جمال بے مثال ہو تو تعریف مشکل ہوجاتی ہے، اور جمال اعمال و کردار کا ہو، تو احاطہ مشکل تر بلکہ بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔ پروردگار عالم نے بنی نوع انسان میں ابنیاے کرام کے علاوہ کئی ایسے مومنین صادقین پیدا فرمائے جن کا ذکرِ جمیل مشک و عنبر کی حیثیت رکھتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی ان چنیدہ ہستیوں میں ایک ہستی حسن البنا شہید ہیں۔ ان کی نصف صدی پہ محیط زندگی اور پوری صدی پر محیط اثرات و ثمرات کا مطالعہ کریں، تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں تجدیدِ دین ہی کے لیے پیدا کیا تھا۔ ان کی ولادت کو سو برس گزرے تو ترجمان القرآن نے ان کی شخصیت و کردار اور ان کی دعوت و اثرات کا جائزہ لینے اور انھیں مزید متعارف کروانے کا مستحسن فیصلہ کیا۔ اگرچہ حسن البنا کا نام، ان کی تحریک اور جدوجہد تحریک اسلامی کے کسی بھی کارکن کے لیے اجنبی نہیں، لیکن اس سراپا عمل و اخلاص شخصیت کے کتنے ہی پہلو ایسے ہیں، جن سے اُردو کے قارئین ابھی تک ناآشنا ہیں۔ ان کے بارے میں لکھی جانے والی کتنی ہی ایسی مؤثر تحریریں ہیں، جو صرف عرب دان حلقوں تک محدود ہیں۔ ان کے تجربات، ان کی ہمہ گیر سوچ، انھیں درپیش خطرات، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر توڑے جانے والے مظالم، کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جن کا احاطہ کرنے کے لیے دفتروں کے دفتر درکار ہیں۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے نام خطوط کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نوزائیدہ اسلامی ریاست پاکستان پر گزرنے والے ہر نازک لمحے سے آگاہ تھے۔ یہ نہ صرف پاکستان سے ان کی گہری محبت کا مظہر اور اس سے وابستہ اُمیدوں کی دلیل ہے بلکہ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کی مضبوط اسلامی بنیادوں کا واضح ثبوت بھی ہے۔ حسن البنا شہید کے صاحبزادے احمد سیف الاسلام البنا سے یہ قیمتی خطوط حاصل ہوئے۔
اشاعت خاص کے لیے ہم نے عالم اسلام کے دانش وروں اور اسلامی تحریک کے قائدین کو لکھنے کی دعوت دی تھی۔ اکثر ممالک اور اکثر تحریکوں کے ذمہ داران نے اپنی خصوصی تحریریں ارسال کیں۔ امام شہید کے اہلِ خانہ اور سفرو حضر میں ان کے ساتھیوں نے ان کے معمولات اور شخصیت کے گوشے وا کیے۔
امام حسن البنا شہید کی اپنی تحریریں بھی ان کے بلند علمی مقام، قابل رشک فکری گہرائی، باوقار اعتدال اور حیرت انگیز تنظیمی خوبیوں کو جاننے کا بہت اہم ذریعہ ہیں۔ بدقسمتی سے ابھی تک اُردو میں ان کی صرف چند تحریریں منتقل ہوسکی ہیں۔ اُمید ہے کہ شامل اشاعت ان کی چند نگارشات، ان کی فکر کو جاننے اور ان کی علمی وجاہت سے متعارف ہونے کا اہم ذریعہ ثابت ہوں گی۔
اس اشاعت میں آپ کچھ قدیم تحریریں بھی پائیں گے، لیکن یہ سب تحریریں اس حوالے سے تازہ اور اہم ہیں کہ ابھی تک اُردو میں شائع نہیں ہوئیں۔ عظیم شخصیات کی یہ تحریریں قاری کو ایک نیا جذبۂ عمل بخشتی ہیں۔ اس سے پہلے امام شہید کی ڈائری اور ان کے بعض خطبات اور کتابچے ترجمہ ہوکر اُن کا بھرپور تعارف کرواچکے ہیں۔ لیکن اُمید ہے کہ مطالعے کے بعد آپ کا دل بھی گواہی دے گا کہ ۴۰۰ صفحات پر مشتمل ترجمان القرآن کی اشاعتِ خاص اور اتنے ہی مزید صفحات پر مشتمل کتابِ خاص سے ایک بڑا خلا پر ہوا ہے۔ خواہش تو یہ تھی کہ کتاب میں شامل تمام مضامین بھی اشاعت خاص ہی میں شامل ہوں، لیکن وسائل کی کمی نے اس خواہش کی تکمیل نہیں کرنے دی۔ ان شاء اللہ بہت جلد یہ کتاب بھی آپ کے ہاتھ میں ہوگی۔
اس اشاعت خاص کی تیاری ایک بڑی سعادت ہے۔ اس میں جن احباب کا تعاون حاصل رہا، اللہ تعالیٰ انھیں اجرعظیم سے نوازے۔ تاہم جملہ امور میں معاونت کے لیے پروفیسر خالد محمود، حافظ محمد عبداللہ،حمیداللہ خٹک، طارق زبیری، امجد عباسی، حیدر زیدی اور خلیل الرحمن ہمدانی کے خصوصاً شکرگزار ہیں۔یہ اشاعت اپنے آنے والے کل کو گزرے ہوئے کل سے بہتر بنانے کا پیغام ہے۔ اب اصل سوال یہ رہے گا کہ کیا ہم نے یہ پیغام پڑھ لیا، سمجھ لیا اور بہتر کے لیے عزم باندھ لیا؟ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ - وَ تُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ o
عبد الغفار عزیز
۱۲ ربیع الاول ۱۴۲۸ھ
حسن البنا شہید سے میرے تعلق کی بنیاد بڑی منفرد ہے۔وہ اسلامی تاریخ کی ان چند مرکزی شخصیات میں سے ہیں جن سے ملاقات نہ کرنے کی حسرت ہمیشہ رہے گی۔ مجھے اپنے بچپن میں مولانا ابولکلام آزاد،مولانا حسرت موہانی، مولانا شوکت علی اورعلامہ محمد اسد کو دیکھنے کا موقع ملا۔مگر مولانا محمد علی جوہر اورعلامہ محمد اقبال دوایسی شخصیات ہیں جن کو نہ دیکھنے کا قلق رہاہے۔ اس تسلسل میں جس تیسری شخصیت کو دیکھنے کی تمنا، خواہش اور شوق رہا،وہ حسن البنا شہید تھے۔
حسن البنا کی شخصیت میں ایک غیر معمولی سحرانگیزی (charisma) اور دل کش جاذبیت کا امتزاج نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حسن البنا کے قالب میں ایک ایسی بے چین روح ہے، جو اپنے رب کی خوش نودی حاصل کرنے، اس کی مرضی و ہدایت کی روشنی میں دنیا کو بدل ڈالنے اور اسے مالک و خالق کی اطاعت میں لانے کے لیے ہر آن سرگرداں اورمضطرب ہے۔ یہ کیفیت ان کے بچپن سے لے کر جوانی اور پھر شہادت کے لمحات تک موجزن نظر آتی ہے۔ مجھے بے شمار مفکرین کو پڑھنے، استفادہ کرنے،اوربہت سے اہلِ دل سے ملنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔ لیکن جو کرشماتی کیفیت حسن البنا شہید کی زندگی،ان کے روزوشب اور ان کے مکالمات ومعاملات میں نظر آتی ہے،اوروہ بھی نہایت فراوانی کے ساتھ، وہ کہیں اور نہیں ملتی۔ اسی لیے مجھے ایسی دل آویز شخصیت کونہ مل سکنے پر احساس تاسف ہمیشہ رہے گا۔
اخوان کے تیسرے مرشد عام جناب عمر تلمسانی مرحوم سے لے کر موجودہ مرشد عام محمدمہدی عاکف تک سبھی سے مجھے ملنے کا شرف حاصل ہے۔ کچھ سے تو خاصی قربت بھی رہی ہے، جیسے جناب استاد مصطفی مشہوراور جناب مامون الہضیبی۔مامون الہضیبی کے والد حسن الہضیبی جو حسن البنا مرحوم کے بعد دو سرے مرشد عام تھے ، ان سے ملاقات تو نہیں ہوئی،البتہ خط و کتابت کی سعادت حاصل ضرور ہوئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے دور میںانھوں نے اپنی تحریروں سے بھی نوازا۔ان مواقع کے باوجود حسن البنا جیسے عبقری قائدسے ملنے کے شوق اور نہ مل سکنے کی حسرت اپنی جگہ موجودہے۔انسان کسی عظیم شخصیت سے ملاقات میں کچھ حاصل کرتاہے یا کچھ حاصل نہیں کرپاتا،یہ دوسری بات ہے، لیکن ایسے پاک طینت اشخاص اور اہل اللہ کو دیکھنا اور ان کی مجالس میں بیٹھنا بھی روحانی تعلیم و تربیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس اعتراف حقیقت کے ساتھ ساتھ ایک اور اعتراف بھی شاید بے محل نہ ہو۔ مجھ جیسے عقلیت زدہ انسان پر بھی یہ کیفیت باربار گزری ہے کہ حسن البنا شہید کو اپنے قریب پایا ہے۔ ان سے صحبت اور بالمشافہہ استفادے کے باب میں محرومی کے باوجود ان سے ایک ایسی نسبت زندگی بھر محسوس کی ہے جسے روحانی ملاقات کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ ایک روحانی تجربہ ہے یا محض اپنی خواہشات کی تسکین کہ بارہا زندگی میں ان سے قربت اور ان کے حلقۂ مریداں میں شرکت کی لذت محسوس ہوئی ہے۔ یہ اللہ کا فضل اور ان کی طلسماتی شخصیت کا کرشمہ ہے۔
سعید رمضان دسمبر ۱۹۴۸ء میں پاکستان آئے اور پھر فروری ۱۹۴۹ء میں امام حسن البنا کی شہادت کے بعد کچھ عرصہ کے لیے یہیں مقیم ہوئے۔ ۱۹۵۰ء میں وہ عرب دنیا میں پاکستان کو متعارف کروانے کے لیے گئے اور پھر ۱۹۵۱ء کی مؤتمر عالم اسلامی کی دوسری کانفرنس میں شریک ہوئے، اور اس کے معتمدعام دوم منتخب ہوئے۔ کانفرنس میںسعید رمضان کی تقریر مسحور کن تھی۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں تقریر کا غیر معمولی ملکہ عطاکیاتھا۔ عربی میں تو وہ قادر الکلام تھے ہی ،لیکن انگریزی پر مکمل دسترس نہ رکھنے کے باوجود، ان کے اظہار بیان میں تاثیر کچھ کم نہ تھی۔فکر و جذبات کا جو مؤثر اظہار ان کی خطابت میں تھا، وہ قابل رشک تھا۔ خاص طور پر نوجوانوں کو وہ مسحور کرنے اور عمل پر اُبھارنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔
پاکستان میں ان کے قیام کے دوران میں ہی چونکہ اخوان المسلمون پر پابندی لگا دی گئی تھی اور امام حسن البنا شہید کر دیے گئے تھے،اس لیے وہ یہیں ٹھیرگئے۔ آرام باغ،کراچی میں ایک فلیٹ انھوں نے کرایے پر لے لیا تھا۔یہ فلیٹ ہماری ملاقاتوں کا مرکز بن گیا تھا۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا کہ ہم ان سے نہ ملتے ہوں۔ مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم و مغفور سے جو راجا بھائی کے والد محترم اور تحریک پاکستان کے اہم قائد تھے، ان سے سعید رمضان کا غیرمعمولی تعلق خاطر تھا۔ وہ مولانا انصاری صاحب سے باپ کی طرح محبت کرتے تھے اور انصاری صاحب، سعید رمضان سے اپنے بیٹوں کی طرح محبت کرتے تھے۔ پاکستان میں قیام کے زمانے میں انھوں نے خود کو مختلف مفید کاموں میں مشغول رکھا‘ اور خاص طور پرکراچی کے نوجوانوں کو اسلامی مقاصد کے لیے سرگرم عمل کرنے میں کوشاں رہے۔ انھوں نے ان کی اچھی خاصی تعداد میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ریڈیو پاکستان سے اسلام اور قرآن پر عربی تقاریر کا سلسلہ شروع کیا جو عرب دنیا میں بہت مقبول ہوا۔
مولانا مودودی تحریر و تقریر میں ممتاز، اعلیٰ درجے کے منتظم ، بلندپایہ مدبراور تحریک کے قائد تھے۔ اس طرح تحریک میںہر حیثیت سے ان کا کردار بڑا نمایا ں رہا ہے۔یہ اوصاف اپنی جگہ بڑی مرکزیت رکھتے ہیں، تاہم مولانا محترم کی شخصیت کا سب سے زیادہ غالب پہلو، ان کی فکر، ان کی تحریر اور وہ عظیم الشان لٹریچر ہے، جس نے افراد کے دل و دماغ میں طوفان بپا کیا اور ایک پوری نسل کی زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ اسی طرح اگرچہ حسن البنا شہید کی تقاریراور کتابیں بھی ہیں اور علمی اور عملی ہردو اعتبار سے ان کا بڑا بلند مقام بھی ہے، لیکن ان سب اوصاف کے ساتھ حسن البنا کا نمایاں ترین وصف انسان سازی ہے۔ ان کا بلند ترین کارنامہ روح سے روح کا اتصال ہے۔بلاشبہہ اس میں دلیل کی قوت کے ساتھ عقل کو اپیل بھی شامل ہے، لیکن ان کی شخصیت، ان کی دعوت اور ان کی تحریک کا اصل ہدف انسان کا قلب ہے۔ ان کی تقریروں کو پڑھتے وقت احساس ہوتا ہے کہ :ان کی زبان کے ساتھ ان کی روح بھی بولتی تھی۔ ان کے اس خاص اسلوب اور اثر انگیزی کو روحانی ٹیلی پیتھی (spiritual telepathy)یا خیال رسائی کہا جاسکتا ہے۔
اخوان المسلمون پر لکھا وسیع لٹریچر مجھے پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ اخوان سے وابستہ اہل قلم نے بڑی مفیدذاتی یادداشتیں تحریر کی ہیں۔ یہ یادداشتیں نہ صرف تاریخی اعتبار سے، بلکہ فکری موضوعات کے لحاظ سے بھی معاصر اسلامی ادب کانہایت قیمتی سرمایہ ہیں ۔ اس تحریری لوازمے سے استفادے کے باوجود حسن البنا اور اخوان کو سمجھنے کے لیے جو چیزسب سے زیادہ پُرکشش ذریعہ رہی، وہ اخوان کے قائدین کی گفتگوئیں اور ان کے ساتھ زندگی گزارنے کے وہ مواقع ہیں جو مجھے حاصل ہوئے۔ اس طرح ان سے کتابی سے زیادہ قلبی رشتہ قائم ہوا۔
۱۹۲۸ء میں، اسماعیلیہ کے مقام پر منظم انداز سے دعوت کا آغاز کرنے والے حسن البنا نے ۱۹۴۹ء میں جام شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت کے وقت پورے مصر میں اخوان کے لاکھوں وابستگان تھے اور ۲ہزارسے زیادہ شاخیں تھیں،جب کہ صرف قاہرہ میں ۲۰۰ تنظیمی حلقے تھے۔ امام البنامہینے میں ۲۰‘۲۲دن سفرپر رہتے تھے۔ شہر شہر، قریہ قریہ لوگوں سے ملتے اور ان سے مخاطب ہوتے تھے۔کنواںخود پیاسوں کے پاس پہنچتا،رات دن کی پروا کیے بغیر،نیند اورتھکن کو خاطرمیں لائے بغیر،قلب وروح کے دروازوںپر دستک دینے والے اس محسن کا نام حسن البنا تھا۔ جن دنوں وہ سفر میں نہیں ہوتے تھے، ان دنوں جہاں کہیں بھی ان کا مستقرہوتا،وہ وہیں پر دعوتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ کوئی مسجد،محلہ حتیٰ کہ وہ جگہیں بھی جنھیں لوگ بالعموم اہل تقویٰ کے لیے کوئی بہت اچھی جگہ نہیں سمجھتے،مثلاکلب،عام ریستوران، اور ایسے ریستوران بھی جہاں نغمہ وسرود کی محفلیں برپا ہوتیں،وہ وہاں جاپہنچتے۔ ان جگہوں پر بھی بلامبالغہ ان کو بڑی عزت سے دیکھا جاتا تھا۔حسن البنا نے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جہاں انھوں نے مقدور بھر شہادت حق کا فریضہ ادا نہ کیا ہو۔ وہ لوگ جو ان سے اختلاف کرتے تھے، وہ بھی ان کی روحانیت، ان کی ربانیت، ان کے اخلاص اور مقصد سے ان کی والہانہ وابستگی کی مٹھاس کومحسوس کرتے تھے اوربے اختیار احترام کرتے تھے۔ یہ کیفیت آج تک موجود ہے۔ان کی شخصیت کایہی وہ طلسماتی پہلو ہے،جس سے ارباب اقتداراور عالمی سامراج خوف زدہ تھے،اور ان کو اپنے عزائم کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔
سعید رمضان مرحوم نے اپنی اہلیہ جو امام شہید کی صاحبزادی ہیں، کی تربیت کے حوالے سے مجھے بتایا کہ اس گھرانے پر اللہ تعالیٰ کی کتنی رحمت ہے۔یہ خاتون عبادت ،سخاوت اوروفاشعاری کا بہترین نمونہ ہیں۔سعید رمضان پر آزمایش اور بیماری کے بڑے سخت دور گزرے ہیں۔ مگر اللہ کی اس بندی نے اولاد کی بہترین تربیت کی اور شوہر کو بھی سہارا دیا۔ اس حسن تربیت کی ایک مثال ان کے صاحبزادے طارق رمضان کا اپنے والد کے قریبی دوستوں سے احترام کا رویہ ہے۔ وہ مجھ سے ہمیشہ اس احترام سے پیش آئے،جو ایک اچھے مسلم معاشرے میں باپ کے ایک قریبی ساتھی کا حق سمجھاجاتا ہے ۔ضمناً عرض ہے کہ طارق رمضان کا پی ایچ ڈی کامقالہ حسن البنا، یعنی اپنے نانا پر ہے،جوفرانسیسی زبان میں ہے ۔افسوس ہے کہ ابھی تک اس کا ترجمہ شائع نہیں ہوا۔
للہیت اور درویشی حسن البنا شہید کی شخصیت کے غالب ترین پہلو ہیں۔ دعوت کی تڑپ اور وہ لگن کہ جس کا اظہار انھوں نے بچپن سے لے کر شہادت تک کیا، زندگی کا حصہ بننا ہے۔ اسی طرح ان کے ہاں اسلام کا تصور بہت صاف اور ہمہ گیر ہے۔ان کے نزدیک فرد، معاشرے، ریاست اور تاریخ کے لیے اسلام ہی ایک دعوت انقلاب ہے۔ گویا کہ اﷲ کی بندگی کی بنیاد پر زندگی کے پورے نظام کی تعمیر اور انسان کو خلافت کا جو منصب دیا گیا ہے، اس کے تقاضوں کو ہر سطح پر، انفرادی اور اجتماعی طور پر پورا کرنا زندگی کا لائحہ عمل ہے۔
اس وژن اور تصور میں مجھے ان کے ہاں تین اور خوبیاں نمایاں نظر آتی ہیں، اوّل: بندے کا رب سے مضبوط تعلق، پھر بندوں کا بندوں سے ہمدردی ،وقار،اوربے لوثی پر مبنی تعلق۔ انھوں نے اس پہلو کو بہت مرکزی حیثیت و اہمیت دی۔ دوم: اجتماعیت ہے۔اس کے لیے انھوں نے چار اصطلاحیں استعمال کی ہیں: پہلی: مسلمان خاندان(اسرہ)، دوسری مسلمان معاشرہ (مجتمع یا سول سوسائٹی)،تیسری: مسلمان مملکت( دولۃ یااسٹیٹ)، اور چوتھی: عالمگیر اسلامی امہ،اور اس میں انھوں نے عرب قومیت اور اسلامی قومیت کو گڈ مڈ کرنے کی ٹھوکر نہیں کھائی۔ انھوں نے جہاں عربیت اور عربی قومیت کو اسلامی قومیت کا حصہ اور اسے قوس قزح کے رنگوں میں سے ایک رنگ قرار دیا ہے، وہیں انھوں نے عربی قومیت کوطاغوت نہیں بننے دیا،بلکہ اسے اسلامی معاشرے کا نمایاںاور روشن حصہ بنایا ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ انھوں نے انفرادی انقلاب کو جو فرد کے اندر پیدا ہو تا ہے،اور اجتماعی انقلاب جو فرد کے ذریعے سوسائٹی میں رُو پذیر ہوتا ہے، ان کا آپس میں مضبوط بندھن قائم کیاہے،اور اس چیز کو اداراتی سطح پر منظم کیا ہے۔
سعید رمضان نے ہمیں ایک واقعہ یہ سنایا تھا،کہ اخوان کے کسی ساتھی سے کوئی غلط کام ہوگیا،جس پر معذرت کی غرض سے وہ امام حسن البنا کے پاس ایک سوا گھنٹہ رہا، لیکن انھوں نے اس ساتھی کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ معذرت کر سکے۔ وہ پیاراور محبت سے ساتھی کی دل جوئی کرتے رہے کہ اس کو یہ ہمت نہیں ہوسکی کہ وہ معذرت کے الفاظ زبان پر لاسکے،حالانکہ امام شہید کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ ساتھی معذرت کرنے کے لیے ہی آیا ہے۔اسی طرح بعض نوجوان ان کے پاس آتے اور خلافِ شرع چیزیں، مثلاً سونے کی انگوٹھی وغیرہ پہنے ہوتے، توحسن البنا ان کو نہ ٹوکتے۔ لیکن تھوڑے ہی دن کی صحبت کے نتیجے میں ان کی انگوٹھی بغیر کچھ کہے اُتر جاتی تھی۔
ہمارے اخوان سے تعلق کا ایک اہم حوالہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے صرف جماعت اسلامی کو ہی نہیں، بلکہ پاکستان کو اور پاکستان کے تصور کو بھی عالم عرب میں پورے شعور کے ساتھ سمجھا اور پوری دل جمعی سے سمجھایا ۔ یہ سلسلہ ۱۹۴۶ء سے شروع ہو جاتا ہے ،جب قائداعظم [۱۸۷۶ء-۱۹۴۸ء] اور حسن البنا شہید کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس طرح عالم عربی میں اخوان، پاکستان کے سب سے بڑے ہم نوا تھے۔ پاکستان بننے پر انھوںنے مصر بھرمیں پاکستان کا جشن استقلال منایا۔سعید رمضان نے تو قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۰ء میں بہت سے مسلم ممالک خاص طور پر عرب ممالک کے طول وعرض کا دورہ کرکے پاکستان کے تصور کی وضاحت کی تھی۔
۱۹۵۴ء میں، مصر کے فوجی آمر مطلق ناصر کا دورِ عروج تھا اور ناصر کی مطلق العنانی جنون کی حدوں کو چھو رہی تھی۔ کوئی فرد اس کے خلاف دبی زبان میں بھی بات نہیں کرسکتا تھا۔ اخوان پر پابندی تھی، اس کے ہزاروںکارکنان گرفتار تھے۔ دسمبر ۱۹۵۴ء میں جب میں جمعیت میں تھا، ایک روز خبریں سنتے ہوئے معلوم ہواکہ مجاہد کبیر شیخ محمد فرغلی سمیت اخوان کے چھے رہنماؤں[عبد القادر عودہ ،یوسف طلعت،ابراہیم طیب،محمود عبداللطیف،ہنداوی دویر] کو پھانسی دے دی گئی ہے ۔ یہ خبر ہمارے لیے گہرے صدمے کا باعث بنی ۔اس موقع پر ہم نے کراچی میں بھرپور احتجاج کیا ۔
اسی زمانے میںانٹرنیشنل اسمبلی آف مسلم یوتھ (IAMY) کی ایک کانفرنس کراچی میں منعقد ہوئی تھی،جس میں مصرکا سرکاری وفد شرکت کے لیے آیاتھا۔اس وفدکے سربراہ مصری فوج کے ایک کرنل تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے ہم نے اس کانفرنس میں، اس ظلم وزیادتی کے خلاف بھرپوراحتجاج کیا۔ اسی مناسبت سے ایک بڑا مؤثر دو ورقہ (پمفلٹ )راجا بھائی اورمیں نے انگریزی میں تیار کیا تھا: WHY OPPRESSION ON MUSLIM BROTHERHOOD? [اخوان المسلمون پر ظلم کیوں؟]__ جسے ہم چھپوا کر اور چھپا کر کانفرنس ہال میںلے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ جوں ہی پاکستان کے وزیراعظم محمد علی بوگرا کانفرنس کا افتتاح کرنے کے لیے ہوٹل میٹروپول کے پنڈال میں داخل ہوئے، اس دو ورقے کی ایک کاپی انھیں دی گئی۔ اسی لمحے مختلف جگہوںپر کھڑے جمعیت کے ساتھیوں نے بڑے منظم انداز سے تمام قطاروں میں ہر شخص تک یہ پمفلٹ پہنچا دیا۔ اس واقعے سے پوری کانفرنس میں تہلکہ سا مچ گیا۔مصرکے سرکاری وفد کوتوگویاآگ لگ گئی،اور ادھرہماری حکومت حرکت میں آگئی۔میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے اس کانفرنس میں شریک تھا۔ خرم بھائی نے مصری وفد کے سربراہ کی تقریر کے دوران ہال میں کھڑے ہوکر ،اسے مخاطب کرکے کہا: تمھارے ہاتھ اخوان المسلمون کے راہ نماؤں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، تم قاتلوں کے ساتھی ہو۔
اس کشیدہ صورت حال کے باوجود، مصرکے سرکاری وفد میںشامل ایک نوجوان طالب علم بڑی خاموشی سے آکر ہمیں ملا اور اس نے کہا کہ:’’میں دل و جان سے اخوان کا ہمدرد ہوں۔ آپ لوگوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جو اقدام کیا ہے، وہ حق پر مبنی ہے۔میںاپنے ہزاروں مظلوم ساتھیوں کی طرف سے آپ کا شکریہ اداکرتا ہوں‘‘۔
دراصل عوامی سطح پر جولوگ اخوان کے گرویدہ ہیں، وہ تو گرویدہ ہیں ہی،مگر جو اس تحریک سے باہر ہیں، میںنے ان پربھی اخوان کابے پناہ فکری و اخلاقی اثر دیکھا ہے۔اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں، پارلیمنٹ کے اندر ،وزرا اور عرب لیگ کے افسروں سے مجھے بات کرنے کے بہت سے مواقع ملے ہیں، اور جب بھی کھلے دل کے ساتھ انھوں نے آف دی ریکارڈ بات کی تو میں نے انھیں یہ کہنے پر مجبور پایا کہ:’’ اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے اگر کوئی قابل لحاظ قوت ایسی ہے جو مصر کو بچاسکتی ہے تو وہ صرف اخوان المسلمون ہے‘‘۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے اشتراکی عناصر نے اور امریکا اور اس کے حواریوں نے یہ کوشش کی کہ لوگوں کو خریدیں، معاشی مفادات کے جال میں پھنسائیں، سیاسی اور فوجی معاہدات کے ذریعے ان قوموں کو ایک نئی قسم کی غلامی میں جکڑ لیں۔اس ہدف کے حصول کے لیے انھوں نے یہ اصول طے کیا کہ: ’’فوجی قیادت ہی ہماری بہتر حلیف ہے۔جو اپنے ملکوں میںبغاوت کرکے اقتدار پر شبخون مارے،اور ہماری مدد سے ہماری قائم مقام (proxy) بن کرہماری مرضی پوری کرے‘‘۔ کچھ رپورٹوں میں صاف لکھا ہے کہ مغرب زدہ گروہوں کے لیے اقتدار کی راہیں کشادہ کرنا خواہ یہ فوجی انقلاب اور استبدادی حکومت (despotic rule) کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، مغربی اقوام کے قومی مفاد میںہے، تاکہ مذکورہ ممالک کے عوام کو قابومیں رکھا جا سکے۔ مائلز کوپ لینڈ (Miles Copeland) جس نے عرب دنیا میں سفارتی ذمہ داریاں بھی ادا کیں اور وہ سی آئی اے کا ایجنٹ بھی تھا، اس کی یادداشتوں The Game of Nations: The Amorality of Power Politics (1970), اور The Game Players Confessions (1989) سے بھی اس امر کی وضاحت ہوتی ہے۔ مغربی پالیسی ساز اور سیاسی تجزیہ کار اب کھلے لفظوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ: مسلم دنیا یاتیسری دنیا میں جو فوجی انقلاب آئے یا جو سیاسی اتھل پتھل ہوتا رہا ہے، ان سب کے پیچھے کسی نہ کسی صورت میں امریکا اور اس کی ایجنسیوں کا ہاتھ تھا‘‘۔مشرق وسطیٰ اس سامراجی چنگل سے کبھی نہیں نکل سکا۔
شام میں اخوان المسلمون کے سربراہ ڈاکٹر مصطفی سباعی [۶۳-۱۹۱۵ء] نے الفتح میں ایک مرتبہ لکھا تھا: [مسلم دنیا کی] سیاسی پارٹیاں ہر معاملے میں ایک دوسرے کی مخالف ہیں، مگر ایک نکتے پر ان کا اتفاق ہے، اور وہ ہے ’دین دشمنی‘___ اس لیے نظامِ حکومت میں تبدیلی کے سوا اصلاح کی کوئی صورت نہیں، اور نظامِ حکومت کی تبدیلی کا دارومدار ہے معاشرے کی تبدیلی پر۔ افسوس کہ علماے کرام اس بات کو نہیں سمجھتے‘‘۔ میں اس میں یہ اضافہ کروں گا، کہ ’دین دشمنی‘ کی اس روش میں فوجی قیادتوں اور سیاسی طالع آزمائوں کو عالمی سامراجی قوتوں کی بھرپور سرپرستی حاصل رہی ہے۔ صدافسوس اس بات پر کہ اپنی قوم کے مفادات سے بے وفائی کا ارتکاب کرنے میں یہ طبقہ ادنیٰ درجے کی شرم تک محسوس نہیں کرتا، اور سامراجی آقائوں کے سامنے اپنی قومی اور ذاتی ذلت تک کو خوشی خوشی برداشت کرلیتا ہے، بلکہ اس توہین کو بھی اعزاز کی کوئی قسم تصور کرتا ہے۔
اس منظرنامے میںحسن البنا اور اخوان المسلمون نے دعوت،تنظیم اور تربیت کاکام شروع کیا۔وہ بہ یک وقت عالمی سامراج اور سامراج کے مقامی آلۂ کاروں کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہوگئے۔انھوں نے،دین کی گمراہ کن اور معذرت خواہانہ تعبیر کرنے والوںاور معاشرے میں سماجی، معاشرتی،اور سیاسی ظلم کی تمام بنیادوں کوپوری قوت سے چیلنج کیا۔اس کے لیے اخوان نے جو راستہ اختیار کیا، اس میں تنظیم اور صحافت کے ساتھ ساتھ سیاست میں کھلے بندوں حصہ لینا بھی شامل تھا۔ حسن البنا نے خود بھی الیکشن میں حصہ لیا ، اور اگر برطانوی اور مصری حکومت ان کا راستہ نہ روکتی تو وہ بڑی عظیم اکثریت سے کامیاب ہوتے ۔
ان پابندیوںاور تمام تر مشکلات کے باوجود حسن البنا نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ افراد سے رابطے کا طریقہ تھا۔یہی وہ امتیاز ہے جس نے استبدادکے اندھے بہرے ظلم اور اپنی بات کہنے کے کھلے مواقع نہ ہونے کے باوجود گھر گھر، محلے محلے، گاؤں گاؤں، قریہ قریہ اس دعوت کو پہنچادیا۔ اسی لیے ساری پابندیوں کے باوجود آج بھی اخوان ایک اہم سیاسی اور نظریاتی قوت کے طور پر موجود ہیں،بلکہ ملک کی پارلیمنٹ میں مضبوط حزب اختلاف کا درجہ رکھتے ہیں۔حالانکہ اخوان کی تنظیم خلاف قانون ہے،اور اخوان کے وابستگان نے آزاد امیدواروں کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔ اخوان کی اس طلسماتی قوت کا ثبوت ہر موقع پر نظر آتا ہے۔ اس چیز کا گہرا تعلق حسن البنا کی شخصیت اور ان کے اس طریقۂ کار سے ہے، جس میں تنظیم پر پابندی کے باوجود خود کار پھیلائو اورنچلی سطح تک ان کی رسائی ممکن ہوئی۔ یہ ان کی قوت کا بڑاراز اوربہت بڑا خزانہ ہے۔
تاہم ایک پہلو میں ہمیں کچھ فرق محسوس ہوتا تھا۔ اخوت اور محبت کا ویسا کلچر ہمارے ہاں اس طرح فروغ نہیں پاسکا، جس طرح اخوان کے یہاں نظر آتا ہے۔اس کاایک چھوٹا سا مظاہرہ روزمرہ کے میل جول میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔مثال کے طور پر ہمارے اہل حل و عقد جب ہم سے ہاتھ ملاتے تو ان کے ہاتھ کی گرفت میں ذاتی تعلق کا اس درجہ اظہار نہیں محسوس ہوتا تھا، جیسا اخوان کے بڑے اور چھوٹے ہر بھائی سے ملتے وقت محسوس ہوتا ۔ممکن ہے اس میں ہمارے خطے کی آب و ہوا ، کلچر اور رسم و رواج کا بھی اثر ہو۔ اخوان کے ہاں اﷲ کی خاطر محبت کے تصور کو بڑا مرکزی مقام حاصل ہے۔خود جماعت اسلامی کے تربیتی لٹریچر میں اس موضوع سے متعلق احادیث کاایک مؤثر انتخاب موجود ہے، لیکن اپنائیت کے اس تصور کووہ اہمیت اور مرکزیت اس درجے میں حاصل نہیں ہوسکی، جو اخوان کے ہاں نظر آئی۔اللہ کی خاطر محبت ہم نے اخوان کے احباب سے سیکھی۔ یہ سیکھا کہ اﷲ کی خاطربندوں کے درمیان تعلق کی بنیادکو کس طرح مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور پھرجب اخوان کے لٹریچر کو پڑھا تو اس میں بھی اسی اسپرٹ کو رچا بسا پایا۔ اخوان کے جتنے بھی کارکنوں سے ہمیں ملنے کا موقع ملا،ان میںاسی جذبے اور حرارت کی فراوانی پائی۔ حسن البنا کی زندگی کا مطالعہ کیا تو ان کی زندگی کے اندر بھی یہی کیفیت موجزن دیکھی۔ غالباً ’محبت فاتح عالم‘ والی کیفیت اور اس سے رونما ہونے والی مقناطیسی قوت ہے ،جس کے ادراک نے ان سے اس تحریک کانام اخوان المسلمون رکھوایا(پیش نظر رہنا چاہیے کہ تیسری اور چوتھی صدی ہجری کی ’اخوان الصفا‘ سے اخوان المسلمون کا کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ خالص قرآنی اخوت سے اس کا رشتہ ہے)۔ یہ چیز ہمیں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی تھی۔
اسی طرح ہم نے اخوان کے تربیتی نظام سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ اس زمانے میں مولاناعبد الغفار حسن [م:۲۲مارچ ۲۰۰۷] جماعت اسلامی میںشعبہ تربیت کے ذمہ دار تھے۔ درس قرآن، درس حدیث، سیرت اور لٹریچر، جماعت کے تربیتی نظام کے عناصرترکیبی تھے ۔ اجتماع ارکان میں ان چیزوں کی باقاعدگی کے ساتھ احتساب کا اہتمام بھی تھا۔ روحانیت اور ربانیت، اخوان کے دو نہایت مرکزی پہلو ہیں۔ جمعیت میں ہم نے اخوان سے یہ سیکھا تھا کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں روحانی بالیدگی کے لیے شب بیداری بھی ایک مؤثر تربیتی پروگرام ہے۔ اس سے قبل جماعت اور جمعیت کے پروگراموں میں شب بیداری نہیں ہوتی تھی۔ یوں جمعیت اور جماعت میں بھی شب بیداری کا پروگرام متعارف ہوا۔
ایسے نظریاتی حلقے کی حد ۱۰ افراد پر قائم کی، جسے’ اسرہ‘ کہتے تھے۔جب ۱۰افراد پورے ہوجاتے تو انھیںدو ’اسروں‘ میں تقسیم کردیتے۔اس طرح انھوںنے ہزاروں حلقوں کی صورت میں نظام قائم کیا۔ اس نظام اسرہ میں سب سے زیادہ دل چسپ چیز اس کا اجتماعی مطالعے کانظام ہی نہیں تھا، بلکہ اس میںعبادات بھی مشترک تھیںاورشب بیداریاں بھی۔ میرے نزدیک ’نظام اسرہ‘ میں سب سے اہم چیزیہ تھی کہ اس کے ممبران ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں پورے شعور اور وابستگی سے شرکت کریں۔ ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔کسی ایک ساتھی پرکوئی مصیبت آئے تو ’اسرہ‘ کے تمام ساتھی اس کی مدد کو پہنچیں۔یہی اسرہ کا مرکزی اصول تھا: پاکیزہ، ہمدرد اور بے لوث برادری۔
بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ اخوان کی بقا کا بڑا انحصار اس ’نظام اسرہ‘ پر رہا۔اس کے ثمرات میںسے بہت متاثر کن چیزآزمایش اور ابتلا میں ان کی استقامت تھی۔ صدرناصر کے زمانے میں صرف مصر میں ۳۰ سے ۴۰ ہزار افراد جیلوں میں تھے اور بیش ترشدید تعذیب کا نشانہ بنائے گئے تھے ۔ ان سخت آزمایشوں اور ابتلا کے ادوار سے گزرنے کے باوجود انھوں نے الحمدللہ، جس تقویٰ اور استقامت کا ثبوت دیا ہے ،وہ پختہ ایمان اور اس ’نظام اسرہ‘ کی برکات کا عملی اظہار تھا،کہ جس نے لوگوں کو آپس میں جوڑ دیا تھا۔اسی ’نظام اسرہ‘ نے قیدی ساتھیوں کے خاندانوں کی دست گیری ، عملی مدد اور ہمت بندھانے میں معاونت کی ہے۔
سعید رمضان سے ’نظام اسرہ‘ سمجھ کر ہم نے اسلامی جمعیت طلبہ میں اس کو اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔جمعیت کی تنظیم کو جو اسکولوں ، کالجوں،یونی ورسٹیوں کے کارکنوں پر مشتمل تھی، اسے علاقائی اور رہایشی بنیادپرکام کے لیے منظم کیا،جو اسرے ہی کی ایک شکل تھی۔اس وقت کی جمعیت کے ناظم اعلیٰ کو کچھ دیگر امور کے ساتھ اس پر بھی شدید اضطراب ہوا۔ وہ پریشان تھے کہ ہماری تحریک کے روایتی نظام میں یہ ایک نئی چیز آگئی ہے۔ بالآخر ہمیں اس نظام میں کچھ تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ اس طرح ہمارارہایشی نظام تو باقی رہا، لیکن ’نظام اسرہ‘ اپنے اخوانی تصور کے مطابق ہمارے تنظیمی نظام کا حصہ نہ بن سکا۔ یوں کراچی جمعیت میں ’نظام اسرہ‘ محض چار پانچ سال تک ہی چلا۔ یہاں پر یہ تذکرہ بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ جب جمعیت میں ’نظام اسرہ‘ پر بحث اٹھی،ان دنوں مولانا مودودی جیل میں تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی (م: دسمبر ۱۹۹۷ء) کا رجحان اسرے کے حق میں نہیں تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ نوجوانوں کی محض ایک اپچ ہے اور بس۔ مگر انھوں نے کھل کر اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔اس زمانے میں ہمیں جمعیت میں بڑی آزمایش اور نازک مرحلے سے گزرنا پڑا۔
اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ہمارے ان بزرگوں پر جنھوں نے اس دورآزمایش میںنوجوانوں کی راہ نمائی فرمائی اور جمعیت انتشار سے بچ گئی۔اس سلسلے میں محترم شیخ سلطان احمد صاحب ، چودھری رحمت الٰہی صاحب اورچودھری غلام محمد صاحب کا کردار اہم تھا۔ انھوں نے ہمارے اس داخلی قضیے کو سلجھایااور یہ کہا کہ کراچی جمعیت کے اس تجربے کو ہم اسلام اور تحریک کے مزاج کے خلاف یا روایات سے متصادم نہیںپاتے۔اس طرح ہمیں تائید حاصل ہوئی،اور اس بحث پر جو مقدمہ بنا تھا وہ قبول نہیں کیا گیا۔
اخوان میں ایک اور وصف بڑا متاثر کن اورقابل رشک ہے،اور وہ ہے ان کا اﷲ سے تعلق کے ساتھ ساتھ قرآن سے ربط۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیںہے کہ اخوان اور قرآن لازم و ملزوم بن گئے ہیں۔اس باب میں میرا سب سے دل چسپ تجربہ وہ تھا، جب میں محترم میاں طفیل محمد کے ساتھ صدر حسنی مبارک سے ملنے مصر گیا تو ان لوگوں نے ہمارے لیے نہر سویز کی سیر کا انتظام کیا تھا۔ ہم رات کے ۱۲ بجے سویز نہر کی سیر کے لیے نکلے اورفجر سے کچھ پہلے واپس آئے۔ وہاں ہوتا یہ ہے کہ جہاز سویز کے درمیان میں کمان تبدیل کرتا ہے۔ ایک جہاز ایک طرف سے آتا ہے اور دوسرا جہازدوسری طرف سے۔ جب کمان تبدیل ہورہی تھی تو جس جہاز میں ہم تھے، اس کا ایک اعلیٰ کمانڈر ہم سے ملا۔جب اس سے میاں صاحب،جماعت اور میرا تعارف ہوا، تو اس نے احترام اور اپنائیت کے اظہار کے لیے آہستگی سے اپنی جیب سے قرآن نکالا اور ہمیں ہدیہ کر دیا ۔یہ اشارہ تھا اس بات کا کہ میرا تعلق اخوان سے ہے۔ حالانکہ خفیہ سروس کے لوگ ہمیں گھیرے ہوئے تھے۔ یہ واقعہ غیرمحسوس انداز میں ہوا۔
ہمارے ہاں کام کا آغاز ایمان ، عقیدے اور دینی وژن سے ہوتا ہے۔ پھر ہم آہستہ آہستہ مذکورہ اداراتی اور سماجی مسائل کی طرف آتے ہیں۔ البتہ شعوری طور پر، آئینی مسائل ہمارے ہاں مرکزیت کے حامل رہے ہیں، جن کو دنیا بھر کی اسلامی تحریکیں قابل تقلید اقدام تسلیم کرتی ہیں۔ مگر دوسری جانب معاشی اور معاشرتی مسائل پر ایک متوازن اور متناسب انداز سے ہماری توجہ مرکوز نہیں رہی، اس کمی کا مداوا کم از کم مستقبل میں ضرور ہونا چاہیے۔ میں نے اس سلسلے میں جو ہاتھ پاؤں مارنے کوشش کی ہے، ان مساعی میں مجھے مولانا مودودی ،مولانا اصلاحی اور چودھری غلام محمد [م:۱۹۷۰ء] کی خصوصی مدد اور راہ نمائی حاصل رہی ہے ۔میرا پختہ یقین ہے کہ ایمان، عقیدے اور اخلاق کی مرکزیت اور دینی روح کے ساتھ سماجی اور معاشی میدان میں تحریک کے انقلابی پروگرام کو کلیدی حیثیت حاصل ہونی چاہیے ۔مگر یہ کام نعروں کی سطح پر نہیں،بلکہ تسلسل اور ایک ایسے اسلامی فریم ورک کے ساتھ ہو نا چاہیے، جو عصری تقاضوں کو بھی پورا کرنے کا بھرپور اہتمام کرے۔ سماجی و معاشرتی مسائل میں اخوان کی متوازن دل چسپی قابل رشک ہے ۔البتہ ان کے ہاں افراط و تفریط کے بعض مناظر بھی نظر آتے ہیں۔اس سلسلے میںڈاکٹر مصطفی سباعی نے تو اشتراکیت فی الاسلام تک کی بات کہہ دی تھی،تاہم اسے اخوان کے مجموعی ذہن نے قبول نہیں کیا۔
اس کے برعکس جماعت اسلامی، عورتوںکے ووٹ کے حق اور خاص طور پر اجتماعی معاملات اور تحریکی نظام میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے، اخوان سے بہت آگے تھی۔ عورتوں کے ووٹ کے حق کو اخوان نے ۱۹۵۰ء کے عشرے میں تسلیم کیا، مگرجماعت اسلامی نے شروع ہی سے اس کو تسلیم کیا تھا، بلکہ مولانا مودودی نے تو یہاں تک لکھا کہ عورتوں کی الگ شوریٰ ہو جو معاملات پر آزادانہ انداز میں غوروفکر کرے۔ اخوان اور جماعت میں پائے جانے والے ایسے جزوی اختلافِ راے کا تعلق نفاذدین کی تفصیلات سے ہے ،وژن اور تصور سے نہیں۔
اقتدار، وسائل، طاقت، قومی اقتدار، مادی وسائل، عسکری طاقت اور ذرائع ابلاغ پر قابض اس طبقے کے بارے میں ایک مرتبہ مولانا مودودی نے فرمایا تھاکہ یہ ایسے پہلوان ہیںجو مدمقابل کے ہاتھ پاؤں باندھ کراس سے کشتی لڑنے کے لیے میدان میں اُترتے ہیں۔اس طبقے نے ایک طرف اخوان کو نشانہ بنایا، تو دوسری جانب پاکستان میں مولانا مودودی کو قید کرکے یہ کہنا شروع کیا کہ اخوان، تشدد پسند ہیںاورجماعت اسلامی کا تعلق بھی اخوان سے ہے۔ اخوان سے کوئی تنظیمی تعلق نہ رکھنے کے باوجود جماعت نے اخوان کے خلاف بدنیتی پر مبنی اس پروپیگنڈے کی مخالفت کی، اور اخوان کے دفاع میں کبھی کوتاہی نہیں برتی۔اخوان پر مظالم کے خلاف اور ان کی تائید و حمایت میں، ہم نے ہر پلیٹ فارم پر،تحریر اور تقریر میں آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہے، مگرتصادم اور ٹکراؤ پر منتج ہونے والے ایجی ٹیشن کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ جماعت کو اس بارے میں ہمیشہ شرحِ صدر رہا ہے کہ مؤثر، باوقاراور نصیحت کے انداز میں بات زیادہ پُر اثر ہوتی ہے۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اخوان نے کبھی اپنی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے طاقت یا زیر زمین روابط کو استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اخوان کے ہاںقوت مجتمع کرنے کی سوچ، فلسطین پر قبضے کے خواہاں یہودیوں اور یورپیوں کی سامراجی یلغار کو روکنے کا سرعنوان تھی۔اگرچہ ایک دومواقع پرچند غیر ذمہ دار نوجوانوں کی نامناسب انفرادی حرکتیں انھیںدلدل میں دھکیلنے کا ذریعہ بنیں، لیکن ان کی تاریخ کے گہرے مطالعے کی بنا پر میں یہ بات برملا کہہ سکتا ہوں کہ قوت کے استعمال کے حوالے سے ان پر عائدالزامات میں بہت کچھ محض زیب داستان کی حیثیت رکھتاہے۔
مناسب ہوگا کہ اخوان کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لیے یہاں پر امام حسن البنا کے اس مشہور خطبے پر غور کیا جائے، جو انھوں نے ۱۹۳۸ء میں اخوان کے پانچویں اجلاس میں دیا تھا۔ انھوں نے فرمایا تھا: ’’اخوان، فکروعمل کی سطحیت پر ریجھ جانے والے نہیں ہیں، بلکہ وہ گہری فکر اور وسیع زاویۂ نظر کے حامل ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی چیز کی گہرائیوں میں ڈوب کر نہ دیکھیں… وہ جانتے ہیں کہ قوت کے مدارج کیا ہیں: ان میں اولیت، عقیدہ و ایمان کی قوت کو حاصل کرنا ہے۔ اس کے بعد وحدت و ارتباط کی قوت کا حصول ہے، اور ان دونوں کے بعد زورِبازو کا درجہ آتا ہے… الاخوان، متشددانہ انقلاب کے بارے میں قطعی طور پر کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ کسی حال میں اس طریق کار پر اعتماد نہیں کرتے، اور نہ اس کا نفع بخش اور نتیجہ خیز ہونا انھیں تسلیم ہے… تاہم اگر حالات کی رفتار یہی رہے گی اور اصحابِ اقتدار اس کا علاج نہیں سوچیں گے، تو اس کا لازمی نتیجہ متشددانہ انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوگا، لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اس میں اخوان کا ہاتھ ہوگا، بلکہ یہ حالات کے دبائو اور اصلاح سے گریز کا لازمی نتیجہ ہوگا۔ ضرورت یہ ہے کہ ہماری قومی زندگی کے سیاہ وسفید پر قابض طبقے اپنی ذمہ داری اور صورت حال کی نزاکت کو سمجھیں‘‘۔
جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے دستور کی دفعہ ۵(۴) میں واضح طور پر اعلان کیا ہے: ’’جماعت اپنے نصب العین کے حصول کی جدوجہد، خفیہ تحریکوں کی طرز پر نہیں کرے گی، بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی‘‘۔ اس طرح جماعت نے ہمیشہ کے لیے دوسرے دروازے کو بند کردیا۔ پھر اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان نے ستمبر ۱۹۴۸ء کو مرکزی مجلس شوریٰ میں یہ قرارداد منظور کی تھی کہ: ’’اپنے مقصد کے حصول کے لیے جماعت اسلامی ایسے ذرائع اور طریقوں کا استعمال جائز نہیں سمجھتی‘ جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے بدنظمی اور بدامنی رونما ہو۔ جماعت اسلامی، اصلاح و انقلاب کے لیے جمہوری طریقوں پر یقین رکھتی ہے، یعنی تبلیغ و تلقین کے ذریعے سے اذہان اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور راے عام کو ان تغیرات کے لیے ہموار کیا جائے، جو ہمارے پیش نظر ہیں۔ جماعت کا کوئی کام خفیہ نہیں ہے بلکہ سب کچھ علانیہ ہے۔ جن قوانین پر ملک کا نظم و نسق اس وقت چل رہا ہے ان کو وہ توڑنا نہیں چاہتی، بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق بدلنا چاہتی ہے‘‘۔
مولانا مودودی نے ۱۹۶۳ء میں، مسجد ابراہیم ،مکہ معظمہ میں عرب نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’[دنیا بھر میں] اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔یہ بھی دراصل بے صبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے ،اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے ۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک کے ذریعے سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلایئے، بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے، اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں، ان کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا، وہ ایسا پاے دار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے کر اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے گا تو جس راستے سے وہ آئے گا ،اسی راستے سے وہ مٹا یا بھی جاسکے گا‘‘۔ (دیکھیے: ماہ نامہ ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۳ء)
مولانا مودودی پہلی بار ۱۹۵۶ء میں عالم عرب گئے تھے، لیکن ان سے پہلے مولانا مسعود عالم ندوی نے ۱۹۴۹ء میں بلاد عرب کا دورہ کیا تھا۔ مسعود عالم صاحب نے اپنے ایمان افروز سفرنامے دیارِعرب میں چند ماہ میں یکم جولائی ۱۹۴۹ء کو لکھا تھا: ’’جس شخص پر اخوان سے تعلق کا ادنیٰ شبہہ بھی ہوتا ہے، اسے فوراً قیدکرلیا جاتا ہے۔ حیرت ہے، حکومت کی فوج اور پولیس کے سامنے، اسلام اور مصر کے دشمن قاہرہ کی سڑکوں پر اکڑتے پھرتے ہیں، لیکن مصری حکومت ان کے خلاف کچھ نہیں کرتی۔ اس کا سارا غیظ و غضب اسلام کے داعیوں پر ٹوٹتا ہے‘‘۔ پاکستان آکر مولانا مسعود عالم ندوی نے مختلف تربیتی پروگراموں میں اخوان کے بارے میں جو تاثرات بیان کیے، ان میں اخوان سے محبت، اخوان سے قربت، اخوان سے عقیدت اور اخوان کو اپنا دست و بازو سمجھنے کا پہلو غالب تھا۔ بعد ازاں خود مولانا مودودی نے کئی باراس بات کا اظہار فرمایاکہ:’’فکری اعتبار سے جو کام ہم کر رہے ہیں،وہی کام اخوان کر رہے ہیں۔ہمارے درمیا ن بنیادی نقطۂ نظر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘۔
بعدازاں جب میں کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ معاشیات میں پڑھا رہا تھا، اس زمانے میں سید قطب ہمارے لیے فکرو عمل کی ایک بڑی مؤثر علامت اور ہمارے ہیرو تھے۔افسوس ہے کہ مجھے سید قطب سے بھی ملنے کا موقع نہیں ملا،لیکن ان کی جان دار تحریروں اور علمی طور پر نہایت وقیع نگارشات سے بھرپور استفادے کی کوشش کی ہے۔ سب سے بڑھ کر حق کی راہ میں ان کی استقامت میرے لیے ہی نہیں، ہماری پوری نسل کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوئی ہے۔سید قطب کو ناصر نے قید میں ڈالا اور اس طرح مقدمہ چلایا کہ انھیں وکیل تک نہ کرنے دیا۔ سوڈان سے دو چوٹی کے وکیل احمد امین سالک اور محمد احمد دورابی، فروری ۱۹۶۶ء میں قاہرہ پہنچے تو انھیں دھکے دے کر مصر سے نکال دیا گیا۔ اس طرح سید قطب نے تن تنہا بڑی جرأت اور استقامت سے مقدمے کا سامنا کیا۔ آخر کار ۲۹اگست ۱۹۶۶ء کو مفسر قرآن، مفکر اسلام، اعلیٰ پائے کے ادیب اور دانش ور سیّد قطب کو پھانسی دے دی گئی۔
اخوان کے قائدین میں ،میرا سب سے زیادہ گہرا تعلق استاد مصطفی مشہور سے تھا۔ وہ متعدد بار پاکستان میں ہمارے مہمان رہے، خصوصاً افغانستان کے جہاد کے زمانے میں۔ اس کے علاوہ ان سے میری ملاقاتیں انگلستان، مصر، جرمنی اور ترکی میں بھی ر ہیں۔ ہم نے دعوت دین کے کاموں میںتبادلۂ خیال کے لیے ایک مشاورت قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کوششوں کے وہ سربراہ تھے اور میں ان کا نائب تھا۔حسن البنا کی زندگی میں مصطفی مشہور نوجوانوں کے گروپ کے سربراہ تھے۔ اسی طرح مامون الہضیبی سے بھی مصر اور یورپ میں تبادلۂ خیال ہوتا رہا ۔ان تمام مواقع پر اشتراک اور افہام و تفہیم کا پہلو غالب رہا۔ البتہ حکمت عملی میں کبھی کبھار ترجیحات کے بارے میںاختلاف راے بھی پیدا ہوا۔ جماعت کے نظام تربیت کو انھوں نے سمجھنے کی کوشش کی۔ اخوان کے قائدین کویہ احساس تھا کہ فکری میدان میںہمارا [یعنی جماعت کا] کام ان سے بہترہے۔ہم نے کشمیر کے مسئلے کو تمام تفصیلات کے ساتھ واضح کیا اور اخوان نے اس مسئلے پر پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ اسی طرح فلسطین کے مسئلے کے سب سے مؤثر داعی اخوان تھے اور ہم نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔
ایک مسئلہ متعدد بار اخوان کی طرف سے اٹھا یا گیا تھا کہ ہم سب مل کر عالمی سطح پر تنظیم کا ایک ڈھیلا ڈھالا وفاق قائم کریں، لیکن ہم نے اس تجویز کی تائید نہیں کی، اور ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ موجودہ حالات میں حسب ضرورت آپس میں مل کر تبادلۂ خیالات سے آگے ہمیں نہیں بڑھنا چاہیے۔ اس کی دو وجوہ ہیں: پہلی یہ ہے کہ عالمی حالات کے پیش نظر کچھ رفاہی منصوبوں میں تعاون تو درست ہوسکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ ربط و تعلق موجودہ عالمی اور خود مسلم ممالک کے سیاسی حالات کی وجہ سے نہ ممکن ہے اور نہ مفید۔دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں کسی جگہ تحریک اسلامی پر پابندی ہے اوران کے خلاف ریاست قوت استعمال کر رہی ہے۔ کہیں کچھ نرمی ہے اور پناہ مل رہی ہے۔اگر آپ ایک نظم بن جائیں گے تو بین الاقوامی ریاستی تعلقات میں مسائل پیدا ہوں گے اورحکمرانوں کو تحریک اسلامی کے خلاف کام کرنے میں زیادہ قوت حاصل ہو جائے گی اور وہ اس کے خلاف زیادہ مؤثر اقدام کریں گے۔ البتہ اگر ہر ملک میں آزاد نظم رہے اور واحد مرکزیت سے گریز کیا جائے تو یہ تحفظ کا ذریعہ ہو گا۔ اسی لیے ہم نے کوئی بین الاقوامی تنظیم نہیں بنائی۔
یہ دُور اندیشی دراصل مولانا مودودی کی بصیرت کا مظہر ہے۔ البتہ کسی مسئلے پر مشترکہ موقف اختیار کرتے ہوئے متفقہ نقطۂ نظر بیان کرنا مختلف چیز ہے۔اس کے لیے وقتاً فوقتاً دوسرے پلیٹ فارم موجود ہیں۔ایسے پروگراموں میں اسلامی تحریکات کے ذمہ داران نے شرکت کرکے اس مقصد کو تقویت دی ہے، اورکوشش یہ رہی ہے کہ آپس میںزیادہ سے زیادہ ہم آہنگی رہے۔ یہ سوچ پوری دنیا میں اسلامی تحریک کے لیے مفید رہی ہے۔
۱۹۸۲ ء میں، قاہرہ میںمصر کے صدر حسنی مبارک سے ہم نے انھی کی دعوت پر ملاقات کی تھی۔اس ملاقات میں ہم نے یہ کہا تھا: ’’ اُمت کا مفاداسی میں ہے کہ ریاستی قیادت اور تحریک اسلامی تصادم کے بجاے افہام وتفہیم کاراستہ اختیار کریں، اور اگر تعاون ممکن نہیں تو ایک دوسرے کی پوزیشن کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر بقاے باہمی (co-existence)کا راستہ اختیار کریں۔
۷۰ کے عشرے میں،جب لیبیا میں اخوان پر پابندی نہیں تھی، ڈاکٹر شریف جوصدر قذافی کی کابینہ میں شامل تھے اور ڈاکٹر محمدیوسف مغائریف جو لیبیا کے آڈیٹرجنرل تھے، ان حضرات کے توسط سے مجھے پیش کش کی گئی تھی کہ میں لیبیا میں معاشی مشیر بن کر آجائوں، لیکن میں نے معذرت کی ۔ پھر جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ اخوان اور لیبیا کے مطلق العنان حکمرانوں کا راستہ الگ ہے۔اسی طرح سعودی عرب کے ذمہ داران سے اخوان کے بارے میں بار بار گفتگوئیں ہوئی ہیں۔ اُردن میںشہزادہ حسن بن طلال سے کئی بار میری ملاقات میں اخوان کے معاملے پر بات ہوئی ہے۔ ان تمام ملاقاتوں میں ہم نے کبھی بھی تحریک کی عزت اور وقار پر مصلحت آمیزی کا راستہ اختیار نہیںکیا،بلکہ ہمیشہ نصیحت اور تلقین کا راستہ اختیار کیا۔
۱۹۹۰ء میں، جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے قائدین نے عالم عرب کا دورہ کیا۔ اس وفد میں محترم قاضی حسین احمد، ڈاکٹر نجم الدین اربکان،ڈاکٹر حسن ترابی اور اخوان المسلمون اُردن کے عبد الرحمن خلیفہ شامل تھے۔مجھے بھی اس وفد میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ ہم نے عراق،اردن،سعودی عرب،اور ایران کا دورہ کیا،اور وہاں پر چوٹی کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے میں عراقی سربراہ صدام حسین سے بھی ہماری ملاقات ہوئی تھی۔اس گفتگو کا محور جنگ تھا۔ صدام حسین سے قاضی حسین احمدصاحب نے بڑے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ: ’’جنگ آپ پر مسلط کی جارہی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ مذکرات سے راستہ نکالیں۔ کویت پر قبضہ اصول اور حکمت دونوں اعتبار سے گھاٹے کا سودا ہے‘‘۔ ان کے نائب صدر سے ہم نے عراق میں گرفتار اخوان کے کارکنوں کی رہائی کے بارے میں بات کی،افسوس کہ انھوں نے کوئی واضح بات نہ کی۔
اسی ضمن میں مولانا مودودی کا یہ بڑا اہم کارنامہ ہے کہ انھوں نے ۱۹۳۰ء میںجہاد کے تصور کو اپنی معرکہ آرا کتاب الجہاد فی الاسلام میں نکھار کر امت کے سامنے پیش کیا۔ ۱؎ ادھر اخوان المسلمون ۱۹۲۸ء میں قائم ہوئی ۔ حسن البنا کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے جہادکے تصور کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ فلسطین پر یہودی قبضے سے نجات پانے کے لیے مسلم امت کواس کے لیے عملاً تیار بھی کیا۔ اس طرح وہ امت جو سیاسی غلامی ،معاشی محکومی ،اخلاقی ابتری اورفکری مرعوبیت کے ہاتھوںشکست اور پسپائی کی علامت بن چکی تھی ،اسے علامہ محمد اقبال ،حسن البنا شہید اور مولانا مودودی نے ایمان، اعتماد، امنگ، اورعزم کے ساتھ راستہ بنانے کی راہ دکھائی ۔
حالیہ تاریخ کا مطالعہ کریںتو معلوم ہوتا ہے کہ مصر وہ پہلا ملک ہے جہاں کھل کر دین اور سیاست کی تفریق کی بات پیش کی گئی تھی۔ برعظیم پاک و ہند میںمولانا ابوالکلام آزاد،علامہ محمداقبال اور مولانا مودودی کے مضبوط استدلال نے یہاں پریہ بات نہیں چلنے دی، جب کہ مصر میں علی عبدالرزاق (م: ۱۹۶۶ء) نے کھلے بندوں چیلنج کے انداز میں یہ بات کہی تھی کہ خلافت کاقیام ضروری نہیں ہے، اور دین اور سیاست کی تفریق ممکن ہے اور کچھ حالات میں مطلوب بھی۔ امام حسن البنا نے اس چیلنج کا فکری اور عملی سطح پر جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ: اسلام ایک ریاست، ایک نظام حکومت اور ایک معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔اس طرح انھوں نے ریاست کے اسلامی تصور کو تحرک اور تحریک کا حوالہ بنادیا ۔بعد ازاں مسلم دنیا میں جتنی بھی اسلامی تحریکیں اٹھیں، خواہ وہ اخوان المسلمون یا جماعت اسلامی کے قافلے سے الگ ہوکر چلیں یاالگ سے قائم ہوئیں،ان سب کا ایک اہم ہدف اسلامی ریاست کا قیام طے پایا۔آج اسلام پر جو بھی تحقیقی ، تجزیاتی یا سخت متعصبانہ مطالعات سامنے آرہے ہیں،ان میں اسلامی احیا اور اسلامی ریاست، اخوان، جماعت اسلامی، مولانا مودودی ،سید قطب اور حسن البنا کا ذکر مرکزی موضوعات کے طور پر ملے گا۔
اخوان المسلمون کے بڑے دھارے نے بڑے تسلسل کے ساتھ ،استبدادی حکومتوں کی جانب سے مسلط کردہ آزمایش کا مقابلہ کیا۔ اپنے متوازن اور راست طریق کار کو انھوں نے ترک نہیں کیا اور نہ وہ کسی رد عمل کا شکار ہوئے۔یہ دراصل حسن البنا کی اس تربیت کا کرشمہ ہے جس کے تحت مختلف نامساعد حالات کے باوجود انھوں نے راستہ نکالنے والی انقلابیت کا دامن تھامے رکھا۔ بالکل یہی صورت حال مولانا مودودی کے ہاں بھی دکھائی دیتی ہے، جو سخت سے سخت اشتعال انگیز حالات کے باوجود واقعات سے متاثر نہیں ہوتے ،بلکہ خداداد دانش اوراللہ پر بھروسا کرتے ہوئے اس طرح راستہ بنالیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
اخوان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف وہ لوگ تھے جنھوں نے شدید ردعمل میں آکراخوان سے ناتا توڑ لیااور اپنی نادانی سے استبدادی قوتوں کو مضبوط کیا۔ انجام کارظلم کی سیاہ رات طویل ہوئی اور تبدیلی کے امکانات کی دنیا محدود ہوئی۔ دوسری جانب الگ ہونے والے وہ لوگ تھے، جو سمجھتے تھے کہ ہمیں مقتدر قوتوں کے ساتھ مل کر راستہ بنانا چاہیے۔ ان میں سے بعض لوگوں نے صدر ناصر اور کچھ افراد نے صدر سادات سے تعاون بھی کیا،مگر کوئی امید بر نہ آئی بلکہ اس طرح وہ اور زیادہ بے وزن ہوئے۔مقصد کا حصول دُور کی بات ہے ،وہ خود اپنے مشن سے دور ہوتے چلے گئے۔ طاغوت کے طرف داروں سے مل کر طاغوت کو لگام دینا کارِمحال ہے۔گویا کہ مقصد اور منزل کے بارے میں سمجھوتا تباہ کن ہوتا ہے۔
حکمت اور مصلحت ،قرآن کے اصول ہیں۔ ان دونوں کا مفہوم سیرت پاک کے مطالعے سے متعین ہوجاتا ہے۔ہرجگہ اور ہر دور میں اسلامی تحریکوں کو چاہیے کہ وہ ان اصولوں کو اپنی پالیسی کا حصہ بناکر شہادتِ حق، تطہیرافکار اور تعمیرمعاشرہ کا راستہ بنائیں۔ اس راستے کا انتخاب کرتے ہوئے غلطی بھی ہوسکتی ہے، لیکن غلطی تو اس صورت میں بھی ہوسکتی ہے کہ آپ پورے معاشرے سے کٹ کر کسی جنگل بیابان میں چلے جائیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اجتہادی غلطی کا بھی ایک اجر ہے اور اگر اجتہاد صحیح ہے تو اس کے دو اجر ہیں۔ اسی فریم ورک کے اندر اخوان کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی، اور آیندہ آنے والوں کے لیے بھی اہم سبق ہے۔
ہمارے ہاں علمی کام کازیادہ حصہ اللہ کے ایک بندے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر وکاوش کاثمرہ ہے۔ اس کے برعکس اخوان کے ہاں ہمیں نظر آتا ہے کہ ایک پوری ٹیم ہے جس نے مل کر یہ کام کیا ہے۔ اس کام کی وسعتوں کو دیکھیں تو یہ بڑا معرکے کا کام ہے ۔مثال کے طور پر عبدالقادر عودہ شہید نے اسلامی قانون پر جو کام کیا، وہ ۲۰ ویں صدی کے معتبر ترین کاموں میں سے ایک کام ہے۔ وہ اپنے فن کے ماہر تھے اور قرآن و سنت پر ان کی نگاہ بڑی گہری تھی۔سید قطب شہیدنے تفسیر فی ظلال القرآن ،العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام، معالم فی الطریق وغیرہ جیسی معرکہ آرا کتب لکھیں،بلکہ ادبی اور فکری نوعیت کی بڑی قابل قدر تصنیفات بھی پیش کیں۔ڈاکٹر مصطفی حسنی سباعی کی ایک دو آرا سے اختلاف کے باوجود: السنۃ ومکانتہا فی التشریع الاسلامی،نظام السلم والحرب فی الاسلام،المرأۃ بین الفقہ والقانون،الاستشراق والمستشرقون،المرونۃ والتطور فی التشریع الاسلامی،التکافل الاجتماعی فی الاسلام،غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہیں اور ان کے علاوہ بھی وہ مزید درجن بھر کتب کے مصنف ہیں۔ محمد الغزالی، بہی الخولی،محمد محمود الصواف،عبد البدیع صقر، محمداحمد ابوشقہ، ڈاکٹر سید سابق، ڈاکٹر عبدالعزیز کامل،ڈاکٹر عیسیٰ عبدہ ابراہیم،ڈاکٹر محمد المبارک، ڈاکٹر سعید حویٰ، عبدالکریم زیدان، ڈاکٹر جمال عطیہ ، ڈاکٹر یوسف قرضاوی، ڈاکٹر توفیق شاوی، پروفیسرمصطفی احمدزرقا، پروفیسر محمد قطب،پروفیسر عبد الحکیم عابدین،ڈاکٹر مالک بدری اور ان کے ہمراہ دیگر رفقا نے قائدانہ سطح کی کتب تحریر کیں۔انھوں نے یہ کام ایک ٹیم کی طرح انجام دیا۔ اوراس قافلۂ علم و دانش میں آج بھی قیمتی اضافے ہورہے ہیں۔پھر خود امام حسن البنا کے والد گرامی احمد عبدالرحمن البنا نے الفتح الربانی (شرح مسند امام احمد) ۲۴ جلدوں پر مشتمل ایک بڑا وقیع علمی کارنامہ انجام دیا۔
اسی طرح صحافت کے میدان میں اخوان کے تجربات ،ندرت ِخیال ،بروقت اظہار ، علمی شان اور عزم و حوصلے کو ابھارنے والاانداز بھی ایک قابل رشک پہلو رکھتاہے۔ یہ ایک دو پرچوں کی بات نہیں، بلکہ اس میں عربی،انگریزی اور فرانسیسی میں درجنوں چھوٹے بڑے رسائل وجرائد کے نام سامنے آتے ہیں۔پابندیاںلگتی رہیں،مگر نام ،اسلوب اور مقام بدل کرحق کی گواہی دینے کا فریضہ ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کی گئی۔پھر علمی اور تحقیقی مجلوں کو دیکھتے ہیںتومختلف عرب ریاستوں اور یونی ورسٹیوں کے جرائد تک میں اخوانی علم کلام کی گونج سنائی دیتی ہے،کہیںدھیمے انداز میںاور کہیں پُرزور انداز میں۔یہ سب کام ایمانی حلاوت ،اجتماعی وابستگی،روحانی جذبے اور مؤثر تربیت کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔
اس جارحانہ پروپیگنڈے اور حالات وواقعات کے منفی بہاؤ کو دیکھتے ہوئے بسا اوقات لوگوں پر مایوسی کے آثار نظر آتے ہیں۔بلاشبہہ بے جا خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، لیکن خواہ مخواہ کی مایوسی بھی غلط ہے۔ دشمن کے پروپیگنڈے سے خائف نہیں ہونا چاہیے، مگر کھلی آنکھوں اور کشادہ ذہن کے ساتھ معاملات کا تجزیہ کرنے کا عمل بھی ترک نہیں کرنا چاہیے۔
موجودہ عہد میں جس وسعت اورجس شدت کے ساتھ مولانا مودودی ،حسن البنا شہید، اور سید قطب شہیدکے خلاف یہود ونصاریٰ اور ہنود پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس کی فکری، مذہبی اور عملی بنیادوں کا ادراک کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سید قطب اور مولانا مودودی کی فکر کو درست پس منظر میں پیش کرنا نہایت ضروری ہے۔ جذباتی اور علامتی وابستگی سے بڑھ کر اسے شعوری اور نظریاتی تناظر میں سمجھنے اور پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا مودودی اسلامی تحریکوںکے سامنے آج ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ صف بندی گہرے شعور کے ساتھ کی جائے اور مسلمان نوجوانوں کو دردمندی سے سنبھالا جائے۔اگر کوئی مسلمان نوجوان شدید دباؤ کے نتیجے میں ردعمل کے راستے پر جاتا ہے تو مجھے ڈر ہے کہ پھر وہ مغرب کے تعصب اور ظلم و ستم کے جواب میں اور زیادہ تشدد کی طرف ہی جائے گا۔ اصولاً یہ راستہ نہ درست ہے اور نہ مطلوب۔ اگر یہ نوجوان سید قطب اور سید مودودی کے اصل فکری نظام (پیراڈائم)کو سمجھ لے گا تو ظلم کے خلاف دلیل کی قوت، کردار کی شان اور دعوت وحکمت کی طاقت کے ساتھ تو ضرور اٹھے گا، لیکن ایک ظلم کی جگہ وہ کبھی دوسرے ظلم کا حصہ نہیںبنے گا۔ یہ اسی وقت ہو گا جب وہ اس نظامِ فکر اور نظم ِتنظیم سے وابستہ ہوگا۔ اس طریقۂ کار کے لیے وقت لگے گا، محنت کرنا ہوگی،اورصبر و ہمت سے کام کرنا پڑے گا۔
میں تشدد کے فروغ کی کسی بھی شکل کو حقیقی اسلامی تحریک اور اسلامی احیا کے لیے ایک تباہ کن خطرہ سمجھتا ہوں، تاہم کشمیر، فلسطین، چیچنیا میں آزادی کی تحریکوں، اور عراق و افغانستان پر غیرملکی تسلط کی نوعیت دوسری ہے۔ اسلام، انسانیت کے لیے نظام رحمت ہے، اورنبی کریمؐ رحمۃ للعالمین ہیں۔ اسلام کے علَم بردار یہ بات قبول نہیں کرسکتے کہ ایک ظالم کے ظلم کی سزا دوسرے بے گناہ لوگوں کو دی جائے۔ اس لیے جب مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کا مرحلہ آئے تو وہ بھی،رحمت عالمؐ کے پیش کردہ نمونۂ عمل کو سامنے رکھ کر اختیار کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ اختیار کردہ راستہ سرور عالمؐ کا راستہ نہیںہوسکتا،چاہے اس کے لیے کیسے ہی خوش نما دعوے اور دلائل پیش کیے جائیں۔جان لینا چاہیے کہ جہاد اور انتقامی تشدد کے درمیان بڑا فرق ہے۔ ہمیں دشمن کے کھیل کا حصہ نہیں بننا،مگر خاموشی سے بھی خود ہمارے اور اسلام کے بارے میں ایک غلط تصور پیدا ہوگا۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ انسانیت کو خیر کی طرف بلائیں اور شھداء علی الناس کی ذمہ داری ادا کریں۔ ہم سب کو فکر کرنی چاہیے کہ اسلام کی دعوت، تربیت، شناخت اور تحریک اسلامی کا امتیازی کردار مجروح نہ ہونے پائے۔
یہی حسن البنا شہید اور مولانا مودودی کی دعوت اور ان کا پیغام ہے۔
کسی بھی تحریک کا مؤسس اپنے نظریات اور تحریک کا سب سے بہتر تعارف ہوتا ہے۔ جوشخص اپنے مقاصد سے جس قدر مخلص ہوگا اس پر، اس کے ساتھیوں پر، اور اس کی تحریک پر ان مقاصد کی چھاپ اُتنی ہی گہری ہوگی۔ امام حسن البنا شہید کی تمام تر جدوجہد کا اصل مقصد رب کی رضا کا حصول اور اللہ کے رنگ میں انفرادی و اجتماعی طور پر رنگ جانا تھا۔ ان کی پوری زندگی میں یہی پہلو سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔
قرآن کریم اور سنت نبویؐ سے براہِ راست ربط و تعلق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثل محبت اور وابستگی نے اخوان کو دعوت و تحریک کے مستقل مکتب کی حیثیت دے دی ہے۔ اخوان کا معروف شعار: اللہ ہمارا مقصود ہے، قرآن ہمارا دستور ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے راہ نما ہیں، جہاد ہمارا راستہ ہے، اور اللہ کے راستے میں موت ہماری سب سے بڑی آرزو ہے___ اس روحانیت کا جامع خلاصہ ہے۔ اسی شعار کو بنیاد بناکر انھوں نے اصلاحِ نفس، اصلاح اہل خانہ، اصلاحِ معاشرہ اور تعمیرملت کی مثالی جدوجہد کی۔
امام حسن البنا شہید نے اپنے ساتھیوں کی تربیت میں جہاد اور قربانی کو بہت اہمیت دی۔ انھوں نے اخوان کے کارکنان کو ہر طرح کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ فاروق کے مظالم ہوں یا جمال عبدالناصر کی بے وفائی اور ظلم و تشدد، انورسادات کا جبر ہو یا حسنی مبارک کے غیرقانونی اقدامات، بیرونی سازشیں ہوں یا اندرونی حالات کی سنگینی، اخوان ان تمام آزمایشوں میں سخت جان نکلے۔ انھیں ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ایک ایک کرکے ختم ہوگئے، لیکن انھیں شہید، اسیر یا ملک بدر کرکے کبھی ختم نہ کیا جا سکا۔ یوں اخوان المسلمون کی تحریک کا دائرہ نہ صرف پورے عالمِ عرب پر محیط ہوگیابلکہ اس کے اثرات پورے عالم اسلام میں پھیل گئے۔
صہیونی طاقتوں کی خواہش اور کوشش تھی کہ مسلم دنیا بالخصوص مصر سے اسلامی روح کا خاتمہ کردیا جائے۔ مصر پر خصوصی توجہ اس لیے تھی کہ مصر، فلسطین پر صہیونی قبضے کے خلاف مزاحمت کی بنیادی کڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مصر ہی سے اسرائیلی وجود کے خلاف عملی مزاحمت سامنے آئی تھی۔ اس مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے بہت سی کاوشوں کا نقطۂ آغاز مصر ہی قرار پایا۔ فلسطین پر یہودی قبضے کو تسلیم کروانے کے لیے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہو یا عالمِ اسلام کے خلاف دیگر ثقافتی، دفاعی، جاسوسی اور اقتصادی سازشیں، ان کی تنفیذ میں بنیادی خدمت عالمِ اسلام کے حکمرانوں بالخصوص فلسطین کے پڑوسی ممالک سے لی گئی۔ سازشی عناصر اور ان کے خدمت گار جانتے تھے کہ اس راہ کی بنیادی رکاوٹ اسلامی تحریکیں اور معاشرے کے متدین عناصر ہیں۔ اس رکاوٹ کے ازالے کے لیے اندرونی و بیرونی قوتوں نے ہرممکن ہتھکنڈا آزمایا۔ جھوٹے الزامات لگے، مہیب پروپیگنڈا ہوا،اور اندرونی و بیرونی فتنوں کو ہوا دی گئی۔ ملک بدری، اسیری اور پھر گولیاں اور پھانسی کے پھندے، اور ظلم و جور کے تمام ہتھکنڈے آزمائے گئے لیکن اللہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جہاد فی سبیل اللہ کی محبت سے سرشار اور کتاب اللہ کے نور سے منور چراغوں کو بجھایا نہ جاسکا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمۂ فیض سے سیراب کھیتی، ہر آن اپنی بہار دکھاتی اور یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِھِمُ الْکُفَّارَ (الفتح: ۴۸:۲۹) ’’کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں‘‘کا مصداق بنی رہی۔
وہ کارواں جو امام حسن البنا اور ان کے چند مخلص ساتھیوں کی جدوجہد سے شروع ہوا تھا، تمام تر چرکے سہنے کے باوجود آج کہیں حماس کی صورت ناقابلِ شکست ہے، کہیں اخوان المسلمون کی پے درپے کامیابیوں کی صورت مخالفین کو لرزہ براندام کیے ہوئے ہے۔ کہیں الجزائر کے ۸۰ فی صد راے دہندگان کے نقارے کی صورت سنائی دیتا ہے۔ عالمِ عرب ہی نہیں، جہاں جہاں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی جمع ہیں، اخوان غلبۂ اسلام کی اس جدوجہد کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ اُمت کی اُمیدوں کے ترجمان ہیں، اور اس یقین سے سرشار ہیں کہ حق کو بالآخر غالب ہونا ہے اور باطل کو مغلوب۔
مسلسل قربانیوں اور ہمہ وقت جدوجہد سے اسلامی تحریکوں نے پوری دنیا پر یہ حقیقت آشکار کردی ہے کہ قربانیاں اور مشکلات کبھی کسی تحریک کے خاتمے کا باعث نہیں ہوتیں۔ قربانیوں نے ہمیشہ تحریک کو مزید تقویت و زندگی بخشی ہے۔ جہاد کی فصل جتنی کٹتی ہے اتنی ہی مزید پھلتی پھولتی ہے۔ہاں، قربانیوں سے اجتناب، مشکلات کا خوف اور خطرات کے اندیشہ ہاے دُوردراز، تحرک کے بجاے تساہل و تکاسل ضرور ایساوقت لاتے ہیں کہ پھر تحریک تحریک نہ رہے، تعفن زدہ تالاب بن جائے۔ اقبال نے بھی اپنے اشعار سے یہی پیغام دیا اور حسن البنا کی شہادت سے اخوان اور اسلامی تحریک کو ملنے والی حیاتِ تازہ سے بھی یہی پیغام ملا:
ساحل افتادہ گفت‘ گرچہ بسے زیستم
ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من چیستم
موج زخود رفتۂ تیز خرامید و گفت
ہستم اگر مے روم، گر نہ روم نیستم!
(پڑے ہوئے ساحل نے کہا کہ: اگرچہ میںبڑی دیر زندہ رہا ہوں، لیکن افسوس! مجھے کچھ معلوم نہیں ہوا کہ میں کیا ہوں۔ اپنی جان سے گزرنے والی موج تیزی سے لپکی اور اس نے کہا، اگر میں حرکت میں ہوں تو زندہ ہوں، اگر نہیں ہوں تو نہیں ہوں،گویا زندگی حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔)
یہی مطلب مرزا بیدل کے ایک شعر میں اس طرح ادا ہوا ہے:
ما زندہ ازانیم کہ آرام نہ گیرم
موجیم کہ آسودگی ما عدم ماست
(ہم اس لیے زندہ ہیں کہ رکتے نہیں ہیں۔ ہم ایسی موج ہیں کہ ہمارا ٹھیرنا ہماری موت ہے۔)
سید قطب کے الفاظ میں کہ: ’’شہید کے ہزاروں خطاب اور ہزاروں کتابیں بھی اخوان کے دلوں میں تحریک و دعوت کے وہ الائو روشن نہیں کرسکتے تھے جو ان کے پاکیزہ خون سے منور ہونے والے چراغوں نے دہکا دیے تھے‘‘۔ اپنے مقصد سے مضبوط وابستگی اور نیت و عمل میں کامل اخلاص نے حسن البنا کو اُمت کی اُمیدوں کا مرکز بنا دیا۔ وہ خود بھی ایک مؤثر قوتِ محرکہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کے گرد علماے کرام اور عظیم مفکرین کی ایک کثیرتعداد جمع کردی۔ امام نے زیادہ کتابیں تونہیں لکھیں لیکن ان کے الفاظ: اصنف الرجال (میں مردان کار تصنیف کرتا ہوں)۔ ایسی حقیقت بن گئے کہ سیدقطب، سید سابق، عبدالفتاح ابوغدہ، محمدالغزالی، علامہ یوسف القرضاوی، استاذعبدالمعز عبدالستار، استاذ مصطفی مشہور، استاذ کمال الدین سنانیری اور اسی پایے کے لاتعداد جلیل القدر علماے کرام ان کے حلقۂ عمل میں شامل ہوگئے۔ ان بزرگ علماے کرام کی روحانی تربیت کرکے انھوں نے عالم اسلام کو ایک ایسے مبارک گروہ کا تحفہ دیا جو علم و عمل اور تقویٰ و للہیت کا نمونہ تھا، اور جنھوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت اورقرآن کی تعلیمات کو اپنی شخصیت میں جذب کرلیا تھا۔اس مبارک گروہ سے آج عالم اسلام میں زندگی کی لہر دوڑ رہی ہے۔ قرآن کریم میں مؤمنین کی جو صفات بیان ہوئی ہیںاور اللہ کے ولیوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان بزرگ شخصیتوں میں ہم نے اس کا پرتو دیکھا ہے۔ یہ وہ چلتی پھرتی کتابیں ہیں جو امام حسن البنا شہید نے تصنیف کی ہیں اور ان سے آج پورا عالم روشن ہے۔
اخوان المسلمون کے ساتھ طالب علمی کے زمانے ہی سے میرا تعلق اتنا گہرا تھا کہ جب میں اپنی زندگی کے ان چند واقعات کو یاد کرتا ہوں جب میں شدید صدمے اور حزن سے دوچار ہوا،تو ان میں سے ایک عبدالقادر عودہ شہید اور ان کے ساتھیوں کی سزاے موت کا واقعہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے علاقے کے ایک چھوٹے سے قصبے کے ریلوے اسٹیشن کی مسجد میں اس روز کتنی دیر تک آنسو بہاتا رہا اور رو روکر اپنے رب کے سامنے اپنے درد و حزن کا اظہار کرتا رہا۔اس کے بعد لمحہ بہ لمحہ ہم سید قطب اور اخوان کے دوسرے راہ نماؤں پر ہونے والے مظالم کی روداد سنتے اور پڑھتے رہے، اور اس پورے عرصے میں براہ راست ملاقات نہ ہونے کے باوجود ہمارے دل ان کے ساتھ جڑے رہے، بلکہ یہ رودادیں ہماری تربیت کا ذریعہ بنیں۔ انھی دنوں ہم ذہناً اس تعذیب کو سہنے اور اس کی سختیوں کو برداشت کرنے کی تیاری کرتے رہے جن سے ہمارے اخوانی بھائی گزرے تھے۔
۷۳-۱۹۷۲ء میں پہلی بار میں نے سفرحج کیا۔ اس سال منیٰ میں اخوان کا باقاعدہ کیمپ لگا تھا۔ ان دنوں پشاور شہر کی جماعت اسلامی کی ذمہ داری میرے سپرد تھی۔ قومی یا عالمی سطح پر میرا تعارف نہیں تھا۔ ایک عام کارکن کی حیثیت سے میں تھوڑی دیر کے لیے ان اللہ والوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ استاد حسن الہضیبی طویل قید سے [ناصر کے زمانے میں] رہائی کے بعد کیمپ میں شریک تھے۔ انتہائی ضعف کی حالت میں جب انھیں اپنی کرسی پر بٹھایا گیا تو اخوان کے دکھی دلوں کے زخم تازہ ہوگئے،اور سب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔جب تھوڑا قرار آیا تو رونے پر قابو پا کر بلند آواز سے سب نے مل کرذکر شروع کر دیا: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لاَ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ- دیر تک اللہ والے یہ ورد کرتے رہے۔ بعد میں کیمپ میں کئی اخوانی ساتھیوں کے علاوہ اردن کے اخوانی راہ نما استاذ عبدالرحمن خلیفہ سے بھی پہلی ملاقات ہوئی۔
اسی سال حج کے بعد میں نے عالم اسلام کا سفر کیا۔ مصر بھی گیا لیکن اخوان کے دور ابتلا کی وجہ سے وہاں اس کا موقع نہیں ملا کہ اخوان کے کسی راہ نما سے ملاقات کا شرف حاصل کر سکوں۔ البتہ قاہرہ اور سکندریہ کے گلی کوچوں میں امام حسن البنا اور ان کے شہید ساتھیوں کے آثار کی تلاش میں رہا۔ اس سفر کے دوران لبنان اور شام کے بعض اخوانی راہ نماؤں سے ابتدائی ملاقاتیں رہیں۔
زمانہ طالب علمی سے ہی امام حسن البنا اور سید مودودی کی محبت یکساں طور پر میرے دل میں موجود رہی ہے۔ امام حسن البنا اورمولانا مودودی کے درمیان ملاقات یاکسی قسم کے رابطے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں، مگر دونوں کی شخصیت، فکر اور تحریک میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب قرآن و سنت کی مشترکہ بنیاد ہے۔اخوان المسلمون نے ہمیشہ جماعت اسلامی کو برعظیم پاک و ہند کی تحریکِ اخوان ہی سمجھا، اور ہم نے ہمیشہ اخوان المسلمون کو عالمِ عرب میں جماعت اسلامی ہی کی قائم مقام تحریک کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ حیرت انگیز تعلق خاطر اور افکار کی یکسانیت عصرِحاضر میں وحدت اُمت کی مضبوط ترین اساس ہے۔
اخوان کی قیادت اور ہم نے مل کر فرقہ بندی، ذات پات، لسانیت یا علاقائیت سے بالاتر ہوکر دینی و ملّی مشترکات پر اُمت کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے اس ضمن میں اخوان المسلمون کے متعدد ذمہ داران سے تبادلۂ خیالات کا موقع بھی ملا ہے۔ اخوان کے سابق مرشدعام مصطفی مشہور سے اکثر و بیش تر ملاقاتیں رہیں۔ وہ کئی بارپشاور میں ہمارے مہمان رہے۔ وہ مکمل طور پر فنا فی اللہ، اخلاص و جذبے سے معمور، اخوت سے سرشار اور دانا وبینا انسان تھے۔ یہی عالم بالترتیب تیسرے، چوتھے اور پانچویں مرشدعام عمرتلمسانی، محمد حامد ابوالنصر اور مامون الہضیبی کا تھا۔ معروف محدث اور بزرگ عالمِ دین عبدالفتاح ابوغدہ (مرحوم) میرے بڑے بھائی مولانامحمد عبدالقدوس (مرحوم) کے قریبی دوست اور ساتھی تھے۔ وہ علم و تقویٰ اور تحریکی شعور کا خوب صورت مرقع تھے۔ ان سے ملاقات علمی ذوق و شوق میں ترقی اور تحریکی وابستگی میں پختگی اور یک سوئی کا سبب بنتی تھی۔
اخوان کے بزرگ راہ نماؤں سے قریبی ملاقاتوں اور کسب فیض کا موقع اس وقت ملا جب جہادافغانستان [۹۲ء-۱۹۷۸ء]میں اخوان المسلمون نے باقاعدہ دل چسپی لینی شروع کی اور پشاور میں میرا غریب خانہ افغانوں اور اسلامی تحریکوں کامرکز بن گیا۔ اخوان المسلمون کے کئی راہ نما اس دوران ہمارے ہاں قیام پذیر ہوئے ۔ سابق مرشد عام استاذمصطفی مشہور، استاذ کمال الدین سنانیری اور نائب مرشد عام ڈاکٹر احمدالملط کی میزبانی کا شرف مجھے حاصل ہوا ،اوران کے ساتھ سفر کرنے کا بھی موقع ملا۔ انھی دنوں سفر میں استاذ عبدالمعز عبدالستار کا ساتھ نصیب ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے براہ راست امام حسن البنا شہید سے فیض حاصل کیا تھا۔جوانی ہی میں امام شہید نے ان کے دل مٹھی میں لے لیے تھے اور اُن کے گہرے روحانی نقوش ان کی شخصیتوں پر ثبت ہو گئے تھے۔میں نے ان کی خلوت و جلوت کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان لوگوں پر اللہ کا رنگ( صبغۃ اللّٰہ) مکمل طور پر چڑھا ہواتھا۔ان کی باتیں ذکر کی باتیں تھیں، ان کی خاموشی اللہ کی یاد میں خاموشی تھی،اور ان کی معیت میں ایک گہرا روحانی سکون محسوس ہوتا تھا۔
استاذ کمال الدین سنانیری تقریباً ۱۵ دن ہمارے گھر میں مہمان رہے۔ میں نے اپنی تحریکی زندگی میں ان جیسا للہیت سے سرشار انسان کم ہی دیکھا ہوگا۔غیر محسوس طور پر ایک دن چھوڑ کر روزے سے رہتے تھے لیکن گھر کے لوگوں کے سوا کسی کو بھی ان کے روزے کا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ جب لطیف پیراے میں کھانے پینے سے معذرت کرتے تو معلوم ہوتا کہ روزے سے ہیں۔ استاذ کمال الدین مرشدعام کے خصوصی نمایندے کی حیثیت سے افغان مجاہدین کی خدمت اور افغان قائدین میں مصالحت و یک جہتی کی خاطر آئے تھے، اور اپنی تمام تر توجہ اسی ایک مقصد کے حصول پر مرکوز رکھی۔ میں نے انھیں کبھی فارغ نہیں دیکھا۔ جب بھی فرصت کا کوئی لمحہ میسر آتا، وہ جیب سے قرآن کریم نکالتے اور تلاوت میں مشغول ہوجاتے۔ بدقسمتی سے مصر واپسی پر اس فنا فی اللہ، ربانی شخصیت کو سرکاری گماشتوں نے اذیتیں دے دے کر شہید کردیا، اور دنیا سے جاتے ہوئے بھی وہ اپنے مرشدعام امام حسن البنا شہید سے مشابہ ٹھیرے۔استاذ مصطفی مشہور ہر فارغ لمحے میں کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول رہتے تھے۔ استاذ عبدالمعزعبدالستار کے روحانی اثر کو میں آج ہزاروں میل کی طویل مسافت کے باوجود محسوس کرتا ہوں۔
اسی لیے میں نے آغاز میں عرض کیا کہ تحریک کا حقیقی تعارف اس سے وابستہ افراد کے اخلاق و کردار سے ہوتا ہے، اور تحریک کا بانی اپنی تحریک اور تحریکی افراد پر اپنے گہرے نقوش مرتب کرتا ہے۔امام شہید کی روحانی کشش اس قدر شدید تھی کہ جس کا بھی ان کے ساتھ تعارف ہوا، اس کا دل ان کے ساتھ جڑ گیا۔ ان کے قریبی ساتھیوں میں ان کی تربیت کی وجہ سے ایسی جاذبیت پیدا ہو گئی تھی کہ عالم اسلام کے ہزاروںلاکھوں نوجوانوں کے دلوں میںان کی محبت کے دیرپا نقوش ثبت ہو گئے ہیں۔
ترجمان القرآن کی اس ’اشاعت خاص‘ میں اخوان المسلمون کے بانی، اور مرشد ربانی کی فکر، شخصیت اور کردار و اثرات کا مطالعہ پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے___ یہ نہ صرف اسلامی تحریک کی بنیادی ضرورت تھی بلکہ امام حسن البنا شہید کا ہم سب پر حق بھی تھا۔ میں اس اہم علمی و تحریکی خدمت پر اس کی تیاری میں حصہ لینے والے تمام ساتھیوں کے لیے قبولیت کی دعا کرتا ہوں۔ خدا کرے کہ اس میں شامل تحریریں ہمیں ایک تازہ جذبۂ عمل سے سرشار کریں۔ آمین!
یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ مصر میں شیخ حسن البناشہید نے جس وقت احیاے اسلام کے لیے کام کرنا شروع کیا تھا،قریب قریب وہی زمانہ تھا،جب اس برعظیم پاک و ہند میں بھی ٹھیک اسی مقصد کے لیے کام شروع کیا گیا۔دونوں کے درمیان شاید ایک دو برس کا فرق ہو،لیکن زمانہ تقریباً یکساں ہے۔سالہا سال تک ان سے ہم اور ہم سے وہ بے خبررہے۔حالاں کہ ایک ہی راستے پر چل رہے تھے۔ایک مدت دراز کے بعد جا کر ہمیں پتا چلاکہ مصرمیں اخوان کی تحریک انھی مقاصد کے لیے چل رہی ہے، اور اسی طرح سے سالہا سال بعد ان کو بھی یہ معلوم ہواکہ برعظیم پاک و ہند میں اسی طرح کی ایک تحریک کام کر رہی ہے۔اب یہ خدا کی مشیت ہے کہ وہاں پہلے اس کے مرشداوّل شہید ہوئے پھر مرشد ثانی بھی اپنے رب کے حضور پہنچ گئے، اور یہاں اس کام کو جس نے شروع کیاتھاوہ دونوں کا غم سہنے کے لیے آج بھی زندہ ہے۔
اخوان کی تحریک کی قدر و قیمت کا اندازہ اس ملک میں بہت کم لوگوں کو ہے ۔مگر جاننے والے جانتے تھے کہ عرب ممالک میں خصوصاًاور دنیا کے دوسرے ممالک میں عموماً احیاے اسلام کے لیے جو کام ہوا،مسلمانوں میں دینی،اخلاقی بیداری پیدا کرنے کی جو خدمت انجام دی گئی اور عوام و خواص کو حقیقی اسلام سے روشناس کرانے اور خلوص کے ساتھ اسے سربلند کرنے کی جو کوشش کی گئی، وہ زیادہ تر اخوان ہی کی اس تحریک کا ثمرہ ہے،جسے شیخ حسن البنا نے شروع کیا،اور شیخ عبدالقادر عودہ شہید،سید قطب شہیداور حسن الہضیبی مرحوم نے پروان چڑھایا۔
عرب ممالک میںآپ عراق سے مراکش تک چلے جائیں،ہر جگہ آپ یہی دیکھیں گے کہ جن لوگوں کو بھی اسلام سے گہرا اور قلبی تعلق ہے، وہ زیادہ تر اخوان ہی کے آدمی ہیںیا ان کی تحریک سے متاثر ہیں۔اسی طرح امریکا اور یورپ میں بھی آپ دیکھیں گے کہ جو عرب نوجوان اسلامی جذبے سے سرشار ہیں،وہ اکثر و بیش تراخوانی ہیں۔حتیٰ کے اخوانیت ایک طرح سے اسلامیت کا نشان بن گئی ہے ۔کوئی آدمی تعلیم یافتہ ہو اور پھر دین دار بھی ہوتو لوگ آپ سے آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ضرور اخوان میں سے ہے، یا کم سے کم اس تحریک سے متاثرہے۔حتیٰ کہ جب اسلام دشمنی کا روگ بعض عرب ممالک کو لاحق ہواتو ہر اس نوجوان کے پیچھے سی آئی ڈی لگ جاتی تھی، جو نماز پڑھتا نظر آتاتھا۔یہ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس فتنے کے دور میں اخوان کی تحریک بر وقت برپا ہوگئی اور یہ تحریک نہ اٹھی ہوتی تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ عرب ممالک لادینیت،قوم پرستی اور سوشلزم کے طوفان میں کس حد تک پہنچ چکے ہوتے۔
اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ۲۵‘ ۳۰ سال پہلے عرب ممالک میںجو لوگ بھی اسلامی جذبے سے عاری تھے اور جن پر سیکولرزم اور قوم پرستی کا شیطان مسلط تھا،وہ سب انڈین نیشنل کانگریس کے حامی اور تصور پاکستان کے مخالف تھے۔صرف اخوان ہی کا گروہ ایسا تھاجو پاکستان کا حامی تھا۔آج بھی وہاں وہی پاکستان کے سب سے زیادہ خیر خواہ ہیں۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ جب اخوان پر پے در پے مظالم ہوئے تو یہاں[پاکستان میں] ان سے ہمدردی کرنے والے بہت کم تھے اور دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ان پر الزام لگانے والے اور تہمتیں گھڑنے والے بہت زیادہ پائے گئے۔حتیٰ کہ جب انصاف کی مٹی پلید کرکے اخوان کو بدترین سزائیں دی گئیںاور ان کے بہترین آدمیوں کو پھانسی پر چڑھایا گیاتو یہاں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہ تھی جنھوں نے اس پر احسنت ومرحبا کی صدائیں بلند کیں۔افسوس کہ لوگوں کو دوست اور دشمن کی تمیز بھی نہیں رہی۔بے شعوری میں یہ احساس تک نہیں کیا گیاکہ ہم اپنے دوستوں کو برا کہہ رہے ہیں اور دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں۔
ہم خلوص دل سے دعا کرتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ شیخ حسن الہضیبی کو اپنے دامن رحمت میں جگہ دے،ان کو بلند مرتبے عطا فرمائے، ان کی قربانیوں اور خدمات کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ جن لوگوں نے ان پر ظلم ڈھائے اور ۲۰ سال تک مسلسل ظلم و ستم ڈھاتے رہے، اللہ تعالیٰ اپنے عدل کے مطابق ان سے انتقام لے اور جس صبر و استقامت کے ساتھ مرحوم نے دین کی راہ میں ہرتکلیف کو برداشت کیااور اسلامی تحریک کی خدمت قید کی حالت میں بھی کرتے رہے، اس کا اجرجزیل انھیں عطافرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان اخوان کو بھی بلند مرتبے عطا فرمائے، جنھوں نے فلسطین میںیہودیوں کے خلاف جنگ کی اور ایسی بہادری کے ساتھ لڑے کہ یہودی مصر اور دوسری عرب ریاستوں کی باقاعدہ افواج سے بڑھ کراخوانیوںسے ڈرتے تھے۔ان میں سے جو اس لڑائی میں شہید ہوئے، اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے اور جو اس لڑائی میں لڑے اور زندہ بچے اللہ تعالیٰ ان کو مجاہد اور غازی ہونے کا اجر عطافرمائے۔
یا اللہ! شیخ حسن البنا کو بلند مرتبے عطافرما۔ان کو اپنے مقربین میں جگہ دے۔ہم گواہ ہیں کہ یہ وہی تھے جنھوں نے احیاے اسلام کی اس تحریک کو اٹھایا۔لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں تبدیل کیںاور اس میں وہ روحِ جہاد پھونکی ،جس کی بدولت اس وقت تک بھی ہر طرح کے ظلم و ستم کے باوجودمصر کی سرزمین سے اسلامی تحریک کے اثرات نہیں مٹائے جاسکے۔
یا اللہ! ان لوگوں کی قربانیوں کو بھی قبو ل فرماجن کو پھانسیوں پر چڑھایا گیا۔ شیخ عبد القادر عودہ اور سید قطب شہید کے دوسرے ساتھیوں کو وہ اجر دے جو تونے اپنی راہ میں شہید ہونے والوںکے لیے مقرر کررکھا ہے۔
یااللہ! ان لوگوں کو بھی بلند مرتبے عطا فرما جنھوں نے ظالموں کی جیلوں میں ہر طرح کی سختیاں برداشت کیںاور ایسے بدترین مظالم سہے جن کے تصور سے بھی انسان کا ضمیر کانپ اٹھتا ہے، لیکن ان کے قدموں میں کبھی لغزش نہ آئی اور ان میں سے کسی نے ظالموں کے آگے سر نہیں جھکایا، حالاں کہ ان کا قصور اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ تیرے دین حق کی سربلندی چاہتے تھے۔ (ہفت روزہ آئین، لاہور، شخصیات، ص ۳۰۷-۳۱۰)
مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی کے بارے میں مولانا مودودی نے فرمایا تھا کہ وہ: ’’اخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البنا کے ذاتی دوست تھے۔ انھوں نے اخوان کی دعوت کے بارے میں کہا تھا کہ جہاں میرا کام ختم ہوتا ہے وہاں سے اخوان کا کام شروع ہوتا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد اخوان نے رضاکار بھرتی کرکے یہودیوں کے خلاف جہاد شروع کیا، تو مفتی صاحب ان کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے۔ جب ۱۹۵۴ء میں اخوان پر ابتلا کا دور آیا تو انھوں نے اخوان کے ساتھ صدر ناصر کے سلوک پر شدید احتجاج کیا تھا۔ پھر جب [۱۹۵۴ء میں] اخوان کے نام ور قائدین کو پھانسی کی سزا کا حکم دیا گیا تو انھوں نے اسے ذاتی طور پر تار دیے تھے کہ سزا نافذ نہ کی جائے۔ ۱۹۶۶ء میں سید قطب اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر بھی انھوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اخوان کا جذبۂ جہاد ان کے ابتلا کا باعث بنا، کیونکہ اسرائیل اور یہودیوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کی اصل مخالف قوت دنیاے عرب میں کون سی ہے۔ اس لیے امریکا اور [اشتراکی] روس دونوں کی خواہش یہ تھی کہ اسلام کی اس اُبھرتی ہوئی طاقت کو کچل ڈالا جائے۔ افسوس کہ یہ مقصد تو کفار کا تھا، مگر پورا مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا۔ (رفیق ڈوگر، ہفت روزہ استقلال، لاہور، ۱۴جولائی ۱۹۷۵ء۔ مولانا مودودی کے انٹرویو، دوم، ص ۲۸۶- ۲۸۷)
l ۱۹۴۷ء کے بعد کے زمانے میں ملاقات رہی۔ عبدالعزیز مطوع اور ان کے چھوٹے بھائی عبداللہ علی مطوع [م: ۲۰۰۶ء] بڑے مخیر انسان تھے۔ عبداللہ علی مطوع مولانا مودودی کی تعزیت کے لیے ۱۹۷۹ء میں لاہور تشریف بھی لائے تھے۔ ان سے تفصیلی ملاقاتیں رہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک روز انھوں نے اپنی چیک بک میرے سپرد کرتے ہوئے کہا :’’یہ آ پ کے حوالے ہے۔ آپ جوچاہیں ان کا استعمال کریں‘‘۔
میں نے ان سے کہا: ’’میں آپ سے کچھ اور تونہیں کہتا ہوں۔ البتہ منصورہ میں ہمارے دفاتر کے ہمسایے میں ثنائی فلم سٹوڈیو ہمارے سرپر سوار ہے‘اس سے ہمیں بہت زیادہ تکلیف ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ اس کو بیچنا بھی چاہتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں آپ کوئی مدد کرسکیں تو میں آپ کا شکرگزار ہوں گا ‘‘۔ انھوں نے جواب میںکہا :’’ اس کا سودا کرلیں اور جتنا اس کا عوضانہ ہو وہ مجھے بتادیں‘‘۔چنانچہ ۵۷ لاکھ روپے میں متعلقہ ٹرسٹ نے ثنائی اسٹوڈیوکی یہ بلڈنگ خرید لی‘ اس کی بیش تر ادایگی عبدالعزیز مطوع اور عبداللہ علی المطوع نے کی۔ اس اسٹوڈیوکے بڑے ہال میں منصورہ ہسپتال،پروجیکشن ہال میں منصورہ آڈٹیوریم ،جب کہ لیبارٹری میں ادارہ معارف اسلامی کا دفتر اور ایک بڑی لائبریری قائم کی گئی۔
اس قیام کے دوران میں صدرحسنی مبارک سے بھی ہماری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا: ’’آپ اخوان کے قائد عمر تلمسانی سے ملیں اور ان کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ تصادم کے بجاے کوئی راستہ نکالیں اور اس طرح ایک دوسرے کو گرانے کی یہ صورت ختم ہو‘‘۔ چنانچہ میں نے اخوان کے تیسرے مرشدعام عمر تلمسانی سے ملاقاتیں کیں ، اور ان سے کہا :’’ بھائی‘ یہ جو صورت ہے‘ یہ نہ آپ کے لیے مفید ہے اور نہ ان کے لیے مفید ہے۔ کوئی ایساراستہ نکالنا چاہیے کہ وہ بھی کچھ ڈھیلے پڑیں اورآپ بھی کچھ اپنی سختی کو کم کریں، تا کہ دعوتی سرگرمیوں کے لیے بہتر صورت پیدا ہوسکے‘‘۔ اس مذاکراتی عمل کے نتیجے میں کوئی براہ راست ملاقات عمر تلمسانی اور حسنی مبارک کے درمیان تو نہیں ہوئی،تاہم ہمارے ذریعے غائبانہ طور پر اُن دونوں کی بات، ایک دوسرے تک پہنچی۔
اپنی ملاقات میں‘ مَیں نے صدر حسنی مبارک سے کہا:’’معاملات کو مثبت رخ دینے کے لیے آپ اخوان کو اخبار نکالنے کی اجازت دے دیں‘‘۔ حسنی مبارک اس پر راضی ہوگئے اور کہا :’’وہ اس پرچے میں زیادہ سختی نہ کریں، ہم بھی کوئی ایسی بات نہیں کریں گے۔وہ کوئی اخبار نکال کر کام شروع کردیں‘‘۔ چنانچہ اس طرح سے انھوں نے اخوان کو اخبار نکالنے کی اجازت دے دی۔ اسی سفر کے دوران میں عمر تلمسانی کے علاوہ مصطفی مشہور سے قاہرہ میں میری ملاقاتیں ہوئیں۔ عمر تلمسانی کے بعد حامد ابو النصر مرشدعام بنے تھے‘ وہ بھی ان ملاقاتوں میں موجود تھے۔
ان تمام مظالم کے باوجود اخوان کی قیادت اور اس کے کارکنوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ان سے وابستہ مردوں،عورتوں اور نوجوانوں نے ان تکلیفوں اور اذیتوں کا بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ زمین میں گاڑ کر ان بے گناہوں پر کتے تک چھوڑے گئے۔ حکمرانوں کے مظالم کبھی کسی تحریک اور فکرکو ختم نہیں کرسکتے۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اور ان سے پیش ترانبیا پر بھی ظلم ہوئے ہیں اور وہ جواب میں اتنے ہی زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔
یہاں بھی آپ دیکھیں‘ الحمدللہ زیادہ مضبوط تو جماعت اسلامی ہی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اور مسلمانوں کو یہ قوت اور ہمت عطا فرمائی ہے کہ یہ ایسی صورت حال کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس باقی تحریکیں چند دن کے لیے اٹھتی ہیں، زور دکھاتی ہیں اور اس کے بعد ختم ہوجاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اخوان جب سے شروع ہوئے مسلسل چل رہے ہیں۔ مولانا مودودی نے بھی جو تحریک شروع کی ہے الحمدللہ وہ بھی مسلسل آگے ہی بڑھ رہی ہے‘ پیچھے نہیں ہٹ رہی۔
یہ ۱۹۸۷ء کی بات ہے میں اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرتاتھا کہ اب میرے اندر کام کرنے کی زیادہ طاقت نہیں رہی، جماعت کے چند مخلص ساتھیوں نے مجھ سے کہا: ’’جس طرح مولانامودودی نے اپنی زندگی میں ہی ذمہ داریاں منتقل کردی تھیں، اس طرح کسی کو آگے لانے کی کوشش کریں‘‘۔ میں نے ارکان جماعت سے درخواست کی کہ دوبارہ مجھے منتخب نہ کیا جائے‘ ارکانِ جماعت نے قاضی صاحب کو امیرجماعت منتخب کرلیا جو میرے ساتھ سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔
m کیا شیطانی قوتیں اور ان کے آلہ کار کامیاب ہوجائیں گے ؟
حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ،فرزندِ رسولؐ ابراہیم کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، بچے کو منگوایا گیا، آپؐ نے بیٹے کی میت کو سینے سے لگایا۔ میں نے دیکھا کہ آں حضورؐ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں، اور آپؐ نے فرمایا: ’’آنکھیں روتی ہیں، دل غمگین ہے، لیکن ہم اس بات کے علاوہ کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالتے کہ جو ہمارے رب عز وجل کو راضی کرتی ہو، واللہ اے ابراہیم! ہم تمھارے فراق پر بہت غم زدہ ہیں:انا للّٰہ و انا الیہ رٰجعون
میرے لخت جگر حسن! مجھے آج تمھارے ساتھ بیتے دو واقعات یاد آرہے ہیں۔ ایک تب کہ جب تو ابھی چھے ماہ کا شیر خوار بچہ تھا۔ ایک رات جب میں بہت دیر سے گھر لوٹا تو دیکھا کہ تم اپنی والدہ کے پہلو میں گہری نیند سوئے ہوئے ہو۔ میں نے تمھیں دیکھا تو محبت کی ایک لہر میرے دل میں اتر گئی، لیکن اگلے ہی لمحے میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک لمبا سانپ کنڈلی مارے تمارے سر کے پاس بیٹھا ہے، اس نے اپنا پھن پورا پھیلایا ہوا ہے، اور اس کے اور تمھارے سرکے درمیان فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مجھے لگا میرا دل حلق میں آن اٹکا ہے۔ میں فوراً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا، اور اس کی بارگاہ میں استدعا کی کہ دل کو قرار آئے۔ بے اختیار میری زبان پر سانپ کے ڈنک اور اذیت سے محفوظ رہنے کی دعا جاری ہوگئی۔ دعا ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سانپ نے سرجھکایا اور چپکے سے اپنی راہ لی۔ میرے پیارے بیٹے، اللہ نے اپنے اذنِ خاص سے اور تمھارے لیے کیے ہوئے اپنے کسی اہم فیصلے کی خاطرتمھیںبچا لیا۔
میرے لخت جگر! آج مجھے دوسرا منظر وہ یاد آرہا ہے جب تیرا لاشہ میرے سپرد کیا گیا تھا۔ میں نے رات کی تاریکی میں خون میں نہائی تیری میت اٹھائی، تو تیرا جسم گولیوں سے چھلنی تھااور تیری روح پرواز کرچکی تھی۔ جنگل کا سانپ تو تجھے تکلیف پہنچانے سے ڈر گیا، لیکن صدافسوس کہ انسانی سانپ تیری لاش کو ڈستے رہے۔ اس المناک لمحے میں صرف اللہ وحدہ کی قدرت ہی نے ہماری ڈھارس بندھائی، وگرنہ ہم کبھی یہ صدمہ برداشت نہ کرپاتے۔
میری جان! میں نے تمھارے پیارے چہرے سے چادر ہٹائی تو مجھے نور کی کرنیں لپکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔تیرے چہرے پر شہادت کی آسودگی ہی آسودگی تھی۔ تب آنکھیں نم ہوگئیں، دل زخمی اور غمگین تھا، لیکن ہم نے اللہ کو راضی کرنے والے کلمے انا للّٰہ و انا الیہ رٰجعون کے علاوہ کچھ نہ کہا۔
پیارے بیٹے! پھر میں نے تمھیں غسل دیا، کفن پہنایا اور اکیلے نے تمھاری نماز جنازہ ادا کی ۔ پھر میں اس عالم میں تمھارا جنازہ لے کر نکلا کہ گویا میرے نصف جسم نے اپنے ہی نصف وجود کی میت اٹھائی ہوئی ہو۔ میں اس کے علاوہ مزید کچھ نہ کہہ سکا وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِِلَی اللّٰہِ ط اِِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِo (المومن ۴۰:۴۴) ’’اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے‘‘۔ بیٹے! مبارک ہو کہ تم تو اپنی وہ مراد پاگئے، جسے پانے کے لیے تم سجدوں میں دعائیں کیا کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جنت میں داخل ہو جانے والا کوئی انسان دنیا میں واپس جانا پسند نہیں کرے گا ،خواہ اسے اس کے بدلے پوری روے زمین کے خزانے مل رہے ہوں۔ لیکن شہید کو شہادت کے بدلے اتنی تکریم ملے گی کہ وہ خواہش کرے گا کہ اسے دس بار بھی دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو وہ چلا جائے اور بار بار شہادت سے سرفراز ہوکر آئے۔
میرے پروردگار،اپنے بندے حسن کی خوب تکریم فرما، اس کے درجات بلند فرما، جنت کو اس کا مستقراور ٹھکانا بنا۔ ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ فرما اور اس کے بعد کسی فتنے میں مبتلا نہ فرما۔ ہماری بھی بخشش فرما اور اس کی بھی بخشش فرما ۔ اس کی یہ آرزو پوری فرما کہ اسے تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت نصیب ہو: مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا o (النساء ۴: ۶۹) ’’وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاؑ اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں‘‘۔
ایھا الاخوان،رہے آپ سب احباب کہ جنھوں نے میرے بیٹے کو خوب پہچان کر اسے اپنا قائد چنا، تو آپ کے لیے اس کی یاد منانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسی راہ پر اپنا سفر جاری رکھو۔ اس کے نقوش پا کو مٹنے نہ دو۔ اسلام کے آداب و احکام کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اخوت کی رشتوں میں مضبوطی سے جڑے رہو اور اپنے اعمال اور اپنی نیتوں کو اللہ ہی کے لیے خالص رکھو۔
ایھا الاخوان ،میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ تم سب میرے شہید بیٹے کی سچی تصویر بن جاؤ ، لوگوں سے کسی اجر کی تمنا نہ کرو، اللہ تعالی کے علاوہ کسی کا خوف دل میں نہ بیٹھنے دو اور دل میں یہ خیال تک نہ آنے دو کہ تم نے کسی کو شر یا تکلیف پہنچانی ہے: وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ (حم السجدہ ۴۱:۳۳) ’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی، جس نے اللہ کی طرف بلایا‘‘۔
ترمذی میں حضرت ایوب بن موسیٰ نے اپنے والد اور دادا کے حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ:’’ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھی تربیت سے بہتر کوئی چیز نہیں عطا کی‘‘۔ شادی کے بعد میری بھی یہ آرزو اور تمنا تھی کہ اللہ تعالی مجھے صالح اولاد، عطا کرے، میں اس کی بہترین تربیت کروں اور ان کے ذریعے ایک ایسی بہترین نسل چھوڑ جاؤں جوسب کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے اور ابدی خیر و بقا کا ذریعہ ہو۔ پروردگار نے یہ دُعا قبول فرمائی۔ میری آرزو پوری ہوئی، مجھے پیارا سا بیٹا عطا ہوا اور میں نے اس کا نام حسن البنا رکھا۔
پروردگار کی رحمت بچپن ہی سے میری بیٹے پر سایہ فگن رہی۔باری تعالیٰ نے اسے ہرتکلیف و اذیت سے محفوظ رکھا۔ ہم ’محمودیہ‘ میں رہایش پذیر تھے کہ ہمارے گھر کی چھت گرگئی۔ حسن اپنے بھائی عبد الرحمن کی ساتھ اسی چھت کے نیچے کھیل رہا تھا۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جہاں یہ دونوں کھیل رہے تھے، وہاں سیڑھیاں تھیں۔ چھت کا ملبہ سیڑھیوں کی محراب پر آکر ٹک گیا۔ لیکن باہر کسی کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ میں نے ملبہ ہٹانا شروع کیا۔ تو دیکھا کہ الحمد للہ، حسن اور اس کا بھائی اللہ کے فضل سے بالکل صحیح سالم ہیں ۔
اسی طرح مجھے یاد ہے کہ ایک بار حسن کو خوفناک کتوں نے گھیر لیا۔ اس نے خوف زدہ ہوکر قریبی برساتی نالے ’الرشیدیہ‘ میں چھلانگ لگا دی۔ اس وقت نالے میں دریاے نیل کی طغیانی کے باعث پانی کا تیز دھارا تھا۔ حسن ڈبکیاں کھانے لگا، لیکن اچانک اذن الٰہی سے پانی کی ایک لہر نے اسے کنارے پر لا پھینکا۔ قریب سے گزرنے والی ایک دیہاتی خاتون نے اسے اٹھا لیا، اس طرح سراسر اللہ کے فضل و احسان سے اس کی جان بچ گئی۔
حسن بچپن ہی سے غیر معمولی دکھائی دیتا تھا۔ ابھی اس نے ہوش نہیں سنبھالا تھا کہ وہ کائنات کے بارے میں ہم سے سوالات پوچھا کرتا تھا:’’یہ چاند کیا ہے؟ اسے کس نے اتنا خوبصورت بنا یا ہے؟‘‘ میں نے اس کی غیر معمولی زِیرکی کے پیش نظر اسے قرآن کریم حفظ کروایا۔ سنت نبوی کی تعلیم دی اور اخلاق عالیہ کا خوگر بنایا۔ پھر جب میں نے اسے دمنہور کے مدرسہ المعلمین میں داخل کروایا تو وہ حیرت ناک طریقے سے سب پر سبقت لے گیا۔ وہ اپنے تمام تعلیمی مراحل میں سب بچوں سے آگے رہا۔ الحمد للہ اس کی پوری تربیت، ذوق عبادت،صالحیت اور زہد کے اعلیٰ معیار پر پوری اتری۔
جامعہ ازہر کے دار العلوم میں داخلے کے لیے پہلے چار سال کا ایک نصاب پڑھایا جاتا ہے۔اسے پڑھنے کے باوجود بہت سے لوگ داخلے کے انٹرویو میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ حسن نے اس چار سالہ تمہیدی پڑھائی کے بغیر ہی انٹرویو دیا اور کامیاب رہا۔ داخلے کے بعد وہ قاہرہ منتقل ہوا تو اتنے بڑے شہر میں اس کا نہ کوئی دوست تھا اور نہ کوئی عزیز۔ اس نے وہاں جاکر اپنا ابتدائی قیام جامعہ ازہر کی مسجد میں کیا۔ دار العلوم میں تعلیم مکمل ہوئی تو پہلی پوزیشن کا اعزاز پایا۔ وزارت معارف نے شان دار نتیجے پر اسے مزید تعلیم کے لیے یورپ بھیجنے کی پیش کش کی، لیکن اس نے انکار کردیا۔شاید اللہ تعالی نے اس کا انتخاب کسی کار جلیل کے لیے کیا ہوا تھا۔درایں اثناء اسماعیلیہ کے اسکول میں بطور مدرس اس کی تعیناتی ہوگئی، وہیں اس نے اپنی فکر کی آبیاری کی اور الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھی۔
پھر میرے بیٹے کے افکار کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دی۔ اس کی دعوت عالم اسلام کی چہار اطراف میں پھیل گئی۔ اس کے پیغام نے تمام اصحاب فکر و شعور کو متاثر کیا۔ اس کے مکتب فکر نے ازہر سمیت تمام کالجوں اور یونی ورسٹیوں کو ایک تنظیم کی لڑی میں پرودیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بیسویں صدی میں تجدید دین کی خدمت لی، اس کی فکر سے روشن چراغوں نے ہر جگہ، ہر گھر میں حق کا نور پھیلادیا، اللہ نے اس کے ذریعے اخوت کی شکستہ عمارت کو دوبارہ استوار کیا اور افراد و قبائل کو دوبارہ روحانی محبت سے سرشار کردیا: لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ اِنَّہٗ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ o (الانفال۸: ۶۳) ’’تم روے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے‘‘۔ (مجلۃ الدعوۃ ، ۱۳ فروری ۱۹۵۱ء۔ مشمولہ: حسن البنا الداعیۃ الامام و المجدد الشہید، انور الجندی، ص ۱۵-۱۷)
آپ کے ہر جملے اور ہرعمل میں ہمارے لیے درس تھا۔ آپ نے ہمیں نظم و نسق، جہد ِمسلسل، وقت کی پابندی اوراس کی قدر وقیمت اور اسلامی اخلاقیات کی تعلیم دی۔ ان کے یہ ناقابلِ فراموش الفاظ آج تک میرے ذہن میں تازہ ہے:’’میں آپ کو علم ، ثقافت اور اخلاق کے میدان میں صرف برتر اور ماہر ہی نہیں، بلکہ دوسروں سے ممتاز اور ممتاز تردیکھنا چاہتا ہوں ‘‘۔
آپ ہم میںسے کم و بیش ہر فرد کو پوری تفصیل کے ساتھ جانتے تھے۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ میرے بارے میں آپ کو یہ بات تک معلوم تھی کہ ہم دس بہن بھائی ہیں اور آپ کے علم میں یہ بھی تھا کہ میرے والد صاحب بڑے سخت مزاج ہیں، جو رات آٹھ بجے کے بعد اپنے بچوں کو گھر سے باہر رہنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتے۔ چنانچہ آٹھ بجنے سے پہلے ہی آپ مجھے بڑی شفقت سے متنبہ فرمایا کرتے تھے، تاکہ میرے والد صاحب مجھ پر ناراض نہ ہوں۔ آپ بڑے عمدہ اور صائب الرائے انسان تھے۔ چنانچہ آپ بخوبی جانتے تھے کہ ہم طلبہ کے لیے دوران طالب علمی کون سی چیزیں لازمی ہیں۔آپ ٹوٹ کر ہم سے پیار کرتے تھے۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں فزیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کا طالب علم تھا تو آپ نے مجھے بلایا اور مسافر طلبہ کے لیے ایک گھر کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری سونپی۔الحمدللہ آپ کی خواہش کے عین مطابق میں نے دو گھر کرائے پر حاصل کرکے اخوان کے مسافر طلبہ کے لیے قیام گاہ کا انتظام کیا۔ چنانچہ قاہرہ شہر میں یہ دارالاقامہ ہر لحاظ سے ایک مثالی تربیتی مرکز بن گیا، جس میں ہم، مقیم طلبہ کی تعلیم وتربیت اور ورزش وغیرہ کا باقاعدہ انتظام کیا کرتے تھے۔
اخوانی نوجوان رہایش کے لیے مناسب اور صاف ستھرا مکان پسند کیا کرتے تھے، تاکہ پڑھائی اور اسباق کی دہرائی میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔استاد حسن البناایک سیدھے سادے اور بے تکلف انسان تھے۔ آپ کا رعب اور ہیبت آپ سے دوری کا نہیں بلکہ آپ سے قرب و محبت کا باعث ہواکرتاتھا۔
جہاں تک خازن دار کے واقعے کا تعلق ہے، تو امام حسن البنانے اس قتل کی شدید مذمت کی تھی اور اس سے اخوان کی براء ت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اخوان کسی بھی قسم کے تشدد پر یقین نہیں رکھتے بلکہ تبدیلی اور انقلاب کے لیے مضبوط اور واضح موقف کے ساتھ وہ حکومتی اداروں میں بڑی حد تک صلح آمیز تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں۔
نقراشی نے اخوان کو تحلیل کرکے اخوان کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتارکرلیا ، اس وقت اگر اخوان مزاحمت کرنا چاہتے تو بھرپور مزاحمت کرسکتے تھے‘ لیکن روز اوّل سے ہی تشدد اور قتل اخوان کا طریق کار نہیں ہے ، اور نہ اخوان ، حکومت کے خلاف بغاوت یا تختہ الٹنے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے۔ بلکہ جب اخوان کو کالعدم قرار دیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ جہاد کے دوران حاصل کیا جانے والا اسلحہ ہمارے حوالے کردو تو بلاتأمل انھوںنے اپنااسلحہ حکومت کے سپرد کردیا۔ اس دوستانہ تعاون کے فوراً بعد حکومت نے مجاہدین کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا۔
l ۱۹۵۱ء میں جماعت نے دوبارہ منظم طریقے سے بلکہ پہلے سے کئی گنا بڑھ کر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ استاد حسن الہضیبی جماعت کے نئے مرشد عام منتخب ہوئے۔ اب مصربھرمیں اخوان کو ایک منظم قوت کے طور پر مانا جانے لگا اور مصر کے اطراف و اکناف میں اخوان کی شاخیں قائم ہوگئیں اور انھوں نے تربیتی ، علمی، ثقافتی،سیاسی ، سماجی غرض سارے میدانوں میں منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں بحال کردیں۔
انقلاب کی کامیابی میں پوری مصری قوم کی اس خواہش کو بنیادی اہمیت حاصل تھی، جو حکمران طبقے سے تنگ آکر کسی تبدیلی کی خواہش مند تھی۔ آغاز میں انقلابی قیادت اور اخوان کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ بعد میں فوج نے متفقہ پروگرام کی دفعات کو پس پشت ڈالنا شروع کردیا۔ چنانچہ اس وقت کے مرشدعام استاد حسن الہضیبی نے انقلابی کونسل کی توجہ ان چھے متفقہ نکات کی طرف مبذول کرائی، جس میں احترام آزادی ، دستور کی پاسداری ،اسلامی نظام کا نفاذ اور احترام آدمیت شامل تھے۔ لیکن انھوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی، بلکہ اسی مطالبہ کو اخوان کے ساتھ اختلافات کی بنیاد بنا کر ان کے خلاف سازشیں شروع کردیں اور بالآخر جنوری ۱۹۵۴ء کو وہ دن بھی آپہنچا جب ایک بار پھر اخوان کو کالعدم قرار دے دیاگیا۔ اخوان کے ہزاروں لوگوں کو مختلف جیلوں میں پابند سلاسل کر دیاگیا۔یہ حالت زیادہ دیر تک نہ رہی۔ جلد ہی انقلابی کونسل کی قیادت اختلافات کا شکار ہوگئی اورجنرل نجیب کو معزول کردیا گیا۔بعد ازاںشاہ سعود کی وساطت سے اخوان اور انقلابی کونسل کے درمیان کسی حد تک ایک مفاہمت ہوگئی اور مارچ ۱۹۵۴ء سے اخوان نے دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ لیکن چند دن گزر ے تھے کہ اسکندریہ کے قریب منشیہ نامی جگہ پر عبدالناصر پر قاتلانہ حملے کا ڈراما رچایا گیا اور اس کو اخوان کے سرتھوپاگیا۔ ایک بار پھر اخوان کے ہزاروں لوگ جیلوں میں بند کردیے گئے، ان پر فوجی اور سول عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے، جس کے نتیجے میں اخوان کی چھے عظیم شخصیات ،عبدالقادر عودہ ، محمد فرغلی ،ابراہیم طیب ، یوسف طلعت ، محمود عبداللطیف اور ہنداودی دویر کو تختہ دار پر لٹکا دیاگیا، انا للّٰہ و انا الیہ رٰجعون!
جب مصر کا سفر [۱۹۵۱ء] پیش آیا،تو مجھے اس کی شدید خواہش تھی کہ اخوان کی تحریک کا مطالعہ کروں ،اور اس کے متعلق براہ راست معلومات حاصل کروں ۔شیخ [حسن البنا شہیدؒ] کے پرانے رفیقوں،ان کے معتمد ین اور ان کے تربیت یافتہ نوجوانوں سے ملاقات کروں اور اس عظیم الشان دعوت کی کامیابی کے اسباب معلوم کروں ۔ ۱۹۴۹ء میں شیخ کی شہادت کا واقعہ پیش آچکا تھا،لیکن میری خوش قسمتی سے اس وقت شیخ کے تمام پرانے رفقا و شرکا اور ان کے تلامذہ و حلقۂ احباب کے خواص موجود تھے ۔میری عربی تصنیف ماذا خسر العالم بانحاط المسلمین جو میرے سفر مصر سے چند ہی مہینے قبل شائع ہوئی تھی، اخوان کے حلقے میں کثرت سے پڑھی گئی تھی اور اخوان نے اپنی روایتی فراخ دلی اور بے تعصبی سے اس کو اپنے مخصوص تبلیغی لٹریچر میں جگہ دی تھی ۔یہ کتاب میرا ذریعۂ تعارف تھی۔پھر ہندی مسلمان ہونا اور ایک معروف ادارے سے تعلق رکھنا اخوان کے لیے (جو عالم اسلام کی وحدت اور تعارف و تعاون کے سب سے بڑے داعی ہیں) کافی وجہ کشش تھی۔
جہاں تک شیخ کے متعلق تاریخی وشخصی معلومات کا تعلق تھا‘ اس کے لیے سب سے مستند اور قابلِ اعتماد ذریعہ ان کے والد محترم شیخ احمد عبد الرحمن البنا کی ذات تھی،جنھوں نے ازراہ شفقتِ بزرگانہ اپنے قابل فخر و ذریعۂ نجات فرزند کے متعلق تمام ضروری و جزوی معلومات فراہم کیں۔ ان کے علاوہ شیخ کے رفیق درس وشریک کار اور اخوان کے مربی استاد بہی الخولی نے بحیثیت ایک دوست، رفیق، مشاہد و معاصر کے اپنے مشاہدات معلومات اور تاثرات سنائے۔ ان دونوں بزرگوں کے علاوہ ان چند نوجوانوں سے بھی ملاقات ہوئی، جو شیخ کے معتمد خاص اور دست راست رہ چکے تھے۔ ان اصحاب سے شیخ کی زندگی اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے متعلق مستند معلومات حاصل ہوئیں اور ایسا محسوس ہوا کہ ان حضرات سے ملنے کے بعد شیخ کی زیارت سے کلی طور پر محرومی نہیں رہی۔
ان اصحاب سے جو کچھ سنا اور خود شیخ [حسن البنا]کے جو اثرات دیکھے، اس سے اس بات کا یقین پیدا ہوا کہ ان کی شخصیت تاریخ کی ان غیر معمولی شخصیتوں میں سے تھی جن کو اللہ تعالیٰ کسی تحریک و دعوت کو چلانے اور کسی عہد میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے پیدا فرماتا ہے اور اس کو قیاد ت کی وسیع اور متنوع صلاحیتیں عطافرماتا ہے۔وسیع وروشن دماغ، گرم و پُرمحبت ودردمند دل،فصیح و بلیغ زبان، تسخیرکر لینے والے اخلاق، دلآویز شخصیت، یہ ان کے عناصرترکیبی تھے۔میں جب اقبال کا یہ شعر پڑھتا ہوںتو بے ساختہ شیخ حسن البنا کی شخصیت آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے، اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے انھی کو دیکھ کر کہا ہے ؎
نگاہ بلند ،سخن دل نو از، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
بدقسمتی سے جس زمانے میں میرا قیام مصرمیں تھا، اخوان کی تحریک خلاف قانون تھی اور ان کے اجتماعات نہیں ہوسکتے تھے۔لیکن اس اعتماد کی بنا پر جو ان کے ذمہ داروں کو میری ذات پر پیدا ہوگیا تھا، مجھے ان کی مخصوص مجلسوںمیں شرکت کی عزت حاصل ہوئی۔مجھے ان کے حالات و خیالات سننے اور اپنے ناچیز خیالات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ایک مخصوص مجلس میں جس میں اخوان کی مجلس انتظامی(مکتب الارشاد) کے ارکان اوردل ودماغ شریک تھے،مجھے منضبط طور پر اپنے خیالات اور تجربات پیش کرنے کا موقع ملا۔اخوان نے ان کی جس درجہ پذیرائی کی اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ انھوں نے اس کو علیحدہ رسالے کی شکل میں شائع کیا اور جب تک اخوان کی تحریک دوبارہ خلافِ قانون قرار نہیں دی گئی، اس کے تین اڈیشن شائع ہوئے۔ اس رسالے کا نام ہے: ارید ان اتحدث الی الاخوان٭(اخوان سے دو دو باتیں)۔ مجھے کسی دینی و سیاسی جماعت کے متعلق اتنی فراخ دلی اور عالی ظرفی کا تجربہ نہیں ہوسکا۔
اسی زمانۂ قیام میںمجھے شیخ محمد الغزالی کی معیت میں (جو اخوانی لٹریچر کے سب سے بڑے مصنف ہیں) مصر کے قصبات اور دیہاتوں میں بارہا جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر جگہ اخوان کے دینی جوش و خروش ،مہمان نوازی اور اسلام دوستی، محبت و اخلاص اور بے تعصبی و وسیع النظری کے ایسے مناظر دیکھے، جو ساری عمر یاد رہیں گے، اور جن سے شیخ حسن البنا کی تربیت و تاثیر اور ان کی مردم گری، اور سیرت سازی کا اندازہ ہوا، اور معلوم ہوا کہ اس شعلۂ جوالہ نے کتنی ایمانی حرارت پیدا کردی ہے ۔اس تحریک کے مطالعے اور جو لوگ اس سے متعلق تھے، ان کو قریب سے دیکھنے کے بعد، میں خاص طور پر جن پہلوؤں سے متاثر ہوا وہ حسب ذیل ہیں:
۱- اس تحریک نے ایک ایسی قوم اور سوسائٹی میں جو مغربی تہذیب اور تمدنِ جدید کی خرابیوں سے پورے طور پر متاثر ہوچکی تھی اوراس سے پہلے ترکی سلطنت اور شخصی حکومت کے اثرات سے متاثر رہ کر ’طبقۂ متر فین‘ میں شامل ہوچکی تھی،ایسی قوت عمل ،جذبۂ سرفروشی،سادگی و جفاکشی پیدا کردی، جس کی نظیر اس زمانے میں ملنی مشکل ہے اور خود اس کے ایک رہنما اور قائد (شیخ بہی الخولی) کے الفاظ میں ایک نرم و نازک قوم الشعب الرخو الرقیقمیں اس نے ایک نئی زندگی پیدا کردی، اور گویا اقبال کے اس تخیل اورتمنا کو پورا کیا ع کبوتر کے تن نازک میںشاہیں کا جگر پیدا
ان کی اس قوت عمل ،جذبۂ سرفروشی اور عقابی شان دیکھنے کے لیے استاد کامل الشریف کی کتاب الاخوان المسلمون فی حرب فلسطین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
۲- دوسری چیز جس نے مجھے متاثر کیا وہ اخوان کی محبت و گرم جوشی اور ان کے آپس کے تعلقات ہیں۔ اتنا مستحکم رشتہ ء اخلاق و مودت اور احساس اخوت ورفاقت میں نے کم دعوتوں اور جماعتوں میں دیکھا ہے۔ اخوان کی تحریک نے ایک ایسی عالم گیربرادری پیدا کردی ،جس کا ہر فرد دوسرے فرد کو اپناحقیقی بھائی سمجھتا ہے اور بغیر کسی جماعتی عصبیت وحمیت جاہلیہ کے، اس کی مدداور حمایت کے لیے تیار رہتا ہے۔ کسی مصری اخبار نے ایک مرتبہ طنز کے طور پر لکھاتھا (اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ انتہائی اعتراف ہے) کہ اگر شیخ حسن البنا کو اسکندریہ میں چھینک آجائے تو اسوان (مصر کی جنوبی سرحد) میں یرحمک اللّٰہ کی صدائیںبلندہوں۔ نہ صرف اپنے مرشدعام بلکہ ہر رفیق جماعت کے لیے ان کا یہی جذبہ اورطرزعمل ہے۔ وہ عام طور پر ایک دوسرے سے تعارف انھی الفاظ میں کراتے ہیں: اخوک فی اللّٰہ فلان۔ ان کے طرز عمل اور سلوک سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس اخوت فی اللّٰہ پر عقیدہ رکھتے ہیںاور اس پر عمل کی کوشش کرتے ہیں۔
۳- تیسرا پہلو جس نے مجھے بہت متاثر کیا یہ ہے کہ اس تحریک کا زندگی سے قریبی تعلق ہے۔ وہ زندگی سے بچ کر نہیں نکلتی بلکہ اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے،عوام سے اور عملی زندگی سے اس کا تعلق ہے۔ اس نے عوام کی زندگی میںدخل دیاہے،اس کی خرابیوںکی اصلاح کی ہے اورقدم قدم پراس کی اصلاح کی کوشش کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی کامیابی، مقبولیت اور تاثیر میں اس کو بڑا دخل ہے ۔
۴- اس کا چوتھاروشن پہلو یہ ہے کہ اس نے دینی و علمی اختلافات سے بچ کر اپنا کام کیا ۔یہ چیز اس کے کمزور پہلوؤں میں بھی شمار کی جاسکتی ہے، مگر عالم اسلام کے موجودہ دینی و اخلاقی زوال، الحادوزندقہ کے حملے اور مسلمانوں کے ذہنی انتشار کو پیش نظر رکھاجائے تو یہ ایک اسلامی دعوت کے لیے خوش قسمتی سمجھی جائے گی کہ وہ اپنا وقت اور قوت خالص اصلاحی و تعمیری کام اور اساسی دعوت کے فروغ میں لگائے۔
۵- اخوان کی تحریک کا سب سے کامیاب اور روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے مصر (اور اس کی پیروی میںممالک عربیہ)کے بڑھتے ہوئے الحاد و لادینیت کے دھارے کو روکااور دین کے استخفاف و بے وقعتی اور ذہنی ارتدادوبغاوت کا جو رجحان روز افزوں تھااس پر اثر انداز ہوئی ۔جو لوگ مصر کی صحافت وادب سے واقف ہیں،وہ خوب جانتے ہیںکہ اس ملک میں دین کے خلاف ایک منظم سازش اور کوشش تھی۔ مصر کے ادیبوں اور صحافیوں ،مصنفین اور باحثین، سب نے دین کے خلاف ایک محاذ بنا رکھاتھااور انقلاب فرانس کے علم برداروں کی طرح وہ پوری مصری اسلامی سوسائٹی کو اپنے ’ترقی پسند‘ادب، اپنے’شک آفریں خیالات وتحقیقات‘اپنے طنز و تمسخر سے ڈائنامیٹ کررہے تھے اور یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا (الانعام ۶:۱۱۲) کے مصداق تھے۔ اس متحدہ محاذ کے خلاف کسی دینی جماعت ،حتیٰ کہ ازہر تک میںآواز بلند کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہ تھی۔ اخوان کے مخالفین کو بھی اعتراف ہے کہ اخوان کی تحریک نے اس مورچے کو کمزور اور خوف زدہ کردیا۔ الحاد کی علانیہ دعوت دینے اور دین کے استخفاف کی جرأت بڑے بڑے زعماے ادب کو نہ رہی ،اخوان نے غیور نوجوانوں اور صاحب حمیت مسلمانوں کا ایک ایسا لشکر پیدا کر دیا کہ ملحدین کو اپنے ملحدانہ خیالات اور تصنیفات کی اشاعت ،اور اخبارات و رسائل کو دین و اسلامی تہذیب کے ساتھ تمسخر واستہزا کی جسارت باقی نہ رہی۔ پھر اس کے ساتھ اس نے اسلام پسند ادیبوں،ناقدین اور اہل قلم اور ماہرین فن کی ایسی جماعت پیدا کی جو علمی و فنی طور پر، ان ملاحدہ کا مقابلہ کرسکیںاور اسلامی ادب کو پیش کریں۔
اخوان کا یہ کارنامہ اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ کوئی شخص جس کے دل میں نور ایمان ہے اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔راقم کے سامنے چونکہ ان ممالک کی سابقہ زندگی ،اور موجودہ دینی و فکری انقلاب ہے اور اس کو اپنے طویل قیام کی بنا پر اس کا مشاہدہ و تجربہ ہو چکا ہے کہ اخوان نے جدید نسل کے دل و دماغ کو کس طرح متاثر کیاہے اور دین و شعائر دین کے اظہار واعلان کی کیسی جرأت پیدا کردی ہے، اور جو لوگ دینی عقائد و حقائق کے اظہار میں شرمندگی اورحقارت محسوس کرتے تھے اب کس طرح علانیہ منظر عام پر دینی فرائض و شعائر کو ادا کرتے ہیں، اور احساس کہتری کے بجاے برتری کااحساس رکھتے ہیں۔ ان ذاتی مشاہدات وتجربات کا نتیجہ تھاکہ ہندوستان میں میری زبان سے ایک تقریر میں اخوان کے متعلق بے ساختہ یہ لفظ نکل گئے کہ: لایحبھم الا مؤمن ولا یبغضھم الا منافق (اخوان سے اسی کو محبت ہوگی جس کے دل میں ایمان ہے،اور اسی کو نفرت ہوگی جس کے دل میں نفاق ہے)۔
تاریخ اسلام میں جن جرائم اور سفاکیوں نے ملت اسلامیہ کو عظیم ترین نقصان پہنچایا ،اور تاریخ کا دھارا بدل دیا، ان میں ایک شیخ حسن البنا کا مجرمانہ قتل ہے، جس نے کم سے کم مشرق وسطیٰ کو ایک مفید ترین شخصیت سے محروم اور صالح دینی انقلاب سے عرصے تک کے لیے بہت دور کردیا۔
اگر اخوان کچھ عرصہ اور عملی سیاست میں حصہ نہ لیتے اور اپنا اصلاحی و دعوتی کام پوری قوت سے جاری رکھتے تو ممالک عربیہ میں ایک اسلامی انقلاب برپا ہوجاتااور ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی۔ (کاروانِ زندگی ، جلد اوّل، ص ۳۷۶-۳۸۲)
بعض اتفاقیہ و اقعات یوں لگتے ہیں کہ جیسے وہ ایک محکم تدبیر کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے ہوں، جیسے وہ کتابِ مسطور اور صفحاتِ تقدیر پر ازل سے ثبت ہوں ___حسن ’البنا‘ اتفاق ہی ہے۔ ان کا لقب ’البنا‘ یعنی معمار تھا لیکن کون کہتاہے کہ یہ ایک اتفاق ہے۔ اس انسان کے حوالے سے یہ لقب ایک عظیم حقیقت ہے۔ تعمیر بلکہ شان دار اور عدیم المثال تعمیر اس شخصیت کا اصل عنوان ہے۔
تاریخ اسلام نے لا تعداد داعی دیکھے ہیں لیکن دعوت وتشہیر ایک چیز ہے اور تعمیر بالکل دوسری۔ ہر داعی معمار نہیں ہوسکتا اور ہر معمار بھی یہ عبقریت اور عظمت نہیں پا سکتا۔ یہ عظیم الشان عمارت جسے ’اخوان المسلمون ‘ کہتے ہیں اسی تعمیر و عبقریت کا ایک مظہر ہے۔ یہ لوگ محض کوئی ایساگروہ نہیں ہیں ، کہ خطیب نے ان کے جذبات کو گرمادیا ہو، ان کے احساسات بیدار کردیے ہوں اور وہ کسی سطحی سوچ کے تحت کسی عارضی ہدف کے گرد جمع ہوگئے ہوں۔ اخوان وہ عمارت ہیں کہ تعمیر کی خوبی و استحکام اس کے ایک ایک زاویے سے اجاگر ہوتی ہے۔ اسرہ جات ، شعبہ جات ،علاقہ جات، تنظیمی مراکز ، تاسیسی مجلس اور مکتب ارشاد، ہر خشت اپنی مثال آپ ہے۔
یہ تو ہوئی اس کی ظاہری شکل و صورت لیکن معمارکی اصل عبقریت صرف ظاہری شکل سے نہیں،جماعت کے داخلی نظام اور فکرکی ہمہ گیریت سے اجاگر ہوتی ہے۔ پورا نظامِ کامل نہایت باریک بینی اور محکم انداز سے تشکیل دیا گیا ہے۔ تنظیم وترقی کا اصل شکوہ اس کی روحانی تعمیر سے واضح ہوتا ہے ، جس میں اسرہ جات ، کتیبوں اور شعبہ جات کے افراد باہم جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا اکٹھا مطالعہ کرنا ، مشترکہ نماز وعبادات ، مشترکہ احساسات ، مشترکہ ہدایات ، مشترکہ سفر ، مشترکہ تربیت گاہیں اور پھر بالآخر مشترکہ اطاعت اوریکساں سوچ، اس سب کچھ نے دین کی خاطر برپا اس جماعت کو، دلوں میں پرورش پانے والے ایسے عقیدے اور ایمان کی صورت دے دی ہے، جو احکام و تعلیمات اور تنظیمی ضوابط سے پہلے ہی نفوس کو متحرک کردیتا ہے۔
حسن البنا کی عبقریت اپنے ساتھیوں کی انفرادی اور اجتماعی توانائیوں کو بہتر طور پر استعمال کرنے سے ظاہر ہوتی تھی۔ انھیں ایسی مسلسل و مفید سرگرمیوں میں کھپادینے میں تھی کہ جن کے بعد وہ اوقات کو فارغ جان کر اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں نہ مارتے پھریں۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ صرف لوگوں کے دینی احساسات و جذبات ابھار دینا کافی نہیں ہوتا۔ اگر ایک داعی اپنی ساری سرگرمی اسی ایک نکتے پر مرتکز کردے، تو وہ نوجوانوں کو مخصوص دینی ہوس کا شکار تو کردیتا ہے، لیکن کسی تعمیری سرگرمی میں نہیں کھپاتا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عقیدے کی علمی تاویلات کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا۔ اگر داعی صرف انھی میںکھو جائے تو وہ بالآخر تمام روحانی سرچشموں کو خشک کردینے کا ذریعہ بنتاہے۔ وہ اس روحانیت سے محروم رہتا ہے ، جو علمی مطالعے کو حرارت وگداز اور زرخیزی عطا کرتی ہے۔ اسی طرح وہ اس حقیقت سے بھی آشنا تھے کہ صرف وجدان کو اپیل کرنا اور مطالعے کا اہتمام کرنا بھی توانائیوں کا پورا استعمال نہیں ہے۔ عمل کی طاقت، جسمانی توانائی، اکتساب و عطا ، قتال و انفاق___ غرض کتنے پہلو ہیں جو اُدھورے اور تشنہ ٔ تکمیل رہیں گے۔
انھوں نے ان تمام پہلوئوں پر سوچ بچار کی ،یا یوں کہیے کہ انھیں ان تمام پہلوئوں کے احاطے کی توفیق نصیب ہوئی۔ انھوں نے جماعتی دائرے میں شامل ہونے والے ہر مسلمان بھائی کو ان تمام میدانوں میں متحرک کردیا۔ یہ سب جماعتی نظام کی برکات تھیں۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کی تمام فطری توانائیوں کو تعمیر وعمل میں کھپا دیا۔ کتیبہ جات ، تربیت گاہیں ، اخوانی تنظیمیں اور کمپنیاں، داعیوں کا نظام ، جہاد اور شہادتی کارروائیوں کے لیے افراد کی تیاری (تاکہ وہ جہاد فلسطین میں عملاً شریک ہوسکیں )۔ غرض ہر پہلو اس نظام کے عظیم و بے مثال ہونے کا عملی ثبوت تھا۔
حسن البنا کی عبقریت کا ایک اور پہلو مختلف النوع شخصیات و نفوس کو اکٹھا کرلینے میں نمایاںہوتا ہے۔ یہ قدسی نفوس مختلف علاقوں سے آئے تھے۔ مختلف معاشرتی پس منظر رکھتے تھے ، مختلف ذہنی استعداد کے مالک تھے، لیکن سب ایک ہی متناسب لڑی میں پروئے ہوئے تھے۔ یوں جیسے مختلف نغماتی صدائوں سے ایک خوب صورت دھن ترتیب پا جائے ،سب کی ایک ہی پہچان ، سب کا ایک ہی رجحان۔ چوتھائی صدی کے اندر اندر یہ سب مختلف الخیال ،مختلف الاعمارافراد ایک اکائی کی حیثیت اختیار کرگئے۔
اس پورے تناظر میں جائزہ لیں کہ ’البنا‘یعنی معمار کا لقب ایک اتفاقی امر تھا یا یہ کہ یہ سب اس بلند و اعلیٰ امر الٰہی کا پر تو تھا ، جس کی کتابِ مسطور میں،سب کچھ ایک لا متناہی جمال و ترتیب سے لکھا ہوا ہے، خواہ وہ ادنیٰ سے ادنیٰ اتفاقی امر ہو یا تقدیر کے اعلیٰ ترین مراتب۔
یہ جدوجہداپنے عروج پہ تھی کہ حسن البنا اپنے رب کے حضور پیش ہوجاتے ہیں۔ رب کے حضور حاضری سے انھوں نے اپنی عمارت کی بنیادیں مزیدمستحکم و محفوظ کردیں۔ اللہ نے ان کی شہادت اس طور چاہی کہ عظیم ارادۂ الٰہی کی تکمیل ہوجائے۔ ان کی شہادت تعمیر ہی کا ایک مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔ اس سے عمارت کی بنیادیں مزیدگہری ہوگئیں ، در و دیوار مزید مضبوط ہوئے۔ شہید کے ہزاروں خطاب اور ہزاروں کتابیں بھی اخوان کے دلوں میں تحریک ودعوت کے وہ الائو روشن نہیں کرسکتے تھے جوان کے پاکیزہ خون سے منور ہونے والے چراغوں نے دہکا دیے تھے۔ ان کی بات سچ ثابت ہوئی کہ ہماری باتیں موم سے بنے مجسمے ہیں، یہاں تک کہ جب ہم ان کی خاطر اپنی جان سے گزر جاتے ہیں تو ان میں روح دوڑنے لگتی ہے اور ان کے لیے حیات جاودانی لکھ دی جاتی ہے۔
جب بونے ڈکٹیٹر حکمرانوں نے اخوان کو آہن و آتش سے کچلنا چاہا، تب تک وقت بیت چکاتھا۔ تب حسن البنا کے ہاتھوں اٹھائی گئی بنیادیں منہدم کرنا، کسی کے لیے ممکن نہ رہاتھا۔ اخوان کے شجر طیب کی جڑیں اکھاڑنا کسی کے بس میں نہ رہا تھا۔ اخوان ایک ایسے نظریے اور فکر کی حیثیت اختیار کرچکے تھے، جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ جبراور آہن و آتش کی یلغار، کبھی افکار و نظریات کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔حسن البنا کی عبقریت سربلند رہی۔ بونے جابر مٹ گئے، اخوان کو دوام نصیب ہوا۔اگرچہ کئی بار ایسا ضرور ہوا، کہ بعض کمزور نفوس و سوسوں کا شکار ہوگئے ،لیکن یہ نفوس خود کوبیمار رکھنے پر مصر تھے لہٰذا ناکام ہوئے۔ وہ یا توسرسبز شجر عظیم سے ،خشک پتوں کی طرح جھڑ گئے، یا بالآخر ان کی بیمار سوچ خود ہی سمٹ کر رہ گئی اور منظم و متحرک صفوں میں کوئی خلل نہ آسکا۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ دشمنان اخوان نے شجر عظیم کی کسی ایک شاخ کو یہ گمان کرتے ہوئے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہی شاخ اصل شجر ہے، اگر اسے کاٹنے یا اکھاڑنے میں کامیاب ہوگئے تو پورا درخت کٹ جائے گایا اکھڑ جائے گا۔ لیکن جب شاخ پر دبائو عروج پر پہنچا تو وہ کسی ایسی خشک لکڑی کی طرح دشمنوں کے ہاتھ آگئی، جس کے ساتھ نہ کوئی پتا تھا نہ اس میں کوئی تازگی تھی، نہ ثمر اور نہ رونق حیات___ یہی ’معمار‘کی عبقریت تھی جو اس کے اٹھ جانے کے بعد بھی فیض دے رہی تھی۔
آج بھی اخوان کو وہ تمام آزمایشیں گھیرے ہوئے ہیں جو ماضی میں گھیرے ہوئے تھیں۔ لیکن آج وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ، پہلے سے زیادہ مستحکم اور پہلے سے زیادہ منظم ہیں۔ آج وہ دلوں میں راسخ ایک نظریہ بھی ہیں، تاریخ کا ایک سنہرا باب بھی،روشن مستقبل کے امین بھی ہیں اور ایک طرزِزندگی بھی، اور اس سب کچھ سے زیادہ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہیں کہ جسے کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ وہ شہدا کا خون ہیں کہ جسے کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔
جو بھی اس عمارت کے بارے میں بری نیت رکھتاہے ، وہ یاد رکھے کہ اس سے پہلے ان کے پیش رو شاہ فاروق کی سرکشی جسے برطانیہ وامریکاکی ہلہ شیری بھی حاصل تھی، طغیانی اس عمارت کا ایک پتھر بھی اپنی جگہ سے نہیں اکھاڑ سکی۔ اس میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکی۔ مستقبل بھی اسی عقیدے و نظریے کا ہوگا جس پر اخوان کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ نصرت اسی معاشرتی نظام کی حلیف ہوگی جو اس راسخ عقیدے سے پھوٹتا ہے۔ آج ہر مسلم سرزمین سے اسی ایک پرچمِ بلند تلے جمع ہونے کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، جسے کبھی استعمار نے چاک چاک کردیاتھا۔ استعمار چاہتاتھا کہ اس طرح وطن اسلامی کے ٹکڑے ٹکڑے کردے ۔آج اس مجروح جسم کے تمام زخم مندمل ہونے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ اب اس جسم کو ایک زندہ و بیدار و توانا وجود نصیب ہونا ہے اور پھر قباے استعمار کو تار تار کرنا ہے۔
وجود و ہستی کا فطری تقاضا ہے کہ اس سلیم فطرت اورعظیم عقیدے کو نصرت نصیب ہو ، تقسیم و انتشار کا دور گزر چکا۔ اگر اسلامی تحریک اس تاریک دور میں فنا کے گھاٹ نہیں اتاری جاسکی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آج بیداری ، انتفاضے اور احیاے اسلام کے دور میں اسے فنا کیاجاسکے۔ آج اسلامی فکراور اخوان المسلمون کا وجود یک جان دوقالب کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ جس طرح تاریخ ان دونوں کو جدانہیں کرسکتی، اسی طرح آج یا آنے والے کل میں بھی کوئی ان دونوں کو الگ نہیں کرسکتا۔
ماضی میں استعمار نے امت پر ایسے خواب آورنسخے آزمائے جنھیں دین سے منسوب کیاگیاتھا۔ اس ضمن میں اس نے کبھی تو اہل تصوف کو استعمال کیا اور کبھی جامعہ الازہر کو۔ لیکن آج یہ سب کچھ ممکن نہیں رہا۔ اخوان کی مضبوط عمارت فکر اسلامی کی بھرپور نمایندگی کرتی ہے ___آج کسی اور ادارے یا فرد کے ذریعے اسلامی سوچ کو دھندلایا نہیں جاسکتا۔ آج ازہر بھی طویل اسیری کے بعد استعماری گرفت سے آزاد ہو رہا ہے اور اس کے طلبہ و اساتذہ بھی بڑی تعداد میں اخوان میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک فطر ی عمل ہے اسے یوں ہی ہونا تھا:
کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ o (المجادلہ ۵۸:۲۱)
اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا کہ یقینا میں اور میرے رسول ؐ ہی غالب رہیں گے ، بے شک اللہ قوی و غالب ہے۔
۱۲فروری ۱۹۴۹ء کو حسن البنا خون میں لت پت اپنے رب کریم سے جا ملے۔ آپ نے اقامت دین کے راستے میں حائل بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
آپ نے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی صحیح تصویر جاگزیں کرنے ، ان کے دلوں میں اسے راسخ کرنے، عملی زندگی میںانھیں اسلام کے تابع فرمان بنانے، اور اسلام کی بالادستی قائم کرنے کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
حسن البنا نے جن بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے شہادت کا مرتبہ پایا ، ان میں سے سرفہرست عصر حاضر کے وہ بت ہیںکہ جنھیں لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ اور وہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے دولت و اقتدار کے کروفر رسوم و رواج کے چنگل یا مذہبی فریب کاری سے متاثر ان بتوں کے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں۔ یہی بت ہیں جن کی جانب ہر سمت سے لوگ بھاگے آتے ہیں ،اور ہر جگہ انھی بتوں کے گرد لوگ دیوانہ وار چکر کاٹتے ہیں۔ ان کی خواہش یہی ہے کہ کسی طرح ان سے جا ملیں یا ان کا قرب حاصل کرلیں۔ ایسے کم ظرف لوگ اپنے ازلی و ابدی رب کی نافرمانی کرتے ہیں اور وقتی‘ عارضی اور بودے جھوٹے خدائوں کی رضا جوئی چاہتے ہیں۔
عصر حاضر کے یہ بت ،قدیم زمانے کے پتھرا ور لکڑی وغیرہ کے بت نہیں ہیں، جن کی آغوش میں انسان پناہ لیتے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور اس کی قربت حاصل کرنے کے لیے انھیں پوجتے تھے۔ یہ مجسم چلتے پھرتے انسانی بت ہیں، جن میں مریض روحیں سرایت کرچکی ہیں، جنھیں خواہشات نے غلام بنا رکھا ہے اور جنسی اور مالی ہوس ناکی نے انھیں توڑپھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایسی روحیں جن پر بد ترین افکار اور حقیر خواہشات غالب ہیں۔ ایسی روحیں جو مال و جاہ پر فریفتہ ہیں اور خدا کے عطا کردہ جاہ و جلال سے بے پروا ہیں۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو فراموش کرچکے ہیں اور جنھوں نے اس کے نازل کردہ احکامات کا انکارکر رکھا ہے،یہ خود بھی بدبخت ہیں اور انھوں نے دوسروں کو بھی بد بخت بنارکھاہے۔ وہ نہ صرف خود گمراہی و ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ، اپنے پیروکاروں کو بھی لے ڈوبے ہیں۔
حسن البنا نے نہ تو کوئی جنگ چھیڑی تھی اور نہ وہ بغاوت کے مرتکب ہوئے تھے۔ وہ ایک نہتے انسان تھے۔ ان کے پاس حق کا ہتھیار ضرورتھا، لیکن یہ ان کی سرشت میں نہ تھا کہ وہ لوگوں پر چڑھ دوڑیں، وہ حکیمانہ اور بھلے انداز سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے ، اور لوگوں کو ایسے بھلائی کے کاموں کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں سراسر ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی اور ان کے لیے خوش بختی کا سامان ہو۔
حسن البنا نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اسلام طاقت و قوت اور عزت و شوکت کا نام ہے، جب کہ لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اسلام کمزوری ، غلامی اور خودسپردگی کا نام ہے۔ انھوں نے لوگوںپر واضح کر دیا کہ اسلام ،انصاف ، پاکیزگی ، آزادی ، مساوات اور برابری کا دین ہے۔ جس وقت مسلمان مظالم ، تکالیف اور ایذا رسانی کے سبب کراہ رہے تھے اور گناہوں میں ڈوب چکے تھے ، ان کی آزادی سلب اور حکومت ختم ہوچکی تھی اور انھوں نے آپس ہی میں ایک دوسرے پر چڑھائی کررکھی تھی۔ ان کے طاقت وروں نے کمزوروں کو ذلیل و رسوا کرکے چھوڑاتھا اور ان کے حاکموں نے رعایا کو دبا رکھاتھا....... امام حسن البنا نے مسلمانوں کو سمجھایا کہ اسلام ہی ان کے درمیان وحدت اور ان کے ممالک کے لیے اتحاد کا سبب ہے، اسلام ہی مومنوں کے درمیان بھائی چارے کا باعث اور مسلمانوں کے درمیان باہمی تعاون و یک جہتی کا وسیلہ ہے۔اسلام نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرنے، اور یک جا ہو کر خیر کے پھیلانے اور شر و فساد کو ختم کرنے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ حسن البنا ایک طویل جدوجہد اور اَن تھک محنت کے بعد کامیاب ہوں۔ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے ، ان کی دعوت کو قبول کیا اور ان کی یہ دعوت اطراف و اکناف میں پھیل گئی۔ مختلف علاقوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والے مردوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ گویا وہ نئے جو ش و ولولے سے دائرۂ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور قرآن کے جھنڈے تلے صف آرا ہوگئے ہیں۔ وہ سب یک زبان تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کی غرض و غایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کے لیڈر اور رہنما ہیں، قرآن کریم ہی ان کا دستورِ حیات ہے، جہاد ان کا راستہ ہے اور اللہ کی راہ میں موت ان کی منتہاے آرزو ہے۔
جب یہ دعوت مسلم دنیا میں پھیلی اور اس کی روشنیاں ہرسُو جگ مگانے لگیں تو ظالموں کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ ان کے مظالم کی طویل رات کے زوال کا وقت آگیا ہے۔ سامراجی قوتوں نے محسوس کیا کہ ان کے شکار ان کے ہاتھ سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ظلمتوں کے پجاری چمگادڑوں نے جان لیا کہ اسلام کی روشنی میں ان کے لیے زندہ رہنا دشوار ہوگا، تو انھوں نے اپنے تئیں سمجھا کہ اس دعوت کے داعی کے قتل کے ساتھ ہی اس دعوت کابھی خاتمہ ہوجائے گا۔اسی لیے انھوں نے دھوکے اوربہانے سے امام حسن البنا کو قتل کردیا۔ آپ رحمہ اللہ توخوشی خوشی اپنے رب کریم سے جاملے، تاکہ اس کے ہاں انبیا و صدیقین کے ساتھ جگہ پالیں۔ جہاں تک تعلق ہے انھیں دھوکے سے شہید کرنے والوں کا تو انھوں نے یہ مکروہ اور قبیح حرکت کرکے اللہ تعالیٰ کا غضب مول لیا اور اس کی لعنت اور دنیا و آخرت کی رسوائی حاصل کی۔
حسن البنا، شہید اسلام ہیں، جنھوں نے اذہان میں اسلام کی تجدید کی، قلوب میں اسے زندہ کیا، مسلمانوں کے مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونکی، انھیں خواب غفلت سے بیدار کیا اور انھیں اپنی آزادی اور ناموس دین و ملت کی حفاظت کے لیے ابھارا۔
امام حسن البنا کوجن ظالموں نے قتل کیا وہ سراسر خسارے میں رہے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی ذات کو ختم کرکے شاید انھوں نے ان کی دعوت کو بھی ختم کردیا، حالانکہ وہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ وہ کوئی چند اشخاص کی دعوت نہیں ہے بلکہ اللہ کی پکار ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سمجھادیاہے کہ دعوت کا تعلق اس ذات وحدہٗ لاشریک سے ہے ، دعوت دینے والوں کی ذات سے نہیں ہے۔ اشخاص کا اس سلسلے میں بس اتنا ہی حصہ ہے کہ جس کسی نے اس دعوت کے لیے کوشش کی اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کے سبب اسے عزت دی، اور جس نے اس دعوت کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھلائی سے دور کردیا،پھر وہ کسی حال میں دعوت کی اس نعمت تک نہیں پہنچتا۔ یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ان کی دعوت کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا ، تو پھر حسن البنا کے دنیا سے چلے جانے سے اس دعوت کو کیسے نقصان ٖپہنچ سکتا ہے۔ لیکن ظالموں کو اس کی سمجھ کیوںکر آئے گی۔
میں جس چیز کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اصل میں دعوت اسلام ، کسی شخص کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دعوت ہے۔ گویا بھلائی ، سعادت مندی اور انسانی اصلاح کے لیے تو یہ ایک روشنی ہے۔ ایسی روشنی جسے اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف اتارا ہے، تاکہ جہالت اور ظلم کے اندھیروں کو پاش پاش کردے اور کرۂ ارضی کو ظلم و فساد سے پاک کردے۔ دوسری طرف زمین میں پھیلے طاغوت اور اس کے آلہ کار ہر جگہ ، ہر زمانے میں اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ وہ اس دعوت کو نیچا دکھائیں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی پھیلائی ہوئی روشنی کو بجھا دیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بہرصورت روشنی کو مکمل کرکے رہے گا ، اور اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گا۔ چاہے ظالم طاغوت ،اوراستعماری سامراج ہرگز نہ چاہیں اور چاہے وہ سب مل کر ایک د وسرے کی پشت پناہی کرتے رہیں: ’’اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک رسول ہیں ، ان سے پہلے بھی رسول گزرچکے ہیںتو کیا وہ اگر انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پائوں پھر جائو گے، اور جو الٹے پائوں پھرے گا اللہ کا کچھ نہیں بگاڑسکتا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو صلہ دے گا‘‘۔ (اٰل عمرٰن ۳:۱۴۴)
بے شک اخوان المسلمون کے محترم اور محبوب قائد حسن البنا کو قتل کردیا گیا، ان کے ساتھیوں میں سے بھی کئی قتل ہوئے،بہت سے ستائے گئے، آزمائے گئے اور انھیں ان کے گھروالوں کو مال اور مستقبل کے حوالے سے آزمایش میں ڈالا گیا، لیکن یہ سب کچھ انھیں اللہ تعالیٰ کی دعوت سے نہ پھیر سکا بلکہ ان کے ایمان اور ثابت قدمی میں اضافے کا سبب ہوا۔
الحمدللہ ،وہ تمام آزمایشوں سے زیادہ سخت جان، زیادہ پختہ ارادے والے اور برائی کی قوتوں کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کرنے والے بن کرصراط مستقیم پر گام زن ہوئے۔ وہ اپنے شہید راہ نما کے طریقے پر چلتے رہے ، جو اپنے قائد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور اللہ جل شانہ کی کتاب کو تھام کر چلنے کے لیے کوشاں رہے۔ ہرلمحہ اللہ تعالیٰ سے دعاگو رہے کہ وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملاقات کریںکہ جس میں ملنا مطلوب ہے۔
ایمان والوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں ، جنھوں نے سچ کردکھایا وہ وعدہ جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیاتھا ، پس ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنھوں نے اپنی نذر پوری کردی اور کچھ منتظر ہیں اور وہ ہرگز نہیں بدلے۔ (الاحزاب ۳۳: ۲۳)
اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے عبرت ہے جو حق کی مخالفت کرتے اور اللہ تعالیٰ کی دعوت کو بوجھ بلکہ ناخوش گوار سمجھتے ہیں۔ اگر وہ عبرت حاصل کریں اور سمجھ جائیں تو اس میں ان کے لیے اور لوگوں کے لیے بھلائی ہے۔ کامیابی حق کے لیے ہے۔ یہ باطل خواہ کتنا بلند اور کامیاب ہو بالآخر اسے زوال پذیر ہونا ہے۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے روز اول سے طے کردیاہے کہ اس کا حکم ہی غالب رہے گا اور اس کے رسولؐ کا بھی۔ جوکوئی بھی اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرنے کی حماقت کرتا ہے، وہ خود مغلوب ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لازم کرلیا ہے اپنے لیے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو زمین کا وارث بنائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے تم میںسے ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ضرور انھیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا گیا جو تم سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کا وہ دین جو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے ، غالب کردے گا۔ (النور ۲۴:۲۵)