سیّد ابوالاعلیٰ مودودی


انکارِ آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص ، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی۔ اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور انسانی تاریخ شاہد ہے کہ زندگی کے اِس نظریے کو جس قوم نے بھی اختیار کیا ہے، وہ آخرکار تباہ ہوکر رہی ہے۔ 

[سرکش قوموں کی گرفت کےبارے میں فرمایا گیا کہ] یہ لوگ تو اُس خوش حالی اور شوکت و حشمت کو پہنچ بھی نہیں سکے ہیں جو تُبّع [قبیلۂ حمیر کے بادشاہوں کا لقب جیسے کسریٰ، قیصر، فرعون وغیرہ]کی قوم، اور اُس سے پہلے سبا اور قومِ فرعون اور دوسری قوموں کو حاصل رہی ہے۔ مگر یہ مادّی خوشحالی اور دُنیوی شان و شوکت اخلاقی زوال کے نتائج سے اُن کو کب بچا سکی تھی کہ یہ اپنی ذرا سی پُونجی اور اپنے ذرائع و وسائل کے بل بوتے پر اُن سے بچ جائیں گے۔ 

جو شخص بھی حیات بعد الموت اور آخرت کی جزا و سزا کا منکر ہے، وہ دراصل اس کارخانۂ عالم کو کھلونا اور اس کے خالق کو نادان بچّہ سمجھتا ہے۔ اِسی بناپر اُس نے یہ رائے قائم کی ہے کہ انسان دُنیا میں ہر طرح کے ہنگامے برپا کرکے ایک روز بس یونہی مٹی میں رَل مِل جائے گا اور اس کے کسی اچھے یا بُرے کام کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا، حالانکہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کی نہیں بلکہ ایک خالق حکیم کی بنائی ہوئی ہے، اور کسی حکیم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ فعلِ عبث کا ارتکاب کرے گا۔  

انکارِ آخرت کے جواب میں یہ استدلال قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ 

(’تفہیم القرآن‘ ، سورۃ الدخان سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۶۵ء، ص ۲۶-۲۷) 

درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کی کتاب اس کے اپنے الفاظ میں ہمارے پاس موجود ہے۔ دنیا کی دوسری قوموں کے پاس بھی اللہ تعالیٰ کی کتابیں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول آئے۔ خود قرآن مجید فرماتا ہے کہ ہر قوم میں رسول آئے ہیں اور ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام بھیجا ہے۔ لیکن کوئی قوم اُس اصل پیغام کو جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا، اس کے اپنے الفاظ میں محفوظ نہیں رکھ سکی۔ صرف قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کے اندر انسانی کلام کے ایک لفظ کی آمیزش بھی نہیں ہو سکی اور خالص اللہ تعالیٰ کی زبان میں یہ کتاب موجود ہے۔  

اگر ایک آدمی عربی زبان وادب کا ذوق رکھتا ہو اور وہ قرآن کو پڑھے تو فی الواقع اس کی روح وجد میں آجاتی ہے، کیونکہ اس کے اندر اس بلا کی تاثیر ہے، اس قدر زبردست کشش ہے اور اس کے اندر اتنی پُرزور Spirit بھری ہوئی ہے کہ آدمی کے لیے بعض اوقات ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یا تو وہ رو پڑے، یا پھر سر دُھنتا رہ جائے۔ 

اس کے علاوہ ایک دوسری عجیب و غریب چیزجو ہم دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ دوسری کتابیں جو خدا کی کتابوں کی حیثیت سے پیش کی جاتی ہیں، ان میں پورا ایک مضمون کئی کئی صفحوں میں بیان کیا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام ایسا شاہانہ کلام ہے کہ جب ہم اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ کے کلام میں دیکھتے ہیں تو وہ ایک دو فقروں کے اندر بیان کیا گیا ہے۔ وہ ایک دو فقرے بھی ان تمام عبارتوں کے مقابلے میں جو ہمیں دوسری کتابوں میں ملتی ہیں زیادہ بھاری، زیادہ بامعنی اور زیادہ مؤثر ہیں۔ 

اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ الٰہی کلام میں اور وہ انسانی کلام جو الٰہی کلام کی تفسیر وتاویل کرتا ہے یا ترجمانی کرتا ہے، اس میں کیا عظیم الشان فرق ہے۔ 

دوسری الٰہی کتابیں جن زبانوں میںآئی تھیں، اُن زبانوں میں وہ اب محفوظ نہیں ہیں۔ صرف ان کے ترجمے ہیں جیساکہ بروہی صاحب (اے کے بروہی) نے فرمایا اور بالکل صحیح فرمایا کہ خدا کے کلام کا ترجمہ ممکن ہی نہیں ہے۔ کوئی دوسری زبان ایسی نہیں ہوسکتی جس میں خدا کے کلام کا ترجمہ کیا جاسکے۔ 

اب جن قوموں کے پاس خدا کا کلام محفوظ نہیں ہے اور صرف ان کے ترجمے محفوظ ہیں، وہ ایک بہت بڑی نعمت سے محروم ہیں۔ اور جس قوم کے پاس خدا کا کلام موجود ہے ، اور اپنی اصلی شکل میں موجود ہے، اصل الفاظ میں موجود ہے اور اسی ترتیب کے ساتھ موجود ہے جس ترتیب کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کے ذریعے سے اس کو مرتب کروایا تھا، اس سے زیادہ بدقسمت پھر کوئی قوم نہیں ہے جو اُس کتاب سے فائدہ نہیں اُٹھاتی، خود اس کتاب سے کوئی سبق نہیں لیتی اور دنیا تک اس کتاب کے نور کو پہنچانے کی کوشش نہیں کرتی۔ جتنے بدقسمت وہ لوگ ہیں، جنھوں نے اصل کتابِ الٰہی کو کھو دیا اور صرف ترجمے ان کے پاس رہ گئے، اُس سے زیادہ بدقسمت وہ لوگ ہیں جن کے پاس اصل کتاب موجود ہے اور وہ اس سے استفادہ نہیں کرتے اور نہ دنیا تک اُس کے نور کو پہنچاتے ہیں۔  

محض عربی دان ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کئی بلندپایہ عربی دان تو عیسائیوں میں بھی ملتے ہیں، بڑے بڑے معروف ادیب ہیں۔ خود مسلمانوں میں بھی بکثرت ایسے ادیب ہیں، جنھوں نے قرآن مجید آج تک نہیں پڑھا ہے حالانکہ انھیں عربی زبان بھی آتی ہے۔ پھر جن کی مادری زبان عربی ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے بھی قرآن مجید نہیں پڑھا ہے۔ اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے! 

ہماری یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ خود اس کتاب کو سمجھیں ، اس کتاب کا اپنی زندگی پر پوری طرح اثر قبول کریں، اور اس کتاب کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں ۔ اس کی روح اور اس کی Siprit کو اپنے اندر جذب کریں اور اس کے بعد ساری دنیا تک اس کو پہنچائیں ۔ یہ ہماری ذمہ داری اور responsibility ہے۔  

جب ہم مغربی دنیا میں جاتے ہیں تو وہاں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ صرف اس وجہ سے بہک رہے ہیں کہ ان کو حقیقی روشنی نہیں مل رہی۔ کوئی ہپّی (Hippy، ملنگ) بن رہا ہے ۔ کس وجہ سے؟ صرف اس لیے کہ جو اس کی زندگی ہے اس سے وہ مطمئن نہیں ہے۔ کوئی بودھ ازم کی طرف جا رہا ہے، کوئی ہندوازم کی طرف چلا جا رہا ہے، کوئی سکھ بن رہا ہے۔ اس طرح سے مختلف قسم کے عجیب وغریب تجربات لوگ کر رہے ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ اصل روشنی ان کے پاس نہیں پہنچی۔  

اگر آپ اپنے گردوپیش میں ایسے چند آدمی بھی پائیں کہ جو قرآن مجید کو کم از کم انگریزی زبان ہی میں، اس کی اصل روح کے مطابق لوگوں کے سامنے پیش کریں، اور اس زمانے کے آدمی کے سمجھنے کے قابل عبارت میں اس کو پیش کریں تو یہ ایک بہت بڑی خدمت ہو گی ، نہ صرف اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے بلکہ دنیا کی رہنمائی کے لیے بھی۔  

آج انسان اس چیز کا طالب ہے جس کو وہ نہیں جانتا کہ وہ کس چیز کا طالب ہے ؟ وہ ایک پیاس محسوس کر رہا ہے، مگر اسے نہیں معلوم کہ اسے کس چیز کی پیاس ہے ؟ جب اُس کے پاس یہ چیز پہنچے گی اور اس زبان میں پہنچے گی کہ جس کو وہ سمجھتا ہو، تب اس کو معلوم ہو گا کہ ہاں، یہ وہ چیز تھی جس کا میں پیاسا تھااور اس سے وہ سیراب ہو گا۔  

متعدد آدمی ایسے میرے علم میں ہیں کہ جب ان کے سامنے اسلام کو اس کی اصلی روح میں پیش کیا گیا، اور ان کو بتایا گیا کہ قرآن مجید یہ ہے اور یہ اس کی تعلیم ہے، تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور وہ حیران ہو گئے کہ’’کیا فی الواقع ایسی چیز دنیا میں موجود ہے اور ہم اس سے ناواقف ہیں؟‘‘ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ کتنی بڑی ذمہ داری ہمارے اوپر عائد ہوتی ہے کہ ہمارے پاس وہ شے موجود ہے مگر ہم نہ خود اس سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اورنہ دنیا کو اس کا فائدہ پہنچا رہے ہیں۔  

اس لیے میں ایسے تمام لوگوں کو انتہائی قابلِ قدر سمجھتا ہوں، جو موجودہ زمانے کی زبان میں لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیمات سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور میں چاہتا ہوں کہ اس ملک میں جتنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ قابلیت عطا فرمائی ہے کہ وہ بیرونی زبانوں میں، انگریزی میں یا فرنچ میں، اور دوسری زبانوں میں قرآنِ مجید کی تعلیمات سمجھا سکتے ہیں، وہ اس خدمت کو ضرور انجام دیں۔ خود ہماری نئی نسلیں بھی بگڑ رہی ہیں اور دنیا کے لوگ بھی صرف اس وجہ سے گمراہ ہیں کہ ان کو حقیقی روشنی کی ہدایت نہیں مل رہی۔  

 ۲۳مئی ۱۹۷۵ء کو ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل ،لاہور میں مختصر خطاب 

سوال : [آپ کی کتاب] خطبات میں عبادات کے مقاصد کے تذکرے پر یہ اعتراض اُٹھایا گیا ہے کہ آپ نے صرف ان کے دُنیوی فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ عبادات کے اُخروی فوائد کا یا تو ذکر ہی نہیں کیا، یا اگر کیا بھی ہے تو ثانوی درجے کی حیثیت سے۔ اس کے جواب میں ہم اپنے علم کے مطابق وضاحت کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر معترضین ہمارے جواب سے مطمئن نہیں ہوتے۔ اس لیے خود آپ کی توضیح زیادہ مفید ہوگی بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کتابوں کی عبارتوں میں ضروری ترمیم کر دی جائے۔ آخر میں یہ خوش خبری بھی عرضِ خدمت ہے کہ اندھی مخالفت کا یہ طوفان جتنا جتنا زور پکڑ رہا ہے، ہماری دینی دعوت بھی اسی کے ساتھ روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔ آپ ہمارے لیے خدا تعالیٰ سے دُعا فرمایئے۔ 

جواب : خطبات میں عبادات کے دُنیوی نہیں بلکہ اخلاقی فوائد کو میں نے زیادہ نمایاں کرکے پیش کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں اُخروی فوائد کا قائل نہیں ہوں یا انھیں کم اہمیت دیتا ہوں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے لوگوں کی نگاہوں سے عبادات کے اخلاقی، اجتماعی اور تمدنی فوائد اوجھل ہوگئے ہیں، اور ان کے اوجھل ہوجانے کی وجہ سے لوگ ان عبادات سے غفلت برتنے لگے ہیں۔ اس لیے میں نے ان پہلوئوں کو زیادہ نمایاں کیا ہے۔ نمایاں وہی چیز کی جاتی ہے، جو مخفی ہو یا جس سے عموماً لوگ غافل ہوں،نہ کہ وہ چیز جس سے پہلے ہی لوگ واقف ہوں۔ 

آخر میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی مدد فرمائے اور فتنہ پردازوں سے آپ کی حفاظت فرمائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے موقع پر دُعا فرمایا کرتے تھے:  

اَللّٰھُمَّ   اِنَّا  نَجْعَلُکَ  فِیْ  نُحُوْرِہِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ (سنن ابی داؤد، کتاب تفریع، حدیث: ۱۵۳۷) [اے اللہ! ہم تجھے اُن (دشمنوں) کے مقابلے میں سامنے رکھتے ہیں اور اُن کے شرور سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔] 

یہی دُعا مَیں بھی مانگتا ہوں۔ جو لوگ محض نفسانیت اور تعصب اور حسد کی بنا پر ہمارے خلاف طرح طرح کے فتنے اُٹھا رہے ہیں اور محض اپنے ذاتی کینے کی وجہ سے اُس خیر کا راستہ روکنا چاہتے ہیں جس کے لیے ہم کوشش کررہے ہیں، ان کے شر سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں ، اور خدا ہی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان سے نمٹ لے۔ 


کیا نماز میں درود پڑھنا شرک ہے؟ 

سوال : نماز میں سورئہ فاتحہ ، سورئہ اخلاص یا کوئی اور سورت جو ہم پڑھتے ہیں، ان میں صرف اللہ ہی کی حمدوثنا اور عظمت و بزرگی کا بیان ہے۔ اسی طرح رکوع و سجود میں اسی کی تسبیح و تہلیل بیان ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم تشہد کے لیے بیٹھتے ہیں تو حضور سرورِ کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شروع ہوجاتا ہے، جیساکہ تشہد اور دونوں درود شریف وغیرہ۔ کیا اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کی عبادت میں شریک نہیں ہوجاتے؟ 

جواب : تشہد کی پوری عبارت پر آپ غور کریں۔ پہلے آپ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنا سلام پیش کرتے ہیں، پھر رسولؐ کے لیے رحمت و برکت کی دُعا کرتے ہیں۔ پھر اپنے حق میں اور تمام نیک بندوں کے حق میں سلامتی کی دُعا کرتے ہیں۔ پھر اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمدؐ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں۔ پھر رسولؐ اللہ پر درود بھیجتے ہیں، جو دراصل اللہ ہی سے اس امر کی دُعا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نوازشات کی بارش فرمائے۔ پھر اللہ سے اپنے حق میں اور اپنے والدین کے حق میں بخشش کی دُعا کرتے ہیں۔ ان سارے مضامین کو آپ خود دیکھیں، ان میں کیا چیز ہے جسے آپ ’شرک‘ کہہ سکتے ہیں؟ یہ توساری دُعائیں اللہ تعالیٰ ہی سے ہیں۔ کیا اللہ سے دُعا کرنا ’شرک‘ ہے؟ اور کیا اللہ کے رسولؐ کو رسول ماننا بھی ’شرک‘ ہے؟ (ترجمان القرآن، فروری۱۹۶۱ء( 

خلافت ِ راشدہ حقیقت میں محض ایک سیاسی حکومت نہ تھی، بلکہ نبوت کی مکمل نیابت تھی۔ یعنی اس کا کام صرف اتنا ہی نہ تھا کہ ملک کا نظم و نسق چلائے، امن قائم کرے اور سرحدوں کی حفاظت کرتی رہے، بلکہ وہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں معلّم، مربی اور مرشد کے وہ تمام فرائض انجام دیتی تھی، جونبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیاتِ طیبہ میں انجام دیا کرتے تھے، اور اس کی یہ ذمہ داری تھی کہ دارالاسلام میں دینِ حق کے پورے نظام کو اس کی اصلی شکل و روح کے ساتھ چلائے ، اور دُنیا میں مسلمانوں کی پو ری اجتماعی طاقت، اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی خدمت پر لگادے۔ 

اس بناپر یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ صرف ’خلافت ِ راشدہ‘ ہی نہ تھی بلکہ ’خلافت ِ مرشدہ‘ بھی تھی۔ ’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘ کے الفاظ اس کی انھی دونوں خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں، اور دین کی سمجھ رکھنے والا کوئی شخص بھی اس بات سے ناواقف نہیں ہوسکتا کہ اسلام میں اصل مطلوب اِسی نوعیت کی ریاست ہے نہ کہ محض ایک سیاسی حکومت۔ 

(’خلافت راشدہ سے ملوکیت تک‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۵ء، ص ۳۳) 

اقامت ِدین کے لیے جرأت ِعمل

سوال : اگر ہمارے پیش رو لغزشوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے تو ہمارا دامن کیسے پاک رہ سکتا ہے اور اقامت ِدین کے لیے ہم میں جرأت عمل کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟

جواب : انسان جب تک انسان ہے،اس کی سعی بشریت کے تقاضوں اور محدودیتوں سے پاک نہیں ہوسکتی۔ ہر شخص کو اپنی حد تک اپنا فرض بہتر سے بہتر طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ اﷲ سے دُعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمیں ارادی لغزشوں سے بچائے اور غیر ارادی لغزشوں کو معاف فرمائے۔


اسلامی تحریکوں کا اتحادکیوں نہیں؟

سوال : تمام عالم ِاسلام کی اسلامی تحریکوں کو متحد کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟

جواب : اس وقت بدقسمتی سے تمام مسلمان ملکوں میں قومیت پرستی کا دور دورہ ہے، جس کی وجہ سے یہ بات ممکن نہیں ہے۔ کم و بیش تمام مسلم ممالک کے سربراہ اپنے ملکوں میں تحریک ِاسلامی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس صورت میں وہ متحد ہو کر اسلامی تحریکوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ لہٰذا، فی الوقت اتنا ہی کافی ہے کہ یہ تحریکیں صحیح خطوط پر چلتی رہیں اور ایک دوسرے سے صِرف واقفیت اور ہمدردی رکھیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ انبیا علیہم السلام کے مقابلے میں اُٹھ کر باپ دادا کی تقلید کا جھنڈا بلند کرنے والے ہر زمانے میں اپنی قوم کے کھاتے پیتے لوگ ہی کیوں رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ وہی حق کی مخالفت میں پیش پیش اور قائم شدہ جاہلیت کو برقرار رکھنے کی کوشش میں سرگرم رہے، اور وہی عوام کو بہکا اور بھڑکا کر انبیا علیہم السلام کے خلاف فتنے اُٹھاتے رہے؟

اس کے بنیادی وجوہ دو تھے:

ایک یہ کہ کھاتے پیتے اور خوش حال طبقے اپنی دُنیا بنانے اور اُس سے لطف اندوز ہونے میں اِس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ حق اور باطل کی، بزعمِ خویش ، دُور ازکار بحث میں سر کھپانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اُن کی تن آسانی اور ذہنی کاہلی انھیں دین کے معاملے میں انتہائی بے فکر، اور اس کے ساتھ عملاً قدامت پسند (Conservative) بنادیتی ہے، تاکہ جو حالت پہلے سے قائم چلی آرہی ہے، وہی قطع نظر اس سے کہ وہ حق ہے یا باطل، جوں کی تُوں قائم رہے اور کسی نئے نظام کے متعلق سوچنے کی زحمت نہ اُٹھانی پڑے۔

دوسرے یہ کہ قائم شدہ نظام سے اُن کے مفاد پوری طرح وابستہ ہوچکے ہوتے ہیں اور انبیا علیہم السلام کے پیش کردہ نظام کو دیکھ کر پہلی ہی نظر میں وہ بھانپ جاتے ہیں کہ یہ آئے گا تو ان کی چودھراہٹ کی بساط بھی لپیٹ کر رکھ دی جائے گی اور ان کے لیے اکلِ حرام اور فعل حرام کی بھی کوئی آزادی باقی نہ رہے گی۔

(’تفہیم القرآن‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، مئی ۱۹۶۵ء، ص ۲۱)

ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ دیکھیں تو اخلاق کی پستی کے ساتھ ہم سرے سے کسی اسلامی زندگی کا تصوّر ہی نہیں کرسکتے۔ مسلمان تو مسلمان بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی ذات سے دُنیا میں بھلائی قائم ہو اور بُرائی مٹے۔ بھلائی کو مٹانا اور بُرائی پھیلانا ، اور پھر اس کے ساتھ مسلمان بھی ہونا، یہ درحقیقت ایک کھلا ہوا تناقض ہے۔ایک شخص مسلمان ہو اور پھر بھی اُس کے شر سے دوسرے بندگانِ خدا محفوظ نہ ہوں۔ ایک شخص مسلمان ہو اور پھر بھی اُس پر کسی معاملے میں اعتماد نہ کیا جاسکے۔ ایک شخص مسلمان ہو اور پھر بھی وہ نیکی سے بھاگے اور بدی کی طرف لپکے، حرام کھائے اور حرام طریقوں سے اپنی خواہشات پوری کرے، تو آخر اس کے مسلمان ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ کسی مسلم معاشرے کی اس سے بڑھ کر کوئی ذلّت نہیں ہوسکتی کہ وہ انصاف سے خالی اور ظلم سے لبریز ہوتا چلا جائے۔ اس میں روز بروز بھلائیاں دبتی اور بُرائیاں فروغ پاتی چلی جائیں، اور اس کے اندر دیانت و امانت اور شرافت کے لیے پھلنے پھولنے کے مواقع کم سے کم تر ہوتے چلے جائیں۔ یہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والی حالت ہے۔ اگر کسی مسلم معاشرے کی یہ حالت ہوجائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اسلام کی روح سے خالی ہوچکا ہے، صرف اسلام کا نام ہی اس میں باقی رہ گیا ہے، اور یہ نام بھی اب صرف اس لیے رہ گیا ہے کہ دُنیا کو اس دینِ حق سے دُور بھگاتا رہے۔

مسلمان اخلاقی زوال کی طرف جاتا ہی اس وقت ہے جب اسے خدا کی رضا اور آخرت کی فلاح مطلوب نہیں رہتی اور صرف دُنیا اس کی مطلوب بن کر ہ جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اخلاق کی پستی کے ساتھ کوئی قوم دُنیا کی کامیابی بھی حاصل نہیں کرسکتی۔ اس پستی کے ساتھ تو آخرت بھی ہاتھ سے جاتی ہے اور دُنیا بھی ہاتھ نہیں آتی۔(’تعمیر اخلاق کیوں اور کیسے ؟‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۶۵ء، ص ۲۸)

اللہ پر توکّل ، ایمان لانے کا لازمی تقاضا، اور آخرت کی کامیابی کے لیے ایک ضروری وصف ہے۔ توکّل کے معنی یہ ہے کہ:

  • اوّلًا، آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ یہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول، حلال و حرام کے جو حدود، اور دُنیامیں زندگی بسر کرنے کے لیے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیئے ہیں وہی برحق ہیں اور انھی کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔
  • ثانیاً، آدمی کا بھروسا اپنی طاقت و قابلیت، اپنے ذرائع و وسائل، اپنی تدابیر، او ر اللہ کے سوا دوسروں کی امداد و عانت پر نہ ہو، بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دُنیا اور آخرت کے ہرمعاملے میں اُس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ کی توفیق و تائید پر ہے، اور اللہ کی توفیق و تائید کا وہ اسی صورت میں مستحق ہوسکتا ہے، جب کہ وہ اُس کی رضا کو مقصود بنا کر، اُس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کرتے ہوئے کام کرے۔
  • ثالثا ً ، آدمی کو اُن وعدوں پر پورا بھروسا ہو، جو اللہ تعالیٰ نے ایمان و عمل صالح کا رویّہ اختیار کرنے والے اور باطل کے بجائے حق کے لیے کام کرنے والے بندوں سے کیے ہیں، اور انھی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے وہ اُن تمام فوائد اور منافع اور لذائذ کو لات مار دے جو باطل کی راہ پر جانے کی صورت میں اسے حاصل ہوتے نظر آتے ہوں، اور اُن سارے نقصانات اور تکلیفوں اور محرومیوں کو انگیز کرجائے جو حق پر استقامت کی وجہ سے اُس کے نصیب میں آئیں۔

توکّل کے معنی کی اِس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کا کتنا گہرا تعلق ہے ، اور اُس کے بغیر جو ایمان محض خالی خولی اعتراف و اقرار کی حد تک ہو، اُس سے وہ شاندار نتائج کیوں نہیں حاصل ہوسکتے جن کا وعدہ ایمان لاکر توکّل کرنے والوں سے کیا گیا ہے؟ (سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۵،عدد۷، مارچ ۱۹۶۵ء، ص ۲۸)

  • قرآن کی دعوت اور اُس کے پیغام کا خلاصہ یہ ہے:’’اے انسانو! صرف اپنے اُس ربّ کی بندگی کرو جس نے تمھیں پیدا کیا ہے‘‘ (البقرہ۲:۲۱)

قرآن مزدوروں یا کاشت کاروں یا کارخانہ داروں کو نہیں پکارتا بلکہ انسانوں کو پکارتا ہے۔ اس کا خطاب انسان سے بحیثیت انسان ہے اور وہ صرف یہ کہتا ہے کہ اگر تم خدا کے سوا کسی کی بندگی، اطاعت، فرماں برداری کرتے ہو تو اسے چھوڑدو، اور اگر خود تمھارے اندر خدائی کا داعیہ ہے تو اُسے بھی چھوڑ دو کہ دوسروں سے اپنی بندگی کرانے اور دوسروں کا سر اپنے آگے جھکوانے کا حق بھی تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے۔ تم سب کو ایک خدا کی بندگی قبول کرنی چاہیے اور اس بندگی میں سب کو ایک سطح پر آجانا چاہیے:

آئو ہم اور تم ایک ایسی بات پر جمع ہوجائیں جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور خداوندی میں کسی کو خدا کا شریک بھی نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے بجائے امرونہی کا مالک بھی نہ بنائے۔ (اٰل عمرٰن۳:۶۴)

یہ عالم گیر اور کُلی انقلاب کی دعوت ہے۔ قرآن نے پکار کر کہا ہے کہ  اِنِ الْحُکْمُ  اِلَّا لِلّٰہِ ط (الانعام ۶:۵۷) ’’حکومت سوائے خدا اور کسی کی نہیں ہے‘‘۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بذاتِ خود انسانوں کا حکمران بن جائے اور اپنے اختیار سے جس چیز کا چاہے حکم دے اور جس چیز سے چاہے روک دے۔ کسی انسان کو بالذات امرونہی کا مالک سمجھنا دراصل خدائی میں اسے شریک کرنا ہے اور یہی بنائے فساد ہے۔ اللہ نے انسان کو جس صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے اور زندگی بسر کرنے کا جوسیدھا راستہ بتایا ہے، اُس سے انسان کے ہٹنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگ خدا کو بھول جائیں اور نتیجتاً خود اپنی حقیقت کو بھی فراموش کردیں۔ اس کا نتیجہ لازمی طور پر یہی ہوتا ہے کہ ایک طرف بعض اشخاص یا خاندان یا طبقے خدائی کا کھلا یا چھپا داعیہ لے کر اُٹھتے ہیں اور اپنی طاقت سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر لوگوں کو اپنا بندہ بنالیتے ہیں۔ دوسری طرف اس خدافراموشی اور خود فراموشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا ایک حصہ ان طاقتوروں کی خدائی مان لیتا ہے اور ان کے اس حق کو تسلیم کرلیتا ہے کہ یہ حکم کریں اور وہ اس حکم کے آگے سر جھکا دیں۔ یہی دُنیا میں ظلم و فساد اور ناجائز انتفاع کی بنیاد ہے۔ قرآن پہلی ضرب اسی پر لگاتا ہے۔ وہ ہانکے پکارے کہتا ہے:

  • ان لوگوں کا حکم ہرگز نہ مانو جو اپنی حد ِ جائز سے گزر گئے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ (الشعراء ۲۶:۱۵۱-۱۵۲)
  • اُس شخص کی اطاعت ہرگز نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشاتِ نفس کا بندہ بن گیا ہے اور جس کا کام افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ (الکہف ۱۸:۲۸)
  • خدا کی لعنت ہو اُن ظالموں پر جو خدا کے بنائے ہوئے زندگی کے سیدھے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور اس کو ٹیڑھاکرنا چاہتے ہیں۔ (ھود۱۱:۱۸-۱۹)

وہ لوگوں سے پوچھتا ہے: ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ  اَمِ اللہُ  الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۝۳۹ۭ (یوسف ۱۲: ۳۹)، یعنی یہ بہت سے چھوٹے بڑے خدا جن کی بندگی میں تم پسے جارہے ہو، اِن کی بندگی قبول ہے یا اُس خدائے واحد کی جو سب سے زبردست ہے؟ اگر اس خدائے واحد کی بندگی قبول نہ کرو گے تو ان چھوٹے اور جھوٹے خدائوں کی آقائی سے تمھیں کبھی نجات نہ مل سکے گی، یہ کسی نہ کسی طور سے تم پر تسلط پائیں گے اور فساد برپا کرکے رہیں گے:

  • یہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اُس کے نظامِ حیات کو تہ و بالا کرڈالتے ہیں اور اس کے عزّت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی وتیرہ ہے۔(النمل ۲۷:۳۴)
  • اورجب وہ اقتدار پا لیتا ہے تو زمین میں فساد پھیلاتا ہے، کھیتوں کو خراب اور فصلوں کو تباہ کرتا ہے ، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔(البقرہ۲:۲۰۵)

اسلام کی دعوتِ توحید و خدا پرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدے کی دعوت نہ تھی جس میں اور دوسرے مذہبی عقائد کی دعوت ہوا کرتی ہے، بلکہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی انقلاب کی دعوت تھی۔ اس کی ضرب بلاواسطہ ان طبقوں پر پڑتی تھی جنھوں نے مذہبی رنگ میں پروہت بن کر، یا سیاسی رنگ میں بادشاہ بن کر اور رئیس اور حکمران گروہ بن کر، یا معاشی رنگ میں مہاجن اور زمیندار اور اجارہ دار بن کر عامۃ الناس کو اپنا بندہ بنا لیا تھا۔ یہ کہیں علانیہ ارباب من دون اللہ بنے ہوئے تھے۔ دُنیا سے اپنے پیدائشی یا طبقاتی حقوق کی بنیاد پر اطاعت و بندگی کا مطالبہ کرتے تھے اور صاف کہتے تھے کہ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرِيْ۝۰ۚ (القصص ۲۸:۳۸) (میں تو اپنے سوا تمھارے کسی خدا کو نہیں جانتا)، اور اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى۝۲۴ۡۖ  (النازعات ۷۹:۲۴) (میں تمھارا سب  سے بڑا ربّ ہوں)، اور اَنَا  اُحْیِ  وَاُمِیْتُ  (البقرہ ۲:۲۵۸) (زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے)، اور مَنْ اَشَدُّ  مِنَّا  قُوَّۃً  ط (حم السجدہ ۴۱:۱۵) (کون ہے ہم سے زیادہ زورآور؟)، اور کسی جگہ اُنھوں نے عامۃ الناس کی جہالت کو استعمال کرنے کے لیے بتوں اور ہیکلوں کی شکل میں مصنوعی خدا بنا رکھے تھے جن کی آڑ پکڑ کر یہ اپنے خداوندی حقوق بندگانِ خدا سے تسلیم کراتے تھے۔ پس کفروشرک اور بُت پرستی کے خلاف قرآن کی دعوت اور خدائے واحد کی بندگی و عبودیت کے لیے قرآن کی تبلیغ براہِ راست حکومت اور اس کو سہارا دینے والوں یا اُس کے سہارے چلنے والے طبقوں کی اغراض سے متصادم ہوتی تھی۔ اس وجہ سے جب کبھی کسی نبی ؑ نے  يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ  اِلٰہٍ  غَيْرُہٗ۝۰ۭ (الاعراف۷:۵۹)کی صدا بلند کی ، کہ اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے، تو حکومت ِ وقت فوراً اس کے مقابلے میں آن کھڑی ہوئی اور تمام ناجائز انتفاع کرنے والے طبقے اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے کیونکہ یہ محض ایک مابعد الطبیعی قضیہ کا بیان نہ تھا بلکہ ایک اجتماعی انقلاب کا اعلان تھا۔

معقول حد کے اندر اپنی ضروریات پر خرچ کرنے کے بعد آدمی کے پاس اس کی حلال طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کا جو حصہ بچے اسے خود اِن کاموں پر صرف کرنا چاہیے:

  • لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (راہِ خدا میں) وہ کیا خرچ کریں؟ کہو جو کچھ تمھاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ (البقرہ ۲:۲۱۹)
  • نیکی اس چیز کا نام نہیں ہے کہ تم نے مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلیا، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر اور یومِ آخر پر اور ملائکہ اور کتاب اور نبیوں پر، اور مال دے اللہ کی محبت میں اپنے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور مدد مانگنے والوں کو اور خرچ کرے غلامی سے لوگوں کی گردنیں چھڑانے میں…(البقرہ ۲:۱۷۷)
  • تم نیکی کا مقام ہرگز نہ پاسکو گے جب تک کہ خرچ نہ کرو اپنے وہ مال جو تمھیں محبوب ہیں اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے وہ اللہ کو معلوم ہوگا۔(اٰل عمرٰن ۳:۹۲)
  • اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نیک سلوک کرو والدین کے ساتھ، رشتہ داروں کے ساتھ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ، رشتہ دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور ہم نشین دوست کے ساتھ، مسافر کے ساتھ اور اُن غلاموں کے ساتھ جو تمھارے قبضے میں ہوں۔ درحقیقت اللہ اِترانے والوں اور فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی تلقین کرتے ہیں، اور اُس فضل کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے انھیں بخشا ہے۔ ایسے ناشکروں کے لیے ہم نے رُسوا کن عذاب مہیا کررکھا ہے۔ اور وہ جو اپنے مال کو دکھاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ (النساء ۴: ۳۶ تا ۳۸)
  • (راہِ خدا میں خرچ کے مستحق) وہ تنگ حال لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں ایسے گھِر گئے ہیں کہ زمین میں اپنی روزی کمانے کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے، ناواقف آدمی ان کی خودداری کی وجہ سے ان کو غنی سمجھتا ہے، مگر تم ان کے چہروں سے ان کو پہچان سکتے ہو، وہ پیچھے پڑ کر لوگوں سے نہیں مانگتے۔ جو کچھ مال تم ان پر خرچ کرو گے اللہ کو اس کا علم ہوگا۔(البقرہ ۲:۲۷۳)
  • (اور نیک لوگ) اللہ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں، مسکین اور یتیم اور قیدی کو اور کہتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی خوشنودی کے لیے تمھیں کھلاتے ہیں، تم سے کسی بدلے یا شکریے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ (الدھر ۷۶:۸-۹)
  • (اور دوزخ کی آگ سے محفوظ) وہ لوگ ہیں جن کے مالوں میں ایک طے شدہ حصہ ہے، مدد مانگنے والے اور محروم کے لیے (یعنی انھوں نے اپنے مال میں ان کا باقاعدہ حصہ مقرر کر رکھا ہے)۔ (المعارج ۷۰:۲۴-۲۵)
  • اور تمھارے غلاموں میں سے جو (فدیہ دے کر آزادی حاصل کرنے کا) معاہدہ کرنا چاہیں ان سے معاہدہ کرلو اگر تم ان کے اندر کوئی بھلائی پاتے ہو اور (اس فدیہ کی ادائی کے لیے) ان کو اللہ کے اس مال میں سے دو جو اس نے تمھیں عطا کیا ہے۔ (النور۲۴:۳۳)

اس خرچ کو قرآن نہ صرف یہ کہ ایک بنیادی نیکی کہتا ہے بلکہ تاکیداًوہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایسا نہ کرنے میں معاشرے کی مجموعی ہلاکت ہے:

  • خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو، اور احسان کرو ، اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (البقرہ ۲:۱۹۵)

(سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۲،عدد۶، فروری ۱۹۶۵ء، ص۳۹-۴۱)

سوال : نسل اور رنگ کا مسئلہ اسلام کس طرح حل کرتا ہے؟

جواب :نسل اور رنگ کے مسئلے کے پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ آدمی محض اپنی جہالت اور تنگ نظری کی بنا پر یہ سمجھتا ہے، کہ جو شخص کسی خاص نسل یا ملک یا قوم میں پیدا ہوگیا ہے، وہ کسی دوسرے شخص کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ حالانکہ جو کسی دوسری نسل یا قوم یا کسی دوسرے ملک میں پیدا ہوا ہے، اس کی پیدائش ایک اتفاقی امر ہے، یہ اس کے اپنے انتخاب کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس لیے اسلام ایسے تمام تعصبات کو جاہلیت قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تمام انسان ایک ماں اور ایک باپ سے پیدا ہوئے ہیں، اور انسان اور انسان کے درمیان فرق کی بنیاد اس کی پیدائش نہیں بلکہ اس کے اخلاق ہیں۔ اگر ایک انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق رکھتا ہے، تو خواہ وہ کالا ہو یا گورا، خواہ وہ افریقا میں پیدا ہوا ہو یا امریکا میں، یا ایشیا میں، بہرحال وہ ایک قابلِ قدر انسان ہے۔ اور اگر ایک انسان اخلاق کے اعتبار سے ایک بُرا آدمی ہے، تو خواہ وہ کسی جگہ پیدا ہوا ہے اور اس کا رنگ خواہ کچھ ہی ہو اور اس کا تعلق خواہ کسی نسل سے ہو، وہ ایک بُرا انسان ہے۔

اسی بات کو ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے، فضیلت اگر ہے تو وہ تقویٰ کی بنا پر ہے۔ جو شخص خدا کی صحیح صحیح بندگی کرتا ہے اور خدا کے قانون کی صحیح صحیح پیروی کرتا ہے، خواہ وہ گورا ہویا کالا، بہرحال وہ اس شخص سے افضل ہے جو خدا ترسی اور نیکی سے خالی ہو۔ اسلام نے اسی بنیاد پر تمام نسلی اور قومی امتیازات کو مٹایا ہے۔ وہ پوری نوعِ انسانی کو ایک قرار دیتا ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے سب کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔

قرآن وہ پہلی کتاب ہے جس نے انسان کے بنیادی حقوق کو واضح طور پر بیان کیا ہے، اور اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے تمام انسانوں کو جو کسی مملکت میں شامل ہوں، ایک جیسے بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ اسلامی ریاست چونکہ ایک نظریے اور اصول (Ideology) پر قائم ہوتی ہے، اس لیے اس نظریے کو جو لوگ مانتے ہوں، اسلامی ریاست کو چلانے کا کام انھی کے سپرد کیا جاتا ہے۔ کیونکہ جو لوگ اسے مانتے اور سمجھتے ہیں وہی لوگ اس پر  عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔ لیکن انسان ہونے کی حیثیت سے اسلام تمام ان لوگوں کو یکساں تمدنی حقوق عطا کرتا ہے، جو کسی اسلامی ریاست میں رہتے ہوں۔ اسی بنیاد پر اسلام نے ایک عالمگیر اُمت (World Community) بنائی ہے، جس میں ساری دُنیا کے انسان برابر کے حقوق کے ساتھ شامل ہوسکتے ہیں۔حج کے موقعے پر ہرشخص دیکھ سکتا ہے کہ ایشیا، افریقہ، امریکا، یورپ اور مختلف ملکوں کے لاکھوں مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں پایا جاتا۔ ان کو دیکھنے والا ایک ہی نظر میں یہ محسوس کرلیتا ہے کہ یہ سب ایک اُمت ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاشرتی امتیاز نہیں ہے۔ اگر اس اصول کو تسلیم کرلیا جائے تو دُنیا میں رنگ و نسل کی تفریق کی بناپر آج جو ظلم و ستم ہورہا ہے اس کا یک لخت خاتمہ ہوسکتا ہے۔(لندن، ۱۹۶۸ء)

سوال: کیا تمام دُنیا ’ایک قومیت‘ کے تصور پر ایمان لاسکتی ہے؟

جواب: یہ صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب دنیا اسلام کی صداقتوں کو قبول کرلے۔ ایک خدا، ایک کتاب اور ایک لیڈر (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو تسلیم کرلے۔اس طرح خود بخود وہ عالمگیر قوت (Universal Nationality) وجود میں آجائے گی۔ تمام دُنیا کے لوگ اخوت کی ایک رسّی میں منسلک ہوجائیں گے۔ یہ سارے لڑائی جھگڑے خودبخود ختم ہوجائیں گے اور امن و آشتی کا اُجالا چاردانگ عالم کو منور کردے گا۔ (لاہور، ۱۹۷۱ء)

انسانی معیشت کے بارے میں اوّلین بنیادی حقیقت، جسے قرآنِ مجید باربار زور دے کر بیان کرتا ہے، یہ ہے کہ تمام وہ ذرائع و وسائل جن پر انسان کی معاش کا انحصار ہے، اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اسی نے ان کو اس طرح بنایا اور ایسے قوانینِ فطرت پر قائم کیا ہے کہ وہ انسانیت کے لیے نافع ہورہے ہیں اور اسی نے انسان کو ان سے انتفاع کا موقع دیا اور ان پر تصرف کا اختیار بخشا ہے:

  • وہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو رام کردیا، پس چلو اُس (زمین) کی پہنائیوں میں اور کھائو اُس (خدا) کا رزق اور اُسی کی طرف تمھیں دوبارہ زندہ ہوکر واپس جانا ہے۔ (الملک ۶۷:۱۵)
  • اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ بنائے، دریا جاری کیے اور ہرطرح کے پھلوں کی دو دو قسمیں پیدا کیں۔ (الرعد۱۳:۳)
  • وہی ہے جس نے تمھارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ (البقرہ ۲:۲۹)
  • اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے تمھارے رزق کے لیے پھل نکالے، اور تمھارے لیے کشتی کو مسخر کیا تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے، اور تمھارے لیے دریائوں کو مسخر کیا اور سورج اور چاند کو تمھارے مفاد میں ایک دستور پر قائم کیا کہ پیہم گردش کررہے ہیں، اور دن اور رات کو تمھارے مفاد میں ایک قانون کا پابند کیا، اور وہ سب کچھ تمھیں دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے۔ (ابراہیم۱۴: ۳۲-۳۴)

ہم نے زمین میں تم کو اقتدار بخشا اور تمھارے لیے اس میں زندگی کے ذرائع فراہم کیے۔(الاعراف ۷:۱۰)

  • کیا تم نے غور نہیں کیا، یہ کھیتیاں جو تم بوتے ہو، انھیں تم اُگاتے ہو یا اُن کے اُگانے والے ہم ہیں؟

(سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۲،عدد۵، جنوری ۱۹۶۵ء، ص ۳۷-۳۸)