مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۰۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ : ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء - ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء

انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعام و الطاف کی کوئی انتہا نہیں‘ لیکن اس کا سب سے بڑا انعام وہ ہدایت ہے جو اس نے روزِ اول سے وحی اور رسالت و نبوت کے ذریعے اپنے بندوں کو عطا کی‘ تاکہ زندگی گزارنے کی شاہراہ روزِ روشن کی طرح ان کے سامنے عیاں ہو اور وہ جہالت اور ظلم کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں ہی نہ مارتے رہیں۔ اس سب سے بڑے انعام کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے--- اور اسلام نام ہی اس انعام کا شکر ادا کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہنے کا ہے! یہی عبادت ہے‘ یہی دین کا حاصل ہے اور یہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے!

اللہ کی وحی قرآن کی شکل میں مکمل ہوگئی اور افضل الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ    علیہ وسلم کا اسوئہ حسنہ ‘ عالمِ انسانی کے لیے ایک بے مثال نمونہ بن کر سامنے آگیا۔ چنانچہ زمین و آسمان کے خالق اور مالک نے یہ اعلان کر دیا :

اَلْیَوْمَ اَکْـمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط (المائدہ ۵:۳) آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔

اب یہ ذمہ داری اُمت مسلمہ کو سونپی گئی ہے کہ وہ شہادتِ حق‘ دعوت الی اللہ‘ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کارِ نبوت انجام دے‘ تاکہ وہ حق کی علم بردار ہو اور اللہ کی     اس نعمت کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے اور ان کو اس کی زندگی بخش توانائی سے شادکام کرنے کی جدوجہد میں ہمیشہ مصروف رہے۔ ہر دور میں‘ ہر علاقے میں‘ اور ہر قسم کے حالات میں ایسے نفوس قدسیہ سے اُمت اور انسانیت کو برابر نوازنے کا اہتمام فرما دیا‘ جو اللہ کی ہدایت اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقے کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیں اور اقامت دین کی دعوت دینے اور دین کو عملاً نافذکرنے کی جدوجہد میں سرگرم رہیں۔

ہدایت کے اس نظام کو بھی کارِ نبوت کی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے انعام کا حصہ قرار دیا ہے۔ جن پاکباز انسانوں کو اس کام پر لگایا ہے ان کے اس انتخاب کے لیے اصطفٰی اور اجتبٰیکے وہی محترم الفاظ استعمال کیے ہیں‘ جو انبیا ے کرام کے انتخاب اور تیاری کے لیے استعمال کیے گئے ہیں اور ان انعام یافتہ مخلصین کا شمار بھی انبیاے کرام ہی کے قافلے میں کیا گیا ہے:  وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِـیّٖنَ وَالصِّدِّیْـقِیْنَ وَالشُّھَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَج وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا o ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِط وَکَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیْمًا o (النساء ۴:۶۹-۷۰) ’’جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے‘ یعنی انبیا ؑ اور صدیقین اور شہدا اور صالحین--- کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں! یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے‘‘۔

بیسویں صدی کا آغاز مسلمان اُمت کے لیے ان بدترین حالات میں ہوا‘ جن کا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس تاریک دور ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے ایسے افراد سے اُمت کو نوازا جنھوں نے ہر میدان میں چومکھی لڑائی لڑی اور تاریکیوں کا سینہ چیر کر شمع ہدایت و رسالت کی روشنی کو اس طرح پھیلادیاکہ غفلت‘ غلامی اور مظلومیت کی رات چھٹ گئی اور احیاے اسلام اور اُمت کے ایک عالم گیر قوت کی حیثیت سے اُبھرنے کے آثار صبحِ نو کی طرح نمودار ہو گئے ہیں۔

جن نفوسِ قدسیہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ کام لیا ان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ۱۷ سالہ نوجوان نے ۱۹۲۰ء میں اپنے ایمان اور ضمیر کے تقاضے کے طور پر احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی جو ننھی منی شمع روشن کی تھی‘ ۱۹۳۰ء کے عشرے میں علمی اور فکری اُفق اس کی ضوفشانی سے منور ہو چکے تھے۔ پھر ۲۶ اگست ۱۹۴۱ء سے شروع ہونے والی ایک منظم اور اجتماعی جدوجہد کی رہنمائی کرتے ہوئے‘ ۱۹۷۹ء میں جب یہ مجاہد اپنے رفیق اعلیٰ کی طرف لوٹ گیا تو یہ دعوت اسلامی احیا کی عالمی لہر بن کر مشرق و مغرب کے دور دراز گوشوں تک پھیل کر ایک جان دار تحریک بن چکی تھی۔ شیخ یوسف القرضاوی نے ۲۶ ستمبر ۱۹۷۹ء کو لاہور میں سید مودودیؒ کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد جو الفاظ کہے‘ وہ محض ایک فرد کے جذبات کا مظہر نہیں بلکہ تاریخ کی گونج ہیں:

سید ابوالاعلیٰ کا یہ جنازہ ایک ریفرنڈم ہے کہ پاکستان کے مسلمان صرف اسلام چاہتے ہیں۔ ان کے فقید المثال جنازے نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اللہ کے ہاں مقبول بندوں میں سے ہیں۔ لاکھوں افراد ان کی رحلت پر رو رہے ہیں۔ یہ گویا بجاے خود شہادت ہے کہ مولا نا کی ذات حسنات کا مجموعہ تھی۔

سید مودودیؒ صرف پاکستان ہی کے نہیں‘ پوری اُمت مسلمہ اور ساری انسانیت کا سرمایہ اور میراث ہیں۔ ایک نادرہ روزگار مفکر‘ ایک بے باک قائد‘ ایک زمانہ ساز مدبر‘ ایک حیات آفریں شخصیت‘ ایک نئے دور کا نقیب --- اور سب سے بڑھ کر اللہ کا ایک تابع دار بندہ اور   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق‘ شیدائی اور مطیع فرمان۔ سید مودودیؒ کی شخصیت کا آئینہ وہ دعا ہے جو انھوں نے ۱۹۳۸ء کے حوصلہ شکن حالات میں اپنے رب کے حضور کی تھی:

اے پروردگار‘ میں ایک مجاہد کے ایمان کا طالب ہوں‘ ایسا دل مانگتا ہوں جو سمندر کی طوفانی موجوں کے مقابلے میں ٹوٹی ہوئی کشتی لے جانے پر بے جھجک آمادہ ہو جائے‘ ایسی روح مانگتا ہوں جو شکست کھانے اور سپر رکھ دینے کا تصور بھی نہ کر سکتی ہو…

اور جب اس داعی الی الحق نے ہجرت کا راستہ اختیار کر کے‘ قافلۂ حق کے جانبازوں کی صف بندی کی تو اس کا دل یوں زبان بن گیا:

  •  برادرانِ اسلام‘ میں ایک دُور دراز علاقے کا رہنے والا‘ اپنا گھر بار اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو چھوڑ کر آپ کی اس بستی میں صرف اس لیے آیا ہوں کہ میں اسلام اور مسلمانوں کی کچھ خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں کوئی لالچ کھینچ کر نہیں لایا‘ نہ میں آپ سے کسی اُجرت کا طالب ہوں۔ میں صرف آپ کے لیے اور سب مسلمانوں کے لیے دنیا اور عاقبت کی بھلائی چاہتا ہوں‘ اور اس کام میں بھی اگر کوئی لالچ ہے تو بس اتنا ہے کہ شاید اس طرح میرا مالک مجھ سے راضی ہوجائے اور گناہوں کو بخش دے۔
  •  بھائیو‘ اگرتمھارا دل گواہی دے کہ اس کام میں مدد کرنا تمھارا فرض ہے ‘تو میری مدد کرو۔ میری مدد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ خدا اور اس کے رسولؐ کی تعلیم کے مطابق جو کچھ میں تم سے کہوں ‘اس کو قبول کرو اور جس بات سے منع کروں اس سے باز آجائو اور تمھاری فلاح دارین کے لیے جو کام میں کروں‘ اس میں میرا ساتھ دو۔
  • بھائیو‘ مجھے نہ علم میں کامل ہونے کا دعویٰ ہے ‘اور نہ عمل میں کامل ہونے کا…جس طرح دوسرے انسانوں کے علم اور عمل میں کوتاہیاں ہیں‘ اسی طرح میرے علم وعمل میں بھی ہیں۔ اس لیے میں کبھی یہ نہ چاہوں گا کہ تم آنکھیں بند کر کے میری پیروی کرو۔ نہیں‘ تم میں سے ہر شخص کو اپنے دین کے معاملے میں چوکنا رہنا چاہیے۔(ترجمان القرآن‘ ۱۹۳۸ئ‘ج ۱۱‘ عدد ۶‘ ص ۵۲۷-۵۲۸)

جب اس بندئہ حق کو ظالم اقتدار نے سولی پر چڑھانے کی سزا کا اعلان کیا ‘تب بھی اس کے ایمان اور عزم کی شان ایک سچے بندۂ رحمن کی شایانِ شان تھی: ’’میں کسی سے رحم کی اپیل نہیں کروں گا اور اپنا معاملہ اپنے خدا کے حوالے کرتا ہوں۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں‘ آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی۔ اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی‘‘۔اور الحمدللہ‘ اقتدار وہ سزا نہ دے سکا۔

اس لیے کہ سید مودودیؒ کا شعور حق‘ نور نبوت سے منور تھا۔ انھوں نے کہا:

حق کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ وہ بجاے خود حق ہے--- وہ ایسی مستقل اقدار کا نام ہے جو سراسر صحیح اور صادق ہیں۔ اگر تمام دنیا اس سے منحرف ہوجائے‘ تب بھی وہ حق ہی ہے۔ مصائب حق پر نہیں‘ اہل حق پر آتے ہیں۔ لیکن جو لوگ سمجھ کر کامل قلبی اطمینان کے ساتھ یہ فیصلہ کرچکے ہوں کہ انھیں بہرحال حق پر قائم رہنا اور اس کا بول بالا کرنے کے لیے اپنا سارا سرمایۂ حیات لگا دینا ہے‘ وہ مصائب میں مبتلا ضرور ہو سکتے ہیں لیکن ناکام کبھی نہیں ہوسکتے۔

سید مودودیؒ کی ۷۶ سالہ زندگی‘ حق پرستی اور حق کے لیے جان کی بازی لگا دینے سے عبارت ہے۔ بیسویں صدی میں جو بھی روشنی ہے‘ اسے جلابخشنے میں اللہ کے فضل اور اس کی سنت کے مطابق ان کا بھی ایک منفرد کردار ہے۔ ہم بے جا شخصی تذکرے‘ یا غلو کے قائل نہیں‘      لیکن احسان مندی اور محسن شناسی کی تعلیم بھی اسی اسلام نے ہی دی ہے‘ جس نے شخصیت پرستی سے اجتناب کا حکم دیا ہے--- اور ترجمان القرآن کا یہ خاص شمارہ جس کا پہلا حصہ آپ کے   ہاتھ میں ہے--- ان شاء اللہ دوسرا بھی چند ماہ بعد حاضرخدمت کیا جائے گا‘ درحقیقت اسی احسان مندی کا اعتراف اور اسی محسن شناسی کا ایک اظہار ہے۔

اس ’اشاعت خاص‘ کے لیے کام میرے عزیز بھائی سلیم منصور خالد نے کیا ہے‘ جو اس کے ’مہمان مدیر‘ ہیں۔ان کے لیے اجر کی دعا کرتے ہیں۔ مجلس ادارت کی رہنمائی اور برادرم مسلم سجاد اور برادرم رفیع الدین ہاشمی کی معاونت کا اس خدمت میں ایک قیمتی حصہ ہے۔

ترجمان کا یہ خاص نمبر ایک تاریخی دستاویز‘ ایک عہد کی داستان‘ ایک مجاہد کی ۶۰ سالہ جدوجہد کی ایمان افروز کہانی اور اکیسویں صدی کے انسان کے لیے زندگی کا پیغام ہے۔ جو بھی اس زندگی‘ اس جدوجہد ‘ اس کش مکش اور اس راہِ عمل پر کھلے ذہن اور قلب سلیم کی رہنمائی میں غور کرنے اور چلنے کی کوشش کرے گا‘ کامیاب و کامران ہوگا۔ درخواست ہے کہ ہر فرد‘ اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ‘ اللہ کے اس پاک باز بندے کے لیے بہترین دعائوں کا تحفہ بھیجنے میں بخل سے کام نہیں لے ‘ کہ جس نے بیسویں صدی کے ستم زدہ انسان کو اکیسویں صدی میں قدم رکھتے وقت یہ احساس دلایا کہ’ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے‘اورجس کے بارے میں امیرخسرو کے الفاظ میں دل گواہی دیتا ہے کہ     ؎

آفاق ہا گردیدہ ام ‘ مہربتاں ورزیدہ ام

بسیار خوباں دیدہ ام‘ لیکن تو چیزے دیگری

یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے ہر دور میں ایسے انسان پیدا کرتا ہے‘ جو حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق لوگوں کی‘ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور انھیں گمراہی اور انحراف سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشیت ِ حق سے اُمت مسلمہ میں بھی وقتاً فوقتاً اس طرح کی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں۔

حضرت مجدد الف ثانی  ؒکے بارے میں علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا ہے:

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں

اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

مولانا مودودیؒ نے بھی عہدحاضرمیں اُمت کی بیداری اور دین کی طرف اس کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ وہ قرآن و سنت اور علومِ اسلامیہ کے دیگر سرچشموں سے علم وعرفان کا نور حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی فکر وفلسفے کی تہہ تک پہنچے ہوئے تھے۔ انھوں نے تجزیے اور دلیل کا راستہ اختیار کیا‘ عصرِحاضر کے علم کلام سے استفادہ کیا اور اسے اسلامی علم کلام کے سانچے میں ڈھال کر اظہار و بیان کا منفرد اسلوب اختیار کیا۔ ان پر یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم تھا کہ وہ پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلے کو پہلے صاف اور عام فہم سوال میں خود ڈھالتے تھے‘ پھر اس کا تجزیہ کرکے بالکل آسان پیرایے میں‘ بنیادی اہمیت کے معاملات کو کھول کھول کر بیان کر دیتے تھے۔ اسلامی نظامِ زندگی خلافتِ راشدہؓ کے بعد رفتہ رفتہ گردش لیل و نہار اور حاشیہ در حاشیہ کتابوں کے انبار میں نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ تاہم‘ مولانا مودودیؒ نے اسلامی نظام زندگی کو انسانی ہدایت کے ایک واضح لائحہ عمل کے طور پر متعارف کروایا۔

مسلمانوں کے ہاں مغربی تہذیب کی حاکمانہ برتری نے عوام و خواص کے ذہنوں کو زبردست قسم کی ذہنی غلامی سے دوچار کر دیا تھا۔ مولانا مودودیؒ نے قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے جدید اسلوب اور نہایت مؤثرانداز میں تنقیحات کے مضامین کے ذریعے اس تہذیب کے فکری تار و پود بکھیر دیے۔ انھوں نے جدید تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کو ایمان سے سرشار اور عقلی و علمی دلائل سے مسلح کیا۔ مزید یہ کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات‘ یکساں طور پر ایک فاضل اور ایک عام فرد کے ذہن نشین کرا دیں۔

خطبات اور دینیات بنیادی طور پر عام فرد کی ذہنی سطح کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں اور دعوتِ حق اور بلکہ فہم دین کے لیے یہ نہایت درجہ بنیادی اور سب سے زیادہ قیمتی کتب ہیں۔ یہ وہ کتب ہیں‘ جو فرد کا رشتہ خالق ارض و سما سے جوڑتی ہیں اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت کا درس دیتی ہیں۔ اگر پہلے مرحلے میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی شک و شبہے سے بالاتر طمانیت قلب والا تعلق جڑ جائے تو پھر زندگی کے آیندہ مراحل اس سعادت و رحمت کے راستے پر ہی گزرتے ہیں۔ ان کتب کے بعد میں اسلامی عبادات پر تحقیقی نظرکو مطالعے کا نہایت اہم جز سمجھتا ہوں۔

مولانا مودودی کے لٹریچر میں اس کے بعد جس خطبے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جو بے شمار کتابوں پر بھاری ہے‘ اس کا نام اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟ مولانا مودودی نے یہ تقریر مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے طلبہ اور اساتذہ کے سامنے فرمائی تھی۔ عصرِحاضر کے اسلامی لٹریچر کو اس تقریر نے اپنی گرفت میں لے کر ایک منزل کا سراغ دیا۔ افغانستان کے عظیم انقلابی اور دانش ور منہاج الدین ’گہیز‘ شہید ]م: ۱۹۷۲ئ[ نے مجھے بتایا کہ : ’’اس تقریر (فارسی ترجمہ: برنامہ انقلاب اسلامی) نے میرے ذہن کے تمام دریچے کھول دیے ہیں اور میرے تمام اشکالات کا جواب دے دیا ہے‘‘۔ یاد رہے کہ منہاج الدین گہیزؒپہلے ایک قوم پرست رہنما تھے‘ اور اس کتاب کے مطالعے کے بعد اسلام کے داعی بن گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے کہ مولانا مودودی کی یہ مختصر تحریریں انسانوں کی زندگیاں بدل دینے کا ذریعہ بنیں۔ اسی طرح مولانا کی تقریر  شہادتِ حق نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو اللہ کی راہ پر لگا دیا۔

مولانا مودودی پر یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل تھا کہ اُن کے ذہن میں اسلامی نظام کا خاکہ اور نقشۂ کار ایک ترتیب سے ‘ دواور دو چار کی طرح واضح تھا ۔ وہ اس معاملے میں بڑے یکسو تھے کہ ایک معاشرے کو اسلامی معاشرے میں کیسے ڈھالا جائے؟ اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ اس کا    عملی ڈھانچا کیا ہے؟ اور کن چیزوں کو کس ترتیب سے لانا چاہیے؟ انھوں نے اسی ترتیب سے    یہ سبق لوگوں کو ذہن نشین کرا دیا۔

اسی دور میں امام حسن البنا شہید نے مصر میں ایک دوسرے انداز میں کام شروع کیا۔ بعدازاں ان کے ایک حلقہ بگوش سید قطبؒ کی بلندپایہ علمی تحریروں نے نوجوان نسل کو بڑی کثرت سے اسلام کے انقلابی پہلو کی طرف متوجہ کیا۔ ترکی میں بدیع الزماں سعید نورسی مرحوم نے دعوت‘ تربیت اور مزاحمت کی ایک منفرد تحریک برپا کی۔ ہمارے یہاں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی شخصیت ناقابلِ فراموش ہے۔ ان کے ہاں حزب اللہ اور نظم اسلامی جماعت کا تصور‘ مولانا مودودی کے تصورِ جماعت اسلامی سے ملتا جلتا ہے اور پھر علامہ اقبال کے پورے کلام میں بھی اُمت مسلمہ کو نہایت دل نشین انداز میں قرآن و سنت ہی کا پیغام پہنچایا گیا ہے۔

اسلام میں رہبانیت کی گنجایش نہیں ہے‘ بلکہ اسلام ایک نظام زندگی کے طور پر‘ دعوت‘ عدل اور قوت کے ساتھ اُبھرتا نظر آتا ہے۔ اس تصورکے حوالے سے علامہ اقبال کی اسرارخودی اور  رموز بے خودی میرے نزدیک مرکزی شان کی حامل ہیں۔ اسرارِخودی میں ایک مسلمان فرد کے کردار کے بنیادی عناصر اور اس کے تقاضے بتائے گئے ہیں‘ جب کہ رموز بے خودی میں علامہ اقبال نے واضح کیا ہے کہ اس کردار کے لوگوں کو ایک اسلامی قوم میں کن اصولوں کے ذریعے ڈھالا جاتا ہے۔ اس پیغام کو انھوں نے اپنی معروف نظم ’ترانہ ملی‘ میں جس عمدہ اور پُرتاثیر پیرایے میں پیش کیا ہے‘ وہ پڑھنے اور درس لینے سے تعلق رکھتا ہے     ؎

چین و عرب ہمارا‘ ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے

آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا

علامہ اقبال شعرکی زبان میں بات کرتے تھے‘ اس لیے کلام اقبال سے اسلامی نظام زندگی کی دعوت سامنے آنے کے باوجود عملی اور منطقی انداز سے ذہن نشین نہیں ہو سکتا تھا۔ شعرکا تاثر فرد کو سوچنے پر اُبھارتا‘ شعر کا مضمون اور آہنگ طبیعت میں وجد لاتا ہے۔ اسلام کے نظام حیات کے تصور کو اقبال نے خواب سے بڑھ کر جذبے میں ڈھالا‘ جب کہ مولانا مودودی نے ترتیب کے ساتھ ایک مربوط تحریر اور ایک نکھرے پروگرام میں اسے مدلل انداز میں بیان کر دیا۔

علامہ اقبال نے اپنے قارئین کے ذہنوں میں ایک بیداری پیدا کی جس کے بعد ان بیدار ضمیر لوگوں کو ایک اجتماعیت کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت کو مولانا مودودی نے پورا کیا۔ انھوں نے بتایا: منتشر نیکی اور اعلیٰ جذبے کو جب تک اجتماعی طاقت میں نہیں بدلا جاتا‘ وہ جذبہ اور نیکی محض ایک اعلیٰ قدر تو ہوسکتی ہے‘ مگر مثبت قوت نہیں قرار دی جا سکتی۔ اس کے مقابلے میں ابلیسی طاقت منظم بھی ہے اور موثر بھی۔ اس کی پشت پر افراد‘ اداروں اور ریاستوں کی طاقت ہے۔ مولانا مودودی نے خدا سے غافل اور ظلم پر مبنی اس جاہلیت کا جواب دینے کے لیے واضح مقصد اور شفاف طریق کار پر مشتمل ایک تحریک برپا کی۔ یہ کام انھوں نے محض تحریریں لکھ دینے کی حد تک نہیں کیا‘ بلکہ انھوں نے قرآنی حکم کے تحت اسے بنیان مرصوص بنانے کے لیے ایک ایک تنکا اکٹھا کر کے آشیانہ بنایا۔ ایک ایک فرد کو مجتمع کر کے قافلہ ترتیب دیا۔ اللہ تعالیٰ کے ایک ایک حکم کے سائے میں مطلوب اور معتدل نظامِ فکر پیش کیا۔ میں اس کارنامہ عظیم کا کسی بزرگ ہستی سے کوئی موازنہ کیے بغیر یہ کہہ سکتا ہوں کہ عصرحاضر میں یہ کاوش‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا خصوصی احسان ہے جس کے لیے اُس نے اپنے بندے سیدابوالاعلیٰ مودودی کو خدمت کے لیے چنا ۔

جیسا کہ پہلے کہا گیاہے کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اسلامی نظم جماعت کا تصور پیش فرمایا‘ لیکن بہت جلد وہ خود ایک سیکولر نظم جماعت کا حصہ بن گئے۔ اس اقدام کو مولانا مودودی نے ایک المیہ قرار دیا اور فرمایا کہ: مولانا ابوالکلام آزادؒ اس اُمت کے فکری اور عملی دکھوں کا علاج کرنے کے لیے ایک معالج کے طور پر آئے‘ لیکن کچھ ہی عرصے بعد انھوں نے مایوس ہوکر اس مریض کو لاعلاج قرار دے کر چھوڑ دیا۔ مگر میں تو اس مریض کا معالج نہیں بلکہ تیماردار ہوں۔ معالج چھوڑنا چاہے تو چھوڑ دے‘ لیکن تیماردار اپنے مریض کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ مولانا مودودیؒ کے اس قول میں کوئی دعویٰ ،تعلّی اور فخر کی بات نہیں ہے‘ بلکہ دل سوزی‘ ہمدردی اور ذمہ داری کی دعوت ہے۔

گذشتہ صدی کے آغاز میں مسلم اُمہ کس حال میں تھی‘ اس کا تذکرہ اگر بچشم تر پڑھنا ہو   تو خواجہ الطاف حسین خالی مرحوم کی مسّدس پڑھیں تواُمت کی حالت ِ زار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔  مسّدسمیں تفصیل کے ساتھ مسلم اُمہ کا المیہ بیان کیا گیا ہے۔ ان کے بالکل ہی متصل علامہ اقبال ایک مجاہدانہ لہجے میں کہتے ہیں    ؎

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو

شرر فشاں ہوگی آہ میری‘ نفس مرا شعلہ بار ہوگا

اقبال نے روتے ہوئے لوگوں کے آنسو پونچھے اور انھیں حوصلہ دے کر کھڑا کیا۔ ان ہمت شکن حالات میں کھنڈرات پر کھڑے ہو کر مولانا مودودی نے اُمید کا دامن پکڑا اور ملبے کے ڈھیر سے اینٹیں چن چن کر عمارت کی تعمیر شروع کی‘ اور نظم جماعت قائم کیا۔ بلند ہمتی کے ذریعے اگلے سو سال کا صاف سیدھا نقشہ بنا کر پیش کر دیا۔ یاد رہے کہ لمبے عرصے کا منصوبہ بنانا اور صبروہمت سے منصوبے کے خدوخال واضح کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ ہمارے ہاں مستقبل بینی اور مستقبل کی منصوبہ سازی کا کوئی رواج نہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اقبال ’’آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر‘‘ ہی نہیں دکھاتا‘ بلکہ پورا اور ایک واضح منظر آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے‘ اور مولانا مودودی اس منظر تک پہنچنے کے لیے راستے کی مشکلات و مصائب سے نہ صرف آگاہ کرتے ہیں بلکہ انھیں ان مشکلات سے عہدہ برآ ہونے اور منزلِ مقصود تک پہنچنے کا لائحہ عمل بھی دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے عصرِحاضر میں احیاے اسلام کی تحریک کے یہ دونوں بڑے نام یعنی علامہ اقبال اور مولانا مودودی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اُمت کو پکارتے ہیں۔ اگر کوئی کھلی آنکھوں کے ساتھ علامہ اقبال کے شعری کلیات اور مولانا مودودی کی کتب کو بغور پڑھ لے تو وہ خود اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کہ ان کی پکار ایمان اور عمل کی پکار ہے‘ جہاد اور اجتہاد کی پکار ہے‘ ایثار اور اقدام کی پکار ہے‘ عدل اور امن کی پکار ہے‘ اُمت اور اتحاد اُمت کی پکار ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کی تشکیل سے پہلے گہرے غوروفکر سے کام لیا اور بہت سے اصحاب سے یہ مشاورت کی کہ آیا جماعت بنائی بھی جائے یا نہیں؟ پھر جب جماعت بنانے کا فیصلہ ہوا توآپ نے جماعت اس لیے بنائی کہ:’’منظم شر کا مقابلہ منظم نیکی ہی کر سکتی ہے‘‘۔ آپ نے صاف طور پر کہا: ہماری دعوت‘ دعوت الی اللہ ہے۔ یہ دعوت اسوہ حسنہ کی طرف دعوت ہے۔ ہماری دعوت اپنے بانی یا جماعت کی طرف نہیں‘ مقصد کی طرف ہے۔ جماعت صرف ایک ذریعہ ہے‘ مقصد نہیں ہے۔ مقصد قرآن کریم سے لیا گیا ہے کہ اللہ کو راضی کرنا ہے۔ طریق کار سنت سے لیا گیا ہے کہ وہی آئیڈیل ہے اور وہی معیارِ حق ہے۔

مولانا مودودی نے جماعت کو کوئی فرقہ‘ گروہ یا مسلک نہیں بننے دیا‘بلکہ تمام مسلمہ مکاتب فکر کے افراد کو دعوت دی کہ وہ ایک بڑے مقصد کے حصول کے لیے ایک پرچم تلے جمع ہوجائیں۔ پاکستان بنانے اور پاکستان کا دفاع کرنے کے لیے اگر تمام مکاتب فکر اکٹھے ہو سکتے ہیں تو پاکستان کو اس کا مقصدِ وجود دلانے کے لیے آخر کیوں وہ ٹکڑیوں میں تقسیم رہیں۔ انھوں نے یہ بھی واضح کر دیا ‘کہ وہ اپنی طرف سے کوئی نئی فکر دینے والے یا کوئی نیا راستہ تجویز کرنے والے نہیں ہیں‘ بلکہ وہ قرآن کی فکر کا تذکرہ کرنے اور اس فکر کے راستے کی نشاندہی کرنے والے‘   اللہ تعالیٰ کے ایک عاجز بندے ہیں۔ مولانا مودودی یہی کہتے تھے: آپ میری فکر نہ کریں‘ اور نہ میرے دفاع کے بارے میں پریشان ہوں بلکہ آپ مقصدِ زندگی کی فکر کریں۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کے راستے پر چلنے کی فکر کریں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ان تعصبات سے نکالنے کی کوشش کریں کہ جس نے انھیں کفرواستعمار کے سامنے تر نوالہ بنا دیا ہے۔

وہ کہتے تھے : جن تعصبات میں مسلم جماعتیں مبتلا ہوگئی ہیں‘ انھیں اس دلدل سے نکالیں‘ اور اصلاحی جماعتیں فرقہ بندی کی بندگلی میں پھنس کر رہ گئی ہیں‘ انھیں قرآن و سنت کی دعوت کی طرف بلائیں اور اس الجھن سے چھٹکارا دلادیں۔ اس لیے میرے نزدیک فکرِمودودی بذاتِ خود کوئی چیز نہیں ہے۔ اسی تسلسل میں یہ بات بھی بالکل واضح رہنی چاہیے کہ معیارِحق اور رہنمائی کا اول و آخر مرکز‘ قرآن و سنت ہیں۔ ماضی میں مختلف دینی تحریکیں شخصی سطح پر غلو کا شکار ہوگئی تھیں اور فی زمانہ مولانا مودودی نے برملا فرمایا کہ مجھے معیار مت سمجھیے۔ انھوں نے کھلے دل کے ساتھ لوگوں کو بلایا اور اپنی بجاے اصل مراکز دعوت کی طرف رواں دواں کر دیا۔ انھوںنے زندگی بھر جماعت کو اپنی تحریروں کا پابند نہیں بنایا‘ البتہ جماعت نے جو فیصلے کیے‘ کارکنان کو اس کی پابندی کرنے کے لیے کہا اور جب جماعت نے فیصلے میں تبدیلی کی تو انھوں نے بھی اس کو تسلیم کیا۔ وہ اپنی تحقیقات کو بھی حرفِ آخر نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے ہاں پیری مریدی‘ یا خادم و مخدوم اور آقا و کارکن کا کوئی تصور تک نہیں تھا۔بلاشبہہ مولانا مودودی کی کتب روشنی کا ایک مینار ہیں‘ لیکن روشنی کا واحد مرکز یہ نہیں ہیں۔ اسی لیے جماعت اسلامی اور اس کی برادر تنظیموں کے نصابات میں آپ کو دکھائی دے گا کہ مولانا کی تو آدھی کتب بھی مطالعے کے لیے لازم نہیں ہیں۔ وہ ہمارے محسن ہیں اور ہم ان کے زیراحسان ہیں‘ لیکن اس کے ساتھ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ زندگی بھر اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرتے رہے۔ خود انھوں نے مسلم تاریخ پر جس طرح احتسابی نگاہ ڈالی‘ بالکل اسی طرح وہ بھی آنے والے تمام لوگوں کی طرح اسلام کی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے۔

تیسرا پہلو جس کی طرف ہمیں آج توجہ دینے کی ضرورت ہے‘ وہ مسلم اُمت کا حالِ زار ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے جب ہوش سنبھالا‘ اُس وقت برطانوی استعمار نے دنیا کے ایک بڑے حصے پر تسلط قائم کر رکھا تھا اور مسلم دنیا کا کم و بیش سارا ہی علاقہ محکوم تھا۔ بظاہر جو ممالک آزاد دکھائی دیتے تھے‘ وہ بھی بالواسطہ طور پر برطانیہ یا یورپی اقوام کے زیرنگین تھے۔ مولانا مودودی نے اس وقت یہ بنیادی سوال اٹھایا:

مسلم دنیا کو اسلامی دنیا اور مسلم معاشرے کو اسلامی معاشرہ کیسے بنایا جائے؟

حقیقت میں یہ بڑے بنیادی سوالات تھے جن پر انھوں نے بحث کی۔ انھوں نے مرض سے پہلے مرض کے اسباب اور مرض کی شدت کو سمجھانے کی کوشش کی۔ مولانا مودودی کی وہ تمام تحریریں جو ۱۹۴۰ء سے پہلے انھوں نے لکھی تھیں‘ ان میں استعمار کے چہرے کو بے نقاب کرنے اور مسلم دنیا کو بیدار کرنے کا پورا لائحہ عمل موجود ہے۔ ایک بڑے معرکے سے دوچار لوگوں کو‘ چند سو صفحات پر مشتمل یہ تحریریں پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ استعمار کی دنیاوی کامیابی اور دنیا بھر میں اُمت مسلمہ کی بے کسی کا سبب کیا ہے؟اس مطالعے سے قاری کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس تسلّط اورجال کو توڑنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

مولانا مودودی ؒ نے خطبات کے ایک حصے حقیقت جہاد میں یہ بڑی پتے کی بات تحریر فرمائی ہے کہ: ’’حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہے‘‘۔ اور یہ تقریر انھوں نے ۱۹۴۰ء کے لگ بھگ کی تھی جب ہندستان غیرمنقسم تھا اور پاکستان کا وجود نہیں تھا۔ برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا‘ تب انھوں نے فرمایا اگر اقتدار اور اختیار کے سرچشموں پر خدا کے باغی‘ خائن اور انسانیت کے دشمن لوگ بیٹھے ہوں گے تو انسانیت کبھی سکون اور عدل سے ہم کنار نہیں ہوپائے گی۔ اسی لیے آج حالات جس قدر خراب ہیں‘ ان میں کھلے عام‘ افہام و تفہیم سے‘    دلیل اور اجتماعیت سے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ مسلم دنیا میں حکومتی مناصب پر فائز لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ وہ دنیاوی طاقتوں کا ڈر اور خوف دل سے نکال دیں۔ ڈر اور خوف تو صرف مالکِ حقیقی کا ہونا چاہیے۔

مولانا مودودی نے اس کے لیے خفیہ کام کرنے سے منع فرمایا کہ خفیہ تنظیمیں اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتیں اور دنیا بھر کا بوجھ اُن پر ڈال دیا جائے تو وہ اس کی وضاحت تک کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ مولانا نے تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے ہمیشہ منع فرمایا اور جماعت کا دستور انھی کی رہنمائی میں بنا جس نے پُرتشدد کارروائی کے لیے جماعت کے دروازے بند کر دیے۔ اس لیے ردعمل کی سیاست‘ تشدد کے عمل اور تشدد کی طرف داری سے بچنا تحریک کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مولانا مودودی نے پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس رباط (۱۹۶۹ئ) میں مسلم دنیا کے حکمرانوں کو بطور لائحہ عمل جو رہنمائی دی تھی‘ اسے آج کی اسلامی تحریکات اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اس طرح اُٹھائیں کہ ان کی قومی حکومتوں کو اس پر عمل درآمد کی راہیں سوچنی پڑیں۔

اقتصادی تعاون‘ باہم ویزے میں نرمی‘ میڈیا کی سطح پر تعاون‘ مشترکہ دفاع‘ قومی وسائل پر کنٹرول‘ تعلیمی پروگراموں میں باہم تبادلہ‘ ان سب پہلوئوں پر اپنے ملکوں اور ان کے قائدین کو تعاون کے لیے اُبھارنا چاہیے۔

مزید یہ کہ ایک ماڈل اسلامی دستور کا ڈھانچا تمام ممالک کے لیے بناکر پیش کرنا چاہیے جس میں بالکل بنیادی نکات ہوں۔ اور پھر اس کی روشنی میں ہر ملک کا تفصیلی دستور تجویز کرنا چاہیے۔ بظاہر یہ ایک علمی یا اکیڈمک قسم کی کاوش ہے‘ لیکن میرے نزدیک ایسی دستاویزات ایک بڑے انقلاب اور ہمہ گیر تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔

مولانا مودودی نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد چھوٹی بڑی ضروریات زندگی کا سوال نہیں اٹھایا تھا بلکہ اس ریاست کے عقیدے‘ مقاصد اور اہداف کا سوال اٹھایا تھا۔ آج اندازہ ہوتا ہے کہ چند سطروں کی ’قرارداد مقاصد’ اور پھر ’علما کے ۲۲ نکات‘ پاکستان کی ریاست کے دستور اور قانون سازی کی تاریخ میں کتنی اہم اور اساسی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ان دونوں دستاویزات کی تیاری اور منظوری میں‘ مولانا مودودی نے جو کلیدی رول ادا کیا‘ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے۔

علم اور عمل‘ ایمان اور جستجو‘ مولانا مودودی مرحوم و مغفور کی تمام تر جدوجہد کا محور تھے۔ آج ہمیں نہ صرف اہلِ وطن بلکہ پوری اُمت کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ اور مرشدعام حسن البناشہیدؒ قریب قریب کے زمانے میں پیدا ہوئے۔ دونوں ہی کو اللہ تعالیٰ نے کمال کی دینی بصیرت اور اصلاحی میلان عطا فرمایا۔ دونوںزندگی بھر، دعوت و عمل اور تربیت و جہاد کے میدان میں سرگرم عمل رہے، اور اپنے پیچھے ایسا سرمایہ چھوڑ گئے جس پر ہر مسلمان فخر کرتا‘ اور اس میں اپنے لیے راہِ ہدایت اورمثالی نمونہ پاتا ہے۔

دونوں رہنماؤں میںموجودبہت سی مشترک اقدار کی طرح ان کے ممالک مصر و پاکستان کے حالات میں بھی بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک اہم جغرافیائی پوزیشن او رممتاز و مؤثر تہذیبی و سیاسی مقام کے حامل ہیں۔ دونوںممالک کو انگریزی استعمارکا سامنا کرنا پڑا اور دونوں عالمی سازشوں اور داخلی فوجی آمریتوںکا شکار رہے ۔ پھرانھی دو ممالک سے دعوت اسلامی کی روشن شعاعیں پھوٹیں او رانھی دو ملکوں کو دین کے کام میں پیش رو کا مقام حاصل ہوا ‘جو اب بھی حاصل ہے۔

  • ابتدائی زندگی اور دینی رچاؤ: سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ ۱۳۲۱ ھ / ۱۹۰۳ء میں پیدا ہوئے‘جب کہ امام حسن البناؒ کی پیدایش اس کے تین برس بعد ۱۳۲۴ ھ/ ۱۹۰۶ ء میں ہوئی۔ دونوں نے اہلِ علم وفضل کے گھرانوں میں پرورش پائی۔ دونوں کی اچھی تربیت اور دینی رہنمائی میں ان کے والد کابڑا ہاتھ رہا۔دونوں کے تزکیہ نفس میں قرآن و سنت کے اصول و قواعد سے ترتیب پانے والی ایک نوعیت کی صوفیانہ تربیت کا بڑا گہرا اثر تھا ۔دونوں ہی نے اوائل عمری ہی سے سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہونا شرو ع کردیا تھا۔

سیدمودودیؒ اہلِ بیت سے منسوب ایک خاندان کے چشم و چراغ تھے۔جس نے پہلے ہرات کی طرف اور پھراپنے جد امجد قطب الدین مودود چشتی ؒ(۵۲۷ ھ) کے زمانے میں ہندستان کی طرف ہجرت کی۔قطب الدینؒؒ سلسلہ چشتیہ کے بڑے بزرگ تھے‘ یہ سلسلہ قرآن و سنت کی پابندی کا خصوصی التزام کرتا ہے۔ ان کے والد سید احمد حسنؒ نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا‘ لیکن تصوف اور عباد ت و زہد کی طرف طبیعی میلان ان پر اکثر غالب آجاتا۔ اسی لیے وہ وکالت کو بہت زیادہ وقت نہ دے پاتے۔ جس مقدمے کو حق و انصاف کے مطابق پاتے صرف اسی کی پیروی کرتے۔ زہد کی اسی فضا میں سیدمودودیؒ نے پرورش پائی۔ ان کی زندگی پر ان کے والد گرامی کا بڑا گہرا اثر تھا۔ وہ ننھے ابو الاعلیٰ کو اپنے ساتھ مسجد لے جاتے اور انھیں اپنے ہم عصر علما کی مجالس میں بٹھاتے‘ قرآن کریم یاد کراتے۔ عربی اور فصیح اردو بولنے کی تعلیم انھیں‘ ان کے والدصاحب نے ہی دی تھی۔وہ ننھے مودودی ؒ کو انبیا ؑ کے قصے‘ اسلامی تاریخ کے سبق آموز واقعات اور ہندستان کی تاریخ کے اہم حادثات بتایا کرتے تھے۔ ابو الاعلیؒ کہتے ہیں:’’ اگر مجھ میں کوئی خراب عادت آجاتی تو وہ مجھ سے چھڑا دیا کرتے۔ ایک دن میں نے اپنے نوکر کے بچے کو مارا تو انھوں نے اسے بلایا اور کہا: ’’جیسے اس نے تمھیں مارا ہے تم بھی اسے مارو۔ اس واقعے نے مجھے ایساسبق سکھایا جو ساری زندگی میرے کام آتا رہا‘‘۔ مدرسہ بھیجنے سے قبل گھر پر ہی ان کی تعلیم کا اہتمام کیا گیا تھااور ان دونوں مراحل میں انھوں نے حصول علم میں اپناتفوق ثابت کیا۔ ابھی عنفوان شباب ہی میں تھے کہ والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔

امام حسن البنا شہیدؒ کے والد حدیث کے بڑے عالم تھے ۔علم حدیث میں ان کی سعی وجہد کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انھوں نے ائمہ اربعہ کی اکثر مسندات کو فقہی ابواب کی ترتیب پر مرتب کیا۔ مسند احمدکی جو شرح انھوں نے کی وہ بہت مشہور ہے۔ حسن البناؒؒ کے و الد انھیں ہمیشہ لائبریری سے استفادے اور علمی مجالس میں شرکت پر ابھارا کرتے۔ جب امام موصوف نے قرآن حکیم کا حفظ ترک کرکے ہائی ا سکول میں داخلہ لیا تو والد صاحب نے بیٹے کے اس فیصلے پر سخت اعتراض کیا‘ اور اسکول میں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت اس وقت دی جب حسن البناؒ ؒ نے وعدہ کرلیا کہ گھر پر حفظ قرآن کی تکمیل کروں گا۔ اسی لیے ابھی نو برس کے نہیں ہوئے تھے کہ آپ نے حفظ مکمل کرلیا۔ حسن البناؒؒکے والد بھی انھیں اپنے ساتھ علما کی مجالس میں لے جایا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں انھیں ان کے والد محترم نے گھڑی سازی اور جلد سازی بھی سکھائی تھی‘ تاکہ مستقبل میں آپ کا سارا انحصار سرکاری نوکری پر ہی نہ ہو(گھڑی سازی کی وجہ سے ہی آپ نے اپنا لقب الساعاتی رکھا تھا)۔

اسی دوران امام حسن البناؒ کو مسنون تصوف سے وا قفیت حاصل ہوئی اور پھر آپ پابندی کے ساتھ سلسلہ حصافیہ کی مجالس میں شریک ہونے اوراس کے اوراد‘ وظائف اور آداب کی پا بندی کرنے لگے۔ آپ نے ان حصافی بھائیوں سے بہت کچھ سیکھا ۔اختلافی مسائل او ر مشتبہ امور سے دُوررہنا‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا اہتمام کرنا‘ آپ نے یہیں سے سیکھا۔ یہیںسے آپ کی ذات میں علم کی جو ت جا گی اورخیر کے لیے سعی و جہد کا جذبہ پروان چڑھا۔

سید مودودی ؒاور حسن البنا شہیدؒ دونوں کو تحصیل علم سے بے حد لگا ئو تھا۔ حصول علم اور اس پر عمل کے رستے میں رکاوٹ بننے والی ہر چیزکو وہ قربان کردیا کرتے ۔

امام مودودی ؒ نے اد بِ عر بی‘تفسیر و حدیث اور منطق و فلسفہ کی بے شمار کتب کا مطالعہ کیا۔ صرف و نحو اور بلاغت کو درساً درساً سیکھا‘ یہا ں تک کہ عربی میں نابغہ روزگار ہو گئے اور آپ کے زبان و قلم روانی کے ساتھ فصیح زبان لکھنے اور بولنے پر قادر ہوگئے۔آپ نے بعض عربی شہ پاروںکااردو میں ترجمہ بھی کیا۔ اسی طرح آپ نے اپنی ذاتی محنت سے بغیرکسی فا ضل استاد کی نمایاںرہنمائی کے‘ اتنی انگر یزی سیکھ لی کہ علم کے ‘زندگی کے جس شعبے کے با رے میں جتنا چا ہیں پڑ ھ سکیں اور مفید اقتباسا ت کا اردو میں تر جمہ کرسکیں ۔اگرچہ وقت کی کمی نے با قا عدہ تر جمے کی مہلت نہ دی ۔

اما م حسن البناؒ قرأت کے بے حد دلدادہ تھے۔ اللہ نے آپ کو حافظہ بھی بلا کادیا تھا۔ یادداشت ایسی کہ حیرت و استعجاب بھی انگشت بدنداں رہ جا ئیں۔شا ید ہی کبھی کوئی اہم بات آپ کے ذہن سے محو ہوئی ہو۔ جب آپ نے دارالعلوم کالج (بعد میں یہیں سے آپ نے سند فراغت بھی حاصل کی) میںد اخلے کے لیے ٹیسٹ دیا تو اس وقت آپ کو۱۸ ہزار اشعار زبانی یاد تھے۔ آپ اشعار کی صورت میں مختلف عربی علوم وفنون کے متن حفظ کر نے کے بھی بے حد شو قین تھے اوریہ مشغلہ والد گرامی کی اس نصیحت کا اثر تھا کہ:من حفظ المتون حاز الفنون۔ ]جس نے متن کو حفظ کر لیا‘ اس نے سارے فنون جمع کرلیے[ بعد ازاں علوم شرعیہ کی تعلیم کے دورا ن عربی تراجم کے ذریعے مغربی مفکر ین کے خیا لات سے بھی ضروری آگا ہی بہم پہنچا لی تھی ۔

  • سماجی پس منظر اور ابتدائی جد وجہد:دونوںقائدین کا تعلق معا شرے کے متوسط طبقے سے تھا۔ اس طبقے کے افراد کو دولت‘ اختیار اور شہرت اندھا کر دیتی ہے۔ مگر یہ ان کی سلامتی طبع اور ایمانی حرارت تھی کہ ان چیزوں نے انھیںنہ خراب کیا اور نہ تنگ دستی اور غر بت ہی انھیں جھکا سکی‘ بلکہ اس چیز نے ان کو عام لوگوں سے قریب تر ہونے اور امت کے غم اور غربا کے   دکھ درد کے بارے میںحساس تر کر دیا تھا ۔ مزید برآں‘دونوں اصحاب چونکہ صاحبِ علم وفضل خاندانوںسے تعلق ر کھتے تھے‘ اس لیے بخوبی جانتے تھے کہ بارگاہ الٰہی میں کامیابی صرف اتباعِ حق‘ حسن اخلاق اور علم نافع پر خصوصی توجہ دینے میںپوشیدہ ہے۔

دو نو ں ایک اور منفرد قدر مشترک کے بھی حا مل تھے۔ دونوں کواپنی زبان پر عبور ‘ اسلامی تہذیب و ثقافت کے ساتھ گہری وابستگی ‘عوام کے سا تھ میل جول اوران کی ہدا یت و رہنمائی کے لیے فکر مندی نے وہ دولت و حکمت عطا کی‘ جس سے وہ مشکل تر ین علوم اور عظیم الشان معانی کو بے حد آسان پیرائے اور روشن اسلوب میں پیش کرنے کے قابل بن گئے۔ ان کا طرزِبیان‘ عام خلقِ خدا کے مناسب حال ہوتا جوزبان کی واجبی سمجھ بو جھ ر کھنے وا لوں اورگہرے ادبی نکات پرنظر رکھنے والے لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کرتا۔ یہ خزانہ ان مخاطب لوگوں کے عقل و وجدان کومتوجہ کرکے ضمیر کو متحرک اور نفوس کا تز کیہ کرتا۔ یہ ایک ایسااسلوب بیان تھا جوعلم کی بلندیوں پر فائز لوگوں اور مبتد یوں‘ غرض یہ کہ کسی کے لیے بھی اجنبی نہ ٹھیرا۔

امت مسلمہ کے غموں اور دکھوں کے مداواکے لیے دونوںامام‘ کم عمری ہی میں اجتما عی زندگی کے معاملات میں فعال شرکت کرنے لگے اور انفرادی سعی و جہد پر اجتما عی جدوجہد کو تر جیح دی۔

سید مودودی ؒابھی۱۵ بر س کے تھے کہ بطور صحافی کا م کرنے لگے۔ ۱۹۱۹ ء میں جب ہندستان کے اندر تحریک خلافت کا آغاز ہوا تو سید مو دودی ؒ پورے جذبے کے ساتھ اس تحریک میںشامل ہوگئے ۔ تحر یک کا مقصد‘ خلافت عثمانیہ کی بقا کی جدو جہد اوراس کی گھات میں بیٹھے ہوئے استعماری لشکروں سے اسے بچانا تھا ۔ دشمن ‘اسلام کی سیاسی وحدت کے اس نشان کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا چاہتا تھا۔ سید مودودیؒ نے اپنے زیر ادارت اخبار اور دیگر کئی اخبارات کے ادارتی صفحات میں خلافت اسلامیہ کا حقیقی نظریہ‘ اس کی ضرورت اوراس کی اصلاح وبقا کی اہمیت پر مضامین لکھ کر اپنے قلم و زبان سے اس تحریک کی اعانت اور مددکی ۔اسی طرح امام مودودیؒ نے ہندو مسلم فسادات کا باربار شکار ہونے والے مسلما نوںکی مدد کے لئے قائم انجمن کے کاموں میں بھی فعا ل شرکت کی۔ ۱۴۵۱ھ/۱۹۳۳ء میں جب ماہ نامہ ترجمان القرآنسید ابو الاعلیٰ مو دودیؒ کے زیرادارت آیا‘ تو آپ نے اس کا ہدف ’’قرآن کی دعو ت لے کر اٹھو اور پوری دنیا پر چھا جائو‘‘ ہی مقرر کیا ۔ ابتدا ئی برسوں میں کتنی ہی مشکلات تھیں جو آپ کو اس مجلے کی اشاعت کی خاطربرداشت کرنا پڑیں ۔ مشکلات میں گھرا ترجمان القرآنقریب تھا کہ بند ہی ہو جاتا‘ مگراللہ کی توفیق اورسیدیؒ کے   عزم وہمت کی بدولت رسالے میں استحکام آتا گیا اور اس کی اشاعت آہستہ آہستہ بڑھتی چلی گئی۔ آگے چل کر یہی رسالہ ان کے پروگرام اور وژن کے پھیلائو اورتاسیس جماعت اسلامی کے اعلان کے لیے‘ راے عامہ ہموارکر نے کامؤ ثر ترین ذریعہ ثابت ہوا۔

سید مودودی ؒ نے جواں عمری میں بہت سی بلندپایہ کتب تصنیف کیں۔ جن میں پردہ‘ اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘ تحریک آزادی ہند اور مسلمان اور دینیات وغیرہ شامل ہیں۔  الجہاد فی الاسلامکی تالیف کے وقت (۱۳۴۷ھ/۱۹۲۸ء میں) ان کی عمرصرف ۲۵برس تھی۔ اس کتاب میںمغربیوں اور ہندوؤں کے اس منفی اور ظالمانہ پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔

یہی مجلہ‘ بے مثل فلسفی شاعر اور عظیم مفکرِ اسلام‘ علامہ محمد اقبالؒ کے ساتھ ان کے مضبوط تعلقات کا باعث بنا۔یہاں تک کہ اقبالؒ نے ۱۳۵۶ھ؍۱۹۳۷ء میں سید مودودی ؒکو لاہور بلالیا‘ تاکہ پوری یکسوئی کیساتھ علمی اور دعوتی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔ گویا قدرت نے اگلے ہی سال علامہ اقبال ؒ کی وفات (۱۹۳۸ئ) سے پیدا شدہ خلا کو پُر کرنا سید مودودیؒ کے مقدر میں لکھ دیا تھا۔

دوسری طرف امام حسن البناؒ ؒ بھی کم عمری ہی سے اجتماعی جدوجہد کی راہ پر چل پڑے تھے۔  وہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے کہ اسکول کی ایک فلاحی تنظیم  جمعیت اخلاق الادبیۃ میں    شامل ہوئے ‘اور بعد ازاں اس کی مجلسِ منتظمہ کے صدر نشین ہوگئے۔اوائل عمری کے اسی مرحلہ میں آپ نے اپنے چند رفقا کے ساتھ مل کر ایک اور تنظیم  جمعیت منع المحرمات بھی قائم کی۔یہ تنظیم امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا کام کرتی۔پھر جب ایلیمنٹری اسکول میں داخل ہوئے تو آپ نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر جمعیت الحصافیۃ الخیریۃ کی بنیاد رکھی اور اس کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔یہ تنظیم اخلاق فاضلہ اپنانے اورمنکرات سے بچنے کی دعوت دیتی۔مصری شہر دمنہور میں آباد عیسائی پادریوں کی مشنری سرگرمیوںکی مزاحمت بھی تنظیم کی سرگرمیوں کا ایک محور تھا۔

مزید تعلیم کے لئے جب قاہرہ منتقل ہوئے توآپ کے ازہری علما کے ساتھ گرما گرم اور طویل مکالمات ہوئے‘ جس کے نتیجے میں ایک رسالہ الفتح کا اجرا عمل میں آیا۔ بعد میںایک تنظیم جمعیت شبان المسلمین بھی قائم کی گئی۔ ۱۹۱۹ء میںجب پورے مصر میں انگریزوں کے قبضے کے خلاف مظاہرے ہوئے تو آپ نے صرف۱۳ برس کی عمر میں ان مظاہروں میں شرکت کی۔

m  صحافت ایک ذریعہ:  جس طرح تمام تر مالی مشکلات کے باوجود سید مودودی ؒ کو ترجمان القرآن جاری رکھنے پر اصرار تھا‘ اسی طرح حسن البنا شہید ؒنے جب  ہفت روزہ اخوان المسلمون جاری کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس ابتدائی اشاعت کے پیسے تک نہ تھے۔لیکن ان کے عزم و ہمت نے مشکل کا حل نکالا اور مجلے کا پہلا شمارہ صرف دو’’ جنیہہ مصری ‘‘کی سرمایہ کاری سے نکلااور دو جنیہہ کی یہ رقم بھی امام حسن البناؒ نے اپنے ایک اخوانی رفیق سے قرض لی تھی۔بعد ازاں یہ مجلہ مسلسل چار برس تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔کہا جا سکتا ہے کہ دونوں داعیوں کے سینوں میں صداے حق کی پکار مچل رہی تھی‘ جوہر صورت لوگوں تک پہنچنے کے لئے کسی راستے کی متلاشی تھی۔

اسلامی صحافت کی ضرورت واہمیت پر دونوں رہنما متفق تھے ‘اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنی بے مثال سعی و جہد اور اپنا بہت ساقیمتی وقت صرف کیا۔دونوںپر بسا اوقات ایسا وقت بھی آیا کہ انھیں بیک وقت خود ہی صحافی ومدیراورمنتظم و ہاکر کا کردار ادا کرنا پڑا‘تاکہ اشاعت کا تسلسل برقرار رہ سکے۔اشاعت میں تسلسل کی اہمیت وہی فرد جان سکتاہے‘ جو صحافت کی اثرپذیری سے واقف ہو۔ عالمِ اسلام میں اس کی اہمیت اس لیے بھی دو چند ہوجاتی ہے کہ بڑے پیمانے پر راے عا مہ کو متاثر کرنے والے ذرائع ابلاغ ‘ٹی وی اور ریڈیو وغیر ہ مکمل سرکاری کنٹرول میں ہوتے ہیں‘ اور حکّامِ وقت‘ اسلامی صحافت کو اپنی راستے کا روڑا سمجھتے ہوئے کام کی اجازت کم ہی دیتے ہیں۔ ذرا سی تنقید بھی ناقابل برداشت ہوتی ہے اور بندش یا ضبطی کا حکم نامہ آجاتا ہے۔

  • اجتماعی جدوجہد پر اتفاق: دونوں رہنمائوں کا اس پر بھی اتفاق تھا کہ مطلوبہ اصلاح کسی ایک فرد کی ذاتی جدوجہد سے ممکن نہیںاور نہ اصلاح کی اجتماعی کوششیں صرف طبقہ اشرافیہ (elite class) کو ہدف بنا کر کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہیں‘ بلکہ اس مقصد کے لیے نہایت ضروری ہے کہ یہ کام ایک قومی تحریک کی شکل میں ہو اوربغیر کسی طبقاتی تقسیم کے قوم کے تمام افراد کو اپنا مخاطب بنایا اور خاص و عام‘ سب کو ایک ہی لڑی میں پرویا جائے۔ اس لیے کہ دعوت کا اصل ہدف تو سب لوگوں کو اللہ کی بندگی میں دینا ‘ جہنم کی آگ سے بچانا اور جنت کی کامیابیوں کی جانب گامزن کرنا ہے۔نیز یہ کہ خالق کائنات کا پیغام کسی ایک طبقے اور جماعت کے لیے خاص نہیں‘ بلکہ سب کے لیے عام ہے۔اصلاح کی وہ تما م سابقہ کوششیں جو انفراد ی جدوجہد کی غماز اور امت کے کسی ایک طبقے کو ہدف بنا کر شروع کی گئیں تھیں‘منزل مراد کو نہ پاسکیں‘اور اپنے قائد کی وفات سے حرف غلط کی طرح مٹ کر رہ گئیں۔مصر و ہندکی تاریخ اس طرح کی بہت سی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

امام مودودیؒ اورامام البنا شہیدؒ اگرچہ آپس میںکبھی ملے نہیں تھے اور نہ اُن میں کبھی کوئی رابطہ ہی رہا تھا۔ پھر بھی دونوں کو اس حقیقت کا مکمل ادراک تھا کہ اصلاح کی منزل تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ اور طریقہ ہے اور وہ ایک مجاہد اور ربانی جماعت کی تشکیل کا راستہ ہے۔ ایسی جماعت جو پورے کے پورے دین اسلام کو لے کر اٹھے اور لوگوں تک پہنچائے۔اسی کی طرف دعوت دے‘ اسی کے مطابق لوگوں کی تربیت کرے اور پھر جہاں اور جس قدر قربانی کی ضرورت پڑے‘ اس سے دریغ نہ کرے۔

اس حقیقت کے ادراک میںحسن البنا شہید ؒ کو سبقت کا مقام حاصل ہے۔انھوں نے  بہت پہلے سے ہی اپنے آپ کو اس مقصد کی خاطر تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ آپ ابھی دار العلوم کالج کے طالب علم ہی تھے کہ آپ نے لکھا:’’ میری زندگی کی سب سے بڑی سعادت یہ ہوگی کہ میں  لوگوں کا ہادی اور معلم بنوں‘‘۔کالج سے فراغت کے بعد آپ نے ۱۹۲۸ء اسماعیلیہ کے مقام پر  اخوان المسلمون کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے مرشد عام قرار پائے۔ اخوان المسلمون کی شاخیں جب مصر اور گرد ونواح کے بہت سے ممالک تک پھیل گئیںتو انھوں نے اپنے ساتھیوں پر واضح کر دیا کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ سچی دعوت کو ابتلا و آزمایش کے ذریعے آزماتاہے اور یہ آزمایش ہی ہے جو مخلصین کو منافقین سے ممیزکر دیتی ہے۔

امام حسن البناؒ نے اسی لمحے کے پیش نظر راستے میں حائل ان رکاوٹوں کو بھی کھول کھول کر واضح کردیا تھا کہ: مسلمانوں کی بڑی تعداد دعوت کی حقیقت سے ناواقف ہوگی ‘ روایتی علماے کرام دین کے حقیقی فہم کو اجنبی نظروں سے دیکھیں گے‘ اور حکمران اور مراعات یافتہ طبقوں کا بغض و عناد بھی آڑے آئے گا ۔تمھیں یہ سب کچھ برداشت کرنا ہو گا اور یہی وقت ہوگا جب تم ابھی اصحابِ دعوت و عزیمت کے رستے پر پہلا قدم رکھ رہے ہوگے۔تم ضرور اس دورِ امتحان و ابتلا میں داخل ہو کر رہو گے‘جہاںپرجلاوطنیاں اور گرفتاریاں ‘ تجارتوں کے خسارے اور نوکریوں سے برطرفی تمھارا پیچھا کرے گی۔ تمھارے گھرو ںکی تلا شیاںلی جا ئیں گی اوریہ سب کچھ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک کہ تم اچھی طرح آزما نہ لیے جائولیکن ‘اس سب کچھ کے بعد اللہ کا مجاہدین سے مدد اور عمل کرنے والوں سے ثواب اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا وعدہ ہے۔

امام مودودی ؒنے اسی احساس کی تعبیر ایک ایسی مجاہد‘ مومن جماعت کی تشکیل (۲۶اگست ۱۹۴۱ئ)کی صورت میںکی ہے‘ جو تغیر احوال کا ذریعہ بن جا ئے۔ انھوںنے فرمایا: کسی ایک صا لح فرد یا متفرق طور پر بہت سے صالح افراد کے ہونے سے استخلاف فی الارض کا نظام تبدیل نہیںہوسکتاخواہ وہ افراد اپنی جگہ کیسے ہی زبردست اولیا اللہ بلکہ پیغمبر ہی کیوںنہ ہوں۔ اللہ نے استخلاف کے متعلق جتنے وعدے بھی کیے ہیںمنتشر ومنفرد افراد سے نہیں‘بلکہ ایک ایسی جماعت سے کیے ہیںجودنیا میں اپنے آپ کو عملًا خیرِ امت اور امت ِ و سط ثابت کر دے ۔(نیز یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ایسے گروہ کے محض وجود میں آجانے سے ہی نظامِ امامت میںتغیر واقع نہ ہو جائے گا کہ ادھر وہ بنے اُدھر اچانک آسمان سے کچھ فرشتے اتریںاورفساق وفجار کو اقتدار کی گدی سے ہٹاکر انھیںمسند نشین کر دیں) بلکہ اس جماعت کو کفر و فسق کی طاقتوںسے زندگی کے ہر میدان میںہر ہر قدم پرکش مکش اور مجا ہدہ کر نا ہوگا اور امامت ِحق کی راہ میںہر قسم کی قربانیاںدے کر اپنی محبت ِحق اوراہلیت کا ثبوت دینا پڑے گا ۔یہ ایسی شرط ہے جس سے انبیا ؑتک مستثنیٰ نہ رکھے گئے ‘کجاکہ آج کوئی اس سے مستثنیٰ ہو نے کی توقع کرے!

امام مودودی ؒ کا اس ایثار پیشہ ‘اور مجاہد جماعت کی خصوصیات کے بارے میںتصور کیا تھا؟ آپ نے اس کا ذکرہمہ گیریت اور سیلاب کے الفاظ کے ساتھ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ا سلام کو  نظامِ غالب بنانے کی تحریک اس طرح ایک ہمہ گیر سیلاب کی مانند اٹھے جس طرح مغربی تہذیب یہاںسیلاب کی مانند د ر آئی اور زند گی کے تمام شعبوں پرچھاگئی۔ اس ہمہ گیری اور سیلابیت کے بغیر نہ یہ ممکن ہے کہ مغربی تہذیب کو غلبہ اور اقتدار سے بے دخل کیا جا سکے اور نہ یہی ممکن ہے کہ نظام تعلیم‘نظام قانون ‘ نظام معیشت اور نظام سیاست کو بد ل کر ایک دوسرا تمد ن خالص اسلامی بنیادو ں پر قائم کیا جاسکے ۔

m آزمایش کا شعور: پھر جب سید مودودیؒ نے ترجمان القرآن کے ذریعے ہندستان ]یعنی موجودہ: بھارت‘ بنگلہ دیش اور پاکستان[ کے مخلص مسلمانوں کوتاسیس جماعت کے لیے اجتماع عام کی دعوت دی‘ تو لکھا: ’’ایک صالح جماعت کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ایسے لو گ درکار ہیں جو اس نظریے پر سچا ایمان رکھتے ہوں۔ وہ اس فاسد نظام‘ تہذیب و تمدن و سیاست کے خلاف عملًا بغاوت کر یں اور اس سے اور اس کے پیرووں سے تعلق توڑ لیں۔ان تمام فائدوں‘ لذتوں آسایشوں اور امیدوں کو چھوڑدیںجو اس نظام سے وابستہ ہیں۔انھیں رفتہ رفتہ ان تمام نقصانات ‘ تکلیفوں‘اور مصیبتوںکو بر داشت کرنا ہو گا جو نظام غالب کے خلاف بغاوت کرنے کا لازمی نتیجہ ہیں۔پھر ان کو وہ سب کچھ کرنا ہوگا جو ایک فاسد نظام کے تسلط کو مٹانے کے لیے اور ایک صحیح نظام قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔اس انقلاب کی جدوجہد میں اپنا مال بھی قربان کرنا ہوگا‘اپنے اوقاتِ عزیز بھی صرف کرنے پڑیں گے‘ اپنے دل و دماغ اور جسم کی ساری قوتوں سے بھی کام لینا پڑے گا‘ اور قید اور جلاوطنی اورضبط اموال اور تباہی اہل و عیال کے خطرات بھی سہنے ہوں گے اور وقت پڑے تو جانیں بھی دینا پڑیں گی ۔ان راہوں سے گذرے بغیر دنیا میں نہ کبھی کوئی انقلاب برپا ہوا ہے اور نہ اب ہوسکتا ہے‘‘۔

۱۳۶۰ھ/ ۱۹۴۱ء میں تاسیسِ جماعت کے بعد جب آپ پہلے امیر منتخب ہوئے تو فرمایا: ’’میرے لیے تو یہ تحریک عین مقصدِ زندگی ہے۔میرا مرنا اور جینا اس کے لیے ہے ۔ کوئی اس پر چلنے کے لیے تیار ہو یا نہ ہو‘ بہرحال مجھے تو اسی راہ پر چلنا ہے اور اسی راہ میں جان دینا ہے۔کوئی آگے نہ بڑھے گا تو میں بڑھوں گا‘کوئی ساتھ نہ دے گا تو میںاکیلا چلوں گا۔ساری دنیا متحد ہوکر مخالفت کرے گی تو مجھے تن ِتنہا اس سے لڑ نے میں بھی باک نہ ہوگا۔‘‘

پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی کیا کہ یہ دونوں رہنما اپنے عہد و پیمان میںایثار و قربانی کی شاہراہ پرا پنے دیگر رفقا سے نہ صرف پیش پیش تھے ‘بلکہ اْن کی ذات دوسروں کے لیے نمونہ اور مثال تھی۔ سیدمودودیؒکئی بارگرفتارکیے گئے بلکہ ایک بار تو پھانسی کی سزا بھی سنادی گئی جو بعد میں عمرقید میںبدل دی گئی۔ آپ (۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۵ء تک)‘ تقریباً ۳ سال قید میں رہے۔ جیل سے نکلے تولوگوںکا جم ِغفیر آپ کو مبارکباد ینے کے لیے جمع تھا۔اس مو قع پر آپ نے کہا:’’عز یزانِ محترم! میرے لیے قید کی سزا غیر متوقع نہیںتھی ۔سچ یہ ہے کہ ۲۲ سال قبل جب سے میںنے اس راہ پر قدم بڑھا یاہے اس وقت سے ہی مجھے ابتلا و آزمایش کے اِن مراحل کا علم تھا ۔ ہم آیندہ بھی علیٰ وجہ البصیرت اسی راہ پر گامزن رہیںگے۔تاریخ ہمیںبتا تی ہے کہ قید و بند کی یہ صعوبتیں اس راستے کا مستقل حصہ ہیں اور مستقبل میںبھی ہمیںان سے سابقہ پیش آتا رہے گا‘‘۔

سیدمودودیؒ اس وقت بھی ایمانی بلند یوں کے اعلیٰ مدارج پر فائز تھے‘ جب ۱۹۶۳ء میںآپ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ سٹیج پر عین اُس وقت گو لیا ںچلا ئی گئیں جب آپ کھڑے تقر یرکر رہے تھے ۔ ایک ساتھی نے کہا: ’’مولا نا بیٹھ جا یئے‘‘۔ اُسے ڈر تھا کہ کہیںکوئی گولی مولا نا کو نہ لگ جا ئے۔ لیکن آپ ؒؒنے پو رے مو منا نہ ثبا ت کے سا تھ جواب دیا : ’’اگر میں بیٹھ گیا تو پھرکھڑا کو ن رہے گا؟‘‘

حسن البنا شہید ؒ نے بھی قید و بند کا مزا چکھا۔ اللہ نے اُن کے لیے اپنے راستے میں شہادت مقدر کر رکھی تھی۔ آپؒ ۱۹۴۹ء میں قاہرہ کی سب سے بڑی شاہراہ پر‘ مغربی استعمار کے آلۂکار     شاہ فاروق اور انگریز ایجنٹوں کے ہاتھوں‘ صرف ۴۲ برس کی عمر میںشہید کر دیے گئے!

  • تربیت پر زور: دونوں نے ایک ہی چشمہ صافی یعنی وحی ربانی اور اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اپنی پیاس بجھائی تھی۔ اسی لیے دونوں کی قائم کردہ جماعتوں کے طریق کاراور ارتقائی مراحل میںبھی بے حد مشابہت پائی جاتی ہے۔ان کا ہمیشہ اس بات پر زور رہا کہ مجاہدانہ اوصاف کی حامل یہ جماعت ہمیشہ بنیادی اسلامی ماخذ‘ یعنی قرآن و سنت سے پوری طرح جڑی رہنی چاہیے۔امام مودودی ؒ کہتے ہیں: ’’ہمارا طریقۂ کار‘قرآن اور سیرتِ انبیا علیہم السلام سے ماخوذ ہے‘‘، جب کہ امام حسن البناؒ کہتے ہیں: ہماری کوشش ہے کہ یہ دعو ت بھی اُسی دعوت کی حقیقی باز گشت ہو جس کی صدا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ۱۴۰۰ سال قبل وادی بطحاء میں بلند کی تھی‘‘۔

امام حسن البناؒ نے اچھے کارکن کے لیے مطلوبہ مراتب ِ عمل بھی پوری طرح واضح کر دیے تھے۔ آپ ؒ کے نزدیک’’ کارکن کا اولین ہدف ہر پہلو سے اپنی ذات کی مکمل اصلاح ہے۔ پھر اسلامی اقدار و آداب کی پابندی اورنمایندہ مسلم گھرانے کی تشکیل‘معاشرے کی اصلاح اور راے عامہ کی اسلامی فکر کے ساتھ وابستگی پیدا کرنا اور اجتماعی زندگی کو اسی کے رنگ میں رنگنے کی کو شش کرنا‘نیز غیراسلامی اور اجنبی اقتدار سے وطن کو سیاسی و معاشی و معنوی ہر طرح سے مکمل آزادی دلانا۔ حکومت کی اس طرح اصلاح کرنا کہ وہ حقیقی اسلامی حکو مت بن جائے۔ پھرامت مسلمہ کی عالمی ہیئت کی تشکیل نو‘اور چار دانگ عالم میں اسلام کی دعوت کے پھیلائو کے ذریعے دنیا بھر کی امامت( قیادت) کرنا ‘یہاں تک کہ دین سارے کا سارا اللہ کے لیے خالص ہو جائے‘‘۔

سید مودودیؒ کا راستہ اورسوچ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی۔ ان کی دعوت ِ اصلاح کا مرکز ومحور بھی یہی چارنکات تھے: تطہیروتعمیر افکار‘ تنظیم‘ اصلاحِ معاشرہ اور اصلاحِ حکومت۔

دونوں قائد اس حقیقت سے باخبر تھے کہ ان عظیم اہداف کا حصول صبر اور استقامت چاہتا ہے۔ اس راستے میںعجلت پسندی اور فتح کے لیے جلدبازی کا کچھ کام نہیں۔اسی لیے عجلت پسند ساتھیوں اورپھل کو پکنے سے پہلے برتنے کے خواہش مند لوگوں سے امام حسن البناؒؒ نے یہ کہا تھا: تمھارے اس راستے کے قدم لکھے جاچکے ہیں اوراس کی حدود متعین ہوچکی ہیں۔ اور میںجس راستے کو منزل تک پہنچنے کا محفوظ ترین راستہ ہونے کی حیثیت سے اختیار کر چکا ہوں‘ اسے کبھی ترک نہیں کرسکتا۔ تم میں سے جو فرد بھی پھل کو پکنے سے پہلے برتنا چاہتا ہو‘یا پھول کو کھلنے سے پہلے توڑنے کا خواہش مند ہو‘ تو میں اس معاملے میں اس کے ساتھ نہیں ہوں۔ اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ اس دعوت کو ترک کرے اوردوسروں کی طرف لوٹ جائے‘‘۔

امام مودودی ؒ نے ان کے بارے میں کہا: ’’ان (جلدباز لوگوں) کے لیے سینے پر گولی کھالینا‘ منظم کام کی بہ نسبت آسان ہے۔ جب وہ ایک ایسے کام کے قابل نہیں ہیں جو مہینوں صبر کا تقاضا کرتا ہو ‘تو ان کے لیے ایک منظم عمل کے تحت چلتے رہنا تو اور بھی دشوار تر ہو گا‘‘۔

یہی وجہ تھی کہ انھوں نے تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ اس تربیت میںناگہانی مصائب سے بچائو‘اور طویل سفرکے لیے ضروری توشہ اور راستے کے ہر موڑ پر موجود خطرات سے بچائو کا سامان موجود تھا۔معاشرے کی اصلاح کے داعیے نے ہی انھیںخد مت خلق کے ان کاموں کی جانب متوجہ کیا‘ جن کا مقصد‘ معاشرے میں بھلائی کے بیج بونا اور خصوصی توجہ اور ہمدردی کے ساتھ اسے دین کی جانب مائل کرنا تھا ۔یہ داعیان ِحق‘ لوگوں کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھانا‘ ان کی مشکلات میں سہارا بننا اور ان سے میل جول پیدا کر کے‘ ان کے سامنے نیک نمونہ پیش کر کے اپنا مخاطب بنانا چاہتے تھے۔ مدارس کی تعمیر اور ہسپتالوں کے قیام‘ محتاجوں کی مدد اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی میں دونوں رہنمائوں کی نما یاں کاوشیں شامل رہیں۔ اس طرح دونوں جماعتوں کی سرگرمیاں عام لوگوں‘ طلبہ‘ مزدوروں‘ عورتوں ٰاور پڑھے لکھے لوگوں کے وسیع حلقوں تک پھیلیں۔

  • استعمار اور اُمت کی کش مکش:  خلافت اسلامیہ کا انہدام عالمی و استعماری سازشوں اور داخلی مکر و فریب کا براہ راست نتیجہ تھا۔عام مسلمانوںپراس سانحے کا بڑا گہرا اثر تھا۔ بہت سے دلوں میں مایوسی گھر کرچکی تھی۔ہم پہلے عرض کر چکے ہیں امام مودودی ؒ نے ہندکے اندر اُس تحریک میں بڑی سرگرمی سے شرکت کی تھی جس کا مقصد‘ سقوط سے قبل خلافت کے بچائو کی تدابیر کرنا تھا‘جب کہ امام حسن البنا ؒ نے اخوان المسلمون کی بنیاد‘سقوط خلافت کے تقریبا چار برس بعد رکھی۔ آپ احیاے خلافت کے بارے میں اکثر غور وخوض کرتے کہ آخر کیا شکل ہوکہ خلافت کا ادارہ اسلام کے سیاسی نظام کا نمایندہ بن کردنیا میں دوبارہ فعال کردار ادا کر نے کے قابل ہوسکے۔

امام حسن البنا ؒکہتے: اخوان یقین رکھتے ہیں کہ خلافت ‘اتحاد اسلامی کی مظہر اور امم اسلامیہ کے باہمی ربط و ارتباط کی علامت ہے ۔ یہ شعائرِ اسلام میں سے ہے ۔ اس لیے اس کے بارے میں غور و فکر مسلمانوں پر واجب ہے۔اسی وجہ سے اخوان المسلمون نے احیاے خلافت کی کوششوںکو اپنے طریقۂ کار میں اولیت دی ہے ۔ ہمارا یہ بھی خیال ہے کہ احیاے خلافت سے قبل کچھ اور اقدامات ا ٹھانے ضروری ہیں‘ مثلاً امم اسلامیہ کے درمیان باہمی تعاون میں اضافے کی کوششیں کرنااور ایک دوسرے کے ساتھ باہم معاہدات وغیرہ۔ بین الاقوامی کانفرنسوں اور موتمرات کا انعقاد ‘تاکہ    اُمت مسلمہ میں ایک ہونے کا شعور ابھر سکے ۔ ظاہر ہے کہ سیاسی اصلاح کے عمل کا آغاز‘ اپنے اپنے ملکوں میں قائم حکومتوں کی اصلاح سے ہوناتھا اور سب سے بڑی مشکل یہ درپیش تھی کہ دونوں ممالک: مصروپاکستان انگریز کے براہ راست قبضے تلے رہے تھے۔

امام مودودیؒ نے اپنی جوانی ہند میں انگریزی قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے گزاری تھی ۔ جب ہندستان آزاد ہوا(۱۹۴۷ئ) توا نھوں نے مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں اپنی جد وجہد جاری رکھی۔ آپ نے پوری شدت کے ساتھ واحداور متحدہ ہندستانی قومیت کاانکار کیا اور اس کے بدلے ‘ مسلمانانِ ہند کی مسلم قومیت کا ساتھ دیا ۔ ان کے نزدیک دارالاسلام کا قیام اگرچہ زمین کے نہایت ہی چھوٹے خطے پرکیوں نہ ہو ‘زیادہ محبوب تھا بہ نسبت اس کے کہ مسلمان۔

جب پاکستان آزاد ہوا تو گو یا یہ سید مودودیؒ کے خوابوں کی تعبیر‘ دار الاسلام تھا ۔اس موقع پر انھوں نے اپنی بے پایاں خوشی کا اظہار اِن الفاظ میں کیا: ’’میں نئی مملکت کو صرف اپنا ملک نہیں کہتا بلکہ یہ اسلام کا وطن ہے۔ ہمیں صدیوں بعد ایک ایسا موقع ملا ہے کہ ہم اللہ کی ریاست کو اس کی حقیقی شکل میں قائم کر سکیں اور پوری دنیاکے سامنے اس دین کے اندر رکھی ہوئی فلاح ونجات کا حقیقی مظاہرہ پیش کرسکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے ‘‘۔ لیکن جلد ہی ان کی توقعات کو اس وقت شدید دھچکا لگا ‘جب آزادی کے ایک ہی سال بعد سیاسی استبداد نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ پہلے گورنرجنرل قائد اعظمؒ کی وفات (۱۱ ستمبر ۴۹ئ) کے بعد امام مودودیؒ وہ پہلے سیاسی قیدی (۴اکتوبر ۱۹۴۸ئ) تھے جو کسی پاکستانی جیل میںپابند سلاسل کیے گئے۔ اس عظیم مجاہد نے اپنی بقیہ ساری زندگی پاکستان کو حقیقی اسلامی مملکت بنانے میں صرف کی‘ یعنی ایک ایسی مملکت جہاں اسلامی دستور کی حکمرانی ہو ۔ اسی راستے پر چلنے کی پاداش میں وہ گرفتار کیے گئے اور انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی جو اگرچہ نافذ نہ ہو سکی ۔ اس عظیم مقصد کی خاطرسید مودودیؒ کا جہاد جاری رہا یہاں تک کہ اسلام کا مطالبہ پوری قوم کا مطالبہ بن گیا اور ظالم اپنے جبر اور منہ زوری و سرکشی کے باوجودان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔

ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جماعت اسلامی نے ایک محضر نامہ تیار کیا (۱۹۶۳ئ)جس میں عوامی حقوق اور شہری آزادیوں کے مطالبے کے علاوہ یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ: پاکستان کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو اور تمام امور ِمملکت‘ اسلام کی ابدی ہدایات کی روشنی میں انجام دینا ضروری قرار دیا جائے ۔ محضر نامے پر جب قوم سے دستخط حاصل کرنے کی مہم شروع ہوئی تو دستخطی کاغذوں پر مشتمل اس منفرد دستاویز کی طوالت ۱۴ کلومیٹر ہو گئی۔ جب یہ محضرنامہ پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو حکومت نے ۱۹۶۴ء میں اس کا جواب‘ جماعت کی سر گرمیوں پر پابندی اور سید مودودیؒ اور دیگر ۳۶مرکزی رہنمائوں کی گرفتاری کی صورت میں دیا ۔

حریت وآزادی کے لیے امام حسن البناؒؒ کی جہادی کاوشیں بھی نہایت واضح ‘روشن اور عزم وہمت سے پرُ ہیں ۔آپ نے اخوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

ہمیشہ اس بات کا تذکرہ کیا کرو کہ ہمارے دو بنیادی اہداف ہیں: پہلا یہ کہ وطن اسلامی ہر اجنبی اقتدار سے چھٹکارا پا جائے۔ اس لیے کہ آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے اور اس کا انکار‘ ظالم وجابر کے علاوہ اور کوئی نہیں کرتا۔ دوسرا یہ کہ اس ملک میں آزاد اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آ جائے۔ ایسی مملکت جو اسلامی احکامات پر کا ربند اور اس کے اجتماعی نظام کا نفاذ کرنے والی ہو۔ ایک ایسی ریاست جو دین کے ابدی اصولوں کا اعلان کرنے والی اور لوگوں تک اس کی حکیمانہ دعوت پہنچانے والی ہو۔ جب تک یہ مملکت قائم نہیں ہو جاتی‘ سب مسلمان قصور وار اور اپنی کوتاہی پر اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے۔

امام حسن البناؒؒ نے بہت سے مواقع پر استعمارکے خلاف آواز بلند کی اور مسلمانوں کو جہادپہ ابھارا ۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کا ہروہ علاقہ جسے اجنبی اقتدار سے خطرہ ہو‘ میدان جہاد ہے۔ وہ فرمایاکرتے تھے کہ عالمِ اسلام ایک جسم کی مانند اٹوٹ انگ ہے ‘جس کے ٹکڑے نہیں ہو سکتے۔ اس کے کسی بھی ایک حصے پر جارحیت ‘پورے عالم اسلام پر جارحیت کے مترادف ہے۔ اسلام مسلمانو ں پر فرض ٹھیراتا ہے کہ وہ ا پنے خطے اور منطقے کے قائد و رہنما ہوں اور اپنے وطن میں بالادست ہو۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان پر فرض ہے کہ دوسروں کو حلقہ دعوت میں داخل کرنے کے لیے کمر ہمت کس لیں اور اسلام کے جس نور سے انھوں نے ہدایت پائی ہے‘ اس کی طرف دوسروں کی بھی رہنمائی کریں۔ امام حسن البناؒؒ نے عالم اسلام کے خلاف یورپی استعمار کے جرائم گنوانے کے بعد فرمایا:

اسلام اپنے فر ماں بر داروں سے آزادی و حریت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں۔ وہ سرداری اور جہادکو افضل گردانتاہے اگرچہ راہ میں جان و مال ہی کیوں نہ کام آتے ہوں۔غلا مانہ‘ ذلت آمیز اور بندگی کی زندگی سے موت بدرجہا بہتر ہے ۔

اپنے انھی اقوال کی عملی تصویر‘ امام شہید ؒنے جہادِ فلسطین] دیکھیے: اخوان المسلمون فی حرب فلسطین‘ استاذ کامل الشریف[ میں پیش کی ۔اور ان کی شہادت کے بعداس کی دوسری روشن مثال اخوان نے نہرِ سویز کی لڑائی (۱۹۵۶ء )میں انگریزوں کے خلاف قتال میں پیش کی۔ اس معرکے میں اخوان نے جرأت و شجاعت کی وہ مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک دوسروں کے لیے مثال بنی رہیں گی۔

  • آئینی جدوجہد کا طریقہ:  جہاں تک دستوری او ر قانونی جدو جہد کا تعلق ہے‘ امام البناؒ کے دور ہی میں مصری دستور کے اندر صراحت کر دی گئی تھی کہ مملکت کا سر کاری دین ‘اسلام ہوگا۔ مقتدرہ کے معاملات پہلے سے ہی اس دستورکے تحت چل رہے تھے ۔ مصری دستور ‘عمومی اور خصوصی آزادیوں کے لحاظ سے روحِ اسلام سے متصادم نہیں تھا ۔ البتہ کئی دفعات پرعمل در آمد نہیں ہورہا تھا‘ یا پھر ا س کی کچھ دفعات مبہم تھیں اور ان کی توضیح وتعبیر کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی تھیں۔ اسی لیے امام حسن البناؒ ؒ فر ماتے ہیں:’’ ہماری جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ مصری دستور کی ان  مبہم دفعات کی واضح تشریح کر دی جائے۔ ملک میں دستو ر کا نفاذ یقینی بنا دیا جائے‘‘۔ دستور کے بر عکس حسن البنا شہیدؒ کا قانو ن کے بارے میں نقطۂ نظر بالکل مختلف تھا ۔اس لیے کہ مصری قوانین‘ انسانی عقل و جستجوکا ماحصل تھے اور بہت سی جگہ پر دین کے احکامات سے متصادم تھے ۔ یہ قوانین ایک ایسے نظامِ فکروفلسفہ سے آئے تھے جو صریحاً اسلام مخالف تھا۔ حسن البناؒؒ کہتے ہیں :’’ اخوان المسلمون کبھی بھی اس قانون پر راضی نہ ہوں گے اوراس کی جگہ قانون کے تمام میدانوںمیں اسلامی شرعی قوانین کی ترویج کے لیے ہر ممکن طریقہ اپنائیں گے‘‘ ۔

قانون اور حکومت سازی کے بارے میں دونوں رہنمائوں کا نقطۂ نظر‘ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے بارے میں ان کے موقف سے مربوط تھا۔ سید مودودیؒ نے تحریک پاکستان میں فعال کردار ادا کرنے والی جماعت‘ آل انڈیامسلم لیگ کے عمومی طرز عمل اوراور مبہم انداز فکر کے خلاف موقف اختیار کیا ۔حالانکہ فی نفسہ تحریک ِ پاکستان میں اس جماعت کا فعال کردار ہی سید مودودیؒ اور مسلم لیگ کے درمیان واحد مشترکہ اساس تھی۔ دونوں کے مابین محلِ اختلاف ‘ملک کی آزادی کے بعدپاکستان کے مستقبل کے بارے میں مسلم لیگی سوچ تھی۔ مسلم لیگ ملک کو مسلم قومیت کے رنگ میں رنگاہوا دیکھتی تھی اور صرف لیبل اسلام کالگانا چاہتی تھی۔ اس کی قیادت میں با اثرافراد کی مو ثر قوت سیکو لر خیالات کی جانب مائل اور مغرب زدہ تھی ۔ مختلف مناصب پر قابض یہی اقلیت تھی‘ جس نے قیامِ پاکستان کے بعد حکمران بنتے ہی ہر عہد کو توڑنے اور اسلامی ریاست کے ہر تقاضے کو نظرانداز کرنے کی روش اختیار کی‘ اور اسی کے دورِ اقتدار میں سید مود ودیؒ کو سزاے قید وبند کا تحفہ نصیب ہوا۔ اقتدار عملاً سامراج کی تربیت یافتہ سول بیوروکریسی اور فوجی جنتا کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا۔

امام حسن البناؒ دورِ استعمار میں قائم ہونے والی مصری سیاسی جماعتوں کو ملکی اور اسلامی مفادات کے راستے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتے تھے ۔ یہ تمام جماعتیں خا ص حالات کی پیدا وار تھیں اور ان کے قیام کے پیچھے زیادہ ترشخصی مفادات کا رفرما تھے‘ نیز یہ کہ ان کا کوئی نصب العین اور طریقۂ کار بھی نہیں تھا۔پارٹی تعصب کو ابھار کر‘اور ہر جائز و ناجائز طریقے کو بروئے کار لاتے ہوئے اقتدار کی منزل تک پہنچنا ہی ان لوگوں کا اصل ہدف تھا۔ اسی لیے امام حسن البناؒ نے ان سیاسی جماعتوںکی تحلیل کامطالبہ کیااور کہاکہ تمام جماعتوںکو استعمار کے مقابلے اورعوامی بیداری کے لیے ایک ہی جھنڈے تلے اکٹھے ہو جاناچاہیے ۔یقینااسلام کی تعلیمات بھی یہی ہیں۔لیکن افسوس کہ دونوں کے ممالک کی صورتحال امت کے خوابوں کی سچی تعبیر کی راہ میں حائل ہوگئی ۔

  • مغربی تہذیب پر نظر:مغربی تہذیب کے حوالے سے دونوں کا موقف بے حد مضبوط تھا۔ دونوںکے مطابق تہذیبِ مغرب کی سائنس وٹکنالوجی کے میدان نمایاںپیش رفت سے فائدہ اٹھانے میںکوئی حرج نہیں ‘بلکہ یہ عین اسلامی تعلیمات ہیںجودوسروںسے اخذواکتساب کی دعوت دیتی ہیں ۔اسلام کہتاہے کہ حکمت کی بات جہاںسے ملے حاصل کرو۔ لیکن ان کایہ بھی خیال تھاکہ مغربی تہذیب نے امت مسلمہ کے خلاف بڑے بھیانک جرم کاارتکاب کیاہے ۔اس تہذیب نے اپنے آپ کو اسلام کے متبادل نظام حیات اور نظام فکروفلسفہ کے طور پر پیش کیاہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ امت کے مؤثرافراداس تہذیب کی طرف لپکنے لگے ۔

امام حسن البنا ؒ نے رائے دی: اسلام ہمیںہر اچھی چیز کے حصول کا حکم دیتاہے ‘او ریہ کہ حکمت ودانائی مومن کی گمشدہ متاع ہے‘جہاں پائے حاصل کر لے کہ وہ لوگوںکی بہ نسبت اس متاع کا زیادہ حق دار ہے۔ اس لیے کوئی امر مانع نہیںہے کہ امت مسلمہ کو جہاںسے خیر کی بات ملے ‘اسے حاصل کرلے۔ لہٰذا ہم اوروںکی مفید ایجادات سے استفادہ کریں اور اس کی تطبیق‘ اسلام کے اصولوں‘ اپنے نظام حیات اور قومی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کریں۔

امام مودودیؒ کا اس بارے میںموقف یہ تھاکہ جو کوئی بھی قوت ‘کمال اوربرتری چاہتاہے اسے چاہیے کہ دیگر قوموںسے قوت و ترقی ا ورکمال کے اسباب سیکھ لے اوران کی ذلت و پستی کے اسباب سے پہلو بچالے۔ان قوموں کی غلط ڈگرپر چل کراپنے اصول وضوابط اوراپنی ملت کے حیات بخش اصول ومبادی ہاتھ سے نہ گنوائے ۔

دونوںرہنماؤںنے مسلمانوں کو مغربی تہذیب کے منفی اثرات سے خبردارکیا ۔امام حسن البناؒ کی رائے میںمغربی تہذیب کی بنیاد دین ودنیاکی دوئی کے نظریے پر قائم ہے۔خاص طورپر یہ کہ اس تہذیب میں ریاست ‘عدالت اور تعلیم کودین سے دُوررکھاگیاہے۔ اس کے ہر ہرپہلو میںمادی سوچ کارفرماہے اوراسی کوترقی وکمال کی میزان تصورکیاگیاہے ۔یہی وجہ ہے اس کے سارے مظاہر‘ محض مادیت پر مبنی ہیں‘جنھوںنے ادیان سماویہ کی تعلیمات اور ان کی بنیادوںکو منہدم کردیاہے ۔اس کے سارے اصول و مبادی‘ دین حنیف کے اُن بنیادی اصولوںسے متناقض ہیں‘جن پر اسلامی تہذیب و تمدن کا مدار ہے ‘ جب کہ اسلام نے مادیت اورروحانیت کاحسین امتزاج قائم کیاہے ۔

امام حسن البناؒ نے شک والحاداور انکارِروح و آخرت کے اثرات ‘ اباحیت پسندی‘ لذت پرستی‘ گانے بجانے کے جنون اوردنیاوی چیزوںکی بے محابا چاہت کے افراد ‘طبقات اور قوموںپر پڑنے والے اثرات بد سے آگاہ کیا ۔سودی کاروبار کی ریل پیل اور اس کے خود مغرب اور عالم اسلام پر پڑنے والے مضر اثرات کے بارے میں بھی بتا یا۔دونوں کی تعلیمی و ثقافتی جنگ کے بارے میں  آگاہ کرتے ہوئے امامؒ نے فرمایا: ’’بعض مسلمان اقوام مغربی تہذیب سے بہت زیادہ مرعوب ہیں اور اپنی اسلامی شناخت سے بے حد نالاں‘جیسے ترکی اور مصر۔ ان دونوں ممالک میں اسلامی فکر کا  سایہ روز بروز سکڑتا جا رہا ہے‘ اور اب اسے اجتماعی زندگی کے تمام میدانوںسے نکال کر مسجد ‘ زاویہ اور خانقاہ و تکیہ تک محدود کر دیاگیاہے‘‘۔

امام مودودی ؒنے بھی مغربی تہذیب کی فلسفیانہ بنیادوںسے بحث کی ہے ۔اور کہاہے کہ ہیگل نے اس دنیا کو ایک اکھاڑا بنایا تو چارلس ڈارون نے فطرت کو میدانِ جنگ سے تشبیہہ دی۔ پھر کارل مارکس کادور دورہ ہواتو اس نے بھی سوسائٹی کی کچھ ایسی ہی تصویر کشی کی ۔ جہاںتک اخلاق کی بات ہے توتہذیب ِ مغرب میں اس کی بنیاد محض منفعت اندوزی اور لذت پرستی پر قائم ہے ۔پھرامام المودودیؒ نے مسلمانوںکو اس تہذیب سے لاحق خطرات کے بارے میںبتاتے ہوئے کہا:مسلمانو ںکی مغرب سے سیاسی وعسکری شکست سے بڑھ کر خطرناک ترین بات ان کا تہذیب و ثقافت اور فلسفہ کے سامنے سپر ڈال دینا ہے ۔اس لیے کہ سیاسی غلبے نے تو صرف جسموںپہ غلبہ پایاتھا‘جب کہ اس کے تہذیبی اور فکری غلبے نے دل و دماغ اور سوچ و فکر کا دھار ا ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ استعماری قبضے نے ہمیں عسکری وسیاسی آزادی کا راستہ تو دکھایا ہے‘مگر انگریزی علم واد ب اور  تہذیب وتمد ن نے ہم مسلمانوں کے اندر سے ایسے افراد پیدا کرلیے ہیں ‘جن کے ذہن پوری طرح اس کے قبضے میں ہیں۔یہ لوگ اپنی زندگیوںکو اس طریقے سے ہٹ کر گزارنے کاسوچ بھی نہیںسکتے ‘جس کا نقشہ مغر ب نے ان کے سامنے پیش کیاہے۔

  • اسلامی اخوت و ملی یک جہتی: دونو ںقائدین کے نزدیک دعوت واخوت اسلامیہ کامفہوم عام اور سب کے لیے تھا۔ خطرات کاسامناکرنے کے لیے مومنین کی ایک دوسرے کو مد د دونوںہی کے نزدیک واجب تھی۔ امت کے شکار کے لیے گھا ت میں بیٹھے دشمن کا ‘میدان عمل کی وسعت کے باوجود‘ طریقہ ایک ہی تھا اور اس سے بچائو کی صورت بھی دونوں کے نزدیک ایک ہی تھی ۔ اسی چیز نے دونوں رہنمائوں کواپنے اپنے ملکوںکی داخلی مشکلات کے باوجود‘ عالم اسلام کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے فعال کوششیں کر نے پر مجبور کیا۔دونوںکے نزدیک اسلام وطن بھی تھااور قومیت بھی۔ امام مودودیؒ نے عالم اسلام کے اکثر حصوںکاخود دعوتی سفرکیااور اس کے مسائل کے حل کے لیے فعال جدوجہد کی۔ وہ عالم اسلام کی کئی موثر تنظیموں کے رکن تھے اور ان میںکرداربھی بے حد نمایاں طور پر اداکیا تھا۔ ان کی انتہائی کوشش رہی کہ کسی طرح بنگلہ دیش نہ بنے اور پاکستان دوٹکڑے ہونے سے بچ جائے لیکن علیحدگی پسندی کے رجحانات کے آ گے ان کی پیش نہ چلی۔ان کی جدوجہد کابڑا حصہ‘ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے وقف رہا۔ وہ اسے عالم اسلام کاایک مرکزی مسئلہ قرار دیتے تھے جس کاحل صرف اور صرف جہاد فی سبیل اللہ میںمضمر تھا ۔

امام البناؒ کو اگرچہ اتنی طویل عمر نہیںملی کہ وہ عالم اسلام کی سیاحت کرتے‘ مگر ان کی دعوت نے مسلم دنیا سے سلیم الفطرت دلوں کو کھینچا۔ ان کے دور میںاخوان کامرکز‘ پورے عالم اسلام کے حریت پسندوں‘مجاہدوںاور نصرت کے متلاشیوںکا مرکز ہوتاتھا۔آخر عمر میں ان کی دل چسپیوں اور توجہات کا مرکز و محوراور ان کے مسلح جہاد کااہم ترین محاذ فلسطین ہی تھا۔ اخوانی نوجوانوںنے اس محبوب دیار کو اپنے خون سے سینچا‘ تاکہ حاسد صلیبی قوتوں کی پروردہ ‘عالمی صہیونیت کی گندگیوں میں گرنے سے بچا لیا جائے۔ لیکن عالم عرب کی  قیادت پر فائز گروہوں کی کمزوری و خیانت اور دشمنان اسلام کا اتحاد‘امامؒ کی سعی و جہد کی بار آوری میں حائل ہوگیا۔اخوان المسلمون کی تحلیل اور امام البناؒ کی شہادت کا فیصلہ اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ مسئلہ فلسطین کو اپنے موقف میں اہم ترین مقام دیتے تھے۔

قیامِ پاکستان کے بعد ہم امام حسن البناؒ کو پاکستان کے حالات میں خصوصی دل چسپی لیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو یہ بات ہمیں انوکھی نہیں معلوم ہوتی۔ انھوں نے نئی مملکت ِپاکستان کوبھارت اور مغرب‘ دونوں سے لاحق خطرات سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: پاکستان دونوں اطراف سے خطرے میں گھرا ہوا ہے۔ اسے بت پرست ہندئووں کی مسلح جارحیت کا سامنا جسے استعمار کی فریب کاریوں اور اس کے جدید ترین اسلحے کی مکمل مدد حاصل ہے ۔ مغرب مختلف ممالک میںتقسیم ہونے کے باوجود ‘ پاکستان دشمنی میں ایک ہے۔یہاں تک کہ کمیونسٹ روس جو بظاہر قوموں کے حقوق‘ بالخصوص      حق خودارادیت کی مالا جپتے نہیں تھکتاوہ بھی اس نئی مملکت کے خلاف سازش میں شریک ہے۔

استاذ صالح عشماوی جو اخوان کے ترجمان النذیرکے مدیر تھے‘ انھوں نے تشکیلِ پاکستان اور اس سے وابستہ امیدوں اور توقعات پر بہت سے مقالے تحریر کیے‘اور لکھا: ’’پاکستان کی صورت میںہمیں اخوان المسلمون کی دعوت اور اصولوں کا جیتا جاگتا نمونہ ملنے کی توقع ہے۔ پاکستان کا ہرمسلمان ان اصولوں پر ایمان رکھتا ہوگاجن کی جانب اخوان دعوت د یتے آئے ہیں‘‘۔

ہندستان میںقادیانیت کا قیام و ظہور‘ انگریزی استعمار کے ساتھ گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھا ۔اس نئے مذہب پر سید مودودی ؒ نے بے لاگ تنقیدکرتے ہوئے ایک مستقل کتاب قادیانی مسئلہ تحریر کی اوراس کے متبعین کے کفر کا پردہ چاک کیا ۔ مصر میں بھی اس مذہب کے ماننے والے کچھ دھوکا باز لوگ موجود تھے۔علما نے ان کے دعووں اور مذہب کا تعاقب کیااور مدلل تنقید کے ذریعے اسے باطل ثابت کیا‘جب کہ امام حسن البناؒؒ اس قافلۂ ختم نبوتؐ کے سرخیل تھے۔ قادیانیوں میں سے ایک نے امام  حسن البنا ؒ کو مناظرے کا چیلنج دیااور پھر جب امامؒ مقررہ جگہ پر پہنچے تو مناظرہ شروع ہونے سے قبل ہی قادیانی مناظر نکل بھاگے۔ اسی طرح امام حسن البناؒ ؒ نے مصر کی جمعیۃ الہدایۃ سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قادیانیت سے تائب ہو کراسلام کے دامن میں دوبارہ پناہ لینے والوں کو خوش آمدید کہیں۔

  • فکری مما ثلت: سیدمودودیؒ اور حسن البنا شہیدؒ اور ان کی برپا کردہ تحریکوں ‘اخوان المسلمون اور جماعت اسلا می کے درمیان اس قدر گہری مماثلت کی بنیادی وجہ دونوں جماعتوں کے مصادرو ماخذ کی وحدت اور طریق تربیت اور ہدف کا ایک ہونا ہے ‘نیز اس سارے کام کے پیچھے‘ صرف اور صرف دین کی نصرت و غلبے کا جذبہ کارفرما ہے۔ جن احکامات سے یہ دونوں جماعتیں اپنے وجودکا شرعی جواز حاصل کرتی ہیں‘ یعنی قرآن و سنت‘ وہ بھی ایک ہے۔جہاں تک دو نوں کے فکروعمل میں تھوڑے بہت اختلاف کا تعلق ہے تو اس کی وجہ دونوں کا دائرہ عمل( یعنی مصر و پاکستان) کا الگ الگ ہونا ہے۔ مزید یہ کہ سید مودودیؒ نے زیادہ توجہ تالیف کتب پر دی‘اور فکر اسلامی اورتحریک اسلامی کے لیے گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑ گئے۔ان کی بیش تر کتب دوسری مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں‘حتیٰ کہ انگریزی میں ۳۹ اور عربی میں ترجمہ شدہ کتب کی تعداد ۴۸ تک پہنچ چکی ہے۔ عالم اسلام کی جن مختلف زبانوں میں ان کی کتب کے تراجم شائع ہوچکے ہیں ‘۷۰ کی دہائی تک ان کی تعداد ۱۸کے قریب تھی۔امام حسن البناؒ کو دعوت‘ عملی تربیت اور دین کی خاطر مصر کے گوشے گوشے میں سفر نے تالیف ِکتب کی مہلت نہ دی اور خاص طور پر یہ بھی کہ وہ عین جوانی میں اس وقت شہید کر دیے گئے جب ان کی عمر ابھی صرف ۴۲ برس تھی۔وہ کہا کر تے تھے کہ میں نے آ دمیوں کی تالیف کی ہے اور اب یہ آ دمی کتابیں تالیف کریں گے۔

جہاں تک جدید اصطلاحات یا ان کے مشابہہ دیگر مغربی اصطلاحات کا تعلق ہے جو سیدمودودیؒ کے لٹریچر میں موجود ہیں‘ جن کی وجہ سے علما ان کتب کے پڑھنے سے منع کرتے رہے ہیں‘ اس معاملے کو سیاق و سباق ہی میں دیکھنا چاہیے۔ سید مودودی ؒکی اصل سوچ و فکر تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کی نظر ان کی تمام کتب اور تالیفات پر ہو‘نہ کہ سیاق و سباق سے ہٹی ہوئی چند عبارات پر۔ یہی وہ یک رخا پن ہے جہاں سے انسان ٹھوکر کھا تا اور غلط فہمی کا شکار ہو جا تا ہے۔اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ سید مودودیؒ کے خطیبانہ اسلوب کو بھی پیش نظر رکھا جائے‘ جس کے ذریعے وہ قارئین میںاسلامی و جہادی حمیت ابھارتے اور ان میں ایمانی جوش و جذبہ پیدا کرتے ہیں۔

بہر حال امام مودودیؒ کی آرا میں افراد کی تکفیر ہر گز نہیں ہے کہ یہ ایک خطرناک معاملہ ہے۔ امام مودودیؒ کا فرمان ہے: مسلمانوں کی تکفیر کے معاملے میں مکمل احتیاط نہایت ضروری ہے۔ اس معاملے میں اتنی ہی احتیاط کی ضرورت ہے جتنی کہ کسی شخص کے قتل کا فتوی صادر کرتے ہوئے ضروری ہے۔ ہم پریہ جاننا لازمی ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں توحید اور کلمہ طیبہ پر ایمان موجود ہے۔ اگر اس سے کوئی کلمہ کفریاکفریہ حرکت سرزد ہو جاتی ہے تو لازمی ہے کہ اس کے بارے میں حسن ظن قائم رکھیں‘ اور اس حرکت کو اس فرد کی جہالت و نادانی اور نا سمجھی پر محمول کریں کہ اس کا مقصد ایمان کو چھوڑ کر کفر اختیار کرنا نہیں تھا۔ ایک اور جگہ رقم طراز ہیں کہ جان و مال اور عزت کی حفاظت انسان کو مجرد کلمہ شہادت کی ادایگی اور رسالت کے اقرار سے حاصل ہو جاتی ہے اور اس کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مملکتِ اسلامیہ کے کسی شہری کا کوئی حق سلب کرے۔ اس لیے اگر کوئی اللہ اور اس کی مخلوق کے حقوق کی ادایگی سے انکار کرتا ہے‘ تو اسے اس کے جرم کی مناسبت سے سزا دی جائے گی۔

اما م حسن البناؒ کی رائے بھی اس سے کچھ مختلف نہیںہے۔ انھوں نے واضح طور پہ اعلان کیا کہ جو بھی شہادتین کا اقراری ہواور اس کے تقاضوں پر کاربند ہو‘ اس کے فرائض کی ادایگی کرے‘ ا س کی ہم تکفیر نہیں کرتے۔الا یہ کہ وہ کلمۂ کفر کا اقرار کرے‘ یا ضروریات دین میں سے کسی کا انکار کرے یا قرآن کے کسی صریح مقام کو جھٹلائے‘ یا اس کی ایسی تفسیر کرے جس کی لغت ِعرب کسی حال میں اجازت نہیں دیتی ‘یا ایسا عمل کرے جس کی کفر کے علاوہ اور کوئی تاویل نہ کی جا سکتی ہو۔ یوں آپ نے تکفیر کا دروازہ ہی بند کر دیا جس کی وجہ سے ماضی میں مسلمانوں کو بہت سے خطرات لاحق ہوچکے تھے۔

امام مودودیؒ اور امام البناؒ دونوں محسنوں نے مصلح اور مجدد کا کردار ادا کیا اور اسلامی عمل پر گہرے نقوش مرتب کیے اور یقینا ان کی سیرت اور ان کا طریقۂ کار صدیوں تک رہنمائی کے اُفق روشن رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور اسلام کی طرف سے انھیںبہترین جزاء سے نوازے‘  وآخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العالمین!

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں‘ انھیں مُردہ نہ کہو‘ ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں‘ مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔ (البقرہ ۲: ۱۵۴)

مجلہ پرابودھیا (Prabodhaya) جسے جماعت اسلامی سری لنکا‘ سنہالا زبان میں شائع کرتی ہے‘ یااس کے تامل ایڈیشن  الحسناتکی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت یاد آجاتی ہے۔ اس حوالے سے مولانا مودودیؒ کے چھوڑے ہوئے نقوش پا اور اثرات حسنہ‘ کی قدم قدم پر شہادت ملتی ہے۔ اگرچہ وہ ایسی سرزمین پر رہتے تھے جو سری لنکا سے بہت دُور ہے‘ اور ان کی اکثر تصانیف بھی اُردو زبان میں ہیں‘ اس کے باوجود ہمارے جذبے ان کی زندگی اور ان کے کارہاے نمایاں سے زندگی‘ حرارت اور تحریک پاتے رہیں گے۔ یہ صرف سری لنکا ہی کا معاملہ نہیں‘ ساری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ یہی قصہ ہے۔ یہ مولانا مودودی علیہ الرحمہ جیسے لوگوں کی روح پرور تصانیف کا نتیجہ ہے کہ اسلام دشمن پروپیگنڈے کے زبردست حملوں کے باوجود آج کے مسلمان‘ اپنے ایمان اور عقیدے میں پہلے سے زیادہ مضبوط اور پختہ ہیں۔

بیسویں صدی ایک ایسا دور تھا جب اسلام دشمن پروپیگنڈا زوروں پر تھا۔ اس پروپیگنڈا مہم کا پیش رو (spearhead) مغربی سامراج تھا۔ اس صدی میں برطانوی نو آباد کار دنیا کے بیش تر حصے پر حکمران تھے اور اس میں برعظیم ‘ جنوب مشرقی ایشیا کا علاقہ بھی شامل تھا‘ جسے انگریز ’تاج برطانیہ کا ہیرا‘ کہا کرتے تھے۔ سامراجی بھیڑیوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ اسلام کی تصویر مسخ کر کے لوگوں کو اس سے بدکنے پر مجبور کریں۔ مسلمانوں اور دوسری قوموںکو اپنا مطیع فرمان بنا لیں۔ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے دین اسلام پر ہر پہلو سے حملہ شروع کیا۔ ان کے دانش ور تن دہی سے اس کام میں جتے ہوئے تھے کہ اسلام کو ایک پس ماندہ مذہب کی حیثیت سے پیش کیا جائے‘ جو دورِجدید کے تقاضوں کو قطعاً پورا نہیں کرتا۔ انھوں نے ’جہاد‘ کے اعلیٰ و ارفع تصور کو بھی مسخ کر کے پیش کیا اور اسے غیر مسلموں کے خلاف ’مقدس جنگ‘ کے طور پر اجاگر کیا۔ انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اسلام تو تلوار کی طاقت سے پھیلا ہے۔ اسی طرح انھوں نے اسلام کے بارے میں اور بھی بہت سی غلط فہمیاں پیداکرنے کی کوشش کی۔ اور تو اور انھوں نے اپنی مذموم کوششوں کا دائرہ یہاں تک بڑھا دیا کہ رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی کردار کشی کی بھی کئی طرح سے جسارت کی۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب میں اسلام پر جو تصانیف منظر عام پر آئیں‘ ان کا بغور مطالعہ ا ن کے اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے انتقامی ذہن اور بغض کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔

برعظیم میں اس نوعیت کی اسلام دشمن فضا کے پس منظر میں‘ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کرشماتی شخصیت کا ظہور ہوا‘ جن کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین مصلحین سید قطب شہیدؒ اور حسن البنا شہیدؒ جیسی شخصیتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ احیاے اسلام کے لیے مولانا مودودیؒ کی کاوشوں اور کوششوں کا موازنہ گیارھویں صدی عیسوی میں امام غزالی  ؒ کے کارناموں سے کیا جا سکتا ہے‘ جنھوں نے اس وقت کے عرب دانش وروں میں پھیلے ہوئے نو افلاطونی (Neo-Platonic) فلسفے کے اثرات کا ابطال کیا اور اس فلسفے کو عقلی سطح پر غلط ثابت کیا۔ لیکن یہاں پر یہ فرق ملحوظ رہے کہ امام غزالی ؒ نے جس دور میں زندگی گزاری‘ وہ مسلمانوں کی حکمرانی کے عروج کا زمانہ تھا۔ ان کے برعکس مولانا مودودیؒ کو جس عہد میں جدوجہد کرنا پڑی‘ وہ مسلمانوں کے زوال اور پستی سے عبارت تھا۔ مسلمان سیاسی‘ معاشی اور عقلی طور پر کمزور پڑ چکے تھے۔ سامراجی طاقتوں نے مسلمانوں کی اس کمزوری اور بے بسی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی ثقافت اور اقدار کو مسلمانوں پر بزور ٹھونسنا شروع کر دیا تھا۔ عثمانی سلطنت‘ جو مسلمانوں کی حکمرانی کے تسلسل کا آخری مظہر تھی‘ انھی دنوں منظر سے غائب ہوئی تھی۔ وسطی ایشیا کی مسلم ریاستیں کمیونسٹوں کے زیر اثر آچکی تھیں اور افریقہ اور ایشیا کے اکثر ممالک مغربی نو آباد کاروں کے زیر تسلط تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں میں کہیں اتحاد نظر نہیں آتا تھا۔ مسلمانوں کی کوئی آواز نہیں تھی۔

مغربی استعمار کی بازی گری نے جو چیلنج مسلمانوں کے لیے پیدا کر دیا تھا‘ اس کا جواب دینے کے لیے ان میں کوئی حوصلہ اور عزم نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے برعکس مارکس ازم بڑی تیزی سے رخنے بناتا ہوا مسلمانوں کی صفوں کے اندر تک گھستا چلا آ رہا تھا۔ وہ مسلمان نوجوانوں کو بڑی مہارت سے اپنے ترقی پسند قوت ہونے کا چکمہ دے کر‘ ان کے ذہنی بگاڑ کا باعث بن رہا تھا۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت تھی کہ بہت سے مسلمان نوجوان‘ سامراج سے لڑائی لڑتے ہوئے‘ مارکس ازم کے پھندے میں گرفتار ہو گئے تھے۔

مولانا مودودیؒ نے ان حالات میں قلم اٹھایا اور ان سارے اجنبی اثرات کا اپنی تحریروں کے ذریعے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور فضل سے مولانا مودودیؒ نے ان تمام باطل نظریات کا ابطال کیا اور اسلام کی اصل تعلیمات اس طور سے لوگوں کے سامنے لائے کہ اسلام کا ایک کامل ضابطہ ٔ حیات ہونا ثابت ہو گیا۔ اپنے دور کے بہت سے مسلمان مصنفین کے برعکس مولانا مودودیؒ کا لہجہ کبھی معذرت خواہانہ یا مرعوبانہ نہیں رہا۔ انھوں نے اسلام کو اس کی خالص اور اصل شکل میں پیش کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی سوء فہمی (fallacies) بھی واضح کر دی‘ جو بزعم خود ’ترقی پسند‘ بنے پھرتے تھے‘ خواہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے علم بردار ہوں یا مارکس ازم کے پرچارک یا فاشزم کے طرف دار!

ان سارے باطل نظریات کے خلاف مولانا مودودیؒ کا جہاد بنیادی طور پر قلم کے ذریعے تھا۔ ایک سو کے لگ بھگ قابل قدر تصانیف اور دورِ جدید کے چیلنج کے مطابق قرآن مجید کی     معرکہ آراتفسیر‘ تفہیم القرآن لکھی۔ جس کی تکمیل میں ۳۰ سال کی محنت شاقہ اور تحقیق و جستجو صرف ہوئی‘ نیز ترجمان القرآن کی اشاعت‘ جس کا آغاز ۱۹۳۳ء میں ہوا۔ یہ وہ عہد ساز ماہ نامہ ہے‘ جس کا مقصد‘ اشاعتِ دین اسلام میں مولانا مودودیؒ کے کام کے تسلسل کو برقرار رکھنا تھا۔ یہ سب   مولانا مودودیؒ کے اس اخلاص اور لگائو کی روشن مثالیں ہیں‘ جو انھیں اپنی زندگی کے نصب العین سے تھا‘ یعنی خدمت ِ اسلام اور پیغامِ اسلام کی اشاعت۔ مشہور نو مسلم خاتون محترمہ مریم جمیلہ نے     مولانا مودودیؒ کی زندگی اور کارناموں کو اپنے بے مثال اسلوب میں یوں سمیٹا ہے:

مولانا مودودیؒ کے علم اور معلومات کا دائرہ حیران کن ہے۔ ہم ان سے تقریباً ہر موضوع پر کلام کر سکتے ہیں‘ خواہ وہ مذہب ہو یا فلسفہ‘ سیاسیات ہو یا معاشیات‘ فنون لطیفہ ہوں یا سائنس۔ ہر موضوع پر مولانا مودودیؒ کی رائے جچی تلی‘ دانش سے بھرپور اور دل پذیر ہو گی۔ ان کی ذات میں وسیع علم کے ساتھ ساتھ ایک بے مثل عقلی توازن بھی موجود ہے۔ وہ کبھی جذبات کو دلیل اور عقل پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد بیک وقت کئی محاذوں پر ہے‘ پس ماندگی کے خلاف اور جدیدیت (Modernity) کے خلاف‘ اور بلاامتیاز اڑیل قدامت پرستی کے خلاف۔ وہ محض لکھنے اور تبلیغ کرنے پر قانع نہیں ہیں‘ بلکہ جو کچھ انھوں نے نظری سطح پر کہا‘ اسے عملی طور پر کر کے دکھانے کو اپنی ذمہ داری جانتے ہوئے جماعت اسلامی کی تشکیل کی‘ جو آج دنیا کی سب سے بڑی‘ سب سے منظم‘ طاقت ور اور متحرک ترین اسلامی تنظیم ہے۔

تحریک جماعت اسلامی نے‘ جس کا آغاز مولانا مودودیؒ نے بالآخر اسلامی ریاست کے قیام کے مقصد کے پیش نظر کیا تھا‘ دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ اپنی زندگی ہی میں مولانا مودودیؒ اس کی شاخیں یورپ میں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کو ایسے دل نشین انداز میں پیش کیا کہ وہ مخالفین کے دلوں میں بھی گھر کرتی چلی جاتی ہیں۔ مجھے آج بھی ۱۹۷۶ء میں انگلستان میں منعقدہ ’’ورلڈ آف اسلام فیسٹی ول‘‘ یاد ہے‘ جس کا نقطۂ عروج ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس تھی‘ جو رائل البرٹ ہال لندن میں منعقد ہوئی تھی۔ خوش قسمتی سے مجھے بھی اس کانفرنس میں شریک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ تحریک احیاے اسلام اس کے ساتھ ہی ایک نئے عہد میں داخل ہو گئی۔ اس ’فیسٹی ول‘ نے سائنس‘ ریاضی‘ فن تعمیر‘ طب‘ علم ہیئت اور جغرافیہ جیسے شعبوں میں عالمی تہذیب میں مسلمانوں کے حصے اور کارکردگی کو نمایاں طور پر لوگو ں کے سامنے پیش کیا۔

احیاے اسلام کی تحریک میں مولانا مودودیؒ کا حصہ حقیقتاً بہت زیادہ ہے۔ آج دنیا بھر میں بلندپایہ یونی ورسٹیوں کے اندر طلبہ اور دانش ور مولانا مودودیؒ کی تحریروں پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ قرآن مجید کی تفسیر تفہیم القرآن سمیت ان کی تصانیف‘ بیسیوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ خود سری لنکا میں تفہیم القرآن‘ سنہالا زبان میں ترجمہ کی جا رہی ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ آج دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا مسلم گھرانا ہو جہاں ان کی کم از کم کوئی ایک کتاب موجود نہ ہو۔

مولانا مودودیؒ جیسی ممتاز ہستی اس سے کہیں زیادہ ہماری توجہ کی حق دار ہے‘ جتنی توجہ ماضی میں ان کو دی جاتی رہی ہے۔ اس حوالے سے میں پروفیسر خورشید احمد کی زیر قیادت کام کرنے والی ٹیم کی کوششوں کو سراہتا ہوں‘ جو سال ۲۰۰۳ء کو مولانا مودودیؒ کا یادگاری سال قرار دے کر‘ مولانا کی خدمات کو لوگوں کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔

آخر میں‘ میں بڑی عاجزی سے یہ تجویز پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا کہ مولانا مودودیؒ کے نام پر اسلامی فکر کا ایک ادارہ بنایا جائے‘ جس کے ذریعے مولانا کے علمی ورثے کو محفوظ کیا جا سکے‘ اور اسلامی علوم میں تحقیق کے لیے سہولت مہیا کی جا سکے اور جو دعوت کے کام کے لیے ایک عالمی فورم کا کام بھی دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں میں برکت ڈالے اور آپ کو ان میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین!

اﷲ کا اپنے بندوں پر فضل و کرم ہے کہ اس نے ایک ہی دین، یعنی اسلام کے ساتھ انبیا و رسل بھیجے۔ اس کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کے ساتھ انبیا ورسل کی آمد کا سلسلہ بھی بند کر دیا۔ قرآن عظیم اور سنت مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم کے ذریعے پیغام الٰہی مکمل ہوا‘ پھر اﷲ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو اس دین کی طرف بلانے کی ذمہ داری امت مسلمہ پر عائد کی۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و سلم سے پہلے تمام انبیا نے اﷲ کا پیغام بندوں تک پہنچایا۔ کیا آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحلت کے ساتھ ہی آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کا پیغام ختم ہو گیا؟ نہیں، بلکہ جس امت کی تشکیل حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے کی تھی، وہی اس پیغام کی امانت دار بنی، تاکہ وہ اسے پوری دنیا میں ہمیشہ عام کرتی رہے اور یہ ذمہ داری ادا کر کے وہ ’’خیر امت‘‘ کی مصداق بنے۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کے صحابہ کرامؓ نے اس عظیم ربانی مشن کی ذمہ داری سنبھالی۔ نسلاً بعد نسل یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اس امت پر اﷲ کا یہ فضل بھی رہا ہے کہ وہ کبھی سچے، مخلص‘ باعمل داعیوں، مبلغوں اور ائمہ اعلام سے خالی نہیں رہی۔ تاریخ اسلام ان ہدایت یافتہ رہنماؤں سے جگمگا رہی ہے۔ اسی تسلسل میں سرزمین پاک و ہند سے عظیم عالم، داعی، مجاہد، استاذ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ابھرے۔

ہمارے لیے اپنے علما و ائمہ کی حیات و خدمات کا مطالعہ بہت مفید ہے، کیونکہ اس مطالعے سے دعوت اسلامی کے ہر مرحلے کے لیے ہمیں تجربات ملتے ہیں۔ بحیثیت مجموعی دعوت اسلامی کے تمام مراحل، افکار، جہاد، طریق کار جو مختلف علاقوں اور زمانوں میں اپنائے گئے ہیں، وہ ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔

مجھے اس بات کا تو ہرگز دعویٰ نہیں کہ میں نے مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں پڑھ لی ہیں، یا ان کی تمام نگارشات کا مطالعہ کر رکھا ہے، تاہم اپنے مطالعے اور معلومات کی حد تک ذیل کی سطور میں مجاہد عالم ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی سیرت و فکر کی کچھ جھلکیاں پیش کرتا ہوں:

جب آپ نے ہوش سنبھالا اس وقت ہندستان، برطانوی استعمار کے شکنجے میں کسا ہوا تھا۔ برطانیہ کے وحشیانہ جرائم، جو برطانوی قبضے کے بعد کبھی کم نہیں ہوئے، اپنی انتہا کو پہنچ رہے تھے۔ مسلمانان ہند انگریزوں کو نکالنے کے لیے تگ و دو کر رہے تھے۔

امام مودودی ؒنے اسلامی ماحول کے حامل ایک دین دار گھرانے میں جنم لیا جو صلاح و تقویٰ اور علم سے معروف تھا۔ خاندانی ماحول اور نسبی تعلق کا نتیجہ تھا کہ مولانا کا دل و دماغ نور ایمان سے منور اور حب علم سے مالا مال تھا۔ آپ کے والد محترم، درست تربیت، عمدہ عادات اور اخلاق حسنہ پر بہت زور دیتے تھے۔ یہ اسی تربیت کا اثر تھا کہ سید مودودیؒ شروع ہی سے پاکباز، پاک سیرت اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ وہ اپنے پاکیزہ کردار، سلامتی فطرت اور اجلی فکر کی وجہ سے ممتاز تھے۔ سخت مشکل حالات کے باوجود آپ نے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔

سید مودودیؒ نے جب اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا تو انھیں ہندستان اور اس سے باہر ہولناک حالات دکھائی دیے۔ ان کے والد محترم وفات پا چکے تھے۔ مولانا محمود حسن کو جزیرہ مالٹا میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت عروج پر تھی۔ خود اقوام یورپ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھیں۔ پہلی عالمی جنگ اسی تصادم کا مظہر تھی۔ مولانا مودودیؒ نے ’ترک قومیت‘ اور ’عرب قومیت‘ کا ظہور اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ عالمی طاقتوں نے ’خلافت عثمانیہ‘ کے خلاف جو ریشہ دوانیاں کیں، مولانا نے اس کا بھی مشاہدہ کیا۔

ہندستان میں انگریز کی مخالفت بھی جاری تھی اور مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کش مکش بھی۔ ’’انڈین نیشنل کانگریس‘‘ وحدت وطن کی داعی تھی، مگر بحیثیت مجموعی اس کی پالیسیاں مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ مسلم لیگ، کانگریس کے ردعمل میں ظاہر ہوئی۔ حتیٰ کہ محمد علی جناح مرحوم نے ۱۹۱۹ء میں لکھنؤ کے اجتماع میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے موقف کو یکجا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اسی دوران ’تحریک تحفظ خلافت عثمانیہ‘ ظاہر ہوئی۔ اگر میں یہ کہوں تو ہرگز غلط نہ ہو گا کہ پورے عالم اسلام میں خلافت کو بچانے کی واحد تحریک ہندستان میں ابھری اور اس نے خلافت کو بچانے کی اپنے طور پر بھرپور کوشش کی۔ کم عمری کے باوجود مولانا نے تحریک خلافت میں تحریر، تقریر اور عمل سے حصہ لیا۔ ترکوں اور عربوں کے مابین تنازعے کا آپ کو بہت صدمہ تھا۔ یہی تنازع سقوط خلافت کا سبب بنا اور دشمنان اسلام کو مسلم علاقوں میں گھسنے اور وہاں کے وسائل کے استحصال کا موقع ملا۔

مولانا مودودیؒ ان تمام حالات و واقعات سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہے۔ اگرچہ یہ آپ کا لڑکپن تھا، تاہم آپ نے حالات کا سامنا کرنے اور انھیں درست کرنے کا تہیہ کر لیا۔ سب سے پہلے میدان صحافت میں اترنے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ باطل کے خلاف قلمی جہاد کریں اور رزق حلال بھی کمائیں۔ مولانا نے اس دور کے اہم مسائل پر قلم اٹھایا۔ یونانیوں کے مظالم اور مسیحی مبلغین کی مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوشش پر لکھا۔ آپ نے درست تصور اور ایمان و یقین کے ساتھ خلافت کی بھرپور تائید کی۔

اسی دوران آپ دہلی تشریف لے گئے۔ جہاں مختلف نقطہ ہاے نظر کے سیاست دانوں اور علما سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ جمعیۃ العلما کی قیادت سے بھی ملے، اور ان کے پرچے میں کام بھی کیا۔  مولانا کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ کچھ ہندو تنظیمیں مسلمانوں کو ہندو بننے اور بت پرستی اختیار کرنے کی کھلم کھلا دعوت دے رہی ہیں، جب کہ مسلمان کانگریس میں شامل ہو کر ہندوؤں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اسی موقعے پر آپ نے کہا تھا: ’’ماضی میں مسلمان پوری دنیا میں اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے، مگر آج مسلمانوں کی پستی و زوال کا یہ حال ہے کہ ایک بت پرست اٹھتا ہے اور انھیں ہندو مت قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے‘‘۔ پیغام اسلام کے بارے میں فرمایا: ’’ماضی میں دعوت کا کام پیشہ ور داعی نہیں کرتے تھے، بلکہ امت مسلمہ کا ہر فرد داعی و مبلغ ہوا کرتا تھا‘‘۔ ۱۹۳۳ء میں ترجمان القرآن  کی ادارت سنبھالی توآپ کافی تجربے اور بیش بہا معلومات سے لیس تھے۔ چنانچہ ترجمان القرآن کا علمی و فکری معیار بہت اعلیٰ تھا۔ آپ تن تنہا اپنے رسالے کو خوب سے خوب تر بنانے میں مصروف رہے اور مالی وسائل کی کمیابی کی آپ نے پروا نہ کی، نگاہ اپنے مقصد پر رکھی۔ کیونکہ آپ کو اس خطرے کا مکمل ادراک تھا جو آپ کے ملک اور مسلمانوں کو گھیرے ہوئے تھا۔

مولانا نے اپنے خطبوں، مقالوں اور کتابوں سے جاہلیت کی عمارت کو ہلا کے رکھ دیا، اور اسلامی زندگی کی عظمت واضح کی۔ اسلام کے بنیادی تصورات کو  دینیات کے نام سے پیش کیا، جسے پڑھ کر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ نے ۱۹۴۱ء کو میں لاہور میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھتے ہوئے جو اہداف و مقاصد طے کیے وہ اسلام سے ماخوذ تھے۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین کشت و خون کی فضا میں پاکستان بنا۔ جماعت اسلامی نے مہاجرین کی امداد کے لیے اپنے وسائل کے مطابق اہم کردار ادا کیا۔ اب جماعت اسلامی کی دعوت اپنے لائحہ عمل کے لحاظ سے تین اہم نکات پر مرکوز ہوئی، پہلا یہ کہ عقیدے کی سلامتی و مضبوطی اور اس کے ساتھ ہی اس پر عمل درآمد کرنا۔ دوسرا یہ کہ مضبوط و محکم نظام جماعت جس میں کمزوری اور تساہل پسندی نہ ہو، اور تیسرا یہ کہ قدیم و جدید تعلیم کو یکجا کرنا، جب کہ عملی سطح پر ان امور پر زور دیا گیا کہ کامل توجہ سے محنت کی جائے اور ڈاکٹر کی طرح ہمدردی و احترامِ آدمیت کا رویہ اختیا کیا جائے۔

مولانا مودودیؒ نے ایک ایسی نسل تیار کرنے کے لیے، جو اسلامی ریاست کے قیام اور اس کے اسلامی دستور کے لیے جدوجہد کرے‘ بڑی جاںفشانی سے اصولی طریق کار اپنایا۔ آپ نے اسلامی مملکت کے قواعد و ضوابط پیش کیے، اور اس کے لیے طویل قانونی جنگ لڑی۔ آپ نے قانون کے طلبہ اور ماہرین قانون کے اجتماع میں دو طویل لیکچر دیے، جن میں اس نکتے پر زور دیا کہ: ’’حاکمیت صرف اﷲ کے لیے ہے، حکومت کا کام اﷲ کی مرضی کو نافذ کرنا ہے۔ خلافِ اسلام ہر قانون کو منسوخ کرنا اور مستقبل میں ایسے قوانین نہ وضع کرنے کی پابندی کرنا ہے‘ اس مہم کے نتیجے میں نفاذِ دستورِ اسلام کے مسئلے نے پاکستان میں بڑی اہمیت اختیار کر لی۔ اس کے حامی و موافق بھی تھے اور دشمن و مخالف بھی۔ مولانا مودودیؒ اسی سلسلے میں گرفتار و رہائی کے کئی مرحلوں سے گزرے مگر قیدوبند کے یہ مرحلے آپ کو کلمۂ حق کی ادایگی سے نہ روک سکے۔ آپ پورے ولولے سے اپنے مشن میں مصروف رہے‘ سازشوں کا قلع قمع کرتے رہے اور الزامات لگانے والوں کا حجت و دلیل سے جواب دیتے رہے۔

مولانا مودودیؒ نے فکر و عمل‘ دونوں میدانوں میں جامع تصور پیش کیا۔ آپ کا دل صدق و صفا اور خلوص سے لبریز تھا۔ آپ کی تحریر میں وضاحت و صراحت تھی، پیچیدگی اور ابہام کا نام و نشان تک نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے نسلوں کو متاثر کیا۔ آپ نے اپنے علم و عمل کے ذریعے جس مقدس مشن میں اپنی عمر کھپا دی، اس کے دور رس اثرات امت مسلمہ پر پڑے۔

آپ کی ہر کتاب کسی زندہ مسئلے اور اہم واقعے سے بحث کرتی ہے۔ ہر کتاب میں رہنمائی‘ وضاحت اور تعمیری لوازمہ موجود ہے، یا پھر راہ راست سے منحرف ہونے والوں اور فتنہ پردازوں کا جواب ہے اور درپیش صورت احوال کا درست تجزیہ ہے۔

جنوبی ایشیا میں اسلامی دعوت کے اس عصری ابھار اور فکر و تحقیق کی شان دار کوششوں کا گہرا مطالعہ ہونا چاہیے، بلکہ آج تو تمام ہی اسلامی تحریکوں کے وسیع و عمیق مطالعے و تجزیے کی شدید ضرورت ہے‘ تاکہ ہم ان سے تجربات اور سبق حاصل کر کے مسلمانوں کی زندگی کو درپیش آج کے نازک حالات میں رہنمائی لے سکیں، ماضی کی غلطیوں سے بچ سکیں اور درست راستے پر چلیں۔ کتاب و سنت کی واضح میزان پر اپنی غلطیوں کی نشان دہی کریں۔ ممکن ہے کہ یہ جائزہ اور محاسبہ‘ اہل ایمان کو ایک صف میں کھڑا کر دے اور وہ اُمتِ و احدہ بن جائیں۔ یہ بات نہ بھولنا چاہیے کہ ہماری شکستوں اور مصائب کا باعث ہم خود ہیں، جنھوں نے فرقہ بندی، عصبیت، بے ایمانی اور بے عملی اختیار کر رکھی ہے۔ مسلمان ایک جان ہوتے اور اپنے ایمان کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہوتے تو حالات مختلف ہوتے۔

پاکستان بنا تو اسلام کے نام، پر مگر اس میں ’’آمریت‘‘ غالب رہتی ہے، حالانکہ اسلام اور پھر خود ملکی آئین کی رو سے آمریت ممنوع ہے۔ فلسطین مسلم سرزمین ہے مگر یہ بدنصیبی اور کم ظرفی نہیں تو اور کیا ہے کہ مسلمان اپنے مؤقف سے ہٹ کر بس اس پر اکتفا کرنے لگے ہیں کہ انھیں ایک نام نہاد خود مختار، بے بس ریاست مل جائے۔ اگر امت مسلمہ ’مسئلہ فلسطین‘ کو متحدہ طور پر اپنی پالیسیوں کا حصہ بناتی تو نتائج مختلف ہوتے۔ اسی سے افغانستان، کشمیر، چیچنیا اور عراق وغیرہ میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

عالم اسلام کے عظیم مجاہد اور رہنما سید مودودیؒ نہ روایتی مصنف تھے اور نہ معروف معنوں میں کوئی لیڈر ‘ بلکہ ان خوبیوں کو قرآن و سنت کے سائے میں پروان چڑھانے والے وہ منفرد انسان تھے‘ جن پر اسلامی تاریخ ناز کرے گی اور مستقبل کی راہوں کو روشنی عطا کرے گی۔

جنوب مشرقی ایشیا میں جماعت اسلامی بالکل اسی طرح کے حالات و واقعات کے تناظر میں تشکیل پائی اور پروان چڑھی‘ جس طرح کے حالات کا سامنا عالم عرب میں اخوان المسلمون کو اپنی ابتدا اور تدریجی مراحل میں کرنا پڑا۔ چنانچہ جماعت اسلامی اور دنیاے عرب کی اسلامی تحریک پر اس کے یکساں اثرات پڑے۔

یہ مشابہت و مماثلت کوئی انوکھی یا ہنگامی نہ تھی۔ طنجہ سے جکارتہ تک پوری ملّت ِاسلامیہ یکساں مصائب و آلام سے دو چار تھی۔ زیادہ تر عالم عرب اور مسلم اقوام براہ راست مغربی استعمار کے زیر تسلط تھیں‘ جو ایک تاجر کے روپ میں عالم اسلام کے علاقوں میں داخل ہوئے اور اپنی سازشوں اور جدید جنگی طاقت کے بل بوتے پر ان علاقوں پر قابض ہو گئے۔ یہ استعمار آج بھی امت کی وحدت اور وجود کو پامال کر رہا ہے۔ اس کے مقاصد صرف تجارتی یا مادی نہیں تھے‘ بلکہ وہ چاہتا تھا کہ امت کا تعلیمی‘ سیاسی اور اقتصادی رابطہ اپنے دین سے منقطع کر دے۔ اسلامی تحریکیں انھی حالات و واقعات کے منطقی جواب میں مثبت لائحہ عمل لے کر برپا ہوئیں۔ ان کے قائدین اور داعیان ایک ہی چشمۂ ہدایت سے سیراب ہو رہے تھے اور اسی چشمۂ صافی سے جرعہ نوش کرکے انھوں نے مستقبل کے لیے بہت سی پاکیزہ آرزوئیں اور شان دار توقعات پروان چڑھائی تھیں۔ ان کے مقاصد میں تھا کہ وہ اپنے دین و ثقافت‘ سیاست و حکومت اور معیشت و معاشرت کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرائیں گے۔ لہٰذا‘ اس بات پر ہرگز تعجب نہ ہونا چاہیے‘ کہ امام ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃاللہ علیہ کی فکر کو بہت سے عرب ممالک کی اسلامی تحریکوں کے نوجوانوں میں بے مثال قبولیت ملی۔

سید مودودیؒ کی تقریریں اور کتابیں‘ امام حسن البنا شہیدؒ، عبدالقادر عودہ شہیدؒ، سید قطب شہیدؒ، پروفیسر محمد قطب اورشیخ محمد الغزالیؒ جیسے مصری قائدین اور دنیاے عرب کے دیگر علما کے لٹریچر کے ساتھ اسلامی تحریکوں کے لیے ثقافتی‘ تعلیمی اور فکری وحدت کا مصدور و منبع بنیں۔ اس دور میں نشروطباعت کے عمل نے بھرپور ترقی کی اور اسے خوب وسعت ملی۔ امام مودودی ؒکے لٹریچر کا عربی میں ترجمہ ہوا‘ جس سے بہت سے ممالک بالخصوص عالمِ عرب کے مسلم نوجوانوں کو فکری سطح پر بہت سہارا ملا۔ اس لیے کہ سب کے دکھ درد ایک جیسے تھے۔

امام مودودیؒ اپنے منفرد اسلوب نگارش کے ذریعے اور مسلمانوں کے ذہن کو خطاب کرنے کی اپنی جدید تعلیم سے آراستہ صلاحیت کے ذریعے تحریک اسلامی کے فرزندوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یوں اُن سے متأثر نوجوان اُسی عمل کی دعوت دینے لگے جس کی طرف خود سید دعوت دے رہے تھے۔ سید مودودی ؒکی فکر کو‘ جو اپنی حقائق پسندی اور دانش مندی کی وجہ سے معاصر اسلامی مفکرین میں ممتاز مقام رکھتی ہے‘ نوجوانوں میں خوب پذیرائی ملی۔ سید مودودیؒ کی یہ خرد مندانہ فکر اس تحرک انگیز سوچ میں ایک شاہ کار اضافہ ثابت ہوئی‘ جسے بیسویں صدی میں تحریک اسلامی کے رہنماؤں نے پیش کیا تھا۔

سید مودودیؒ کی تحریروں کے جو ترجمے عربی رسائل میں شائع ہوتے ‘مسلم نوجوان پورے اشتیاق و انہماک کے ساتھ ان کی طرف لپکتے‘ وہ اسے اپنا معلوماتی سرمایہ سمجھتے‘ اپنی تقریروں اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں اس سے مدد لیتے۔ اسٹڈی سرکلوں میں بحث کر کے انھیں ازبرکرتے۔ اس دور میں قومیت اور سیکولرازم کی فکر عام تھی۔ اس کے پیچھے بڑے بڑے ادارے کام کر رہے تھے اور بہت سی حکومتیں اس کی پشت پناہ تھیں۔ سید مودودیؒ کے لٹریچر نے قومیت اور لادینی فکر کو بے اثر بنانے اور ہزیمت سے دوچار کرنے میں زبردست عملی کردار ادا کیا۔ جارح مغربی تہذیب کے لیے یہ لٹریچر ایک زبردست جواب ثابت ہوا۔ عرب مسلم نوجوان اس لٹریچر کو اس اتحاد اور فکری وحدت کا ایک نمونہ سمجھتا تھا‘ جس کی دعوت تحریکِ اسلامی کے اوّلین قائدین نے دی تھی۔

ہم فلسطین میں رہ رہے تھے اور استعمار ہمارے سینے پر مونگ دل رہا تھا۔ اس دور میں امام مودودیؒ کے افکار اور عمل کے طریقے ہمیں فکری و عملی بیداری سے مسلح ہونے کی اہمیت کا شعور بخش رہے تھے۔ انھی سے ہمیں یہ احساس ملا‘ کہ قابض اور مسلط استعمار کا مقابلہ کرنے کے قابل ایک نسل تیار کرنے کے لیے پختہ ایمان‘ بہترین تنظیم‘ شان دار فکری و تربیتی نظام اور متحرک عمل کی ضرورت ہے۔ کراچی‘ لاہور اور دوسرے پاکستانی شہروں میں ہونے والے لاکھوں افراد کے مظاہروں سے ہمیں اپنی امت سے وابستگی اور امید کا جذبہ ملتا اور بے بس اور مجبور فلسطینیوں میں اخوتِ اسلامیہ کا احساس گہرا ہوتا۔ یہ بات میں پورے شعور سے کہہ سکتا ہوں کہ فلسطینی عوام میں جذبۂ مزاحمت بیدار کرنے کا شاید زیادہ تر کریڈٹ امام مودودیؒ کی تحریروں اور تقریروں کو جاتا ہے۔ اسی جذبۂ جہاد و مزاحمت سے سرشار ہو کر آج مسلمانوں کی بہت سی نسلیں عزت و افتخار کا پرچم تھامے ہوئے ہیں‘ جنھیں فتح و آزادی کی نوید جانفزا بہت قریب سنائی دے رہی ہے۔

اسلامی ریاست‘ تحریک اسلامی کے کارکنوں کے فکر و اخلاق‘ قرآن کریم سے تعلق اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی‘ اسلامی دستور اور مغرب کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات جیسے موضوعات پر سید مودودیؒ کی کتابیں فکری خزانوں سے لبریز انفرادیت کا نمونہ ہیں۔ یہ کتب اس فکری محرومی کا متبادل ہیں‘ جس میں امتِ مسلمہ‘ روشن اسلامی فکر کی عدمِ موجودگی کے دور میں مبتلا تھی۔ ہمارے لیے اس کردار سے آنکھیں بند کرنا ممکن نہیں ہے جو عرب ممالک میں تحریک اسلامی کے مفکروں اور داعیوں نے ادا کیا۔ انھوں نے اپنے عقیدت مندوں اور شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھیں ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا لٹریچر پڑھنے کی تاکید کی‘ اور انھیں نصیحت کی کہ وہ المودودیؒ کے لٹریچر سے دین حنیف کے پختہ اور درست فہم والے نظام پر عمل کریں۔ اسلامی بیداری کے ان اولین قائدین کا یقین تھا کہ ان کا فہم اسلام اور معلوماتی سرمایہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ المودودیؒ جیسے امام کبیر سے کسبِ علم نہیں کرتے۔ حالانکہ خود ان کے ہاں بھی شان دار فکری سرمایہ موجود تھا۔ یہ قافلہ ایمان و دانش میں جو امام حسن البنا شہیدؒ، سید قطب شہیدؒ،شیخ الغزالیؒ، الاستاد محمد قطب اور دیگر حضرات کی فکر سے مالا مال تھا۔

سید مودودیؒ کے اسلوب کی تازگی‘ آپ کی فکری لطافت‘ سیکولر افکار کے تجزیہ و تردید پر آپ کی مضبوط گرفت اور آپ کا سائنسی اسلوب نگارش‘ یہ وہ امتیازی خوبیاں اور نمایاں خصوصیات ہیں‘ جنھوں نے علم و فکر کے نئے نئے افق پیدا کیے۔ اس سے ایک نئی پکار بلند ہوئی جو امت مسلمہ کو اپنی شوکت رفتہ اور عظمت اخلاق کو پا لینے کی دعوت دے رہی ہے۔

ہم جب سید مودودیؒ کے علمی کاموں کا جائزہ لیتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایک وسیع ذخیرئہ تحریر چھوڑنے کے باوجود آپ اپنے بلند و برتر معیار پر ہی قائم رہے اور اس سے نیچے نہیں اترے۔ ورنہ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ وہ مصنفین جو زیادہ لکھتے ہیں‘ اپنے چند ایک افکار و خیالات ہی کی تکرار و اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تالیف کا ابتدائی معیار بلند اور آخری عمر میں تخلیق کا معیار پست تر ہوتا ہے‘ جب کہ مولانا اپنی تحریروں میں ترقی‘ ارتقا‘ وسعت اور پختگی کی طرف ہی مائل رہے۔ آپ کی تحریروں نے الٰہیاتی‘ سیاسی‘ اقتصادی اور عمرانی فکر کے وسیع میدانوں کا احاطہ کیا۔

ہم نے المودودیؒ کی کتابوں کے عربی ترجمے پڑھے تو ترجمہ ہونے کے باوجود ان کی تحریر میں جمال و کمال پایا۔ اس پر ہم میں سے بہت سوں کی یہ حسرت اور تمنّا ہوتی ہے کہ کاش! ہم سید مودودیؒ کو ان کی اصل زبان اردو میں پڑھیں۔ اس لیے کہ کسی بھی تخلیقی شہ پارے کی اصل زبان زیادہ بلیغ‘ فصیح اور جمیل ہوتی ہے۔ علامہ مسعود عالم ندوی‘ استاد عاصم الحداد اور استاد خلیل احمد حامدیؒ دیگر حضرات نے سید مودودیؒ کی تحریروں اور تقریروں کے عربی تراجم پیش کرنے کے لیے جو ان تھک محنت اور کوشش کی‘ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ عرب قارئین پر اس کے مثبت اثرات پڑے۔

سیدیؒ کی عظمت کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے اپنی متعدد تصنیفات میں جس طرح اسلام کو پیش کیا ہے‘ وہی اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ آپ ایک صاحبِ بصیرت قائد تھے۔ آپ نے اپنے دور میں امت کو درپیش مسائل کے بروقت و موزوں تجزیے کیے۔ آپ کی بصیرت کا یہ حال ہے کہ جب ہم آپ کی اُن تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں جو بیسویں صدی کے ۴۰ اور ۵۰کے عشروں میں لکھی گئیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا آج اکیسویں صدی کے ہم لوگ ان کے مخاطب ہیں اور یہ باتیں ابھی ابھی ہم سے کہی جا رہی ہیں۔ ان تخلیقات میں وہی قوت و تازگی اور زندگی و حرارت ہے‘ جو ۵۰‘ ۶۰ سال پہلے تھی۔ نوجوان نسل کے لیے آپ کی نصیحتیں اب تک اپنی گیرائی‘ گہرائی اور انسانی جذبات و احساسات کے درست فہم کی عکاسی کر رہی ہیں۔ مستقبل میں جھانکنے میں آپ کی نظر   بے مثال تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریریں زندگی سے بھرپور ہیں۔ گویا ہمارے دکھوں اور مسائل کا علاج ان نصیحتوں اور ہدایات میں مضمر ہے‘ جو امام مودودی رحمۃاللہ نے آج سے نصف صدی قبل کی تھیں۔

آج ہم سید مودودیؒ کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ مل کر‘ آپ کی زندگی اور دعوت و قلم کے میدان میں آپ کے جہاد زندگانی کو یاد کر رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں ہم انھیں یاد کر رہے ہیں جب اس طرح کے عظیم لوگوں کی سخت کمی محسوس ہو رہی ہے۔ ایسے عظیم انسان جو  فکری و علمی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہوں‘ قومی و ملّی جذبے سے سرشار ہوں اور ایک مقدس مشن کی تکمیل کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہوں۔

ہم اس امر کے لیے کوشاں رہتے ہوئے کہ امام مودودیؒ کے علمی سرمایے اور تخلیقی کارناموں کا ازسرِنو مطالعہ کریں‘ یہ یاد کرتے ہیں کہ امام مودودیؒ کی نظر کتنی عمیق تھی اور آپ کی خداداد بصیرت حقیقتِ حال کا کس قدر درست ادراک کرنے والی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولائے کریم نے اپنے اس بندے کو اپنی کتنی عظیم نعمتوں سے نوازا تھا۔

علامہ مودودی رحمتہ اللہ علیہ اپنے دور کے وہ عظیم انسان تھے، جنھوں نے موجودہ جامع اسلامی بیداری کی بنیادیں رکھیں، جبکہ دشمنانِ اسلام طویل عرصے سے اسلامی بیداری کے خلاف کام کر رہے تھے۔ اس عظیم مجاہد ملت کی ولادت کے سو سال مکمل ہونے پر اس کی یاد منانا ہمارے لیے باعثِ فخر و مسرت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ علامہ مودودیؒ نے تمام مسلم علاقوں میں اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی انقلاب کی شمع کو فروزاں کرنے کے لیے ان تھک جدوجہد کی۔ آپ کا ان تمام قائدین سے بھی رابطہ تھا جن میں آپ تبدیلی لانے کی صلاحیت دیکھتے تھے۔ آپ نے ابھی اس دنیا سے آنکھیں بند نہیں کی تھیں کہ امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے، علامہ مودودی کے سالِ وفات میں -- ایران میں اسلامی انقلاب برپا کر دیا۔ آپ کی وفات پر علامہ خمینی نے ان الفاظ میں تعزیت کی:

اُمتِ اسلامیہ اپنے ایک قابلِ فخر عالم دین اور مفکر سے محروم ہو گئی ہے۔ علامہ مودودیؒ نے اسلامی مقاصد اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی خاطر نمایاں خدمات پیش کیں۔ آپ صرف پاکستان کے مسلمانوں ہی کے عظیم دینی قائد نہ تھے، بلکہ پورے عالم اسلام کے راہنما تھے۔ آپ نے عالمِ اسلام میں اسلامی انقلاب کی تحریک کا احیا کیا، جس سے اسلامی انقلاب کا پیغام ہر خطۂ ارضی تک پھیل گیا۔ اسلامی بیداری کے تمام حامیوں کا فرض ہے کہ وہ ان مقاصدو اہداف کو پانے کے لیے لگاتار کام کرتے رہیں۔ آپ کی وفات عالمِ اسلام کے لیے بہت بڑا نقصان ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔

جب امام خمینی، مولانا مودودی کو اتنا اچھی طرح جانتے تھے تو پھر میرے جیسے لوگوں کے لیے آپ کو جاننا کچھ دشوار نہیں ہونا چاہیے۔ اسلامی انقلاب کے لیے آپ کی لازوال جدوجہد کے اعتراف میں ہم عرض کرتے ہیں کہ امام المودودیؒ، قرآن کی جامع حکومت کے عاشقوں میں سے ایک تھے۔ آپ نے اس مقصدکے لیے اپنی زندگی وقف کی اور بے پناہ تکالیف جھیلیں، اگرچہ آپ اپنا ہدف اسلامی نظام کا عملاً قیام، اپنی زندگی میں نہ پا سکے، تاہم آپ نے بڑے واضح اور روشن الفاظ میں اس راستے کی نشان دہی کر دی۔ منصوبے کے خدوخال واضح کر دیے، امید کی شمع روشن کی، اپنی تمام صلاحیتوں اور قوتوں کو مسلسل بروئے کار لائے اور آئندہ نسلوں کے لیے اپنی فکر ا ور زندہ تجربات کا خزانہ چھوڑ گئے۔ عظیم مقصد پانے کے لیے آپ کی ہمہ گیر فکری و عملی جدوجہد کے نکات درج ذیل ہیں:

    ۱- عالمی سطح پر جامع اسلامی نظریہ کا احیا۔ ۲- حکومتِ اسلامی کی طرف دعوت کا احیا۔      ۳- اسلامی معاشرے کے خطوط نمایاں کرنا اور اسلامی معاشرے کے خدوخال کی وضاحت۔

ہم اختصار کے ساتھ انھی تینوں نکات پر اپنی معروضات پیش کرتے ہیں۔

۱- جامع اسلامی نظریہ کا احیا: مغرب کا متکبرانہ منصوبہ بظاہر اسلامی نظریۂ حیات کو کچلنے میں کامیاب ہوا، اور اس کی جگہ مقامی اور علاقائی نظریہ کو رائج کیا اور اسی کو دل و دماغ میں راسخ کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح ہر خطہ زمین اپنے جغرافیائی عناصر قومیت، زبان، تاریخ، مقامی رسم و رواج، اپنے مخصوص سرچشموں بلکہ اپنی مصنوعی سرحدوں پر زور دینے لگا۔

اگرچہ پورے عالم اسلام پر قبضہ کرنے کی استعماری منصوبہ بندی، چند عشروں کے بعد ناکام ہوگئی، مگر ’’آزادی‘‘ حاصل کرنے والے ممالک اس ’’آزادی‘‘ کے بعد بھی استعماری فکرہی کے غلام رہے اور جامع اسلامی نظریہ اپنے معاشروں میں بدستور اجنبی ہی رہا۔

ہمیں اس کردار کا احساس ہے جو اسلامی نظریہ کے احیا اور نمایاں کرنے میں سید جمال الدین افغانی، علامہ محمد اقبال ‘امام حسن البنا شہید، سید قطب شہید، مولانا مودودی ، امام خمینی اور شہید باقر الصدر نے ادا کیا۔ حتیٰ کہ یہ نظریہ ابھرا اور پھر گزشتہ صدی میں ساٹھ کے عشرے کے دوران میں پوری توانائی اور شان و شوکت سے سامنے آیا۔ مولانا مودودی مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’قرآن کریم چاہتا ہے کہ تم اللہ کے بندوں پر حجت بن جائو، جب وہ فرماتا ہے: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًاo (البقرہ ۲ : ۱۴۳) (اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک امت وسط بنایا ہے، تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور سول تم پر گواہ ہو۔ ) اگر تم نے یہ مقصد حاصل نہ کیا تو تم نے اپنی زندگی ضائع کر دی۔ اس لیے انسانی ہدایت کا مسئلہ ہماری تمام سماجی اور قومی جدوجہد کا محور بننا لازمی ہے‘‘۔

مولانا مودودی اپنی متعدد تحریروں میں اسلامی نظام کے قیام پر توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتے رہے اور باطل نظاموں خصوصاً سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم سے اسلامی نظام کے فرق کو واضح کرنے میں مصروف رہے۔ آپ نے اسلامی نظام کو عملاً نافذ کرنے کے نظریے پر نہ صرف زور دیا، بلکہ اس نظام کو ایک زندہ و موجود شے کے طور پر پیش کرنے کی جدوجہد کی۔ آپ کی ان کوششوں کے نتیجے میں، ایک طرف مسلم عوام میں اسلامی شریعت کو نافذ کرنے کا شوق پیدا ہوا، تو دوسری طرف ایسی مضبوط تحریکوں اور پارٹیوں کے قیام کے لیے زمین ہموار ہوئی جو نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرنے لگیں۔ اس مشن کے لیے آپ کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں چنانچہ آپ نے اپنی زندگی کا ایک حصہ جیل میں گزارا۔ مگر یہ رکاوٹیں آپ کو عالم اسلام کی فکری رہنمائی سے نہ روک سکیں۔ مسلم عوام، جماعتوں اور مسلم دنیا کی یونی ورسٹیوںنے ہر جگہ آپ کی فکر کا والہانہ خیرمقدم کیا۔ چنانچہ ۱۹۹۳ء میں ایک بڑے اسلامی اجتماع میں‘ آپ کو ’’امام المسلمین‘‘ کا خطاب دیا گیا۔

مولانا مودودی کا ایک اہم کارنامہ اسلامی دستور کے مسئلے کا حل پیش کرنا ہے۔ آپ نے پاکستان میں ’’فرقوں کے عملی وجود کو تسلیم کرنے کے باوجود اسلامی قانون کے نفاذ‘‘ کے اعتراض کا بہت خوب صورتی سے جواب دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہی اعتراض ایران میں اسلامی دستور کی تشکیل کے موقع پر کیا گیا۔ امام مودودی کہتے ہیں:

’’یہ اعتراض کہ اسلام میں بہت سے مذہبی فرقے ہیں اور ان میں سے ہر فرقے کی دوسروں سے الگ مستقل فقہ ہے۔ اب اگر کسی اسلامی ملک، مثلاً پاکستان میں اسلامی قانون کا نفاذ قرار پا جائے تو کس فرقے کی فقہ اس قانون کی بنیاد بنے گی؟

جو لوگ پاکستان اور دوسرے مسلمان ملکوں میں اسلامی قانون کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہیں، ان کی نظر میں اس اعتراض کا بڑا وزن اور اس کی بڑی اہمیت ہے۔ وہ اس اعتراض سے ایسی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں جو انہیں کسی اور اعتراض سے نہیں ہیں۔ وہ اس کی بنیاد پر آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیں گے اور اسلام کے خطرے کو ٹالنے کا اپنا مقصد پا لیں گے۔ دوسری طرف اس اعتراض سے وہ بہت سے مخلص مسلمان بے چین و مضطرب ہیں جنھیں حقیقت ِ حال کا علم نہیں اور راستہ ان پر واضح نہیں۔ انھیں اس مشکل و پیچیدہ مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آتا --- حالانکہ یہ اعتراض سرے سے پیچیدہ ومشکل ہے ہی نہیں اور یہ گذشتہ تین صدیوں میں ایک دن کے لیے بھی قانونِ اسلامی کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنا۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ اسلامی قانون کا بنیادی ڈھانچہ اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ احکام و قواعد اور قطعی حدود پر مشتمل ہے، جسے مسلمانوں کے تمام فرقے اور گروہ یکساں تسلیم کرتے ہیںاور آج سے پہلے، ان میں اس بارے میں کبھی اختلاف ہوا اور نہ اس زمانے میں اس اختلاف کا کوئی وجود ہے۔ مسلمانوں میں اب تک جو اختلاف ہے وہ صرف اجتہادی احکام و مسائل کی تعبیر اور مباحات کے دائرے میں آنے والے قوانین و ضوابط کی تشریح میں ہے۔

ان اختلافات کی حقیقت یہ ہے‘ کہ ایسا نہیں ہے کہ مسلم علما میں سے اگر کوئی عالم اسلام کے کسی حکم کی تعبیر بیان کرتا ہے، یا ہر وہ مسئلہ جس کا استخراج کوئی مسلم امام اپنے قیاس یا اجتہاد سے کرتا ہے، یا ہر وہ فتویٰ جسے کوئی مسلمان مجتہد، استحسان کی بنیاد پر صادر کرتا ہے تو وہ بذات خود کوئی قانون نہیں ہے۔ عالم، امام یا مجتہد تو بس ایک رائے اور تجویز پیش کرتا ہے۔ یہ اس وقت تک قانون نہیں بن سکتا جب تک اس پر اجماع امت نہ ہو جائے یا جمہور عوام اسے تسلیم نہ کرلیں۔

پھر یہ اجتماعی اور جمہوری مسائل دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ قسم ہے جس پر اب تک مسلمانوں کا اجماع ہے یا ہر صدی میں عالمِ اسلام کی اکثریت نے اسے قبول کیا ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جس پر کسی ایک ملک کا اجماع ہے یا اسے وہاں کے مسلمانوں کی اکثریت نے قبول کر لیا ہے۔ پہلی قسم کے مسائل اگر اجتماعی ہوں تو ان پر نظرثانی کی ضرورت نہیں، تمام مسلمانوں کو ان پر عمل کرنا چاہیے کیوں کہ یہ ان کے قانون کا حصہ ہیں۔ اگر یہ مسائل جمہوری ہوں تو ضروری ہے کہ جس خاص ملک میں ان کے نفاذ کا ارادہ ہے، وہاں کے مسلمانوں کی اکثریت کی رائے کا اس بارے میں لحاظ رکھا جائے کہ آیا وہ اسے اپنے لیے بطور قانون پسندکرتے ہیں یا نہیں؟ یہ تو بات تھی فقہ کی پرانی کتابوں کے بارے میں۔ جہاں تک مستقبل کی بات ہے تو اللہ اور اس کے رسولؐ کے کسی بھی حکم کی تعبیر‘ قیاس ‘اجتہاد یا استحسان، جب اس پر کسی مسلمان ملک کے اہل حل و عقد کا اجماع منعقد ہو جائے تو یہ اس ملک کا قانون بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی مسلمان ملکوں کا قانون انھی فتاویٰ پر مشتمل ہوتا تھا جو اس ملک کے سب مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہوتے تھے یا اس ملک کی غالب اکثریت انھیں مانتی تھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ جمہوری اصول پر اس مسئلے کے حل کے اس کے علاوہ کوئی اور شکل بھی تجویز کرنا ممکن ہو۔

اس کے بعد اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اسلامی ریاست میں اُن فرقوں کی پوزیشن کیا ہو گی جو اکثریت کے ساتھ متفق نہ ہوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان فرقوں کو پرسنل لا کے طور پر اپنی فقہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسلامی مملکت میںاس مطالبے کو قبول کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک مملکت کے پبلک لا کا تعلق ہے اسے بہرحال اکثریت کے مذہب پر ہی مبنی ہونا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں میں کوئی فرقہ ایسا نہیں ہے جویہ کہتا ہو کہ اگر ہم آج قانونِ اسلام پر متفق نہیں تو پھر ہم پر کفر کے قوانین نافذ کر دیے جائیں۔ مسلمانوں کا کلمہ کفر پر اتفاق ایک ایسا قبیح معاملہ ہے جس کا خیال بھی مسلمانوں کے کسی فرقہ کے فرد کو نہیں آنا چاہیے۔ اگرچہ اس خیال کو شاید کسی حد تک وہ تھوڑے سے لوگ پسند کریں جن کے دلوں میں کفر کی محبت انڈیلی جا چکی ہے اور جو کفر کے قوانین و ضوابط کے نشہ سے سرشار ہیں‘‘۔

اسی سے ہمیں ایران کے اسلامی آئین کے عادلانہ موقف کا اندازہ ہوتا ہے، جہاں اس اصول کو دو سطحوں پر لاگو کیا گیا ہے:

  •   اول، عام سطح پر، امامی (اکثریت کے) مذہب کی تمام پبلک امور میں پیروی کی جائے گی۔
  •  دوم، مقامی سطح پر، یعنی جن علاقوں میں اہلسنت کی اکثریت ہے، وہاں انہیں اپنے مذہب کے مطابق، مجالسِ شوریٰ کے اختیارات کی حدود میں پرسنل لا اپنانے کی اجازت ہو گی۔

علامہ مودودیؒ نے متحدہ ہندستان کے خصوصی حالات کے تناظر میں  مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش لکھی۔ جس سے آپ کی مسلمانوں کے مسائل سے دل چسپی کا پتہ چلتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امام مودودی پورے عالم اسلام کی المناک حالت سے رنجیدہ خاطر تھے، کیونکہ مسلم دنیا کے بڑے حصے پر غیروں کا قبضہ تھا۔ مسلمانوں کے پاس مستقبل کا کوئی باقاعدہ‘ واضح اور متعین منصوبہ نہ تھا، بلکہ وہ مختلف افکار و نظریات میں منقسم تھے۔ وہ قرآنِ عظیم کو بھولے ہوئے تھے، اسلامی اخلاقیات سے محروم رہتے ہوئے وہ عہدوں اور منصبوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ علامہ مودودی نے برصغیر کی تقسیم کے موقعے پر ۱۹۴۷ء میں اپنی تقریر میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا ’’کچھ مسلم شہری جلد ہی راہ راست سے منحرف ہو کر اپنے محدود مقاصد کے لیے سرگرم ہو جائیں گے‘‘۔ واقعی ایسا ہو کر رہا۔ آپ نے مسلمانوں اور ہندوئوں کے مابین کشمکش ختم کرنے کے لیے اس وقت منصوبہ تجویز کیا۔ آپ نے مسلمانوں کی تربیت اور ذہن سازی پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے دعوتِ اسلامی پر توجہ دینے کی تاکید کی، تاکہ تقسیمِ ہند کے واقعے سے پیدا ہونے والے اثرات کی تلافی ہو سکے۔ یہ مولانا کا منفرد تجزیہ تھا جس کے نتائج سے آپ نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔ ایسے عظیم لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو اپنا حال امت کے دکھ میں گزار دیتے ہیں، مگر مستقبل کے لیے پوری بیداری اور ہوش مندی سے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ 

۲- حکومت اسلامی کی طرف دعوت: مغرب نے عالم اسلام میں سیکولرزم کے نظریے کو پورے شد ومد سے پھیلایا حتیٰ کہ جامعہ ازہر، مصر کے کچھ فضلا بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو گئے۔ کئی قومی پارٹیاں اور اہل قلم اسی دھارے میں بہہ گئے۔ سیکولرزم کی بنیاد پر عالم اسلام میں کئی ممالک بنے، حتیٰ کہ اب عالم اسلام کی قیادت کم و بیش انھی سیکولر عناصر پر مشتمل ہے۔ لادینیت کے اس طوفان بدتمیزی میں سید مودودی کی آواز ابھری جو پوری قوت کے ساتھ اسلامی حکومت کی جانب دعوت دے رہے تھے۔ ان کی ساری توجہ اس پر تھی کہ اسلامی حکومت کے قیام سے پہلے ہرحالت اور ہر طریقے سے تربیت اور ذہن سازی کا عمل پورا کیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلامی حکومت ایک ایسی قیادت کے تحت بنے جو خلافت کی ذمہ داری اٹھانے کی اہلیت رکھتی ہو۔ جس کی حاکمیت کی شرائط قرآن و سنت سے ماخوذ ہوں، پھر یہ حکومت شریعتِ اسلامی کو نافذ کرے۔ اس حکومت کو امت منتخب کرے، کیونکہ امت ہی اللہ کی شریعت کی تطبیق کا قابل اعتماد ادارہ ہے۔ اسے مولانا مودودی خلافتِ عامہ کا نام دیتے تھے۔

امام مودودی اصطلاحات کے مابین فرق کرنے پر زور دیتے تھے‘ جسے ہم آپ کی کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں میں دیکھتے ہیں۔ آپ نے متعدد تحریروں میں’’مسلمانوں کی حکومت‘‘ اور ’’اسلامی حکومت‘‘ میں فرق کیا ہے۔ ’’اسلامی حکومت‘‘ کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں جو اصل مقصود ہوتی ہیں۔ جس شخص میں بھی مطلوبہ شرائط پائی جائیں وہی اسلامی حکومت کا سربراہ بن سکتا ہے، خواہ اس کا نسب، مقام اور رنگ کوئی سا ہو۔ اسلامی حکومت کا قانون اسلام سے ماخوذ ہو گا اور اسی پر مملکت کا دستور مبنی ہو گا۔ اسلام ہی تمام زندگی کو، درپیش حالات کو دیکھتے ہوئے منظم کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ سید مودودی ہی کو ان تمام تجاویز کا اعزاز (کریڈٹ) جاتا ہے، جو بعد میں اسلامی حکومت کے لیے پیش کی گئیں یا ایران کے اسلامی دستور سے تھوڑا پہلے، اسلام کے بنیادی قانون کے لیے پیش ہوئیں یا اس دستور کے مسودہ و منصوبہ میں شامل ہوئیں جو مجمع البحوث الاسلامیہکی طرف سے پیش کیا گیا۔

امام مودودی کی کتاب اسلامی ریاست کو اگر مسلم دنیا میں جدید اور ہمہ گیر بیداری کا سرچشمہ قرار دیا جائے تو ذرّہ برابر مبالغہ نہ ہو گا۔ اس میں اسلامی نظام زندگی کے بارے میں اہم بنیادی سوالات کے تسلی بخش مگر مختصر جوابات ہیں۔ جیسے اسلامی حکومت کے طریق ہائے کار، حکومت کی نوعیت اور اس کے مصادر، دستور کی تدوین کی کیفیت اور اسلامی حکومت کے اہداف وغیرہ۔ اس کتاب نے مسلم دنیا میں عوامی بیداری پیدا کی ہے۔ سید مودودی کی اسی کتاب سے امام خمینی متاثر ہوئے‘ اور انھوں نے گویا اس کتاب میں اپنا نظریہ  ولایتہ الفقیہہ شامل کر دیا۔ جس کا خصوصاً ایران اور عراق کے تمام حصوں پرمسلم عوام پر زبردست اثر پڑا۔ یہی وہ کتاب ہے جو ایران میں اسلامی انقلاب کے برپا ہونے کا اہم عامل اور نظریاتی اساس بنی۔ پھر اسلامی مملکت کے قیام کی بنیاد اور اس کے دستور کی روح بنی۔

۳- اسلامی معاشرے کے خطوط اور خدوخال کی وضاحت: امام مودودی اسلامی معاشرے کے قیام کی خاطر پہلے ہی سے نمایاں نظریاتی و عملی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ جیسے شہید محمد باقر الصدر نے ایران کے اسلامی انقلاب سے بیس سال پہلے اپنی کتابوں کے ذریعے اسلامی حکومت کے قیام کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اسلامی معاشرے کی خصوصیات قرآن کریم اور سنت نبویؐ سے ماخوذ ہوتی ہیں، مگر ان کی وضاحت کرنا، انہیں عوام کے ذہن میں بٹھانا، ان پر پڑنے والے تاریخی غبار کو مٹانا اور اسے ایک مکمل نظریہ کی تفصیلات کی صورت میں ڈھالنا ایک مشکل اور قابل قدر کام ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سید مودودی نے یہ کارنامہ بڑی خوش سلیقگی سے سرانجام دیا اور ہر پہلو پر کئی کتابیںلکھیں۔ جن میں معیشت سے معاشرت تک، اور الٰہیات سے قانون تک مباحث کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یوں انھوں نے معاشرے کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کر کے مکمل اسلامی سماجی نظام کا نقشہ کار پیش کیا۔

اسلامی تربیت و اخلاق کے میدان میں آپ نے اہم اخلاقی اقدار توکل، صبر، استقامت   پر زور دیا اور ان  کے معاشرتی مفہوم کو اپنانے کی تلقین کی اور اسلامی نسلوں کی تربیت انھی اخلاقی قدروں پر کرنے کے لیے کہا۔ آپ نے انگریز کے مسلط کردہ نظام تعلیم و تربیت کو من و عن تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ آپ نے بطور خاص ایک صالح جماعت تیار کرنے کی دعوت دی۔ آپ نے سرکاری افسران کے نظام تربیت پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔بلکہ آپ نے ایسے اعلیٰ اور عارفانہ تربیتی نظام کی دعوت دی جس کے نتیجے میں انسان اپنے پروردگار سے مربوط ہو، اور وہ ایک ایسے معزز مخلص انسان میں بدل جائے جو سب سے پہلے اپنا فرض پورا کرنے پر یقین رکھتا ہو۔ ہم نے دیکھا ہے کہ خود امام خمینی بھی اکثر اسی بات پر زور دیا کرتے تھے۔ مولانا مودودی فرماتے ہیں: ’’میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے دین اور امتِ اسلامیہ کے مفادات ہر چیز اور تمام دنیوی تعلقات سے زیادہ اہم ہیں‘‘۔

مولانا مودودی ’’قرآنی سلوک‘‘ کے ذریعے نفسیاتی رفعت و بلندی پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی نظر میں جو مومن قرآن کے انقلابی اصولوں کا حامل ہو، وہ سلوک کے تمام مراحل جلد طے کرے گا یعنی وہ قرآن کو مکمل صورت میں سمجھنے کے قابل ہو سکے گا۔ مولانا کے خیال میں اللہ تعالیٰ نے   نفسِ انسانی کو انفرادی سطح پر اتنی صلاحیت دی ہے کہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے پوری گہرائی کے ساتھ تعلق قائم کرسکتا اور اس کا ادراک بھی کر سکتا ہے اور اس لیے اسے کسی کشف و کرامت وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ یوں مولانا مودودی نے ایک صحیح تصوف کے بارے میں انقلابی تصور پیش فرمایا ہے۔

مولانا مودودی نے اپنی کئی کتابوں میں اسلام کا اقتصادی نقطہ نظر پیش کیا۔ آپ نے زمین اور دفینوں کے بارے میں اسلام کے نظریے کی وضاحت کی اور بتایا کہ اس میں انسان کا فطری اور مساوی طور پر کتنا حق ہے؟ آپ نے مال جمع کرنے کی مذمت کی، سود کی نفی کی اور اسراف کی خامیاں بتائیں۔ سرمایہ کے صرف مال داروں تک محدود و مرکوز رہنے پر تنقید کی اور عدل ِ اجتماعی پر زور دیا۔ معیشت کی سطح پر باہمی کفالت اور توازن قائم کرنے کے لیے بیت المال کو منظم کرنے کی تاکید کی۔

عائلی زندگی کے ضمن میں مولانا مودودی نے مختلف پہلوئوں کا سیر حاصل تجزیہ کیا۔ اسلام کے بنیادی قلعے خاندان کے تحفظ کو اہمیت دی، اور کھلے دل و دماغ سے تحقیق کی۔ آپ کے نزدیک پردہ جنسی بدنہادی اور بے راہ روی سے روکنے کے عوامل میں سے ایک ہے۔ جبکہ دیگر عوامل میں اخلاقی اصلاح اور تعزیراتی قوانین شامل ہیں۔

اسلامی اتحاد کے میدان میں آپ تعصب اور اندھی تقلید کی نفی پر زور دیتے ہیں (تقلید اور علمی تحقیق کے نتائج کی پیروی میں فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے)۔ آپ صرف قرآن و سنت کو معیار قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد علمائے سلف کے اقوال سے راہنمائی بھی لیتے ہیں۔

مولانا مودودی نے امت کو منقسم کرنے والے عناصر کے خلاف جہاد کیا، اور ساری زندگی ان عناصر کے سب و شتم کو برداشت کیا۔  محدود قومیت کے عناصر کے خلاف آپ کا جہاد محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ کے نزدیک حقیقی وطنیت وہ ہے جو مکمل طور پر اسلام سے ماخوذ ہے۔ جس پر علامہ محمد اقبال لاہوریؒ زور دیتے تھے۔ آپ کا ایمان ہے کہ اسلام جس قومیت کا داعی ہے وہ دانش مندی کے فریم ورک یعنی شہادتین کے دائرے میں محدود ہے۔ یہ قومیت اخوت کا مظہر ہے۔ اس سے امت اور وطن کا مفہوم وسیع ہو کر تمام مسلمانوں کو اپنے دامن میں لے لیتا ہے۔

مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ اسلام میں کوئی ایسا قانون نہیں جو علاقے، زبان یا رنگ و نسل کی بنا پر ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان پر امتیاز یا فوقیت بخشتا ہو۔ تمام مسلمان عبادات، معاملات، سیاسی اور سماجی تعامل میں بالکل یکساں ہیں۔

مولانا مودودی کا ایک بڑا کارنامہ سماجی اور انسانی حقوق کے میدان میں افکار تازہ پیش کرنا ہے‘ جسے مرکزی موضوع بنا کر ہمیں کلام کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سید مودودی پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرے اور آپ کو عظیم ثواب سے نوازے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃاللہ علیہ کو اس دنیا میں تشریف لائے پورے ۱۰۰برس ہوگئے ہیں۔ ادھر میں‘ وہی جرمنی کی فاطمہ‘ آج سے ۴۰ برس قبل ۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۵ء تک کے اُن دنوں کی یادیں تازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں‘ جو میں نے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں گزارے تھے۔ مولانا مودودیؒ میرے لیے اس چشمۂ رحمت کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی وساطت سے میں نے اسلام کے متعلق اپنے علم کی پیاس جی بھر کربجھانے کی کوشش کی۔ جی ہاں‘ اسلام‘ زندگی گزارنے کا وہی واحد اور سیدھا راستہ جسے میں اپنی رہنمائی کے لیے منتخب کر چکی ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ بہت سے علما ایسے ہیں‘ جو مولانا مودودیؒ کی ان لا تعداد تحریروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ جن سے صرف برعظیم ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمان مستفید ہوئے۔ لیکن جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو میں نے‘ جو ۱۹۳۴ء میں جرمنی میں پیدا ہوئی‘ ان کے افکار کا ایک بہت گہرا تاثر لیا۔ ایک ایسا اثر جو صرف مجھ تک محدود نہیں رہا‘ بلکہ اس وقت یہ روس اور بوسنیا جیسے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ یہ سب کچھ کیوں اور کس طرح ہوا؟ میں ایک غیر معمولی شخصیت کے حوالے سے مختصر یادداشتوں کی بنیاد پر آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہوں۔

۱۹۶۰ء میں جب ۲۶ سال کی عمر میں‘ میں نے اسلام قبول کیا‘ اس وقت اپنی مرضی سے  میرے پسند کردہ اس عقیدے کے بارے میں‘ جرمنی زبان میں براے نام لٹریچر دستیاب تھا‘ خصوصاً مسلمان مصنفین کا تحریر کردہ۔ خوش قسمتی سے اسکول کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ مجھے اپنی حکمت و رحمت سے باہمت لڑکی کے طور پر انگلستان لے گیا۔ یہی وہ سال ہے جب میں ایک پیارے سے بچے کی دیکھ بھال میں مصروف تھی۔ اکثر اوقات گھر کی یاد مجھے بری طرح ستاتی تھی‘ ایسے میں مجھے وہاں کی زبان‘ یعنی انگریزی سیکھنے کی اشد ضرورت محسوس ہوئی‘ تاکہ کم از کم کسی سے بات چیت تو کرسکوں۔ یوں میں نے وہاں پر جو انگریزی سیکھی‘ وہ نہ صرف عمر بھر حصولِ روزگار میں میری مددگار رہی‘ بلکہ اس سے مجھے انگریزی زبان میں اسلام کے بارے میں مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ جس کتاب نے دراصل مجھے اس دین کا حقیقی مفہوم سمجھنے کے قابل بنایا‘ وہ مولانا مودودی کی کتاب دینیات تھی‘ جس کا انگریزی ترجمہ ان کے ایک ہونہارساتھی پروفیسر خورشید احمد نے Towards Understanding Islam کے نام سے کیا تھا۔

۱۹۵۸ء میں جرمنی میں مسلمانوں سے میرے مکالمے کی ابتدا ہوئی۔ ۱۹۶۰ء کے اوائل میں میرے پاس قرآن حکیم کا ایک باترجمہ نسخہ اور The Road to Makkah (شاہراہ مکہ‘ مصنف علامہ محمد اسد) کا جرمن ترجمہ موجود تھا‘ تاہم‘ ان کے ساتھ ہی ساتھ وہ کتاب جس نے میرے دل و دماغ پر فیصلہ کن اثر ڈالا‘ Towards Understanding Islam ہی تھی۔ پروفیسر ویلفرڈ کینٹ ول اسمتھ نے بالکل سچ لکھا ہے: ’’بے شک مودودیؒ موجودہ دور میں اسلام کے سب سے زیادہ منظم مفکر ہیں‘‘۔ ان کی یہی چیز میرے لیے ایک مسلمان کی زندگی گزارنے کے لیے مہمیز ثابت ہوئی۔

مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان میرے لیے اسلام کی اولین درس گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد ہی مجھے اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل ہوئیں‘ مثلاً یہ کہ نماز کے دوران مسلمانوں کے لیے کیسا لباس پہننا مناسب ہے؟ یا یہ کہ مسلم خواتین بالعموم رمضان کے پورے ۳۰دن کے روزے نہیں رکھتیں‘ بلکہ قانون قدرت کے تابع جسمانی صحت کی بنا پر چھوڑے گئے چند روزے عیدالفطر کے بعد پورے کرتی ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ جب میں اپنے پاکستانی مسلمان بہنوں اور بھائیوں کے درمیان گزارے گئے تین برسوں کے بارے میں سوچتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا ابھی کل کی بات ہے کہ جب میں ایمان افروز تجربے اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کو سیکھنے کے جذبے سے سرشار تھی اور جی چاہتا تھا کہ صبح و شام کی تقسیم ختم ہو اور میں سیرت پاک اور قرآن کریم کے بحرذخار سے اپنی پیاس بجھانے کی کوشش میں مصروف رہوں۔

اب دیکھیے: بیگم محمودہ باوانی تھیں‘ جنھوں نے مجھے بے شمار عملی باتوں کے علاوہ عربی زبان میں قرآن مجید تلاوت کرنا سکھایا‘ اور ان کا وسیع خاندان تھا جو یہاں میرا پہلا میزبان تھا۔ دوسرے نہایت پُرجوش مسلمان بھائی‘ محسن اور جماعت اسلامی کے کارکنان جن میں کراچی سے خرم جاہ مراد اور خورشیداحمد تھے۔ بعد ازاں مشرقی پاکستان میں محمدعبدالرشید (جو آج کل کلکتہ میں رہایش پذیر ہیں)‘ جو مجھے اردو زبان سکھاتے نہیں تھکتے تھے‘ اور جن کے ساتھ ابھی تک میری خط و کتابت ہے۔ پھر اُس وقت کراچی میں بے مثل مربی اور پُرعزم داعی‘ جماعت اسلامی کے امیر چودھری غلام محمد تھے‘ جو ہمیں ملنے کے لیے جرمنی بھی تشریف لائے تھے‘ اور جن کا بہت جلد انتقال (جنوری ۱۹۷۰ئ) ہو گیا۔ میری شفیق بزرگ دوست رئیسہ بیگم‘ جو جماعت اسلامی ڈھاکہ حلقہ خواتین کی ناظمہ تھیں اور ان کے شوہر مرزا اشفاق صاحب۔ میری عزیزہ قلمی دوست نو مسلمہ بہن مریم جمیلہ‘ جنھوں نے مجھے انگریزی میں لکھنے اور پھر مجمع کے سامنے تقریر کرنے پر ہمت بندھائی‘ جس کی بصورت دیگر مجھے کبھی ہمت نہ ہوپاتی۔ مریم مجھ سے عمر میں صرف دو ماہ بڑی ہیں اور تقریباً میرے ساتھ ہی انھوں نے بھی اسلام قبول کیا تھا۔ ہم دونوں ۴۰ سال سے‘ ہر مہینے کم از کم ایک بار ایک دوسرے سے خطوں کے ذریعے تبادلہ ٔ خیال کرتے رہے ہیں۔

۱۹۶۰ء کے لگ بھگ جرمنی میں جرمن مسلمان انتہائی قلیل تعداد میں تھے‘ جب کہ آج   ہمارے ہاں نبی پاکؐ کے ۳ لاکھ ۴۵ہزار کے قریب پیروکار موجود ہیں‘ جن میں سے کم از کم ۷۰ ہزار کے پاس جرمن شہریت ہے۔ البتہ جرمنی میں مسلمانوں کی اکثریت ترکی النسل ہے‘ جو وہاں ’مہمان کارکن‘ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں‘ اور جنھوں نے جرمنی کے مشہور و معروف ’’معاشی کرشمے‘‘ (Wirtschaftswunder) میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ جنگ عظیم دوم (۴۵ - ۱۹۳۹ئ) کی بمباری سے تباہ حال جرمنی کو ترقی دینے اور ایک جنت ارضی بنانے میں ان ترک مسلمانوں نے بڑی ْجاں فشانی سے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں تارکین وطن کی تیسری اور چوتھی نسل بھی موجود ہے‘ جن میں سے بہت سے مسلمان جرمن یونی ورسٹیوں میں پڑھتے تھے یا پڑھ رہے ہیں‘ اور اہم پیشہ ورانہ عہدوں پر فائز ہیں اور جو لوگوں کے سامنے اپنے مذہب کو متاثر کن اور قابلِ قبول انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ ان کی ایک معقول تعداد جرمنی کی شہریت حاصل کر کے مستقل طورپر یہاں رہایش پذیر ہے۔

پروفیسر عبدالجواد فلاطری نے ۱۰ سال پہلے کہا تھا: ’’نئی صدی کے آغاز پر ہمارے ہاں کم از کم ایک لاکھ مسلمان ایسے ہوں گے جو حقیقی جرمن ہوں گے‘‘۔ لیکن اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ اس عرصے میں ان کی تعداد کم از کم دوگنی ہو چکی ہے۔ اگر میں حساب میں اتنی کمزور نہ ہوتی تو ضرور یہ جاننے کی کوشش کرتی کہ تعداد میں یہ اضافہ اُس وقت کے جرمن مسلمانوں کی تعداد سے کیا نسبت رکھتا ہے‘ جب خود میں نے اسلامی اقدار وروایات میں دل چسپی لینا شروع کی تھی۔

بہرحال‘ میں ۱۹۶۰ء کے عشرے کے ان دنوں کو یاد کر رہی تھی جب ہم‘ گنتی کے چند مسلمان‘ اسلامی لٹریچر سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ ایسا اسلامی لٹریچر جو مستشرقین کے قلم سے نہ نکلا ہوا ہو‘ جو ہمارے عقیدے کا مطالعہ محض ایک مخصوص نوعیت کی علمی نظر سے کرتے ہیں‘ بلکہ ان لوگوں کے قلم سے لکھا گیا ہو جو خود اسلام پر عمل پیرا ہوں۔ یہاں میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ آج بھی شاید ہی کچھ جرمن افراد ہوں گے جنھیں اتنی انگریزی آتی ہو کہ اس زبان میں لکھی کتابیں پڑھ سکیں۔ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ شکرگزار ہوں کہ اس نے ان تمام جرمن افراد میں سے‘ جو دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں کے ہاتھوں روا رکھے گئے خوف ناک جرائم کے سامنے آنے کے بعد بھی انسانی اقدار کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوئے تھے‘ میرے اوپر خاص مہربانی کی اور مجھے یہ شعور عطا فرمایا کہ زندگی کی قدر و قیمت مادی فوائد کے حصول سے کہیں بڑھ کر ہے‘ بشرطیکہ ہم اسلام کا سیدھا راستہ اپنا لیں۔

قبولِ اسلام کے بعد اپنے گھر پُرسکون سی زندگی گزارتے ہوئے‘ جب کہ میں نے پردے کی پابندی شروع کر دی تھی‘ اور کراچی میں پیدا ہونے والے اپنے ننھے بیٹے سیف الدین کی پرورش میں مصروف تھی‘ میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی شکر گزاری کا حق بھلا کیسے ادا کرسکتی ہوں؟

تب مجھے خیال آیا کیوں نہ میں اس ایمان پرور تحریر کو جرمن زبان میں ترجمہ کر دوں‘ جس نے مجھے اسلامی تعلیمات کی حکمتوں‘ اسلامی تاریخ کے واقعات کے منطقی ربط‘ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے  رسول آخر صلی اللہ علیہ و سلم اور حیات بعد الموت پر پختہ یقین رکھنے کے عملی فوائد کو جاننے میں اس قدر مدد دی ہے۔

اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں مجھے کافی وقت لگا۔ یوں ترجمے کے لیے مولانا مودودیؒ کی Towards Understanding Islam ہی کو سب سے پہلے منتخب کرنا ایک قدرتی بات تھی۔ مجھے یاد ہے‘ جب میں اس کے جرمن ترجمے کا کام کر رہی تھی‘ ان دنوں ننھا سیف الدین جو اپنے اردگرد کی دنیا سے نیا نیا آگاہ ہوا تھا‘ چھوٹے سے گھر میں متجسسانہ انداز میں گھومتا پھرتا تھا۔ اس کو مصروف رکھنے اور اپنے آپ کو کام میں لگانے کے لیے خود مجھے اس ڈیڑھ مربع میٹر کے بنے ہوئے لکڑی کے جنگلے میں پناہ لینا پڑتی‘ جس میں ہم یورپی لوگ اپنے بچوں کو ان کے کھلونوں سمیت ڈال دیتے ہیں‘ تاکہ وہ اپنے آپ کو چوٹ نہ لگا بیٹھیں اور نہ ہمارے کام ہی میں مخل ہوں۔ اس جنگلے میں میرے ٹائپ رائٹر کی کھٹ کھٹ کی آواز‘ اس ننھے بچے کے لیے تمام کھلونوں سے بڑھ کر دل چسپی کا باعث ہوتی تھی۔ چنانچہ مسودے پر کام میں انہماک اور ایک ایک سطر ترجمہ کرنے کا واحد طریقہ مجھے یہی نظر آیا‘ کہ میں خود اس کے پالنے میں بیٹھ جائوں اور ننھا بچہ اس کے اردگرد ہمکتا پھرے۔

جب ستمبر ۱۹۶۵ء میں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی اور کراچی پر بم گرنا شروع ہوئے تو میں اپنے بچے کے ہمراہ کوئٹہ کے قریب پٹھانوں کے علاقے میں چلی گئی اور وہاں پر تقریباً تین ماہ تک مقیم رہی۔ جلدی میں یہاں آتے وقت مجھے اپنا ٹائپ رائٹر ساتھ لانے کا خیال نہیں رہا تھا۔ لیکن میں نے اپنے نئے خاندان‘ یعنی کراچی میں رہنے والے مسلمان ساتھیوں سے خط و کتابت جاری رکھی اور غالباً اسی خط و کتابت کے ذریعے میں نے اس بات پر اظہار افسوس کیا ہو گا کہ میں یہاں ترجمے کا کام جاری رکھنے سے قاصر ہوں۔ اس بستی میں جہاں پر میں روزانہ صبح لکڑی کی مدھانی کے ذریعے اونٹ اور بکری کے دودھ میں سے دیسی طریقے سے مکھن نکالتی اور لسی بناتی تھی‘ ایک روز‘ حسب معمول صبح کے وقت میں اس سرگرمی میں مگن تھی کہ ہمارے دروازے پر کسی نے دستک دی۔ دروازہ کھلنے پر معلوم ہوا کہ یہ خورشید احمد ہیں‘ جو میرا ٹائپ رائٹر لے کر آئے ہیں! فرطِ جذبات سے میرے آنسو چھلک پڑے‘ یہ سوچ کر کہ ہمارے اس انتہائی مصروف اور فاضل بھائی کو یہ بھاری بھر کم مشین‘ کراچی سے اتنے دُور دراز علاقے تک لانے کے لیے کس قدر زحمت اٹھانا پڑی ہو گی۔ اس لگن کا سرچشمہ صرف اﷲ اور اس کے رسولؐ کی رضا کی طلب ہے‘ جسے سید مودودی ؒنے جدید تعلیم یافتہ انسانوں میں لہو کی گردش کے مانند دوڑا دیا تھا۔

پاکستان سے واپس جرمنی پہنچ کر بھی میں نے اس کتاب پر کام جاری رکھا۔ مگر یہ کام کافی وقت طلب ثابت ہوا‘ کیونکہ اب ہمیں مغرب میں ایک مسلمان کے طور پر نئے سرے سے سکونت پذیر ہونا تھا۔ اس کے علاوہ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک اور بچے کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔یوں بعض اوقات مجھے خاندان کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے حصول معاش کی جدوجہد بھی کرنا پڑتی تھی۔ مجھ سے ملنے والوں میں جو بھی میرے اس ترجمے کے کام کے بارے میں سنتا‘ وہ میرا مذاق اڑاتا یا کم از کم اس باب میں غیر یقینی پن کا اظہار کرتا‘ کہ میں شاید ہی کبھی اپنا یہ ترجمہ مکمل کر کے اسے چھپوانے میں کامیاب ہو سکوں گی۔ لیکن جس بات کا کسی نے بھی یقین نہیں کیا تھا‘ بالآخر اﷲ کی رحمت سے حقیقت بن کر رہی۔ فرائی بورگ (Freiburg) کے مقام پر مذہبی لٹریچر شائع کرنے والی ایک کمپنی فرلاگ ہیرڈر کے جی (Verlag Herder KG) نے اس کے مسودے کو میرے ایک خاصے بے باکانہ پیش لفظ کے باوجود چھاپنے کی ہامی بھر لی۔ مولانا مودودی کی اس کتاب کو جیبی سائز میں ۹۰ئ۲ جرمن مارک کی معمولی سی قیمت میں مارکیٹ میں لایا گیا۔ اس کے پہلے صفحے پر خوب صورت عربی الفاظ میں بسم اللہ اور جرمن میں Weltanschauung Und Leben im Islam کا عنوان درج تھا۔

اس کتاب کا دیر سے منظر عام پر آنا بھی ایک خوش قسمتی ثابت ہوا‘ کیونکہ اسی دوران میں لیسٹر‘ برطانیہ میں دی اسلامک فائونڈیشن‘ کا قیام عمل میں آ چکا تھا۔ پروفیسر خورشید احمد‘ جو اس فائونڈیشن کے سربراہ تھے‘ انھوں نے اس کتاب کے ۵ ہزار نسخے اسلامک فائونڈیشن کی جانب سے خرید کر نہ صرف جرمنی‘ بلکہ سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کی تمام پبلک لائبریریوں میں فراہم کرنے کا اہتمام کیا۔ جرمن زبان میں اسلام کے بارے میں مسلمان مصنفین کی تحریر کردہ کتابوں کی قلت کے باعث‘ اس مذہب میں  دل چسپی رکھنے والے افراد کو‘ الحمدللہ اس کتاب کی بدولت یہ سہولت حاصل ہو گئی کہ اب وہ اسے لائبریری سے کرائے پر گھر لے جا کر پڑھ سکتے تھے۔ میرے خیال میں ان میں سے خاصی لائبریریوں میں یہ کتاب اب بھی دستیاب ہے۔

جیبی سائز میں یہ کتاب بہت جلد فروخت ہو گئی اور چونکہ اس کے جرمن ناشر اسے دوبارہ چھاپنے پر آمادہ نہ تھے‘ اس لیے طے پایا کہ اب اسے ’دی اسلامک فائونڈیشن‘ ہی پرکشش اور    خوب صورت انداز میں شائع کرے گی۔ بعد ازاں کویت میں انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز (IIFSO) نے بھی اسے شائع کیا۔ ابھی دو ہفتے پہلے کی بات ہے کہ نومسلم خواتین میں سے ایک نے‘ جو مجھے باقاعدگی سے ملنے کے لیے آتی رہتی ہیں‘ مجھ سے اسلام کے بارے میں کسی معلومات افزا کتاب کی فرمایش کی‘ تو میں نے اسے مولانا مودودیؒ کی یہی کتاب پڑھنے کے لیے دے دی۔ اس نے چند دن کے بعد کتاب پڑھ کر مجھے واپس کر دی اور بتایا کہ: اسے یہ کتاب بہت اچھی لگی اور اس نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا: ’’اس کتاب کا عربی زبان میں بھی کوئی ترجمہ موجود ہے‘ جسے وہ اپنے شوہر کے لیے لے سکے‘‘؟ اُس خاتون کا خیال ہے کہ: اس کتاب کے مطالعے کے بعد وہ اسلام کے بارے میں ‘ اپنے شوہر سے جو ایک پیدایشی عرب مسلمان ہے‘ زیادہ علم اور معلومات رکھنے والی خاتون بن گئی ہے۔

اس ترجمے کا مجھے ایک ضمنی فائدہ بھی ہوا۔ اس کے ناشر ہیرڈر (Herder) نے مجھے اس ترجمے کا اتنا اعزازیہ ادا کیا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔ جب میں نے اس رقم کا نصف پروفیسر خورشید احمد صاحب کو ادا کرنا چاہا‘ کیونکہ میرے خیال میں وہ اس کتاب کے انگریزی مترجم ہونے کی حیثیت سے اس کے حق دار تھے‘ تو انھوں نے وہ رقم وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ میں نے اس رقم سے ایک اچھی سی واشنگ مشین خرید لی۔ اس طرح جو کام مجھے پہلے ہاتھ سے کرنا پڑتا تھا‘ اب اسے مشین پر کرنے کی وجہ سے وقت کی اچھی خاصی بچت ہونے لگی۔ یہ مشین ۱۰سال تک بخوبی کام کرتی رہی‘ اور اس وجہ سے مجھے موقع ملا کہ میں ترجمے کا ایک اور کام شروع کر دوں۔

یہ کام بنیادی طور پر مولانا مودودی کے ترجمہ و تفسیر کو بنیاد بنا کر دیگر عالمی شہرت یافتہ مفکرین اسلام عبداللہ یوسف علی‘ سید قطب‘ محمد اسد اور عبدالماجد دریابادی وغیرہ کے حواشی کی مدد سے جرمن زبان میں قرآن عظیم کے ترجمے کا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں انگریزی زبان سے واقف ہوں اور مجھے حلیمہ کرائوزن(Halima Krausen)عمر‘ اور حوا الشباسی (Eva El-Shabssy) اور راشا المغری (Rasha El-Mahgary) کی صورت میں بڑے محنتی اور فاضل مددگار بھی مل گئے تھے‘ جو عربی زبان کے متن کو خود ترجمہ کر سکتے تھے‘ یا ترجمہ شدہ مسودے پر نظرثانی میں میری مدد کر سکتے تھے۔ لہٰذا‘ ہم جرمن قاری کو پہلی مرتبہ قرآن کا ایک ایسا نسخہ دے سکتے تھے‘ جس کے حواشی سے آیات کے تاریخی پس منظر‘ شانِ نزول اور بے شمار ایسے پہلوئوں کو سمجھنے میں مدد مل سکے‘ جو اللہ تعالیٰ کے کلام کے وسیع مفہوم کو صحیح طرح سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ کئی آیات ایسی ہیں جن کی تشریح میں اختلاف رائے بھی سامنے آیا ۔ لہٰذا‘ ہم نے مناسب سمجھا کہ ان کے بارے میں مختلف علما کی آرا کو ایک ساتھ دے دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے صرف ایسے تشریحی مواد کو منتخب کیا گیا جو مغرب کے رہنے والے قارئین کی سمجھ میں آسانی سے آجائے۔ کیونکہ ایک انتہائی وسیع علمی ذخیرے کی موجودگی میں ہمارے لیے ضروری تھا کہ اپنے انتخاب کو جتنا ممکن ہو محدود رکھیں۔

ہمارے کام کے ابتدائی چند برسوں کے دوران میں قرآن حکیم کے اس جرمن ترجمے کے چھ چھ صفحات ہمارے جرمن رسالے الاسلام (Al-Islam) کے ہر شمارے میں قارئین کے ملاحظے کے لیے شائع کیے جاتے رہے۔ اس طرح ہمیں توقع تھی کہ ہمیں اپنے قارئین کا ردِعمل اور ان سے کچھ اچھی تجاویز بھی مل سکیں گی‘ جن کی روشنی میں ہم اس کام میں مزید بہتری پیدا کر سکیں گے۔ کتابی شکل میں کوئی چیز لانے سے پیش تر اسے قسط وار رسالے میں چھاپنے کا یہ محتاط طریقہ بھی مولانا مودودیؒ ہی کی اختراع ہے۔ لیکن اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر ہم اس رفتار سے آگے بڑھتے رہے تواس کام کے مکمل کرنے میں ہمیں کوئی ۵۰ سال لگ جائیں گے۔ چنانچہ میونخ کے عبدالحلیم خفاجی نے مشورہ دیا کہ ہمیں قرآن کے ترجمے کو جلدوں کی صورت میں اکٹھا کر کے شائع کر دینا چاہیے‘ جن میں سے ہر ایک جلد چند سورتوں پر مشتمل ہو۔ یوں ۱۶ سال کے عرصے میں ہم نے قرآن کی کل ۲۴ جلدیں شائع کر دیں‘ جو تمام مختلف اور خوب صورت رنگوں سے مزین تھیں۔ پھر ہم نے اس کو تین تین پاروں پرمشتمل ۱۰جلدوں کی صورت میں اور بالآخر ۳ ہزار صفحات پر مشتمل پانچ جلدوں کے ایک خوب صورت سیٹ کی شکل میں شائع کر دیا‘ جن میں سے ہر جلد کا سرورق خوب صورت نیلگوں رنگ اور سنہرے الفاظ سے مزین ہے۔ اس کتاب میں الازہر یونی ورسٹی‘ قاہرہ کی طرف سے جاری کردہ تصدیقی دستاویز بھی شامل ہے۔

یہ ترجمہ جو بویریا قرآن (Bavaria Quran) کے نام سے معروف ہو گیا [بویریا پبلشنگ کمپنی‘ میونخ]‘ جب کہ مطالعہ قرآن کے حلقوں میں تفسیر کے طور پر استعمال ہونے لگا اور ماشاء اللہ اس قدر مقبول ہوا کہ ۱۹۹۶ء میں اپنی تکمیل کے تقریباً فوراً ہی بعد روسی اور بوسنیائی زبانوں میں اس کے ترجمے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ آج یہ دونوں ترجمے بھی مارکیٹ میں بآسانی دستیاب ہیں۔ ہسپانوی زبان میں بھی اس کا خوب صورت ترجمہ یونی ورسٹی پروفیسر صاحبان اور ان کے معاونین کی مدد سے تیار کیا جا رہا ہے اور اب تک اس کی ایک جلد کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ مستند علما اس کی جانچ پڑتال میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ طباعت کے مراحل سے گزرنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا بھی انتظار ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مشکل کام میں ہماری مدد فرمائے۔

چنانچہ‘ آج قرآنِ حکیم کے بارے میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار‘ روس اور بوسنیا جیسے دور افتادہ علاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے محبوب دینی رہنما سید مودودیؒ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور لاتعداد مسلمان اپنی دعائوں میں تشکر کے جذبات کے ساتھ ان کا ذکر کریں‘ جیسا کہ میں ان تمام برسوں میں کرتی آ رہی ہوں۔

غور وفکر پر آمادہ کرنے والے مولانا مودودیؒ کی تحریروں کے علاوہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا‘ وہ یہ تھی کہ اپنی تمام تر ان تھک روحانی اور سیاسی مصروفیات کے باوجود وہ کبھی نو مسلموں کی مشکلات اور مسائل سے لاتعلق نہیں ہوئے۔ اس کی سب سے خوب صورت مثال میری عزیز دوست مریم جمیلہ ہیں۔ جیسا کہ وہ اپنی سوانح حیات میں لکھتی ہیں‘ وہ ایک امریکی نو مسلم کی حیثیت سے نہایت مشکل صورتِ حال سے دوچار تھیں‘ خصوصاً چونکہ ان کا تعلق ایک یہودی گھرانے سے تھا۔ یہ مولانا مودودیؒ ہی تھے‘ جنھوں نے ان کے لیے پاکستان میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا بندوبست کیا‘ جہاں بعد میں ایک مخلص مجاہد فی سبیل اللہ محمد یوسف خان سے ان کی شادی کرا دی۔ یہ وہی یوسف خان ہیں جنھوں نے ایک جلسے میں مولانا پر قاتلانہ حملہ کر کے بھاگنے والے قاتل کو چھلانگ لگا کر پکڑلیا۔

۲۵ سال بعد اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے میں اپنی زندگی میں دوسری بار پاکستان آئی تو مجھے مریم جمیلہ اور ان کے شوہر سے بالمشافہہ ملاقات کا پہلی بار موقع ملا۔ اگرچہ ہم اس سے قبل پورے ۳۰ سال تک ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ خط وکتابت کرتے رہے تھے‘ مگر یہ ملاقات ۱۹۸۶ء میں ہوئی تھی۔ میں ان دونوں کو اپنے وسیع خاندان کے ساتھ خوش و خرم اور صحت مند پاکر نہایت خوش ہوئی‘ ماشاء اللہ۔ ہم دونوں نے شفقت پدری اور دینی رہنمائی کے حوالے سے مولانا مودودی کی کئی ایمان پرور یادوں کا تبادلہ کیا۔ اگرچہ وہ آج بنفسِ نفیس ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں‘ لیکن ہمارے ذہنوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انھی کی بدولت ہماری زندگیوں میں اسلام کا پیغام رحمت ایک انقلاب بن کر آیا‘ حالانکہ ہم دنیا کے اس قدر دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ ہم لوگوں پر‘ یعنی عالمی مسلم برادری پر‘ ان کے احسانات کے صلے میں انھیں دارِ آخرت میں عظیم ترین اجر سے نوازے۔ آمین!

ہمارا گھر‘ عام گھروں سے مختلف تھا۔ جس طرح گھر میں والد صاحب آتے ہیں‘ اٹھتے بیٹھتے ہیں‘ اور گھریلو مسائل پر گفتگوئیں یا بحثیں ہوتی ہیں‘ اس طرح ہمارے گھر کا ماحول نہیں تھا۔ ہمارے والد صاحب کا سارا وقت یا تو جماعتی اور تنظیمی نشستوں میں صرف ہوتا یا پھر وہ لکھنے پڑھنے کا کام کرتے۔ وہی جگہ ان کا دفتر تھا‘ ان کا ڈرائنگ روم تھا اور بیڈ روم بھی۔ دوسرے لفظوں میں تقریباً سارا وقت وہ وہیں گزارتے تھے۔ گھر میں وہ کھانا کھانے یا پھر کبھی دوپہر کو آرام کرنے کے لیے آتے تھے۔ جب بھی ہمیں ان سے کسی معاملے پر بات چیت کرنا ہوتی تو کھانے کے دوران کر لیتے یا ان کے دفتر میں جا کر کرتے۔ اس لیے ہمارے گھر کا ماحول عام گھروں سے یکسر مختلف تھا۔

وہ کبھی گھریلو مسائل کو اپنے تنظیمی مصروفیات میں حائل نہیں ہونے دیتے تھے۔ بعض اوقات تنظیمی دورے زیادہ لمبے بھی ہو جاتے تھے‘ کیونکہ اس وقت مشرقی پاکستان بھی ساتھ تھا۔

جب بھی وہ جیل جاتے تو ہمارے گھر میں کبھی افسوس یا سوگواری کا ماحول نہیں پیدا ہوتا تھا۔ کیونکہ ہم بہن بھائی‘ چھوٹے بچے ہونے کے باوجود یہ سمجھتے تھے کہ ان کا ایک اعلیٰ مقصد ہے اور وہ اسی مقصد کی خاطر جیل میں گئے ہیں۔ ہمارے والد صاحب اور والدہ صاحبہ نے ہمیں ہوش سنبھالتے ہی یہ ذہن نشین کرا دیا تھا کہ ایسے مقاصد کی تکمیل کے لیے جیل بھی جانا پڑتا ہے۔

وہ انتہائی شفیق باپ تھے۔ میری والدہ انھیں کہتی تھیں : ’’ان بچوں کو آپ کچھ نہیں کہتے‘ انھیں ڈانٹا کریں‘‘۔ تو وہ کہتے تھے: ’’میرے والد نے مجھے کبھی کچھ نہیں کہا تھا‘‘۔ ہم نے ان کا رویہ کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ انھوں نے کبھی ہم میں سے کسی کو مارا یا ڈانٹا ہو‘ بلکہ کوئی بات سمجھانی بھی ہوتی تو وہ  انتہائی نرمی سے سمجھا دیتے تھے۔

رشتہ داروں کے ہاں خوشی یا غمی کے موقعے پر آتے جاتے تھے اور اگر ہمارے گھر میں رشتہ دار آتے تو ہم انھیں پیغام بھیج دیتے اور وہ آ کر مل لیتے تھے‘ اور ضروری گفتگو کے بعد واپس اپنے کمرے میں چلے جاتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے :’’میں فارغ نہیں بیٹھ سکتا‘‘۔ اس لیے وہ ہر وقت مصروف رہتے تھے۔ صبح ناشتے کے بعد وہ لکھنے پڑھنے بیٹھ جاتے تھے۔ اس دوران اگر کچھ لوگ ضروری کام سے ملنے آ جاتے تو مل لیتے تھے۔ اکثر اوقات لوگ محض زیارت کرنے آ جاتے تھے اور یوں ان کا وقت ضائع ہوتا تھا۔ انھوں نے عصری مجلس کا اہتمام اسی لیے کیا تھا‘ کہ ان کا جو شیڈول بناہوا ہے لوگ اس کو خراب نہ کریں۔ جس کو ملنا ہے‘ کوئی مسئلہ دریافت کرنا ہے تو اس وقت    ]عصری مجلس[ میں آ جائیں۔ دوپہر کو وہ کھانا کھا کر کچھ آرام کرتے اور اکثر اوقات تو لیٹ کر بھی پڑھتے رہتے تھے۔ بہرحال عصر تک وہ آرام کرتے۔ نماز عصر کے بعد چائے پیتے اور پھر عصری مجلس کا وقت ہوجاتا تھا۔ مغرب تک یہ مجلس چلتی تھی۔ مغرب کے بعد پھر پڑھنا لکھنا شروع کر دیتے۔ عشاء کے بعد کھانا کھاتے اور سو جاتے تھے۔ یہ آخری زمانے میں معمول تھا‘ ورنہ پہلے زمانے میں تو وہ رات رات بھر پڑھتے‘ لکھتے رہتے تھے۔ نماز فجر کے بعد تین چار گھنٹے سو جاتے‘ اور پھر سارا سارا دن جماعتی اور علمی مصروفیت میں گزر جاتا۔

والد صاحب کا لائف سٹائل ایک عام آدمی سے بالکل مختلف تھا۔ مطلب یہ کہ جس طرح دوسرے گھروں میں لو گ دن کو کاروبار کر کے رات کو سارے خاندان کے ساتھ بیٹھتے ہیں‘ خاندان کے بارے میں باتیں ہوتی ہیں‘ کسی کی برائی ہوتی ہے اور کسی کی اچھائی بیان کی جاتی ہے اور خاندان کے لڑائی جھگڑوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہمارے والد صاحب کے ساتھ نہ ایسا ہوتا تھا اور نہ وہ اس طرح زندگی کے لمحوں کو برباد کرنے کے قائل تھے۔ لیکن ان کے پاس اگر کسی گھریلو یا خانگی لڑائی جھگڑے کے تصفیے کے لیے کوئی آبھی جاتا تو وہ حتی الوسع کوشش کرتے کہ اس معاملے میں نہ پڑا جائے۔ اور جو لوگ ان معاملات سے واقفیت رکھتے ہیں‘ وہی انھیں حل کریں۔ انھیں روپے‘ پیسے یا مال و دولت کو اکٹھا کرنے کی فکر نہیں ہوتی تھی اور نہ وہ اس بارے میں سوچتے تھے۔

میں نے والد اور والدہ کے درمیان زندگی بھر تلخ کلامی نہیں سنی۔ کبھی انھیں بلند آواز سے کسی کو بلاتے یا ڈانٹتے نہیں دیکھا۔ ہمارے گھر میں کبھی کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا اور نہ خاندان کے کسی دوسرے فرد سے کوئی جھگڑا ہوا۔ اس لیے وہ پورے خاندان میں بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ہر ایک ان کا احترام کرتا تھا۔ گھر کے نجی معاملات والدہ خود چلاتی تھیں۔ اچھرہ میں جماعت کا ’’نیا مدرسہ‘‘ اسکول ہوتا تھا۔ وہاں مجھے داخل کروانے وہ خود گئے تھے۔ اپنے تنظیمی یا جماعتی معاملات کبھی گھر میں زیر بحث نہیں لاتے تھے۔ وہ دورے بھی کرتے تھے لیکن گھر آ کر تنظیمی امور کی باتیں کبھی نہیں کرتے تھے۔ زیادہ تر تنظیمی کاموں یا لکھنے پڑھنے کے کاموں میں ہی مصروف رہتے تھے۔

کسی بڑے سے بڑے واقعے کے بعد بھی وہ پریشان نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ میں نے انھیں کبھی پریشان ہوتے دیکھا ہی نہیں۔ وہ بہت متحمل مزاج انسان تھے اور کبھی انڈر پریشر (under pressure) نہیں ہوتے تھے۔ اُن کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا‘ اُن کا ظاہر اور باطن ایک تھا۔ اُن کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تھی۔ اُن پر زندگی میں بے انتہا تنقید بلکہ شرمناک تنقید ہوئی‘ لیکن اُنھوں نے کبھی بُرا نہیں منایا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب کبھی اُن کا کوئی مخالف اُن سے ملنے آتاتو اُس سے وہ دوسروں کی نسبت زیادہ خندہ پیشانی اور محبت سے ملتے۔

جنرل ضیاء الحق صاحب نے جب بھٹو صاحب کاتختہ الٹا تو اس کے دو تین ہفتوں بعد وہ ہمارے گھر آئے‘ جس کی ہمیں پہلے کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اچانک ہی وہ آ گئے‘ کسی پروٹوکول کے بغیر عام گاڑی اور عام لباس میں۔ان کے ہمراہ کور کمانڈر لاہور جنرل اقبال اور ایک اُن کے ADC کیپٹن صاحب بھی تھے۔ وہ بھی عام لباس میں تھے۔ بہرحال وہ دونوں اندر والد صاحب کے پاس چلے گئے اور ہم باہر کیپٹن صاحب کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اس وقت بجلی چلی گئی تھی۔ معلوم نہیں جا ن بوجھ کر بند کروائی گئی یا اتفاق سے گئی تھی۔ بہرحال وہ اندھیرے ہی میں بات چیت کرتے رہے ۔ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد جانے کے لیے باہر آئے تو والد صاحب انھیں باہر برآمدے تک چھوڑنے آئے اور میں اتفاق سے ابھی باہر کھڑا تھا۔ ضیاء الحق گاڑی میں بیٹھنے کے بعد دوبارہ باہر نکلے اور مجھ سے ہاتھ ملا کر کہا کہ: ’’آپ مولانا کے بیٹے ہیں‘‘۔ میں نے کہا ’’جی ہاں‘‘۔ تو انھوں نے کہا کہ: ’’میرے لائق کوئی خدمت ہے تو بتائیں‘‘۔ تو میں نے کہا : ’’بہت بہت شکریہ‘‘۔ والد صاحب برآمدے میں یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے رات عشاء کے بعد کھانے کے دوران پوچھا: ’’ضیاء الحق کیا کہہ رہے تھے؟‘‘میں نے بتا دیا کہ وہ یہ کہہ رہے تھے اور جواب میں‘ میں نے یہ کہا۔ اس پر ابّا بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے: ’’یہ لوگ اسی طرح دوسروں کو ٹٹولتے ہیں‘‘۔

جب والد صاحب کا انتقال ہوا تو والدہ صاحبہ نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان کے لیے یہ بڑا سانحہ تھا‘ لیکن انھوں نے ہمیں بھی حوصلے سے نوازا اور بڑے صبر سے ان کی جدائی برداشت کی۔ اور جب تک صحت نے اجازت دی وہ سارے گھر کے معاملات کو بڑے احسن انداز سے چلاتی رہیں۔

والد صاحب تمام بیٹوں اور بیٹیوں سے بہت پیار کرتے تھے‘  اس کے علاوہ بھی اگر کوئی ان سے غصہ سے پیش آتا تو وہ انتہائی ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کرتے تھے۔ بچوں سے بڑی شفقت کے ساتھ پیش آتے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا کہ بچوں کو دیکھ کر اُن کی تھکن اتر جاتی۔ ہماری بہنوں کے ساتھ نہایت محبت‘ شفقت بلکہ احترام کا برتاؤ کرتے۔ میں نے زندگی بھر والد صاحب کو مصروف ہی پایا۔ کبھی انھیں خالی بیٹھے یا وقت ضائع کرتے نہیں دیکھا۔ جماعتی مصروفیات سے فارغ ہوتے تو اپنا لکھنے پڑھنے کا کام شروع کر دیتے اور آج اگر دنیا میں اُن کا نام ہے تو اس کے پیچھے ان کی ایمانی حرارت اور مسلسل جدوجہد اور محنت ہی کار فرما ہے۔

وہ ایک بے مقصد زندگی گزارنے کے قائل نہیں تھے۔ اُن کی زندگی کا ایک مقصد تھا اور اُسی کے لیے اُنھوں نے اپنی ساری زندگی لگا دی۔ اس مقصد کے لیے وہ کسی لالچ‘ نقصان اور رکاوٹ کو وہ خاطر میں نہیں لائے اور وہ مقصد تھا کہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم کیا جائے اور وہ لوگ جو کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں اور وہ لوگ جو مشنری اداروں میں پڑھ رہے ہیں اُن کو دین کی طرف راغب کیا جائے۔ اسی لیے اُن کی تمام کتابیں اور تفہیم القرآن اتنی آسان زبان میں ہیں کہ ہرآدمی اُسے پڑھ کر آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تمام کتابیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں مقبول ہوئی ہیں اور مختلف زبانوں میں مسلسل اُن کے ترجمے ہو رہے ہیں۔

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت ایسی جامع اور ہمہ گیر تھی اور ان کا کارنامۂ حیات اپنے اندر اتنے گوناگوں اور متنوع پہلو رکھتا ہے کہ آنے والے زمانوں میں اس پر بہت کچھ لکھا جائے گا۔ میں بھی ان کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں کچھ اپنی یادوں اورتاثرات میں اربابِ شوق اور طالبان حق کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔ اس موقع پر فقط چند ذاتی مشاہدات کا تذکرہ مقصود ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کا جو فطری نظام بنایا ہے وہ اس کے رب اور رحیم ہونے کا تقاضا ہے۔ اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ خاتم النبیینؐ کے بعد‘ اللہ تعالیٰ عام انسانوں میں سے کچھ خوش نصیب لوگوں کو اسی کارِ نبوت کی خدمت‘ تعمیل اور دعوتِ عام کے لیے منتخب کرتا ہے۔ اس سلسلے میں بیسویں صدی میں تجدید اُمت اور احیاے دین کے لیے جن افراد نے اللہ کے اس نظام اور اس کے طے کردہ منصوبے کے تحت کام کیا‘ ان میں جمال الدین افغانی‘ شکیب ارسلان‘ حلیم پاشا‘ محمدعبدہ‘رشید رضا‘ ابوالکلام آزاد‘ علامہ محمد اقبال‘ حسن البنا‘ بدیع الزماں سعید نورسی وغیرہ شامل ہیں۔ اس درخشاں کہکشاں میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا بھی ایک بہت ہی منفرد اور کئی حوالوں سے مرکزی مقام ہے۔

اس حوالے سے میں اپنے آپ کوبڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتنا کرم کیا کہ ایسے خادم دین اور ایسی عظیم شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ دانش برہانی سے فیض پانے والی اس شخصیت کے افکارِ عالیہ سے اپنی فکر کو جلا بخشنے‘ اس کی صحبت میں زندگی کے اسالیب سیکھنے اور اس کی امارت و قیادت میں اجتماعی زندگی گزارنے کا موقع ملا ہے۔ اسے زندگی کا حاصل اور ایک بہترین انعام سمجھتا ہوں‘ بلکہ زیادہ اہم کہ اگر کہوں کہ زندگی کا رخ متعین کرنے اور اسے بامعنی بنانے میں جس چیز نے اصل کردار ادا کیا‘ وہ یہی تعلق تھا۔ اس دل چسپ داستان کے دو حصے ہیں:ایک میری شعوری زندگی اور دوسری میری خاندانی زندگی۔

خاندانی پہلو سے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ‘ میرے والد نذیر احمد قریشی کے غالباً سب سے پرانے دوست تھے۔ غالباً اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ بات خود مولانا نے مجھے بتائی اور پھر والد صاحب کے انتقال پر جو تعزیتی خط آیا تھا‘ اس میں بھی یہی تذکرہ کیا۔

مولانا مودودی جب بھوپال اور حیدرآباد سے دہلی منتقل ہوئے تو یہاں جن افراد سے ان کا اولین تعارف ہوا‘ ان میں سے ایک میرے والد گرامی بھی تھے۔ اگرچہ عملی زندگی میں ان کا معاملہ تجارت سے تھا‘لیکن سارا خاندان علمی روایت سے منسلک تھا اور ادبی ذوق کا رچائو بھی تھا۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے۔ مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ابوالکلام آزاد اور مفتی کفایت اللہ مرحوم سے گہرے نیازمندانہ تعلقات‘ روز و شب کا ملنا جلنا اور اٹھنا بیٹھنا تھا اور گویا ان کی مجلسی زندگی کا محور وہ حلقہ تھا جسے دلی میں مسلم شرفا کا طبقہ کہا جا سکتا ہے۔ تحریک خلافت میں والد صاحب بھی پیش پیش تھے۔ مولانا مودودی اور والد صاحب کے درمیان دوستی کا یہ آغاز ۱۹۲۰ء میں ہوا اور یہ تعلق خاطر۱۹۶۲ء میں والد صاحب کے انتقال پر ختم ہوا۔

جہاں تک یاد پڑتا ہے‘ میں نے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کو ۱۹۳۸ء یا ۳۹ء میں پہلی مرتبہ دیکھا۔ تب میری عمر ۶‘ ۷ برس تھی۔ ان دنوں مولانا دلی آئے تو والد صاحب سے ملنے ہمارے ہاں تشریف لائے۔ دلی کے گھرانوں میں مردان خانہ اور زنان خانہ الگ الگ ہوتا تھا۔ وہ مردانہ حصے میں مولانا محترم سے بات چیت کر رہے تھے۔ اسی دوران والد صاحب نے مولانا سے ملانے کے لیے مجھے بلایا۔ میں نے آتے ہی مولانا کو سلام کیا۔ اس زمانے میں‘ میں نظم بڑے شوق سے پڑھا کرتا تھا۔ والد صاحب نے کہا: ’’مولانا کو نظم سنائو‘‘۔ اچھی طرح یاد ہے میں نے یہ قومی نظم:

زندہ ہیں اگر زندہ دنیا کو ہلا دیں گے

مشرق کا سرا اُٹھ کر مغرب سے ملا دیں گے

دھارے میں زمانے کے بجلی کا خزانہ ہے

بہتے ہوئے پانی میں ہم آگ لگا دیں گے

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ اُبھرے گا‘ جتنا کہ دبا دیں گے

بڑے زور اور جذبے اور اس سے بھی زوردار اشاروں کے ساتھ یہ نظم میں نے سنائی اور مولانانے بس ایک پُروقار مسکراہٹ سے میری حوصلہ افزائی کی۔

پھر یہی نظم میں نے محمد علی ٹرافی میں پڑھی تو ڈاکٹر ذاکر حسین اس مجلس میں موجود تھے‘ وہ اُٹھ کر آئے۔ انھوں نے مجھے پیار کیا‘ اور نظم سنانے پر ایک سرٹیفیکیٹ دیا۔ اس کے برعکس مولانا مودودی کا ردعمل بڑا نپاتلا (calculated) تھا۔

دوسری ملاقات مولانا مودودی سے فروری ۱۹۴۸ء میں ہوئی۔ ۱۲ فروری ۱۹۴۸ء کو ہم والد صاحب اور والدہ صاحبہ کے ہمراہ دلی سے لاہور آئے۔ یہاں مسلم ٹائون میں ۲۵نمبر کوٹھی کرائے پر لی۔ جب مولانا کو علم ہوا کہ والد صاحب لاہور میں ہیں تو وہ کمالِ عنایت سے‘ نمازِمغرب سے کچھ دیر پہلے ہمارے گھر پہنچے۔ مغرب کی نماز ہم نے اپنے لان میں باجماعت پڑھی۔ مولانا نے امامت کی‘ والد صاحب کے کہنے پر میں نے اقامت پڑھی۔ مزید تفصیلات یاد نہیں ہیں۔ چند روز میں والد صاحب مولانا سے ملنے اچھرہ گئے‘ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔

۱۹۴۸ء ہی میں والد صاحب کراچی منتقل ہوگئے۔ میں چونکہ دیر سے لاہور آیا تھا‘ اس لیے یہاںکسی بڑے کالج میں داخلہ نہ ملا۔ میرے بڑے بھائی ضمیراحمد مرحوم کو ایف سی کالج میں داخلہ مل گیا تھا۔ انھوں نے وہیں سے انٹرسائنس پاس کیا۔ ایف سی کالج کے قریب ہی تعلیم الاسلام کالج میں‘ میں نے انٹر آرٹس میں داخلہ لیا۔ انگریزی‘ اُردو کے علاوہ معاشیات اور نفسیات مضامین منتخب کیے‘ اور پنجاب یونی ورسٹی سے ۱۹۴۹ء میں انٹر کا امتحان پاس کیا۔ یہاں میرے ایک ہم جماعت اقبال احمد تھے‘ جو بعد میں ڈاکٹر اقبال احمد کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ ہم دونوں میں گہری دوستی تھی۔ ان کا ذہن ایک خاص نہج پر سوچتا تھا۔ ہماری دوستی دانش ورانہ تعلقات (انٹی لیکچول فیلوشپ) پر استوار تھی۔ انٹرمیڈیٹ کے طالب علم ہونے کے باوجود ہم جب معاشرے اور دنیا کے معاملات پر بحث کیا کرتے‘ تو برملا یہ کہتے تھے کہ ایک اچھی نظریاتی زندگی گزارنے کے لیے ہمارے سامنے صرف دو راستے ہیں: ہم کمیونسٹ پارٹی میں جائیں گے یا پھر جماعت اسلامی میں--- اور اتفاق سے وہ دوسرے کیمپ میں چلے گئے اور میں جماعت اسلامی میں آگیا۔ حالانکہ جب ہمارے درمیان بحث ہوتی تھی‘ تو اس وقت تک مجھے جماعت اسلامی کے پروگرام اور نظامِ کار کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہ تھا مگر ہم دونوں کو‘ عمومی تاثر کی بنیاد پر‘ یہ بات ضرور معلوم تھی کہ یہ اچھے‘ مخلص اور نظریاتی لوگوں کی ایک تحریک ہے‘ جو اسلام کے نفاذ کی جدوجہد کر رہی ہے۔

۱۹۴۹ء میں‘ میںکراچی آگیا۔ بھائی ضمیر‘ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوچکے تھے۔ یہاں پہنچ کر میں نے مولانا مودودی کی کتابوں خطبات‘ تنقیحات اور محمداسد کی Islam  at the Crossroads  کا مطالعہ کیا۔ جمعیت سے وابستہ ہوا اور رکنیت اختیار کرنے کے بعد ۱۹۵۰ء میں جمعیت کے سالانہ اجتماع میں شرکت کے لیے خرم‘ راجا (ظفراسحاق انصاری)‘ عبداللہ جعفر اور دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ پھول بلڈنگ‘ گوالمنڈی لاہور پہنچا۔ اُن دنوں اس جگہ نصراللہ خاں عزیز صاحب کے اخبار تسنیم کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ دن رات ہم وہیں رہے۔

مولانا مودودی اتوار کو اچھرہ ہی میں ہفت روزہ درس قرآن دیا کرتے تھے۔ ہم لوگ درس سننے مولانا کی رہایش گاہ پر پہنچے۔ اُنھوں نے برآمدے میں زمین پر بیٹھ کر درس دیا۔ چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ کچھ لوگ برآمدے میں اور باقی سامنے کے حصے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی ۵۰ کے قریب حاضرین تھے۔ اس درس کی لذت اور پیغام کی تاثیر آج تک محسوس کرتا ہوں۔ اس سے قبل لٹریچر پڑھنے سے شعوری طور پر مولانا سے عقیدت اور محبت تو پیدا ہو چکی تھی۔ درس کے بعد ہم لوگ آگے بڑھ کر مولانا سے ملے۔ مولانا نے مسکراتے اور کِھلے چہرے کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ میں نے ہاتھ ملاتے ہی کہا : ’’مولانا‘ میرا آپ سے ایک اور حوالے سے بھی تعلق ہے‘‘۔ انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں ذرا بھنویں اُٹھا کر پوچھا: ’’وہ کیا؟‘‘ میں نے کہا: ’’میں آپ کے دوست نذیراحمد قریشی صاحب کا بیٹا ہوں‘‘ تو معاً مولانا نے آگے بڑھ کر مجھے گلے سے لگا لیا۔ اس طرح تعلقات میں گرم جوشی اور شفقت کا پہلا تاثر‘ تجربے میں ڈھل گیا۔ جب میں اس کا موازنہ کرتا ہوں ۳۹-۱۹۳۸ء کی پہلی ملاقات میں نظم سنانے سے‘ تو مجھے بڑا بنیادی فرق محسوس ہوتا ہے۔ وہ ہے شخصیت کا ایک فرق‘ جس میں مقصد کی اہمیت اور مقصدیت سے وابستگی‘ اور یہ کہ مقصد کی بنیاد پر جو تعلق ہے اس میں احترام اور گرم جوشی کا معاملہ۔

مولاناکی بہت خواہش تھی کہ میرے والد صاحب جماعت میں آئیں۔ جماعت اسلامی کی تاسیس سے قبل‘ علامہ اقبال اور چودھری نیاز علی خاں کی دعوت اور ایماء پر مولانا نے جو ادارہ دارالاسلام قائم کیا تھا‘ اس کے پہلے پانچ بنیادی افراد میں والد صاحب بھی شامل تھے۔ مولانا محترم کی لائبریری میں میرے والد کی دی ہوئی درجنوں کتابیں تھیں۔ اُن میں سے ایک کتاب Social Evolution  پر تھی۔ اس کے حاشیے پر مولانا نے کہیں مختصر اور کہیں مفصل تنقیدی نوٹس لکھے ہوئے تھے اور اہم حصوں کو نشان زد کیا ہوا تھا۔ یہ مولانا کا خاص طریقہ تھا کہ کتاب کے مطالعے کے دوران جہاں کوئی خیال آتا‘ تنقیدی یا تائیدی پہلو سامنے آتا‘ یا پھر کوئی سوال ذہن میں اُبھرتا تو وہ زیرمطالعہ کتاب کے حاشیے پر لکھ لیتے۔ یہ کتاب مولانا کو میرے والد نے تحفتاً دی تھی‘ میں نے مولانا سے اُسے مانگ لیا تاکہ مولانا اور والد صاحب کی دوستی کی یہ ایک میراث میرے پاس محفوظ رہے۔ ایک خط میں والد صاحب نے مولانا کو لکھا تھا کہ میری خواہش ہے کہ زندگی کا آخری حصہ آپ کے ساتھ گزاروں تو مولانا نے جواب میں لکھا تھا:’’میرے لیے یہ خبر نہایت مسرت کی موجب ہے کہ آپ اپنی زندگی کا آخری حصہ میرے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں‘ مگر اس میں دیر کیوں ہے؟ کیا‘ آپ کو اپنی تاریخ وفات معلوم ہو چکی ہے‘ جس کے لحاظ سے آپ نے تعین کر لیا ہے کہ آخری حصۂ عمر فی الواقع کون سا ہے۔ (خطوط مودودی‘ دوم‘ ص ۳۴-۳۵)

مولانا نے جس گرم جوشی اور محبت سے مجھے اپنے سینے سے لگایا‘ اس واقعے کو بیان کرنے پر والدصاحب نے نہ صرف مجھ سے کہا‘ بلکہ مولانا سے بھی بیان کیا کہ اگرچہ میں تو جماعت میں نہیں آسکا‘ لیکن اپنا بیٹا جماعت کو دے دیا ہے۔ اس طرح مولانا سے میرا ایک تعلق خاندانی ہے اور دوسرا نظریاتی۔ ان دونوں تعلقات کا ایک جگہ جمع ہونا میری خوش نصیبی ہے۔

۱۹۵۰ء کی ملاقات کے بعد مولانا مودودی سے سیکڑوں ملاقاتیں ہوئیں۔ سفر اور حضر میں ساتھ رہا‘ شوریٰ کے اجلاسوں اور کمیٹیوںمیں مل بیٹھے۔ انھیں بحرانوں اور مشکلات کو حل کرتے دیکھا۔ حتیٰ کہ جیل میں اکٹھے رہے ہیں۔ پھر مولانا جب کراچی آتے تو ان کی خدمت کرنے اور لانے لے جانے کا موقع ملتا تھا۔ پہلے غلام حسین عباسی ان کو گاڑی میں لے کر آتے جاتے تھے‘ پھر نواب نقی اور ان کے ڈرائیور انھیں لے کر جاتے۔ پھر میری گاڑی میں انیس ڈرائیو کرتے تھے۔ ان لاتعداد ملاقاتوں کی باتوں کو یاد کر کے انھیں بہ تمام و کمال بیان کرنا ناممکن ہے۔

تاہم‘ یہاں پر بنیادی باتوں کے حوالے سے چند یادداشتیں پیش کروں گا:

جو بات سب سے زیادہ دل پر نقش ہے‘ وہ ہے ان کے ہاں زندگی کی مقصدیت۔ ان کی پوری زندگی میں‘ چاہے وہ دوستوں اور ساتھیوں کے ہمراہ ہوں‘ یا عزیزوں اور اہل خانہ کے ساتھ‘ ہر جگہ اور ہر سطح پر معاملات کرتے وقت جو چیز سب پر حاوی نظر آتی ہے اور سب امور جس کے تابع ہیں‘ وہ زندگی کی یہی مقصدیت ہے۔ یہ چیزہمیں اللہ کے نبیؐ کے اسوے میں مرکزی پہلو کے طور پر نظرآتی ہے۔ رسول کریمؐ کا ہر قول‘ ہر فعل نمونہ اور ایک مثال ہے۔ آپ سیرت کی پوری تصویر دیکھنا چاہیں تو وہ ہے ہر معاملے میں داعی الی اللہ کا کردار۔ اسی چیز کو میں سنتِ کبریٰ کہتا ہوں۔ میں نے زندگی میں‘ اس معیار کی طرف بڑھنے‘ اتباع کرنے کی مسلسل شعوری کوشش کرنے اور اس اسوئہ رسولؐ کی اتباع کرنے والے جس انسان کو دیکھا وہ مولانا مودودی تھے۔

مولانا مودودی کے ہاں جو دوسری چیز ذہن پر نقش ہے‘ وہ ہے وقت کی قدر۔ ان کا نظم الاوقات (ٹائم مینجمنٹ) آئیڈیل تھا اور انھوں نے حیران کن حد تک منضبط زندگی (ریگولیٹڈ لائف) گزاری۔ پہلے پہل ۸ بجے صبح ہی اخبار دیکھ لیتے تھے اور بعدازاں وہ نمازِ ظہرادا کرنے کے بعددیکھتے تھے۔ ناشتے کے بعد قیم جماعت کو بلا کر چند منٹ میں جماعتی زندگی کے لیے ہدایات دے کر کمرے میں یکسوئی کے ساتھ بیٹھ کر علمی کام انجام دیتے اور پھر نمازِ ظہر ادا کرتے۔

دوپہر کا کھانا‘ کچھ دیر آرام‘ پھر نمازِ عصر کے بعد ایک کھلے اور دوستانہ ماحول میں‘ مغرب تک ہر خاص و عام سے ملتے ۔ نمازِ مغرب کے بعد عشا تک آرام کرسی پر بیٹھ کر مطالعہ کرتے اور جب نوٹس بنانے کا کام ہوتا یا لکھنا ہوتا تو میز کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے۔ عشاء کے بعد اہلِ خانہ کے ساتھ کھانا کھاتے اور اگر زیادہ ضروری کام ہوتا تو پھر مطالعہ گاہ میں بیٹھ کر رات دیر تک کام کرتے‘ اور جب تھک جاتے تو ایک سادہ چارپائی پر لیٹ جاتے۔

غیرمعمولی حالات میں وہ اس معمول سے ہٹ بھی جاتے تھے لیکن عام طور پر اسی انداز سے شب و روز گزارتے۔ یہ سلسلہ گرمی سردی کے موسم میں یوں ہی جاری رہتا تھا۔ چودھری غلام محمد مرحوم کی خواہش پر ایک دوست نے ایئرکنڈیشنر لگوانا چاہا‘ لیکن مولاناکئی دن تک اس پر یکسو نہیں تھے کہ اپنے معیارِ زندگی میں اتنا بڑا فرق لائیں۔ بہرحال بہت زیادہ قائل کرنے پر وہ تیار ہوگئے۔ دوست نے بھی بڑا اصرار کیا کہ آپ قرآن کی تفسیر لکھ رہے ہیں‘ میں اس کام میں کچھ سہولت فراہم کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوںاس لیے آپ اجازت دیں۔

مولانا مودودی نے اپنے طریق مطالعہ کے بارے میں مجھے ہدایات دیتے ہوئے فرمایا تھا: میرا طریقہ یہ ہے کہ جس موضوع پر مجھے کام کرنا ہوتا ہے‘ میں پہلے اس موضوع پر چند بنیادی چیزیں پڑھتا ہوں‘ تاکہ اُس مسئلے کے بنیادی پہلو تمام تر پس منظر کے ساتھ سامنے آجائیں۔ پھر اس موضوع پر ایک دو کتب یا کم از کم انسائیکلوپیڈیا کے متعلقہ مقالات کو دیکھ لیتا ہوں‘ تاکہ اس کا فکری اور عملی حوالہ معلوم ہو سکے اورعلمی رجحانات کے بارے میں معلومات سامنے آجائیں۔ ان چیزوں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس موضوع کا حدود اربعہ کیا ہے‘ اس کے بنیادی مقدمات یا key issues کیا ہیں۔ مطالعہ کرنے کے دوران کوئی رائے قائم نہیں کرتا۔ اس کے بعد سب سے پہلے قرآن مجید کو کھولتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ ان امور پر کیا رہنمائی دیتا ہے۔ اس ضمن میں سیاق و سباق کو نظراندازکر کے فقط ایک دو آیات پر غور کرنے کے بجاے پورے قرآن کریم سے مسئلے کا حل تلاش کرتا ہوں۔ پھر دیکھتا ہوں کہ سیرتؐ، سنت‘ حدیث اور خلفاے راشدینؓ کس انداز سے دستگیری کرتے ہیں۔ مطالعے کے دوران میں اپنے نوٹس بناتا ہوں۔ یہ سلسلہ میں نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں شروع کیا تھا اور اسے کبھی نظرانداز نہیں کیا‘ سواے اس کے کہ جیل کے زمانے میں جب تک کاغذ پنسل سے محروم رہا‘‘۔

یہ بات پورے یقین کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ ۱۹۷۹ء تک جب مولانا مودودی گرتی ہوئی صحت کے ہاتھوں تقریباً معذور ہو چکے تھے‘ تب بھی وہ مطالعہ کرتے تو ان کے پاس کاغذ اور قلم ہوتا‘ جس پر وہ ضروری نوٹس ضرور قلم بند کر لیتے۔ تفسیر‘ حدیث‘ فقہ‘ تاریخ یا دوسرے عصری علوم کا مطالعہ کرنے کے دوران وہ نوٹس لیتے جاتے تھے۔ یہ نوٹس مولانا نے عربی‘ انگریزی‘ اُردو اور فارسی میں لیے۔ نوٹس تیار کرنے کے لیے اکثر وہ فل اسکیپ کاغذ کو لمبے رخ پر درمیان سے ایک تہہ دے کر کاٹ لیتے‘ جس سے وہ ایک سلپ سی بن جاتی تھی۔ اسی سلپ پر وہ نوٹس لیتے تھے۔

مولانا نے اسی ملاقات میں بتایا: ’’میں مطالعے کے دوران مفہوم اور نکات کو اپنے ذہن میں بٹھانے کے ساتھ نوٹس لینا ضروری سمجھتا ہوں۔ جب میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو پھر مراجع کو سامنے نہیں رکھتا‘ اس کے بجاے اپنے نوٹس کو سامنے رکھتا ہوں‘‘۔ یعنی جب وہ لکھنے بیٹھتے تو ان کے سامنے موضوع کی ہر چیز حسن ترتیب کے ساتھ واضح ہو چکی ہوتی اور جب لکھتے تو یوں لگتا کہ وہ لکھ نہیں رہے‘ بلکہ اپنے لوحِ ذہن میں جو کچھ وہ لکھ چکے ہیں‘ اب اسے صرف صفحۂ قرطاس پر منتقل کر رہے ہیں۔ اسی لیے لکھے ہوئے مسودے کو دیکھیںتو بالعموم بہت ہی کم کانٹ چھانٹ دکھائی دیتی۔ جب لکھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے مضامین اور جملے القا ہو رہے ہیں۔ لکھنے کے بعد فوراً کاتب‘  یا ٹائپسٹ کو نہ دیتے‘بلکہ دوبارہ ایک ایک لفظ پڑھتے تھے۔ جہاں ضرورت ہوتی ترمیم و حذف کرتے اور جہاں زیادہ بڑے اضافے کی ضرورت محسوس کرتے‘ اسے ایک سلپ پر لکھ کر‘ پن کے ساتھ منسلک کر دیتے تھے۔ تحقیق و تصنیف کے اس طریقے کو میں نے اپنے انداز میں اپنانے کی کوشش کی‘ اور بہت مفید اور موثر پایا۔

اسی طرح ایک چیز جو میں نے مولانا سے سیکھی‘ وہ ہے وقت کا نظم و ضبط اور وقت کا صحیح استعمال۔ مولانا مودودی مقصد زندگی کے بعد جس چیز کے بارے میں سب سے زیادہ حساس تھے‘ وہ وقت تھا۔ انھیںاس امر کا شدید احساس تھا کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے‘ اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ جس طرح آخرت میں صلاحیتوں کا حساب دینا ہے اسی طرح مجھے ایک ایک لمحے کا بھی حساب دینا ہے۔ لکھنے کو تو یہ بات ایک جملے میں لکھ دی ہے‘ لیکن اس کا شعور اور اسے برتنے کا اہتمام صرف مولانا مودودی کے ہاں دیکھا۔

وقت کی اس قدرومنزلت کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی زندگی میں تفریح کاعنصرنہیں تھا۔  ایسا نہیں ہے‘ بلکہ وہ سیر کا ذوق رکھتے تھے۔ جب وہ ۱۹۶۸ء میں لندن میں زیرعلاج تھے‘ اس دوران ہمارے ساتھ چار ماہ تک رہے۔ آپریشن کے بعد طبیعت بحال ہوتے ہی مولانا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے یہاں کے اہم مقامات کو دیکھنا ہے۔ برٹش میوزیم میں کئی گھنٹے گزارے پھر مانچسٹرکی پبلک لائبریری دیکھنے گئے۔ وہیں ہم کو انجیل برناباس کا نایاب نسخہ ملا‘ جس کی فوٹوکاپی تیار کروا لی گئی (جسے حاصل کر کے نہ صرف اُردو میں پروفیسر آسی ضیائی صاحب سے ترجمہ کرایا بلکہ اس کی اشاعت بھی کرائی)۔ مولانا بڑے شوق سے لندن ہی نہیں یورپ کی کتابوں کی سب سے بڑی دکان Foyls پرگئے اور متعدد کتب خریدیں۔ اس کے بعد فرمایا: ہائیڈپارک چلیں‘ اور ہم ہائیڈ پارک اور اسپیکرز کارنر گئے‘ جس کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ دریاے ٹیمزدیکھنے گئے۔ اس کے بعد خواہش کر کے زیرزمین ریل کا ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک سفر کیا۔ اس ٹرین کو انگریز تو ٹیوب کہتے ہیں‘ مگر مولانا نے اسے ’نلکی‘‘ سے تعبیر کیا!

باغات کی تاریخ پر ان کے پاس بڑی وسیع معلومات تھیں۔ انھوںنے بتایا کہ باغات کس طرح ارتقا پذیر ہوئے۔ انگریزوں کے ہاں باغات کی روایت میں وہ ڈسپلن نہیں تھا۔ درخت‘ پھول‘ گھاس تو تھے مگر توازن اور روش بندی کے بغیر۔ مسلمانوں نے روش بندی کے ذریعے باغات کوایک نظم اور خوب صورتی دی۔ جب لندن میں ان کی طبیعت ذرا بہتر ہوئی تو وہ شام کو سیر کے لیے نکلتے تھے۔ تب وہ چھڑی خریدی تھی جوکرکٹ کے ایمپائروں کے پاس ہوتی ہے‘ کہ جونہی ذرا تھکن محسوس کریں تو اسے نصب کر کے سہارا لے لیں۔ یوں مولانا کے ہاں تفریح کا ایک ذوق سامنے آیا جو ان کی زندگی کا حصہ تھا۔ طبیعت میں فرحت اور زندگی میں توازن پیدا کرنے کے لیے وہ سیر کو لازمی سمجھتے تھے۔ لیکن وہ تفریح جو وقت ضائع کرنے کا ذریعہ بنے ‘ اس جانب وہ کوئی جھکائو نہیں رکھتے تھے۔ اسی طرح ہم نے انھیں جیل میں بھی دیکھا کہ وہ عصر سے مغرب تک ٹہلتے اور ہم اُن کے ہمراہ چلتے ہوئے ہلکی پھلکی بات چیت کرتے۔

مولانا نے بتایا: ’’بچپن میں کشتی اور بنوٹ وغیرہ سیکھی۔ اسی طرح کار چلانا بھی سیکھی‘ لیکن کار چلاتا نہیں ہوں۔ کیونکہ ہر وقت ذہن میں خیالات آتے رہتے ہیں۔ خیالات کی آمد سے کارچلانے کے دوران توجہ ہٹ جاتی ہے ‘جو خطرے سے خالی نہیں۔ انھیں ہمارے عزیز دوست غلام حسین عباسی اور میرے چھوٹے بھائی انیس کی ڈرائیونگ بہت پسند تھی۔ انیس سے کہا کہ آپ بہت اچھی ڈرائیونگ کرتے ہیں‘ تو انھوں نے کہا: ’’مولانا یہ بات آپ مجھے لکھ کر دیں‘‘۔ اس طرح مولانا نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر یہ سرٹیفکیٹ دیا کہ آپ اچھی ڈرائیونگ کرتے ہیں۔

پھر مطالعے میں مولانا مودودی کا ذوق بڑا وسعت پذیر تھا۔ مزاح‘ شعروادب اور ادبی تنقید تک پڑھنے کے لیے بھی وقت نکالتے۔ تمام معیاری ادبی رسالے ان کے ہاں آتے‘ جن میں تحریکی رسالوں کے علاوہ  ہمایوں‘ نیرنگ خیال‘ نقوش‘ سویرا‘ فنون‘ ریڈرز ڈائجسٹ وغیرہ شامل تھے۔ گویا کہ قرآن و سنت‘ حدیث و فقہ‘ تاریخ و قانون اور فلسفہ میں عربی کی ادق کتب کے ساتھ ساتھ کلاسیکی لٹریچر اورمعاصر اصناف ادب کے مطالعے کو وہ ضروری چیز قرار دیتے تھے۔ اس ہلکے پھلکے لٹریچر کے لیے بھی وقت کی متعین حدود تھیں۔جب کبھی بیرونِ پاکستان جاتے تو واپسی پر‘ اس عرصہ غیرحاضری کے اخبارات: ڈان‘ پاکستان ٹائمز‘ نوائے وقت اور جنگ کے پورے فائل منگوا کر دیکھتے۔

تحریکی اداروں کے جو رسالے بھی شائع ہوتے‘ مثلاً:  چراغ راہ‘ مشیر‘یثرب‘ جہانِ نو‘ آئین‘ ایشیا‘ہم قدم‘ سیارہ‘ پہلے عفت پھر بتولوغیرہ ‘وہ انھیں ضرور دیکھتے تھے۔ تفریح کے ساتھ تفریحی لائٹ لٹریچر اور تحریکی لٹریچر پر نظر رکھنے کے لیے وہ اہتمام سے وقت نکالتے تھے۔ ان کی شخصیت میں کمال کا توازن اور بے مثال وسعت نظرتھی۔

اسی طرح انھوں نے یہ روایت قائم کی کہ ہر کام اپنے وقت پر ہو۔ انھوں نے جس پروگرام کے لیے وقت دیا ہوتا‘ اس سے پانچ منٹ پہلے پہنچتے۔ مجھے نہیں یاد کہ اُن کی طلب کردہ کوئی میٹنگ تاخیرسے شروع ہوئی ہو‘ یا وہ کسی شوریٰ‘ کسی عاملہ‘ کسی اجتماع یا اجلاس میں تاخیر سے پہنچے ہوں۔ ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ مولانا محترم کراچی کے دورے پر گئے تو وہاں پی سی ایچ ایس میں ٹھیرے ہوئے تھے۔ انھیں پیرالٰہی بخش کالونی میں ’’مُلا ازم کیا ہے؟‘‘ کے موضوع پر خطاب کرنا تھا اور مولانا کو اجتماع گاہ میں لے کر جانامیرے ذمے تھا۔ ہم بمشکل دو تین منٹ لیٹ پہنچے۔ لیکن میں بیان نہیں کر سکتا کہ وہاں پہنچنے تک جو آخری دس منٹ گزرے اس پورے دورانیے میں وہ کتنے اضطراب میں تھے‘ اور اگر مولانا نے زندگی بھر میں مجھے ڈانٹا ہے تو صرف اُس روز۔ جب میں نے ٹریفک جام کا عذر پیش کیا تو کہا: ’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے تھا اس وقت راستے میں ٹریفک کا مسئلہ ہو سکتا ہے‘ اس کا لحاظ رکھتے ہوئے چند منٹ پہلے چلتے یا دوسرا راستہ اختیار کرتے‘‘۔ دوسری طرف جماعت کے لوگ بھی قابلِ داد ہیں کہ انھوں نے مولانا کا انتظار کیے بغیر اجلاس کی کارروائی شروع کر دی ‘اور ہم اس دوران ہی پہنچے۔ گویا وقت کی قدر اور وقت کا استعمال اور وقت کا نظم و ضبط ان کے ہاں کمال درجے کو پہنچا ہوا تھا۔

مولانا کے ہاں نفاست‘ پاکیزگی‘ ذوقِ جمال اور سادگی تھی۔ ان کی میز میں نے کبھی منتشر نہیں دیکھی۔ جیل کا عرصہ اور پھر انگلستان میں گزرے ہوئے چار ماہ کی بنیاد پر اپنا مشاہدہ بیان کر سکتا ہوں: جیل میں تھے یا سفر میں‘ حتیٰ کہ بیماری کی حالت میں ہسپتال میں داخل‘ تب بھی مجال ہے کبھی اُنھوں نے اپنے کپڑے کو بے نیازی سے کسی کرسی پر‘ زمین پر یا کسی چارپائی پر ڈال دیا ہو۔ ان کو جہاں لٹکانا ہوتا‘ وہاں خود اپنے ہاتھ سے لٹکاتے‘ جہاں تہہ کر کے رکھنا ہوتا‘کپڑے کو خود ترتیب سے رکھتے‘ حتیٰ کہ دھونے والے کپڑے سلیقے سے لپیٹ دیتے۔ اس پورے عرصے میں مجھے کبھی ان کا کوئی کپڑا اُٹھا کر یہاں سے وہاں نہیں رکھنا پڑا۔

پھر لباس کے پہننے میں بھی ان کا ایک انداز تھا۔ دفتر اور گھر میں بڑے پائینچوں والا حیدرآبادی پاجامہ زیب تن کرتے۔ باہر کبھی وہ اس لباس میں نہیں گئے۔ باہر جاتے وقت تنگ موری والا پاجامہ نہیں بلکہ کم موری والا علی گڑھ پاجامہ پہنتے۔ تنگ موری والا پاجامہ مولانا کو پسند نہیں تھا۔ مکیشن شو اورشیروانی پہنتے۔ انگلستان میں جب رات کے کھانے کے بعد وہ چہل قدمی کے لیے نکلتے‘ اس وقت میں نے انھیں کبھی شیروانی پہنے بغیر باہر جاتے نہیں دیکھا۔ پھر واپس آکر اپنے گھر کے لباس میں ہمارے ساتھ بیٹھتے۔ اگرچہ وہ پان کھاتے تھے لیکن اُن کے لباس پر اس کا کوئی داغ‘ دھبا یا ہلکی سی چھینٹ تک نہیں دیکھی۔ دفتر یا مجلس میں بیٹھتے تو اگال دان پاس ہوتا۔ سفر پر جاتے تو سفری اگال دان ساتھ رکھتے۔اس کے برعکس پان کھانے والے بڑے بڑے بزرگوں اور نوابوں تک کو ہم نے نہ صرف اردگرد گل پاشی کرتے دیکھا ہے‘ بلکہ بعض اوقات تو سامنے بیٹھا بات سننے والا فرد بھی مجلس آرائی کی دو چار نشانیاں اپنے اوپر ثبت کرا لیتا ہے‘ اور اُن سے پہلے ان کے لباس کا کوئی نہ کوئی حصہ گواہی دے دیتا ہے کہ ہمیں پہننے والا پان کا شوق رکھتا ہے۔ مولانا کے کپڑے پر اورپاس بیٹھنے والے فرد کے لباس پر پان کا کوئی ہلکا سا دھبا یا نشان کبھی نہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ اُنھوں نے لطیف لہجے میں کہا:’’جب اسلامی انقلاب آئے گا‘ تو پھر ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے کاروں تک میں ایش ٹرے کے ساتھ ساتھ اگال دان بھی رکھے جائیں گے‘‘۔ یہ سارے پہلو اُن کی نفاستِ طبع پر روشنی ڈالتے ہیں۔

اپنے ہاتھ سے اپنے کپڑے کو سی لینا اور صحیح سی لینا اور بالکل صحیح انداز سے ترپ لینا‘ اپنے جاننے والے مردوں میں صرف مولانا کے ہاں دیکھا۔ جیل میں مجھ پر بھی یہ ابتلا گزری ہے جب ٹانکا لگانا پڑا‘ لیکن ایک بھی سیدھا نہ لگا۔ نفاست مولانا مودودی کی شخصی زندگی کا ایک بڑا اساسی ستون تھا۔ یہی چیز ان کی فکر میں بھی تھی۔ اس میں نفاست‘ سلیقہ‘ منطق‘ ہر چیز ایک دوسرے سے مربوط تھی۔ میری نگاہ میں تو حُسن نام ہی اس چیز کا ہے کہ ہر چیز توازن کے ساتھ ہو۔ یہ حُسن مولانا کی فکر میں‘ لباس میں‘ تعلقات میں‘ معاملات میں اور مولانا کی تحریر میں بھی تھا۔ اسی چیز نے ان کے فکر‘ استدلال اور پیغام میں ایک قوت اور تاثیر پیدا کی تھی۔

جب ہم نئے نئے جمعیت میں آئے توانھی دنوں مولانا کی کتاب اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر شائع ہوئی تھی۔ جس میں عبادت کا تصور اور پھر نماز اور روزے پر مولانا نے کلام کیا تھا۔ اتفاق سے ظفراسحاق انصاری اور میں نے یہ کتاب ساتھ ساتھ ہی پڑھی تھی۔ کتاب پڑھنے کے دوران ہم اس کے استدلال پر بات کر رہے تھے‘ کہ ظفر اسحاق نے ہنس کر کہا: ’’لگتا ہے مولانا نماز پڑھوا کر رہیں گے‘‘۔ مطلب یہ کہ اُن کا قاری ایک فقرے سے اتفاق کر لے تو پھر اس کے لیے فرار ممکن نہیں رہتا۔ اس چیز کو میں مولانا کے اسلوبِ بیان اور طرزِ فکر ہی نہیں بلکہ ان کی شخصیت کے توازن اور اعتدال کی اثرپذیری کا ایک پہلو سمجھتا ہوں۔

ان کے ہاں سادگی کا پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ تین عشروں پر پھیلے ہوئے اس تعلق کے دوران میں نے انھیں نہایت سادہ اور شفاف انسان پایا‘ جس کا ظاہروباطن ایک ہے۔ جس میں کوئی شو آف یا نمودونمایش نہیں ہے۔ ابتدائی زمانے کی بات ہے کہ اخوان سے متاثر دو نوجوانوں کو کراچی میں مولانا سے ملاقات کرانے کے لیے ناشتے پر بلایا۔ ان میں سے ابراہیم قاہرہ سے آئے اور دوسرے شام سے۔ ملاقات کے بعد انھوں نے کہا: ’’اس شخص کے چہرے‘ آداب‘ گفتگو‘ فکر اور زندگی کے انداز میں ہمیں یک رنگی اور شفافیت نظر آئی ہے اور بے ساختہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص عبدِرحمن ہے‘‘۔ یہ شفافیت اور سادگی ان کی زندگی کا ایک غیرمعمولی پہلو تھی۔

مولانا کی ذات میں بڑی شفقت بھی تھی۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ مولانا میں گرم جوشی  نہیں تھی۔ ہو سکتا ہے کہ کہنے والے کسی فرد کے ساتھ ایسا معاملہ ہوا ہو۔ لیکن میری نگاہ میں   اظہارِ شفقت و محبت میں کسی روایتی انداز کو نہ اپنانے کا سبب ‘مولانا کے فکر وعمل کا وہی ڈسپلن تھا۔

مولانا اپنی زندگی ایک ضابطے کے مطابق گزارتے تھے اور یہی پسند کرتے تھے کہ تمام لوگ وقت‘ صلاحیت اور مقصدیت کے متوازن تعلق کے ساتھ زندگی گزاریں۔ اسی کے مطابق وہ افراد سے میل جول میں بھی توازن برتتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں جو عمومی کلچر ہے‘  اس میں کسی فرد کی خوش مزاجی کا معیار یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ جتنا حد سے بڑھ کر بے تکلف ہونے کی کوشش کرے‘ بار بار صحت کا حال دریافت کرے‘ جا و بے جا تعریف کرے‘ چاہنے نہ چاہنے کے باوجود خوش مزاجی کا مظاہرہ کرے یا زبردستی کھانے پینے کی دعوت دے‘ تو اسے گرم جوشی کا مظہر قرار دیا جاتا ہے۔ بلاشبہہ یہ چیز مولانا مودودی میں نہیں تھی۔ لیکن اس کے مقابلے میں جس چیز کو شفقت‘ قلبی تعلق اور caring کہتے ہیں وہ مولانا میں بدرجہ اتم موجود تھی۔

مجھے اس چیز کا تجربہ خاص طور پر اس وقت ہوا جب میں ۱۹۶۴ء میں اُن کے ساتھ جیل میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ مولانا کا تعلق ہم سبھی کے ساتھ بڑا ہی پرسنل سطح پر ہے۔ ہماری ہر بات کا خیال رکھنا‘ ہم لوگ بیمار ہوئے تو ہمارے پاس آکر دیر تک بیٹھتے۔ لاہور جیل میں ہم کراچی والوں کے خیمے میں وہ اکثر تشریف لے آتے اور دو دو گھنٹے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتیں۔ لاہور جیل کے جس احاطے میں ہم لوگوں کو کراچی سے منتقل کیا گیا‘ اس کے نتیجے میں جگہ کم پڑ گئی۔ اس لیے چھولداریاں لگا کر ہمیں اُن میں رکھا گیا۔ فروری کی سردی تھی اس فضا میں مجھے بخار ہوگیا اور سخت زکام میں میری ناک بند ہوگئی‘ تو دن میں تین تین بار مولانا اپنی دوائی ’نیزل ڈراپ‘ لا کر ڈالتے۔ ایک رات بارش ہوگئی تو مولانا کی بے چینی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ جتنی دیر بارش ہوتی رہی‘وہ بے بسی میں جنگلے میں کھڑے رہے۔ (مولانا کے جنگلے میں سرِشام تالا ڈال دیا جاتا تھا اور ہم جنگلے کے باہر احاطے میں عارضی ٹینٹ میں رہ رہے تھے) اور برابر ہماری خیریت دریافت کرتے رہے۔ کھانے کی کوئی چیز آتی تو سب میں بٹوا دیتے‘ اگر کم ہوتی تب بھی تقسیم کر دیتے۔

نعیم صدیقی صاحب نے بتایا تھا: ’’دارالاسلام میں جماعت کے ایک نہایت ذہین نوجوان عرفان نہاتے ہوئے نہرمیں ڈوب گئے تو مولانا سخت بے چینی میں تین میل تک ان کی میت تلاش کرنے گئے اور اُن کی طبیعت پر دکھ اور افسردگی بہت نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی تھی‘‘۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شفقت کا اظہار میں نے بارہا دیکھا‘ جو ان کی شخصیت کا جزولاینفک تھا۔

شوریٰ کے موقع پر جب ہم لاہور آتے تو کسی ایک روز وہ چودھری غلام محمد مرحوم‘ حکیم اقبال حسین مرحوم‘ صادق حسین صاحب کو پیغام دینے کے لیے مجھے کہتے: ’’خورشید میاں‘ کل صبح ناشتہ نہ کیجیے گا‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اگلے روز وہ ہمیں اپنے گھر پر نہاری کی دعوت دے رہے ہیں۔مولانا خود بڑے اہتمام اور پورے آداب کے ساتھ نہایت لذیذ نہاری تیار کراتے تھے اور اگلے روز ہم دس گیارہ بجے کے درمیان اُن کے کمرے میں زمین پر بیٹھ کر نہاری کھایا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے‘ جب ۵-اے ذیلدار پارک میں شوریٰ کا اجلاس ہوتا تھا۔ برآمدے کے آگے شامیانہ لگا کر اور کوئلوں کی انگیٹھیاں رکھ کر جنوری فروری کا اجلاس ہوتا تھا۔

وہ ہم لوگوں سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے اور اس کے ساتھ بعض چیزوں کا خاص طور پر خیال رکھتے‘ مثلاً: وہ مجھے انفرادی طور پر تو ’خورشیدمیاں‘ کہہ کر پکارتے‘ لیکن جب دوسرے افراد ہوتے تب ’خورشید صاحب‘ کہتے۔ یہ اُن کی شفقت اور وضع داری کا انداز تھا۔ منور کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا کرتے تھے کہ وہ ان کے دوست اخلاق صاحب کے فرزند تھے۔

اب میں ایک بات ذرا ڈرتے ڈرتے لکھ رہا ہوں‘ جس کا تعلق ان کے غیرمعمولی اعتدال سے ہے حتیٰ کہ دین کے معاملے میں بھی۔ ان کے ہاں عبادت میں شغف‘ ذکر‘ دعا اور نوافل میں حددرجہ باقاعدگی کے ساتھ ساتھ توازن اور اعتدال بھی تھا۔ بہرحال ایک واقعے سے مجھے سخت دھچکا لگا۔ مرحوم خلیل احمد حامدی صاحب‘ چودھری غلام محمد صاحب اور مجھے ایک بار مولانا کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ہم لوگ تو حرم پاک میں گھنٹوں بیٹھے عبادت کرتے۔ مگر میں نے مولانا کو دیکھا کہ وہ فرض اور سنت پڑھنے کے بعد کچھ دیر اذکارِ مسنونہ پڑھتے‘ پھر ریاض الجنہ جاتے‘ صفہ میں نفل ادا کرتے اور اس کے بعد سیدھے ہوٹل جاکر دعوتی اور دوسری دینی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے۔ اسی طرح رات کے وقت نمازِ تہجد ادا کی‘ کچھ نفل پڑھے‘ تلاوت کی اور پھر واپس ہوٹل چلے گئے اور فجر کی اذان سے پہلے حرم میں آگئے۔

دل میں یہ بات رہی کہ حرمین الشریفین میں آکر یہ اُس طریقے سے اظہار کیوں نہیں کررہے جس طرح عام لوگ کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے معمولات مختلف ہیں۔ یہاں کی غیرمعمولی صورت حال اور مصروفیات کے باوجود مولانا نے اپنے آپ کو ایک نظم و ضبط اور اعتدال میں ڈھالا ہے۔ مگر باقی تمام معمولات کا نظام بالکل ہی درہم برہم نہیں ہونے دیا۔

جب مولانا کے لیے سزاے موت کا اعلان کر کے انھیں پھانسی کی سزا پانے والوں کی کوٹھڑی میں منتقل کر دیا گیا۔ یہاں انھوں نے پانچ سات دن گزارے۔ میاں انور علی انسپکٹر جنرل پولیس اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرنے ایک گواہی دی۔ انور علی نے لکھا ہے اور ڈاکٹر نے خود مجھے بتایا ہے۔ یہ دونوں شہادتیں ایسی ہیں کہ انھیں جھٹلانا ممکن نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم غیرمعمولی طور پر یہ چیز نوٹ کر رہے تھے کہ سزاے موت سننے کے بعد اس شخص کا ردعمل کیا ہے۔ انھوں نے آزاربند کے بغیر والا پاجامہ تک پہن لیا۔ اس کے بعد انھوں نے اسی طرح نماز پڑھی‘ نفل پڑھے‘ قرآن پڑھا اور پھر کتاب کا مطالعہ کیا اور یہ کتاب تھی غالباً  سیرت سید احمد شہید۔ مولانا میں نہ گھبراہٹ‘ نہ کوئی آہ و بکا اور نہ کوئی ایسے آثار پائے گئے کہ یہ شخص چند روز کے فاصلے پر موت کو دیکھ کر ہل گیا ہو۔ ایسی کوئی چیز مشاہدے میں نہ آئی بلکہ اس کے برعکس موت کو آنکھوں کے سامنے دیکھ کر وہ پہلے سے بھی زیادہ پُرسکون اور ایک کوہ وقار کی طرح نظر آئے۔ ان کے   صبح و شام میں وہی معمولات ‘ وہی ڈسپلن اور وہی اعتدال تھا‘ حتیٰ کہ نماز اور نوافل کے باب میں بھی وہی اعتدال کہ جو ان کا معمول تھا!

جب میں حرمین الشریفین اور پھانسی گھاٹ کے ان دونوں واقعات کو دیکھتا ہوں تو یہ امر سامنے آتا ہے: ایک طرف وہ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں اور دوسری جانب اللہ کے عطاکردہ فہم دین کے مطابق جو تقاضے انھوں نے سمجھے اور ان تقاضوں کے مطابق جو نظامِ کار انھوں نے بنایا‘ اسے پورا کرنے کے لیے اوقاتِ کار کی معمولی سی تبدیلی کے بعد پوری یکسوئی کے ساتھ اسی رحمن و رحیم کے دین کی خدمت میں لگ جاتے تھے۔ اعلیٰ ترین مقام عبادت پرجا کر بھی پورا وقت نفل پڑھنے میں نہیں گزارتے‘ ایسا کرنے کے بجاے وہ بنیادی عبادت و نفل ادا کر کے جہادِ زندگانی میں مصروف ہو جاتے۔

عمرے والے واقعے کی خلش میرے دل میں اُس روز دُور ہوئی‘ جب میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح پڑھتے ہوئے اُس مقام پر پہنچا کہ جہاں ایک فرد‘ حضرت جنید کے پاس مہینہ بھر رہ کر جانے کی اجازت مانگنے لگا تواُنھوں نے پوچھا: ’’بھائی کیوں آئے تھے اور اب کیوں جا رہے ہو؟‘‘ فرد نے کہا: ’’میں اس لیے آیا تھا کہ میں نے آپ کی بڑی دھوم سنی تھی‘ عارف باللہ ہونے کی حیثیت سے۔ میں نے پورا وقت یہاں بڑے آرام سے گزارا اور بہت کچھ سیکھا ہے لیکن یہاں میں نے کوئی غیرمعمولی بات نہیں دیکھی۔ اس طرح قرآن اور اس طرح کی نماز تو میں ہر جگہ پڑھتا اور دوسروں کو پڑھتے دیکھتا تھا‘‘۔ حضرت جنید نے پوچھا :’’کیا تم نے ہمارے ساتھ رہ کر کوئی چیز شریعت کے خلاف دیکھی؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں‘‘۔ پھر پوچھا: ’’شریعت جس طرح زندگی گزارنے کا حکم دیتی ہے‘ کیا ہم اس کے خلاف زندگی گزار رہے ہیں؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں‘ البتہ میں نے کوئی کرامت نہیں دیکھی‘‘۔ حضرت نے فرمایا: ’’بس ہم وہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو شریعت میں مطلوب ہے‘ نہ کم نہ زیادہ‘‘۔ اس واقعے کو پڑھ کر میرے دل کی خلش دور ہوگئی کہ مولانا نے مقاماتِ ربانی پر پہنچ کر بھی کیوں زیادہ وقت نوافل پڑھنے میں نہیں گزارا۔ اور حضرت جنید کا واقعہ پڑھ کر مولانا کی عظمت کا نقش اور بھی گہرا ہوگیا۔ یہ واضح ہوا کہ آزمایش ہو یا مقاماتِ ربانی کی تجلیات کا قرب‘ جس شخص نے اللہ سے اپنی جان کا سودا کرلیا ہے‘ وہ شریعت کے متعین کردہ فریم ورک میں رہ کر معمولات کے مطابق ہرکام کرتا ہے۔ یہی اصل کامیابی ہے‘ یہی اصل کرامت ہے اور یہی اصل مطلوب ہے۔

عدمِ توازن خواہ دینی معاملات میں ہو یا دنیوی امور میں‘ اس سے وہ پہلو بچاتے تھے۔ یہاں حضرت عمر فاروقؓ کا وہ فرمان ذہن میں آ رہا ہے کہ جس میں انھوں نے فرمایا: دنیا اور دین دونوں کے معاملات میں غلو ناپسندیدہ ہے۔ ان ہدایات کے مطابق میں نے مولانا کی زندگی میں وہ توازن اور اعتدال پایا‘ جو اللہ کے دین کو قبول کر کے اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے کا لازمی نتیجہ ہونا چاہیے۔ مولانا مودودی نے قدم قدم پر یہ اہتمام کیا‘ کہ کوئی چیز شریعت کے خلاف نہ ہو بلکہ شریعت کے تقاضے پورے کرنے والی ہو۔

مولانا مودودی کے ساتھ گزرے ہوئے وقت میں کرامت تو نہیں لیکن ایک چیز بارہا مشاہدے میں آئی۔ وہ یہ کہ کئی معاملات میں انسانی تدبیر کی انتہا کرلی‘ مگر راستہ بند پایا‘ جسے محاورے کی زبان میں کہتے ہیں ’’بندگلی میں پہنچ گئے‘‘۔ اس صورت حال میں جب مولانا کے پاس گئے تو انھیں اسی طرح پُرسکون چہرے‘ پُراعتماد اور اطمینان بھرے لہجے میں بات کرتے دیکھا‘ اور اکثر وہ رکاوٹ ان کی دعا اور معمولی سے استدلال یا کاوش سے دُور ہوگئی۔

اس حوالے سے بہت سے واقعات ہیں‘ لیکن یہ ایک واقعہ دیکھیے۔ ۱۹۶۴ء میں‘ مولانا مودودی‘ میاں طفیل محمدصاحب‘ چودھری غلام محمد اور دوسرے رفقا کے ساتھ میں لاہور کی جیل میں تھا۔ سپریم کورٹ نے جماعت پر پابندی غیرقانونی قرار دے دی تھی‘ لیکن ابھی ہم قید ہی تھے اور رہائی کے لیے ہائی کورٹ میں آخری سماعت ہو رہی تھی۔ جس کے لیے مجھے چودھری غلام محمدصاحب کے ہمراہ دوسری بار لاہور لایا گیا تھا کیونکہ وہ بھی کراچی جیل میں تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب متحدہ حزب اختلاف (COP) نے محترمہ فاطمہ جناح کو فیلڈ مارشل ایوب خاں کے مقابلے میں متفقہ صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔ ہم لوگ تو جیل میں تھے اور باہر چودھری رحمت الٰہی صاحب پوری تندہی کے ساتھ جماعت کے سیاسی و اجتماعی موقف اور عدالتی عمل سے متعلق    تمام امور انجام دے رہے تھے۔ انھی کے ذریعے جماعت ‘متحدہ اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور فاطمہ جناح کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ درپیش تھا۔

چودھری رحمت الٰہی صاحب نے مشورے کے لیے جیل کے اندر مولانا کو پیغام بھیجا کہ کیا کیا جائے۔ اگلے روز اپوزیشن کا اجلاس تھا۔ ہمیں مغرب کے وقت یہ پیغام ملا۔ نمازِ مغرب ادا کرکے کھانا کھایا اور پھر مولانا نے ہمیں مشورے میں شریک کیا۔ چودھری غلام محمد صاحب‘ غلام جیلانی صاحب اور میری رائے یہ تھی کہ ہمیں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت اور تائید کرنی چاہیے لیکن مولانا متردد اور مضطرب تھے کہ ہم عورت کی سربراہی کے مسئلے میں ایک واضح اور اصولی موقف رکھتے ہیں۔ ہر پہلو سے ہمارے مابین دلائل کا تبادلہ ہوا۔ شریعت کی منشا اور معاشرے پرظلم و زیادتی اور ایوب خاں صاحب کے تجدد پسندانہ ذہن‘ آمرانہ اندازِ حکمرانی اور قومی     یک جہتی کو درپیش خطرات اور اس کے مقابلے میں مصلحت عامہ کے اصول تک زیربحث آئے۔ طویل بحث و تمحیص کے بعد ایک وقت آیا کہ ہم تو آرام کے لیے لیٹ گئے‘ مگر مولانا رات گئے تک اضطراب میں ٹہلتے اور سوچتے رہے۔ آخرکار اگلے روز صبح گیارہ بجے کے قریب یکسو ہوگئے کہ   اس صورتِ حال میں فاطمہ جناح صاحبہ کی حمایت کرنی چاہیے۔ اور پھر مولانا نے اسی وقت بیٹھ کر آدھے صفحے پر مشتمل تحریر لکھی۔ سوال یہ تھا کہ اس تحریر کو باہر کیسے بھیجا جائے؟ کوئی راستہ نہیں تھا۔ آدھا دن گزر چکا تھا اور اسی شام اجلاس تھا۔ باہر ہدایت بھیجنا ضروری تھا اور راستہ بند تھا۔

اس مقصد کے لیے ہم پریشان تھے‘ مگر مولانا فیصلہ کرنے اور تحریر لکھنے کے بعد مطمئن اور پُرسکون تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد چودھری غلام جیلانی صاحب نے کہا میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل سے بات کرتا ہوں‘ وہ خود تو یہ تحریر باہر نہیں بھجوا سکے گا‘ ممکن ہے کوئی مدد کر سکے۔ یہ کہہ کر وہ نائب داروغہ جیل کو ملے اور کہا کہ اگر آپ مجھے فلاں شخص کو بلانے کے لیے فون کرنے کی اجازت دے دیں تو میں شکرگزار ہوں گا اور ہم رازداری سے پیغام بھی دے سکیں گے اور آپ پر کوئی حرف بھی نہیں آئے گا۔ اس افسر نے مسکرا کر کہا: ’’وہ تو یہ اطلاع پہلے حکومت کو دے گا‘‘۔ جیلانی صاحب مایوسی میں ابھی ڈیوڑھی سے واپس نہیں آئے تھے لیکن میں دیکھ رہا تھا مولانا جیسے اس صورت حال سے بالکل بے نیاز اور پُراعتماد ہیں‘ کہ اچانک جیلر کا کارندہ آیا کہ کوئی فرد خصوصی اجازت لے کر ملاقات کے لیے آیا ہے۔ اس طرح وہ سلپ چودھری رحمت الٰہی صاحب کو بھجوا دی۔ یہ اور اس سے ملتے جلتے متعدد واقعات ہمارے سامنے وقوع پذیر ہوئے۔ دراصل مولانا کو اعتماد تھا کہ جو چیز حق ہے‘ وہ ہوکر رہے گی۔

ایسا ہی واقعہ مولانا کی گردے کی پتھری کا ہے‘ جب وہ ۱۹۴۸ء میں جیل گئے تواس سے پہلے پتھری کی تکلیف بار بار تنگ کرچکی تھی۔ لیکن جیل میں جاتے ہی مولانا نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے ان ظالموں سے کسی سہولت کی درخواست نہ کرنی پڑی۔ خدا کا کرنا کہ پتھری اپنے راستہ سے ہٹ گئی اور ۲۸ سال ہٹی رہی۔ یہی وہ پتھری تھی جس کے اپریشن کے لیے ہم ۱۹۶۸ء میں مولانا کو انگلستان لے کر گئے تھے۔

ایک پہلو‘ ان کے طریق تربیت کا ہے اور یہ اُن کی شخصیت کا بڑا اہم پہلو ہے۔

اس میں کوئی روایتی یا مصنوعی چیز نہ تھی‘ جس طرح کہ سلوک‘ تصوف یا طریقت کے حوالے سے ہمارے کلچر میں معروف‘ منسوب یا روایت کی جاتی ہیں۔ مولانا مودودی نے اپنی تحریر‘ تقریر‘ تلقین اور ملاقات میں تزکیۂ نفس کے لیے جس چیز کی طرف متوجہ کیا‘ وہ صرف قرآن اور سیرت رسولؐ کی مرکزیت‘ صحابہ کبارؓ سے منسوب مختلف پہلو تھے۔ بس یہی ماخذ مولانا کے سلوک اور طریقت کے سرچشمے تھے۔ کبھی کبھی صلحاے اُمت کی اُن روایات کو بھی دہرایا جو مذکورہ بالا کسوٹی پر پورا اُترتی تھیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ وہ ثانوی ماخذ پر احتیاط اور توازن کے ساتھ متوجہ ہوتے۔ وہ اسی ترتیب کے مطابق تربیت و تزکیہ اور ضبطِ نفس کی تعلیم دیتے اور کہتے تھے کہ: اللہ اور اس کے رسولؐ نے عبادات و معاملات کے لیے جو حکم دیا ہے کم از کم اسے تو پورے توازن سے ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اس میں کسی ایک چیز پر زیادہ زور دیں گے تو مطلوب توازن بگڑ جائے گا‘‘۔

میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ مولانا محترم اگر کسی فرد میں غلطی‘کمی‘ کوتاہی یا تساہل دیکھتے تو اسے انفرادی طور پر متوجہ کرتے۔ سخت سست کہنے‘ ڈانٹنے‘ غصے میں بلندآواز میں بولنے یا دوسروں کے سامنے اس کی عزتِ نفس مجروح کرنے کے بجاے بڑے ہی پیارے انداز سے توجہ دلاتے کہ اُن کے اس توجہ دلانے کے انداز میں بڑی مٹھاس پر پیار آتا تھا۔ ایسی متعدد مثالیں ہیں۔ میری بدخطی اور پروف ریڈنگ کے حوالے سے سہل انگاری پر بھی لطیف پیراے میں توجہ دلاتے۔ اور یہ کہتے: دیکھو خورشید میاں‘ میں اپنی کوئی چیز اس وقت تک چھپنے کے لیے نہیں دیتا جب تک اس کی خود پروف ریڈنگ نہ کر لوں اور یہ اطمینان نہ کر لوں کہ جن غلطیوں کی نشان دہی کی تھی‘ وہ لگ گئی ہیں یا نہیں۔ یہاں پر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ میری ادارت میں ماہ نامہ چراغِ راہ کا سوشلزم نمبر شائع ہوا تو آپ نے لکھا: ’’سوشلزم نمبر میں نے بہ غور پڑھا۔ آپ کی محنت قابلِ داد اور طباعت کے معاملے میں شدید تساہل قابلِ فریاد ہے۔ اپنی ہی محنت کو اس تساہل کی بدولت جس طرح آپ لوگوں نے برباد کیا ہے‘ اگر وہ کوئی اتفاقی واقعہ ہوتا تو شاید صبر بھی کیا جا سکتا تھا‘   لیکن اس سے پہلے بارہا میں آپ لوگوں کوتوجہ دلا چکا ہوں کہ کتابت کی صحت اور طباعت کی  درستی کے معاملے میں لاپروائی برت کر آپ لوگ اپنے کیے کرائے پر پانی پھیر لیتے ہیں‘‘۔(خطوط مودودی‘ دوم‘ ص ۳۹۲)

پڑھنے کو تو یہ ایک مختصر سا نثرپارہ ہے ‘ لیکن دیکھا جائے تو اس میں حوصلہ افزائی اور کوتاہی کو ایک ہی جگہ نہایت خوب صورت اور جامع انداز میں بیان کر دیا ہے۔

یہ اس وقت کی بات ہے‘ جب جمعیت کا انگریزی پرچہ Students Voice میری ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے بالکل ابتدائی دور میں مولانا نے اپنے خط (۱۸ اگست ۱۹۵۲ئ) میں لکھا: ’’اسٹوڈنٹس وائس برابرآ رہا ہے۔ آپ لوگوں کی اس کامیاب کوشش کو دیکھ کر دلی مسرت ہوئی۔ امید ہے کہ جو لوگ اس پرچے میں لکھنے کی مشق کریں گے وہ آگے چل کر انگریزی صحافت میں اسلام کی عمدہ ترجمانی کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے‘‘ (ایضاً‘ ص ۳۹۰)۔ اس میں حوصلہ افزائی بھی ہے‘ رہنمائی اور دعا بھی‘ بلکہ پیش گوئی بھی۔ کیونکہ آنے والے زمانے میں وائس کے انھی نومشق طالب علموں میں سے ایک بڑی تعداد بعد میں تحقیق و تصنیف کے میدان میں خدمات انجام دینے والی بنی۔

میں شوریٰ اور دوسرے اجلاسوں میں اپنی روز مرہ عادت کے مطابق کوٹ پتلون ہی میں شرکت کرتا رہا‘ لیکن مولانا نے مجھے ایک بار بھی اس پر سرزنش نہیں کی۔ اس کے برعکس اسعد گیلانی صاحب اور محموداعظم فاروقی صاحب نے کئی بار ٹوکا۔

۱۹۵۷ء کے بعد جماعت ایک داخلی بحران سے گزری‘ جس میں الگ ہونے والے محترم رفقا میں سے بعض نے نہایت تکلیف دہ اسلوب میں نہ صرف پروپیگنڈا مہم چلائی بلکہ جماعت کے اندر رفقا کی یکسوئی کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ سخت تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ اس دوران مولانا نے شخصی بازپرس کرنے اور کسی کا نام لیے بغیر مجموعی طور پر مختلف امور کی جانب توجہ دلائی اور اجتماعی بگاڑ کی خرابیاں بیان کر کے ان سے بچنے کی راہیں بتائیں۔ وہ تحریریں اجتماعی زندگی کو کامیابی سے گزارنے کے لیے بنیادی دستاویز کا درجہ رکھتی ہیں۔ایک روز میں نے مولانا سے اس مسئلے پر بات کی اور پوچھا آپ بعض صورتوں میں عمومی اسلوب کیوں اختیار کرتے ہیں حالانکہ خرابی چند افراد نے کی ہوتی ہے؟

مولانا محترم نے فرمایا: ’’یہ اسلوب میں نے سیرت پاکؐ سے اخذ کیا ہے۔ جب مجھے کہیں کسی فرد میں خرابی نظر آتی ہے تو اپنے انداز میں اسے سمجھانے یا توجہ دلانے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن جب یہ دیکھتا ہوں کہ اس خرابی میں متعدد لوگ مبتلا ہو رہے ہیں تو پھر فرداً فرداً مخاطب کرنے کے بجاے عمومی انداز میں توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں یہ نہیں کرنا چاہیے‘ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے یا آپ کو اس پہلو پر خصوصی توجہ دینی چاہیے‘‘۔

میں نے پوچھا: سیرت پاکؐ میں یہ بھلا کس طرح ہے؟

فرمایا: ’’اگر کسی ایک صحابی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوتا تو آنحضوؐر اسے الگ سے سمجھاتے اور جب خرابی زیادہ پھیلتی نظر آتی تو صحابہؓ میں سے کسی فرد کا دل توڑنے کے بجاے اس طرح ہدایت دیتے یا بیان فرماتے: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا کر رہے ہیں یا اس طرح کیوں نہیں کررہے و غیرہ۔ اس طرح آنحضوؐر فرد کی عزتِ نفس کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے توجہ بھی دلاتے اور اسے تنقید کا ہدف بننے سے بھی بچاتے۔

مولانا میں ایک اور بڑی قابلِ ذکر خوبی تھی۔ وہ یہ کہ حفظ مراتب کا خیال رکھنا‘ دوسرے کی عزت کرنا‘ اس کا دل رکھنا‘ اس کے مقام کے مطابق ہی نہیں‘ بلکہ اس سے بڑھ کر عزت دینا اور اکرام کرنا۔ مولانا مودودی‘ مشرقی تہذیبی روایت کے اس صحت مند پہلو کا دل آویز نمونہ تھے۔

ایک مرتبہ کراچی میں مفتی محمد شفیع مرحوم و مغفور کے ہاں مجھے مولانا مودودی کے ہمراہ جانے کا موقع ملا۔ نماز کا وقت ہوگیا تو مفتی صاحب نے مولانا سے کہا: ’’آپ امامت کریں‘‘۔ مگر مولانا نے اصرار کیا : ’’نہیں‘مفتی صاحب نماز آپ ہی پڑھائیں‘‘ اور پھر مفتی صاحب کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ اس کے برعکس بیچ لگژری ہوٹل میں جمعیت الفلاح کا ایک اجلاس ہو رہا تھا۔ مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم اور مولانا عبدالحامد بدایونی مرحوم وہاں موجود تھے۔ نمازِمغرب سے پہلے تھانوی صاحب اُٹھے اور اپنے انداز میں کہنے لگے: صفیں یہاں بچھائو ‘ فلاں چیز ادھر رکھو کہ اتنی دیر میں اذان ہوگئی اور بدایونی صاحب جھٹ سے آگے بڑھ کر امامت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اس طرح کا معاملہ کبھی مولانا کے ہاں نہیں دیکھا گیا۔ مولانا مودودی اپنے تمام معاصرعلماے کبار کا بڑا احترام کرتے تھے۔

ممتاز قانون دان اے کے بروہی مرحوم سے مولانا کے بڑے اچھے تعلقات تھے اور یہ لکھتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں‘ ان روابط کو استوار کرنے میں ابتدائی کردار میں نے ادا کیا تھا۔ بروہی صاحب سے میری ملاقات بڑے دل چسپ انداز میں ہوئی۔ یہ ۱۹۵۳ء کی بات ہے۔ بروہی صاحب حکومت سندھ کے غالباً ایڈووکیٹ جنرل تھے۔ انھوں نے Dawn میں مضمون لکھا: Can Islam give a Constitution?۔ جواب میں‘ میں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے انگریزی ترجمان اسٹوڈنٹس وائس میں دو تین صفحات پر مشتمل اسی عنوان سے اس کا جواب لکھا۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر اور خرم مرحوم کے ماموں زاہد حسین صاحب نے اس مضمون کو بہت پسند کیا۔ متعدد لوگوں کو پڑھنے کے لیے بھیجا۔ پھر ایک روز بتایا کہ بروہی صاحب نے بھی اس مضمون کو خوب سراہا ہے اور پیغام دیا ہے: ’’میں اس مضمون کے لکھنے والے سے ملنا چاہتا ہوں‘‘۔ جس پر میں ان کے ہاں پہنچا۔ بڑی محبت اور شفقت سے ملے۔ بروہی صاحب کہنے لگے: ’’میں آپ کے مضمون سے قائل تو نہیں ہوا لیکن اس موضوع پر جو بھی لکھا گیا ہے‘ اُس میںآپ کا مضمون‘ موضوع سے متعلق اور سب سے اچھا ہے‘‘۔ پھر اسی زمانے میں ان کی کتاب آئی تھی An Exercise in Self Expression وہ انھوں نے اپنے دستخطوں کے ساتھ دی۔ بعد میں بھی بار بار ملتے رہے۔ بہت سی کتب پڑھنے کے لیے دیتے اور شفقت کرتے رہے۔ اسی دوران میں نے ان سے کہا‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ مولانا خطاب کریں اور آپ اس اجلاس کی صدارت کریں۔ انھوں نے کہا: ’’ضرور آئوں گا‘‘۔

اس کے بعد جب مولانا مودودی کراچی آئے تو ہم نے کراچی جمعیت کے تحت ایک پروگرام رکھا‘ جس میں صدارت بروہی صاحب کی تھی اور خطاب مولانا کا تھا۔ مولانا کی تقریر کا موضوع تھا: ’’اسلام اور مغربی تہذیب‘‘۔ یہ اجلاس عام وائی ایم سی اے ہال کراچی میں ہوا تھا۔ اسی اجلاس میں مولانا اور بروہی صاحب پہلی مرتبہ ملے تھے اور تقریر میں بروہی صاحب نے کہا تھا: ’’مولانا مودودی جیسا قانونی ذہن میں نے شاذ ہی دیکھا ہو‘‘۔ اس کے بعد انھوں نے مولانا کو گھر کھانے پر بلایا۔

اسلامی قانون کی تدوین کے موضوع پر مولانا مودودی کا کراچی بار ایسوسی ایشن میں خطاب تھا۔ سامعین میں ججوں کے علاوہ تین چار سو وکلا اور مفتی محمد شفیع مرحوم اور مولانا ظفراحمد انصاری مرحوم بھی شامل تھے۔ مولانا کی تقریر کے بعد مفتی محمد شفیع صاحب نے مولانا انصاری صاحب سے یہ بات کہی اور میں نے خود اپنے کانوں سے سنی کہ:’’اللہ تعالیٰ کو جس قسم کے حالات میں جو کام لینا مطلوب ہے‘ اس کے لیے اپنے کسی بندے کو وہ صلاحیت سے نواز دیتا ہے۔جس طرح مولانا مودودی صاحب نے اس محفل میں وکلا حضرات کے سامنے اسلام کی دعوت کو پیش کیا ہے وہ انھی کا حصہ ہے۔ اگر ہم جیسے لوگوں کو اس کیائوں‘ کیائوں میں کھڑا کر دیا جاتا تو کیا ہوتا‘‘۔ جہاں یہ بات حضرت مفتی صاحب کی طرف سے مولانا مودودی کی عظمت کا فراخ دلانہ اعتراف ہے‘ وہیں خود حضرت مفتی صاحب کی عظمت کا اظہار ہے۔

۱۹۵۳ء میں تحریک ختمِ نبوت پر انکوائری کمیشن بیٹھا۔ اُس وقت مولانا مودودی سزاے موت کے تبدیل ہونے کے بعد عمرقید کاٹ رہے تھے۔ کمیشن نے مولانا کو بیان دینے کے لیے طلب کیا۔ مولانا کے پاس کوئی چیز نہ تھی۔ کمیشن کے سامنے پہلا بیان دینے کے لیے مولانا نے مناسب سمجھا کہ وہ لکھ لیں۔ اس بے سروسامانی میں انھوں نے لکھا اور خوب لکھا: مولانا امین احسن اصلاحی نے فرمایا: ’’کمال ہے‘ یہ بیان مولانا نے قلم سے نہیں بلکہ الہامی انداز میں لکھا ہے‘‘۔

پھر ۱۹۶۰ء یا ۶۱ء میں ایوب صاحب کے عائلی قوانین (فیملی لاز)آئے تو اس کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علما کا اجلاس غالباً جامعہ اشرفیہ میں منعقد ہوا تھا۔ اس قانون پر تنقیدی تحریر‘ حرف بحرف مولانا مودودی نے لکھی تھی اور تمام علما نے اس پر دستخط ثبت کیے تھے۔ مفتی محمد حسن صاحب نے فرمایا:’’سبحان اللہ‘ اس سے بڑھ کر اور کیا لکھا جاتا؟ نہ ایک حرف کم کرنے اور نہ زیادہ کرنے کی کوئی گنجائش‘‘۔ یہ تھی مولانا مودودی کی اپنے مضمون‘ فکر اورخیالات پر گرفت۔

۱۹۶۲ء میں ایوب خاں صاحب کا دستور آیا۔ اس وقت کے سب سے نمایاں لیڈر حسین شہید سہروردی صاحب اور دوسرے سربرآوردہ سیاسی قائدین کا خیال تھا کہ اسے مسترد کر دیا جائے اور ۱۹۵۶ء کے دستور کی بحالی کی تحریک چلائی جائے۔ مولانا مودودی کا کہنا تھا:’’اس وقت یہ ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کر کے اس دستور میں اتنی ترامیم کرا دینی چاہییں کہ اس کی شکل تبدیل ہو جائے اور یہ دستور قابلِ قبول بن جائے‘‘۔ اس مکالمے کا آخری اجلاس مولانا ہی کے گھر ۵-اے‘ ذیلدار پارک اچھرہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں سہروردی صاحب کے علاوہ چودھری محمد علی‘ میاں محمود علی قصوری‘ سردار شوکت حیات اور نواب زادہ نصراللہ خاں شریک تھے۔ یہ اجلاس دو تین گھنٹے جاری رہا۔ ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب کمرہ کھلا اور اجلاس کے بعد قائدین باہر آئے تو میں نے سہروردی مرحوم کو چودھری محمد علی صاحب سے یہ کہتے ہوئے سنا:

Oh my God! He is a great constitutional mind!

اور محمد علی صاحب نے کہا کہ جو ترامیم مودودی صاحب نے لکھی ہیں‘ اگر فی الحقیقت یہ ترامیم ہو جائیں تو یہ دستور قابلِ قبول ہو جائے گا۔ فوج کی طرف سے دستور میں اقتدار کا بالواسطہ یا بلاواسطہ حق لینے نہیں بلکہ زبردستی اختیار لینے کا معاملہ ۱۹۶۲ء میں تھا‘ اسی کی خواہش یحییٰ صاحب نے ۷۱-۱۹۷۰ء میں کی۔ بعد میںجنرل ضیاء الحق نے ۱۹۸۴ء کے ریفرنڈم اور آٹھویں ترمیم (۱۹۸۵ئ) کے ذریعے یہی چاہا اور پھر جنرل پرویز مشرف نے اسی چیز کو ’’قومی مفاد‘‘ قرار دیا۔ وقت کا فاصلہ اور چہروں کی تبدیلی کو نظرانداز کردیں تو بنیادی ایشو پر یہ تمام فوجی حکمران ہم آواز رہے ہیں۔

ایک بار مولانا نے مجھ سے فرمایا: بعض اوقات مجھے قلم برداشتہ لکھنا پڑتا ہے لیکن اس کے پیچھے برسوں کا غوروفکر ہوتا ہے اور میرے ذہن میں جب کوئی چیز پوری طرح بن جاتی ہے‘ تب میں لکھتا ہوں‘‘۔ یہ تصنیف و تالیف کا کمال ہے۔ اسی طرح شاعری کا معاملہ ہے۔ مشہور شاعر  ٹینی سن کی شاہکار نظم ہے ’’قبلائی خاں‘‘۔ وہ کہتا ہے کہ یہ نظم خواب میں مجھ پر وارد ہوئی اور اُٹھ کر میں نے لکھ ڈالی۔ یہی عالم ہمارے اپنے عظیم ترین شعرا یعنی غالب اور اقبال کا تھا۔

یہ اللہ کی دین ہوتی ہے ‘ مولانا کی بھی یہی کیفیت تھی کہ جب صورت حال پیدا ہوتی اور قلم برداشتہ بھی لکھنا پڑتا تو یوں لکھتے جیسے برسوں سے اس موضوع پر سوچ رہے تھے۔ مربوط‘ مسلسل‘ مدلل‘ موثر اور دل نشیں تحریر!

اب ایک اور حوالے سے دیکھیے: مولانا کو اپنے بچوں سے بہت محبت تھی۔ انھیں خود اس پہلو سے اپنی زندگی میں کمی کا احساس تھا‘ وہ یہ تھا: ’’اپنے بچوں کوجتنا وقت دینا چاہیے تھا وہ میں نہیں دے سکا‘‘۔ حالانکہ مولانا گھر سے متصل ہی بیٹھتے تھے۔ رات کا کھانا ان کے ساتھ ہی کھاتے تھے۔ اپنے سبھی بچوں سے محبت تھی‘ فکرمندی تھی‘ توقعات تھیں‘ تاہم ان میں سب سے زیادہ محبت جس فرد سے تھی‘ وہ اُن کے بڑے صاحبزادے عمرفاروق ہیں۔ ان کا ذکر بڑی چاہت اور بڑی اُمیدوں کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ بلاشبہہ عمرفاروق صاحب میں مولانا محترم کا پرتو پایا جاتا ہے۔ اور جب دوسرے صاحبزادے احمد فاروق کراچی پڑھنے کے لیے گئے تو چودھری غلام محمد صاحب کے ہمراہ مجھ سے بھی کہا: اگرچہ احمد اپنے ماموں کے ہاں مقیم ہیں‘ تاہم آپ لوگ اُن کی ضروریات کا خیال رکھیے گا‘‘۔ اتنی عظیم ذمہ داریوں کے باوجود وہ اس پہلو سے غافل نہیں تھے۔

بعض لوگ جو یہ بات کہتے ہیں کہ مولانا کے ہاں برعظیم کی اہم قومی شخصیات کے باب میں Personality Clash (شخصی تصادم) تھا‘ ایسے افراد ایک خلافِ واقعہ اور ایک قطعی غلط بات کہتے ہیں۔ ایک ایرانی نژاد امریکی نے لکھا کہ قائداعظم کے ساتھ مولانا کا شخصی تصادم تھا‘ کچھ نے کہا کہ اصلاحی صاحب کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ مولانا مودودی کی زندگی کا مجموعی کینوس اور قرائن و شواہد اس الزام کی تائیدنہیں کرتے۔ شخصی تصادم کا ایک عام مظہر یہ ہوتا ہے کہ ہدف شخصیت کا تذکرہ اپنی گفتگو میں برے بھلے اندازمیں آپ سے آپ ہوجاتا ہے۔ لیکن ہم نے کبھی مولانا کو کسی شخصیت کو زیربحث لاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اگر کبھی بات کی تو مسائل پر اور وہ بھی مناسب حد تک۔ ۱۹۵۷ء میں جو ساتھی الگ ہوئے‘ ان کی علیحدگی اور پھر ایک مہم‘ مگر مولانا نے کبھی ان چیزوں کا جواب نہیں دیا۔ ایک دو افراد نے بہت زیادہ زور دیا تو اُن سے صرف بات کرنے کی حد تک تذکرہ کیا اور اپنی ایسی کسی تحریر کو اُچھالنے کی اجازت نہیں دی۔ دوسری جانب مسئلہ اس کے برعکس رہا بلکہ تکلیف دہ حدتک برعکس!

مولانا مودودی نے پہلے دن سے کوشش کی‘ کہ ان کی معاش آزاد ہو‘ وہ جماعت پر بوجھ نہ بنیں۔ آزاد معاش ہی کی بنیاد پر انھوں نے جماعت کی مدد کی ہے۔ بلکہ انھوں نے اپنی کتب کا بڑا حصہ خدا کی راہ میں وقف کردیا‘ اور کہیں بہت بعد میں جاکر گزربسرکے لیے چند کتب ’ادارہ ترجمان القرآن‘کو دیں۔ جس کوٹھی میں جماعت کا دفترتھا اس کے ایک حصے میں مولانا رہتے اور  اس کا کرایہ جماعت کو ادا کرتے تھے۔ ایک دفعہ چودھری غلام محمد صاحب اور میں‘ مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: ’’جماعت یہ کوٹھی آپ کو تحفتاً دینا چاہتی ہے‘‘۔

مولانا نے فرمایا: ’’نہیں‘ میں اس طرح نہیں لوں گا۔ اگرچہ میرے پاس وسائل نہیں ہیں لیکن آپ مارکیٹ میں اس کی قیمت لگوا لیں‘ جنھیں میں قسطوں میں ادا کر دوں گا‘‘۔

اس پورے عرصے میں مولانا نے ایک انچ زمین بھی نہیں خریدی تھی‘ اور نہ کہیں کوئی جایداد بنائی تھی۔ہم میں سے اگر کسی نے کوئی معمولی سا تحفہ بھی پیش کرنا چاہا تو بڑے تردد کے ساتھ اور ازراہ شفقت قبول کیا۔ مولانا کے انتقال کے وقت اُن کے ترکے میں اس ایک کوٹھی اور چند کتابوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ اگر کوئی فرد‘ زندگی اپنی اور اپنے اہل خانہ کے لیے گزار رہا  ہوتا تو دولت کا ایک انبار چھوڑ کر بزمِ جہاں سے رخصت ہوتا مگر یہاں معاملہ برعکس تھا۔ بیرونِ پاکستان جو دو مرتبہ علاج کے لیے گئے تو اس میں اُن کے لیے سب سے بڑا ذہنی دبائو یہ ہوتا کہ اس میں ممکن ہے رفقا میں سے کوئی ساتھی زیربار آئیں اور یہ معاونت لینا ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ الحمدللہ اس سلسلے میں انھوں نے مجھے کچھ سعادت حاصل کرنے کی اجازت دی۔

جماعت اسلامی کے بیت المال میں سے ایک پائی بھی انھوں نے اپنی ذات پر خرچ نہیں کی۔ وہ کسی الیکشن میں کھڑے نہیں ہوئے۔ پاکستان اور بیرونِ پاکستان سے اچھی سے اچھی سہولیات اور بہتر سے بہتر ذرائع آمدن کے مواقع ملے‘ مگر انھوںنے ایسی کسی پیش کش کو پرکاہ کی حیثیت نہ دی اور مقصد زندگی کو اولیت دی۔

ایوب خان صاحب نے انھیں بھاری پیش کش کی اور نیازمندی کا اظہار بھی کیا‘ لیکن انھوں نے شکریے کے ساتھ انکار کر دیا۔ اجتماعی زندگی میں اختیارات کے مسئلے پر ان کا ایک موقف تھا‘ لیکن رفقا نے استدلال پیش کیا تو اپنی راے سے رجوع کر لیا اور کثرت راے سے فیصلوں کے بجاے ان کی کوشش ہوتی کہ اتفاق رائے سے فیصلے ہوں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ مولانا پر حرف زنی کرتے ہیں‘ وہ حقائق سے زیادہ ذاتی تعصب پر اپنے اظہار کو استوار کرتے ہیں۔

زندگی کے ان طویل برسوں میں‘ دنیا بھر میں گھوم پھر کر میں نے کسی دینی یا دنیوی شخصیت میں ایسی خوبیاں اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنی گہرائی کے ساتھ نہیں دیکھی ہیں‘ جتنی خوبیاں عصرِحاضر میں مولانا مودودی کی شخصیت میں تھیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں‘ عباد الرحمن میں ایسی خوبیوں کی فراوانی چاہتا ہے اور نبی آخرالزماں نے اسی نہج پر افراد کی تعمیرشخصیت کا پیغام دیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے ہم بحیثیت مسلمان اور بحیثیت اسلامی تحریک کے کارکن‘ ان میں سے کون کون سی خوبیوں سے محروم ہیں‘ اس محرومی کو کیسے دُور کر سکتے ہیں اور کن کن خوبیوں کو اپنے اندر پروان چڑھا سکتے ہیں؟