مضامین کی فہرست


مئی۲۰۰۷

                جمال بے مثال ہو تو تعریف مشکل ہوجاتی ہے، اور جمال اعمال و کردار کا ہو، تو احاطہ مشکل تر بلکہ بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔ پروردگار عالم نے بنی نوع انسان میں ابنیاے کرام کے علاوہ  کئی ایسے مومنین صادقین پیدا فرمائے جن کا ذکرِ جمیل مشک و عنبر کی حیثیت رکھتا ہے۔

                نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی ان چنیدہ ہستیوں میں ایک ہستی حسن البنا شہید ہیں۔ ان کی نصف صدی پہ محیط زندگی اور پوری صدی پر محیط اثرات و ثمرات کا مطالعہ کریں، تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں تجدیدِ دین ہی کے لیے پیدا کیا تھا۔ ان کی ولادت کو سو برس گزرے تو ترجمان القرآن نے ان کی شخصیت و کردار اور ان کی دعوت و اثرات کا جائزہ لینے اور انھیں     مزید متعارف کروانے کا مستحسن فیصلہ کیا۔ اگرچہ حسن البنا کا نام، ان کی تحریک اور جدوجہد تحریک اسلامی کے کسی بھی کارکن کے لیے اجنبی نہیں، لیکن اس سراپا عمل و اخلاص شخصیت کے کتنے ہی پہلو ایسے ہیں، جن سے اُردو کے قارئین ابھی تک ناآشنا ہیں۔ ان کے بارے میں لکھی جانے والی کتنی ہی ایسی مؤثر تحریریں ہیں، جو صرف عرب دان حلقوں تک محدود ہیں۔ ان کے تجربات، ان کی ہمہ گیر سوچ، انھیں درپیش خطرات، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر توڑے جانے والے مظالم، کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جن کا احاطہ کرنے کے لیے دفتروں کے دفتر درکار ہیں۔

                قائد اعظم محمد علی جناح کے نام خطوط کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نوزائیدہ اسلامی ریاست پاکستان پر گزرنے والے ہر نازک لمحے سے آگاہ تھے۔ یہ نہ صرف پاکستان سے ان کی گہری محبت کا مظہر اور اس سے وابستہ اُمیدوں کی دلیل ہے بلکہ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کی مضبوط اسلامی بنیادوں کا واضح ثبوت بھی ہے۔ حسن البنا شہید کے صاحبزادے احمد سیف الاسلام البنا سے یہ قیمتی خطوط حاصل ہوئے۔

                اشاعت خاص کے لیے ہم نے عالم اسلام کے دانش وروں اور اسلامی تحریک کے قائدین کو لکھنے کی دعوت دی تھی۔ اکثر ممالک اور اکثر تحریکوں کے ذمہ داران نے اپنی خصوصی تحریریں ارسال کیں۔ امام شہید کے اہلِ خانہ اور سفرو حضر میں ان کے ساتھیوں نے ان کے معمولات اور شخصیت کے گوشے وا کیے۔

                امام حسن البنا شہید کی اپنی تحریریں بھی ان کے بلند علمی مقام، قابل رشک فکری گہرائی، باوقار اعتدال اور حیرت انگیز تنظیمی خوبیوں کو جاننے کا بہت اہم ذریعہ ہیں۔ بدقسمتی سے ابھی تک اُردو میں  ان کی صرف چند تحریریں منتقل ہوسکی ہیں۔ اُمید ہے کہ شامل اشاعت ان کی چند نگارشات، ان کی فکر کو جاننے اور ان کی علمی وجاہت سے متعارف ہونے کا اہم ذریعہ ثابت ہوں گی۔

                اس اشاعت میں آپ کچھ قدیم تحریریں بھی پائیں گے، لیکن یہ سب تحریریں اس حوالے سے تازہ اور اہم ہیں کہ ابھی تک اُردو میں شائع نہیں ہوئیں۔ عظیم شخصیات کی یہ تحریریں قاری کو ایک      نیا جذبۂ عمل بخشتی ہیں۔ اس سے پہلے امام شہید کی ڈائری اور ان کے بعض خطبات اور کتابچے ترجمہ ہوکر اُن کا بھرپور تعارف کرواچکے ہیں۔ لیکن اُمید ہے کہ مطالعے کے بعد آپ کا دل بھی گواہی دے گا کہ ۴۰۰ صفحات پر مشتمل ترجمان القرآن کی اشاعتِ خاص اور اتنے ہی مزید صفحات پر مشتمل   کتابِ خاص سے ایک بڑا خلا پر ہوا ہے۔ خواہش تو یہ تھی کہ کتاب میں شامل تمام مضامین بھی  اشاعت خاص ہی میں شامل ہوں، لیکن وسائل کی کمی نے اس خواہش کی تکمیل نہیں کرنے دی۔ ان شاء اللہ بہت جلد یہ کتاب بھی آپ کے ہاتھ میں ہوگی۔

                اس اشاعت خاص کی تیاری ایک بڑی سعادت ہے۔ اس میں جن احباب کا تعاون حاصل رہا، اللہ تعالیٰ انھیں اجرعظیم سے نوازے۔ تاہم جملہ امور میں معاونت کے لیے پروفیسر خالد محمود،   حافظ محمد عبداللہ،حمیداللہ خٹک، طارق زبیری، امجد عباسی، حیدر زیدی اور خلیل الرحمن ہمدانی کے   خصوصاً شکرگزار ہیں۔یہ اشاعت اپنے آنے والے کل کو گزرے ہوئے کل سے بہتر بنانے کا پیغام ہے۔ اب اصل سوال یہ رہے گا کہ کیا ہم نے یہ پیغام پڑھ لیا، سمجھ لیا اور بہتر کے لیے عزم باندھ لیا؟ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ -  وَ تُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ o

عبد الغفار عزیز

۱۲ ربیع الاول ۱۴۲۸ھ

حسن البنا شہید سے میرے تعلق کی بنیاد بڑی منفرد ہے۔وہ اسلامی تاریخ کی ان چند مرکزی شخصیات میں سے ہیں جن سے ملاقات نہ کرنے کی حسرت ہمیشہ رہے گی۔ مجھے اپنے بچپن میں مولانا ابولکلام آزاد،مولانا حسرت موہانی، مولانا شوکت علی اورعلامہ محمد اسد کو دیکھنے کا     موقع ملا۔مگر مولانا محمد علی جوہر اورعلامہ محمد اقبال دوایسی شخصیات ہیں جن کو نہ دیکھنے کا قلق رہاہے۔ اس تسلسل میں جس تیسری شخصیت کو دیکھنے کی تمنا، خواہش اور شوق رہا،وہ حسن البنا شہید تھے۔

حسن البنا کی شخصیت میں ایک غیر معمولی سحرانگیزی (charisma)  اور دل کش جاذبیت کا امتزاج نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حسن البنا کے قالب میں ایک ایسی بے چین روح ہے، جو اپنے رب کی خوش نودی حاصل کرنے، اس کی مرضی و ہدایت کی روشنی میں دنیا کو بدل ڈالنے اور اسے مالک و خالق کی اطاعت میں لانے کے لیے ہر آن سرگرداں اورمضطرب ہے۔ یہ کیفیت ان کے بچپن سے لے کر جوانی اور پھر شہادت کے لمحات تک موجزن نظر آتی ہے۔ مجھے بے شمار مفکرین کو پڑھنے، استفادہ کرنے،اوربہت سے اہلِ دل سے ملنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔ لیکن جو کرشماتی کیفیت حسن البنا شہید کی زندگی،ان کے روزوشب اور ان کے مکالمات ومعاملات میں نظر آتی ہے،اوروہ بھی نہایت فراوانی کے ساتھ، وہ کہیں اور نہیں ملتی۔ اسی لیے مجھے ایسی دل آویز شخصیت کونہ مل سکنے پر احساس تاسف ہمیشہ رہے گا۔

اخوان کے تیسرے مرشد عام جناب عمر تلمسانی مرحوم سے لے کر موجودہ مرشد عام محمدمہدی عاکف تک سبھی سے مجھے ملنے کا شرف حاصل ہے۔ کچھ سے تو خاصی قربت بھی رہی ہے، جیسے جناب استاد مصطفی مشہوراور جناب مامون الہضیبی۔مامون الہضیبی کے والد حسن الہضیبی جو حسن البنا مرحوم کے بعد دو سرے مرشد عام تھے ، ان سے ملاقات تو نہیں ہوئی،البتہ خط و کتابت کی سعادت حاصل ضرور ہوئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے دور میںانھوں نے اپنی تحریروں سے بھی نوازا۔ان مواقع کے باوجود حسن البنا جیسے عبقری قائدسے ملنے کے شوق اور نہ مل سکنے کی حسرت اپنی جگہ موجودہے۔انسان کسی عظیم شخصیت سے ملاقات میں کچھ حاصل کرتاہے یا کچھ حاصل نہیں کرپاتا،یہ دوسری بات ہے، لیکن ایسے پاک طینت اشخاص اور اہل اللہ کو دیکھنا اور ان کی مجالس میں بیٹھنا بھی روحانی تعلیم و تربیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس اعتراف حقیقت کے ساتھ ساتھ  ایک اور اعتراف بھی شاید بے محل نہ ہو۔ مجھ جیسے عقلیت زدہ انسان پر بھی یہ کیفیت باربار گزری ہے کہ حسن البنا شہید کو اپنے قریب پایا ہے۔ ان سے صحبت اور بالمشافہہ استفادے کے باب میں محرومی کے باوجود ان سے ایک ایسی نسبت زندگی بھر محسوس کی ہے جسے روحانی ملاقات کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ ایک روحانی تجربہ ہے یا محض اپنی خواہشات کی تسکین کہ بارہا زندگی میں ان سے قربت اور ان کے حلقۂ مریداں میں شرکت کی لذت محسوس ہوئی ہے۔ یہ اللہ کا فضل اور ان کی طلسماتی شخصیت کا کرشمہ ہے۔

  •  پھلا تعارف:حسن البنا شہید کی داستانِ حیات، مقصدِ زندگی اور دعوتی و تحریکی خدمات کے بارے میں ہماری معلومات کا ذریعہ برادرم سعید رمضان مرحوم ہیں۔ سعید رمضان، حسن البنا شہید کے نہایت قریب اور معتمدعلیہ تھے۔ حسن البنا، رسالہ الشہاب نکالتے تھے، جس کی ادارت میں سعیدرمضان کا اہم کردار تھا۔ وہ نہایت ذہین، صاحب علم اوردعوت کو سمجھنے والی بھرپور شخصیت کے مالک تھے۔ مجھے ،خرم بھائی [خرم مراد] اور راجا بھائی [ظفراسحاق انصاری] کو ان سے ملنے اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا شب و روز موقع ملا۔ اس طرح ہم بڑے خوش نصیب تھے کہ ہمیں ان کے بہت ہی قریبی ساتھی اور نوجوان شاگرد کے ذریعے، جو بعد میں ان کے داماد بنے،حسن البنا کی شخصیت اوران کی فکر، اخوان کی دعوت، اخوان کے نظام تربیت اور اجتماعی جدوجہد کے اسلوب سے واقفیت ہوئی۔ اسی طرح امام حسن البنا کے بیٹے سیف الاسلام اور نواسے ڈاکٹر طارق رمضان بن سعید رمضان سے بھی ہمیں ان کے حالات جاننے کا موقع ملا۔

سعید رمضان دسمبر ۱۹۴۸ء میں پاکستان آئے اور پھر فروری ۱۹۴۹ء میں امام حسن البنا کی شہادت کے بعد کچھ عرصہ کے لیے یہیں مقیم ہوئے۔ ۱۹۵۰ء میں وہ عرب دنیا میں پاکستان کو متعارف کروانے کے لیے گئے اور پھر ۱۹۵۱ء کی مؤتمر عالم اسلامی کی دوسری کانفرنس میں شریک ہوئے، اور اس کے معتمدعام دوم منتخب ہوئے۔ کانفرنس میںسعید رمضان کی تقریر مسحور کن تھی۔   اﷲ تعالیٰ نے انھیں تقریر کا غیر معمولی ملکہ عطاکیاتھا۔ عربی میں تو وہ قادر الکلام تھے ہی ،لیکن انگریزی پر مکمل دسترس نہ رکھنے کے باوجود، ان کے اظہار بیان میں تاثیر کچھ کم نہ تھی۔فکر و جذبات کا جو مؤثر اظہار ان کی خطابت میں تھا، وہ قابل رشک تھا۔ خاص طور پر نوجوانوں کو وہ مسحور کرنے اور عمل پر اُبھارنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔

پاکستان میں ان کے قیام کے دوران میں ہی چونکہ اخوان المسلمون پر پابندی لگا دی گئی تھی اور امام حسن البنا شہید کر دیے گئے تھے،اس لیے وہ یہیں ٹھیرگئے۔ آرام باغ،کراچی میں ایک فلیٹ انھوں نے کرایے پر لے لیا تھا۔یہ فلیٹ ہماری ملاقاتوں کا مرکز بن گیا تھا۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا کہ ہم ان سے نہ ملتے ہوں۔ مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم و مغفور سے جو راجا بھائی کے والد محترم اور تحریک پاکستان کے اہم قائد تھے، ان سے سعید رمضان کا غیرمعمولی تعلق خاطر تھا۔ وہ مولانا انصاری صاحب سے باپ کی طرح محبت کرتے تھے اور انصاری صاحب، سعید رمضان سے اپنے بیٹوں کی طرح محبت کرتے تھے۔ پاکستان میں قیام کے زمانے میں انھوں نے خود کو مختلف مفید کاموں میں مشغول رکھا‘ اور خاص طور پرکراچی کے نوجوانوں کو اسلامی مقاصد کے لیے سرگرم عمل کرنے میں کوشاں رہے۔ انھوں نے ان کی اچھی خاصی تعداد میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ریڈیو پاکستان سے اسلام اور قرآن پر عربی تقاریر کا سلسلہ شروع کیا جو عرب دنیا میں بہت مقبول ہوا۔

  •  فکر اور قلب کا راستہ: اخوان اور حسن البنا شہید سے ہم جس راستے سے روشناس ہوئے وہ کتابی راستہ نہیں تھا۔ مولانا مودودی، میرے والدگرامی نذیر احمد قریشی مرحوم کے گہرے دوست تھے۔اس مناسبت سے مجھے مولانامودودی کو دیکھنے کی سعادت تو ۱۹۳۸ء میں حاصل ہو گئی تھی، البتہ مولانامودودی تک رسائی ان کی کتابوں ہی کے ذریعے ممکن ہوسکی۔ اس کے برعکس حسن البنا اور اخوان تک رسائی ان افراد کے ذریعے ہوئی، جنھیں حسن البنا شہیدنے تیار کیاتھا۔ دونوں کے درمیان یہ ایک بڑی وجۂ امتیاز ہے کہ مولانا مودودی فکر اور دماغ کے راستے، اور حسن البنا قلب اور روح کے راستے انسانوں کی زندگیوں میں داخل اور ان کی قلب ماہیت کرنے کا کارنامہ انجام دیتے ہیں۔ خود میری زندگی میں بھی یہ دونوں انھی راستوں سے داخل ہوئے،اور آج تک فکراور قلب میں سمائے ہوئے ہیں۔

مولانا مودودی تحریر و تقریر میں ممتاز، اعلیٰ درجے کے منتظم ، بلندپایہ مدبراور تحریک کے قائد تھے۔ اس طرح تحریک میںہر حیثیت سے ان کا کردار بڑا نمایا ں رہا ہے۔یہ اوصاف اپنی جگہ بڑی مرکزیت رکھتے ہیں، تاہم مولانا محترم کی شخصیت کا سب سے زیادہ غالب پہلو، ان کی فکر، ان کی تحریر اور وہ عظیم الشان لٹریچر ہے، جس نے افراد کے دل و دماغ میں طوفان بپا کیا اور ایک پوری نسل کی زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ اسی طرح اگرچہ حسن البنا شہید کی تقاریراور کتابیں بھی ہیں اور  علمی اور عملی ہردو اعتبار سے ان کا بڑا بلند مقام بھی ہے، لیکن ان سب اوصاف کے ساتھ حسن البنا کا نمایاں ترین وصف انسان سازی ہے۔ ان کا بلند ترین کارنامہ روح سے روح کا اتصال ہے۔بلاشبہہ اس میں دلیل کی قوت کے ساتھ عقل کو اپیل بھی شامل ہے، لیکن ان کی شخصیت، ان کی دعوت اور ان کی تحریک کا اصل ہدف انسان کا قلب ہے۔ ان کی تقریروں کو پڑھتے وقت احساس ہوتا ہے کہ :ان کی زبان کے ساتھ ان کی روح بھی بولتی تھی۔ ان کے اس خاص اسلوب اور  اثر انگیزی کو روحانی ٹیلی پیتھی (spiritual telepathy)یا خیال رسائی کہا جاسکتا ہے۔

 اخوان المسلمون پر لکھا وسیع لٹریچر مجھے پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ اخوان سے وابستہ اہل قلم نے بڑی مفیدذاتی یادداشتیں تحریر کی ہیں۔ یہ یادداشتیں نہ صرف تاریخی اعتبار سے، بلکہ فکری موضوعات کے لحاظ سے بھی معاصر اسلامی ادب کانہایت قیمتی سرمایہ ہیں ۔ اس تحریری لوازمے سے استفادے کے باوجود حسن البنا اور اخوان کو سمجھنے کے لیے جو چیزسب سے زیادہ پُرکشش ذریعہ رہی، وہ اخوان کے قائدین کی گفتگوئیں اور ان کے ساتھ زندگی گزارنے کے وہ مواقع ہیں جو مجھے حاصل ہوئے۔ اس طرح ان سے کتابی سے زیادہ قلبی رشتہ قائم ہوا۔

  •  ایک سحرانگیز شخصیت: اس تناظر میں میرے دل و دماغ پرحسن البنا شہید کی جس چیز کا سب سے زیادہ اثر ہے، وہ ان کی مسحورکن شخصیت ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ   ایک ایسی پاک روح ہے جسے دیکھ کر اﷲ کی یاد انسان کے دل میں اُترجائے اور ایمان میں   حرارت و حلاوت محسوس ہو۔ امام حسن البناکی آپ بیتی یا دعوتی سفر کی یادداشتوں (مُذَکّرات)کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسی شخصیت کے حامل انسان تھے۔ انھیں پڑھتے ہوئے یہ منظر سامنے آتا ہے کہ چھے سات سال کی عمر کے بچے کا دل دینی جذبات کا اُمنڈتا ہوا سرچشمہ ہے۔  پھر یہی بچہ ۱۷‘۱۸ سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے قاہرہ اور اسکندریہ کے ریستورانوں، قہوہ خانوں اور  سماجی محفلوں میں، تفریحی مقامات اور مختلف لوگوں سے مذاکرات تک میں، ہر جگہ ایک ایسی بے چین روح اور محبوب شخصیت کی صورت میں نظر آتا ہے، جو اپنے مالک سے محبت اور تعلق خاطر کی لذت سے سرشار ہے۔مگر اس شخصیت کا اس سے بھی زیادہ خوب صورت پہلویہ ہے کہ وہ نیکی اور پاکیزگی، کامیابی اور ابدی کامرانی کی اس لذت کو اپنی ذات تک محدود کرنے کے روایتی تصور کو نہیں اپناتی،بلکہ یہ مضطرب روح، اﷲ کے بندوں کو، اللہ کے غضب سے بچانے اور رب کی بندگی میں لانے کے لیے سرگرم و کوشاں ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ۲۱ سال کے اندر مصر کا ہی نہیں،بلکہ عالم عرب کا پورا فکری نقشہ بدل دیا اور دنیا میں ایک تہلکہ سامچادیا۔

۱۹۲۸ء میں، اسماعیلیہ کے مقام پر منظم انداز سے دعوت کا آغاز کرنے والے حسن البنا نے  ۱۹۴۹ء میں جام شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت کے وقت پورے مصر میں اخوان کے لاکھوں وابستگان تھے اور ۲ہزارسے زیادہ شاخیں تھیں،جب کہ صرف قاہرہ میں ۲۰۰ تنظیمی حلقے تھے۔ امام البنامہینے میں ۲۰‘۲۲دن سفرپر رہتے تھے۔ شہر شہر، قریہ قریہ لوگوں سے ملتے اور ان سے مخاطب ہوتے تھے۔کنواںخود پیاسوں کے پاس پہنچتا،رات دن کی پروا کیے بغیر،نیند اورتھکن کو خاطرمیں لائے بغیر،قلب وروح کے دروازوںپر دستک دینے والے اس محسن کا نام حسن البنا تھا۔ جن دنوں وہ سفر میں نہیں ہوتے تھے، ان دنوں جہاں کہیں بھی ان کا مستقرہوتا،وہ وہیں پر دعوتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ کوئی مسجد،محلہ حتیٰ کہ وہ جگہیں بھی جنھیں لوگ بالعموم اہل تقویٰ کے لیے کوئی بہت اچھی جگہ نہیں سمجھتے،مثلاکلب،عام ریستوران، اور ایسے ریستوران بھی جہاں نغمہ وسرود کی محفلیں برپا ہوتیں،وہ وہاں جاپہنچتے۔ ان جگہوں پر بھی بلامبالغہ ان کو بڑی عزت سے دیکھا جاتا تھا۔حسن البنا نے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جہاں انھوں نے مقدور بھر شہادت حق کا فریضہ ادا نہ کیا ہو۔ وہ لوگ جو ان سے اختلاف کرتے تھے، وہ بھی ان کی روحانیت، ان کی ربانیت، ان کے اخلاص اور مقصد سے ان کی والہانہ وابستگی کی مٹھاس کومحسوس کرتے تھے اوربے اختیار احترام کرتے تھے۔   یہ کیفیت آج تک موجود ہے۔ان کی شخصیت کایہی وہ طلسماتی پہلو ہے،جس سے ارباب اقتداراور عالمی سامراج خوف زدہ تھے،اور ان کو اپنے عزائم کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔

سعید رمضان مرحوم نے اپنی اہلیہ جو امام شہید کی صاحبزادی ہیں، کی تربیت کے حوالے سے مجھے بتایا کہ اس گھرانے پر اللہ تعالیٰ کی کتنی رحمت ہے۔یہ خاتون عبادت ،سخاوت اوروفاشعاری کا بہترین نمونہ ہیں۔سعید رمضان پر آزمایش اور بیماری کے بڑے سخت دور گزرے ہیں۔ مگر اللہ کی اس بندی نے اولاد کی بہترین تربیت کی اور شوہر کو بھی سہارا دیا۔ اس حسن تربیت کی ایک مثال ان کے صاحبزادے طارق رمضان کا اپنے والد کے قریبی دوستوں سے احترام کا رویہ ہے۔ وہ مجھ سے ہمیشہ اس احترام سے پیش آئے،جو ایک اچھے مسلم معاشرے میں باپ کے ایک قریبی ساتھی کا حق سمجھاجاتا ہے ۔ضمناً عرض ہے کہ طارق رمضان کا پی ایچ ڈی کامقالہ حسن البنا، یعنی اپنے نانا پر ہے،جوفرانسیسی زبان میں ہے ۔افسوس ہے کہ ابھی تک اس کا ترجمہ شائع نہیں ہوا۔

  •  اصل کارنامہ :۲۰ویں صدی کے آغاز میں اُمت مسلمہ زبوں حالی اور غلامی کے جس مقام پر پہنچ چکی تھی، اس میں امت مسلمہ خاص طور پر عرب دنیا کو دوبارہ حقیقی وژن دینا حسن البنا شہید اور اخوان کا بڑا کارنامہ ہے۔ اس کو اپنا حقیقی مشن یاد دلانا،امت میں خود اعتمادی کی کمی کا جو بحران پیدا ہوگیا تھا، اس بحران سے نکالنا۔ پھراس مشن کو حاصل کرنے کے لیے امنگ، پروگرام، تنظیم اور تحریک فراہم کرنا، یہ عظیم کارنامہ ہے،جس میں حسن البنا شہید کا کردار کلیدی اور فیصلہ کن ہے۔ مولانا مودودی نے جو کام برعظیم پاک و ہند میں کیا، وہی کام ایک مؤثر انداز میں حسن البنا شہید اور ان کے ساتھیوں نے عرب دنیا میں انجام دیا ۔ آج عالمی اسلامی احیاکی لہرکو اس مقام تک پہنچانے کا سہرا اﷲ کی توفیق اور فضل سے بنیادی طور پر انھی دو شخصیات کے سر ہے۔ بلاشبہہ اس میں علامہ محمداقبال کا بھی ایک اہم کردار ہے ،لیکن اس کا دائرہ فکری ہے،جب کہ دعوت،تنظیم،تربیت اور لائحہ عمل   انھی دو شخصیات سے منسوب ہے۔

للہیت اور درویشی حسن البنا شہید کی شخصیت کے غالب ترین پہلو ہیں۔ دعوت کی تڑپ اور وہ لگن کہ جس کا اظہار انھوں نے بچپن سے لے کر شہادت تک کیا، زندگی کا حصہ بننا ہے۔ اسی طرح ان کے ہاں اسلام کا تصور بہت صاف اور ہمہ گیر ہے۔ان کے نزدیک فرد، معاشرے، ریاست اور تاریخ کے لیے اسلام ہی ایک دعوت انقلاب ہے۔ گویا کہ اﷲ کی بندگی کی بنیاد پر زندگی کے پورے نظام کی تعمیر اور انسان کو خلافت کا جو منصب دیا گیا ہے، اس کے تقاضوں کو ہر سطح پر، انفرادی اور اجتماعی طور پر پورا کرنا زندگی کا لائحہ عمل ہے۔

اس وژن اور تصور میں مجھے ان کے ہاں تین اور خوبیاں نمایاں نظر آتی ہیں، اوّل:  بندے کا رب سے مضبوط تعلق، پھر بندوں کا بندوں سے ہمدردی ،وقار،اوربے لوثی پر مبنی تعلق۔ انھوں نے اس پہلو کو بہت مرکزی حیثیت و اہمیت دی۔ دوم: اجتماعیت ہے۔اس کے لیے انھوں نے چار اصطلاحیں استعمال کی ہیں: پہلی: مسلمان خاندان(اسرہ)، دوسری مسلمان معاشرہ (مجتمع یا سول سوسائٹی)،تیسری: مسلمان مملکت( دولۃ یااسٹیٹ)، اور چوتھی: عالمگیر اسلامی امہ،اور اس میں انھوں نے عرب قومیت اور اسلامی قومیت کو گڈ مڈ کرنے کی ٹھوکر نہیں کھائی۔ انھوں نے جہاں عربیت اور عربی قومیت کو اسلامی قومیت کا حصہ اور اسے قوس قزح کے رنگوں میں سے ایک رنگ قرار دیا ہے، وہیں انھوں نے عربی قومیت کوطاغوت نہیں بننے دیا،بلکہ اسے اسلامی معاشرے کا نمایاںاور روشن حصہ بنایا ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ انھوں نے انفرادی انقلاب کو جو فرد کے اندر پیدا ہو تا ہے،اور اجتماعی انقلاب جو فرد کے ذریعے سوسائٹی میں رُو پذیر ہوتا ہے، ان کا آپس میں مضبوط بندھن قائم کیاہے،اور اس چیز کو اداراتی سطح پر منظم کیا ہے۔

سعید رمضان نے ہمیں ایک واقعہ یہ سنایا تھا،کہ اخوان کے کسی ساتھی سے کوئی غلط کام ہوگیا،جس پر معذرت کی غرض سے وہ امام حسن البنا کے پاس ایک سوا گھنٹہ رہا، لیکن انھوں نے اس ساتھی کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ معذرت کر سکے۔ وہ پیاراور محبت سے ساتھی کی دل جوئی کرتے رہے کہ اس کو یہ ہمت نہیں ہوسکی کہ وہ معذرت کے الفاظ زبان پر لاسکے،حالانکہ امام شہید کو      یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ ساتھی معذرت کرنے کے لیے ہی آیا ہے۔اسی طرح بعض نوجوان ان کے پاس آتے اور خلافِ شرع چیزیں، مثلاً سونے کی انگوٹھی وغیرہ پہنے ہوتے، توحسن البنا ان کو      نہ ٹوکتے۔ لیکن تھوڑے ہی دن کی صحبت کے نتیجے میں ان کی انگوٹھی بغیر کچھ کہے اُتر جاتی تھی۔

ہمارے اخوان سے تعلق کا ایک اہم حوالہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے صرف جماعت اسلامی کو ہی نہیں، بلکہ پاکستان کو اور پاکستان کے تصور کو بھی عالم عرب میں پورے شعور کے ساتھ سمجھا اور پوری دل جمعی سے سمجھایا ۔ یہ سلسلہ ۱۹۴۶ء سے شروع ہو جاتا ہے ،جب قائداعظم [۱۸۷۶ء-۱۹۴۸ء] اور حسن البنا شہید کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس طرح عالم عربی میں اخوان، پاکستان کے سب سے بڑے ہم نوا تھے۔ پاکستان بننے پر انھوںنے مصر بھرمیں پاکستان کا جشن استقلال منایا۔سعید رمضان نے تو قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۰ء میں بہت سے مسلم ممالک خاص طور پر عرب ممالک کے طول وعرض کا دورہ کرکے پاکستان کے تصور کی وضاحت کی تھی۔

  •  اخوان کے گھرے اثرات: مجھے کئی بار مصر جانے کا موقع ملا ہے۔ اس میں وہ زمانہ بھی شامل ہے کہ جب شدید گھٹن اورسخت آمرانہ گرفت کا دور دورہ تھا اور کسی کے لیے اف تک کرنے کی گنجایش نہیں تھی ۔ان دنوں میں بھی مجھے ہوٹلوںکے خدمت گار ملازمین (ویٹرز) تک نے اخوان اور حسن البنا کے بارے میںاپنے والہانہ جذبات سے آگاہ کیا۔

۱۹۵۴ء میں، مصر کے فوجی آمر مطلق ناصر کا دورِ عروج تھا اور ناصر کی مطلق العنانی جنون کی حدوں کو چھو رہی تھی۔ کوئی فرد اس کے خلاف دبی زبان میں بھی بات نہیں کرسکتا تھا۔ اخوان پر پابندی تھی، اس کے ہزاروںکارکنان گرفتار تھے۔ دسمبر ۱۹۵۴ء میں جب میں جمعیت میں تھا،   ایک روز خبریں سنتے ہوئے معلوم ہواکہ مجاہد کبیر شیخ محمد فرغلی سمیت اخوان کے چھے رہنماؤں[عبد القادر عودہ ،یوسف طلعت،ابراہیم طیب،محمود عبداللطیف،ہنداوی دویر] کو پھانسی دے دی گئی ہے ۔  یہ خبر ہمارے لیے گہرے صدمے کا باعث بنی ۔اس موقع پر ہم نے کراچی میں بھرپور احتجاج کیا ۔

اسی زمانے میںانٹرنیشنل اسمبلی آف مسلم یوتھ (IAMY) کی ایک کانفرنس کراچی میں منعقد ہوئی تھی،جس میں مصرکا سرکاری وفد شرکت کے لیے آیاتھا۔اس وفدکے سربراہ مصری فوج کے ایک کرنل تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے ہم نے اس کانفرنس میں، اس ظلم وزیادتی کے خلاف بھرپوراحتجاج کیا۔ اسی مناسبت سے ایک بڑا مؤثر دو ورقہ (پمفلٹ )راجا بھائی اورمیں نے انگریزی میں تیار کیا تھا: WHY OPPRESSION ON MUSLIM BROTHERHOOD? [اخوان المسلمون پر ظلم کیوں؟]__ جسے ہم چھپوا کر اور چھپا کر کانفرنس ہال میںلے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ جوں ہی پاکستان کے وزیراعظم محمد علی بوگرا کانفرنس کا افتتاح کرنے کے لیے ہوٹل میٹروپول کے پنڈال میں داخل ہوئے، اس دو ورقے کی ایک کاپی انھیں دی گئی۔ اسی لمحے مختلف جگہوںپر کھڑے جمعیت کے ساتھیوں نے بڑے منظم انداز سے تمام قطاروں میں ہر شخص تک یہ پمفلٹ پہنچا دیا۔ اس واقعے سے پوری کانفرنس میں تہلکہ سا مچ گیا۔مصرکے سرکاری وفد کوتوگویاآگ لگ گئی،اور ادھرہماری حکومت حرکت میں آگئی۔میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے اس کانفرنس میں شریک تھا۔ خرم بھائی نے مصری وفد کے سربراہ کی تقریر کے دوران ہال میں کھڑے ہوکر ،اسے مخاطب کرکے کہا: تمھارے ہاتھ اخوان المسلمون کے راہ نماؤں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، تم قاتلوں کے ساتھی ہو۔

اس کشیدہ صورت حال کے باوجود، مصرکے سرکاری وفد میںشامل ایک نوجوان طالب علم بڑی خاموشی سے آکر ہمیں ملا اور اس نے کہا کہ:’’میں دل و جان سے اخوان کا ہمدرد ہوں۔ آپ لوگوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جو اقدام کیا ہے، وہ حق پر مبنی ہے۔میںاپنے ہزاروں مظلوم ساتھیوں کی طرف سے آپ کا شکریہ اداکرتا ہوں‘‘۔

دراصل عوامی سطح پر جولوگ اخوان کے گرویدہ ہیں، وہ تو گرویدہ ہیں ہی،مگر جو اس تحریک سے باہر ہیں، میںنے ان پربھی اخوان کابے پناہ فکری و اخلاقی اثر دیکھا ہے۔اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں، پارلیمنٹ کے اندر ،وزرا اور عرب لیگ کے افسروں سے مجھے بات کرنے کے بہت سے مواقع ملے ہیں، اور جب بھی کھلے دل کے ساتھ انھوں نے آف دی ریکارڈ بات کی تو میں نے انھیں یہ کہنے پر مجبور پایا کہ:’’ اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے اگر کوئی قابل لحاظ قوت ایسی ہے جو مصر کو بچاسکتی ہے تو وہ صرف اخوان المسلمون ہے‘‘۔

  •  باطل کے مذموم عزائم: حسن البنا نے ایسے نامساعد حالات میں کام کیا، جب کہ: ایک طرف سامراجی طاغوت اوردوسری طرف مقامی اشرافیہ تھی (یہ مقامی اشرافیہ ہی غالب تعداد میں،سامراجی قوتوں کی آلۂ کار رہی ہے)۔ تیسری جانب وہ مہم جو.ُ فوجی افسران تھے جنھوں نے اقتدار کا مزا چکھ لیا تھا۔یہ مقتدر فوجی طبقہ ایک وسیع عالمی منظر نامے میں مغربی یا کمیونسٹ روسی سامراج کا آلۂ کار بنا۔ فوجی انقلابات کا یہ سلسلہ شرق اوسط سے شروع ہوا اور ۱۹۵۸ء میں پاکستان تک آپہنچا۔ اپنی ہی قوم کو فتح کرنے کی اس فوجی لہر نے افریقہ کے نو آزاد ممالک کی بڑی تعداد کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا۔ دراصل یہ حکمت عملی مغرب کے پیش نظر تھی،کہ جو ممالک آزاد ہو رہے ہیں وہ آزاد ہو کر بھی سامراجی قوتوں کے لیے چیلنج نہ بننے پائیں، اور کسی مثبت بنیاد کے بل بوتے پر نظریاتی یا معاشی و سیاسی قوت کا نیا مرکز نہ بن سکیں، اور اپنی معاشی، تجارتی، تہذیبی اور سیاسی پالیسیوں میں تابع مہمل بن کر رہیں۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے اشتراکی عناصر نے اور امریکا اور اس کے حواریوں نے یہ کوشش کی کہ لوگوں کو خریدیں، معاشی مفادات کے جال میں پھنسائیں، سیاسی اور فوجی معاہدات کے ذریعے ان قوموں کو ایک نئی قسم کی غلامی میں جکڑ لیں۔اس ہدف کے حصول کے لیے انھوں نے یہ اصول طے کیا کہ: ’’فوجی قیادت ہی ہماری بہتر حلیف ہے۔جو اپنے ملکوں میںبغاوت کرکے اقتدار پر شبخون مارے،اور ہماری مدد سے ہماری قائم مقام (proxy) بن کرہماری مرضی پوری کرے‘‘۔ کچھ رپورٹوں میں صاف لکھا ہے کہ مغرب زدہ گروہوں کے لیے اقتدار کی راہیں کشادہ کرنا خواہ یہ فوجی انقلاب اور استبدادی حکومت (despotic rule) کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، مغربی اقوام کے قومی مفاد میںہے، تاکہ مذکورہ ممالک کے عوام کو قابومیں رکھا جا سکے۔ مائلز کوپ لینڈ (Miles Copeland) جس نے عرب دنیا میں سفارتی ذمہ داریاں بھی ادا کیں اور وہ سی آئی اے کا ایجنٹ بھی تھا، اس کی یادداشتوں The Game of Nations: The Amorality of Power Politics (1970),  اور The Game Players Confessions (1989) سے بھی اس امر کی وضاحت ہوتی ہے۔ مغربی پالیسی ساز اور سیاسی تجزیہ کار اب     کھلے لفظوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ: مسلم دنیا یاتیسری دنیا میں جو فوجی انقلاب آئے یا جو سیاسی اتھل پتھل ہوتا رہا ہے، ان سب کے پیچھے کسی نہ کسی صورت میں امریکا اور اس کی ایجنسیوں کا ہاتھ تھا‘‘۔مشرق وسطیٰ اس سامراجی چنگل سے کبھی نہیں نکل سکا۔

شام میں اخوان المسلمون کے سربراہ ڈاکٹر مصطفی سباعی [۶۳-۱۹۱۵ء] نے الفتح میں ایک مرتبہ لکھا تھا: [مسلم دنیا کی] سیاسی پارٹیاں ہر معاملے میں ایک دوسرے کی مخالف ہیں، مگر ایک نکتے پر ان کا اتفاق ہے، اور وہ ہے ’دین دشمنی‘___ اس لیے نظامِ حکومت میں تبدیلی کے سوا اصلاح کی کوئی صورت نہیں، اور نظامِ حکومت کی تبدیلی کا دارومدار ہے معاشرے کی تبدیلی پر۔ افسوس کہ علماے کرام اس بات کو نہیں سمجھتے‘‘۔ میں اس میں یہ اضافہ کروں گا، کہ ’دین دشمنی‘ کی اس روش میں فوجی قیادتوں اور سیاسی طالع آزمائوں کو عالمی سامراجی قوتوں کی بھرپور سرپرستی حاصل رہی ہے۔ صدافسوس اس بات پر کہ اپنی قوم کے مفادات سے بے وفائی کا ارتکاب کرنے میں یہ طبقہ     ادنیٰ درجے کی شرم تک محسوس نہیں کرتا، اور سامراجی آقائوں کے سامنے اپنی قومی اور ذاتی ذلت تک کو خوشی خوشی برداشت کرلیتا ہے، بلکہ اس توہین کو بھی اعزاز کی کوئی قسم تصور کرتا ہے۔

اس منظرنامے میںحسن البنا اور اخوان المسلمون نے دعوت،تنظیم اور تربیت کاکام شروع کیا۔وہ بہ یک وقت عالمی سامراج اور سامراج کے مقامی آلۂ کاروں کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہوگئے۔انھوں نے،دین کی گمراہ کن اور معذرت خواہانہ تعبیر کرنے والوںاور معاشرے میں سماجی، معاشرتی،اور سیاسی ظلم کی تمام بنیادوں کوپوری قوت سے چیلنج کیا۔اس کے لیے اخوان نے جو راستہ اختیار کیا، اس میں تنظیم اور صحافت کے ساتھ ساتھ سیاست میں کھلے بندوں حصہ لینا بھی شامل تھا۔ حسن البنا نے خود بھی الیکشن میں حصہ لیا ، اور اگر برطانوی اور مصری حکومت ان کا راستہ نہ روکتی   تو وہ بڑی عظیم اکثریت سے کامیاب ہوتے ۔

 ان پابندیوںاور تمام تر مشکلات کے باوجود حسن البنا نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ افراد سے رابطے کا طریقہ تھا۔یہی وہ امتیاز ہے جس نے استبدادکے اندھے بہرے ظلم اور اپنی بات کہنے کے کھلے مواقع نہ ہونے کے باوجود گھر گھر، محلے محلے، گاؤں گاؤں، قریہ قریہ اس دعوت کو پہنچادیا۔   اسی لیے ساری پابندیوں کے باوجود آج بھی اخوان ایک اہم سیاسی اور نظریاتی قوت کے طور پر موجود ہیں،بلکہ ملک کی پارلیمنٹ میں مضبوط حزب اختلاف کا درجہ رکھتے ہیں۔حالانکہ اخوان کی تنظیم خلاف قانون ہے،اور اخوان کے وابستگان نے آزاد امیدواروں کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔ اخوان کی اس طلسماتی قوت کا ثبوت ہر موقع پر نظر آتا ہے۔ اس چیز کا گہرا تعلق   حسن البنا کی شخصیت اور ان کے اس طریقۂ کار سے ہے، جس میں تنظیم پر پابندی کے باوجود خود کار پھیلائو اورنچلی سطح تک ان کی رسائی ممکن ہوئی۔ یہ ان کی قوت کا بڑاراز اوربہت بڑا خزانہ ہے۔

  •  اخوان کی قوت کا راز: سعید رمضان کے ذریعے ہم نے اس راز کو سمجھنے کی کوشش کی ۔تب ہم نوجوان تھے اور اسلامی تحریکی لٹریچر کا تازہ تازہ مطالعہ کیا تھا۔اسلام کی ہمہ گیرانقلابیت کا جذبہ پوری طرح دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا(الحمدللہ، آج بھی وہی کیفیت ہے،البتہ ماہ و سال کی رفت و گذشت کے سبب قوت کار کم رہ گئی ہے)۔ ہم یہ معلوم کرکے بہت خوش تھے کہ جو بات  مولانا مودودی نے مغربی طاغوت کی روح اور فطرت کے بارے میں کہی ہے ،اور جو بات مولانا نے اسلام کے انقلاب اور پورے نظام کی تبدیلی کے حوالے سے ارشاد فرمائی ہے،بالکل وہی بات حسن البنا نے بھی اپنے خطبات میں کہی ہے۔اس طرح نصب العین اور حصولِ منزل کی جدوجہد میں ہم اور اخوان ایک ہی منزل کے راہی ہیں۔

تاہم ایک پہلو میں ہمیں کچھ فرق محسوس ہوتا تھا۔ اخوت اور محبت کا ویسا کلچر ہمارے ہاں   اس طرح فروغ نہیں پاسکا، جس طرح اخوان کے یہاں نظر آتا ہے۔اس کاایک چھوٹا سا مظاہرہ روزمرہ کے میل جول میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔مثال کے طور پر ہمارے اہل حل و عقد جب ہم سے ہاتھ ملاتے تو ان کے ہاتھ کی گرفت میں ذاتی تعلق کا اس درجہ اظہار نہیں محسوس ہوتا تھا، جیسا اخوان کے بڑے اور چھوٹے ہر بھائی سے ملتے وقت محسوس ہوتا ۔ممکن ہے اس میں ہمارے خطے کی آب و ہوا ، کلچر اور رسم و رواج کا بھی اثر ہو۔ اخوان کے ہاں اﷲ کی خاطر محبت کے تصور کو بڑا مرکزی مقام حاصل ہے۔خود جماعت اسلامی کے تربیتی لٹریچر میں اس موضوع سے متعلق احادیث کاایک مؤثر انتخاب موجود ہے، لیکن اپنائیت کے اس تصور کووہ اہمیت اور مرکزیت اس درجے میں حاصل نہیں ہوسکی، جو اخوان کے ہاں نظر آئی۔اللہ کی خاطر محبت ہم نے اخوان کے احباب سے سیکھی۔ یہ سیکھا کہ اﷲ کی خاطربندوں کے درمیان تعلق کی بنیادکو کس طرح مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور پھرجب اخوان کے لٹریچر کو پڑھا تو اس میں بھی اسی اسپرٹ کو رچا بسا پایا۔ اخوان کے جتنے بھی کارکنوں سے ہمیں ملنے کا موقع ملا،ان میںاسی جذبے اور حرارت کی فراوانی پائی۔ حسن البنا کی زندگی کا مطالعہ کیا تو ان کی زندگی کے اندر بھی یہی کیفیت موجزن دیکھی۔ غالباً ’محبت فاتح عالم‘ والی کیفیت اور اس سے رونما ہونے والی مقناطیسی قوت ہے ،جس کے ادراک نے ان سے اس تحریک کانام اخوان المسلمون رکھوایا(پیش نظر رہنا چاہیے کہ تیسری اور چوتھی صدی ہجری کی ’اخوان الصفا‘ سے اخوان المسلمون کا کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ خالص قرآنی اخوت سے اس کا رشتہ ہے)۔ یہ چیز ہمیں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی تھی۔

اسی طرح ہم نے اخوان کے تربیتی نظام سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ اس زمانے میں مولاناعبد الغفار حسن [م:۲۲مارچ ۲۰۰۷] جماعت اسلامی میںشعبہ تربیت کے ذمہ دار تھے۔  درس قرآن، درس حدیث، سیرت اور لٹریچر، جماعت کے تربیتی نظام کے عناصرترکیبی تھے ۔ اجتماع ارکان میں ان چیزوں کی باقاعدگی کے ساتھ احتساب کا اہتمام بھی تھا۔ روحانیت اور ربانیت، اخوان کے دو نہایت مرکزی پہلو ہیں۔ جمعیت میں ہم نے اخوان سے یہ سیکھا تھا کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں روحانی بالیدگی کے لیے شب بیداری بھی ایک مؤثر تربیتی پروگرام ہے۔ اس سے قبل جماعت اور جمعیت کے پروگراموں میں شب بیداری نہیں ہوتی تھی۔ یوں جمعیت اور جماعت میں بھی شب بیداری کا پروگرام متعارف ہوا۔

  •  نظام الاسرہ اور اس پر اختلاف:حسن البنا نے دعوت ، تنظیم اور تربیت کے آغاز ہی میں خداداد صلاحیت کی بنا پر اس خطرے کو بھانپ لیا تھاکہ آنے والے کل میں،اس راستے پر چلنے والے جاں نثاروں کو کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ دعوت، تحریک اور آزمایش،    لازم و ملزوم ہیں۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے انھوں نے کہا : بہترین طریقہ یہ ہے کہ افراد کو جوڑ کر اس طرح سے چھوٹے چھوٹے گروپ بنا دو کہ ریاستی جبر کے نتیجے میں اخوان کا مرکزی نظم رہے یا نہ رہے، مگر تنظیم کا یہ بنیادی یونٹ اپنی جگہ کام کرتا رہے۔

ایسے نظریاتی حلقے کی حد ۱۰ افراد پر قائم کی، جسے’ اسرہ‘ کہتے تھے۔جب ۱۰افراد پورے ہوجاتے تو انھیںدو ’اسروں‘ میں تقسیم کردیتے۔اس طرح انھوںنے ہزاروں حلقوں کی صورت میں نظام قائم کیا۔ اس نظام اسرہ میں سب سے زیادہ دل چسپ چیز اس کا اجتماعی مطالعے کانظام ہی  نہیں تھا، بلکہ اس میںعبادات بھی مشترک تھیںاورشب بیداریاں بھی۔ میرے نزدیک ’نظام اسرہ‘ میں سب سے اہم چیزیہ تھی کہ اس کے ممبران ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں پورے شعور  اور وابستگی سے شرکت کریں۔ ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔کسی ایک ساتھی پرکوئی مصیبت آئے    تو ’اسرہ‘ کے تمام ساتھی اس کی مدد کو پہنچیں۔یہی اسرہ کا مرکزی اصول تھا: پاکیزہ، ہمدرد اور      بے لوث برادری۔

بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ اخوان کی بقا کا بڑا انحصار اس ’نظام اسرہ‘ پر رہا۔اس کے ثمرات میںسے بہت متاثر کن چیزآزمایش اور ابتلا میں ان کی استقامت تھی۔ صدرناصر کے زمانے میں صرف مصر میں ۳۰ سے ۴۰ ہزار افراد جیلوں میں تھے اور بیش ترشدید تعذیب کا نشانہ بنائے گئے تھے ۔ ان سخت آزمایشوں اور ابتلا کے ادوار سے گزرنے کے باوجود انھوں نے الحمدللہ، جس تقویٰ اور استقامت کا ثبوت دیا ہے ،وہ پختہ ایمان اور اس ’نظام اسرہ‘ کی برکات کا عملی اظہار تھا،کہ جس نے لوگوں کو آپس میں جوڑ دیا تھا۔اسی ’نظام اسرہ‘ نے قیدی ساتھیوں کے خاندانوں کی دست گیری ، عملی مدد اور ہمت بندھانے میں معاونت کی ہے۔

سعید رمضان سے ’نظام اسرہ‘ سمجھ کر ہم نے اسلامی جمعیت طلبہ میں اس کو اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔جمعیت کی تنظیم کو جو اسکولوں ، کالجوں،یونی ورسٹیوں کے کارکنوں پر مشتمل تھی، اسے علاقائی اور رہایشی بنیادپرکام کے لیے منظم کیا،جو اسرے ہی کی ایک شکل تھی۔اس وقت کی جمعیت  کے ناظم اعلیٰ کو کچھ دیگر امور کے ساتھ اس پر بھی شدید اضطراب ہوا۔ وہ پریشان تھے کہ ہماری تحریک کے روایتی نظام میں یہ ایک نئی چیز آگئی ہے۔ بالآخر ہمیں اس نظام میں کچھ تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ اس طرح ہمارارہایشی نظام تو باقی رہا، لیکن ’نظام اسرہ‘ اپنے اخوانی تصور کے مطابق ہمارے تنظیمی نظام کا حصہ نہ بن سکا۔ یوں کراچی جمعیت میں ’نظام اسرہ‘ محض چار پانچ سال تک ہی چلا۔ یہاں پر یہ تذکرہ بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ جب جمعیت میں ’نظام اسرہ‘ پر بحث اٹھی،ان دنوں مولانا مودودی جیل میں تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی (م: دسمبر ۱۹۹۷ء) کا رجحان اسرے کے حق میں نہیں تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ نوجوانوں کی محض ایک اپچ ہے اور بس۔ مگر انھوں نے کھل کر اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔اس زمانے میں ہمیں جمعیت میں بڑی آزمایش اور نازک مرحلے سے گزرنا پڑا۔

اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ہمارے ان بزرگوں پر جنھوں نے اس دورآزمایش میںنوجوانوں کی راہ نمائی فرمائی اور جمعیت انتشار سے بچ گئی۔اس سلسلے میں محترم شیخ سلطان احمد صاحب ، چودھری رحمت الٰہی صاحب اورچودھری غلام محمد صاحب کا کردار اہم تھا۔ انھوں نے ہمارے اس داخلی قضیے کو سلجھایااور یہ کہا کہ کراچی جمعیت کے اس تجربے کو ہم اسلام اور تحریک کے مزاج کے خلاف یا روایات سے متصادم نہیںپاتے۔اس طرح ہمیں تائید حاصل ہوئی،اور اس بحث پر جو مقدمہ بنا تھا وہ قبول نہیں کیا گیا۔

  •  ھجرت اور دعوت کا ثمر: جس زمانے میں مصر میں اخوان ابتلا سے گزرے، انھوں نے اپنی ابتلا کی مدت کو قصۂ زمین، برسر زمین سمجھ کر حالات کا سامنا کیا۔ بعد میں جب موقع ملا تو ان میں سے کچھ لوگ سعودی عرب، کویت یا خلیجی ممالک چلے گئے۔کچھ افراد امریکا، جرمنی، انگلستان کی طرف جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ اسلام کے ان نہایت قیمتی سپوتوں نے مغربی دنیا میں دعوت اسلام کی بھاری ذمہ داری سر انجام دینے کے لیے بڑی ٹھوس بنیادیں استوار کیں۔آج مغربی دنیا میں اشاعت اسلام کے بیش تر سر چشموں کے پیچھے روایتی مذہبی طبقوں سے کہیں زیادہ اخوان کے ان جلاوطن کارکنوں کی پرخلوص حکمت اور مساعی کارفرما ہے۔

اخوان میں ایک اور وصف بڑا متاثر کن اورقابل رشک ہے،اور وہ ہے ان کا اﷲ سے تعلق کے ساتھ ساتھ قرآن سے ربط۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیںہے کہ اخوان اور قرآن لازم و ملزوم     بن گئے ہیں۔اس باب میں میرا سب سے دل چسپ تجربہ وہ تھا، جب میں محترم میاں طفیل محمد کے ساتھ صدر حسنی مبارک سے ملنے مصر گیا تو ان لوگوں نے ہمارے لیے  نہر سویز کی سیر کا انتظام کیا تھا۔ ہم رات کے ۱۲ بجے سویز نہر کی سیر کے لیے نکلے اورفجر سے کچھ پہلے واپس آئے۔ وہاں ہوتا یہ ہے کہ جہاز سویز کے درمیان میں کمان تبدیل کرتا ہے۔ ایک جہاز ایک طرف سے آتا ہے اور  دوسرا جہازدوسری طرف سے۔ جب کمان تبدیل ہورہی تھی تو جس جہاز میں ہم تھے، اس کا ایک  اعلیٰ کمانڈر ہم سے ملا۔جب اس سے میاں صاحب،جماعت اور میرا تعارف ہوا، تو اس نے احترام اور اپنائیت کے اظہار کے لیے آہستگی سے اپنی جیب سے قرآن نکالا اور ہمیں ہدیہ کر دیا ۔یہ اشارہ تھا اس بات کا کہ میرا تعلق اخوان سے ہے۔ حالانکہ خفیہ سروس کے لوگ ہمیں گھیرے ہوئے تھے۔ یہ واقعہ غیرمحسوس انداز میں ہوا۔

  •  سماجی اور معاشی فکر: معاشرتی تشکیل کی فکراور وژن کے موضوع پر مولانا مودودی اور اخوان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا، تاہم پروگرام کے نفاذکی تفصیلات میں کچھ امور پر ایک حد تک اختلافِ رجحان کا احساس ہوتا ہے۔ اخوان کے یہاں شروع ہی سے دعوت، سیاست، خدمت اور متبادل اقتصادی بنیاد تعمیر کرنے کی فکرساتھ ساتھ موجود رہی ہے۔ اخوان نے غربت کو ختم کرنے اور روزگار فراہم کرنے کی اسکیم ۱۹۳۳ء میں شروع کی تھی۔ اداراتی (انسٹی ٹیوشنل) مناسبت سے ان کے ہاں معاشی مسائل اور سامراج سے چھٹکارا پانے کا نظامِ کار نمایاں طور پر متحرک دکھائی دیتا ہے۔

ہمارے ہاں کام کا آغاز ایمان ، عقیدے اور دینی وژن سے ہوتا ہے۔ پھر ہم آہستہ آہستہ مذکورہ اداراتی اور سماجی مسائل کی طرف آتے ہیں۔ البتہ شعوری طور پر، آئینی مسائل ہمارے ہاں  مرکزیت کے حامل رہے ہیں، جن کو دنیا بھر کی اسلامی تحریکیں قابل تقلید اقدام تسلیم کرتی ہیں۔ مگر دوسری جانب معاشی اور معاشرتی مسائل پر ایک متوازن اور متناسب انداز سے ہماری توجہ مرکوز نہیں رہی، اس کمی کا مداوا کم از کم مستقبل میں ضرور ہونا چاہیے۔ میں نے اس سلسلے میں جو ہاتھ پاؤں مارنے کوشش کی ہے، ان مساعی میں مجھے مولانا مودودی ،مولانا اصلاحی اور چودھری غلام محمد [م:۱۹۷۰ء] کی خصوصی مدد اور راہ نمائی حاصل رہی ہے ۔میرا پختہ یقین ہے کہ ایمان، عقیدے اور اخلاق کی مرکزیت اور دینی روح کے ساتھ سماجی اور معاشی میدان میں تحریک کے انقلابی پروگرام کو کلیدی حیثیت حاصل ہونی چاہیے ۔مگر یہ کام نعروں کی سطح پر نہیں،بلکہ تسلسل اور ایک ایسے   اسلامی فریم ورک کے ساتھ ہو نا چاہیے، جو عصری تقاضوں کو بھی پورا کرنے کا بھرپور اہتمام کرے۔ سماجی و معاشرتی مسائل میں اخوان کی متوازن دل چسپی قابل رشک ہے ۔البتہ ان کے ہاں   افراط و تفریط کے بعض مناظر بھی نظر آتے ہیں۔اس سلسلے میںڈاکٹر مصطفی سباعی نے تو اشتراکیت فی الاسلام تک کی بات کہہ دی تھی،تاہم اسے اخوان کے مجموعی ذہن نے قبول نہیں کیا۔

اس کے برعکس جماعت اسلامی، عورتوںکے ووٹ کے حق اور خاص طور پر اجتماعی معاملات اور تحریکی نظام میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے، اخوان سے بہت آگے تھی۔ عورتوں کے ووٹ کے حق کو اخوان نے ۱۹۵۰ء کے عشرے میں تسلیم کیا، مگرجماعت اسلامی نے شروع ہی سے اس کو تسلیم کیا تھا، بلکہ مولانا مودودی نے تو یہاں تک لکھا کہ عورتوں کی الگ شوریٰ ہو جو معاملات پر آزادانہ انداز میں غوروفکر کرے۔ اخوان اور جماعت میں پائے جانے والے ایسے جزوی اختلافِ راے کا تعلق نفاذدین کی تفصیلات سے ہے ،وژن اور تصور سے نہیں۔

  •  تشدد کے الزام کی حقیقت: ایک طرف تاریخ میں اخوان پر ابتلا و آزمایش کے دور باربار آئے۔ دوسری طرف خود انصاف اور قانون کا خون کرکے اقتدار پر ناجائز قبضہ کرنے اور اپنے ہی ہم وطنوں کا خون بہانے والے نام نہاد روشن خیال طبقے نے الٹا اخوان ہی کو تشدد پسند  کہہ کرانھیں الزامی مہم کا نشانہ بنایا۔افسوس کہ ہمارے یہاں لبرل طبقے کی لبرلزم کا حدود اربعہ بس  اتنا ہے کہ مغرب کی اندھی تقلید کی جائے ۔انھیں جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور عدل وغیرہ کی ہوا بھی نہیں لگی۔

اقتدار، وسائل، طاقت، قومی اقتدار، مادی وسائل، عسکری طاقت اور ذرائع ابلاغ پر قابض اس طبقے کے بارے میں ایک مرتبہ مولانا مودودی نے فرمایا تھاکہ یہ ایسے پہلوان ہیںجو   مدمقابل کے ہاتھ پاؤں باندھ کراس سے کشتی لڑنے کے لیے میدان میں اُترتے ہیں۔اس طبقے نے ایک طرف اخوان کو نشانہ بنایا، تو دوسری جانب پاکستان میں مولانا مودودی کو قید کرکے یہ کہنا شروع کیا کہ اخوان، تشدد پسند ہیںاورجماعت اسلامی کا تعلق بھی اخوان سے ہے۔ اخوان سے کوئی تنظیمی تعلق نہ رکھنے کے باوجود جماعت نے اخوان کے خلاف بدنیتی پر مبنی اس پروپیگنڈے کی مخالفت کی، اور اخوان کے دفاع میں کبھی کوتاہی نہیں برتی۔اخوان پر مظالم کے خلاف اور ان کی تائید و حمایت میں، ہم نے ہر پلیٹ فارم پر،تحریر اور تقریر میں آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہے، مگرتصادم اور ٹکراؤ پر منتج ہونے والے ایجی ٹیشن کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ جماعت کو اس بارے میں ہمیشہ شرحِ صدر رہا ہے کہ مؤثر، باوقاراور نصیحت کے انداز میں بات زیادہ  پُر اثر ہوتی ہے۔

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اخوان نے کبھی اپنی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے طاقت یا زیر زمین روابط کو استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اخوان کے ہاںقوت مجتمع کرنے کی سوچ، فلسطین پر قبضے کے خواہاں یہودیوں اور یورپیوں کی سامراجی یلغار کو روکنے کا سرعنوان تھی۔اگرچہ ایک دومواقع پرچند غیر ذمہ دار نوجوانوں کی نامناسب انفرادی حرکتیں انھیںدلدل میں دھکیلنے کا ذریعہ بنیں، لیکن ان کی تاریخ کے گہرے مطالعے کی بنا پر میں یہ بات برملا کہہ سکتا ہوں کہ قوت کے استعمال کے حوالے سے ان پر عائدالزامات میں بہت کچھ محض زیب داستان کی حیثیت رکھتاہے۔

مناسب ہوگا کہ اخوان کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لیے یہاں پر امام حسن البنا کے اس مشہور خطبے پر غور کیا جائے، جو انھوں نے ۱۹۳۸ء میں اخوان کے پانچویں اجلاس میں دیا تھا۔ انھوں نے فرمایا تھا: ’’اخوان، فکروعمل کی سطحیت پر ریجھ جانے والے نہیں ہیں، بلکہ وہ گہری فکر اور وسیع    زاویۂ نظر کے حامل ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی چیز کی گہرائیوں میں ڈوب کر نہ دیکھیں… وہ جانتے ہیں کہ قوت کے مدارج کیا ہیں: ان میں اولیت، عقیدہ و ایمان کی قوت کو حاصل کرنا ہے۔ اس کے بعد وحدت و ارتباط کی قوت کا حصول ہے، اور ان دونوں کے بعد زورِبازو کا درجہ آتا ہے… الاخوان، متشددانہ انقلاب کے بارے میں قطعی طور پر کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ کسی حال میں اس طریق کار پر اعتماد نہیں کرتے، اور نہ اس کا نفع بخش اور نتیجہ خیز ہونا انھیں تسلیم ہے… تاہم اگر حالات کی رفتار یہی رہے گی اور اصحابِ اقتدار اس کا علاج نہیں سوچیں گے، تو اس کا لازمی نتیجہ متشددانہ انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوگا، لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اس میں اخوان کا ہاتھ ہوگا، بلکہ یہ حالات کے دبائو اور اصلاح سے گریز کا لازمی نتیجہ ہوگا۔ ضرورت یہ ہے کہ ہماری قومی زندگی کے سیاہ وسفید پر قابض طبقے اپنی ذمہ داری اور صورت حال کی نزاکت کو سمجھیں‘‘۔

جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے دستور کی دفعہ ۵(۴) میں واضح طور پر اعلان کیا ہے: ’’جماعت اپنے نصب العین کے حصول کی جدوجہد، خفیہ تحریکوں کی طرز پر نہیں کرے گی، بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی‘‘۔ اس طرح جماعت نے ہمیشہ کے لیے دوسرے دروازے کو بند کردیا۔ پھر اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان نے ستمبر ۱۹۴۸ء کو مرکزی مجلس شوریٰ میں یہ قرارداد منظور کی تھی کہ: ’’اپنے مقصد کے حصول کے لیے جماعت اسلامی ایسے ذرائع اور طریقوں کا استعمال جائز نہیں سمجھتی‘ جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے بدنظمی اور بدامنی رونما ہو۔ جماعت اسلامی، اصلاح و انقلاب کے لیے جمہوری طریقوں پر یقین رکھتی ہے، یعنی تبلیغ و تلقین کے ذریعے سے اذہان اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور راے عام کو ان تغیرات کے لیے ہموار کیا جائے، جو ہمارے پیش نظر ہیں۔ جماعت کا کوئی کام خفیہ نہیں ہے بلکہ سب کچھ علانیہ ہے۔ جن قوانین پر ملک کا نظم و نسق اس وقت چل رہا ہے ان کو وہ توڑنا نہیں چاہتی، بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق بدلنا چاہتی ہے‘‘۔

مولانا مودودی نے ۱۹۶۳ء میں، مسجد ابراہیم ،مکہ معظمہ میں عرب نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’[دنیا بھر میں] اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔یہ بھی دراصل بے صبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے ،اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے ۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک کے ذریعے سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلایئے، بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے، اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں، ان کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا، وہ ایسا پاے دار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے کر اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے گا تو جس راستے سے وہ آئے گا ،اسی راستے سے وہ مٹا یا بھی جاسکے گا‘‘۔ (دیکھیے: ماہ نامہ ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۳ء)

مولانا مودودی پہلی بار ۱۹۵۶ء میں عالم عرب گئے تھے، لیکن ان سے پہلے مولانا مسعود عالم ندوی نے ۱۹۴۹ء میں بلاد عرب کا دورہ کیا تھا۔ مسعود عالم صاحب نے اپنے ایمان افروز سفرنامے دیارِعرب میں چند ماہ میں یکم جولائی ۱۹۴۹ء کو لکھا تھا: ’’جس شخص پر اخوان سے تعلق کا ادنیٰ شبہہ بھی ہوتا ہے، اسے فوراً قیدکرلیا جاتا ہے۔ حیرت ہے، حکومت کی فوج اور پولیس کے سامنے، اسلام اور مصر کے دشمن قاہرہ کی سڑکوں پر اکڑتے پھرتے ہیں، لیکن مصری حکومت ان کے خلاف کچھ نہیں کرتی۔ اس کا سارا غیظ و غضب اسلام کے داعیوں پر ٹوٹتا ہے‘‘۔ پاکستان آکر مولانا مسعود عالم ندوی نے مختلف تربیتی پروگراموں میں اخوان کے بارے میں جو تاثرات بیان کیے، ان میں اخوان سے محبت، اخوان سے قربت، اخوان سے عقیدت اور اخوان کو اپنا دست و بازو سمجھنے کا پہلو غالب تھا۔ بعد ازاں خود مولانا مودودی نے کئی باراس بات کا اظہار فرمایاکہ:’’فکری اعتبار سے جو کام ہم کر رہے ہیں،وہی کام اخوان کر رہے ہیں۔ہمارے درمیا ن بنیادی نقطۂ نظر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘۔

  •  امام شھید کے رفقا:یہ واقعہ بھی تاریخی نوعیت کا ہے کہ جب مصری حکومت نے اخوان پر پابندی لگائی تھی، تو عبدالقادر عودہ شہید [۱۹۰۶ء-۱۹۵۴ء] ہائی کورٹ کے جج تھے۔ پابندی کے خلاف مقدمہ چلا، مگر عدالت نے اخوان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ جس عدالت نے فیصلہ دیا،اس کے جج عبدالقادر عودہ بھی تھے۔ان کا کہنا یہ تھاکہ: ’’مجھے تاریخ نے اخوان پر حَکَم[جج] بنایا اور بالآخر میں اخوان ہی کا ہو گیا‘‘۔ اپنی مشہور کتاب التشریع الجنائی فی الاسلامانھوں نے اخوان کی دعوت قبول کرنے کے بعدلکھی۔

بعدازاں جب میں کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ معاشیات میں پڑھا رہا تھا، اس زمانے میں  سید قطب ہمارے لیے فکرو عمل کی ایک بڑی مؤثر علامت اور ہمارے ہیرو تھے۔افسوس ہے کہ مجھے سید قطب سے بھی ملنے کا موقع نہیں ملا،لیکن ان کی جان دار تحریروں اور علمی طور پر نہایت وقیع نگارشات سے بھرپور استفادے کی کوشش کی ہے۔ سب سے بڑھ کر حق کی راہ میں ان کی استقامت میرے لیے ہی نہیں، ہماری پوری نسل کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوئی ہے۔سید قطب کو ناصر نے قید میں ڈالا اور اس طرح مقدمہ چلایا کہ انھیں وکیل تک نہ کرنے دیا۔ سوڈان سے دو چوٹی کے وکیل احمد امین سالک اور محمد احمد دورابی، فروری ۱۹۶۶ء میں قاہرہ پہنچے تو انھیں دھکے دے کر مصر سے نکال دیا گیا۔ اس طرح سید قطب نے تن تنہا بڑی جرأت اور استقامت سے مقدمے کا سامنا کیا۔ آخر کار ۲۹اگست ۱۹۶۶ء کو مفسر قرآن، مفکر اسلام، اعلیٰ پائے کے ادیب اور دانش ور سیّد قطب کو پھانسی دے دی گئی۔

اخوان کے قائدین میں ،میرا سب سے زیادہ گہرا تعلق استاد مصطفی مشہور سے تھا۔ وہ متعدد بار پاکستان میں ہمارے مہمان رہے، خصوصاً افغانستان کے جہاد کے زمانے میں۔ اس کے علاوہ ان سے میری ملاقاتیں انگلستان، مصر، جرمنی اور ترکی میں بھی ر ہیں۔ ہم نے دعوت دین کے کاموں میںتبادلۂ خیال کے لیے ایک مشاورت قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کوششوں کے وہ سربراہ تھے اور میں ان کا نائب تھا۔حسن البنا کی زندگی میں مصطفی مشہور نوجوانوں کے گروپ کے سربراہ تھے۔ اسی طرح مامون الہضیبی سے بھی مصر اور یورپ میں تبادلۂ خیال ہوتا رہا ۔ان تمام مواقع پر اشتراک اور افہام و تفہیم کا پہلو غالب رہا۔ البتہ حکمت عملی میں کبھی کبھار ترجیحات کے بارے میںاختلاف راے بھی پیدا ہوا۔ جماعت کے نظام تربیت کو انھوں نے سمجھنے کی کوشش کی۔ اخوان کے قائدین کویہ احساس تھا کہ فکری میدان میںہمارا [یعنی جماعت کا] کام ان سے بہترہے۔ہم نے کشمیر کے مسئلے کو تمام تفصیلات کے ساتھ واضح کیا اور اخوان نے اس مسئلے پر پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ اسی طرح فلسطین کے مسئلے کے سب سے مؤثر داعی اخوان تھے اور ہم نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔

  •  آرا میں اختلاف: جب سعید رمضان یہاں پاکستان میں تھے تو ان کی خواہش تھی کہ جماعت اسلامی کی موجودگی کے باوجود پاکستان میں ایک حلقہ ایسا بھی قائم کیا جائے جو براہ راست اخوان سے متعلق ہو۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ’الاحباب‘ کے نام سے تنظیم بنانے کی کوشش بھی کی تھی۔ چودھری غلام محمد صاحب اور میرے سمیت ،جمعیت کے رفقا نے ان سے تفصیلی بات چیت کی اوربتایا کہ ایسا کوئی بھی متبادل یا متوازی نظام یہاں قائم ہوا تو وہ اس مقصد کے لیے مجموعی   طور پرمفید نہیں ہو گا۔ ہمارا یہ اختلاف نظریاتی نہیںبلکہ حکمت عملی کا تقاضا تھا۔

ایک مسئلہ متعدد بار اخوان کی طرف سے اٹھا یا گیا تھا کہ ہم سب مل کر عالمی سطح پر تنظیم کا ایک ڈھیلا ڈھالا وفاق قائم کریں، لیکن ہم نے اس تجویز کی تائید نہیں کی، اور ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ موجودہ حالات میں حسب ضرورت آپس میں مل کر تبادلۂ خیالات سے آگے ہمیں نہیں بڑھنا چاہیے۔ اس کی دو وجوہ ہیں: پہلی یہ ہے کہ عالمی حالات کے پیش نظر کچھ رفاہی منصوبوں میں تعاون تو درست ہوسکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ ربط و تعلق موجودہ عالمی اور خود مسلم ممالک کے سیاسی حالات کی وجہ سے نہ ممکن ہے اور نہ مفید۔دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں کسی جگہ تحریک اسلامی پر پابندی ہے اوران کے خلاف ریاست قوت استعمال کر رہی ہے۔ کہیں کچھ نرمی ہے اور پناہ مل رہی ہے۔اگر آپ ایک نظم بن جائیں گے تو بین الاقوامی ریاستی تعلقات میں مسائل پیدا ہوں گے اورحکمرانوں کو تحریک اسلامی کے خلاف کام کرنے میں زیادہ قوت حاصل ہو جائے گی اور وہ اس کے خلاف زیادہ مؤثر اقدام کریں گے۔ البتہ اگر ہر ملک میں آزاد نظم رہے اور واحد مرکزیت سے گریز کیا جائے تو یہ تحفظ کا ذریعہ ہو گا۔ اسی لیے ہم نے کوئی بین الاقوامی تنظیم نہیں بنائی۔

یہ دُور اندیشی دراصل مولانا مودودی کی بصیرت کا مظہر ہے۔ البتہ کسی مسئلے پر مشترکہ موقف اختیار کرتے ہوئے متفقہ نقطۂ نظر بیان کرنا مختلف چیز ہے۔اس کے لیے وقتاً فوقتاً دوسرے پلیٹ فارم موجود ہیں۔ایسے پروگراموں میں اسلامی تحریکات کے ذمہ داران نے شرکت کرکے اس مقصد کو تقویت دی ہے، اورکوشش یہ رہی ہے کہ آپس میںزیادہ سے زیادہ ہم آہنگی رہے۔ یہ سوچ پوری دنیا میں اسلامی تحریک کے لیے مفید رہی ہے۔

۱۹۸۲ ء میں، قاہرہ میںمصر کے صدر حسنی مبارک سے ہم نے انھی کی دعوت پر ملاقات کی تھی۔اس ملاقات میں ہم نے یہ کہا تھا: ’’ اُمت کا مفاداسی میں ہے کہ ریاستی قیادت اور تحریک اسلامی تصادم کے بجاے افہام وتفہیم کاراستہ اختیار کریں، اور اگر تعاون ممکن نہیں تو ایک دوسرے کی پوزیشن کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر بقاے باہمی (co-existence)کا راستہ اختیار کریں۔

 ۷۰ کے عشرے میں،جب لیبیا میں اخوان پر پابندی نہیں تھی، ڈاکٹر شریف جوصدر قذافی کی کابینہ میں شامل تھے اور ڈاکٹر محمدیوسف مغائریف جو لیبیا کے آڈیٹرجنرل تھے، ان حضرات کے توسط سے مجھے پیش کش کی گئی تھی کہ میں لیبیا میں معاشی مشیر بن کر آجائوں، لیکن میں نے معذرت کی ۔ پھر جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ اخوان اور لیبیا کے مطلق العنان حکمرانوں کا راستہ الگ ہے۔اسی طرح سعودی عرب کے ذمہ داران سے اخوان کے بارے میں بار بار گفتگوئیں ہوئی ہیں۔ اُردن میںشہزادہ حسن بن طلال سے کئی بار میری ملاقات میں اخوان کے معاملے پر بات ہوئی ہے۔ ان تمام ملاقاتوں میں ہم نے کبھی بھی تحریک کی عزت اور وقار پر مصلحت آمیزی کا راستہ اختیار نہیںکیا،بلکہ ہمیشہ نصیحت اور تلقین کا راستہ اختیار کیا۔

۱۹۹۰ء میں، جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے قائدین نے عالم عرب کا دورہ کیا۔ اس وفد میں محترم قاضی حسین احمد، ڈاکٹر نجم الدین اربکان،ڈاکٹر حسن ترابی اور اخوان المسلمون اُردن کے عبد الرحمن خلیفہ شامل تھے۔مجھے بھی اس وفد میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ ہم نے عراق،اردن،سعودی عرب،اور ایران کا دورہ کیا،اور وہاں پر چوٹی کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے میں عراقی سربراہ صدام حسین سے بھی ہماری ملاقات ہوئی تھی۔اس گفتگو کا محور جنگ تھا۔ صدام حسین سے قاضی حسین احمدصاحب نے بڑے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ: ’’جنگ آپ پر مسلط کی جارہی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ مذکرات سے راستہ نکالیں۔ کویت پر قبضہ اصول اور حکمت دونوں اعتبار سے گھاٹے کا سودا ہے‘‘۔ ان کے نائب صدر سے ہم نے عراق میں گرفتار اخوان کے کارکنوں کی رہائی کے بارے میں بات کی،افسوس کہ انھوں نے کوئی واضح بات نہ کی۔

  •  جھاد اور تصورِ جھاد: عیسائی مشنریوں، جنگ جو. ُ صہیونیوں اورعلمی دیانت سے تہی دامن مستشرقین نے مسلم معاشروں کے مغرب زدہ عناصر کی مدد سے جہاد کے لفظ کو منفی پروپیگنڈے کا ہدف بنادیا تھا۔حسن البنا نے دعوت کے آغاز پر ہی یہ واضح کیا کہ جہاد کے معانی دراصل استبدادی، سامراجی اور طاغوتی قوتوںسے مقابلہ ہے۔اس طرح انھوں نے بڑے نمایاں انداز سے دعوت، فکر، تشریح، ابلاغ ، عمل،دفاع وغیرہ سے متعلق تفصیل سے راہ نمائی دی۔

اسی ضمن میں مولانا مودودی کا یہ بڑا اہم کارنامہ ہے کہ انھوں نے ۱۹۳۰ء میںجہاد کے تصور کو اپنی معرکہ آرا کتاب الجہاد فی الاسلام میں نکھار کر امت کے سامنے پیش کیا۔ ۱؎      ادھر اخوان المسلمون ۱۹۲۸ء میں قائم ہوئی ۔ حسن البنا کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے جہادکے تصور کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ فلسطین پر یہودی قبضے سے نجات پانے کے لیے مسلم امت کواس کے لیے عملاً تیار بھی کیا۔ اس طرح وہ امت جو سیاسی غلامی ،معاشی محکومی ،اخلاقی ابتری اورفکری مرعوبیت کے ہاتھوںشکست اور پسپائی کی علامت بن چکی تھی ،اسے علامہ محمد اقبال ،حسن البنا شہید اور   مولانا مودودی نے ایمان، اعتماد، امنگ، اورعزم کے ساتھ راستہ بنانے کی راہ دکھائی ۔

حالیہ تاریخ کا مطالعہ کریںتو معلوم ہوتا ہے کہ مصر وہ پہلا ملک ہے جہاں کھل کر دین اور سیاست کی تفریق کی بات پیش کی گئی تھی۔ برعظیم پاک و ہند میںمولانا ابوالکلام آزاد،علامہ محمداقبال اور مولانا مودودی کے مضبوط استدلال نے یہاں پریہ بات نہیں چلنے دی، جب کہ مصر میں      علی عبدالرزاق (م: ۱۹۶۶ء) نے کھلے بندوں چیلنج کے انداز میں یہ بات کہی تھی کہ خلافت کاقیام ضروری نہیں ہے، اور دین اور سیاست کی تفریق ممکن ہے اور کچھ حالات میں مطلوب بھی۔     امام حسن البنا نے اس چیلنج کا فکری اور عملی سطح پر جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ: اسلام ایک ریاست، ایک نظام حکومت اور ایک معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔اس طرح انھوں نے ریاست کے اسلامی تصور کو تحرک اور تحریک کا حوالہ بنادیا ۔بعد ازاں مسلم دنیا میں جتنی بھی اسلامی تحریکیں اٹھیں، خواہ وہ  اخوان المسلمون یا جماعت اسلامی کے قافلے سے الگ ہوکر چلیں یاالگ سے قائم ہوئیں،ان سب کا ایک اہم ہدف اسلامی ریاست کا قیام طے پایا۔آج اسلام پر جو بھی تحقیقی ، تجزیاتی یا سخت متعصبانہ مطالعات سامنے آرہے ہیں،ان میں اسلامی احیا اور اسلامی ریاست، اخوان، جماعت اسلامی، مولانا مودودی ،سید قطب اور حسن البنا کا ذکر مرکزی موضوعات کے طور پر ملے گا۔

  •  حکمت عملی اور بحران: اخوان المسلمون ایک زندہ تحریک ہے ،اور ایک  فعال تحریک کی حیثیت سے اسے داخلی طور پر کئی بحرانوں سے گزرنا پڑا ہے ۔ بعض اوقات اس کے مختلف وابستگان الگ بھی ہوئے ہیں،اور انھوں نے الگ سے اپنی راہ بنائی بھی ہے ۔جب وہ الگ ہوگئے تو پھر اپنے قول وفعل کے ذمہ دار وہ خود ہیں، اخوان المسلمون یا حسن البنا ان افراد کے کسی فعل کے لیے جواب دہ نہیں ہیں۔

 اخوان المسلمون کے بڑے دھارے نے بڑے تسلسل کے ساتھ ،استبدادی حکومتوں کی جانب سے مسلط کردہ آزمایش کا مقابلہ کیا۔ اپنے متوازن اور راست طریق کار کو انھوں نے ترک نہیں کیا اور نہ وہ کسی رد عمل کا شکار ہوئے۔یہ دراصل حسن البنا کی اس تربیت کا کرشمہ ہے جس کے تحت مختلف نامساعد حالات کے باوجود انھوں نے راستہ نکالنے والی انقلابیت کا دامن تھامے رکھا۔ بالکل یہی صورت حال مولانا مودودی کے ہاں بھی دکھائی دیتی ہے، جو سخت سے سخت اشتعال انگیز حالات کے باوجود واقعات سے متاثر نہیں ہوتے ،بلکہ خداداد دانش اوراللہ پر بھروسا کرتے ہوئے اس طرح راستہ بنالیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

اخوان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف وہ لوگ تھے جنھوں نے شدید ردعمل میں آکراخوان سے ناتا توڑ لیااور اپنی نادانی سے استبدادی قوتوں کو مضبوط کیا۔ انجام کارظلم کی سیاہ رات طویل ہوئی اور تبدیلی کے امکانات کی دنیا محدود ہوئی۔ دوسری جانب الگ ہونے والے وہ لوگ تھے، جو سمجھتے تھے کہ ہمیں مقتدر قوتوں کے ساتھ مل کر راستہ بنانا چاہیے۔ ان میں سے بعض لوگوں نے صدر ناصر اور کچھ افراد نے صدر سادات سے تعاون بھی کیا،مگر کوئی امید بر نہ آئی بلکہ اس طرح وہ اور زیادہ بے وزن ہوئے۔مقصد کا حصول دُور کی بات ہے ،وہ خود اپنے مشن سے دور ہوتے چلے گئے۔ طاغوت کے طرف داروں سے مل کر طاغوت کو لگام دینا کارِمحال ہے۔گویا کہ مقصد اور منزل کے بارے میں سمجھوتا تباہ کن ہوتا ہے۔

حکمت اور مصلحت ،قرآن کے اصول ہیں۔ ان دونوں کا مفہوم سیرت پاک کے مطالعے سے متعین ہوجاتا ہے۔ہرجگہ اور ہر دور میں اسلامی تحریکوں کو چاہیے کہ وہ ان اصولوں کو اپنی پالیسی کا حصہ بناکر شہادتِ حق، تطہیرافکار اور تعمیرمعاشرہ کا راستہ بنائیں۔ اس راستے کا انتخاب کرتے ہوئے غلطی بھی ہوسکتی ہے، لیکن غلطی تو اس صورت میں بھی ہوسکتی ہے کہ آپ پورے معاشرے سے کٹ کر کسی جنگل بیابان میں چلے جائیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اجتہادی غلطی کا بھی ایک اجر ہے اور اگر اجتہاد صحیح ہے تو اس کے دو اجر ہیں۔ اسی فریم ورک کے اندر اخوان کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی، اور آیندہ آنے والوں کے لیے بھی اہم سبق ہے۔

  •  علمی میدان میں خدمات: عام طور پر ہمارے تحریکی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حسن البنا شہید اور ان کے قریبی رفقا نے شاید کسی ٹھوس علمی کام کی بنیادیں استوار نہیں کیں،بلکہ یہ کام محض واعظانہ ابھار اور وقتی جوش و ولولے پر رواں دواں تھا۔میرے خیال میں یہ تاثر سراسر معلومات کی کمی کے باعث پھیلا ہے۔ مصر میں اخوان کے علاوہ بھی علمی کام کی روایت گہری اور بڑی وسیع ہے۔ اس علمی روایت میں دونوں طبقے شامل ہیں، یعنی اسلام پر تنقید کرنے والے بھی اور اسلام کا دفاع یا اسلام پیش کرنے والے بھی۔ بلاشبہہ حسن البنا شہید نے کوئی     بڑی بڑی کتابیںتصنیف نہیں کیں۔ ان کے ۲۰ رسائل اور بیش تر تقاریر ہیں۔ یہ مختصر رسائل بھی  فکری گہرائی اور حکیمانہ راہ نمائی سے بھرپور ہیں، اور قرآن اور سیرت کے گہرے مطالعے اور اپنے دور کے حالات پر انطباق کے مظہر ہیں۔

ہمارے ہاں علمی کام کازیادہ حصہ اللہ کے ایک بندے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی   فکر وکاوش کاثمرہ ہے۔ اس کے برعکس اخوان کے ہاں ہمیں نظر آتا ہے کہ ایک پوری ٹیم ہے جس نے مل کر یہ کام کیا ہے۔ اس کام کی وسعتوں کو دیکھیں تو یہ بڑا معرکے کا کام ہے ۔مثال کے طور پر عبدالقادر عودہ شہید نے اسلامی قانون پر جو کام کیا، وہ ۲۰ ویں صدی کے معتبر ترین کاموں میں سے ایک کام ہے۔ وہ اپنے فن کے ماہر تھے اور قرآن و سنت پر ان کی نگاہ بڑی گہری تھی۔سید قطب شہیدنے تفسیر فی ظلال القرآن ،العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام، معالم فی الطریق وغیرہ جیسی معرکہ آرا کتب لکھیں،بلکہ ادبی اور فکری نوعیت کی بڑی قابل قدر تصنیفات بھی پیش کیں۔ڈاکٹر مصطفی حسنی سباعی کی ایک دو آرا سے اختلاف کے باوجود:  السنۃ ومکانتہا فی التشریع الاسلامی،نظام السلم والحرب فی الاسلام،المرأۃ بین الفقہ والقانون،الاستشراق والمستشرقون،المرونۃ والتطور فی التشریع الاسلامی،التکافل الاجتماعی فی الاسلام،غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہیں اور ان کے علاوہ بھی وہ مزید درجن بھر کتب کے مصنف ہیں۔ محمد الغزالی، بہی الخولی،محمد محمود الصواف،عبد البدیع صقر، محمداحمد ابوشقہ، ڈاکٹر سید سابق، ڈاکٹر عبدالعزیز کامل،ڈاکٹر عیسیٰ عبدہ ابراہیم،ڈاکٹر محمد المبارک، ڈاکٹر سعید حویٰ، عبدالکریم زیدان، ڈاکٹر جمال عطیہ ، ڈاکٹر یوسف قرضاوی، ڈاکٹر توفیق شاوی، پروفیسرمصطفی احمدزرقا، پروفیسر محمد قطب،پروفیسر عبد الحکیم عابدین،ڈاکٹر مالک بدری اور ان کے ہمراہ دیگر رفقا نے قائدانہ سطح کی کتب تحریر کیں۔انھوں نے یہ کام ایک ٹیم کی طرح انجام دیا۔ اوراس قافلۂ علم و دانش میں آج بھی قیمتی اضافے ہورہے ہیں۔پھر خود امام حسن البنا کے والد گرامی احمد عبدالرحمن البنا نے الفتح الربانی (شرح مسند امام احمد) ۲۴ جلدوں پر مشتمل ایک  بڑا وقیع علمی کارنامہ انجام دیا۔

اسی طرح صحافت کے میدان میں اخوان کے تجربات ،ندرت ِخیال ،بروقت اظہار ،  علمی شان اور عزم و حوصلے کو ابھارنے والاانداز بھی ایک قابل رشک پہلو رکھتاہے۔ یہ ایک دو پرچوں کی بات نہیں، بلکہ اس میں عربی،انگریزی اور فرانسیسی میں درجنوں چھوٹے بڑے رسائل وجرائد کے نام سامنے آتے ہیں۔پابندیاںلگتی رہیں،مگر نام ،اسلوب اور مقام بدل کرحق کی گواہی دینے کا فریضہ ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کی گئی۔پھر علمی اور تحقیقی مجلوں کو دیکھتے ہیںتومختلف عرب ریاستوں اور یونی ورسٹیوں کے جرائد تک میں اخوانی علم کلام کی گونج سنائی دیتی ہے،کہیںدھیمے انداز میںاور کہیں پُرزور انداز میں۔یہ سب کام ایمانی حلاوت ،اجتماعی وابستگی،روحانی جذبے اور مؤثر تربیت کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔

  •  آج کا منظرنامہ اور تقاضے:تحریک احیاے اسلام کے مخالفین نے جماعت اسلامی  اور اخوان المسلمون کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہوئے جہاد اور اسلامی ریاست کو ہدف تنقید بنایا ہے،اور ان دونوں چیزوں کو دہشت گردی سے جوڑ دیا ہے۔درحقیقت اس مغربی جارحیت کا مرکزی نکتہ اسلام کا وہ تصور ہے کہ جس کی وجہ سے امت کا اجتماعی ذہن مغرب کی طاغوتی بالادستی اور اس کی ذہنی، فکری، معاشی اور تہذیبی حاکمیت کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔اہل مغرب یہ چاہتے ہیں کہ ان کی من مانی اور دھونس کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ ہر کوئی ، ہر معاملے میں انھی کے فکر، خیال، اقدام اور عمل کو قبول کرے اور ایک خادم کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر تیار ہو۔مغرب کے عزائم کے برعکس مسلمانوں کی تصورِجہاد سے وابستگی لازوال ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس امت کی طرف سے ہر نوعیت کے ظلم کے خلاف مزاحمت رک نہیں سکتی۔

اس جارحانہ پروپیگنڈے اور حالات وواقعات کے منفی بہاؤ کو دیکھتے ہوئے بسا اوقات لوگوں پر مایوسی کے آثار نظر آتے ہیں۔بلاشبہہ بے جا خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، لیکن خواہ مخواہ کی مایوسی بھی غلط ہے۔ دشمن کے پروپیگنڈے سے خائف نہیں ہونا چاہیے، مگر کھلی آنکھوں اور کشادہ ذہن کے ساتھ معاملات کا تجزیہ کرنے کا عمل بھی ترک نہیں کرنا چاہیے۔

موجودہ عہد میں جس وسعت اورجس شدت کے ساتھ مولانا مودودی ،حسن البنا شہید، اور سید قطب شہیدکے خلاف یہود ونصاریٰ اور ہنود پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس کی فکری، مذہبی اور عملی بنیادوں کا ادراک کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سید قطب اور مولانا مودودی کی فکر کو درست   پس منظر میں پیش کرنا نہایت ضروری ہے۔ جذباتی اور علامتی وابستگی سے بڑھ کر اسے شعوری اور نظریاتی تناظر میں سمجھنے اور پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا مودودی اسلامی تحریکوںکے سامنے آج ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ صف بندی گہرے شعور کے ساتھ کی جائے اور مسلمان نوجوانوں کو دردمندی سے سنبھالا جائے۔اگر کوئی مسلمان نوجوان شدید دباؤ کے نتیجے میں ردعمل کے راستے پر جاتا ہے تو مجھے ڈر ہے کہ پھر وہ مغرب کے تعصب اور ظلم و ستم کے جواب میں اور زیادہ تشدد کی طرف ہی جائے گا۔ اصولاً یہ راستہ نہ درست ہے اور نہ مطلوب۔ اگر یہ نوجوان سید قطب اور سید مودودی کے اصل فکری نظام (پیراڈائم)کو  سمجھ لے گا تو ظلم کے خلاف دلیل کی قوت، کردار کی شان اور دعوت وحکمت کی طاقت کے ساتھ تو ضرور اٹھے گا، لیکن ایک ظلم کی جگہ وہ کبھی دوسرے ظلم کا حصہ نہیںبنے گا۔ یہ اسی وقت ہو گا جب وہ اس نظامِ فکر اور نظم ِتنظیم سے وابستہ ہوگا۔ اس طریقۂ کار کے لیے وقت لگے گا، محنت کرنا ہوگی،اورصبر و ہمت سے کام کرنا پڑے گا۔

میں تشدد کے فروغ کی کسی بھی شکل کو حقیقی اسلامی تحریک اور اسلامی احیا کے لیے ایک   تباہ کن خطرہ سمجھتا ہوں، تاہم کشمیر، فلسطین، چیچنیا میں آزادی کی تحریکوں، اور عراق و افغانستان پر غیرملکی تسلط کی نوعیت دوسری ہے۔ اسلام، انسانیت کے لیے نظام رحمت ہے، اورنبی کریمؐ رحمۃ للعالمین ہیں۔ اسلام کے علَم بردار یہ بات قبول نہیں کرسکتے کہ ایک ظالم کے ظلم کی سزا دوسرے بے گناہ لوگوں کو دی جائے۔ اس لیے جب مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کا مرحلہ آئے تو وہ بھی،رحمت عالمؐ کے پیش کردہ نمونۂ عمل کو سامنے رکھ کر اختیار کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ اختیار کردہ راستہ سرور عالمؐ کا راستہ نہیںہوسکتا،چاہے اس کے لیے کیسے ہی خوش نما دعوے اور دلائل پیش کیے جائیں۔جان لینا چاہیے کہ جہاد اور انتقامی تشدد کے درمیان بڑا فرق ہے۔ ہمیں دشمن کے کھیل کا حصہ نہیں بننا،مگر خاموشی سے بھی خود ہمارے اور اسلام کے بارے میں ایک غلط تصور پیدا ہوگا۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ انسانیت کو خیر کی طرف بلائیں اور شھداء علی الناس کی ذمہ داری ادا کریں۔ ہم سب کو فکر کرنی چاہیے کہ اسلام کی دعوت، تربیت، شناخت اور تحریک اسلامی کا امتیازی کردار مجروح نہ ہونے پائے۔

یہی حسن البنا شہید اور مولانا مودودی کی دعوت اور ان کا پیغام ہے۔

                                               

کسی بھی تحریک کا مؤسس اپنے نظریات اور تحریک کا سب سے بہتر تعارف ہوتا ہے۔ جوشخص اپنے مقاصد سے جس قدر مخلص ہوگا اس پر، اس کے ساتھیوں پر، اور اس کی تحریک پر ان مقاصد کی چھاپ اُتنی ہی گہری ہوگی۔ امام حسن البنا شہید کی تمام تر جدوجہد کا اصل مقصد رب کی رضا کا حصول اور اللہ کے رنگ میں انفرادی و اجتماعی طور پر رنگ جانا تھا۔ ان کی پوری زندگی میں یہی پہلو سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔

قرآن کریم اور سنت نبویؐ سے براہِ راست ربط و تعلق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثل محبت اور وابستگی نے اخوان کو دعوت و تحریک کے مستقل مکتب کی حیثیت دے دی ہے۔ اخوان کا معروف شعار: اللہ ہمارا مقصود ہے، قرآن ہمارا دستور ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے راہ نما ہیں، جہاد ہمارا راستہ ہے، اور اللہ کے راستے میں موت ہماری سب سے بڑی آرزو ہے___ اس روحانیت کا جامع خلاصہ ہے۔ اسی شعار کو بنیاد بناکر انھوں نے اصلاحِ نفس، اصلاح اہل خانہ، اصلاحِ معاشرہ اور تعمیرملت کی مثالی جدوجہد کی۔

امام حسن البنا شہید نے اپنے ساتھیوں کی تربیت میں جہاد اور قربانی کو بہت اہمیت دی۔ انھوں نے اخوان کے کارکنان کو ہر طرح کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ فاروق کے مظالم ہوں یا جمال عبدالناصر کی بے وفائی اور ظلم و تشدد، انورسادات کا جبر ہو یا  حسنی مبارک کے غیرقانونی اقدامات، بیرونی سازشیں ہوں یا اندرونی حالات کی سنگینی، اخوان   ان تمام آزمایشوں میں سخت جان نکلے۔ انھیں ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ایک ایک کرکے ختم ہوگئے، لیکن انھیں شہید، اسیر یا ملک بدر کرکے کبھی ختم نہ کیا جا سکا۔ یوں اخوان المسلمون کی تحریک کا دائرہ نہ صرف پورے عالمِ عرب پر محیط ہوگیابلکہ اس کے اثرات پورے عالم اسلام میں پھیل گئے۔

صہیونی طاقتوں کی خواہش اور کوشش تھی کہ مسلم دنیا بالخصوص مصر سے اسلامی روح کا خاتمہ کردیا جائے۔ مصر پر خصوصی توجہ اس لیے تھی کہ مصر، فلسطین پر صہیونی قبضے کے خلاف مزاحمت کی بنیادی کڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مصر ہی سے اسرائیلی وجود کے خلاف عملی مزاحمت سامنے آئی تھی۔ اس مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے بہت سی کاوشوں کا نقطۂ آغاز مصر ہی قرار پایا۔ فلسطین پر یہودی قبضے کو تسلیم کروانے کے لیے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہو یا عالمِ اسلام کے خلاف دیگر ثقافتی، دفاعی، جاسوسی اور اقتصادی سازشیں، ان کی تنفیذ میں بنیادی خدمت عالمِ اسلام کے حکمرانوں بالخصوص فلسطین کے پڑوسی ممالک سے لی گئی۔ سازشی عناصر اور ان کے خدمت گار جانتے تھے کہ اس راہ کی بنیادی رکاوٹ اسلامی تحریکیں اور معاشرے کے متدین عناصر ہیں۔ اس رکاوٹ کے ازالے کے لیے اندرونی و بیرونی قوتوں نے ہرممکن ہتھکنڈا آزمایا۔ جھوٹے الزامات لگے، مہیب پروپیگنڈا ہوا،اور اندرونی و بیرونی فتنوں کو ہوا دی گئی۔ ملک بدری، اسیری اور پھر گولیاں اور پھانسی کے پھندے، اور ظلم و جور کے تمام ہتھکنڈے آزمائے گئے لیکن اللہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جہاد فی سبیل اللہ کی محبت سے سرشار اور کتاب اللہ کے نور سے منور چراغوں کو بجھایا نہ جاسکا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمۂ فیض سے سیراب کھیتی، ہر آن اپنی بہار دکھاتی اور یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِھِمُ الْکُفَّارَ (الفتح: ۴۸:۲۹) ’’کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں‘‘کا مصداق بنی رہی۔

وہ کارواں جو امام حسن البنا اور ان کے چند مخلص ساتھیوں کی جدوجہد سے شروع ہوا تھا، تمام تر چرکے سہنے کے باوجود آج کہیں حماس کی صورت ناقابلِ شکست ہے، کہیں اخوان المسلمون کی پے درپے کامیابیوں کی صورت مخالفین کو لرزہ براندام کیے ہوئے ہے۔ کہیں الجزائر کے ۸۰ فی صد راے دہندگان کے نقارے کی صورت سنائی دیتا ہے۔ عالمِ عرب ہی نہیں، جہاں جہاں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی جمع ہیں، اخوان غلبۂ اسلام کی اس جدوجہد کے دست و بازو بنے   ہوئے ہیں۔ اُمت کی اُمیدوں کے ترجمان ہیں، اور اس یقین سے سرشار ہیں کہ حق کو بالآخر غالب ہونا ہے اور باطل کو مغلوب۔

مسلسل قربانیوں اور ہمہ وقت جدوجہد سے اسلامی تحریکوں نے پوری دنیا پر یہ حقیقت آشکار کردی ہے کہ قربانیاں اور مشکلات کبھی کسی تحریک کے خاتمے کا باعث نہیں ہوتیں۔ قربانیوں نے ہمیشہ تحریک کو مزید تقویت و زندگی بخشی ہے۔ جہاد کی فصل جتنی کٹتی ہے اتنی ہی مزید پھلتی پھولتی ہے۔ہاں، قربانیوں سے اجتناب، مشکلات کا خوف اور خطرات کے اندیشہ ہاے دُوردراز، تحرک کے بجاے تساہل و تکاسل ضرور ایساوقت لاتے ہیں کہ پھر تحریک تحریک نہ رہے، تعفن زدہ تالاب بن جائے۔ اقبال نے بھی اپنے اشعار سے یہی پیغام دیا اور حسن البنا کی شہادت سے اخوان اور اسلامی تحریک کو ملنے والی حیاتِ تازہ سے بھی یہی پیغام ملا:

ساحل افتادہ گفت‘ گرچہ بسے زیستم
ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من چیستم
موج زخود رفتۂ تیز خرامید و گفت
ہستم اگر مے روم، گر نہ روم نیستم!

(پڑے ہوئے ساحل نے کہا کہ: اگرچہ میںبڑی دیر زندہ رہا ہوں، لیکن افسوس! مجھے کچھ معلوم نہیں ہوا کہ میں کیا ہوں۔ اپنی جان سے گزرنے والی موج تیزی سے لپکی اور اس نے کہا، اگر میں حرکت میں ہوں تو زندہ ہوں، اگر نہیں ہوں تو نہیں ہوں،گویا زندگی حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔)

یہی مطلب مرزا بیدل کے ایک شعر میں اس طرح ادا ہوا ہے:

ما زندہ ازانیم کہ آرام نہ گیرم
موجیم کہ آسودگی ما عدم ماست

(ہم اس لیے زندہ ہیں کہ رکتے نہیں ہیں۔ ہم ایسی موج ہیں کہ ہمارا ٹھیرنا ہماری موت ہے۔)

سید قطب کے الفاظ میں کہ: ’’شہید کے ہزاروں خطاب اور ہزاروں کتابیں بھی اخوان کے دلوں میں تحریک و دعوت کے وہ الائو روشن نہیں کرسکتے تھے جو ان کے پاکیزہ خون سے منور ہونے والے چراغوں نے دہکا دیے تھے‘‘۔ اپنے مقصد سے مضبوط وابستگی اور نیت و عمل میں  کامل اخلاص نے حسن البنا کو اُمت کی اُمیدوں کا مرکز بنا دیا۔ وہ خود بھی ایک مؤثر قوتِ محرکہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کے گرد علماے کرام اور عظیم مفکرین کی ایک کثیرتعداد جمع کردی۔ امام نے زیادہ کتابیں تونہیں لکھیں لیکن ان کے الفاظ:  اصنف الرجال (میں مردان کار تصنیف کرتا ہوں)۔ ایسی حقیقت بن گئے کہ سیدقطب، سید سابق، عبدالفتاح ابوغدہ، محمدالغزالی، علامہ یوسف القرضاوی، استاذعبدالمعز عبدالستار، استاذ مصطفی مشہور، استاذ کمال الدین سنانیری اور اسی پایے کے لاتعداد جلیل القدر علماے کرام ان کے حلقۂ عمل میں شامل ہوگئے۔ ان بزرگ علماے کرام کی روحانی تربیت کرکے انھوں نے عالم اسلام کو ایک ایسے مبارک گروہ کا تحفہ دیا جو علم و عمل اور تقویٰ و للہیت کا نمونہ تھا، اور جنھوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت اورقرآن کی تعلیمات کو اپنی شخصیت میں جذب کرلیا تھا۔اس مبارک گروہ سے آج عالم اسلام میں زندگی کی لہر دوڑ رہی ہے۔ قرآن کریم میں مؤمنین کی جو صفات بیان ہوئی ہیںاور اللہ کے ولیوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان بزرگ شخصیتوں میں ہم نے اس کا پرتو دیکھا ہے۔ یہ وہ چلتی پھرتی کتابیں ہیں جو امام حسن البنا شہید نے تصنیف کی ہیں اور ان سے آج پورا عالم روشن ہے۔

اخوان المسلمون کے ساتھ طالب علمی کے زمانے ہی سے میرا تعلق اتنا گہرا تھا کہ جب میں اپنی زندگی کے ان چند واقعات کو یاد کرتا ہوں جب میں شدید صدمے اور حزن سے دوچار ہوا،تو ان میں سے ایک عبدالقادر عودہ شہید اور ان کے ساتھیوں کی سزاے موت کا واقعہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے علاقے کے ایک چھوٹے سے قصبے کے ریلوے اسٹیشن کی مسجد میں اس روز کتنی دیر تک آنسو بہاتا رہا اور رو روکر اپنے رب کے سامنے اپنے درد و حزن کا اظہار کرتا رہا۔اس کے بعد  لمحہ بہ لمحہ ہم سید قطب اور اخوان کے دوسرے راہ نماؤں پر ہونے والے مظالم کی روداد سنتے اور پڑھتے رہے، اور اس پورے عرصے میں براہ راست ملاقات نہ ہونے کے باوجود ہمارے دل    ان کے ساتھ جڑے رہے، بلکہ یہ رودادیں ہماری تربیت کا ذریعہ بنیں۔ انھی دنوں ہم ذہناً  اس تعذیب کو سہنے اور اس کی سختیوں کو برداشت کرنے کی تیاری کرتے رہے جن سے ہمارے  اخوانی بھائی گزرے تھے۔

                 ۷۳-۱۹۷۲ء میں پہلی بار میں نے سفرحج کیا۔ اس سال منیٰ میں اخوان کا باقاعدہ کیمپ لگا تھا۔ ان دنوں پشاور شہر کی جماعت اسلامی کی ذمہ داری میرے سپرد تھی۔ قومی یا عالمی سطح پر میرا تعارف نہیں تھا۔ ایک عام کارکن کی حیثیت سے میں تھوڑی دیر کے لیے ان اللہ والوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ استاد حسن الہضیبی طویل قید سے [ناصر کے زمانے میں] رہائی کے بعد کیمپ میں شریک تھے۔ انتہائی ضعف کی حالت میں جب انھیں اپنی کرسی پر بٹھایا گیا تو اخوان کے دکھی دلوں کے زخم تازہ ہوگئے،اور سب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔جب تھوڑا قرار آیا تو رونے پر قابو پا کر بلند آواز سے سب نے مل کرذکر شروع کر دیا: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لاَ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ- دیر تک اللہ والے یہ ورد کرتے رہے۔ بعد میں کیمپ میں کئی اخوانی ساتھیوں کے علاوہ اردن کے اخوانی راہ نما استاذ عبدالرحمن خلیفہ سے بھی پہلی ملاقات ہوئی۔

اسی سال حج کے بعد میں نے عالم اسلام کا سفر کیا۔ مصر بھی گیا لیکن اخوان کے دور ابتلا کی وجہ سے وہاں اس کا موقع نہیں ملا کہ اخوان کے کسی راہ نما سے ملاقات کا شرف حاصل کر سکوں۔ البتہ قاہرہ اور سکندریہ کے گلی کوچوں میں امام حسن البنا اور ان کے شہید ساتھیوں کے آثار کی تلاش میں رہا۔  اس سفر کے دوران لبنان اور شام کے بعض اخوانی راہ نماؤں سے ابتدائی ملاقاتیں رہیں۔

زمانہ طالب علمی سے ہی امام حسن البنا اور سید مودودی کی محبت یکساں طور پر میرے دل میں موجود رہی ہے۔ امام حسن البنا اورمولانا مودودی کے درمیان ملاقات یاکسی قسم کے رابطے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں، مگر دونوں کی شخصیت، فکر اور تحریک میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب قرآن و سنت کی مشترکہ بنیاد ہے۔اخوان المسلمون نے ہمیشہ جماعت اسلامی کو برعظیم پاک و ہند کی تحریکِ اخوان ہی سمجھا، اور ہم نے ہمیشہ اخوان المسلمون کو عالمِ عرب میں جماعت اسلامی ہی کی قائم مقام تحریک کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ حیرت انگیز تعلق خاطر اور افکار کی یکسانیت عصرِحاضر میں وحدت اُمت کی مضبوط ترین اساس ہے۔

اخوان کی قیادت اور ہم نے مل کر فرقہ بندی، ذات پات، لسانیت یا علاقائیت سے بالاتر ہوکر دینی و ملّی مشترکات پر اُمت کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے اس ضمن میں اخوان المسلمون کے متعدد ذمہ داران سے تبادلۂ خیالات کا موقع بھی ملا ہے۔ اخوان کے سابق مرشدعام مصطفی مشہور سے اکثر و بیش تر ملاقاتیں رہیں۔ وہ کئی بارپشاور میں ہمارے مہمان رہے۔ وہ مکمل طور پر فنا فی اللہ، اخلاص و جذبے سے معمور، اخوت سے سرشار اور دانا وبینا انسان تھے۔ یہی عالم بالترتیب تیسرے، چوتھے اور پانچویں مرشدعام عمرتلمسانی، محمد حامد ابوالنصر اور مامون الہضیبی کا تھا۔ معروف محدث اور بزرگ عالمِ دین عبدالفتاح ابوغدہ (مرحوم) میرے بڑے بھائی مولانامحمد عبدالقدوس (مرحوم) کے قریبی دوست اور ساتھی تھے۔ وہ علم و تقویٰ اور تحریکی شعور کا خوب صورت مرقع تھے۔ ان سے ملاقات علمی ذوق و شوق میں ترقی اور تحریکی وابستگی میں پختگی اور یک سوئی کا سبب بنتی تھی۔

اخوان کے بزرگ راہ نماؤں سے قریبی ملاقاتوں اور کسب فیض کا موقع اس وقت ملا جب جہادافغانستان [۹۲ء-۱۹۷۸ء]میں اخوان المسلمون نے باقاعدہ دل چسپی لینی شروع کی اور پشاور میں میرا غریب خانہ افغانوں اور اسلامی تحریکوں کامرکز بن گیا۔ اخوان المسلمون کے کئی راہ نما اس دوران ہمارے ہاں قیام پذیر ہوئے ۔ سابق مرشد عام استاذمصطفی مشہور، استاذ کمال الدین سنانیری اور نائب مرشد عام ڈاکٹر احمدالملط کی میزبانی کا شرف مجھے حاصل ہوا ،اوران کے ساتھ سفر کرنے کا بھی موقع ملا۔ انھی دنوں سفر میں استاذ عبدالمعز عبدالستار کا ساتھ نصیب ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے براہ راست امام حسن البنا شہید سے فیض حاصل کیا تھا۔جوانی ہی میں امام شہید نے ان کے دل مٹھی میں لے لیے تھے اور اُن کے گہرے روحانی نقوش ان کی شخصیتوں پر ثبت ہو گئے تھے۔میں نے ان کی خلوت و جلوت کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان لوگوں پر اللہ کا رنگ( صبغۃ اللّٰہ) مکمل طور پر چڑھا ہواتھا۔ان کی باتیں ذکر کی باتیں تھیں، ان کی خاموشی اللہ کی یاد میں خاموشی تھی،اور ان کی معیت میں ایک گہرا روحانی سکون محسوس ہوتا تھا۔

استاذ کمال الدین سنانیری تقریباً ۱۵ دن ہمارے گھر میں مہمان رہے۔ میں نے اپنی تحریکی زندگی میں ان جیسا للہیت سے سرشار انسان کم ہی دیکھا ہوگا۔غیر محسوس طور پر ایک دن چھوڑ کر روزے سے رہتے تھے لیکن گھر کے لوگوں کے سوا کسی کو بھی ان کے روزے کا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ جب لطیف پیراے میں کھانے پینے سے معذرت کرتے تو معلوم ہوتا کہ روزے سے ہیں۔ استاذ کمال الدین مرشدعام کے خصوصی نمایندے کی حیثیت سے افغان مجاہدین کی خدمت اور     افغان قائدین میں مصالحت و یک جہتی کی خاطر آئے تھے، اور اپنی تمام تر توجہ اسی ایک مقصد کے حصول پر مرکوز رکھی۔ میں نے انھیں کبھی فارغ نہیں دیکھا۔ جب بھی فرصت کا کوئی لمحہ میسر آتا، وہ جیب سے قرآن کریم نکالتے اور تلاوت میں مشغول ہوجاتے۔ بدقسمتی سے مصر واپسی پر اس فنا فی اللہ، ربانی شخصیت کو سرکاری گماشتوں نے اذیتیں دے دے کر شہید کردیا، اور دنیا سے جاتے ہوئے بھی وہ اپنے مرشدعام امام حسن البنا شہید سے مشابہ ٹھیرے۔استاذ مصطفی مشہور ہر فارغ لمحے میں کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول رہتے تھے۔ استاذ عبدالمعزعبدالستار کے روحانی اثر کو میں آج ہزاروں میل کی طویل مسافت کے باوجود محسوس کرتا ہوں۔

اسی لیے میں نے آغاز میں عرض کیا کہ تحریک کا حقیقی تعارف اس سے وابستہ افراد کے اخلاق و کردار سے ہوتا ہے، اور تحریک کا بانی اپنی تحریک اور تحریکی افراد پر اپنے گہرے نقوش مرتب کرتا ہے۔امام شہید کی روحانی کشش اس قدر شدید تھی کہ جس کا بھی ان کے ساتھ تعارف ہوا،  اس کا دل ان کے ساتھ جڑ گیا۔ ان کے قریبی ساتھیوں میں ان کی تربیت کی وجہ سے ایسی جاذبیت پیدا ہو گئی تھی کہ عالم اسلام کے ہزاروںلاکھوں نوجوانوں کے دلوں میںان کی محبت کے دیرپا نقوش ثبت ہو گئے ہیں۔

ترجمان القرآن کی اس ’اشاعت خاص‘ میں اخوان المسلمون کے بانی، اور مرشد ربانی کی فکر، شخصیت اور کردار و اثرات کا مطالعہ پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے___ یہ نہ صرف اسلامی تحریک کی بنیادی ضرورت تھی بلکہ امام حسن البنا شہید کا ہم سب پر حق بھی تھا۔ میں اس اہم علمی و تحریکی خدمت پر اس کی تیاری میں حصہ لینے والے تمام ساتھیوں کے لیے قبولیت کی دعا کرتا ہوں۔ خدا کرے کہ اس میں شامل تحریریں ہمیں ایک تازہ جذبۂ عمل سے سرشار کریں۔ آمین!

                                               

یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ مصر میں شیخ حسن البناشہید نے جس وقت احیاے اسلام کے لیے کام کرنا شروع کیا تھا،قریب قریب وہی زمانہ تھا،جب اس برعظیم پاک و ہند میں بھی ٹھیک اسی مقصد کے لیے کام شروع کیا گیا۔دونوں کے درمیان شاید ایک دو برس کا فرق ہو،لیکن زمانہ تقریباً یکساں ہے۔سالہا سال تک ان سے ہم اور ہم سے وہ بے خبررہے۔حالاں کہ ایک ہی راستے پر چل رہے تھے۔ایک مدت دراز کے بعد جا کر ہمیں پتا چلاکہ مصرمیں اخوان کی تحریک انھی مقاصد کے لیے چل رہی ہے، اور اسی طرح سے سالہا سال بعد ان کو بھی یہ معلوم ہواکہ برعظیم پاک و ہند میں اسی طرح کی ایک تحریک کام کر رہی ہے۔اب یہ خدا کی مشیت ہے کہ وہاں پہلے اس کے مرشداوّل شہید ہوئے پھر مرشد ثانی بھی اپنے رب کے حضور پہنچ گئے، اور یہاں اس کام کو جس نے شروع کیاتھاوہ دونوں کا غم سہنے کے لیے آج بھی زندہ ہے۔

اخوان کی تحریک کی قدر و قیمت کا اندازہ اس ملک میں بہت کم لوگوں کو ہے ۔مگر جاننے والے جانتے تھے کہ عرب ممالک میں خصوصاًاور دنیا کے دوسرے ممالک میں عموماً احیاے اسلام کے لیے جو کام ہوا،مسلمانوں میں دینی،اخلاقی بیداری پیدا کرنے کی جو خدمت انجام دی گئی اور عوام و خواص کو حقیقی اسلام سے روشناس کرانے اور خلوص کے ساتھ اسے سربلند کرنے کی جو کوشش کی گئی، وہ زیادہ تر اخوان ہی کی اس تحریک کا ثمرہ ہے،جسے شیخ حسن البنا نے شروع کیا،اور شیخ عبدالقادر عودہ شہید،سید قطب شہیداور حسن الہضیبی مرحوم نے پروان چڑھایا۔

عرب ممالک میںآپ عراق سے مراکش تک چلے جائیں،ہر جگہ آپ یہی دیکھیں گے کہ جن لوگوں کو بھی اسلام سے گہرا اور قلبی تعلق ہے، وہ زیادہ تر اخوان ہی کے آدمی ہیںیا ان کی تحریک سے متاثر ہیں۔اسی طرح امریکا اور یورپ میں بھی آپ دیکھیں گے کہ جو عرب نوجوان اسلامی جذبے سے سرشار ہیں،وہ اکثر و بیش تراخوانی ہیں۔حتیٰ کے اخوانیت ایک طرح سے اسلامیت کا نشان بن گئی ہے ۔کوئی آدمی تعلیم یافتہ ہو اور پھر دین دار بھی ہوتو لوگ آپ سے آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ضرور اخوان میں سے ہے، یا کم سے کم اس تحریک سے متاثرہے۔حتیٰ کہ جب اسلام دشمنی کا روگ بعض عرب ممالک کو لاحق ہواتو ہر اس نوجوان کے پیچھے سی آئی ڈی لگ جاتی تھی، جو نماز پڑھتا  نظر آتاتھا۔یہ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس فتنے کے دور میں اخوان کی تحریک بر وقت برپا ہوگئی اور یہ تحریک نہ اٹھی ہوتی تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ عرب ممالک لادینیت،قوم پرستی اور سوشلزم کے طوفان میں کس حد تک پہنچ چکے ہوتے۔

اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ۲۵‘ ۳۰ سال پہلے عرب ممالک میںجو لوگ بھی اسلامی جذبے سے عاری تھے اور جن پر سیکولرزم اور قوم پرستی کا شیطان مسلط تھا،وہ سب انڈین نیشنل کانگریس کے حامی اور تصور پاکستان کے مخالف تھے۔صرف اخوان ہی کا گروہ ایسا تھاجو پاکستان کا حامی تھا۔آج بھی وہاں وہی پاکستان کے سب سے زیادہ خیر خواہ ہیں۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ جب اخوان پر پے در پے مظالم ہوئے تو یہاں[پاکستان میں] ان سے ہمدردی کرنے والے بہت کم تھے اور دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ان پر الزام لگانے والے اور تہمتیں گھڑنے والے بہت زیادہ پائے گئے۔حتیٰ کہ جب انصاف کی مٹی پلید کرکے اخوان کو بدترین سزائیں دی گئیںاور ان کے بہترین آدمیوں کو پھانسی پر چڑھایا گیاتو یہاں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہ تھی جنھوں نے اس پر احسنت ومرحبا کی صدائیں بلند کیں۔افسوس کہ لوگوں کو دوست اور دشمن کی تمیز بھی نہیں رہی۔بے شعوری میں یہ احساس تک نہیں کیا گیاکہ ہم اپنے دوستوں کو برا کہہ رہے ہیں اور دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں۔

ہم خلوص دل سے دعا کرتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ شیخ حسن الہضیبی کو اپنے دامن رحمت میں جگہ دے،ان کو بلند مرتبے عطا فرمائے، ان کی قربانیوں اور خدمات کا بہترین اجر عطا فرمائے۔  جن لوگوں نے ان پر ظلم ڈھائے اور ۲۰ سال تک مسلسل ظلم و ستم ڈھاتے رہے، اللہ تعالیٰ اپنے عدل کے مطابق ان سے انتقام لے اور جس صبر و استقامت کے ساتھ مرحوم نے دین کی راہ میں ہرتکلیف کو برداشت کیااور اسلامی تحریک کی خدمت قید کی حالت میں بھی کرتے رہے، اس کا اجرجزیل انھیں عطافرمائے۔

اللہ تعالیٰ ان اخوان کو بھی بلند مرتبے عطا فرمائے، جنھوں نے فلسطین میںیہودیوں کے خلاف جنگ کی اور ایسی بہادری کے ساتھ لڑے کہ یہودی مصر اور دوسری عرب ریاستوں کی باقاعدہ افواج سے بڑھ کراخوانیوںسے ڈرتے تھے۔ان میں سے جو اس لڑائی میں شہید ہوئے، اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے اور جو اس لڑائی میں لڑے اور زندہ بچے اللہ تعالیٰ ان کو مجاہد اور غازی ہونے کا اجر عطافرمائے۔

یا اللہ! شیخ حسن البنا کو بلند مرتبے عطافرما۔ان کو اپنے مقربین میں جگہ دے۔ہم گواہ ہیں کہ یہ وہی تھے جنھوں نے احیاے اسلام کی اس تحریک کو اٹھایا۔لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں تبدیل کیںاور اس میں وہ روحِ جہاد پھونکی ،جس کی بدولت اس وقت تک بھی ہر طرح کے ظلم و ستم کے باوجودمصر کی سرزمین سے اسلامی تحریک کے اثرات نہیں مٹائے جاسکے۔

یا اللہ! ان لوگوں کی قربانیوں کو بھی قبو ل فرماجن کو پھانسیوں پر چڑھایا گیا۔ شیخ عبد القادر عودہ اور سید قطب شہید کے دوسرے ساتھیوں کو وہ اجر دے جو تونے اپنی راہ میں شہید ہونے والوںکے لیے مقرر کررکھا ہے۔

یااللہ! ان لوگوں کو بھی بلند مرتبے عطا فرما جنھوں نے ظالموں کی جیلوں میں ہر طرح کی سختیاں برداشت کیںاور ایسے بدترین مظالم سہے جن کے تصور سے بھی انسان کا ضمیر کانپ اٹھتا ہے، لیکن ان کے قدموں میں کبھی لغزش نہ آئی اور ان میں سے کسی نے ظالموں کے آگے  سر نہیں جھکایا، حالاں کہ ان کا قصور اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ تیرے دین حق کی سربلندی چاہتے تھے۔ (ہفت روزہ آئین، لاہور، شخصیات، ص ۳۰۷-۳۱۰)


مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی کے بارے میں مولانا مودودی نے فرمایا تھا کہ وہ: ’’اخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البنا کے ذاتی دوست تھے۔ انھوں نے اخوان کی دعوت کے بارے میں کہا تھا کہ جہاں میرا کام ختم ہوتا ہے وہاں سے اخوان کا کام شروع ہوتا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد اخوان نے رضاکار بھرتی کرکے یہودیوں کے خلاف جہاد شروع کیا، تو مفتی صاحب ان کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے۔ جب ۱۹۵۴ء میں اخوان پر ابتلا کا دور آیا تو انھوں نے اخوان کے ساتھ صدر ناصر کے سلوک پر شدید احتجاج کیا تھا۔ پھر جب [۱۹۵۴ء میں] اخوان کے نام ور قائدین کو پھانسی کی سزا کا حکم دیا گیا تو انھوں نے اسے ذاتی طور پر تار دیے تھے کہ سزا نافذ نہ کی جائے۔ ۱۹۶۶ء میں سید قطب اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر بھی انھوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اخوان کا جذبۂ جہاد ان کے ابتلا کا باعث بنا، کیونکہ اسرائیل اور یہودیوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کی اصل مخالف قوت دنیاے عرب میں کون سی ہے۔ اس لیے امریکا اور [اشتراکی] روس دونوں کی خواہش یہ تھی کہ اسلام کی اس اُبھرتی ہوئی طاقت کو کچل ڈالا جائے۔ افسوس کہ یہ مقصد تو کفار کا تھا، مگر پورا مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا۔ (رفیق ڈوگر، ہفت روزہ استقلال، لاہور، ۱۴جولائی ۱۹۷۵ء۔ مولانا مودودی کے انٹرویو، دوم، ص ۲۸۶- ۲۸۷)

                                               

  •  سوال: محترم میاں صاحب‘ آپ نے پہلی بار امام حسن البنا کا نام کب اور کیسے سنا ؟
  •  جواب: میاں طفیل محمد صاحب: یہ ۱۹۴۹ء کے اوائل کی بات ہے‘ جب میں‘ مولانا مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے ہمراہ ملتان جیل میں قید تھا‘ اسی زمانے میں ان کی شہادت ہوئی۔ اسی وقت ہمیں ان کے بارے میںیہ معلومات حاصل ہوئی تھیں کہ سربازار ان کو گولی مار کر شہید کردیا گیا ہے۔ اُس وقت تک ہمارے اور ان کے درمیان براہ راست معلومات اور رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
  •  اخوان المسلمون کے جماعت سے پہلے رابطے کے بارے میں آپ کچھ بیان فرمائیں۔
  •  ہمیں خود تو معلوم نہیں تھا کہ اخوان کو کس زمانے میں ہمارے بارے میں معلومات ملیں‘ البتہ کویت کے ایک تاجر جو امام البنا کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے‘ جناب عبدالعزیز المطوع [م: ۱۹۹۶ء] نے ہمیں بتایا کہ: ’’۴۲-۱۹۴۱ء کے زمانے میں بمبئی میں میرا کاروبار تھا اور میں بمبئی ہی میں زیادہ وقت گزارتاتھا۔ اسی زمانے میں، ترجمان القرآن بھی پڑھتا تھا‘ اور اس کے مضامین کو عربی میں ترجمہ کرکے مرشدعام حسن البنا کوقاہرہ بھیجا کرتاتھا‘‘۔ تاہم حسن البنا کے بارے میں تو ان کی شہادت کے موقعے پر ہی پاکستان کے لوگوں کو زیادہ تر معلومات حاصل ہوئیں اورمولانا مودودی کو بھی اسی زمانے میں زیادہ تفصیلات ملی تھیں۔
  •  کیا عبدالعزیز مطوع  اُردو جانتے تھے؟
  •  بمبئی میں ان کا کاروبار تھا اور وہ اُردو جانتے تھے۔
  •  عبدالعزیز مطوع کا اس دور میں براہ راست جماعت یا آپ یا مولانا مودودی سے کوئی رابطہ نہیں ہواتھا ؟
  •   نہیں اس زمانے میں براہ راست رابطہ نہیں ہوا تھا۔
  •  مولانا محترم سے عبدالعزیز المطوع کی ملاقات ہوئی ہے؟

l ۱۹۴۷ء کے بعد کے زمانے میں ملاقات رہی۔ عبدالعزیز مطوع اور ان کے چھوٹے بھائی عبداللہ علی مطوع [م: ۲۰۰۶ء] بڑے مخیر انسان تھے۔ عبداللہ علی مطوع مولانا مودودی کی تعزیت کے لیے ۱۹۷۹ء میں لاہور تشریف بھی لائے تھے۔ ان سے تفصیلی ملاقاتیں رہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک روز انھوں نے اپنی چیک بک میرے سپرد کرتے ہوئے کہا :’’یہ آ پ کے حوالے ہے۔ آپ جوچاہیں ان کا استعمال کریں‘‘۔

میں نے ان سے کہا: ’’میں آپ سے کچھ اور تونہیں کہتا ہوں۔ البتہ منصورہ میں ہمارے دفاتر کے ہمسایے میں ثنائی فلم سٹوڈیو ہمارے سرپر سوار ہے‘اس سے ہمیں بہت زیادہ تکلیف ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ اس کو بیچنا بھی چاہتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں آپ کوئی مدد کرسکیں تو میں آپ کا شکرگزار ہوں گا ‘‘۔ انھوں نے جواب میںکہا :’’ اس کا سودا کرلیں اور جتنا اس کا عوضانہ ہو وہ مجھے بتادیں‘‘۔چنانچہ ۵۷ لاکھ روپے میں متعلقہ ٹرسٹ نے ثنائی اسٹوڈیوکی یہ بلڈنگ خرید لی‘  اس کی بیش تر ادایگی عبدالعزیز مطوع اور عبداللہ علی المطوع نے کی۔ اس اسٹوڈیوکے بڑے ہال میں منصورہ ہسپتال،پروجیکشن ہال میں منصورہ آڈٹیوریم ،جب کہ لیبارٹری میں ادارہ معارف اسلامی کا دفتر اور ایک بڑی لائبریری قائم کی گئی۔

  •  امام البنا کی شہادت کے بعد‘ اخوان سے رابطہ کیسے ہوا؟
  •  قیامِ پاکستان کے بعد جماعت کے شعبہ عربی کے سربراہ مولانا مسعود عالم ندوی صاحب نے جب عرب ممالک کا کئی ماہ کا دورہ [۲۸ اپریل -۱۳ دسمبر ۱۹۴۹ء] کیا تھا ، اس وقت انھوں نے حسن البنا اوراخوان المسلمون کے بارے معلومات حاصل کی تھیں اور عرب کے جو اصحاب علم و فہم تھے، ان کے ساتھ رابطہ بھی قائم ہوا تھا۔ مسعود عالم ندوی صاحب نے اپنی کتاب دیار عرب میں چند ماہمیںان مشاہدات اور روابط کا ذکر کیاہے۔
  •  مصر میں اخوان پر توڑے جانے والے مظالم کے باعث حسن البنا شہید کے داماد سعید رمضان  جب پاکستان آئے تھے ان سے آپ کی کوئی ملاقات ہوئی ؟
  •  جی ہاں‘ سعید رمضان مرحوم [م: ۱۹۹۵ء] سے ملاقاتیں رہی ہیں۔
  •  مولانا مودودی سے سعید رمضان کی ملاقات ہوئی تھی؟
  •  بہت سی ملاقاتیں ہوئیں۔مولانا ان سے محبت کرتے اور عقیدت رکھتے تھے۔
  •  آپ نے اخوان پر مظالم کے خاتمے کے لیے حکومت مصر کے ساتھ رابطہ کرکے اس آزمایش سے کچھ نکالنے کے لیے کاوش کی تھی ؟
  •  میں نے ازخود مصری حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیاتھا،بلکہ حکومت مصر نے مجھ سے رابطہ کیاتھا۔ یہاں پاکستان میں مصر کے سفیر نے مجھ سے متعدد ملاقاتیں کیں۔
  •  یہ کب کا ذکر ہے ؟
  •  یہ ۱۹۸۲ء کا زمانہ تھا۔ اسلام آباد میں مصر کے سفیرصاحب نے مجھ سے ملاقات کے دوران میں کہا : ’’ہماری حکومت چاہتی ہے کہ آپ مصر کا دورہ کریں۔ آپ کو ہم وزیر کے درجے کا پروٹوکول دیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ اخوان کے ساتھ رابطے کی کوئی صورت پیدا ہو‘‘۔  حسنی مبارک صاحب ہی اس وقت مصر کے صدر تھے۔میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:    ’’اس خدمت کے لیے میں تیار ہوں‘‘۔ چنانچہ میرے ہمراہ پروفیسر برہان الدین ربانی صاحب، پروفیسر خورشید احمد صاحب اور خلیل احمدحامدی صاحب پر مشتمل وفد مصر گیا۔ مصری حکام نے کھلے دل سے ہماری میزبانی کی۔

اس قیام کے دوران میں صدرحسنی مبارک سے بھی ہماری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا: ’’آپ اخوان کے قائد عمر تلمسانی سے ملیں اور ان کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ تصادم کے بجاے کوئی راستہ نکالیں اور اس طرح ایک دوسرے کو گرانے کی یہ صورت ختم ہو‘‘۔ چنانچہ میں نے اخوان کے تیسرے مرشدعام عمر تلمسانی سے ملاقاتیں کیں ، اور ان سے کہا :’’ بھائی‘ یہ جو صورت ہے‘ یہ نہ آپ کے لیے مفید ہے اور نہ ان کے لیے مفید ہے۔ کوئی ایساراستہ نکالنا چاہیے کہ وہ بھی کچھ ڈھیلے پڑیں اورآپ بھی کچھ اپنی سختی کو کم کریں، تا کہ دعوتی سرگرمیوں کے لیے بہتر صورت پیدا ہوسکے‘‘۔ اس مذاکراتی عمل کے نتیجے میں کوئی براہ راست ملاقات عمر تلمسانی اور حسنی مبارک کے درمیان تو نہیں ہوئی،تاہم ہمارے ذریعے غائبانہ طور پر اُن دونوں کی بات، ایک دوسرے تک پہنچی۔

اپنی ملاقات میں‘ مَیں نے صدر حسنی مبارک سے کہا:’’معاملات کو مثبت رخ دینے کے لیے آپ اخوان کو اخبار نکالنے کی اجازت دے دیں‘‘۔ حسنی مبارک اس پر راضی ہوگئے اور کہا :’’وہ اس پرچے میں زیادہ سختی نہ کریں، ہم بھی کوئی ایسی بات نہیں کریں گے۔وہ کوئی اخبار نکال کر کام شروع کردیں‘‘۔ چنانچہ اس طرح سے انھوں نے اخوان کو اخبار نکالنے کی اجازت دے دی۔   اسی سفر کے دوران میں عمر تلمسانی کے علاوہ مصطفی مشہور سے قاہرہ میں میری ملاقاتیں ہوئیں۔   عمر تلمسانی کے بعد حامد ابو النصر مرشدعام بنے تھے‘ وہ بھی ان ملاقاتوں میں موجود تھے۔

  •  مصر میں آپ کے مذاکرات میں اخبار نکالنے کے علاوہ دیگر کون سے نکات زیر بحث  آئے؟
  •  بس ہم نے ان کو یہی سمجھایا ،بھائی‘ وہ بھی کچھ نرم پڑیں اورآپ بھی کچھ نرم پڑیں۔ اس طرح سے کہ اخوان کو بھی کام کرنے کی آسانی ملے اور حکومت بھی اپنے مظالم سے باز آئے۔
  •  اخوان کے گرفتارکارکنوں کی رہائی کا معاملہ بھی یقینًا زیر غور آیا ہوگا؟
  •  بات عمومی نوعیت کی تھی‘ کہ رویوں میں تبدیلی آنا چاہیے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے زیرحراست افراد پر گفتگو نہیں ہوئی۔
  •  کیا یہ معاملات کسی معاہدے کی صورت میں طے ہوئے تھے؟
  •  تحریری تو نہیں ، لیکن باہم اعتماد کے ساتھ یہ چیزیں طے ہوئی تھیں۔ بات یہ ہے کہ اخوان نے تو ہمیشہ سے مذاکرات کے عمل کو خوش آمدید کہا ہے۔ ظلم تو حکومت کی طرف سے ہوتا آیا ہے۔ اسلامی تحریکوں کا یہ اصول کہ ہم پر امن جدوجہد کریں گے اور یہ فہم و شعور کہ ہم پُرامن رہیں گے میرا خیال ہے کہ اسلامی تحریکوں پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔
  •  اس کے بعد صدر حسنی مبارک یا حکومت مصر کے ساتھ آپ کاکوئی رابطہ نہیں ہوا ؟
  •  نہیں اس کے بعد کم ازکم میرا کوئی رابطہ مصری حکومت سے نہیں ہوا۔
  •  برہان الدین ربانی صاحب کو وفد میں آپ  نے شریک کیا تھا؟
  •  جہاں تک یاد پڑتا ہے کہ مصری حکومت ہی نے ان کو بھی دعوت دی تھی۔
  •  کتنے دن آپ مصر میں مصروف رہے ؟
  •  غالباً پانچ چھے دن رہے تھے ،جس کے بعد میں اور خلیل صاحب توکینیا چلے گئے جب کہ خورشید صاحب واپس پاکستان آگئے۔ کینیا میں ہم ۱۲‘۱۳ دن تک رہے‘ جہاں عبداللہ علی مطوع صاحب نے کئی مساجد تعمیر کرائی تھیں۔ ہم نے وہ مساجد اور ان کے دیگر رفاہی پراجیکٹ دیکھے۔
  •  پُرامن جدوجہد اور مسلح جدوجہد  میں آ پ کیا فرق دیکھتے ہیں۔ دونوں کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟
  •   مولانا مودودی اور امام البنا نے دعوتِ دین اور اقامتِ دین کے لیے جو راستہ ہمیں دکھایا ہے‘ وہ یہی ہے کہ پرامن اور بغیر تشدد کے تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ خفیہ طریقوں سے آگے بڑھنے کے بجاے کھلے عام سرگرمیاں کی جائیں۔ افہام وتفہیم کا راستہ ہی درحقیقت کامیابی کا راستہ ہے اور اسی سے آگے بڑھنے کا کوئی راستہ بن سکتا ہے۔تشدد اور مسلح کارروائیوں کے ذریعے سے کام خراب توہوسکتا ہے ، بنتا نہیں ہے۔تشددکے واقعات کو مدمقابل قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں اور اندھادھند ظلم و زیادتی کرتی ہیں۔ جب کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کے ہاتھ میں سواے تباہی اور انتشار کے کچھ نہیں آتا۔
  •  فلسطین میں اخوان کے جہاد کے حوالے سے کوئی بات آپ فرمائیں گے؟
  •  اخوان نے جہاد فلسطین میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔ بڑی قربانیاں ہیں    ان کی، بہت سارے لوگ شہید ہوئے اور جگہ جگہ سے انھوں نے جہاد میں حصہ  لینے کے لیے رضاکار بھیجے۔ اس اعلیٰ درجے کی تنظیم کوجو عرب ممالک میں مقبولیت حاصل ہوگئی تھی‘ اسی وجہ سے مغربی سامراج کے آلہ کار‘ کمیونسٹ‘ عرب قوم پرست اور پھر وہاں کافوجی ڈکٹیٹرجمال ناصر‘ وغیرہ ان کے دشمن بن گئے تھے۔ ناصر نے اخوان کے کارکنوں، جن میں مرد، نوجوان اور خواتین شامل ہیں، ان پر بے انتہا ظلم کیا۔ انھوں نے جتنی سختیاں برداشت کی ہیں، میرا خیال ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ نہ اس قدر بڑے پیمانے پرایسی صورت حال سے کسی کو سابقہ پیش آیااور نہ کسی نے اتنی تکالیف اور مشکلات برداشت کیں۔ بلاشبہہ اخوان نے راہ عزیمت کی تاریخ میںکمال درجے کی مثال قائم کی۔

ان تمام مظالم کے باوجود اخوان کی قیادت اور اس کے کارکنوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ان سے وابستہ مردوں،عورتوں اور نوجوانوں نے ان تکلیفوں اور اذیتوں کا بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ زمین میں گاڑ کر ان بے گناہوں پر کتے تک چھوڑے گئے۔ حکمرانوں کے مظالم کبھی کسی تحریک اور فکرکو ختم نہیں کرسکتے۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اور ان سے پیش ترانبیا پر بھی ظلم ہوئے ہیں اور وہ جواب میں اتنے ہی زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔

یہاں بھی آپ دیکھیں‘ الحمدللہ زیادہ مضبوط تو جماعت اسلامی ہی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اور مسلمانوں کو یہ قوت اور ہمت عطا فرمائی ہے کہ یہ ایسی صورت حال کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس باقی تحریکیں چند دن کے لیے اٹھتی ہیں، زور دکھاتی ہیں اور اس کے بعد ختم ہوجاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اخوان جب سے شروع ہوئے مسلسل چل رہے ہیں۔ مولانا مودودی نے بھی جو تحریک شروع کی ہے الحمدللہ وہ بھی مسلسل آگے ہی بڑھ رہی ہے‘ پیچھے نہیں ہٹ رہی۔

  •  مصر میں جب اخوان پر حکومت نے  ہرراستہ بند کردیا توایک گروہ اخوان کے مرکزی دھارے سے الگ ہو کر ردعمل میں مسلح راستے پر چل پڑا کہ: حکمران طبقے ویسے بھی ہمیں مار رہے ہیں تو کیوں نہ انھیں مارکر مریں ؟
  •  بلاشبہہ سیاسی ، علاقائی اور مذہبی جماعتوں کے اندر کچھ تشدد پسند لوگ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ سختی کا جواب سختی میں ہے اور اسی راستے کام آگے بڑھے گا۔ حالانکہ آنکھیں بند کرکے یہ نتیجہ نکالنا کوئی درست طرز عمل نہیں ہے۔ ایک تعمیری اور اصلاحی تحریک کو دراصل اپنے اصل ہدف‘ اپنے کام کے پھیلائو اور اس معاشرے کے احوال وظروف کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا چاہیے۔
  •  امام البنا کی شخصیت ، زندگی اور  تحریک کا جائزہ لیں تو آپ کے ذہن میں ان کا کیا خاکہ بنتا ہے ؟
  •  مولانا سید ابوالاعلیٰ کی طرح مرشد عام حسن البنا شہید بھی درحقیقت ایک فنا فی اللہ انسان تھے۔ ان کا جو بھی دعوتی،تحریکی اور اجتماعی کام تھا‘ اس میں تشددکا کوئی عنصر شامل نہیں تھا۔ اپنی زندگی میں انھوں نے کبھی بھی اپنے ساتھیوں کواس راستے پر نہیں ڈالا۔ وہ کھلے عام دعوت‘ تزکیے‘ خدمت اور راے عامہ ہموار کرنے کے راستے پر گام زن رہے۔ تاہم جہاد فلسطین اور نہرسویز پر سے برطانیہ کے قبضے کوختم کرانے کے لیے انھوں نے کھلے عام اعلان کرکے رضاکاروں کی تنظیم اور فکری تربیت کا کام کیا تھا‘ جسے مغربی مصنفین اور سیاسی قائدین نے اپنے غاصبانہ قبضے کے برعکس دوسرا نام دیا۔ اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مولانا مودودی اور حسن البنا‘ مسلم ممالک کے اندر ایسی کسی کارروائی کے طرف دار نہیں تھے جو تشدد اور انارکی کی طرف لے جاتی ہو۔
  •  اخوان کے  نظام تربیت کے بارے میںآپ کی کیا راے ہے؟
  •  اخوان کے طریق تربیت میں ایک طرح سے صوفیانہ اثرات بھی موجود رہے ہیں۔  ان کے برعکس مولانا مودودی کا طریقہ یہ رہا ہے کہ انسان کے فہم کو درست کیا جائے۔ ایمان اور جواب دہی کے احساس کی حقیقت کو انسان اپنے اندرجذب کرلے اورکسی حالت میں بھی اس سے نہ ہٹنے پائے۔ سختی میں بھی اور نرمی میں بھی‘ کسی بھی حالت میں زیادتی نہ کی جائے۔
  •  مولانا نے کبھی یہ ہدایت فرمائی کہ اخوان کا لٹریچر اردو میں آنا چاہیے، یا اس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟
  •  مولانا مودودی نے اخوان سے وابستہ حضرات کی تحریروں کے ترجمے کی حوصلہ افزائی فرمائی ، اور بعض کتب کے ترجمے بھی کرائے، مثلاً عبدالقادر عودہ شہیدکی معروف کتاب التشریع الجنائی فی الاسلام (اسلام کا قانونِ فوج داری)کے  ترجمے کے لیے مولانا مسعود عالم ندوی صاحب سے کہا اور پھر متعدد کتابوں کے ترجمے خلیل احمد حامدی مرحوم اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی مرحوم نے کیے‘ جنھیں مولانا مودودی نے اپنے  ماہ نامے ترجمان القرآن میں بڑے تسلسل سے شائع کیا۔ مولانا مودودی خود ایک معلم تھے‘ اس لیے انھوں نے لوگوں کو سکھایا ہے۔ مولانا مودودی فرمایا کرتے تھے میں نے جو کچھ پایا ہے قرآن ہی سے پایا ہے اور قرآن کو جب میں نے آنکھیں کھول کر پڑھا تو معلوم ہوا کہ انسان کی بنیادی رہنمائی کے لیے سب کچھ اسی میں موجود ہے۔ مولانا مودودی کا استاد قرآن مجید تھااور شارح صرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک تھی۔
  •  آپ نے شروع میں فرمایا ہے کہ عبدالعزیز المطوع ترجمان القرآن کے مضامین ترجمہ کر کے حسن البنا شہید کو بھیجتے تھے۔گویا  کہ امام حسن البنا‘ مولانا مودودی اور جماعت کی فکر سے واقف ہوئے ہوں گے اور استفادہ بھی کیا ہوگا؟
  •  حسن البنا شہید بہت مخلص‘ فنا فی الدعوت اور فنا فی التحریک انسان تھے۔ یقینا ان کو ایسی جو بھی معلومات ملی ہوں گی‘ انھوں نے ضرور استفادہ کیا ہوگا۔
  •  آپ مصر اور دیگر مسلم ممالک میں اسلامی تحریکوں کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں؟
  •  مصر اور عرب دنیا میں یہودیوں اور ان کے سرپرست عیسائی حکمرانوںنے اودھم مچا رکھا ہے اور تمام کفار اور ظالم قوتیں ان کی پشت پر ہیں۔
  •  اللّٰہ تعالٰی اس مساعی کو قبول فرمائے۔ الحمد للّٰہ دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں سے وابستہ حضرات آپ کی اس مساعی کے  معترف اور احسان مند ہیں‘ اور اللّٰہ تعالٰی سے اس کی قبولیت کے لیے دعاگو ہیں۔
  •  میں نے مولانا مودودی کی رہنمائی میں اپنا سارا وقت جماعت کے تنظیمی‘ دعوتی اور تربیتی کام کو آگے بڑھانے کے لیے صرف کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے نہ کوئی بہت زیادہ مطالعہ کرسکا ہوں اور نہ کوئی دوسرا کام کیا۔ بس اسی کام کو مضبوط کرنے ، بڑھانے اور اسی پر توجہ دینے میں لگا رہا ہوں۔ میرے پاس کوئی خاص قابلیت بھی نہیں ہے۔ بس‘ مولانا مودودی مرحوم و مغفور نے صرف ایک مرتبہ کہا: ’’دعوت‘ تنظیم اور تربیت کا یہ کار عظیم تمھارے سپرد کر رہا ہوں‘ اس کے اوپر اپنی تمام توجہات کومرکوزکیے رکھو‘‘۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے میں نے مولانا مودودی کو کبھی پریشان نہیں کیا، غمگین نہیں کیا، الحمدللہ کبھی کمزوری نہیں دکھائی اور حتی المقدور ان کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کی ہے۔بلاکسر نفسی مجھے اعتراف ہے کہ نہ میرے اندر کوئی قابلیت ہے اور نہ میرے اندر کوئی خاص فہم و فراست ہے۔ میں جتناقرآن و سنت کے مطالعے کے بعد اور جو کچھ مولانا مودودی سے سمجھا ہوں اسی کو مضبوط کرنے اور اسی کو پھیلانے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔

یہ ۱۹۸۷ء کی بات ہے میں اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرتاتھا کہ اب میرے اندر کام کرنے کی زیادہ طاقت نہیں رہی، جماعت کے چند مخلص ساتھیوں نے مجھ سے کہا: ’’جس طرح مولانامودودی نے اپنی زندگی میں ہی ذمہ داریاں منتقل کردی تھیں، اس طرح کسی کو آگے لانے کی کوشش کریں‘‘۔ میں نے ارکان جماعت سے درخواست کی کہ دوبارہ مجھے منتخب نہ کیا جائے‘ ارکانِ جماعت نے قاضی صاحب کو امیرجماعت منتخب کرلیا جو میرے ساتھ سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

  •  اس ضعیفی کی حالت میں بھی آپ کے جو معمولات ہیں، جو فکری یک سوئی ہے، تحریک کے ساتھ جس درجہ وابستگی ہے اور پھر صحت کی خرابی کے باوجود نماز کی جس طرح سے پابندی ہے۔ فرمائیے آپ کو کیا چیز مدد دیتی ہے؟
  •  اور کچھ نہیں صرف احساسِ فرض ہی ہے جی!میں کہتا ہوں کہ تادم آخر اس طرح سے اپنا کا م کرتا رہوں۔ اب میری دعا زیادہ یہی ہوتی ہے کہ یا اللہ چند روز بعد آنے والا صیامِ رمضان مجھے نصیب کر اورمجھے قیامِ رمضان کی توفیق دے‘ پھر اس کے بعد جو بھی آپ کا فیصلہ ہو…    میں یہی دعا کرتا رہتا ہوں ، یا اللہ اس رمضان میں مجھے پوری طرح سے حاضری کی توفیق عطا کر، صیام رمضان کی بھی اور قیام رمضان کی بھی۔ یہ روز ے میں خیریت سے پورے کرلوں، یا اللہ اس کے بعد جو آپ کا فیصلہ ہو سو ہو۔
  •  اللّٰہ تعالٰی آپ کی عمر میں‘ آپ کے معمولات میں اور عبادات میں برکت دے اور اسے قبول فرمائے۔
  •  میں اپنے رب سے یہی دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ تو میری آنکھوں کواتنی بصارت دے کہ میں مسجد خو د چلاجایا کروں، دوسروں کو میں یہ تکلیف نہ دوں کہ وہ مجھے مسجد میں لے جایا کریں ۔یا اللہ‘ مجھے خود مسجد آنے جانے کے قابل بنادے۔
  •  سبحان اللّٰہ ،یہ سب بچے بھی آپ کی آنکھیں ہیں۔
  •   جی الحمدللہ‘ میرے اوپر اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا ہے اور میں کہتا ہوں کہ شاید ہی کسی کے اوپر ایسا کرم ہو‘ کوئی حد نہیں اس کے فضل اور احسان کی۔میری آٹھ بیٹیاں ہیں اور چار بیٹے ہیں۔ خد ا کے فضل سے سب نیک ہیں ،تابع فرمان ہیں، خدمت گزار ہیں ، محبت کرنے والے ہیں اور کبھی کسی نے اُف تک نہیں کی ہے۔
  •  اللّٰہ تعالٰی ان سب کو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ یہ سب آپ کی طرح اسلامی تحریک کی تقویت کا باعث بنیں۔
  •  دنیا کے معیار کے حوالے سے اگر یہ کہوں کہ ایک پیسہ بھی میرے پاس نہیں ہے اور ایک پیسہ بھی کمانے کے قابل میں نہیں ہوں۔ لیکن میرے لیے یہ امر نہ کسی حسرت کا باعث ہے اور نہ کسی محرومی کا ذریعہ‘ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہوا ہے۔ یہ ایمان کی دولت‘     یہ مکان اور یہ ساری نعمتیں ، الحمدللہ‘ الحمدللہ۔
  •  جماعت اسلامی کے ساتھ وابستگی کے اس ۶۵ برس کے پورے زمانے میں آپ کی  سب سے  قیمتی یاد اور قیمتی اثاثہ کیا ہے؟
  •  جی سچی بات یہ ہے کہ ایمان کی دولت کے بعد میں مولانا مودودی کی رفاقت سے زیادہ کس چیز کو قیمتی کہوں؟ دین کی راہ پر چلتے ہوئے مولانا مودودی نے ساری عمر کبھی ایک منٹ کے لیے بھی مجھ سے کسی خفگی یا کسی ناراضی کا اظہار نہیںکیا۔ وہ ہمیشہ محبت سے پیش آئے اور ہمیشہ بھائی کی حیثیت سے میرے ساتھ حسن سلوک کیا کہ جیسے میں ان کا رفیق کارہوں، کوئی شاگر د اور ماتحت نہیں ہوں۔ اپنے ایک عزیز رفیق کی حیثیت سے ہی ہمیشہ انھوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔ میں نے مولانا مودودی کو اخلاق میں‘ کردار میں‘ گفتار میں‘ احسان میں اور سلوک میںحضرت محمد صلی اللہ   علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنے والا ایک اُمتی ہی پایا ہے۔
  •  اس وقت ساری عالمی شیطانی قوتوں کا اصل ہدف بالخصوص اسلامی تحریک اور بالعموم عالم اسلام کے نوجوان ہیں،اس صورت حال کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟
  •  بس جی‘ انھیں قرآن ،سنت اور سیرت طیبہ سے جوڑا جائے۔ میرے فہم کی حد تک اس مقصد کے لیے ان کو مولانا مودودی کا لٹریچر پڑھایا اور اس سے وابستہ کیا جائے۔ اس کے لیے جو بھی ذرائع ہیں ان کوبڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے‘ بلکہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے  بیت المال کی کچھ مدات میں کفایت کر کے وسائل خرچ کرنے چاہییں۔ یہ لٹریچر انھیں ایمان‘ قرآن، سنت، اسوۂ نبویؐ ، امت مسلمہ اور اُمت کے مفاد سے جوڑدے گا۔

m کیا شیطانی قوتیں اور ان کے آلہ کار کامیاب ہوجائیں گے ؟

  •  یہ کیسے ممکن ہے۔ اسلام نے تو غالب آنا ہے‘ ان شاء اللہ اسلام ہی غالب آئے گا۔
  •  اخوان اور عرب دنیا میں اسلامی تحریک سے رابطے یا کسی اور پہلو پر آپ روشنی ڈالنا پسند فرمائیں گے؟
  •  مولانا مسعودعالم ندوی بڑے مخلص، بڑ ے جاںنثار اور بڑے فاضل انسان تھے۔   علما میں ان سے زیادہ مخلص‘ مولانا کا مداح‘ مددگارمیں نے کوئی اور نہیںدیکھا۔ اسی طرح محمد عاصم الحداد مرحوم نے مولانا مودودی کی کتب کے ترجمے کے لیے بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ پھر  خلیل احمدحامدی صاحب نے اپنی ساری زندگی اس کام میں لگادی۔ عملاً ان تین افراد نے عالمِ عرب میں اسلامی تحریک سے تعلق کو تقویت دی ،علمی رابطے بڑھائے اور دعوت دین کی سرگرمیوں میں بنیادی نوعیت کا کام کیا، اور ان کے ساتھ ہمارے چوتھے ساتھی چودھری غلام محمد مرحوم کی خدمات بڑی ہی گراں مایہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان احباب کی خدمات کو قبول فرمائے۔
  •  میاں صاحب کوئی اور بات جو آپ اسلامی تحریکوں کے حوالے سے فرمانا چاہیں ؟
  •  اس وقت فوری طور پر میرے ذہن میں کوئی بات نہیں آرہی‘ البتہ پروفیسر خورشید احمد تحریک اسلامی کا بڑا قیمتی سرمایہ ہیں۔میں ترجمان القرآن پورا اوّل سے لے کر آخر تک    حرف بہ حرف سنتا ہوں۔ ما شا اللہ‘ خورشید صاحب اشارات بڑی محنت سے‘ جرأت سے اور کسی خوف کو خاطر میں لائے بغیر لکھتے ہیں۔ صحت پتا نہیں کیسی ہے ، خورشید صاحب کی ؟ میں رات دن ان کی صحت کے لیے دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ انھیں جزاے خیرعطا فرمائے‘ صحت اور طاقت دے‘   اپنے دین کی خدمت کے لیے زندہ سلامت رکھے۔

                                               

حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ،فرزندِ رسولؐ ابراہیم کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، بچے کو منگوایا گیا، آپؐ نے بیٹے کی میت کو سینے سے لگایا۔ میں نے دیکھا کہ آں حضورؐ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں، اور آپؐ  نے فرمایا: ’’آنکھیں روتی ہیں، دل غمگین ہے، لیکن ہم اس بات کے علاوہ کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالتے  کہ جو ہمارے رب عز وجل کو راضی کرتی ہو، واللہ اے ابراہیم! ہم تمھارے فراق پر بہت غم زدہ ہیں:انا للّٰہ و انا الیہ رٰجعون

میرے لخت جگر حسن! مجھے آج تمھارے ساتھ بیتے دو واقعات یاد آرہے ہیں۔ ایک تب کہ جب تو ابھی چھے ماہ کا شیر خوار بچہ تھا۔ ایک رات جب میں بہت دیر سے گھر لوٹا تو دیکھا کہ تم اپنی والدہ کے پہلو میں گہری نیند سوئے ہوئے ہو۔ میں نے تمھیں دیکھا تو محبت کی ایک لہر میرے دل میں اتر گئی، لیکن اگلے ہی لمحے میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک لمبا سانپ کنڈلی مارے تمارے سر کے پاس بیٹھا ہے، اس نے اپنا پھن پورا پھیلایا ہوا ہے، اور اس کے اور تمھارے سرکے درمیان فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مجھے لگا میرا دل حلق میں آن اٹکا ہے۔ میں فوراً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا، اور اس کی بارگاہ میں استدعا کی کہ دل کو قرار آئے۔  بے اختیار میری زبان پر سانپ کے ڈنک اور اذیت سے محفوظ رہنے کی دعا جاری ہوگئی۔ دعا ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سانپ نے سرجھکایا اور چپکے سے اپنی راہ لی۔ میرے پیارے بیٹے، اللہ نے اپنے اذنِ خاص سے اور تمھارے لیے کیے ہوئے اپنے کسی اہم فیصلے کی خاطرتمھیںبچا لیا۔

میرے لخت جگر! آج مجھے دوسرا منظر وہ یاد آرہا ہے جب تیرا لاشہ میرے سپرد کیا گیا تھا۔ میں نے رات کی تاریکی میں خون میں نہائی تیری میت اٹھائی، تو تیرا جسم گولیوں سے چھلنی تھااور تیری روح پرواز کرچکی تھی۔ جنگل کا سانپ تو تجھے تکلیف پہنچانے سے ڈر گیا، لیکن صدافسوس کہ انسانی سانپ تیری لاش کو ڈستے رہے۔ اس المناک لمحے میں صرف اللہ وحدہ کی قدرت ہی نے ہماری ڈھارس بندھائی، وگرنہ ہم کبھی یہ صدمہ برداشت نہ کرپاتے۔

میری جان! میں نے تمھارے پیارے چہرے سے چادر ہٹائی تو مجھے نور کی کرنیں لپکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔تیرے چہرے پر شہادت کی آسودگی ہی آسودگی تھی۔ تب آنکھیں نم ہوگئیں، دل زخمی اور غمگین تھا، لیکن ہم نے اللہ کو راضی کرنے والے کلمے انا للّٰہ و انا الیہ رٰجعون کے علاوہ کچھ نہ کہا۔

پیارے بیٹے! پھر میں نے تمھیں غسل دیا، کفن پہنایا اور اکیلے نے تمھاری نماز جنازہ ادا کی ۔ پھر میں اس عالم میں تمھارا جنازہ لے کر نکلا کہ گویا میرے نصف جسم نے اپنے ہی نصف وجود کی میت اٹھائی ہوئی ہو۔ میں اس کے علاوہ مزید کچھ نہ کہہ سکا وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِِلَی اللّٰہِ ط اِِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِo (المومن ۴۰:۴۴) ’’اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے‘‘۔ بیٹے! مبارک ہو کہ تم تو اپنی وہ مراد پاگئے، جسے پانے کے لیے تم سجدوں میں دعائیں کیا کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جنت میں داخل ہو جانے والا کوئی انسان دنیا میں واپس جانا پسند نہیں کرے گا ،خواہ اسے اس کے بدلے پوری روے زمین کے خزانے مل رہے ہوں۔ لیکن شہید کو شہادت کے بدلے اتنی تکریم ملے گی کہ وہ خواہش کرے گا کہ اسے دس بار بھی دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو وہ چلا جائے اور بار بار شہادت سے سرفراز ہوکر آئے۔

میرے پروردگار،اپنے بندے حسن کی خوب تکریم فرما، اس کے درجات بلند فرما، جنت کو اس کا مستقراور ٹھکانا بنا۔ ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ فرما اور اس کے بعد کسی فتنے میں مبتلا نہ فرما۔ ہماری بھی بخشش فرما اور اس کی بھی بخشش فرما ۔ اس کی یہ آرزو پوری فرما کہ اسے تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت نصیب ہو: مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا o (النساء ۴: ۶۹) ’’وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاؑ اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں‘‘۔

ایھا الاخوان،رہے آپ سب احباب کہ جنھوں نے میرے بیٹے کو خوب پہچان کر اسے اپنا قائد چنا، تو آپ کے لیے اس کی یاد منانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسی راہ پر اپنا سفر جاری رکھو۔ اس کے نقوش پا کو مٹنے نہ دو۔ اسلام کے آداب و احکام کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اخوت کی رشتوں میں مضبوطی سے جڑے رہو اور اپنے اعمال اور اپنی نیتوں کو اللہ ہی کے لیے خالص رکھو۔

ایھا الاخوان ،میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ تم سب میرے شہید بیٹے کی سچی تصویر بن جاؤ ، لوگوں سے کسی اجر کی تمنا نہ کرو، اللہ تعالی کے علاوہ کسی کا خوف دل میں نہ بیٹھنے دو اور دل میں یہ خیال تک نہ آنے دو کہ تم نے کسی کو شر یا تکلیف پہنچانی ہے: وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ (حم السجدہ ۴۱:۳۳) ’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی، جس نے اللہ کی طرف بلایا‘‘۔


ترمذی میں حضرت ایوب بن موسیٰ نے اپنے والد اور دادا کے حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ:’’ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھی تربیت سے بہتر کوئی چیز نہیں عطا کی‘‘۔ شادی کے بعد میری بھی یہ آرزو اور تمنا تھی کہ اللہ تعالی مجھے صالح اولاد، عطا کرے، میں اس کی بہترین تربیت کروں اور ان کے ذریعے ایک ایسی بہترین نسل چھوڑ جاؤں جوسب کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے اور ابدی خیر و بقا کا ذریعہ ہو۔ پروردگار نے یہ دُعا قبول فرمائی۔ میری آرزو پوری ہوئی، مجھے پیارا سا بیٹا عطا ہوا اور میں نے اس کا نام حسن البنا رکھا۔

پروردگار کی رحمت بچپن ہی سے میری بیٹے پر سایہ فگن رہی۔باری تعالیٰ نے اسے ہرتکلیف و اذیت سے محفوظ رکھا۔ ہم ’محمودیہ‘ میں رہایش پذیر تھے کہ ہمارے گھر کی چھت گرگئی۔ حسن اپنے بھائی عبد الرحمن کی ساتھ اسی چھت کے نیچے کھیل رہا تھا۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جہاں یہ دونوں کھیل رہے تھے، وہاں سیڑھیاں تھیں۔ چھت کا ملبہ سیڑھیوں کی محراب پر آکر ٹک گیا۔ لیکن باہر کسی کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ میں نے ملبہ ہٹانا شروع کیا۔ تو دیکھا کہ الحمد للہ، حسن اور اس کا بھائی   اللہ کے فضل سے بالکل صحیح سالم ہیں ۔

اسی طرح مجھے یاد ہے کہ ایک بار حسن کو خوفناک کتوں نے گھیر لیا۔ اس نے خوف زدہ ہوکر قریبی برساتی نالے ’الرشیدیہ‘ میں چھلانگ لگا دی۔ اس وقت نالے میں دریاے نیل کی طغیانی کے باعث پانی کا تیز دھارا تھا۔ حسن ڈبکیاں کھانے لگا، لیکن اچانک اذن الٰہی سے پانی کی ایک لہر نے اسے کنارے پر لا پھینکا۔ قریب سے گزرنے والی ایک دیہاتی خاتون نے اسے اٹھا لیا، اس طرح سراسر اللہ کے فضل و احسان سے اس کی جان بچ گئی۔

حسن بچپن ہی سے غیر معمولی دکھائی دیتا تھا۔ ابھی اس نے ہوش نہیں سنبھالا تھا کہ وہ کائنات کے بارے میں ہم سے سوالات پوچھا کرتا تھا:’’یہ چاند کیا ہے؟ اسے کس نے اتنا خوبصورت بنا یا ہے؟‘‘ میں نے اس کی غیر معمولی زِیرکی کے پیش نظر اسے قرآن کریم حفظ کروایا۔ سنت نبوی کی تعلیم دی اور اخلاق عالیہ کا خوگر بنایا۔ پھر جب میں نے اسے دمنہور کے مدرسہ المعلمین میں داخل کروایا تو وہ حیرت ناک طریقے سے سب پر سبقت لے گیا۔ وہ اپنے تمام تعلیمی مراحل میں سب بچوں سے آگے رہا۔ الحمد للہ اس کی پوری تربیت، ذوق عبادت،صالحیت اور زہد کے اعلیٰ معیار پر پوری اتری۔

جامعہ ازہر کے دار العلوم میں داخلے کے لیے پہلے چار سال کا ایک نصاب پڑھایا جاتا ہے۔اسے پڑھنے کے باوجود بہت سے لوگ داخلے کے انٹرویو میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ حسن نے اس چار سالہ تمہیدی پڑھائی کے بغیر ہی انٹرویو دیا اور کامیاب رہا۔ داخلے کے بعد وہ قاہرہ منتقل ہوا تو اتنے بڑے شہر میں اس کا نہ کوئی دوست تھا اور نہ کوئی عزیز۔ اس نے وہاں جاکر اپنا ابتدائی قیام جامعہ ازہر کی مسجد میں کیا۔ دار العلوم میں تعلیم مکمل ہوئی تو پہلی پوزیشن کا اعزاز پایا۔ وزارت معارف نے شان دار نتیجے پر اسے مزید تعلیم کے لیے یورپ بھیجنے کی پیش کش کی، لیکن اس نے انکار کردیا۔شاید اللہ تعالی نے اس کا انتخاب کسی کار جلیل کے لیے کیا ہوا تھا۔درایں اثناء اسماعیلیہ کے اسکول میں بطور مدرس اس کی تعیناتی ہوگئی، وہیں اس نے اپنی فکر کی آبیاری کی اور الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھی۔

پھر میرے بیٹے کے افکار کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دی۔ اس کی دعوت عالم اسلام کی چہار اطراف میں پھیل گئی۔ اس کے پیغام نے تمام اصحاب فکر و شعور کو متاثر کیا۔ اس کے مکتب فکر نے ازہر سمیت تمام کالجوں اور یونی ورسٹیوں کو ایک تنظیم کی لڑی میں پرودیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بیسویں صدی میں تجدید دین کی خدمت لی، اس کی فکر سے روشن چراغوں نے ہر جگہ، ہر گھر میں حق کا نور پھیلادیا، اللہ نے اس کے ذریعے اخوت کی شکستہ عمارت کو دوبارہ استوار کیا اور افراد و قبائل کو دوبارہ روحانی محبت سے سرشار کردیا: لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ اِنَّہٗ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ o (الانفال۸: ۶۳) ’’تم روے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے‘‘۔ (مجلۃ الدعوۃ ، ۱۳ فروری ۱۹۵۱ء۔ مشمولہ: حسن البنا الداعیۃ الامام و المجدد الشہید، انور الجندی، ص ۱۵-۱۷)

                                               

  •  سوال: امام حسن البنا کی ولادت کے سوسال پورے ہونے پر آپ امام کے ساتھ گزرے ہوئے ایام کے بارے میں کچھ کہنا پسند کریں گے؟
  •  جواب: مجھے اس محبوب اور معزز ہستی کے ساتھ آٹھ سالہ رفاقت کا اعزاز حاصل ہے۔ اگر چہ میں اس وقت نو عمرتھا لیکن ۱۹۴۳ء میں جب میں نے ہوش سنبھالا اور تحریک کے ساتھ وابستہ طلبہ کے ساتھ مل کر مجھے کام کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی تھی، جب ہم طلبہ ہرجمعرات کو محترم امام کا وہ خصوصی لیکچر سننے کے لیے جایا کرتے تھے، جو وہ طلبہ کے لیے  ارشاد فرماتے تھے، اور پھرہم ان سے ملنے کا موقع پاتے تھے۔ امام نے نہایت ہی سادہ، آسان اور دل نشین اسلوب میں ہمیں زندگی کے مقصد سے روشناس کیا۔آپ نے ہمیں اسلامی فکر اور اسلامی دعوت کا تحفہ دیا، آپ کی پیاری پیاری نصیحتوں کی بدولت آج بھی ہمارے دل آپ کی محبت سے لبریزہیں۔

آپ کے ہر جملے اور ہرعمل میں ہمارے لیے درس تھا۔ آپ نے ہمیں نظم و نسق، جہد ِمسلسل، وقت کی پابندی اوراس کی قدر وقیمت اور اسلامی اخلاقیات کی تعلیم دی۔ ان کے یہ ناقابلِ فراموش الفاظ آج تک میرے ذہن میں تازہ ہے:’’میں آپ کو علم ، ثقافت اور اخلاق کے میدان میں صرف برتر اور ماہر ہی نہیں، بلکہ دوسروں سے ممتاز اور ممتاز تردیکھنا چاہتا ہوں ‘‘۔

آپ ہم میںسے کم و بیش ہر فرد کو پوری تفصیل کے ساتھ جانتے تھے۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ میرے بارے میں آپ کو یہ بات تک معلوم تھی کہ ہم دس بہن بھائی ہیں اور آپ کے علم میں یہ بھی تھا کہ میرے والد صاحب بڑے سخت مزاج ہیں، جو رات آٹھ بجے کے بعد اپنے بچوں کو گھر سے باہر رہنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتے۔ چنانچہ آٹھ بجنے سے پہلے ہی آپ مجھے بڑی شفقت سے متنبہ فرمایا کرتے تھے، تاکہ میرے والد صاحب مجھ پر ناراض نہ ہوں۔ آپ بڑے عمدہ اور صائب الرائے انسان تھے۔ چنانچہ آپ بخوبی جانتے تھے کہ ہم طلبہ کے لیے دوران طالب علمی کون سی چیزیں لازمی ہیں۔آپ ٹوٹ کر ہم سے پیار کرتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں فزیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کا طالب علم تھا تو آپ نے مجھے بلایا اور مسافر طلبہ کے لیے ایک گھر کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری سونپی۔الحمدللہ آپ کی خواہش کے عین مطابق میں نے دو گھر کرائے پر حاصل کرکے اخوان کے مسافر طلبہ کے لیے قیام گاہ کا انتظام کیا۔ چنانچہ قاہرہ شہر میں یہ دارالاقامہ ہر لحاظ سے ایک مثالی تربیتی مرکز بن گیا، جس میں ہم، مقیم طلبہ کی تعلیم وتربیت اور ورزش وغیرہ کا باقاعدہ انتظام کیا کرتے تھے۔

اخوانی نوجوان رہایش کے لیے مناسب اور صاف ستھرا مکان پسند کیا کرتے تھے، تاکہ پڑھائی اور اسباق کی دہرائی میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔استاد حسن البناایک سیدھے سادے اور بے تکلف انسان تھے۔ آپ کا رعب اور ہیبت آپ سے دوری کا نہیں بلکہ آپ سے قرب و محبت کا باعث ہواکرتاتھا۔

  •   امام البنا کے کس رویے نے آپ کو از حد متاثر کیا ہے ؟
  •  فلسطین کے حوالے سے ان کا قوی اور جری موقف آپ کی زندگی کا ایک ممتاز اور نمایاں باب ہے۔ آپ ہمیشہ جہاد فلسطین کا تذکرہ فرماتے تھے اور اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ فلسطین کے ساتھ آپ کے گہرے تعلق نے ہمیں ازحد متاثر کیا۔ اسی طرح ابتدائی ایام میں یونی ورسٹی میں اخوان کے پرجوش نوجوان ساتھی، کمیونسٹوں کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے۔ لیکن امام البنا ہمیں ہمیشہ اس رویہ سے منع فرماتے اور کہتے کہ: ’’پہلے مارکس کے نظریات کا مطالعہ کرکے اس کوذہن نشین کریں، اس کے بعد دلیل کی بنیاد پر اس کے مقابلے کے لیے میدان عمل میں آئیں‘‘۔ چنانچہ اس عمل پہ عجب صورت سامنے آئی کہ اشتراکیت کا مطالعہ کرکے ہمیںکمیونسٹوں سے زیادہ کارل مارکس کے افکار سے واقفیت ہوگئی۔   اس سلسلے میں آپ ہمیشہ ہم جوانوں کو اس با ت کی وصیت فرمایا کرتے تھے کہ:’’فکر کا مقابلہ فکر ہی کرسکتی ہے‘‘۔ اس لیے ہم نے سنجیدگی کے ساتھ مختلف افکار کا مطالعہ کیا، جس کے نتیجے میں ہم اس قابل ہوئے کہ اخوان کی فکر کو ایک ممتاز اور کامیاب اسلوب کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھ سکیں۔
  •   بعض حلقوں نے امام البنا پر اعتراض کیا کہ وہ دوسری مصری پارٹیوں کے بارے میں منفی راے رکھتے تھے۔ اس اعتراض کی حقیقت کیا ہے ؟
  •   اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کی سیاسی جماعتوں پر امام اعتماد نہیں کیا کرتے تھے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کی اکثر سیاسی پارٹیاں یا تو براے نام تھیں یا پھر فساد زدہ ’وفدپارٹی‘ سے علیحدہ ہوئی تھیں، اور اسی کے نظریات کی حامل تھیں۔ ان کے علاوہ سیاسی جماعتیں نہ تو کوئی واضح پروگرام اور طریق کار رکھتی تھیں اور نہ کسی متعین ہدف کی حامل تھیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود آپ ہم جوانوں کو عباس محمود عقاد ، محمود شاکر اور محب الدین الخطیب وغیرہ کی مجالس میں بیٹھنے اور ان سے استفادہ کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ اگرچہ بسا اوقات ایسے بھی ہوتا کہ محمود شاکر اور عقاد ہمیں گالیاں دیا کرتے تھے، لیکن ہم یہ سب سن کر ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے ، ان کو مدلل جوابات دیا کرتے تھے اور بعض پہلوئوں سے اپنے کمزور دلائل کو مطالعے سے بہتر بناتے تھے۔
  •   بعض معترضین اخوان پر شدت پسندی کا الزام عائد کرتے ہیں اور خازن د ار کے واقعے کو بطور مثال پیش کرتے ہیں؟
  •  یہ لوگ درحقیقت اخوان کی دعوت سے بے خبر ہیں ، امام حسن البنا کوئی ڈھکی چھپی شخصیت نہیں، بلکہ آپ کی شان دار تاریخ ، متوازن طریق کار اور واضح لائحہ عمل سب کے سامنے ہے۔ افراد سازی ،گھریلو تربیت اور پھر معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا ایک ایسا پروگرام ہے جس کو آپ نے سوچ سمجھ کر ایک منطقی تسلسل کے مطابق وضع کیا۔

جہاں تک خازن دار کے واقعے کا تعلق ہے، تو امام حسن البنانے اس قتل کی شدید مذمت کی تھی اور اس سے اخوان کی براء ت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اخوان کسی بھی قسم کے تشدد پر یقین نہیں رکھتے بلکہ تبدیلی اور انقلاب کے لیے مضبوط اور واضح موقف کے ساتھ وہ حکومتی اداروں میں بڑی حد تک صلح آمیز تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں۔

  •   امام حسن البنا کو قتل کرنے سے پہلے بہت سارے اخوانی رہنما پابند سلاسل کر دیے گئے، جب کہ خود انھیں نہیں گرفتار کیا گیا- اس واقعے کے حوالے سے آپ کچھ بتانا پسند فرمائیں گے؟
  •  یہ ایک واضح عالمی سازش تھی جس میں امریکہ سمیت انگریز اور فرانس شریک تھے۔ ۱۹۴۸ء کے جہاد فلسطین ( جس میں اخوانی مجاہدین نے عظیم کارنامے انجام دیے ) سے واپسی پر نقراشی پاشا نے اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دے دیا، تاکہ وہ صہیونیوں کے ساتھ صلح کے معاہدے کا اعلان کرسکیں۔ واضح رہے کہ اخوان کے جتنے مجاہدین بھی فلسطین میں جہاد کے لیے گئے تھے ،انھوںنے صرف اور صرف صہیونیوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں، کسی بھی مصری یا فلسطینی باشندے کو انھوں نے کوئی گزند نہیں پہنچائی۔

نقراشی نے اخوان کو تحلیل کرکے اخوان کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتارکرلیا ، اس وقت اگر اخوان مزاحمت کرنا چاہتے تو بھرپور مزاحمت کرسکتے تھے‘ لیکن روز اوّل سے ہی تشدد اور قتل اخوان کا طریق کار نہیں ہے ، اور نہ اخوان ، حکومت کے خلاف بغاوت یا تختہ الٹنے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے۔ بلکہ جب اخوان کو کالعدم قرار دیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ جہاد کے دوران حاصل کیا جانے والا اسلحہ ہمارے حوالے کردو تو بلاتأمل انھوںنے اپنااسلحہ حکومت کے سپرد کردیا۔ اس دوستانہ تعاون کے فوراً بعد حکومت نے مجاہدین کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا۔

  •   جماعت کب اور کیسے دوبارہ بحال کی گئی ؟

l ۱۹۵۱ء میں جماعت نے دوبارہ منظم طریقے سے بلکہ پہلے سے کئی گنا بڑھ کر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ استاد حسن الہضیبی جماعت کے نئے مرشد عام منتخب ہوئے۔ اب مصربھرمیں اخوان کو ایک منظم قوت کے طور پر مانا جانے لگا اور مصر کے اطراف و اکناف میں اخوان کی شاخیں قائم ہوگئیں اور انھوں نے تربیتی ، علمی، ثقافتی،سیاسی ، سماجی غرض سارے میدانوں میں منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں بحال کردیں۔

  •   جولائی ۱۹۵۲ء  کے انقلاب کے بعد حالات نے کیا رخ اختیار کیا ؟
  •  یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس پر گفتگو تفصیل کی متقاضی ہے۔ اس وقت ملک کی سیاسی صورت حال بد ترین تھی۔ پوری قوم بادشاہ اور حکمران ٹولے کے بے سروپا تصرفات اور قومی مفادات کے منافی اقدامات سے تنگ آکرسراپا احتجاج بن چکی تھی۔ فوج کا موقف بھی حکومت کے خلاف تھا۔ چنانچہ فوج نے حکمرانوں کے خلاف فوجی بیرکوں میں محمد نجیب کی قیادت میں ایک نظام تشکیل دیا ، انھی دنوں غیر ملکی قوتوں کے ساتھ نہرسویز کی مشہور لڑائی بھی رونما ہوئی، جس میں مصری قوم نے انگریزی فوج اور ان کے حامیوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوکر بیرونی تسلط یکسر مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ جس کے نتیجے میں ۲۶جنوری کو قاہرہ کو جلانے کی مذموم سازش عمل میں لائی گئی۔ لیکن اس کے باوجود انگریزوں اور حکومتی فساد کے خلاف مزاحمت کو خاموش نہ کیاجاسکا۔ یہاں تک کہ مصطفی نحاس پاشا کو حکومت چھوڑنا پڑی۔ بعد ازاں ۲۳ جولائی کو فوجی انقلاب عمل میں آیا، جس میں اخوان نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔

انقلاب کی کامیابی میں پوری مصری قوم کی اس خواہش کو بنیادی اہمیت حاصل تھی، جو حکمران طبقے سے تنگ آکر کسی تبدیلی کی خواہش مند تھی۔ آغاز میں انقلابی قیادت اور اخوان کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ بعد میں فوج نے متفقہ پروگرام کی دفعات کو پس پشت ڈالنا شروع کردیا۔ چنانچہ اس وقت کے مرشدعام استاد حسن الہضیبی نے انقلابی کونسل کی توجہ ان چھے متفقہ نکات کی طرف مبذول کرائی، جس میں احترام آزادی ، دستور کی پاسداری ،اسلامی نظام کا نفاذ اور احترام آدمیت شامل تھے۔ لیکن انھوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی، بلکہ اسی مطالبہ کو اخوان کے ساتھ اختلافات کی بنیاد بنا کر ان کے خلاف سازشیں شروع کردیں اور بالآخر جنوری ۱۹۵۴ء کو وہ دن بھی آپہنچا جب ایک بار پھر اخوان کو کالعدم قرار دے دیاگیا۔ اخوان کے ہزاروں لوگوں کو مختلف جیلوں میں پابند سلاسل کر دیاگیا۔یہ حالت زیادہ دیر تک نہ رہی۔ جلد ہی انقلابی کونسل کی قیادت اختلافات کا شکار ہوگئی اورجنرل نجیب کو معزول کردیا گیا۔بعد ازاںشاہ سعود کی وساطت سے اخوان اور انقلابی کونسل کے درمیان کسی حد تک ایک مفاہمت ہوگئی اور مارچ ۱۹۵۴ء سے اخوان نے دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ لیکن چند دن گزر ے تھے کہ اسکندریہ کے قریب منشیہ نامی جگہ پر عبدالناصر پر قاتلانہ حملے کا ڈراما رچایا گیا اور اس کو اخوان کے سرتھوپاگیا۔ ایک بار پھر اخوان کے ہزاروں لوگ جیلوں میں بند کردیے گئے، ان پر فوجی اور سول عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے، جس کے نتیجے میں اخوان کی چھے عظیم شخصیات ،عبدالقادر عودہ ، محمد فرغلی ،ابراہیم طیب ، یوسف طلعت ، محمود عبداللطیف اور ہنداودی دویر کو تختہ دار پر لٹکا دیاگیا، انا للّٰہ و انا الیہ رٰجعون!

  •   حسن البنا کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے آخرت کی کامیابی کا درس دینے کے بجائے دنیا پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، جوکہ غیر مذہبی رویہ ہے؟
  •  یہ اعتراض نا سمجھی پر مبنی ہے ۔ یہ دنیا، آخرت سے جڑی ہوئی ہے اور کسی لحاظ سے بھی جدا نہیں ہے۔ ہم اس دنیا میں کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کرتے جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی یا ناراض نہ ہوتا ہو۔ آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ لوگ کہتے ہیں : امام حسن البنا شہید ہوگئے ، لیکن آپ جانتے ہیں کہ ان کی فکر اور ان کی برپا کی ہوئی تحریک ابھی تک زندہ ہے ، ہر جگہ ان کے شاگرد موجود ہیں۔ یہ درحقیقت اس دعوت کی سچائی ، خوب صورتی ، اس کی عظمت اور ان کی دعوت پر لوگوں کے یقین کی روشن دلیل ہے۔ ہم چالیس کے عشرے میں جب یونی ورسٹی میں پڑھتے تھے ، اگرچہ اس وقت ہماری تعداد بھی کم تھی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نے اس پروگرام ، اس منہج اور طریق کار کی پوری طرح حفاظت کی___ اسلام کو امام حسن البنا نے بڑے واضح ، سادہ اور عام فہم انداز میں ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش فرمایا جو زندگی کے تمام شعبوں ، ثقافتی ،علمی ، فقہی ، تربیتی ، فنی اور کھیل پر محیط ہے۔ اس لیے اگرچہ آج وہ ہم سے رخصت ہوچکے ہیں لیکن ان کی فکر ، ان کے مستقبل کے لائحہ عمل اور پروگرام کو لے کر آگے بڑھنے والے الحمدللہ دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔

                                               

جب مصر کا سفر [۱۹۵۱ء] پیش آیا،تو مجھے اس کی شدید خواہش تھی کہ اخوان کی تحریک کا مطالعہ کروں ،اور اس کے متعلق براہ راست معلومات حاصل کروں ۔شیخ [حسن البنا شہیدؒ] کے پرانے رفیقوں،ان کے معتمد ین اور ان کے تربیت یافتہ نوجوانوں سے ملاقات کروں اور اس عظیم الشان دعوت کی کامیابی کے اسباب معلوم کروں ۔ ۱۹۴۹ء میں شیخ کی شہادت کا واقعہ پیش آچکا تھا،لیکن میری خوش قسمتی سے اس وقت شیخ کے تمام پرانے رفقا و شرکا اور ان کے تلامذہ و حلقۂ احباب کے خواص موجود تھے ۔میری عربی تصنیف ماذا خسر العالم بانحاط المسلمین جو میرے سفر مصر سے چند ہی مہینے قبل شائع ہوئی تھی، اخوان کے حلقے میں کثرت سے پڑھی گئی تھی اور اخوان نے اپنی روایتی فراخ دلی اور بے تعصبی سے اس کو اپنے مخصوص تبلیغی لٹریچر میں جگہ دی تھی ۔یہ کتاب میرا ذریعۂ تعارف تھی۔پھر ہندی مسلمان ہونا اور ایک معروف ادارے سے تعلق رکھنا اخوان کے لیے (جو عالم اسلام کی وحدت اور تعارف و تعاون کے سب سے بڑے داعی ہیں) کافی وجہ کشش تھی۔

جہاں تک شیخ کے متعلق تاریخی وشخصی معلومات کا تعلق تھا‘ اس کے لیے سب سے مستند اور قابلِ اعتماد ذریعہ ان کے والد محترم شیخ احمد عبد الرحمن البنا کی ذات تھی،جنھوں نے ازراہ شفقتِ بزرگانہ اپنے قابل فخر و ذریعۂ نجات فرزند کے متعلق تمام ضروری و جزوی معلومات فراہم کیں۔ ان کے علاوہ شیخ کے رفیق درس وشریک کار اور اخوان کے مربی استاد بہی الخولی نے بحیثیت ایک دوست، رفیق، مشاہد و معاصر کے اپنے مشاہدات معلومات اور تاثرات سنائے۔ ان دونوں بزرگوں کے علاوہ   ان چند نوجوانوں سے بھی ملاقات ہوئی، جو شیخ کے معتمد خاص اور دست راست رہ چکے تھے۔ ان اصحاب سے شیخ کی زندگی اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے متعلق مستند معلومات حاصل ہوئیں اور ایسا محسوس ہوا کہ ان حضرات سے ملنے کے بعد شیخ کی زیارت سے کلی طور پر محرومی نہیں رہی۔

ان اصحاب سے جو کچھ سنا اور خود شیخ [حسن البنا]کے جو اثرات دیکھے، اس سے اس بات کا یقین پیدا ہوا کہ ان کی شخصیت تاریخ کی ان غیر معمولی شخصیتوں میں سے تھی جن کو اللہ تعالیٰ کسی تحریک و دعوت کو چلانے اور کسی عہد میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے پیدا فرماتا ہے اور اس کو قیاد ت کی وسیع اور متنوع صلاحیتیں عطافرماتا ہے۔وسیع وروشن دماغ، گرم و پُرمحبت ودردمند دل،فصیح و بلیغ زبان، تسخیرکر لینے والے اخلاق، دلآویز شخصیت، یہ ان کے عناصرترکیبی تھے۔میں جب اقبال کا یہ شعر پڑھتا ہوںتو بے ساختہ شیخ حسن البنا کی شخصیت آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے، اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے انھی کو دیکھ کر کہا ہے    ؎

نگاہ بلند ،سخن دل نو از، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

بدقسمتی سے جس زمانے میں میرا قیام مصرمیں تھا، اخوان کی تحریک خلاف قانون تھی اور ان کے اجتماعات نہیں ہوسکتے تھے۔لیکن اس اعتماد کی بنا پر جو ان کے ذمہ داروں کو میری ذات پر پیدا ہوگیا تھا، مجھے ان کی مخصوص مجلسوںمیں شرکت کی عزت حاصل ہوئی۔مجھے ان کے حالات و خیالات سننے اور اپنے ناچیز خیالات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ایک مخصوص مجلس میں جس میں اخوان کی مجلس انتظامی(مکتب الارشاد) کے ارکان اوردل ودماغ شریک تھے،مجھے منضبط طور پر اپنے خیالات اور تجربات پیش کرنے کا موقع ملا۔اخوان نے ان کی جس درجہ پذیرائی کی اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ انھوں نے اس کو علیحدہ رسالے کی شکل میں شائع کیا اور جب تک اخوان کی تحریک دوبارہ خلافِ قانون قرار نہیں دی گئی، اس کے تین اڈیشن شائع ہوئے۔ اس رسالے کا نام ہے: ارید ان اتحدث الی الاخوان٭(اخوان سے دو دو باتیں)۔ مجھے کسی دینی و سیاسی جماعت کے متعلق اتنی فراخ دلی اور عالی ظرفی کا تجربہ نہیں ہوسکا۔

اسی زمانۂ قیام میںمجھے شیخ محمد الغزالی کی معیت میں (جو اخوانی لٹریچر کے سب سے بڑے مصنف ہیں) مصر کے قصبات اور دیہاتوں میں بارہا جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر جگہ اخوان کے دینی جوش و خروش ،مہمان نوازی اور اسلام دوستی، محبت و اخلاص اور بے تعصبی و وسیع النظری کے ایسے مناظر دیکھے، جو ساری عمر یاد رہیں گے، اور جن سے شیخ حسن البنا کی تربیت و تاثیر اور ان کی    مردم گری، اور سیرت سازی کا اندازہ ہوا، اور معلوم ہوا کہ اس شعلۂ جوالہ نے کتنی ایمانی حرارت پیدا کردی ہے ۔اس تحریک کے مطالعے اور جو لوگ اس سے متعلق تھے، ان کو قریب سے دیکھنے کے بعد، میں خاص طور پر جن پہلوؤں سے متاثر ہوا وہ حسب ذیل ہیں:

۱-  اس تحریک نے ایک ایسی قوم اور سوسائٹی میں جو مغربی تہذیب اور تمدنِ جدید کی خرابیوں سے پورے طور پر متاثر ہوچکی تھی اوراس سے پہلے ترکی سلطنت اور شخصی حکومت کے اثرات سے متاثر رہ کر ’طبقۂ متر فین‘ میں شامل ہوچکی تھی،ایسی قوت عمل ،جذبۂ سرفروشی،سادگی و جفاکشی پیدا کردی، جس کی نظیر اس زمانے میں ملنی مشکل ہے اور خود اس کے ایک رہنما اور قائد (شیخ بہی الخولی) کے الفاظ میں ایک نرم و نازک قوم الشعب الرخو الرقیقمیں اس نے ایک نئی زندگی پیدا کردی، اور گویا اقبال کے اس تخیل اورتمنا کو پورا کیا    ع کبوتر کے تن نازک میںشاہیں کا جگر پیدا

ان کی اس قوت عمل ،جذبۂ سرفروشی اور عقابی شان دیکھنے کے لیے استاد کامل الشریف کی کتاب الاخوان المسلمون فی حرب فلسطین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

۲- دوسری چیز جس نے مجھے متاثر کیا وہ اخوان کی محبت و گرم جوشی اور ان کے آپس کے تعلقات ہیں۔ اتنا مستحکم رشتہ ء اخلاق و مودت اور احساس اخوت ورفاقت میں نے کم دعوتوں اور جماعتوں میں دیکھا ہے۔ اخوان کی تحریک نے ایک ایسی عالم گیربرادری پیدا کردی ،جس کا ہر فرد دوسرے فرد کو اپناحقیقی بھائی سمجھتا ہے اور بغیر کسی جماعتی عصبیت وحمیت جاہلیہ کے، اس کی مدداور حمایت کے لیے تیار رہتا ہے۔ کسی مصری اخبار نے ایک مرتبہ طنز کے طور پر لکھاتھا (اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ انتہائی اعتراف ہے) کہ اگر شیخ حسن البنا کو اسکندریہ میں چھینک آجائے تو اسوان (مصر کی جنوبی سرحد) میں یرحمک اللّٰہ  کی صدائیںبلندہوں۔ نہ صرف اپنے مرشدعام بلکہ ہر    رفیق جماعت کے لیے ان کا یہی جذبہ اورطرزعمل ہے۔ وہ عام طور پر ایک دوسرے سے تعارف انھی الفاظ میں کراتے ہیں: اخوک فی اللّٰہ فلان۔ ان کے طرز عمل اور سلوک سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس اخوت فی اللّٰہ پر عقیدہ رکھتے ہیںاور اس پر عمل کی کوشش کرتے ہیں۔

۳-  تیسرا پہلو جس نے مجھے بہت متاثر کیا یہ ہے کہ اس تحریک کا زندگی سے قریبی تعلق ہے۔ وہ زندگی سے بچ کر نہیں نکلتی بلکہ اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے،عوام سے اور عملی زندگی سے اس کا تعلق ہے۔ اس نے عوام کی زندگی میںدخل دیاہے،اس کی خرابیوںکی اصلاح کی ہے اورقدم قدم پراس کی اصلاح کی کوشش کی ہے۔  میں سمجھتا ہوں کہ اس کی کامیابی، مقبولیت اور تاثیر میں اس کو بڑا دخل ہے ۔

۴-  اس کا چوتھاروشن پہلو یہ ہے کہ اس نے دینی و علمی اختلافات سے بچ کر اپنا کام کیا ۔یہ چیز اس کے کمزور پہلوؤں میں بھی شمار کی جاسکتی ہے، مگر عالم اسلام کے موجودہ دینی و اخلاقی زوال، الحادوزندقہ کے حملے اور مسلمانوں کے ذہنی انتشار کو پیش نظر رکھاجائے تو یہ ایک اسلامی دعوت کے لیے خوش قسمتی سمجھی جائے گی کہ وہ اپنا وقت اور قوت خالص اصلاحی و تعمیری کام اور اساسی دعوت کے فروغ میں لگائے۔

۵- اخوان کی تحریک کا سب سے کامیاب اور روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے مصر (اور اس کی پیروی میںممالک عربیہ)کے بڑھتے ہوئے الحاد و لادینیت کے دھارے کو روکااور دین کے استخفاف و بے وقعتی اور ذہنی ارتدادوبغاوت کا جو رجحان روز افزوں تھااس پر اثر انداز ہوئی ۔جو لوگ مصر کی صحافت وادب سے واقف ہیں،وہ خوب جانتے ہیںکہ اس ملک میں دین کے خلاف ایک منظم سازش اور کوشش تھی۔ مصر کے ادیبوں اور صحافیوں ،مصنفین اور باحثین، سب نے دین کے خلاف ایک محاذ بنا رکھاتھااور انقلاب فرانس کے علم برداروں کی طرح وہ پوری مصری اسلامی سوسائٹی کو اپنے ’ترقی پسند‘ادب، اپنے’شک آفریں خیالات وتحقیقات‘اپنے طنز و تمسخر سے ڈائنامیٹ کررہے تھے اور یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا  (الانعام ۶:۱۱۲) کے مصداق تھے۔ اس متحدہ محاذ کے خلاف کسی دینی جماعت ،حتیٰ کہ ازہر تک میںآواز بلند کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہ تھی۔ اخوان کے مخالفین کو بھی اعتراف ہے کہ اخوان کی تحریک نے اس مورچے کو کمزور اور خوف زدہ کردیا۔ الحاد کی علانیہ دعوت دینے اور دین کے استخفاف کی جرأت بڑے بڑے زعماے ادب کو نہ رہی ،اخوان نے غیور نوجوانوں اور صاحب حمیت مسلمانوں کا ایک ایسا لشکر پیدا کر دیا کہ ملحدین کو اپنے ملحدانہ خیالات اور تصنیفات کی اشاعت ،اور اخبارات و رسائل کو دین و اسلامی تہذیب کے ساتھ تمسخر واستہزا کی جسارت باقی نہ رہی۔ پھر اس کے ساتھ اس نے اسلام پسند ادیبوں،ناقدین اور اہل قلم اور ماہرین فن کی ایسی جماعت پیدا کی جو علمی و فنی طور پر، ان ملاحدہ کا مقابلہ کرسکیںاور اسلامی ادب کو پیش کریں۔

اخوان کا یہ کارنامہ اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ کوئی شخص جس کے دل میں نور ایمان ہے اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔راقم کے سامنے چونکہ ان ممالک کی سابقہ زندگی ،اور موجودہ دینی و فکری انقلاب ہے اور اس کو اپنے طویل قیام کی بنا پر اس کا مشاہدہ و تجربہ ہو چکا ہے کہ اخوان نے جدید نسل کے دل و دماغ کو کس طرح متاثر کیاہے اور دین و شعائر دین کے اظہار واعلان کی کیسی جرأت پیدا کردی ہے، اور جو لوگ دینی عقائد و حقائق کے اظہار میں شرمندگی اورحقارت محسوس کرتے تھے اب کس طرح علانیہ منظر عام پر دینی فرائض و شعائر کو ادا کرتے ہیں، اور احساس کہتری کے بجاے برتری کااحساس رکھتے ہیں۔ ان ذاتی مشاہدات وتجربات کا نتیجہ تھاکہ ہندوستان میں میری زبان سے ایک تقریر میں اخوان کے متعلق بے ساختہ یہ لفظ نکل گئے کہ: لایحبھم الا مؤمن ولا یبغضھم الا منافق (اخوان سے اسی کو محبت ہوگی جس کے دل میں ایمان ہے،اور اسی کو نفرت ہوگی جس کے دل میں نفاق ہے)۔

تاریخ اسلام میں جن جرائم اور سفاکیوں نے ملت اسلامیہ کو عظیم ترین نقصان پہنچایا ،اور تاریخ کا دھارا بدل دیا، ان میں ایک شیخ حسن البنا کا مجرمانہ قتل ہے، جس نے کم سے کم مشرق وسطیٰ کو ایک مفید ترین شخصیت سے محروم اور صالح دینی انقلاب سے عرصے تک کے لیے بہت دور کردیا۔

اگر اخوان کچھ عرصہ اور عملی سیاست میں حصہ نہ لیتے اور اپنا اصلاحی و دعوتی کام پوری  قوت سے جاری رکھتے تو ممالک عربیہ میں ایک اسلامی انقلاب برپا ہوجاتااور ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی۔ (کاروانِ زندگی ، جلد اوّل، ص ۳۷۶-۳۸۲)

                                               

بعض اتفاقیہ و اقعات یوں لگتے ہیں کہ جیسے وہ ایک محکم تدبیر کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے ہوں، جیسے وہ کتابِ مسطور اور صفحاتِ تقدیر پر ازل سے ثبت ہوں ___حسن ’البنا‘ اتفاق ہی ہے۔ ان کا لقب ’البنا‘ یعنی معمار تھا لیکن کون کہتاہے کہ یہ ایک اتفاق ہے۔ اس انسان کے حوالے سے یہ لقب ایک عظیم حقیقت ہے۔ تعمیر بلکہ شان دار اور عدیم المثال تعمیر اس شخصیت کا اصل عنوان ہے۔

تاریخ اسلام نے لا تعداد داعی دیکھے ہیں لیکن دعوت وتشہیر ایک چیز ہے اور تعمیر بالکل دوسری۔ ہر داعی معمار نہیں ہوسکتا اور ہر معمار بھی یہ عبقریت اور عظمت نہیں پا سکتا۔ یہ عظیم الشان عمارت جسے ’اخوان المسلمون ‘ کہتے ہیں اسی تعمیر و عبقریت کا ایک مظہر ہے۔ یہ لوگ محض کوئی ایساگروہ نہیں ہیں ، کہ خطیب نے ان کے جذبات کو گرمادیا ہو، ان کے احساسات بیدار کردیے ہوں اور وہ کسی سطحی سوچ کے تحت کسی عارضی ہدف کے گرد جمع ہوگئے ہوں۔ اخوان وہ عمارت ہیں کہ تعمیر کی خوبی و استحکام اس کے ایک ایک زاویے سے اجاگر ہوتی ہے۔ اسرہ جات ، شعبہ جات ،علاقہ جات، تنظیمی مراکز ، تاسیسی مجلس اور مکتب ارشاد، ہر خشت اپنی مثال آپ ہے۔

یہ تو ہوئی اس کی ظاہری شکل و صورت لیکن معمارکی اصل عبقریت صرف ظاہری شکل سے  نہیں،جماعت کے داخلی نظام اور فکرکی ہمہ گیریت سے اجاگر ہوتی ہے۔ پورا نظامِ کامل نہایت  باریک بینی اور محکم انداز سے تشکیل دیا گیا ہے۔ تنظیم وترقی کا اصل شکوہ اس کی روحانی تعمیر سے واضح ہوتا ہے ، جس میں اسرہ جات ، کتیبوں اور شعبہ جات کے افراد باہم جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا اکٹھا مطالعہ کرنا ، مشترکہ نماز وعبادات ، مشترکہ احساسات ، مشترکہ ہدایات ، مشترکہ سفر ، مشترکہ تربیت گاہیں اور پھر بالآخر مشترکہ اطاعت اوریکساں سوچ، اس سب کچھ نے دین کی خاطر برپا   اس جماعت کو، دلوں میں پرورش پانے والے ایسے عقیدے اور ایمان کی صورت دے دی ہے، جو احکام و تعلیمات اور تنظیمی ضوابط سے پہلے ہی نفوس کو متحرک کردیتا ہے۔

حسن البنا کی عبقریت اپنے ساتھیوں کی انفرادی اور اجتماعی توانائیوں کو بہتر طور پر استعمال کرنے سے ظاہر ہوتی تھی۔ انھیں ایسی مسلسل و مفید سرگرمیوں میں کھپادینے میں تھی کہ جن کے بعد وہ اوقات کو فارغ جان کر اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں نہ مارتے پھریں۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ صرف لوگوں کے دینی احساسات و جذبات ابھار دینا کافی نہیں ہوتا۔ اگر ایک داعی اپنی ساری سرگرمی اسی ایک نکتے پر مرتکز کردے، تو وہ نوجوانوں کو مخصوص دینی ہوس کا شکار تو کردیتا ہے، لیکن کسی تعمیری سرگرمی میں نہیں کھپاتا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عقیدے کی علمی تاویلات کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا۔ اگر داعی صرف انھی میںکھو جائے تو وہ بالآخر تمام روحانی سرچشموں کو خشک کردینے کا ذریعہ بنتاہے۔ وہ اس روحانیت سے محروم رہتا ہے ، جو علمی مطالعے کو حرارت وگداز اور زرخیزی عطا کرتی ہے۔ اسی طرح وہ اس حقیقت سے بھی آشنا تھے کہ صرف وجدان کو اپیل کرنا اور مطالعے کا اہتمام کرنا بھی توانائیوں کا پورا استعمال نہیں ہے۔ عمل کی طاقت، جسمانی توانائی، اکتساب و عطا ، قتال و انفاق___ غرض کتنے پہلو ہیں جو اُدھورے اور تشنہ ٔ تکمیل رہیں گے۔

انھوں نے ان تمام پہلوئوں پر سوچ بچار کی ،یا یوں کہیے کہ انھیں ان تمام پہلوئوں کے احاطے کی توفیق نصیب ہوئی۔ انھوں نے جماعتی دائرے میں شامل ہونے والے ہر مسلمان بھائی کو ان تمام میدانوں میں متحرک کردیا۔ یہ سب جماعتی نظام کی برکات تھیں۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کی تمام فطری توانائیوں کو تعمیر وعمل میں کھپا دیا۔ کتیبہ جات ، تربیت گاہیں ، اخوانی تنظیمیں اور کمپنیاں، داعیوں کا نظام ، جہاد اور شہادتی کارروائیوں کے لیے افراد کی تیاری (تاکہ وہ جہاد فلسطین میں عملاً شریک ہوسکیں )۔ غرض ہر پہلو اس نظام کے عظیم و بے مثال ہونے کا عملی ثبوت تھا۔

حسن البنا کی عبقریت کا ایک اور پہلو مختلف النوع شخصیات و نفوس کو اکٹھا کرلینے میں نمایاںہوتا ہے۔ یہ قدسی نفوس مختلف علاقوں سے آئے تھے۔ مختلف معاشرتی پس منظر رکھتے تھے ، مختلف ذہنی استعداد کے مالک تھے، لیکن سب ایک ہی متناسب لڑی میں پروئے ہوئے تھے۔ یوں جیسے مختلف نغماتی صدائوں سے ایک خوب صورت دھن ترتیب پا جائے ،سب کی ایک ہی پہچان ، سب کا ایک ہی رجحان۔ چوتھائی صدی کے اندر اندر یہ سب مختلف الخیال ،مختلف الاعمارافراد ایک اکائی کی حیثیت اختیار کرگئے۔

اس پورے تناظر میں جائزہ لیں کہ ’البنا‘یعنی معمار کا لقب ایک اتفاقی امر تھا یا یہ کہ یہ سب اس بلند و اعلیٰ امر الٰہی کا پر تو تھا ، جس کی کتابِ مسطور میں،سب کچھ ایک لا متناہی جمال و ترتیب سے لکھا ہوا ہے، خواہ وہ ادنیٰ سے ادنیٰ اتفاقی امر ہو یا تقدیر کے اعلیٰ ترین مراتب۔

یہ جدوجہداپنے عروج پہ تھی کہ حسن البنا اپنے رب کے حضور پیش ہوجاتے ہیں۔ رب کے حضور حاضری سے انھوں نے اپنی عمارت کی بنیادیں مزیدمستحکم و محفوظ کردیں۔ اللہ نے ان کی شہادت اس طور چاہی کہ عظیم ارادۂ الٰہی کی تکمیل ہوجائے۔ ان کی شہادت تعمیر ہی کا ایک مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔ اس سے عمارت کی بنیادیں مزیدگہری ہوگئیں ، در و دیوار مزید مضبوط ہوئے۔ شہید کے ہزاروں خطاب اور ہزاروں کتابیں بھی اخوان کے دلوں میں تحریک ودعوت کے وہ الائو روشن نہیں کرسکتے تھے جوان کے پاکیزہ خون سے منور ہونے والے چراغوں نے دہکا دیے تھے۔ ان کی بات سچ ثابت ہوئی کہ ہماری باتیں موم سے بنے مجسمے ہیں، یہاں تک کہ جب ہم ان کی خاطر اپنی   جان سے گزر جاتے ہیں تو ان میں روح دوڑنے لگتی ہے اور ان کے لیے حیات جاودانی لکھ دی  جاتی ہے۔

جب بونے ڈکٹیٹر حکمرانوں نے اخوان کو آہن و آتش سے کچلنا چاہا، تب تک وقت   بیت چکاتھا۔ تب حسن البنا کے ہاتھوں اٹھائی گئی بنیادیں منہدم کرنا، کسی کے لیے ممکن نہ رہاتھا۔ اخوان کے شجر طیب کی جڑیں اکھاڑنا کسی کے بس میں نہ رہا تھا۔ اخوان ایک ایسے نظریے اور فکر کی حیثیت اختیار کرچکے تھے، جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ جبراور آہن و آتش کی یلغار، کبھی افکار و نظریات کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔حسن البنا کی عبقریت سربلند رہی۔ بونے جابر مٹ گئے، اخوان کو دوام نصیب ہوا۔اگرچہ کئی بار ایسا ضرور ہوا، کہ بعض کمزور نفوس و سوسوں کا شکار ہوگئے ،لیکن یہ نفوس خود کوبیمار رکھنے پر مصر تھے لہٰذا ناکام ہوئے۔ وہ یا توسرسبز شجر عظیم سے ،خشک پتوں کی طرح جھڑ گئے، یا بالآخر ان کی بیمار سوچ خود ہی سمٹ کر رہ گئی اور منظم و متحرک صفوں میں کوئی خلل نہ آسکا۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ دشمنان اخوان نے شجر عظیم کی کسی ایک شاخ کو یہ گمان کرتے ہوئے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہی شاخ اصل شجر ہے، اگر اسے کاٹنے یا اکھاڑنے میں کامیاب ہوگئے تو پورا درخت کٹ جائے گایا اکھڑ جائے گا۔ لیکن جب شاخ پر دبائو عروج پر پہنچا تو وہ کسی ایسی خشک لکڑی کی طرح دشمنوں کے ہاتھ آگئی، جس کے ساتھ نہ کوئی پتا تھا نہ اس میں کوئی تازگی تھی، نہ ثمر اور نہ رونق حیات___ یہی ’معمار‘کی عبقریت تھی جو اس کے اٹھ جانے کے بعد بھی فیض دے رہی تھی۔

آج بھی اخوان کو وہ تمام آزمایشیں گھیرے ہوئے ہیں جو ماضی میں گھیرے ہوئے تھیں۔ لیکن آج وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ، پہلے سے زیادہ مستحکم اور پہلے سے زیادہ منظم ہیں۔ آج وہ  دلوں میں راسخ ایک نظریہ بھی ہیں، تاریخ کا ایک سنہرا باب بھی،روشن مستقبل کے امین بھی ہیں اور ایک طرزِزندگی بھی، اور اس سب کچھ سے زیادہ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہیں کہ جسے کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ وہ شہدا کا خون ہیں کہ جسے کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔

جو بھی اس عمارت کے بارے میں بری نیت رکھتاہے ، وہ یاد رکھے کہ اس سے پہلے ان کے پیش رو شاہ فاروق کی سرکشی جسے برطانیہ وامریکاکی ہلہ شیری بھی حاصل تھی، طغیانی اس عمارت کا ایک پتھر بھی اپنی جگہ سے نہیں اکھاڑ سکی۔ اس میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکی۔ مستقبل بھی اسی عقیدے و نظریے کا ہوگا جس پر اخوان کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ نصرت اسی معاشرتی نظام کی حلیف ہوگی جو اس راسخ عقیدے سے پھوٹتا ہے۔ آج ہر مسلم سرزمین سے اسی ایک پرچمِ بلند تلے جمع ہونے کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، جسے کبھی استعمار نے چاک چاک کردیاتھا۔ استعمار چاہتاتھا کہ اس طرح وطن اسلامی کے ٹکڑے ٹکڑے کردے ۔آج اس مجروح جسم کے تمام زخم مندمل ہونے کی گھڑی  آن پہنچی ہے۔ اب اس جسم کو ایک زندہ و بیدار و توانا وجود نصیب ہونا ہے اور پھر قباے استعمار کو تار تار کرنا ہے۔

وجود و ہستی کا فطری تقاضا ہے کہ اس سلیم فطرت اورعظیم عقیدے کو نصرت نصیب ہو ،  تقسیم و انتشار کا دور گزر چکا۔ اگر اسلامی تحریک اس تاریک دور میں فنا کے گھاٹ نہیں اتاری جاسکی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آج بیداری ، انتفاضے اور احیاے اسلام کے دور میں اسے فنا کیاجاسکے۔ آج اسلامی فکراور اخوان المسلمون کا وجود یک جان دوقالب کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ جس طرح تاریخ ان دونوں کو جدانہیں کرسکتی، اسی طرح آج یا آنے والے کل میں بھی کوئی ان دونوں کو  الگ نہیں کرسکتا۔

ماضی میں استعمار نے امت پر ایسے خواب آورنسخے آزمائے جنھیں دین سے منسوب کیاگیاتھا۔ اس ضمن میں اس نے کبھی تو اہل تصوف کو استعمال کیا اور کبھی جامعہ الازہر کو۔ لیکن آج یہ سب کچھ ممکن نہیں رہا۔ اخوان کی مضبوط عمارت فکر اسلامی کی بھرپور نمایندگی کرتی ہے ___آج کسی اور ادارے یا فرد کے ذریعے اسلامی سوچ کو دھندلایا نہیں جاسکتا۔ آج ازہر بھی طویل اسیری کے بعد استعماری گرفت سے آزاد ہو رہا ہے اور اس کے طلبہ و اساتذہ بھی بڑی تعداد میں اخوان میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک فطر ی عمل ہے اسے یوں ہی ہونا تھا:

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ o (المجادلہ ۵۸:۲۱)

اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا کہ یقینا میں اور میرے رسول ؐ ہی غالب رہیں گے ، بے شک اللہ قوی و غالب ہے۔

                                               

۱۲فروری ۱۹۴۹ء کو حسن البنا خون میں لت پت اپنے رب کریم سے جا ملے۔ آپ نے اقامت دین کے راستے میں حائل بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

آپ نے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی صحیح تصویر جاگزیں کرنے ، ان کے دلوں میں اسے راسخ کرنے، عملی زندگی میںانھیں اسلام کے تابع فرمان بنانے، اور اسلام کی بالادستی قائم کرنے کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔

حسن البنا نے جن بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے شہادت کا مرتبہ پایا ، ان میں سے سرفہرست عصر حاضر کے وہ بت ہیںکہ جنھیں لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ اور وہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے دولت و اقتدار کے کروفر رسوم و رواج کے چنگل یا مذہبی فریب کاری سے متاثر ان بتوں کے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں۔ یہی بت ہیں جن کی جانب ہر سمت سے لوگ بھاگے آتے ہیں ،اور ہر جگہ انھی بتوں کے گرد لوگ دیوانہ وار چکر کاٹتے ہیں۔ ان کی خواہش یہی ہے کہ کسی طرح ان سے جا ملیں یا ان کا قرب حاصل کرلیں۔ ایسے کم ظرف لوگ اپنے ازلی و ابدی رب کی نافرمانی کرتے ہیں اور وقتی‘ عارضی اور بودے جھوٹے خدائوں کی رضا جوئی چاہتے ہیں۔

عصر حاضر کے یہ بت ،قدیم زمانے کے پتھرا ور لکڑی وغیرہ کے بت نہیں ہیں، جن کی آغوش میں انسان پناہ لیتے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور اس کی قربت حاصل کرنے کے لیے انھیں پوجتے تھے۔ یہ مجسم چلتے پھرتے انسانی بت ہیں، جن میں مریض روحیں سرایت کرچکی ہیں، جنھیں خواہشات نے غلام بنا رکھا ہے اور جنسی اور مالی ہوس ناکی نے انھیں توڑپھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایسی روحیں جن پر بد ترین افکار اور حقیر خواہشات غالب ہیں۔ ایسی روحیں جو مال و جاہ پر فریفتہ ہیں اور خدا کے عطا کردہ جاہ و جلال سے بے پروا ہیں۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو فراموش کرچکے ہیں اور جنھوں نے اس کے نازل کردہ احکامات کا انکارکر رکھا ہے،یہ خود بھی بدبخت ہیں اور انھوں نے دوسروں کو بھی بد بخت بنارکھاہے۔ وہ نہ صرف خود گمراہی و ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ،   اپنے پیروکاروں کو بھی لے ڈوبے ہیں۔

حسن البنا نے نہ تو کوئی جنگ چھیڑی تھی اور نہ وہ بغاوت کے مرتکب ہوئے تھے۔ وہ ایک نہتے انسان تھے۔ ان کے پاس حق کا ہتھیار ضرورتھا، لیکن یہ ان کی سرشت میں نہ تھا کہ وہ لوگوں پر چڑھ دوڑیں، وہ حکیمانہ اور بھلے انداز سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے ، اور لوگوں کو   ایسے بھلائی کے کاموں کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں سراسر ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی اور    ان کے لیے خوش بختی کا سامان ہو۔

حسن البنا نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اسلام طاقت و قوت اور عزت و شوکت کا نام ہے، جب کہ لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اسلام کمزوری ، غلامی اور خودسپردگی کا نام ہے۔ انھوں نے لوگوںپر واضح کر دیا کہ اسلام ،انصاف ، پاکیزگی ، آزادی ، مساوات اور برابری کا دین ہے۔ جس وقت مسلمان مظالم ، تکالیف اور ایذا رسانی کے سبب کراہ رہے تھے اور گناہوں میں ڈوب چکے تھے ، ان کی آزادی سلب اور حکومت ختم ہوچکی تھی اور انھوں نے آپس ہی میں ایک دوسرے پر چڑھائی کررکھی تھی۔ ان کے طاقت وروں نے کمزوروں کو ذلیل و رسوا کرکے چھوڑاتھا اور ان کے حاکموں نے رعایا کو دبا رکھاتھا....... امام حسن البنا نے مسلمانوں کو سمجھایا کہ اسلام ہی ان کے درمیان وحدت اور ان کے ممالک کے لیے اتحاد کا سبب ہے، اسلام ہی مومنوں کے درمیان بھائی چارے کا باعث اور مسلمانوں کے درمیان باہمی تعاون و یک جہتی کا وسیلہ ہے۔اسلام نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرنے، اور یک جا ہو کر خیر کے پھیلانے اور شر و فساد کو ختم کرنے کا نام ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ حسن البنا ایک طویل جدوجہد اور اَن تھک محنت کے بعد کامیاب ہوں۔ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے ، ان کی دعوت کو قبول کیا اور ان کی یہ دعوت اطراف و اکناف میں پھیل گئی۔ مختلف علاقوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والے مردوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ گویا وہ نئے جو ش و ولولے سے دائرۂ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں     اور قرآن کے جھنڈے تلے صف آرا ہوگئے ہیں۔ وہ سب یک زبان تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کی  غرض و غایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کے لیڈر اور رہنما ہیں، قرآن کریم ہی ان کا دستورِ حیات ہے، جہاد ان کا راستہ ہے اور اللہ کی راہ میں موت ان کی منتہاے آرزو ہے۔

جب یہ دعوت مسلم دنیا میں پھیلی اور اس کی روشنیاں ہرسُو جگ مگانے لگیں تو ظالموں کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ ان کے مظالم کی طویل رات کے زوال کا وقت آگیا ہے۔ سامراجی قوتوں نے محسوس کیا کہ ان کے شکار ان کے ہاتھ سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ظلمتوں کے پجاری چمگادڑوں نے جان لیا کہ اسلام کی روشنی میں ان کے لیے زندہ رہنا دشوار ہوگا، تو انھوں نے اپنے تئیں سمجھا کہ اس دعوت کے داعی کے قتل کے ساتھ ہی اس دعوت کابھی خاتمہ ہوجائے گا۔اسی لیے انھوں نے دھوکے اوربہانے سے امام حسن البنا کو قتل کردیا۔ آپ رحمہ اللہ توخوشی خوشی اپنے رب کریم سے جاملے، تاکہ اس کے ہاں انبیا و صدیقین کے ساتھ جگہ پالیں۔ جہاں تک تعلق ہے انھیں دھوکے سے شہید کرنے والوں کا تو انھوں نے یہ مکروہ اور قبیح حرکت کرکے اللہ تعالیٰ کا غضب مول لیا اور اس کی لعنت اور دنیا و آخرت کی رسوائی حاصل کی۔

حسن البنا، شہید اسلام ہیں، جنھوں نے اذہان میں اسلام کی تجدید کی، قلوب میں اسے زندہ کیا، مسلمانوں کے مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونکی، انھیں خواب غفلت سے بیدار کیا اور انھیں اپنی آزادی اور ناموس دین و ملت کی حفاظت کے لیے ابھارا۔

امام حسن البنا کوجن ظالموں نے قتل کیا وہ سراسر خسارے میں رہے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی ذات کو ختم کرکے شاید انھوں نے ان کی دعوت کو بھی ختم کردیا، حالانکہ وہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ وہ کوئی چند اشخاص کی دعوت نہیں ہے بلکہ اللہ کی پکار ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سمجھادیاہے کہ دعوت کا تعلق اس ذات وحدہٗ لاشریک سے ہے ، دعوت دینے والوں کی ذات سے نہیں ہے۔ اشخاص کا اس سلسلے میں بس اتنا ہی حصہ ہے کہ جس کسی نے اس دعوت کے لیے کوشش کی اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کے سبب اسے عزت دی، اور جس نے اس دعوت کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھلائی سے دور کردیا،پھر وہ کسی حال میں دعوت کی اس نعمت تک نہیں پہنچتا۔ یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ان کی دعوت کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا ، تو پھر حسن البنا کے دنیا سے چلے جانے سے اس دعوت کو کیسے نقصان ٖپہنچ سکتا ہے۔ لیکن ظالموں کو اس کی سمجھ کیوںکر آئے گی۔

میں جس چیز کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اصل میں دعوت اسلام ، کسی شخص کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دعوت ہے۔ گویا بھلائی ، سعادت مندی اور انسانی اصلاح کے لیے تو یہ ایک روشنی ہے۔ ایسی روشنی جسے اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف اتارا ہے، تاکہ جہالت اور ظلم کے اندھیروں کو پاش پاش کردے اور کرۂ ارضی کو ظلم و فساد سے پاک کردے۔ دوسری طرف زمین میں پھیلے طاغوت اور اس کے آلہ کار ہر جگہ ، ہر زمانے میں اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ وہ اس دعوت کو نیچا دکھائیں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی پھیلائی ہوئی روشنی کو بجھا دیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بہرصورت روشنی کو مکمل کرکے رہے گا ، اور اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گا۔ چاہے ظالم طاغوت ،اوراستعماری سامراج ہرگز نہ چاہیں اور چاہے وہ سب مل کر ایک د وسرے کی پشت پناہی کرتے رہیں: ’’اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک رسول ہیں ، ان سے پہلے بھی رسول گزرچکے ہیںتو کیا وہ اگر انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پائوں پھر جائو گے، اور جو الٹے پائوں پھرے گا اللہ کا کچھ نہیں بگاڑسکتا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو صلہ دے گا‘‘۔ (اٰل عمرٰن ۳:۱۴۴)

بے شک اخوان المسلمون کے محترم اور محبوب قائد حسن البنا کو قتل کردیا گیا، ان کے ساتھیوں میں سے بھی کئی قتل ہوئے،بہت سے ستائے گئے، آزمائے گئے اور انھیں ان کے گھروالوں کو مال اور مستقبل کے حوالے سے آزمایش میں ڈالا گیا، لیکن یہ سب کچھ انھیں اللہ تعالیٰ کی دعوت سے نہ پھیر سکا بلکہ ان کے ایمان اور ثابت قدمی میں اضافے کا سبب ہوا۔

الحمدللہ ،وہ تمام آزمایشوں سے زیادہ سخت جان، زیادہ پختہ ارادے والے اور برائی کی قوتوں کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کرنے والے بن کرصراط مستقیم پر گام زن ہوئے۔ وہ اپنے شہید  راہ نما کے طریقے پر چلتے رہے ، جو اپنے قائد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور اللہ جل شانہ کی کتاب کو تھام کر چلنے کے لیے کوشاں رہے۔ ہرلمحہ اللہ تعالیٰ سے دعاگو رہے کہ وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملاقات کریںکہ جس میں ملنا مطلوب ہے۔

ایمان والوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں ، جنھوں نے سچ کردکھایا وہ وعدہ جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیاتھا ، پس ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنھوں نے اپنی نذر پوری کردی اور کچھ منتظر ہیں اور وہ ہرگز نہیں بدلے۔ (الاحزاب ۳۳: ۲۳)

اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے عبرت ہے جو حق کی مخالفت کرتے اور اللہ تعالیٰ کی دعوت کو بوجھ بلکہ ناخوش گوار سمجھتے ہیں۔ اگر وہ عبرت حاصل کریں اور سمجھ جائیں تو اس میں ان کے لیے اور لوگوں کے لیے بھلائی ہے۔ کامیابی حق کے لیے ہے۔ یہ باطل خواہ کتنا بلند اور کامیاب ہو  بالآخر اسے زوال پذیر ہونا ہے۔

بے شک اللہ تعالیٰ نے روز اول سے طے کردیاہے کہ اس کا حکم ہی غالب رہے گا اور اس کے رسولؐ کا بھی۔ جوکوئی بھی اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرنے کی حماقت کرتا ہے، وہ خود مغلوب ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لازم کرلیا ہے اپنے لیے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو زمین کا وارث بنائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے تم میںسے ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ضرور انھیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا گیا جو تم سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کا وہ دین جو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے ، غالب کردے گا۔ (النور ۲۴:۲۵)