مئی۲۰۰۷

فہرست مضامین

اُمت کا معمار

سید قطب | مئی۲۰۰۷ | گزارشات

Responsive image Responsive image

بعض اتفاقیہ و اقعات یوں لگتے ہیں کہ جیسے وہ ایک محکم تدبیر کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے ہوں، جیسے وہ کتابِ مسطور اور صفحاتِ تقدیر پر ازل سے ثبت ہوں ___حسن ’البنا‘ اتفاق ہی ہے۔ ان کا لقب ’البنا‘ یعنی معمار تھا لیکن کون کہتاہے کہ یہ ایک اتفاق ہے۔ اس انسان کے حوالے سے یہ لقب ایک عظیم حقیقت ہے۔ تعمیر بلکہ شان دار اور عدیم المثال تعمیر اس شخصیت کا اصل عنوان ہے۔

تاریخ اسلام نے لا تعداد داعی دیکھے ہیں لیکن دعوت وتشہیر ایک چیز ہے اور تعمیر بالکل دوسری۔ ہر داعی معمار نہیں ہوسکتا اور ہر معمار بھی یہ عبقریت اور عظمت نہیں پا سکتا۔ یہ عظیم الشان عمارت جسے ’اخوان المسلمون ‘ کہتے ہیں اسی تعمیر و عبقریت کا ایک مظہر ہے۔ یہ لوگ محض کوئی ایساگروہ نہیں ہیں ، کہ خطیب نے ان کے جذبات کو گرمادیا ہو، ان کے احساسات بیدار کردیے ہوں اور وہ کسی سطحی سوچ کے تحت کسی عارضی ہدف کے گرد جمع ہوگئے ہوں۔ اخوان وہ عمارت ہیں کہ تعمیر کی خوبی و استحکام اس کے ایک ایک زاویے سے اجاگر ہوتی ہے۔ اسرہ جات ، شعبہ جات ،علاقہ جات، تنظیمی مراکز ، تاسیسی مجلس اور مکتب ارشاد، ہر خشت اپنی مثال آپ ہے۔

یہ تو ہوئی اس کی ظاہری شکل و صورت لیکن معمارکی اصل عبقریت صرف ظاہری شکل سے  نہیں،جماعت کے داخلی نظام اور فکرکی ہمہ گیریت سے اجاگر ہوتی ہے۔ پورا نظامِ کامل نہایت  باریک بینی اور محکم انداز سے تشکیل دیا گیا ہے۔ تنظیم وترقی کا اصل شکوہ اس کی روحانی تعمیر سے واضح ہوتا ہے ، جس میں اسرہ جات ، کتیبوں اور شعبہ جات کے افراد باہم جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا اکٹھا مطالعہ کرنا ، مشترکہ نماز وعبادات ، مشترکہ احساسات ، مشترکہ ہدایات ، مشترکہ سفر ، مشترکہ تربیت گاہیں اور پھر بالآخر مشترکہ اطاعت اوریکساں سوچ، اس سب کچھ نے دین کی خاطر برپا   اس جماعت کو، دلوں میں پرورش پانے والے ایسے عقیدے اور ایمان کی صورت دے دی ہے، جو احکام و تعلیمات اور تنظیمی ضوابط سے پہلے ہی نفوس کو متحرک کردیتا ہے۔

حسن البنا کی عبقریت اپنے ساتھیوں کی انفرادی اور اجتماعی توانائیوں کو بہتر طور پر استعمال کرنے سے ظاہر ہوتی تھی۔ انھیں ایسی مسلسل و مفید سرگرمیوں میں کھپادینے میں تھی کہ جن کے بعد وہ اوقات کو فارغ جان کر اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں نہ مارتے پھریں۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ صرف لوگوں کے دینی احساسات و جذبات ابھار دینا کافی نہیں ہوتا۔ اگر ایک داعی اپنی ساری سرگرمی اسی ایک نکتے پر مرتکز کردے، تو وہ نوجوانوں کو مخصوص دینی ہوس کا شکار تو کردیتا ہے، لیکن کسی تعمیری سرگرمی میں نہیں کھپاتا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عقیدے کی علمی تاویلات کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا۔ اگر داعی صرف انھی میںکھو جائے تو وہ بالآخر تمام روحانی سرچشموں کو خشک کردینے کا ذریعہ بنتاہے۔ وہ اس روحانیت سے محروم رہتا ہے ، جو علمی مطالعے کو حرارت وگداز اور زرخیزی عطا کرتی ہے۔ اسی طرح وہ اس حقیقت سے بھی آشنا تھے کہ صرف وجدان کو اپیل کرنا اور مطالعے کا اہتمام کرنا بھی توانائیوں کا پورا استعمال نہیں ہے۔ عمل کی طاقت، جسمانی توانائی، اکتساب و عطا ، قتال و انفاق___ غرض کتنے پہلو ہیں جو اُدھورے اور تشنہ ٔ تکمیل رہیں گے۔

انھوں نے ان تمام پہلوئوں پر سوچ بچار کی ،یا یوں کہیے کہ انھیں ان تمام پہلوئوں کے احاطے کی توفیق نصیب ہوئی۔ انھوں نے جماعتی دائرے میں شامل ہونے والے ہر مسلمان بھائی کو ان تمام میدانوں میں متحرک کردیا۔ یہ سب جماعتی نظام کی برکات تھیں۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کی تمام فطری توانائیوں کو تعمیر وعمل میں کھپا دیا۔ کتیبہ جات ، تربیت گاہیں ، اخوانی تنظیمیں اور کمپنیاں، داعیوں کا نظام ، جہاد اور شہادتی کارروائیوں کے لیے افراد کی تیاری (تاکہ وہ جہاد فلسطین میں عملاً شریک ہوسکیں )۔ غرض ہر پہلو اس نظام کے عظیم و بے مثال ہونے کا عملی ثبوت تھا۔

حسن البنا کی عبقریت کا ایک اور پہلو مختلف النوع شخصیات و نفوس کو اکٹھا کرلینے میں نمایاںہوتا ہے۔ یہ قدسی نفوس مختلف علاقوں سے آئے تھے۔ مختلف معاشرتی پس منظر رکھتے تھے ، مختلف ذہنی استعداد کے مالک تھے، لیکن سب ایک ہی متناسب لڑی میں پروئے ہوئے تھے۔ یوں جیسے مختلف نغماتی صدائوں سے ایک خوب صورت دھن ترتیب پا جائے ،سب کی ایک ہی پہچان ، سب کا ایک ہی رجحان۔ چوتھائی صدی کے اندر اندر یہ سب مختلف الخیال ،مختلف الاعمارافراد ایک اکائی کی حیثیت اختیار کرگئے۔

اس پورے تناظر میں جائزہ لیں کہ ’البنا‘یعنی معمار کا لقب ایک اتفاقی امر تھا یا یہ کہ یہ سب اس بلند و اعلیٰ امر الٰہی کا پر تو تھا ، جس کی کتابِ مسطور میں،سب کچھ ایک لا متناہی جمال و ترتیب سے لکھا ہوا ہے، خواہ وہ ادنیٰ سے ادنیٰ اتفاقی امر ہو یا تقدیر کے اعلیٰ ترین مراتب۔

یہ جدوجہداپنے عروج پہ تھی کہ حسن البنا اپنے رب کے حضور پیش ہوجاتے ہیں۔ رب کے حضور حاضری سے انھوں نے اپنی عمارت کی بنیادیں مزیدمستحکم و محفوظ کردیں۔ اللہ نے ان کی شہادت اس طور چاہی کہ عظیم ارادۂ الٰہی کی تکمیل ہوجائے۔ ان کی شہادت تعمیر ہی کا ایک مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔ اس سے عمارت کی بنیادیں مزیدگہری ہوگئیں ، در و دیوار مزید مضبوط ہوئے۔ شہید کے ہزاروں خطاب اور ہزاروں کتابیں بھی اخوان کے دلوں میں تحریک ودعوت کے وہ الائو روشن نہیں کرسکتے تھے جوان کے پاکیزہ خون سے منور ہونے والے چراغوں نے دہکا دیے تھے۔ ان کی بات سچ ثابت ہوئی کہ ہماری باتیں موم سے بنے مجسمے ہیں، یہاں تک کہ جب ہم ان کی خاطر اپنی   جان سے گزر جاتے ہیں تو ان میں روح دوڑنے لگتی ہے اور ان کے لیے حیات جاودانی لکھ دی  جاتی ہے۔

جب بونے ڈکٹیٹر حکمرانوں نے اخوان کو آہن و آتش سے کچلنا چاہا، تب تک وقت   بیت چکاتھا۔ تب حسن البنا کے ہاتھوں اٹھائی گئی بنیادیں منہدم کرنا، کسی کے لیے ممکن نہ رہاتھا۔ اخوان کے شجر طیب کی جڑیں اکھاڑنا کسی کے بس میں نہ رہا تھا۔ اخوان ایک ایسے نظریے اور فکر کی حیثیت اختیار کرچکے تھے، جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ جبراور آہن و آتش کی یلغار، کبھی افکار و نظریات کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔حسن البنا کی عبقریت سربلند رہی۔ بونے جابر مٹ گئے، اخوان کو دوام نصیب ہوا۔اگرچہ کئی بار ایسا ضرور ہوا، کہ بعض کمزور نفوس و سوسوں کا شکار ہوگئے ،لیکن یہ نفوس خود کوبیمار رکھنے پر مصر تھے لہٰذا ناکام ہوئے۔ وہ یا توسرسبز شجر عظیم سے ،خشک پتوں کی طرح جھڑ گئے، یا بالآخر ان کی بیمار سوچ خود ہی سمٹ کر رہ گئی اور منظم و متحرک صفوں میں کوئی خلل نہ آسکا۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ دشمنان اخوان نے شجر عظیم کی کسی ایک شاخ کو یہ گمان کرتے ہوئے اپنی گرفت میں لے لیا کہ یہی شاخ اصل شجر ہے، اگر اسے کاٹنے یا اکھاڑنے میں کامیاب ہوگئے تو پورا درخت کٹ جائے گایا اکھڑ جائے گا۔ لیکن جب شاخ پر دبائو عروج پر پہنچا تو وہ کسی ایسی خشک لکڑی کی طرح دشمنوں کے ہاتھ آگئی، جس کے ساتھ نہ کوئی پتا تھا نہ اس میں کوئی تازگی تھی، نہ ثمر اور نہ رونق حیات___ یہی ’معمار‘کی عبقریت تھی جو اس کے اٹھ جانے کے بعد بھی فیض دے رہی تھی۔

آج بھی اخوان کو وہ تمام آزمایشیں گھیرے ہوئے ہیں جو ماضی میں گھیرے ہوئے تھیں۔ لیکن آج وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ، پہلے سے زیادہ مستحکم اور پہلے سے زیادہ منظم ہیں۔ آج وہ  دلوں میں راسخ ایک نظریہ بھی ہیں، تاریخ کا ایک سنہرا باب بھی،روشن مستقبل کے امین بھی ہیں اور ایک طرزِزندگی بھی، اور اس سب کچھ سے زیادہ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہیں کہ جسے کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ وہ شہدا کا خون ہیں کہ جسے کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔

جو بھی اس عمارت کے بارے میں بری نیت رکھتاہے ، وہ یاد رکھے کہ اس سے پہلے ان کے پیش رو شاہ فاروق کی سرکشی جسے برطانیہ وامریکاکی ہلہ شیری بھی حاصل تھی، طغیانی اس عمارت کا ایک پتھر بھی اپنی جگہ سے نہیں اکھاڑ سکی۔ اس میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکی۔ مستقبل بھی اسی عقیدے و نظریے کا ہوگا جس پر اخوان کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ نصرت اسی معاشرتی نظام کی حلیف ہوگی جو اس راسخ عقیدے سے پھوٹتا ہے۔ آج ہر مسلم سرزمین سے اسی ایک پرچمِ بلند تلے جمع ہونے کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، جسے کبھی استعمار نے چاک چاک کردیاتھا۔ استعمار چاہتاتھا کہ اس طرح وطن اسلامی کے ٹکڑے ٹکڑے کردے ۔آج اس مجروح جسم کے تمام زخم مندمل ہونے کی گھڑی  آن پہنچی ہے۔ اب اس جسم کو ایک زندہ و بیدار و توانا وجود نصیب ہونا ہے اور پھر قباے استعمار کو تار تار کرنا ہے۔

وجود و ہستی کا فطری تقاضا ہے کہ اس سلیم فطرت اورعظیم عقیدے کو نصرت نصیب ہو ،  تقسیم و انتشار کا دور گزر چکا۔ اگر اسلامی تحریک اس تاریک دور میں فنا کے گھاٹ نہیں اتاری جاسکی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آج بیداری ، انتفاضے اور احیاے اسلام کے دور میں اسے فنا کیاجاسکے۔ آج اسلامی فکراور اخوان المسلمون کا وجود یک جان دوقالب کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ جس طرح تاریخ ان دونوں کو جدانہیں کرسکتی، اسی طرح آج یا آنے والے کل میں بھی کوئی ان دونوں کو  الگ نہیں کرسکتا۔

ماضی میں استعمار نے امت پر ایسے خواب آورنسخے آزمائے جنھیں دین سے منسوب کیاگیاتھا۔ اس ضمن میں اس نے کبھی تو اہل تصوف کو استعمال کیا اور کبھی جامعہ الازہر کو۔ لیکن آج یہ سب کچھ ممکن نہیں رہا۔ اخوان کی مضبوط عمارت فکر اسلامی کی بھرپور نمایندگی کرتی ہے ___آج کسی اور ادارے یا فرد کے ذریعے اسلامی سوچ کو دھندلایا نہیں جاسکتا۔ آج ازہر بھی طویل اسیری کے بعد استعماری گرفت سے آزاد ہو رہا ہے اور اس کے طلبہ و اساتذہ بھی بڑی تعداد میں اخوان میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک فطر ی عمل ہے اسے یوں ہی ہونا تھا:

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ o (المجادلہ ۵۸:۲۱)

اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا کہ یقینا میں اور میرے رسول ؐ ہی غالب رہیں گے ، بے شک اللہ قوی و غالب ہے۔