مصطفی محمدالطحان
|
اکتوبر ۲۰۰۸
|
اسلامی تحریکیں، بین الاقوامی تعلقات، استعماریت، افریقی تاریخ، جغرافیائی سیاست، قدرتی وسائل و اقتصادیات
افریقہ اسلام سے اس وقت متعارف ہوا تھاجب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ ساتھیوں کو حبشہ (Abysinia) کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا تھا جس سے مقامی لوگ نہ صرف اسلام سے واقف ہوئے بلکہ کئی ایک نے اسلام بھی قبول کرلیا۔ حضرت عمروؓ بن العاص کے ہاتھوں مصر کی فتح کے بعد اسلام تیزی سے افریقہ میں پھیلنے لگا۔ شمالی افریقہ فتح ہوا اور بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے۔ پھر اسلام نے صحراے اعظم کے جنوبی علاقوں کا رخ کیا تو افریقہ میں کئی اسلامی ممالک وجود میں آئے جیسے ’گھانا‘ اور ’مالی‘ کی مملکتیں۔ پھر مشرقی افریقہ میں ’زنجبار‘ اور اس کے اردگرد کے علاقے حتیٰ کہ ’موزنبیق‘ میں بھی اسلامی مملکت قائم ہوئی۔
افریقہ کا سرمایہ لوٹنے، نیز وہاں کی اسلامی اور جہادی تحریکوں کو کچلنے کے لیے استعماری قوتوں نے ہمیشہ افریقہ کو اپنا ہدف بنائے رکھا ہے۔ آغاز پرتگال نے کیا، پھرہسپانیہ آگے بڑھا اور اسلامی علاقوں پر دھاوا بول دیا۔ خاص طور پر افریقہ میں، اہم ترین وہ استعماری صلیبی یلغار تھی جس میں فرانس، انگلستان، ہالینڈ، بیلجیئم، اٹلی اور جرمنی شریک ہوئے۔ نمایاں استعماری اہداف یہ تھے:
غرض یہ کہ سامراج نے افریقہ کو تقسیم کیا، وہاں کا سرمایہ لوٹا اور وہاں کے باشندوں کو غلام بناکر لے گئے اور انھیں خاص طور پر امریکا میں نئی دنیا کی منڈیوں میں لے جاکر فروخت کرڈالا۔
سامراجی تاریک دور کے خاتمے کے بعد افریقی ممالک سامراجی پنجے سے آزاد ہوئے تو وہاں ایسی سیکولر حکومتیں قائم ہوئیں جو مغربی استعمار کی پالیسیوں پر کاربند تھیں۔ افریقہ میں ایک طرف تو استعمار مخالف وطنی و قومی تحریکوں نے جنم لیا، جب کہ دوسری طرف اسلامی تحریکیں وجود میں آئیں جو اسلام کی عظمتِ رفتہ کو ازسرنو بحال کرنا چاہتی تھیں اور عربی زبان کے احیا و فروغ کے لیے کوشاں تھیں۔ اب تک افریقہ میں اسلامی تحریکیں مضبوطی سے قائم ہیں اور ان میں سرفہرست ’اخوان المسلمون‘ ہے، جو نہایت تیزی سے پھیلی اور جسے عوام میں زبردست پذیرائی ملی۔ اسی طرح جماعت اسلامی بھی ایک مستحکم تحریک ہے۔ وٹیکن کے اس زعمِ باطل ___ کہ اس کی مقرر کردہ مدت میں افریقہ عیسائی ہوجائے گا ___ کے علی الرغم حقیقت یہ ہے کہ افریقہ اپنی اصل، یعنی اسلام کی طرف تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔
خلیجِ گِنّی کے تیل کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اسے امریکا تک لے جانے کے لیے زیادہ اخراجات برداشت نہیں کرنے پڑتے کیونکہ یہ امریکی ساحل بحرِاوقیانوس کے دوسرے کنارے پر ہے۔ اس کے برعکس بحرِقزوین کا تیل امریکا منتقل کرنے کے لیے امریکا کو پُرامن راستوں کی تلاش کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اسی طرح خلیج اور عراق کے تیل کے حصول اور اس کی فراہمی کو مستقل بنانے کے لیے امریکا کو جنگیں لڑنا پڑتی ہیں، لہٰذا افریقی تیل اس کے لیے ایک بہترین متبادل ہے۔
افریقہ میں امریکا کے اس بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مطلب ہے صہیونی اثرات میں وسیع اضافہ اوربڑے پیمانے پر عربوں کی پسپائی۔ افریقہ میں جو عالمِ عرب کے لیے جنگی حکمت عملی کا اہم ترین قدرتی مقام ہے، اگر یہ صورتِ حال برقرار رہتی ہے تو پھر عرب بہت کچھ کھو بیٹھیں گے۔
پورا قرنِ افریقہ (صومالیہ، جیبوتی، اریٹیریا اور ایتھوپیا) علاقے کو درپیش رکاوٹوں کے باوجود بین الاقوامی نظام میں مؤثر قوتوں کی دل چسپی کا مرکز بنا ہوا ہے، خواہ سردجنگ کا زمانہ ہو یا اس کے بعد کا دور۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان وجوہات میں سے ایک اس علاقے کا جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے اہم ہونا بھی ہے۔ یہاں سے کئی اہم سمندری راستوں تک آسانی سے رسائی ہوسکتی ہے، یعنی بحرِاحمر، خلیج عدن اور بحرِہند تک۔ یوں یہ علاقہ بین الاقوامی تجارت کے راستوں اور خلیج عرب سے مغربی یورپ اور امریکا تک تیل کی منتقلی کے راستوں پر محیط ہے۔ یہ علاقہ دریاے نیل کے آس پاس کے علاقوں پر بھی مشتمل ہے۔
افریقہ میں تیل کی دریافت نے افریقہ میں بین الاقوامی دل چسپی کو بڑھا دیا ہے۔ ۱۹۷۹ء میں پہلی بار سوڈان میں تیل کے کنویں دریافت ہوئے تھے۔ مگر اندرونی کش مکش اور تصادم کی وجہ سے پٹرول نکالنے والی کمپنیوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ۹۰ کے عشرے کے آغاز ہی میں کئی تیل کمپنیاں واپس سوڈان آگئیں تو نہ صرف جنوبی سوڈان سے تیل نکالا جانے لگا بلکہ سوڈان کے شمال، شمال مغرب اور دریاے نیل کے آس پاس کے علاقوں سے بھی تیل نکالا جانے لگا۔ امریکا کو توقع ہے کہ افریقہ کے تیل کی برآمدات کی شرح میں اضافہ ہوگا اور ۲۰۱۰ء کی آمد کے ساتھ ہی افریقہ سے امریکا کو بھیجے جانے والا تیل، امریکا کی تیل کی کُل برآمدات کا ۲۵ فی صد ہوجائے گا، جب کہ چین اب بھی اپنی تیل کی کل برآمدات کا ۲۵ فی صد براعظم افریقہ سے حاصل کرتا ہے۔
۱- امریکا کا سوڈان کے موجودہ حکمرانوں کے خلاف معاندانہ و مخاصمانہ موقف۔ (’اور اب سوڈان‘، عبدالغفار عزیز، شمارہ اگست ۲۰۰۸ئ)
۲- صومالیہ کی اسلامی عدالتوں کے خلاف امریکی موقف۔ (’صومالیہ: اسلامی قوتوں کی فتح‘، حافظ محمد عبداللہ، شمارہ جولائی ۲۰۰۸ئ)
امریکا نے صومالیہ میں، ایتھوپیا کی مدد کر کے اس سے مداخلت کروائی اور یوں دارالحکومت مغادیشو سے اسلامی عدالتوں کو پسپا کروا دیا۔ حالانکہ صومالیہ میں ’سیادبری‘ کی حکومت کے سقوط کے بعد سے لے کر اب تک پہلی بار داخلی امن و استحکام انھی اسلامی عدالتوں کی برکت سے پیدا ہوا تھا۔