دسمبر۲۰۰۷

فہرست مضامین

یورپ کا بے بنیاد خوف

| دسمبر۲۰۰۷ | اسلام اور مغرب

Responsive image Responsive image

برطانیہ کے ایک معروف اخبار دی گارڈین (۱۱ اکتوبر ۲۰۰۷ء) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یورپ میں جو مسلمان آباد ہیں‘ ان میں اپنے دین سے وابستگی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ان میں دینی شعور بیدار ہو رہاہے اور اپنے دین پر عمل کرنے کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔

دین اسلام کی تعلیم کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ یہ بتاتا ہے کہ انسان حادثاتی طور پر اس دنیا میں  نہیں آگیا ہے‘ بلکہ وہ یہاںبھیجا گیا ہے۔ اس کی اصل حیثیت بندے کی ہے اور اسے اس دنیا میں اپنے رب کا‘ اپنے پالنہار کا بندہ بن کر رہنا ہے۔ اسے اپنی ساری عمر اس کی بندگی میں گزارنی ہے۔

اسلام کی دوسری تعلیم یہ ہے کہ انسان کو خود ہی رب کا بندہ نہیں بن کر رہنا ہے‘ بلکہ تمام انسانوں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلانا ہے۔ اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کی دعوت دینی ہے۔ یوں تو اللہ کا بندہ کہیں بھی اپنے رب کے آگے جھک سکتا ہے اور سجدہ ریز ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے  بعض مقامات مخصوص کرلیے گئے ہیں جنھیں مسجد کہا جاتا ہے۔ یہ مسجدیں اس کی مظہر ہیں کہ    یہاں رب کے آگے اس کے بندے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کی تہذیب و معاشرت میں مسجد کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ مسجد اسے بندگیِ رب کی طرف بلاتی ہے۔ اس کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اسے اپنے رب کا بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ اس لیے اس کو ایک محور کی حیثیت حاصل ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یورپ میں مساجد کی تعمیر کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ یہ رپورٹ بھی عالمی خبررساں ایجنسیوں کی دوسری رپورٹوں کی طرح ایک منفی رپورٹ ہے اور    اس میں ایک منفی تصویر ہی پیش کی گئی ہے‘ تاہم اس سے یورپ میں آباد مسلمانوں کے رجحان کا   پتا چلتا ہے‘ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ظاہر ہے  اس میں یہ تو نہیں بتایا گیا ہے کہ یورپ میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے‘ تاہم اس کو چھپانا بھی مشکل ہے۔

ویسے تو یہ رپورٹ سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھتی ہے اور اس میں اس کے ایک چھوٹے سے قصبے وانگن کی ایک مخصوص صورت حال اور کیفیت کا تذکرہ ہے‘ تاہم نامہ نگار ایان ٹرینر یہ بھی بتاتا ہے کہ جس مخصوص صورت حال کا اس نے تذکرہ کیا ہے‘ یورپ کے دوسرے ممالک بھی اس کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ ان میں اٹلی‘ آسٹریا‘ جرمنی اور ہالینڈ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

اس رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ یورپ میں اسلام کو سمجھنے کی کوششیں بھی ہورہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دونوں قسم کے ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ کچھ اس کی مخالفت کر رہے ہیں   توکچھ کو اس کی موافقت کی توفیق بھی مل رہی ہے۔ یہاں تک کہ قبولیتِ اسلام کے واقعات بھی درج کیے جارہے ہیں‘ اور یہ دونوں ردعمل شعوری طور پر ہورہے ہیں۔

نامہ نگار نے سوئٹزرلینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے کی ایک مخصوص صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ ۲۱ویں صدی ایک انداز میں یہاں نمودار ہورہی ہے۔ اس نے اس کو خطرے کی علامت قرار دیا ہے۔ وہ یہ بتاتا ہے کہ یہاں ترک تارکینِ وطن کی ایک چھوٹی سی آبادی کافی عرصے سے مقیم ہے۔ انھوں نے ایک انجمن بھی بنا رکھی ہے۔ یہاں کے مسلمان ایک مکان کے نیچے کے حصے میں پنج وقتہ نماز اور نمازِ جمعہ ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ وہ اس کو باقاعدہ مسجد  کی شکل دینے کے لیے بھی برسوں سے کوشاں تھے۔ اس کی قانونی جدوجہد بھی کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا مسئلہ سوئٹزرلینڈ کی سب سے اونچی عدالت‘ یعنی سپریم کورٹ تک پہنچا اور بالآخر انھیں کامیابی مل گئی۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ انھیں اس عمارت پر ایک مینار بنانے کی اجازت مل جائے۔ برسوں کی جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ نے انھیں اس عمارت پر چھے میٹر اُونچا مینار بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پر مسلمانوں کو خوشی تو ضرور ہوئی ہے مگر وہ اس کو دوسروں کو چڑانے کا موضوع نہیں بنانا چاہتے۔ رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ اس فیصلے سے وہاں کی عیسائی آبادی کے ایک حلقے میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں مذکورہ عیسائی حلقے کے احساسات کو عام احساس بنا کر پیش کیا گیا ہے۔اس کا کہنایہ ہے کہ یورپ میں مساجد کی تعداد میں اضافے کو خطرے کی علامت تصور کیا جا رہا ہے۔  اس قصبے کے ایک باشندے رولینڈ کسلنگ کا یہ احساس نامہ نگار نے قلم بند کیا ہے کہ چھوٹے قصبوں کے لیے تو یہ مساجد کوئی مسئلہ نہیں لیکن شہری آبادی میں ان کی وجہ سے مسائل پیدا ہوں گے۔ کس طرح کے مسائل پیدا ہوں گے؟ اس کی وضاحت یا تو اس نے نہیں کی‘ یا نامہ نگار نے اس کے حوالے سے یہ بتانا مناسب نہیں سمجھا‘ تاہم اس نے دائیں بازو کی ایک سیاسی پارٹی سوئس پیپلز پارٹی (ایس وی پی) کے ایک ممبر پارلیمنٹ الرخ شولر کے اس مسئلے پر احساسات کو اپنی رپورٹ کا نہ صرف حصہ بنایا ہے‘ بلکہ اس کو اس مسئلے پر یورپ کے عام رجحان کے طور پر پیش کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ پارٹی ملک کی سب سے بڑی اور طاقت ور سیاسی پارٹی ہے اور اس کی کوشش یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی ایک عیسائی ملک کی حیثیت کو بحال رکھا جائے۔ اس کے   خیال میں اس پر عیسائی تہذیب و ثقافت کا ہی غلبہ ہونا چاہیے۔ یورپ کی سرزمین پر وہ کسی دوسری تہذیب و ثقافت کو پھلتا پھولتا ہوا ہرگز نہیں دیکھ سکتی۔

نامہ نگار نے آگے جو بات لکھی ہے‘ وہ یہ بتا رہی ہے کہ الرخ شولر کی مخالفت ایک سوچی سمجھی مخالفت ہے۔ وہ ناواقفیت یا نادانی پر مبنی نہیں ہے کیونکہ شولر کے الفاظ میں اسلام محض ایک مذہب نہیں‘ بلکہ وہ ایک نظریۂ حیات ہے‘ ایک طریقۂ زندگی ہے جس کا اپنا ایک نظامِ قانون ہے جس کو شریعت کہتے ہیں اور یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ لہٰذا اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کام سیاست دانوں نے نہیں کیا تو عوام کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں مساجد سے کوئی تعرض نہیں ہے لیکن مینار ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک سیاسی قوت کی علامت ہے۔ اور یورپ میں کوئی دوسری سیاسی قوت اُبھرے اور اس کو عروج حاصل ہو‘ یہ ناقابلِ برداشت ہے۔ اس لیے انھوں نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں دستور کی رو سے میناروں کی تعمیر کو ممنوع قرار دیا جائے۔

نامہ نگار یہ بتاتا ہے کہ آسٹریا میں بھی دائیں بازو کی انتہاپسند جماعت کے لیڈر‘ جوروگ ہیدر نے بھی ریڈیکل اسلام کا راستہ روکنے کے بندوبست شروع کردیے ہیں اور مغربی کلچر کو اس کی زد سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی حال اٹلی کا ہے جہاں دائیں بازو کی ایک انتہاپسند جماعت ناردرن لیگ نے مسلمانوں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ اس کی اس شدید مخالفت کی وجہ سے بولونا اور جے نوا کے میئروں نے مساجد کی تعمیر کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ جرمنی اور ہالینڈ میں بھی مساجد کو ایک زبردست خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

یورپ کو دراصل یہ خوف لاحق ہے‘ یا نہایت ہوشیاری سے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر اسلام کا راستہ نہیں روکا گیا اور اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو چیک نہیں کیا گیا تو اس کی بالادستی چھن جائے گی۔ حالانکہ یورپی باشندوں اور دانش وروں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام نسل پرستی کی دعوت نہیں دیتا‘ نہ یہ قوم پرستی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کی دعوت کسی گروہ کی طرف بھی نہیں ہے‘ بلکہ وہ تو نظریے کی طرف بلاتا ہے۔ ایک اللہ کی طرف اس کی پکار ہے جو تمام انسانوں کا رب ہے۔ اس لحاظ سے یہ انسانیت کی دعوت ہے۔ اس لیے یورپ کو خوف کھانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اسے تو معقولیت پسندی سے کام لیتے ہوئے عقل و خرد کی روشنی میں جائزہ لینا چاہیے اور صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنا چاہیے۔(سہ روزہ دعوت‘ ۲۲ اکتوبر ۲۰۰۷ء)