لے کر یورپ اور امریکا کے اخبارات، تقریباً سب کی سرخیاں یکساں تھیں:’عثمانی خلافت کا خواب بکھر گیا‘۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس وقت پورے عالم اسلام میں جہاں بھی کسی پر ظلم ڈھایا گیا طیب حکومت وہاں پہنچی۔ میانمار برما سے جان بچاکر نکلنے والے ہزاروں افراد کو پڑوسی مسلم ملک بنگلہ دیش نے تو گولیاں برساکر شہید کردیا یا واپس دھکیل دیا لیکن ترک بحری جہاز ان کی مدد کے لیے پہنچے۔ طیب اردوان اور وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کئی ترک اداروں کو لے کر خود برما پہنچے اور زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی۔ صومالیہ تقریباً نصف صدی سے خانہ جنگی اور قتل و غارت کا شکار ہے، وہاں نہ صرف ترک حکومت کی رفاہی سرگرمیاں عروج پر ہیں، بلکہ وہ وہاں مصالحتی کاوشوں کے علاوہ ان کی اقتصادی حالت بھی بہتر بنانے کی دوررس کوششیں کررہی ہے۔ بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر چڑھائے جانے والے بے گناہ ہوں یا مصر میں منتخب حکومت کے خلاف برپا ہونے والا بدترین خونی فوجی انقلاب، صرف ترکی ہی ان کے خلاف سرکاری اور عوامی سطح پر صداے احتجاج بلند کررہا ہے۔

گذشتہ آٹھ برس سے محصور غزہ کے لیے فریڈم فلوٹیلا ترک تنظیمیں ہی لے کر نکلی تھیں، جس میں ۱۱شہری شہید ہوگئے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اہل غزہ کی مسلسل پشتیبانی کررہے ہیں۔ اس وقت، یعنی دمِ تحریر ایک اور امدادی قافلہ یورپ سے روانہ ہو کر ترکی آرہا ہے، جہاں سے اس ماہ کے اختتام تک وہ دوبارہ غزہ جانے کی کوشش کریں گے۔شام کے ۴۰لاکھ مہاجرین ترکی میں پناہ گزیں ہیں۔ عالمی امدادی ادارے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کررہے۔ پورے کا پورا بوجھ ترکی پر آن پڑا ہے، اور وہ کوئی حرفِ شکایت زبان پر لائے بغیر ان کی مدد کررہاہے۔ عالمی اور علاقائی طاقتیں، ترکی کی مدد کے بجاے اس انتظار میں ہیں کہ ترکی کب اس مالی بوجھ سے گرجاتا ہے۔ لیکن طیب اردوان کاکہنا ہے کہ ہم سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل درآمد کرتے ہوئے انصار و مہاجرین کے مابین مواخات کا یہ سفر جاری رکھیں گے۔

اخوت اور اسلامی یک جہتی کے ساتھ ساتھ طیب حکومت اپنے ملک اور قوم کی ترقی سے بھی قطعاً غافل نہیں۔ انتخابات سے دو روز بعد عالمی بنک کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملکی انفراسٹرکچر کی وسعت و ترقی کے لیے سرکاری اور نجی منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لحاظ سے ۲۰۱۴ئمیں ترکی پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر رہا ہے۔

ایک طرف ہر مظلوم کی مدد کے لیے لپکنے والا یہ غیرت مند ترکی ہے، اور دوسری طرف اپنے عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے والے سفاک حکمران ہیں جو ملکی دولت کو شیر مادر کی طرح ڈکارتے جارہے ہیں۔ ۱۸ جون کو سوئٹزر لینڈ کے اسٹیٹ بنک کی رپورٹ ہی ملاحظہ کرلیجیے کہ صرف ۲۰۱۴ء کے دوران سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں اپنی دولت کے ڈھیر لگانے والوں کی دولت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ بنگلہ دیش جیسے بھوک سے بلکتے ملک سے آنے والے سرمایے میں صرف ایک سال (۲۰۱۴ئ) کے دوران ۵۵ئ۳۶ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سارا پیسہ لوٹ مار ہی کا پیسہ ہوگا۔ بفرض محال لوٹ مار کا نہ بھی ہو تب بھی اس کا اصل مقام سوئٹزر لینڈ کے بنک نہیں،اپنے دیس کے مظلوم عوام ہونے چاہییں۔

لوٹ مار کرنے والے ان حکمرانوں کے مقابلے میں اور ترکی کو ۲۰۲۳ء تک دنیا کا کامیاب ترین ملک بنانے کا خواب دیکھنے والے اردوان میں یہی بنیادی فرق ہے کہ جس کے باعث ایک جہان ان کی دشمنی پر کمر بستہ ہے۔ طیب اردوان یا ان کی جماعت سے یقینا غلطیاں ہوئی ہیں اور مزید ہوسکتی ہیں، لیکن ان پر لگائے جانے والے الزامات میں بھی یقینا بہت مبالغہ آرائی ہے۔ طیب اردوان چند ماہ پیش تر ہی نئے صدارتی محل میں منتقل ہوئے ہیں۔ ان کے کئی بہی خواہ اس محل کی تعمیر کو اسراف سمجھ رہے ہیں۔ اگرچہ طیب اردوان کا کہنا یہ ہے کہ اس کے سیکڑوں کمروں میں علمی تحقیق کے درجنوں مراکز قائم کیے گئے ہیں اور یہ محل، ترقی یافتہ مضبوط ترکی کی علمی، فکری، تہذیبی اور تحقیقاتی ترقی کی ایک علامت بنے گا، لیکن یہ بات پوری طرح منتقل نہ ہوسکی۔

اگرچہ طیب اردوان اور ان کی ٹیم کی بنیادی صفت ہی کرپشن سے محفوظ رہنا ہے، تاہم   ان پر کرپشن کے الزامات نے انھیں بعض مواقع پر مشتعل بھی کیا ہے۔ وہ کرپشن کے بے سروپا الزامات لگانے والے کئی صحافیوں کو بھی عدالت کے کٹہرے میں لائے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان پر صحافت دشمنی کے طعنے بھی کسے گئے ہیں۔ حالیہ نتائج کے بعد پورے نظام اور بالخصوص اپنے ساتھیوں کی کڑی نگرانی، جائزے اور خود احتسابی مستقبل کے کئی طوفانوں کا سدباب کرے گی۔

۲۴ جون کو طیب اردوان نے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کو باقاعدہ طور پر حکومت سازی کی دعوت دی ہے۔ اس کے ۴۵ روز کے اندر اندر انھیں دوسروں کے ساتھ مل کر یا پھر اقلیتی حکومت بنانا ہوگی۔ اقلیتی حکومت کا مطلب ہے کہ حکومت سازی کے لیے مطلوب مزید ۱۶ ووٹ انھیں مل جائیں لیکن وہ حکومت کا حصہ نہ بنیں۔ اگر ایسا بھی نہ ہوسکا تو پھر ملک میں دوبارہ انتخابات ہوں گے۔ بعض تجزیہ نگار تو بہرصورت آیندہ سال کو نئے انتخابات کا سال قرار دے رہے ہیں۔ حکومت اگر اپنی کمزوریوں کا خود جائزہ لے کر ان کی اصلاح کرنے میں کامیاب رہی تو یقینا آیندہ نتائج حالیہ سے مختلف اور بہتر ہوں گے۔

جسٹس پارٹی کی چند سیٹیں کم ہونے کی ایک بنیادی وجہ پہلی بار کسی کرد پارٹی کا پارلیمنٹ میں آنا ہے۔ کرد کئی عشروں سے ناانصافیوں کا موقف لیے مسلح کارروائیوں میںملوث ہوگئے تھے۔ اتاترک نے ان پر ترک قوم پرستی کے کئی طوق مسلط کررکھے تھے۔ بالآخر وہ سیاسی پارٹی کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں آنے میں کامیاب رہے۔ پہلے کرد ووٹ کا تقریباً ۴۰ فی صد جسٹس پارٹی کو ملتا تھا، اس بار وہ سب کرد لہر میں بہ گیا۔ گویا جسٹس پارٹی نے سیاسی حکمت عملی سے کردوں میں اپنی اکثریت کی قربانی دے کر باغی مسلح عناصر کو پرامن سیاسی جدوجہد پر آمادہ کرلیا۔

کرد قوم پرستی کی لہر کتنی شدید ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے: جنرل پرویز مشرف کا زمانہ تھا کہ جب ایک روز ایک ترک خاتون پریشان حالت میں اپنی تین نوجوان بیٹیوں اور ایک بیٹے سمیت پاکستان آئی۔ وہ ایرانی سرحد عبور کرکے بلوچستان میں داخل ہوئی، اسلام اور اسلامی جماعت کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے انھیں جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر پہنچا دیا۔ وہاں کے ساتھیوں نے ان کی بات سن کر ایک ذمہ دار کو ہمراہ بھیجا اور وہ انھیں لے کر مرکز جماعت اسلامی منصورہ لاہور آن پہنچا۔ ہم نے ان کی بپتا سنی تو معلوم ہوا کہ خاتون اور ان کی تینوں بیٹیاں حجاب، یعنی سر پر سکارف رکھنا چاہتی ہیں، لیکن ترک سیکولر قوانین میں اس کی گنجایش نہیں۔ حجاب کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں شرکت کے بعد ان تینوں پر ایسے جھوٹے مقدمات قائم کردیے گئے کہ جن کی سزا موت تک بھی ہوسکتی ہے۔ یہ خاندان جس کے  سر پر کوئی مرد نہیں بچا، اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان آیا ہے۔ محترم قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور سے مشاورت و رہنمائی کے بعد ان کے پاکستان میں رہنے کے لیے انتظامات کردیے گئے۔ مختلف مشکلات و مسائل کے باوجود یہ خاندان تقریباً ڈیڑھ سال پاکستان رہا اور بالآخر ترکی واپس چلا گیا۔ واپس جاتے ہی ماں اور بچیاں گرفتار کرکے جیل بھیج دی گئیں۔ ایک بیٹی اسی دوران اللہ کو پیاری ہوگئی۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ کچھ عرصے بعد ماں اور باقی دونوں بیٹیاں رہا ہوگئیں اور اب خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں۔ طیب اردوان اب ان اور ان جیسی کروڑوں خواتین کے حجاب پر سے پابندیاں ختم کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ان کی اس داستان کے کئی مزید پہلو بہت اہم ہیں، لیکن یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ ہماری یہ باحجاب بہن ہدی کایا حالیہ انتخابات میں رکن پارلیمنٹ بن گئی ہیں اور اصل خبر یہ ہے کہ وہ جسٹس پارٹی نہیں کرد نیشنلسٹ پارٹی کی طرف سے رکن بنی ہیں۔ یہ پارٹی یقینا اسلامی شناخت نہیں رکھتی لیکن اگر ہدی کایا جیسی مجاہد خاتون جو حجاب کی خاطر ہجرت اور اسیری تک برداشت کرتی رہی، جسٹس پارٹی کے بجاے کرد پارٹی میں چلی گئی ہے، تو خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ جسٹس پارٹی کی کم سیٹوں کے پیچھے شیطانی دنیا کے ابلاغیاتی نظام اور دولت کے ڈھیروں کے علاوہ بھی کون کون سے اندرونی عوامل اثر انداز ہوئے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر بلکہ باعث شکر ہے کہ وہی اسمبلی جہاں کبھی ایک باحجاب خاتون مروہ قاوقچی کے منتخب ہوجانے پر بھونچال آگیا تھا، اب وہاں ہدی کایا اور مروہ قاوقچی کی بہن روضہ قاوقچی جیسی ۱۹ خواتین اپنی اسلامی شناخت، یعنی باوقار حجاب کے ساتھ موجود ہیں۔ 

۱۶ مئی کو قاہرہ کا ایک جج، صدر محمد مرسی سمیت ۱۲۴؍افراد کو سزاے موت سناچکا ،تو وکیل کی آواز آئی: جناب ان میں سے کئی افراد تو کئی سال پہلے وفات پاچکے ہیں۔جج نے جواب دیا: ’’تو مجھے کیا لگے‘‘ اور عدالت برخاست کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ’’ججوں کے تین گروہ ہوں گے۔ دو گروہ جہنم اور ایک جنت میں جائے گا۔ جس نے حق جان کر بھی باطل فیصلہ کیا     یا باطل ہی کو حق قرار یا وہ جہنم میں اور حق کے مطابق فیصلے کرنے والا جنت میں جائے گا‘‘۔

ڈیڑھ سال کی نام نہاد عدالتی کارروائی کے بعد اس حیرت ناک فیصلے میں ۱۰۶؍ افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ جنوری ۲۰۱۱ء میں مصری آمر حسنی مبارک کے خلاف جاری تحریک کے دوران انھوں نے ایک جیل پر حملہ کرکے قیدی رہا کروائے تھے، جب کہ ۱۸؍ افراد کو اس الزام میں سزاے موت سنائی گئی کہ انھوں نے فلسطینی تحریک حماس کے ساتھ خفیہ رابطے کرکے ملک کو نقصان پہنچایا۔ اس ’جرم‘ کی سزا پانے والوں میں معروف فلسطینی الصایغ شہیدحسام بھی شامل ہیں، جو حسنی مبارک کے خلاف تحریک سے تین سال پہلے ۲۰۰۸ء میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہوچکے ہیں۔ تیسیر ابو سمیہ بھی ہیں جو ۲۰۰۹ء میں صہیونی بمباری سے شہید ہوگئے تھے، رائد الطیار اور دوسرے دو فلسطینی مجاہد بھی ہیں جو ۲۰۱۴ء میں شہید ہوگئے تھے۔ ایک اور حیرت انگیز نام فلسطینی ہیرو حسن سلامہ کا ہے جو ۱۹ سال پہلے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف ایک کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار ہوگئے اور صہیونی عدالت نے انھیں ۴۸بار عمر قید کی سزا سناائی۔ مصری عدالت نے ۱۹ سال سے اسرائیلی جیل میں قید اس مجاہد کو بھی ۲۰۱۱ئمیں مصر کی وادی النطرون نامی ’جیل توڑنے‘ کا مجرم قرار دے دیا۔

دیگر سزا یافتہ افراد میں حالیہ مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد مرسی بھی شامل ہیں، جنھیں چند ہفتے قبل ایک اور بے بنیاد مقدمے میں ۲۰ سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔اخوان کے مرشد عام پروفیسر ڈاکٹر محمد بدیع بھی شامل ہیں، جنھیں اس سے قبل چار مقدمات میں سزاے موت سنائی جاچکی ہے۔ ان میں سے ایک فیصلے کے تمام مراحل مکمل کرنے کے بعد انھیں ان قیدیوں کا سرخ لباس پہنادیا گیا ہے، جنھیں کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے۔ وہ اب یہی سرخ لباس پہنے، ہنستے مسکراتے عدالت آتے ہیں۔ مصر کی پہلی منتخب اسمبلی کے منتخب سپیکر پروفیسر ڈاکٹر سعد الکتاتنی بھی انھی سزا یافتہ افراد میں شامل ہیں۔ اخوان کے نائب مرشد عام انجینیر خیرت الشاطر اور ۱۶ سالہ شہید بیٹی اور نوجوان اسیر بیٹے کے والد، ملک کے معروف سرجن ڈاکٹر محمد البلتاجی سمیت ۱۲۴ بے گناہوں کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مثالی کردار رکھنے والی شخصیات پر مشتمل ہے۔ حافظ قرآن تو یہ سب ہی ہیں اور دن رات قرآن کے سایے میں گزارتے ہیں۔ سزاے موت پانے والوں میں ۱۹ سالہ صحافی سندس عاصم بھی شامل ہیں، جن کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ فوجی انقلاب کے وقت ایوان صدر کے میڈیا سیل میں ملازم تھیں۔ وہ اس وقت اوکسفرڈ یونی ورسٹی میں اپنی پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کررہی ہیں۔

سزاؤں کے حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر دنیا پر ثابت کردیا کہ جدید فرعون جنرل سیسی اپنے ہر مخالف کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہے۔ جیل توڑنے کا الزام اُمت مسلمہ کے عظیم اسکالر، ۱۵۰سے زائد شہرۂ آفاق دینی کتب کے مصنف ۸۹سالہ علامہ یوسف القرضاوی پر لگاتے ہوئے انھیں بھی سزاے موت سنادی گئی ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نصف صدی سے زائد عرصہ ہوا قطر میں مقیم ہیں۔ المعہد الدینی اور مرکز براے دراسات سیرت و سنت کی تاسیس کرنے اور قطر یونی ورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے بعد وہ اب اپنا زیادہ وقت علمی اور دعوتی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحد کرنے کے لیے انھوں نے ۱۱برس پہلے ایک انٹرنیشنل یونین براے مسلم اسکالرز بھی تشکیل دے رکھی ہے۔ دنیا بھر میں جس کے ہزاروں ارکان ہیں۔

ان تمام بزرگ اور عظیم ہستیوں پر جو من گھڑت الزام لگائے گئے ہیں، وہ اس قدر بے بنیاد ہیں کہ ان کا جواب دینا یا وضاحت کرنا بھی وقت کا ضیاع ہے۔ لیکن یہاں اخوان کی   امن پسندی اور احترام قانون کی عملی مثال سب کے سامنے رہنا چاہیے۔ ۲۵جنوری ۲۰۱۱ء کو    سابق آمر حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی، تو حکومت نے متعدد جیلوں میں خطرناک قیدیوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہوئے متعدد جیلوں سے فرار کروادیا۔ انھیں یہ ہدف دیا گیا کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں میں جاکر غنڈا گردی کا ارتکاب کریں۔ وادی النطرون نامی جیل میں  اس وقت ۱۱ہزار ایک سو۶۱ قیدی بند تھے، جن میں محمد مرسی سمیت اخوان کے کئی قائدین بھی شامل تھے۔ اچانک ایک سہ پہر جیل کی ساری انتظامیہ غائب ہوگئی۔ قیدیوں کے جو اہل خانہ اپنے عزیزوں سے ملاقات کرنے آئے ہوئے تھے، وہ بھی جیل کے دروازے کھول کر اپنے رشتہ دار رہا کرواکے لے گئے۔اخوان کی قیادت اس موقعے پر بھی سب سے مختلف نظر آئی۔قیدیوں او ران کے اہل خانہ کی یلغار اور جیل ٹوٹ جانے کے باوجود انھوں نے وہاں سے فرار ہونے سے انکار کردیا۔ وہ اور ان کے اہل خانہ خود وزارت داخلہ اور جیل انتظامیہ کو تلاش کرتے رہے۔ جب ان میں سے کوئی نہ ملا تو ڈاکٹر مرسی نے الجزیرہ سمیت مختلف ٹی وی چینلوں کو فون کرکے بتایا کہ: ’’جیل کی ساری انتظامیہ غائب اور سارے قیدی جاچکے ہیں۔ ہم اس وقت جیل کے باہر کھڑے ہیں اور بغیر قانونی کارروائی کے یہاں سے جانا نہیں چاہتے‘‘۔کئی ٹی وی چینلوں نے وہاں پہنچ کر اس کی فوٹیج بھی بنائی۔ کئی گھنٹے تک جب کوئی نہ آیا تو بالآخر وہ اور ان کے ساتھی بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ یہی قیدی محمد مرسی ملک کے پہلے منتخب صدر بن گئے۔ ایوانِ صدارت میں ایک روز ان کے سامنے ۸۵۰صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ وادی النطرون جیل سے فرار کی واقعے کی پیش کی گئی۔ صدر محمد مرسی نے رپورٹ کا ایک بھی صفحہ پڑھے بغیر پوری فائل متعلقہ تحقیقاتی اداروں کو اس نوٹ کے ساتھ بھجوادی کہ اس کی مبنی برحقیقت، شفاف اور مکمل تحقیق کی جائے۔

ایک جانب تو اخوان کے ان رہنماؤں کی اتنی احتیاط اور قانون کی پاس داری لیکن دوسری طرف آج فرعون بنے حکمرانوں کی ذہنیت ملاحظہ ہو کہ انھیں ۱۱ہزار ایک سو۶۱ قیدیوں میں سے صرف اخوان کی قیادت ہی ملی کہ جن پر مقدمہ چلاکر سزاے موت کا حق دار قرار دیا گیا۔      جنرل عبدالفتاح السیسی ۳۰ جولائی ۲۰۱۳ء کو صدر مرسی کے خلاف خونی انقلاب لانے کے بعد بلامبالغہ ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ماوراے عدالت قتل کرچکا ہے۔ نام نہاد عدالتوں کے ذریعے بھی سیکڑوں افراد کو چند منٹ کی کارروائی کے بعد سزاے موت سنائی گئی ہے۔ گذشتہ تقریباً دوسال میں اب تک ان نام نہاد عدالتوں کے ذریعے ۱۷۰۷ بے گناہ شہری سزاے موت کا عدالتی ’اعزاز‘ پاچکے ہیں۔ اس وقت مصر کے حالات حسنی مبارک کے تاریک دور سے بھی بدتر ہوچکے ہیں۔

وہ درجنوں دانش ور، صحافی اور سیاسی و دینی رہنما، جو اخوان دشمنی میں کبھی سیسی کی مدح سرائی کے لیے بے تاب رہتے تھے، اب خود بھی اس کے مظالم کا شکار ہیں۔عبد الفتاح السیسی نے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹتے ہوئے اس وقت ملک میں جتنے بھی بحران گنوائے، بلکہ خود پیدا کیے تھے، اب وہ سب بحران پہلے سے کہیں سنگین صورت اختیار کرچکے ہیں۔

منتخب حکومت پر قبضہ کرتے ہوئے جنرل سیسی کو سب سے بڑا سہارا امریکا، اسرائیل اور یورپی یونین کی پشتیبانی اور بعض عرب ریاستوں کی طرف سے خطیر مالی تعاون کی صورت میں ملاتھا۔ اب امریکا و یورپی یونین ہی نہیں خود خلیجی ریاستوں کی طرف سے بھی سیسی انتظامیہ کے بارے میں گہرے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس سیاہ واقعے سے لے کر گذشتہ مارچ تک  سیسی انتظامیہ کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی طرف سے ۵ئ۳۹؍ ارب ڈالر کی نقد امداد دی گئی ہے۔ اس مادی مدد کا ایک ہی ہدف تھا کہ عوام کی معاشی حالت بہتر بناتے ہوئے، انھیں اخوان کے بجاے سیسی حکومت کا حامی و ہمدرد بنایا جائے۔ اگر اس نقد امداد کے ساتھ تیل اور گیس وغیرہ کی مدد بھی شامل کی جائے تو کل امداد ۵۰؍ ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔ لیکن ساری دنیا گواہ ہے کہ حالات بہتر نہیں بدتر، بلکہ بدترین ہورہے ہیں۔ اس امر کے بھی واضح ثبوت ملے ہیں کہ اس مالی امداد کا بڑا حصہ ملکی خزانے کے بجاے، حکمرانوں کی ذاتی تجوریوں میں پہنچ گیا ہے۔ اس بڑی امداد کے راز کاانکشاف بھی خود جنرل سیسی کی اپنے قریبی جرنیلوں کے ساتھ گفتگو کی خفیہ ٹیپ کے ذریعے ہوا ہے، جس میں جنرل سیسی ان خلیجی ریاستوں سے ملنے والی امداد کا ذکر کرتے ہوئے شکر گزار ہونے کے بجاے ان کا شکوہ اور ان کی بدخوئی کرتا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے: ’’ان حکمرانوں کے پاس ڈالروں اور ریالوں کے انبار ایسے لگے ہوئے ہیں، جیسے کسی گودام میں چاولوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ انھیں کہو کہ ہمیں اتنے ارب ڈالر کی فوری امداد مزید دیں، وگرنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے‘‘۔ یہ خفیہ ٹیپ سامنے آنے اور عالمی اداروں سے اس کی تحقیق ہوجانے کے بعد کہ وہ واقعی جنرل سیسی ہی کی آواز تھی، خلیجی عوام میں سیسی کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا ہے۔

احسان فراموشی کا عالم دیکھیے کہ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبد اللہ کی وفات کے بعد، جنرل سیسی کے بارے نئے سعودی حاکم شاہ سلمان کی پالیسی میں کچھ گرم جوشی کم ہوئی تو سیسی نے اپنے سفاک ابلاغیاتی کارندے اور ادارے شاہ سلمان پر تنقید کے لیے آزادکردیے۔ اب ایک طرف وہ سعودی عرب سے امداد بٹورنا چاہتا ہے، یمن میں سعودی حملے کا حصہ بھی(بظاہر) بنا ہوا، اور اپنے میڈیا کے ذریعے شاہ سلمان کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا بھی کر رہا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آنے والا وقت سعودی عرب کو جنرل سیسی کا واضح مخالف اور ترکی اور قطر کا عملی حلیف بنادے۔

’فرعون مصر‘ اور اس کے ساتھیوں کی رعونت ملاحظہ ہو کہ چند ہفتے قبل ایک محنتی لیکن غریب خاکروب کا بیٹا، مقابلے کے امتحان میںکامیاب ہوکر جج کے عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ سیسی کے وزیر انصاف محفوظ صابر نے اسے اس عہدے تک پہنچنے سے روکتے ہوئے بیان دیا: ’’اب ہم اپنی ججوں کی اتنی توہین کریں کہ ایک خاکروب کا بیٹا بھی جج بنالیں؟ میں کسی صورت ایسا نہیں ہونے دوں گا‘‘۔یہ بیان جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر بلکہ پورے عالم عرب میں پھیل گیا اور وزیر انصاف کو مجبوراً مستعفی ہونا پڑا۔ جنرل سیسی نے اس کی جگہ حسنی مبارک کے زمانے کے ایک بدنام زمانہ جج احمد الزند کو وزیر انصاف بنادیا۔ صدر محمد مرسی کے ایک سالہ دور اقتدارمیں اس شخص نے عدلیہ کے محاذ پر انھیں سب سے زیادہ تنگ کیا تھا۔ حالانکہ اس کے خلاف مالی بدعنوانی کے درجنوں مقدمات اس وقت بھی عدالتوں میں ہیں، جن میںایک مقدمے کے مطابق اس نے سرکاری خزانے کے ۲۰ملین پاؤنڈچرائے تھے۔ یہ وہی جج ہے، جس نے ایک بار مصری عوام کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا: نحن السادۃ و غیرنا عبید ’’ہاں ہم آقا اور باقی لوگ ہمارے غلام ہیں‘‘۔

اس وقت یہ سوال اہم ہے کہ کیا صدر محمد مرسی اور ان کے ساتھیوں کو دی جانے والی سزا پر عمل درآمد کیا جاسکے گا؟ غیب کا علم اللہ کو ہے، لیکن اس سوال کا ایک جواب ان سزاؤں کا اعلان ہونے پر عالمی ردعمل کے آئینے میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی انصاف پسند شہری ایسا ہو کہ جس نے اس فیصلے پر سیسی اور اس کی عدالتوں کی ملامت و مذمت نہ کی ہو۔ مغربی ممالک اور عالمی صحافت کو بھی اس ملامت میں شامل ہونا پڑا ہے۔تاہم، ایک اسرائیلی اخبار نے اس سزا پر عمل درآمد کی مخالفت کرتے ہوئے تاویل کی: ’’مرسی کو پھانسی نہیںدینا چاہیے وگرنہ وہ مصری قوم کے بجاے ساری دنیا کے مسلمانوں کا ہیرو بن جائے گا۔ اس سے پہلے ۱۹۶۶ء میں سید قطب کو پھانسی دی گئی تھی اور وہ بھی آج تک بہت سے لوگوں کا ہیرو ہے اور اس کی فکر و فلسفہ عام ہورہا ہے‘‘۔ لیکن ایک دوسرے اسرائیلی اخبار نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ’’مرسی اور اس کے ساتھیوں کی سزا نافذ کردینا چاہیے‘‘۔

جنرل سیسی کے بیرونی آقاؤں کی ہدایات کچھ بھی ہوں، یہ حقیقت ساری دنیا پر عیاں ہے کہ جنرل سیسی اور اس کے ساتھیوں کا انجام مصر کے سابق فرعونوں کی طرح عبرت ناک ہوگا۔  دوسال سے ظلم کے پہاڑ توڑے جانے کے باوجود مصری عوام کی تحریک ایک دن کے لیے بھی نہیں رکی۔ ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے بقول: ’’صدر محمد مرسی کے خلاف سزاے موت کا فیصلہ سنانے والے بہت جلد تاریخ کے کوڑے کے ڈھیر پر دکھائی دیں گے‘‘۔ ترکی اب سعودی عرب سمیت کئی مسلم ممالک کو ساتھ لے کر ان مظالم کے خلاف عالمی جدوجہد کررہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں، دنیا کے باضمیر شہری اور مسلم حکومتیں اس ضمن میں اپنا کردار مسلسل ادا کرتی رہیں۔ خصوصاً اس پس منظر میں کہ اس سیاہ فیصلے کے تین روز بعد امریکی کانگریس کی اُمورِخارجہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے اس انسانیت کش فیصلے سے ’صرفِ نظر‘ کرنے اور خطے میں ’اپنے اہداف‘ کو مقدم رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

مصر اپنے فرعونوں کے لیے جہنم کب بنے گا؟ اس کا علم تو صرف پروردگار کو ہے، لیکن  علامہ یوسف القرضاوی نے اپنی پھانسی کا حکم سن کر قرآن کا فرمان دہرایا ہے:قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْ بِاَیْدِیْنَا فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَo(التوبہ ۹:۵۲)’’ان سے کہو ’’تم ہمارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے۔ اور ہم تمھارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزادیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمھارے ساتھ منتظر ہیں!‘‘

یقینا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فرمان بے مثال ہے۔ آپؐ کی عطا کردہ دُعاؤں سے بہتر اور جامع دُعا ملنا ممکن ہی نہیں ہے۔ آپؐ کے اس فرمان نے ہر بحران سے نجات کی راہ دکھا دی، جس میں آپؐ فرماتے ہیں: رَبَّنَا اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہُ وَ اَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہُ، پروردگار ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کا اتباع کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں باطل کو باطل ہی دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرما‘‘۔ زندگی کے جس فیصلے پر اس سنہری اصول کا اطلاق کریں ہمارے لیے دوجہاں کی کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔

خلیج کے حالیہ بحران ہی کو دیکھ لیجیے، دونوں طرف اتنی شدت اور سختی ہے کہ درست راے کا اظہار تک ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ یمن کے حالات پر، ٹھوس حقائق کی روشنی میں اور انتہائی احتیاط  کے ساتھ چند گزارشات پیش کیں تو دونوں طرف سے جان لیوا دشنام و الزامات سننے کو ملے:  ’’کتنے ڈالر لیے ہیں؟‘‘، ’’تم لوگوں نے ہمیشہ دھوکا دیا ہے‘‘، ’’تمھیں ایران نے خرید لیا ہے‘‘،  ’’تم سعودیہ کے غلام ہو‘‘۔ الحمد للہ، ان میں سے کسی گالی کا جواب نہیں دیا، معاملہ کائنات کے رب کے سپرد ہے، وہ یقینا دوجہاں میں حق کو حق اور باطل کو باطل کرنے والا ہے۔

آئیے، ایک بار پھر کامل غیرجانبداری سے یمن کے سارے معاملے کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ جنگ میں چار بنیادی فریق ہیں: وہاں کے باغی حُوثی قبائل، ۳۳سال تک حاکم مطلق بنا رہنے والا آمر علی عبد اللہ صالح اور اس کی حامی فوج، قومی اتفاق راے سے وجود میں آنے والی عبوری حکومت کے سربراہ عبد ربہ منصور ہادی اور اس کی حامی فوج، اور یمن کی الاخوان المسلمون سمیت دیگر اہم سیاسی جماعتیں، لیکن اس وقت ان چاروں فریقوں سے زیادہ اہم کردار  سعودی عرب اور ایران کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔

باغی حُوثی قبائل یمن کے شمال میں سعودی عرب سرحدوں پر رہتے ہیں اور صعدہ نامی شہر  ان کا اہم مرکز ہے۔ یہ قبائل گذشتہ تقریباً ۱۰ برس سے مسلح کارروائیاں کررہے ہیں۔ سابق آمر نے بھی اپنے اقتدار کے آخری چھے سالوں میں ان کی ساتھ چھے اہم جنگیں لڑیں۔ لڑائی چونکہ سعودی سرحدوں پر ہورہی تھی، اس لیے اس نے سعودی عرب سے بھی بھرپور تعاون حاصل کیا۔ یہی سبب،  یعنی لڑائی کا سعودی سرحدوں پر ہونا، حُوثی قبائل کے لیے ایرانی تعاون کا دروازہ کھولنے کا سبب بناہے۔ دوسری طرف یہ راز بھی کھلا کہ ایران نے بالخصوص بحری راستوں سے ان قبائل تک اسلحہ اور وسائل بھی پہنچائے اور باغی حُوثی قبائل کے نوجوانوں کو ایران اور حزب اللہ کے مختلف کیمپوں میں لے جاکر ان کی عسکری تربیت بھی کی۔

۲۰۱۱ء میں جب بعض عرب ممالک سے ’عرب بہار‘ کا جھونکا آیا، تو یمنی عوام بھی ۳۳سالہ آمریت سے نجات حاصل کرنے کے لیے میدان میں آگئے۔ سعودی عرب نے اس موقعے پر صدر علی عبد اللہ صالح کا ساتھ دیا۔ دوران تحریک اس پر ایک انتہائی شدید قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں اس کے کئی قریبی ساتھی مارے گئے۔ سعودی عرب نے اس موقعے پر بھی اس کی مکمل سرپرستی کی، اسے ریاض لے جایا گیا اور کئی ماہ کے علاج کے بعد اسے واپس یمنی دارالحکومت صنعاء میں لابٹھایا۔ لیکن جب عوامی تحریک، اس کے حامی اور مخالف عناصر کے مابین باہم مسلح جنگ میں   بدل گئی اور اس کا اقتدار میں رہنا، ناممکن دکھائی دینے لگا، تو سعودی عرب نے دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر علی عبد اللہ صالح کو اقتدار سے دست بردار ہونے اور گذشتہ ۱۶سال سے اس کے نائب صدر چلے آنے والے عبد ربہ منصور ہادی کو عبوری صدر بنانے پر آمادہ کرلیا۔ اس موقعے پر وہاں بھی ایک NRO وجود میں آیا اور انتقال اقتدار کی شرائط میں یہ بات شامل کروادی گئی کہ علی صالح صنعاء ہی میں رہے گا، اس کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا، اور اس پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔

علی صالح کو یمنی عوام ’عیار لومڑ‘ کے لقب سے پکارتے ہیں۔ اس عیاری کی ایک جھلک ملاحظہ ہو: برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف ۲۹ مارچ کے شمارے میں لکھتا ہے: ’’جب اس کے خلاف یمنی عوام کی تحریک عروج پر تھی تو اس نے امریکی افواج کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ ڈرون حملوں اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے القاعدہ عناصر کا صفایا کردیں۔ لیکن عین اسی روز اس نے قصر صدارت میں یمن میں القاعدہ کے سربراہ سامی دیان کے ساتھ خفیہ ملاقات کی اور اسے کہا کہ ہم ضلع ابین سے اپنی فوجیں نکال رہے ہیں آپ لوگ وہاں اپنا اثر و نفوذ بڑھا لیں۔ اخبار کے مطابق یہ واقعہ اقوام متحدہ کے علم میں بھی آچکا ہے‘‘۔ اس نے اپنے ۳۳ سالہ دور اقتدار میں ریاست کو اپنی باندی اور عوام کو غلام بنائے رکھا۔ ہر اہم ادارہ بالخصوص فوج اپنے بیٹے احمد، دیگر رشتہ داروں اور اپنے قبیلے کے سپرد کردی اور غریب عوام کی دولت سے ذاتی تجوریاں بھرلیں۔ اس نے مجبوراً مسندصدارت سے معزولی تو قبول کرلی، لیکن اقتدار پھر بھی اپنے ہاتھ میں رکھنے پر مصر رہا۔ فوج تقسیم کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ صاحبزادے اور قبیلے کے دیگر وفادار جرنیلوں نے زیادہ تر اسلحہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس نے دوسرا خطرناک ترین اقدام یہ کیا کہ انھی باغی حُوثی قبائل جن کے ساتھ وہ گذشتہ چھے برس سے برسرِپیکار تھا، سازباز کرلی۔ اب یہ حُوثی قبائل صعدہ سے نکل کر دیگر شہروں کی طرف بھی پیش قدمی کرنے لگے اور پھر دیکھتے، دیکھتے وہ ایک روز دارالحکومت صنعاء پر آن قابض ہوئے۔ علی صالح کی وفادار فوج نے ہر جگہ ان کے لیے ہراول دستے کا کام کیا۔

وسیع تر شرقِ اوسط

صنعاء پر قبضے کے ساتھ ہی ایران بھی اس پوری لڑائی کے ایک اہم ترین فریق کی صورت میں کھل کر سامنے آنے لگا۔ دارالحکومت پر قبضے کے تیسرے روز صنعاء اور تہران کے مابین روزانہ دو باقاعدہ پروازیں شروع ہوگئیں۔ اس رُوٹ پر مسافر نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن روزانہ ایران ایئر کے دو بڑے جہاز آتے جاتے رہے۔ کیوں؟جواب جاننے کے لیے عسکری ذہن ہونا ضروری نہیں۔

اب ذرا یمن کی چھوٹی تصویر کے بجاے شرقِ اوسط کی بڑی تصویر سامنے لائیے۔ ۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکی قبضے کے بعد سے لے کر پورا ملک شیعہ سُنّی اور کرد ، عرب تضاد بلکہ ٹکرائو کی دلدل میں دھنسا دیا گیا۔ صدام حسین جیسے آمر سے نجات دلانے کے نام پر عوام کو باہم ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا گیا۔ امریکی قبضے کے بعد عوامی مزاحمت کے باعث امریکیوں کو دانتوں پسینہ آنے لگا، تو اس نے انتہائی عیاری سے اس مزاحمت کا رُخ اپنی بجاے، شیعہ سنی آگ کی طرف موڑ دیا۔ اس خوں ریزی کے نتیجے میں بلامبالغہ لاکھوں عراقی شہری موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہاں ایک عجیب تضاد ملاحظہ فرمائیے کہ ’شیطان بزرگ‘ امریکا نے صدام کے بعد آج تک عراق میں انھی افراد کو حکومت سونپی جو مکمل طور پر ایران کے وفادار سمجھے جاتے ہیں۔ عالم عرب میں اس تضاد کو ’ایران امریکا خفیہ گٹھ جوڑ‘ کا نام دیا گیا، لیکن یہ درحقیقت عراقی خانہ جنگی کی آگ پر چھڑکا جانے والا امریکی تیل ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ اس بارے میں بہت زیادہ حساسیت کا شکار ہیں۔ کئی لاکھ ایرانی شہری عراق میں لا بسانے کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے۔ عراق میں اصل مقتدر ایران ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔ ایران پر کڑی اقتصادی پابندیوں کے خفیہ علاج کے ڈانڈے بھی عراقی سرزمین سے ملائے جاتے ہیں۔

ادھر ’عرب بہار‘ کو خزاں میں بدلنے کی آمرانہ کوششوں کے نتیجے میں شام ایک کھنڈر اور کسی ویران قبرستان کا نقشہ پیش کررہا ہے۔ بشار الاسد اور اس کے بعثی آمر باپ حافظ الاسد نے اپنے عوام اور علاقائی قوتوں کو دکھانے کے لیے اپنے ہاتھ میں ایک کارڈ اسرائیل کے سامنے مزاحمت کا بھی اٹھا رکھا تھا۔ اسی بنیاد پر پڑوسی ملک لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ دونوں کے مضبوط قریبی تعلقات تھے۔ بشار کو اپنے عوام کے ہاتھوں سنگین خطرات لاحق ہوئے تو اس نے حزب اللہ اور ایران سے بھی کھلم کھلا معاونت حاصل کی۔ پہلے تو یہ ایک الزام سمجھا جاتا تھا لیکن اب خود   حزب اللہ اور ایران کے ذمہ داران اعلان کرتے ہیں کہ ان کے ’رضا کار‘ شام میں بشار کا ساتھ دے رہے ہیں۔ شام میں مارے جانے والے اپنے افراد کو، لبنان اور ایران لاکر ان کے بڑے بڑے جنازے ادا کیے جاتے ہیں۔ اب اگر ان تمام کڑیوں کو ملا کر دیکھیں، تو یمن کی حالیہ جنگ کی اصل سنگینی سامنے آئے گی۔ یمن ہی نہیں بدقسمتی سے پورا شرقِ اوسط لہو لہو ہے۔ ایک طرف سعودی عرب اور باہم کئی اختلافات کا شکار خلیجی ریاستیں ہیں، تو دوسری جانب ایران جو شمال میں عراق، شام اور لبنان کے راستے بحیرۂ روم تک جا پہنچا ہے اور اب جنوب میں یمن کے باغی حُوثی قبائل اور    سابق صدر علی صالح کی پشتیبانی کررہا ہے۔ ایسے عالم میں نہ صرف خلیجی ریاستیں خود کو شمال و جنوب سے ایک بڑے شکنجے میں جکڑا دیکھتی ہیں، بلکہ خود بعض ایرانی ذمہ داران نے بھی انتہائی غیرذمہ دارانہ بیانات دے کر ان کے اس احساس کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ سابق صدر احمدی نژاد کے دور میں ایرانی خفیہ ادارے کے سربراہ حیدر مصلحی اور اور تہران سے قومی اسمبلی کے رکن علی رضا زاکانی سمیت کئی افراد کے بیانات خود ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ہم چار عرب دارالحکومتوں (بغداد، دمشق، بیروت، صنعائ) میں حکومت کررہے ہیں اور عنقریب اب پانچویں دارالحکومت کی طرف بڑھیں گے۔ زاکانی صاحب نے تو ارکان پارلیمنٹ کے سامنے اس امر پر اظہار تشکر کیا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں قدس بریگیڈ نے عراق و شام کو بچا لیا۔

اس گمبھیر صورت حال میں صنعاء پر حُوثی قبائل کے قبضے، انھیں فضائی اور بحری راستوں سے اسلحے کی مسلسل ترسیل اور ان قبائل کی طرف سے سعودی سرحدوں پر وسیع عسکری نقل و حرکت نے وہ دن دکھایا کہ ۲۶ مارچ کو سعودی عرب کی طرف سے ’’فیصلہ کن طوفان: عَاصِفَۃُ الحَزَم‘‘ کے نام سے یمن پر فضائی حملے شروع کردیے گئے۔ اگرچہ ۲۶ روز کے ان حملوں کے بعد ’فیصلہ کن طوفان‘ روکنے اور: ’’اُمیدوں کی بحالی: اِعَادَۃُ الأَمَل‘‘ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے لیکن یہ جنگ تاحال رُکی نہیں، اور تب تک جاری رہے گی جب تک یمن میں باغی قبائل کے قبضے کی بجاے، قومی اتفاق راے سے کوئی حکومت وجود میں نہیں آجاتی۔

بدقسمتی سے شرقِ اوسط میں جاری یہ تہ در تہ لڑائیاں صرف جغرافیائی اور علاقائی نفوذ کی لڑائیاں نہیں رہیں۔ نہ یہ اختلافات صرف شیعہ و سُنّی اختلاف تک ہی محدود ہیں۔ اب اس میں خودشیعہ ملیشیا کے مقابل مختلف شیعہ گروہ اُٹھائے جارہے ہیں۔ بالخصوص عراق میں موجود کئی گروہ خود بنیادی شیعہ عقائد ہی کو زیر بحث لا رہے ہیں۔ اہل سنت کے خلاف خود اہل سنت مسلح گروہ (داعش) اُٹھائے جارہے ہیں جو اپنے علاوہ باقی سب کو گردن زدنی قرار دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے مصر میں الاخوان المسلمون کے خلاف کی جانے والی بدترین کارروائی کا دائرہ خود سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ریاستوں تک بڑھادیا گیا تھا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس پوری لڑائی میں طرفین سے چوٹی کے ذمہ داران اس آگ کو بجھانے کے بجاے اسے مزید بھڑکانے کی بات کررہے ہیں۔ رہبر قوم آیۃ اللہ العظمیٰ جناب علی خامنہ ای صاحب سے بلند مقام کس ہستی کا ہوگا۔ انھوں نے بھی ۹؍اپریل کو تہران میں منعقدہ ایک اہم دینی تقریب میں سعوی عرب کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا: ’’ یمن میں سعودیوں کی جیت کا امکان صفر ہی نہیں، منفی صفر ہے۔ یقینا وہاں سعودیوں کی ناک مٹی میں رگڑ دی جائے گی‘‘۔ جناب علی خامنہ ای صاحب نے اپنے اسی خطاب میں امریکا ایران ایٹمی معاہدے پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’میں نہ اس معاہدے کی تائید کرتا ہوں نہ مخالفت کیوں کہ ابھی تک یہ معاہدہ کچھ ہے ہی نہیں‘‘ واضح رہے کہ معاہدے پر حتمی دستخط جون میں ہونا ہیں۔ ان کا یہ جملہ ایرانی ڈپلومیسی کا بین ثبوت ہے، لیکن افسوس کہ معاملہ ایک مسلمان ملک کا تھا تو وہ شمشیر برہنہ بن کر برسے۔ ادھر حزب اللہ کے سربراہ جناب حسن نصر اللہ صاحب نے بیروت میں اپنی ۴۵ منٹ کی براہِ راست نشر ہونے والی دھواں دھار تقریر میں سعودی عرب اور ’وہابیت‘ کے خوب خوب لتے لیے۔ اور تیسری جانب امام کعبہ جناب عبد الرحمن السدیس صاحب نے خطبۂ جمعہ میں اسے صفویت و شیعیت اور اہلسنت کے مابین فیصلہ کن معرکہ قرار دے دیا۔ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جلتی پر تیل کا کام مسلسل کررہے ہیں۔

مسئلے کا حل

اس تناظر میں پاکستان اور ترکی کا کردار بہت اہم ہوگیا ہے۔ پاکستان میں طرفین کے  حق اور طرفین کے خلاف شعلہ بار تجزیے اور بیانات کے بعد پارلیمنٹ کی جو قرار داد آئی، اسے  عالمِ عرب نے اپنے خلاف اور ایران نے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ حسن نصر اللہ صاحب نے سعودی عرب کے خلاف اپنے انتہائی جارحانہ خطاب میں اس قرار داد کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے پاکستانی عوام، پارلیمنٹ اور حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ اس نے سعودی عرب کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کے اس خطاب نے بھی عرب عوام میں پھیلایا جانے والا یہ احساس گہرا کیا کہ ہمارا فطری حلیف پاکستان ہمیں درپیش خطرات کے وقت ہمارے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔

یقینا پاکستان اور ترکی کو اس جنگ میں اضافے کا سبب نہیں بننا چاہیے لیکن اس وقت سعودی عرب میں یہ خطرہ و احساس حقیقی اور گہرا ہے کہ اسے چہار اطراف سے گھیرا اور تنہا کیا جارہا ہے۔ ایسے عالم میں پاکستان یمن میں اپنی افواج اتارے بغیر بھی سعودی عرب کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ پاکستان اس کی سلامتی کو درپیش خطرات سے لاتعلق نہیں۔ عالم عرب میں یہ تجزیہ و اظہار شدومد سے کیا جارہا ہے کہ اگر پاکستان جیسا ایٹمی ملک اس موقعے پر اپنی افواج سعودی عرب بھجوا دیتا ہے، تو خطے میں ایک نفسیاتی احساس اجاگر ہوگا کہ اس کا دفاع مضبوط ہے، اور اب جنگ کو مزید وسعت دینا ممکن نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اگر پاکستان، ترکی، ملائیشیا، انڈونیشیا اور مراکش جیسے ممالک باہم مل کر سفارت کاری کا ایسا عمل شروع کریں کہ جس میں ایران و سعودی عرب کو ساتھ لے کر یمن میں حتمی جنگ بندی، قومی اتفاق راے سے قائم حکومت کی بحالی اور شفاف انتخابات کے ذریعے آیندہ حکومت کا قیام یقینی بنایا جاسکے، تو یہ اقدام نہ صرف یمن میں استحکام و ترقی لائے گا بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثبت نظیر ثابت ہوگا۔ رب ذو الجلال کے ارشاد کے مطابق کہ: عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ، آج سعودی عرب اور دیگر ریاستوں میں احساس اجاگر ہوا ہے کہ ہمیں بالآخر اپنے عوام سے صلح کرنا ہوگی۔ سینئر سعودی تجزیہ نگار جمال خاشقجی جو خود سعودی قیادت سے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں نے حال ہی میں اپنے ایک کالم میں اعتراف کیا ہے کہ ’’اخوان کو کچلنے کی ہوس نے خلیج کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے‘‘۔موجودہ سعودی قیادت کے سامنے یہ سوال کئی اطراف سے سامنے آیا ہے کہ کل تک صدر محمد مرسی جیسے منتخب آئینی صدر کے خلاف کارروائی کرنے والے آج یمن کے آئینی صدر کو بچانے کا دعویٰ کیوں کر کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مصر میں کی جانے والی غلطی کو بنیاد بنا کر اس کا اعادہ یمن میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بالآخر سب کو مل کر مصر میں ہونے والی غلطی کے مداوے کی سبیل نکالنا ہوگی۔

آج یمن اور شرقِ اوسط کے ان حالات کا جائزہ لیتے ہوئے حالیہ اسلامی تاریخ کے وہ تمام زخم تازہ ہورہے ہیں کہ جب سب فریق جانتے اور مانتے تھے کہ وہ امریکی و صہیونی منصوبوں کے جال میں پھنس چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ خود کو دشمن کی ناپاک چالوں اور مہلک جال سے آزاد نہیں کرواسکے۔ستمبر ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۸ء تک عراق و ایران کے مابین تباہ کن جنگ کے وقت بھی یہی ہوا۔ افغان سرزمین نے بھی یہی تلخ حقیقت دیکھی۔ اہل فلسطین بھی اسی زہر خورانی کا شکار ہوئے (یاسر عرفات کو بالآخر صہیونی گماشتوں نے ہی زہر دے کر مارا)، اور آج ایران و سعودی عرب کو بھی اسی جال میں پھانسا جارہا ہے۔ یمن، عراق، شام، لبنان، مصر، لیبیا، صومالیہ، ہر جگہ وہی نسخہ ہے اور وہی ہلاکتیں۔ آج سب سے مطمئن، محفوظ اور شاداں صہیونی ریاست اور امریکا ہے۔ وہ ہمیں ہمارے اپنے ہی ہاتھوں ذبح کروا رہے ہیں۔ آئیے تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر، اخلاص و زاری سے پکاریں: رَبَّنَا اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہُ وَ اَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہُ۔

فرانسیسی رسالہ ہو یا کوئی اور بدنصیب، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے اللہ کا فیصلہ ازلی و ابدی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَ لَقَدِ اسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ قف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِo (الرعد۱۳:۳۲) ’’تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخرِ کار ان کو پکڑلیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی‘‘۔گویا اگر یہ لوگ تائب نہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کے لیے عذاب و عتاب اب بھی یقینی ہے، بس ذرا سی مہلت ملی ہے جسے وہ اپنی جیت اور غلبہ سمجھ رہے ہیں۔

چارلی ایبڈو نے پہلی بار نہیں، مسلسل گستاخیاں کی ہیں۔ ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ چار کارٹونسٹ اور آٹھ دیگر افراد کے مارے جانے کے باوجود بھی اپنا رویہ بدلنے پر تیار نہیں۔ اصرار و تکرار سے دوبارہ خاکے بنائے اور اعلان کیا ہے کہ وہ یہ گستاخیاں مسلسل جاری رکھے گا۔ ۷جنوری ۲۰۱۵ء کو رسالے کے دفتر پر حملے سے پہلے فرانس میں مقیم متعدد مسلمان تنظیموں نے فرانسیسی عدالت کے دروازے کھٹکھٹائے کہ رسالے کو اس جسارت سے روکا جائے جس سے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی روح زخمی ہوتی ہے۔ عدالت نے یہ اپیل مسترد کرتے ہوئے، کامل رعونت سے جواب دیا :’’ ہم آزادیِ اظہارِ راے پر قدغن نہیں لگاسکتے، اخبارات آزاد ہیں، جو چاہیں شائع کریں‘‘۔

نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے دہرے معیار ملاحظہ کیجیے۔ اسی رسالے نے سابق فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال (۱۸۹۰ئ-۱۹۷۰ئ)کے انتقال کے بعد اس کا مذاق اڑایا تھا۔ تب اس کا نام ’ہارا کیری‘ ہوا کرتا تھا۔ آزادیِ اظہارِ راے کا دعوے دار پورا ملک اور حکومت اس پر چڑھ دوڑی اور اس پر پابندی لگادی گئی جس نے ایک ’قومی ہیرو‘ ڈیگال کی شان میں گستاخی کی تھی۔ ۱۹۷۰ء میں اس رسالے نے دوبارہ اور نئے نام سے کام شروع کیا۔ پھر ہر کسی کا استہزا اُڑانے لگا۔ لیکن اپنی حرکتوں کے باعث۱۹۸۱ء میں پھر بند ہوگیا اور ۱۹۹۲ء میں اپنے حالیہ نام سے جاری ہوا۔ پھر ایک بار سابق فرانسیسی صدر نیکولاسرکوزی کے بیٹے کا مذاق اُڑاتے ہوئے اس کے یہودی ہونے کا بھی ذکر کردیا۔ آزادیِ اظہارِ راے کی جگالی کرنے والوں نے اسے یہودیت کے خلاف نسلی تعصب قرار دیتے ہوئے اس بار بھی اسے متعلقہ صحافی کو نکال باہر کرنے پر مجبور کردیا۔

معاملہ صرف ایک اخبار، رسالے یا چند توہین آمیز خاکوں کا نہیں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک عالم گیر مہم کا ہے۔ صدر بش کے اس بیان کہ: ’’ہم ایک صلیبی جنگ شروع کرنے جارہے ہیں‘‘ کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ نادانستگی میں کہے گئے الفاظ (Slip of Tongue)   تھے، لیکن پیرس کے واقعے کے بعد رسالے اور اس کے مقتولین کے خلاف جو مظاہرہ ہوا اس میں بہت سے شرکا صلیبی جنگوں کے دوران استعمال کیا گیا، صلیبی سپاہیوں کا لباس پہن کر شریک ہوئے۔  اس کے بعد بھی کئی ملکوں میں کئی تنظیموں اور کئی اخباروں کے ذریعے وہی صلیبی جنگوں کے بگل بجاے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں صہیونی اخبارات پیش پیش ہیں۔

ہالینڈ کی ایک سیاسی جماعت کا سربراہ گیراتھ فلڈرز جو خود بھی متعدد گستاخانہ کارروائیوں کا ارتکاب کرچکا ہے، گویا ہوا کہ ’’ہم طویل عرصے سے اسلام کے ساتھ جنگ لڑرہے ہیں‘‘۔ اسی طرح کے بیانات فرانس کے شدت پسند سیاسی رہنماؤں نے دیے۔ جن پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک فرانسیسی دانش ور بوب ڈی رونر لکھتا ہے کہ : ’’طرفین (مسلمان اور مغرب) ایک ایسی جنگ میں کودنے کی تیاریاں کررہے ہیں، کہ جس میں تشدد کا کسی بھی حد تک چلے جانا بعید نہیں، اور میرے خیال میں طرفین کو اس ساری قیامت سے خسارے اور نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا‘‘۔

صہیونی اخبارات اس جلتی پر تیل ڈالنے میں سرفہرست ہیں۔ حکومتی اخبار اسرائیل ٹوڈے میں ڈان مرگلیت لکھتا ہے: ’’یورپ میں روزافزوں اسلامی دہشت گردی کے حقیقی خطرے سے وہاں کی حکومت اور ذرائع ابلاغ غافل ہیں۔ سیاسی اسلام اور دور جدید کے نازی پوری دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ پوری دنیا کو اپنا غلام بنانا اور انسانوں کی آزادی و عزت کو قدموں تلے روند دینا چاہتے ہیں۔ شدت پسند اسلام، مغربی تہذیب، جمہوریت، مسیحیت اور یہودیت سے تصادم چاہتا ہے‘‘۔

اسرائیلی روزنامہ ھارٹز لکھتا ہے: ’’پیرس حملہ انتہائی اسٹرے ٹیجک کارروائی ہے جس کا ہدف صرف فرانس نہیں، ساری کی ساری آزاد دنیا ہے۔ دنیا کے تمام جمہوری اور صحافتی اداروں کو اس کارروائی سے متاثر ہوئے بغیر، پوری جرأت و عزم کے ساتھ آزادیِ صحافت اور آزادیِ اظہار کے خلاف اس غلیظ کارروائی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا‘‘۔

ایک اور صہیونی ناسم ڈینا اسرائیل ٹوڈے میں لکھتا ہے: ’’اسلام جب سے آیا ہے، ساری دنیا کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ اب یورپ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے، یہ لوگ اپنے بچوں کو عیسائی اور یہود دشمنی سکھاتے ہیں۔ بالخصوص جمعے کے روز یہ اپنے عقیدہ و ایمان کی آبیاری کرتے ہوئے، اپنے لوگوں کو غیر مسلموں کے خلاف اُکساتے ہیں، لیکن مغربی ممالک ان کا کوئی علاج کرنے کے بجاے، حقوق انسانی اور جمہوریت جیسے اُصولوں پر مصر ہیں‘‘۔

صہیونی روزنامہ معاریف میں افشائی عبری یورپ کو مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن حملہ کرنے پر اُکساتے ہوئے لکھتا ہے: ’’دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے پیچھے اصل ہاتھ اسلام کا ہے... اس خطرے کا ایک ہی اصل حل ہے اور وہ یہ کہ یورپ میں مقیم مسلمانوں کو ان بیرونی افواج کا ہراول دستہ سمجھا جائے جو یورپ پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں‘‘۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: ’’یورپ ابھی تک عالمی جنگوں کے صدمے سے نہیں نکل پایا، اور وہ جنگوں کو ایک انتہائی خوف ناک مصیبت سمجھتا ہے، لیکن اگر اس نے آج جنگوں کی ناگزیریت کو نہ سمجھا تو اسے جلد اس سے بھی زیادہ خوف ناک حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا، اور وہ ہے اس جنگ میں ہزیمت‘‘۔

ان چند مثالوں سے اس اصل خطرناک، نفرت آمیز اور تباہ کن ذہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جو ان توہین آمیز خاکوں کے پیچھے کارفرما ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کسی براے نام مسلمان کے لیے بھی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کیا حیثیت رکھتی ہے۔ وہ شاید سب کچھ برداشت کرلے، لیکن اپنے نبی محترمؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ دنیا کو یہ حقیقت بھی بخوبی معلوم ہے کہ جب تک مسلمانوں کے ہاتھ میں قرآن کریم اور دلوں میں حُب رسول صلی اللہ علیہ وسلم باقی ہے، انھیں تباہی اور فنا کے گھاٹ نہیں اتارا جاسکتا۔ یہی وہ آخری حصار ہے جس میں آکر اُمت مسلمہ اپنے ہر اندرونی و بیرونی دشمن کو شکست دے سکتی ہے۔ اس لیے اب انھوں نے اس آخری حصار پر پے درپے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ سلمان رُشدی یا تسلیمہ نسرین جیسے بدنصیب و ملعون ہوں، یا ڈنمارک کے اخبارات میں خاکے شائع کرنے والے، امریکی پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن کریم جلانے کے اعلانات ہوں یا قرآن کریم کو  (نعوذ باللہ) فتنہ قرار دیتے ہوئے فلمیں تیار کرنے کی مکروہ حرکتیں، سب اسی ناپاک سلسلے کی غلیظ کڑیاں ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ خود نام نہاد مسلمانوں کے ذریعے بھی آئے دن مختلف درفنطنیاں چھوڑی جاتی ہیں، تاکہ ان کے ذریعے خود مسلمانوں کے دلوں میں اسلام اور اسلامی تعلیمات کا تقدس ختم ہوتا چلا جائے۔ کبھی مساوات مردوزن کے نام پر، کم لباس خواتین کو مردوں کی صفوں میں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑا کرکے، کسی بدنام زمانہ خاتون سے نماز کی امامت کروائی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں، مخصوص خانہ ساز خبروں کی گردان کی جاتی ہے، مثلاً یہ کہ ’’دہشت گرد بے گناہوں کو قتل کرکے جنت میں جانا چاہتے تھے‘‘۔ اور پھر جنت اور قرآن کریم میں بیان کی گئی اس کی نعمتوں اور حوروں ہی کو اپنے زہریلے طنز و مزاح کا محور بنادیا جاتا ہے۔

یہ اور ایسی دیگر حقیر حرکتیں کوئی نئی بات نہیں۔ رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان بعثت ہی سے ان کا آغاز ہوگیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے ایسے آوازے کسے اور دشنام بازی کی گئی کہ اخلاق و تہذیب کی تمام حدیں مسمار ہوگئیں۔ آپؐ  کے اہل خانہ اور ازواجِ مطہراتؓ کو بھی  سب و شتم اور قذف و اتہام کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام آزمایشوں اور تکلیفوں کے باوجود، اپنے اصل مشن اور نصب العین کوایک لمحے کے لیے بھی نگاہوں سے اوجھل   نہ ہونے دیا۔ خود پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی فرماتے ہوئے اطلاع دی کہ آپؐ  کے پیغمبرِ برحق ہونے کی ایک نشانی، مخالفین و اعداء کا آپے سے باہر ہوجانا بھی ہے۔    آپؐ سے پہلے بھی جو انبیا مبعوث کیے گئے، انھfیں بھی ان تمام تکالیف کا سامنا کرنا پڑا:

وَ لَقَدِ اسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَـ(الانعام۶:۱۰) ’’اے نبی ؐ ، تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جاچکا ہے، مگر ان مذاق اُڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلّط ہوکررہی جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے‘‘۔ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ ْنَ (الحجر۱۵:۱۱)’’ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کے پاس کوئی رسُول آیا ہو اور انھوں نے اُس کا مذاق نہ اُڑایا ہو‘‘۔ یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ج مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِؤُنَ (یٰسٓ: ۳۶:۳۰) ’’افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے‘‘۔وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِؤُنَ (الزخرف۴۳:۷) ’’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ؑان کے ہاں آیا ہو، اور انھوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو‘‘۔

تب سوال یہ بنتا تھا اور آج بھی بنتا ہے کہ ان تمام استہزائیہ جسارتوں کا سامنا کیسے کیا جائے؟ اس کا جواب بھی ربِّ کائنات ہی کی طرف سے عطا ہوتا ہے: فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِھَا وَ مِنْ اٰنَآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّھَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی (طٰہٰ ۲۰:۱۳۰)’’ پس اے نبیؐ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، سُورج نکلنے سے پہلے اور غرُوب ہونے سے پہلے ، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہوجاؤ‘‘۔ دشمن کی زبان سے ملنے والی ایذا رسانیوں کے جواب میں صبر اور تسبیح و تحمید کی بالکل یہی تعلیم سورئہ قٓ کی آیت ۳۹ میں بھی دی گئی۔ ایک موقعے پر یہ بھی ارشاد ہوا کہ اے میرے حبیب آپ اپنے کام میں لگے رہیے، ان مذاق اُڑانے والوں کے مقابلے میں ہم ہی آپ کے لیے کافی ہیں۔ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ o اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ o (الحجر۱۵:۹۴-۹۵) ’’پس اے نبی ؐ ، جس چیز کا تمھیں حکم دیا جا رہا ہے اُسے ہانکے پُکارے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تمھاری طرف سے ہم اُن مذاق اُڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام اس دشنام و مذاق پر دل گرفتہ ہوئے تو مزید ارشاد ہوا: وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ o فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ o (الحجر۱۵:۹۷-۹۸)  ’’ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پربناتے ہیں اُن سے تمھارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے ۔ (اُس کا علاج یہ ہے) کہ اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ‘‘۔

آپؐ  کے صاحب زادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا، تو کم ظرف دشمن نے جڑیں کٹ جانے کا طعنہ دیا۔ رب ذو الجلال نے قیامت تک کے لیے فیصلہ کردیا کہ: اِِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ o (الکوثر۱۰۸:۳) ’’آپ کا مذاق اُڑانے والا ہی جڑ کٹا ہے‘‘۔ آپؐ کے مخالفین اور دشمنانِ دین نبی کا الْاَبْتَر  ہونا اس قدر حتمی اور یقینی تھا کہ اہل ایمان سے پہلے خود دشمنوں کے دلوں نے اس کی گواہی دی۔ آپؐ کی شان میں گستاخیاں کرنے والے کتنے ہی نامور سلاطین اور عالمی نظام ایسے طلوع ہوئے کہ ایک دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا، لیکن پھر یوں غروب ہوئے کہ اپنے گھروں کی دہلیزوں کے لیے بھی اجنبی ہوگئے۔ آج بھی سلمان رُشدی جیسے بدنصیب، گستاخیِ رسولؐ کے صلے میں خواہ درجنوں مغربی ایوارڈ اپنی کلغیوں پر سجائے پھریں، ان کا جڑ کٹا اور ناپید ہونا، خود ان کے اپنے وجود سے زیادہ یقینی ہے۔

اس سوال پر غور کرنے سے پہلے کہ نبی مہربان کی شان میں ہونے والی گستاخیوں کے جواب میں، آج مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو؟ آئیے ایک کوشش ان کے اسباب جاننے کی کرتے ہیں۔

اس شر و فساد کی سب سے بڑی وجہ تو یقینا شیطان اور اس کے چیلوں کی دین اسلام سے  نفرت و عداوت ہے، جو مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہتی ہے۔ ایک اسرائیلی اخبار میں شائع شدہ سابق الذکر یہ جملہ اسی ازلی عداوت کی کہانی بیان کررہا ہے کہ ’’اسلام جب سے آیا ہے ساری دنیا سے برسرپیکار ہے‘‘۔ اسلام اور اس کی تعلیمات سے یہ شیطانی دشمنی اب اس لیے عروج پر ہے کہ عیسائیت خود یورپ میں سکڑتی جارہی ہے۔ ہزاروں چرچ بے آباد ہوکر فروخت ہوچکے ہیں۔ مذہب سے مغرب کا تعلق براے نام ہوتا چلا جارہا ہے۔ مذہب کو چند رسوم تک محدود کردینے سے پورے مغربی معاشرے کی تاروپودبکھر چکی ہے۔ کئی ممالک باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے شادی کے بندھن اور خاندانی نظام کی بجاے، مردوں کی مردوں سے اور عورتوں کی عورتوں سے شادی کو تحفظ دے رہے ہیں۔ قومِ لوطؑ پر جب عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو رب ذوالجلال نے ان کی فرد جرم سناتے ہوئے فرمایا تھا: وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ o (العنکبوت۲۹: ۲۹)  ’’اب تو تم کھلم کھلا مجالس میں اس فعل مکروہ کا ارتکاب کرنے لگے ہو‘‘۔ آج مغرب میں بھی بڑے بڑے عہدوں پر براجمان انسان نما مخلوق، مجالس میں اس فعل شنیع پر فخر و مباہات کرتی ہے۔ اب تقریباً ہردستاویز میں باپ، شوہر یا بیگم کا نام پوچھنے کے بجاے، ماں اور ساتھی (partner) کا نام پوچھا جاتا ہے۔ اس لیے کہ معاشرے کی ایک بڑی تعداد (بعض ممالک میں ۶۴فی صد) کو اپنے باپ کا نام یا تو معلوم نہیں، یا اس سے کسی طرح کا کوئی تعلق باقی نہیں۔ یورپی شماریات کے ادارے یوروسٹیٹ (Eurostat) کے مطابق فرانس میں شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کا  تناسب ۸ئ۵۲ فی صد اور برطانیہ میں تناسب ۴ئ۴۵ فی صد ہے۔ اس پر کسی بھی طرح کی شرمندگی تو کجا،  اس مادر پدر آزادی پر فخر کیا جاتا ہے اور اسی کے تحفظ کی بات کی جاتی ہے۔

دوسری جانب اسی تعفن زدہ تہذیب میں رہنے کے باوجود، مسلمانوں کی اپنے دین سے وابستگی میںنہ صرف مضبوطی اور پختگی آرہی ہے، بلکہ ان کی تعداد میںمسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ رب کی قدرت اور اِِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ  کی حقانیت ملاحظہ کیجیے کہ جب سے بعض شیطانی ذہنوں نے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں شروع کی ہیں، یورپ میں آپؐ کی سیرت کے مطالعے اور قبول اسلام کے تناسب میں حیرت انگیز اضافہ ہواہے۔

نائن الیون کے بعد یورپ میں اسلامی مراکز کی تعداد تقریباً دگنی ہوگئی ہے۔ گذشتہ ۱۰ برس میں فرانس میں ۱۰ کیتھولک چرچوں کا اضافہ ہوا، جب کہ اسی عرصے میں ۶۰ چرچوں کو تالے لگ گئے۔ دوسری جانب اس عرصے میں صرف فرانس میں مساجد کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اسلامی مراکز کی موجودہ تعداد آیندہ ۱۰ برس میں دُگنی ہوجائے گی۔    فرانس کے بڑے بڑے مشاہیر، کھلاڑی اور فنکار دائرۂ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ مغرب میں بسنے والے مسلمان اب اپنے آپ کو زیادہ منظم کرتے ہوئے، اپنے سیاسی نفوذ کو بھی زیادہ مؤثر و مفید بنارہے ہیں۔ فرانس میں ایک سروے ہوا تو ۳۹ فی صد فرانسیسی عوام نے اسلام کو ایک معتدل اور دوسروں سے درگزر کرنے والا دین قرار دیا۔ اس وقت فرانس میں مسلمانوں کا تناسب ۵ئ۸فی صد ہے جو ان کے نزدیک بہت خوف ناک تعداد ہے لیکن اس سے بھی خوف ناک امر یہ ہے کہ ان کے اندازوں کے مطابق ۲۰۲۵ء  یعنی آج سے ۱۰سال بعد یہ تناسب ملکی آبادی کا ۲۵ فی صد ہوجائے گا۔ اس پورے پس منظر میں اسلام کا روشن چہرہ مسخ کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے کا سلسلہ تیز تر کیا جارہا ہے۔

یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ان مکروہ سرگرمیاں کرنے والوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ قرآن اور صاحب ِقرآن کی شان میں گستاخیاں، صرف یورپ میں مقیم چند لاکھ نفوس کا مسئلہ نہیں، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پونے دو اَرب کے قریب مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ ان سفیہانہ اقدامات سے پوری اُمت کی روح مجروح اور دل زخمی ہوتے ہیں۔ امریکا میں بننے والی ایک اخلاق باختہ توہین آمیز فلم کے نتیجے میں، اگر لیبیا میں امریکی سفیر مظاہرین کے غم و غصے کا شکار بنتا ہے، فرانس میں اُڑائے جانے والے ناقابل بیان خاکوں پر چیچنیا تک میں لاکھوں انسان سڑکوں پر سراپا احتجاج بن جاتے ہیں، تو چاہیے تو یہ تھا کہ انسان دوستی کے دعوے دار اہل مغرب ان ناپاک ہاتھوں کوروکتے جو بار بار ان جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لیکن ترقی، تہذیب، قانون کی عمل داری اور انسانی حقوق کے نام نہاد علم بردار نہ صرف چپ سادھے بیٹھے ہیں، بلکہ مجرموں کی پشتیبانی کررہے ہیں۔ وہی مغرب جو خود کو پرندوں اور حیوانات سے محبت کرنے والا ثابت کرتے نہیں تھکتا، جہاں یہودیوں کے اس دعوے، کہ ہولوکاسٹ میں ان کے لاکھوں افراد جلا دیے گئے کے بارے میں کسی شک کا اظہار کرنا بھی نسلی تعصب قرار پاتا ہے،جہاں باقاعدہ قوانین بنادیے گئے ہیںکہ ہولوکاسٹ کے بارے میں یہودیوں کی روایت کردہ کہانی سے متصادم بات کرنے والے کو کڑی سزا دی جائے گی، اسی مغرب میں پونے دو اَرب انسانوں کے ایمان پر آرے چلانا، عین آزادی قراردیا جارہا ہے۔

مغرب کے ان دہرے معیارات کے خلاف اب خود مغرب سے آوازیں اُٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ اپنے پیش رو مسیحی پوپ کے برعکس حالیہ پوپ فرانسس نے بھی آزادی کے اس تصور کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’اگر کوئی میری ماں کو گالی دے گا تو اسے بھی میرے گھونسے کا منتظر رہنا چاہیے‘‘۔ یہاں تو معاملہ کسی ماں کا نہیں، اس سراپا رحمت ہستی کا ہے، جس کے سامنے دنیا کی تمام ماؤں کی محبتیں ہیچ ہیں۔ فن لینڈ کے وزیر خارجہ نے بھی آواز اُٹھائی ہے کہ خواتین کے خلاف کوئی بات کرے تو اسے شوفینزم کہا جاتا ہے، سیاہ فاموں کے خلاف بات کی جائے تو نسلی تعصب کہا جاتا ہے یہودیوں کے خلاف بات کی جائے تو سامیت کی خلاف ورزی کہا جاتا ہے، تو آخر مسلمانوں کے نبی کے بارے میں بات کرنا ہی کیوں آزادی اظہار کہلاتا ہے؟

ترک اخبار زمان میں عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید کے بارے میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار نے عہد عثمانی میں فرانس، برطانیہ اور امریکا میں آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا ڈرامے پیش کرنے کی مختلف کوششوں کا احاطہ کیاہے۔ سلطان عبد الحمید نے یہ ڈرامے پیش کیے جانے کی اطلاع ملتے ہی، ان تمام جسارتوں کو ناکام بنایا۔ اس ضمن میں کبھی تو فرانسیسی صدر نکولس ساری کارنٹ (۱۷۹۶ئ-۱۸۳۲ئ) کے نام مؤثر خط کام آیا، کبھی برطانوی وزیرخارجہ رابرٹ سالسبری (۱۸۹۵ئ-۱۹۰۲ئ) کے ساتھ ذاتی روابط کو استعمال کیا گیا، اور کبھی سلطان عبد الحمید نے برطانیہ بہادر کو دوٹوک انداز میں خط ارسال کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس گستاخی کو فوراً روکا جائے، وگرنہ میں خلیفۂ وقت کی حیثیت سے پوری اُمت مسلمہ کو تمھارے خلاف جہاد کاحکم جاری کردوں گا‘‘۔افسوس کہ آج نہ تو عالم اسلام میں کسی ملک کو عثمانی خلافت کی قوت و سطوت حاصل ہے اور نہ کوئی حکمران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر تڑپ کر اُٹھا اور ہر سفارتی، ذاتی اور حکومتی نفوذ استعمال میں لاتے ہوئے، اس فتنے کی سرکوبی کرنے کی کوشش کرکے سرخرو ہوسکا۔

اس پورے معاملے میں ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے، اور یہ نکتہ بھی خود بعض مغربی    ذمہ داران کی طرف سے اُٹھایا گیا ہے۔ مختلف اخبارات میں، مختلف ذمہ داران اور باخبر ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی رسالے پر حملہ، غم و اندوہ کا شکار کسی مسلمان نے نہیں کیا، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترک منصوبہ تھا۔ برطانوی اخبار دی انڈی پنڈنٹ فرانس کی ایک سیاسی جماعت کے بانی Jean Marie Le Pen کے حوالے سے لکھتا ہے کہ:’’حملہ امریکی یا اسرائیلی ایجنٹوں کا کام تھا جس کا مقصد اسلام اور مغرب کے درمیان خانہ جنگی کرواناتھا‘‘۔

روسی اخبار پراودا کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ: ’’میرا نہیں خیال کہ فرانسیسی خفیہ ادارے بھی اس میں شریک تھے، لیکن انھوں نے بھی اس واقعے کو ہونے دیا‘‘۔

صدر ریگن کے دور میں نائب وزیر خزانہ اور معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے ڈپٹی ایڈیٹر ڈاکٹر پال کریج نے بھی اپنے ایک مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ایک جعلی جھنڈے تلے آپریشن تھا، تاکہ فرانس کو امریکا کی مرضی کے مطابق پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔

اس طرح کے دیگر بیانات و مضامین میں دعویٰ کیا گیا ہے، کہ فرانس کئی بین الاقوامی مسائل میں امریکی پالیسیوں سے آزاد دکھائی دے رہا تھا، اس لیے اسے سزا دینے کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔ اس ضمن میں سوال اُٹھانے والوں نے کئی واقعاتی حقائق پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔ مثلاً یہ کہ:

  •  کارٹونسٹ اس سے قبل رسالے کے دفتر آنے کے بجاے بذریعہ ای میل خاکے ارسال کیا کرتے تھے، اس روز باصرار ان چاروں کو ایک ہی وقت دفتر بلایا اور اکٹھے بٹھایا گیا... آخر کیوں؟
  •  اخبار کا مرکزی دفتر ہمیشہ لاک رہتا ہے جسے صرف مخصوص کوڈ ڈائل کرکے ہی کھولا جاسکتا ہے۔ حملہ آوروں کو یہ کوڈ معلوم نہیں تھا، نہ ان چار کارٹونسٹوں کی آمد ہی کوئی معمول تھی کہ  ان کی آمد کا وقت معلوم ہوتا۔ لیکن عین اس وقت جب وہ چاروں کمرے میں پہنچ گئے، مرکزی دفتر پر متعین ایک خاتون ریسپشنسٹ دروازہ کھول کر باہر چلی گئی، دروازہ کھلا رہنے دیا اور ازخود بند ہوجانے والا دروازہ حیرت انگیز طور پر کھلا ہی رہا۔
  •   دونوں حملہ آور سگے بھائی کارروائی کرنے کے بعد کامل سکون سے فرار ہوئے، ان کے سامنے آنے والی پولیس کار نے بھی ان کی چند ہوائی گولیوں کے بعد انھیں کھلا راستہ دے دیا اور پھر بتایا گیا کہ وہ پیرس میں رُوپوش ہوگئے ہیں۔ ہر قدم پر کیمروں سے لیس پیرس میں، دن دہاڑے اس رُوپوش ہوجانے پر کسی نے اعتبار نہ کیا، تو اگلے روز ایک کاروائی میں دونوں کو قتل کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ ایک عمارت میں محصور ہوگئے تھے، تو انھیں زندہ گرفتار کیوں نہ کیا جاسکا تاکہ مزید حقائق سامنے آتے؟
  •   وہ پولیس افسر جو اس پورے واقعے کی تحقیقات پر مامور تھا، اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تحریر کرنے سے بھی پہلے، رات کے پچھلے پہر حیرت انگیز طور پر اپنے دفتر میں مردہ پایا گیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ اس نے خودکشی کرلی ہے، یعنی واقعے کے تمام کردار، کارٹونسٹ، ان کے قاتل اور تحقیق کار سب میں سے کوئی بھی دنیا میں نہ رہا۔

یہ سوالات برمحل اور حقیقی ہیں یا قطعی بے جواز و بے بنیاد، وقت ان سوالات کا جواب ضرور دے گا، لیکن اُمت مسلمہ، بالخصوص غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ وہ آیندہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کریں۔ پونے دواَرب کے قریب مسلمان، جن میں سے ۵۳ ملین مسلمان صرف براعظم یورپ میں رہتے ہیں (بحوالہ’دی انسٹی ٹیوٹ، جرمنی) ان گستاخیوں کا جواب کیا اور کیسے دیں؟

فرانس کے واقعے نے ایک بات تو یہ ثابت کردی کہ کسی رسالے کو تباہ کردینا یا گستاخوں کو قتل کردینا نہ صرف مؤثر نہیں ثابت ہوا، بلکہ اس کے منفی نتائج سامنے آئے ہیں۔ جس رسالے کی اشاعت ۵۵ سے ۷۰ ہزار تھی، اس ناپاک جسارت کے بعد اس نے دوبارہ خاکے شائع کیے اور اس کی اشاعت ۳۰ لاکھ سے تجاوز کرگئی۔ اس نے سیکڑوں مزید خاکے شائع کرنے اور کئی زبانوں میں رسالہ نکالنے کا اعلان کردیا۔ مغرب کے دہرے معیار کے باعث واقعے میں شریک دو افراد کو   دین اسلام ، قرآن حکیم، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور پوری اُمت مسلمہ کے خلاف دریدہ دہنی کا بہانہ بنالیا گیا۔ بلاتحقیق اور فوراً ہی واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف لاکھوں لوگ جمع کرلیے گئے۔ ۴۰سے زائد سربراہان مملکت بھی پہنچ گئے، جن میں سرفہرست دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور ہزاروں معصوم فلسطینی بچوں کا قاتل صہیونی وزیراعظم نتن یاہو تھا۔ وہ خود کو امن اور سلامتی کا ہیرو قرار دیتے ہوئے اور دوسرے عالمی رہنماؤں کو (حقیقتاً) کہنیاں مارتے ہوئے خود کو سب سے نمایاں کرتا رہا۔ لیکن ان لاکھوں مظاہرین میں سے تمام عالمی سربراہوں اور دنیا کے  کسی شخص نے یہ بتانے کا تکلف نہیں کیا کہ جو ۱۲؍ افراد حملے میں مارے گئے، ان میں احمد مرابط نامی ایک پولیس ملازم اور مصطفی اوراد نامی رسالے کا ایک ملازم بھی شامل تھے۔ اگر دو حملہ آوروں کے باعث پورا دین اور پوری اُمت مطعون کی جاسکتی ہے، تو دو مسلمان مقتولین کی وجہ سے پوری اُمت کے ساتھ اظہار یک جہتی کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ شاید اس لیے کہ ان دو مقتولین میں سے ایک کا نام احمد اور دوسرے کا نام مصطفی ہے، یعنی یہ دونوں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اُمتی اور عاشق تھے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مغرب کے اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے، خود مغرب میں مقیم انصاف پسند اکثریت کے دل و دماغ پر دستک دی جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی سزا یقینا موت ہے۔ الحمدللہ پاکستان کو توہین رسالت کا قانون بنانے کا اعزاز حاصل ہے (اگرچہ اس پر عمل درآمد کا طریقہء کار، مزید شفاف اور مامون و محفوظ بنانے کی ضرورت ہے) لیکن غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے، ہمارے لیے مکی دور کا وہ اسوۂ حسنہ انتہائی اہم ہے کہ جس میں فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ کی تعلیم دی گئی۔ توہین آمیز خاکے دیکھ کر جس طرح ہر مسلمان کرب محسوس کرتا ہے، اگر وہ اس کرب کے نتیجے میں رسول اکرمؐ کی سیرتِ مطہرہ اور اسلام کا روشن اُجلا چہرہ مؤثر انداز سے دنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کردے، اور سب سے پہلے خود اپنے آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا اُمتی اور حقیقی مطیع فرمان بنانے کی سعی کرے، تو ایسا کرنا یقینا کسی بھی جلاؤ گھیراؤ اور مارو یا مرجاؤ سے زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

اگر اُمت مسلمہ مل کر فیصلہ کرلے کہ جو ممالک اور کمپنیاں بھی حبیب کبریاؐ کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوں گی، ان کی مصنوعات کا مؤثر بائیکاٹ کرنا ہے، تو دمڑی کے پجاری مغربی سوداگر، خود ان خاکوں کا راستہ روکنے کے لیے میدان میں آئیں گے، جیسا کہ اس سے پہلے ناروے اور ڈنمارک میں کامیاب تجربہ ہوچکا ہے۔

آج، جب کہ دنیا ایک بستی کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ کسی بھی خطے میں رُوپذیر واقعے کی حرارت پلک جھپکنے میں پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے اور اسے متاثر کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی شخص، گروہ، حکومت یا ملک کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عدل و انصاف کی حدود سے تجاوز کرسکے۔عالمی سطح پر ایسی قانون سازی کی جائے کہ خود آیندہ ایسے فتنوں کا سدباب ہوسکے۔ چاہیے تو یہ تھا عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور اسلامی تنظیم براے تعاون (OIC) اس کام کا بیڑا اُٹھاتیں،لیکن دونوں کی حیثیت اس وقت کسی بے بس و بے کس مریض سے زیادہ نہیں رہ گئی۔ اگر اقوامِ عالم یا مسلم ممالک مخلصانہ سعی کریں، تو اس مریض کو شفا مل سکتی ہے۔

اگر عالم اسلام کا ہر باسی اپنی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالے کہ ان مکروہ واقعات پر وقتی ردعمل اور زبانی جمع خرچ کے بجاے وہ عالمی سطح پر ان کے خلاف قانون سازی کروائے تو خود پوپ اور لاتعداد مغربی دانش وروں اور سیاسی زعماء میں سے ایسے لوگ مل جائیں گے جو تمام انبیاے کرام ؑ اور کتب ِمقدسہ کے احترام کے لیے یک جان ہوکر میدان میں آجائیں۔

حرارت ایمانی یقینا شب بھر میں مسجد تعمیر کرواسکتی ہے، لیکن خود کو مستقل اور حقیقی نمازی بنانا، زیادہ کڑی اور اصل آزمایش ہے۔ وگرنہ کیا اپنے نبی کی حرمت و ناموس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی حفاظت رب ذو الجلال کے لیے کوئی مشکل کام ہے؟ اہل طائف نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لہولہان کردیا، اور آپ ایک باغیچے کی دیوار سے ٹیک لگاکر اپنے رب سے مناجات کرنے لگے، تو اللہ نے پہاڑوں کے منتظم فرشتے کو آپؐ کی خدمت میں بھیجا۔ ’’اگر آپؐ فرمائیں ، تو میں سب اہل طائف کو ان پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں‘‘؟ فرشتے نے عرض کی۔ آپؐ نے فوراً فرمایا: بَلْ أرجُو أن یُخرِجَ اللّٰہُ مِن أصلابِہِم مَن یَّعبُدُ اللّٰہ وَحدَہُ لا یُشرِکُ بِہ شَیئًا ،’’نہیں، مجھے اُمید ہے کہ اللہ ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی بندگی کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھیرائیں گے‘‘۔ اللہ رب العزت نے رسولِ رحمتؐ کی یہ اُمیدیں پوری کردیں اور اہل طائف سمیت پورا جزیرۂ عرب مشرف بہ اسلام ہوگیا۔

میدان اُحد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید کردیے گئے تو کسی نے تڑپ کر عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! أُدعُ اللّٰہَ عَلَیہِم، ’’یارسولؐ اللہ! ان کے لیے بددُعا کیجیے‘‘۔ آپؐ  نے فوراً ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْنِی طَعَّاناً وَلَا لَعَّاناً وَ لٰکِنْ بَعَثَنِی دَاعِیَۃً وَرَحْمَۃً۔ اَللّٰہُمَّ اھْدِ قَوْمِی فَاِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ، ’’اللہ نے مجھے لعن طعن کرنے والا بناکر نہیں بھیجا۔ اللہ نے مجھے داعی اور رحمت بناکر بھیجا ہے۔ اے اللہ! میری قوم کو ہدایت عطا فرما یہ لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔

آج مشرق و مغرب میں بسنے والے ہم سب گنہگار اُمتی، اسی دعوت و رحمت کے وارث ہیں۔ ہماری بعض کرتوتوں اور دشمن کی مکارانہ سازشوں کے باعث دنیا میں ہمارا تعارف ایک وحشی، خوں خوار ، جاہل و گنوار اُمت کی حیثیت سے کروایا جارہا ہے۔ ہمیں دوسرے گستاخوں کا منہ نوچنے سے پہلے، خود اپنے منہ پر لگی کالک بھی دھونا ہوگی۔ توہین و گستاخی صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی مردود آپؐ  کے خاکے اُڑانے لگے۔ یہ بھی آپؐ  اور آپؐ  کے لائے ہوئے دین و شریعت کی شان میں گستاخی ہے کہ ہماری زبان پر تو آپؐ   کا نام نامی ہو اور ہمارے اعمال کفار و مشرکین سے بھی بدتر ہوں۔

آج اگر غیر مسلم ممالک کی اکثریت کا جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ وہ اسلامی معاشرت کی بہت سی خوبیوں کو اپناکر، ترقی کی منزلیں طے کررہے ہیں۔ اور یہ بھی ایک بہت بڑی سچائی ہے کہ ان کی ایک غالب اکثریت، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت کو جانتی ہی نہیںہے۔ یقینا کئی مخصوص لابیاں انھیں گمراہ کرنے، اور ان کے سامنے اُمت کا چہرہ مسخ کرکے    پیش کرنے میں مصروف ہیں، لیکن اب بھی ان کی غالب اکثریت اُمت کے بارے میں کسی تعصب کا شکار نہیں ہے۔ آج اگر ہمدردی، محبت اور مثبت انداز سے آپؐ  کے اصل مشن ’دعوت و رحمت‘ کو اپنا لیا جائے تو یقینا پوری انسانیت راہِ نجات اختیار کرلے گی کہ یہی خالق کائنات کا فیصلہ ہے۔ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ، ’’تاکہ وہ (اسلام کو) تمام ادیان پر غالب کردے‘‘۔ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ ،’’ اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا‘‘۔

 آئیے ہم سب اپنا اصل مشن پورا کرنے میں جت جائیں۔ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و حرمت و ناموس محفوظ ہوجائے۔ اگر ہم سب آج سے اپنی دُعا اور اپنا شعار یہ بنالیں کہ اَللّٰہُمَّ اھْدِ قَوْمَنَا فَاِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ’’اے اللہ! میری قوم کو ہدایت عطا فرما، یہ لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘___ تو کامل یقین رہنا چاہیے کہ آج سے چندبرس بعد دنیا کا نقشہ ہی مختلف ہوگا!

 

کتابچہ دستیاب ہے، قیمت: ۸ روپے۔ سیکڑے پر خصوصی رعایت، منشورات، منصورہ، لاہور